Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 03

ایزہ کی خوفزدہ نظریں دیکھ کر وہ ذرا بے زار سا ہوا
سیدھی ہو جاؤ ” معلوم نہیں اسنے احساس کیا تھا یہ کچھ اور ایزہ کو غنیمت ہی لگا تھا وہ اٹھ کر بیٹھ گئ اپنا لباس درست کیا اور اپنے دل پر ہاتھ رکھتے اسنے دل و دماغ میں اٹھتی کپکپاہٹ کو قابو میں کیا ۔
شاہنواز نے ڈرائیور کو گاڑی میں آنے کا کہا اور گاڑی چل پڑی وہ خاموشی سے باہر دیکھ رہا تھا جبکہ ایزہ کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ اب بھی نہیں گئ تھی
بلاخر پندرہ منٹ بعد وہ اس جگہ پر پہنچ گئے
شاہنواز گاڑی سے نکلا اور ایزہ نے بھی گاڑی کا دروازہ کھول لیا جبکہ اسکی طبعیت اب بھی ٹھیک نہیں تھی وہ گاڑی سے باہر نکلی شاہنواز دور کھڑا تھا
اسنے جا کر اسکے ہاتھ میں ہاتھ ڈالا اور وہ اسکے ساتھ چلتی ایک موم کی گڑیا سی لگی جس کی آنکھوں کے نیچے سرخ ڈورے اور چہرے کے اڑے ہوئے رنگ اور بلا کی معصومیت پھر اسپر حسن ایسا کہ پلٹ پلٹ کر لوگ دیکھیں ۔۔۔
وہ آگے بڑھ رہے تھے تو لگا محفل میں چاند اتر آیا ہو شاہنواز بھی کچھ کم نہیں تھا
اسکا مغرور انداز اسکا گھمنڈ کسی کو اسکے آگے گھاس بھی کاٹنے نہیں دیتا تھا لیکن جس کم سن حسن کے ساتھ وہ چلتا تھا اسکی آنکھیں اسکا وجود بے داغ وہ بلا کا حسن رکھتی تھی وہ اندر ا گئے اور شاہنواز مختلف لوگوں سے ملنے لگا اور ساتھ اسے بھی ملوا رہا تھا
ان مردوں کی نظروں سے ایزہ ذرا عجیب سی کیفیت کو محسوس کر رہی تھی اسنے شاہنواز کے بازو کو ذرا سختی سے تھام لیا اسنے مڑ کر دیکھا
وہ ہر شے سے انجان اسکا بازو تھامے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی
اچھی لگی تھی اسے اسوقت ۔۔۔۔
شاہنواز نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنے قریب کر لیا
ایزہ نے سٹپٹا کر اسے دیکھا اسکا یوں ایکدم چھونا ایکدم قریب آ جانا دل ہلا دیتا تھا
ہیلو شاہنواز کیسے ہو ” ایک خوبصورت سی لڑکی انکے پاس ائ تو شاہنواز نواز نے کچھ بےزاری سے اس لڑکی کو دیکھا
ایزہ کو وہ بہت ہی خوبصورت لگی وہ حیرانگی سے اس لڑکی کو دیکھنے لگی جس کی ناک میں نگ ہیرے کا تھا اور اسکی چمک ایسا لگا ایزہ کی آنکھوں میں لگ رہی ہو
ٹھیک ہوں” اسکا غرور ہی الگ تھا
تو یہ ہیں تمھاری مسز” وہ بولی تو شاہنواز شانے اچکا گیا
جبکہ سامنے کھڑی لڑکی ایزہ کو اوپر سے نیچے تک دیکھنے لگی
بہت حسین ہے” اسنے ایزہ کے چہرے پر ہاتھ لگانا چاہا جسے شاہنواز نے ایکدم جکڑا اسکے ہاتھ پر پڑنے والی گرفت سے ایزہ کا دل ایکدم ہلا حالانکہ اسنے کسی اور کا ہاتھ پکڑا تھا
شاہنواز سکندر کی بیوی کو صرف شاہنواز سکندر چھوے گا تمھارے حصے کا پیار اسکو میں دے سکتا ہوں ” وہ اسی لڑکی کے سامنے جھکا اور ایزہ کے گال چوم لیے ایزہ نے زور سے آنکھیں بند کیں اور حلق میں اپنے آنسو اتارے وہ بے حیائی کو پسند کرتی ہی نہیں تھی اور شاہنواز اپنے ہر عمل میں بہت کھلا مغرور اور لاپرواہ تھا اس لڑکی کے چہرے کا رنگ ایکدم پھیکا ہوا اور وہ مسکرائ ۔۔۔
تمھارے شوہر کا یہ ہی ایگریسیو انداز اس پارٹی کی ہر لڑکی کا دل جیت سکتا ہے لیکن شاہنواز سکندر نے اپنے لیے اپنی عمر سے پندرہ سال چھوٹی لڑکی پسند کی جبکہ اسکے پاس حسن کی کمی تو کوئ نہیں تھی کوئ بھی اسکے قدموں میں اپنا دل ڈھیر کر سکتی تھی مگر سمجھ یہ نہیں اتا یہ مرد اٹھتے بیٹھتے اور کام تو میچیور اور بڑی عمر کی عورت کے ساتھ کرتے ہیں پھر ناجائز تعلق بنانے کے لیے بھی انھیں انکا ساتھ دینے والی بھرور عورت چاہیے لیکن اپنے گھر میں بسانے اور عزت کی چادر دینے کے وقت خاندانی اور کم سن حسن یاد ا جاتا ہے ” وہ کھلکھلا دی
مجھے تو لگتا یے یہ دنیا مردوں کی ہے کیونکہ عورت تو مرد کی زر خرید ہے ” شاہ نواز نے اسے آنکھیں سکیڑ کر دیکھا اسکی فضول گوئ پر اسکا منہ سا بن گیا
اگر عورت مرد کی زر خرید ہی ہے تو اپنی اوقات وہ بھولے بھی مت” وہ ٹکا سا جواب دے گیا ۔
لیکن پیدا تو تم مردوں کو عورتوں نے ہی کیا ہے “
آگے کہانی میں نے چھیڑی تو تمھاری گندی ہو جائے گی میرے منہ مت لگو” وہ بے حیائی سے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتا ایزہ کو اسکے پاس سے لے کر ہٹ گیا جبکہ ایزہ کو جہاں تک بات سمجھ ائ اسکا چہرہ لال سرخ ہو چکا تھا
اس بے عزتی پر وہ لڑکی مسکراہٹ سمیٹ کر ادھر ادھر دیکھنے لگی۔۔ اسکی ولیو تھی ہی کیا وہ اپنی مرضی سے کسی سے بات نہیں کر سکتی تھی بھلے اسکا دل چاہتا نہیں وہ اسکے ساتھ ایک شو پیس کیطرح آتی تھی چھ ماہ میں چھ سو پارٹیز اٹینڈ کر چکی تھی ۔
اور کسی ایک پارٹی میں بھی اسنے ایک لفظ نہیں بولا تھا نہ اسکا خود سے دل کرتا تھا وہ چند لمہے اسے لیے کھڑا رہا اور پھر بے زار ہو گیا
جبکہ ایزہ کی توجہ اشتہا انگیز خوشبو اڑاتے کھانے پر چلی گئ تھی اسکی بھوک چمک اٹھی تھی وہ کچھ کہتی کہ اسنے اسے چلنے کا کہہ دیا ۔
ایزہ خاموشی سے اٹھ گئ اور شاہنواز کا موڈ یقینا سپوئل ہو گیا تھا تبھی گاڑی میں بھی ایک لفظ بھی وہ بولا نہیں تھا وہ گھر آئے تو وہ گاڑی سے نکل گیا ایزہ خود ہی گاڑی سے نکلی
ایزہ بی بی اپکا پلو ” ڈرائیور دانت نکوستہ بولا تو اسکا دل ڈوب سا گیا اسنے جلدی سے اپنی ساڑھی کا پلو اٹھایا اور بھاگتی ہوئ اندر ائ تو شاہنواز سے ٹکرا گئ
وہ برہمی سے مڑا
وہ معافی چاہتی ہوں” وہ ذرا سہمی ہوئ سی بولی
شاہنواز نے اسکا بازو پکڑا اور اسے اندر گھسیٹ کر کمرے میں لے گیا
ایزہ کے پاس اسکے ساتھ جانے کے علاوہ کوئ اور چوائس ہی نہیں تھی
اسنے اسے بیڈ پر پٹخا اور اپنی ویسکوٹ اتارنے لگا
وہ اسے دیکھ رہی تھی اسے بھوک لگی تھی اسے بخار تھا وہ پاگل ہو جاتی اسکی آنکھوں سے بے ساختہ بہنے والے انسووں کی پرواہ شاہنواز کو کسی دن نہیں ہوئ تھی
وہ ویسکوٹ اتار کر اب اپنی قمیض کے بٹن کھول رہا تھا ایزہ سر جھکائے سسکی
قمیض ایکطرف پھینک کر وہ اسکی جانب بڑھا ایک بازو میں اسے اٹھا کر اسے اپنے سینے پر لیٹایا وہ اسکے آنسو دیکھنے لگا
کیا مصیبت ہے ؟ بگڑ کر پوچھا
ب۔۔۔بھوک لگی ہے ” اسنے ایسا کبھی نہیں کہا تھا شاہنواز کو وہ پہلی بار چھوٹی بچی لگی تھی جو بھوک کی وجہ سے رو پڑی تھی وہ گھیرہ سانس بھر گیا
سائیڈ ٹیبل پر لگے فون کا کریڈل اٹھایا اور اسنے اپنی پسند کا کھانا بنانے کے لیے کہا اب آدھی رات کو کسی کو تکلیف دینا اچھا نہیں تھا ۔۔ لیکن آدھی رات کو اسنے کھانا بنوا لیا تھا تازہ
نہیں بریڈ جیم کھا لوں گی”وہ پلکیں جھپکاتی بولی
جبکہ شاہ نواز نے کریڈل پھینکا جب تک تمھارا کھانا نہیں آتا تب تک اپنا منہ بند رکھنا ” وہ بولا اور اسکی حسین خوشبو میں کھونے لگا
ایزہ اسکے لمس پر سانسیں تھامے اسکی بڑھتی جسارتوں کو محسوس کرتی خود کو اسکا عادی بنانے کے لیے ہر جتن کر رہی تھی لیکن ہر بار بے سود تھی
وہ اس میں ایسا کھویا ٹھیک پندرہ منٹ بعد دروازہ بجنے سے آدھا گھنٹہ دروازہ بجتا رہا مگر شاہ نواز سکندر اندر اپنی من مانی اور اپنے حقوق کو اسکے انگ انگ سے وصول کر رہا تھا اور ایزہ کا وجود اتنا آدھ موا ہو چکا تھا کہ اسکی چوں چراں کی بھی آواز اس کمرے میں نہیں تھا جیسے وہ بے ہوش ہو گئ ہو
اور جلد ہی اسے اس بات کا احساس ہو چلا کہ وہ واقعی بے ہوش ہو گئ ہے وہ سر جھٹک کر اٹھا اور واشروم میں چلا گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمر صاحب اشفاق صاحب آئے ہیں” نیندوں میں یہ نام سن کر اسنے سر اٹھایا ایک آنکھ کھولی اور ملازم کی جانب دیکھا
کیوں”؟ نیند میں ڈوبی بھاری آواز میں وہ سوال کر رہا تھا
جبکہ ملازم کے لیے یہ نئی بات نہیں تھی کہ عمر خیام اپنے باپ کے آنے کے بارے میں کیوں جاننا چاہتا ہے ” وہ خاموش رہا
ٹھیک ہے اتا ہوں” کہہ کر وہ بے زاری سے اٹھا اٹھتے ساتھ ہی اسنے سائیڈ ٹیبل پر رکھی بوتل کو منہ لگایا اور یوں ہی باہر ا گیا
نشے کی زیادتی کے باعث اسکے قدم درست جگہ پر پڑتے بھی نہیں تھے وہ جھولتا ہوا باہر نکلا اور سامنے اپنے باپ کو دیکھا جو بلکل سفید لمبی داڑھی اور سرخ و سفید رنگت اور سفید ہی سوٹ میں تھا
وہ صوفے پر گیرہ اور پاوں پر پاوں چڑھا کر بوتل سے ایک بڑا گھونٹ بھر کر سوالیہ نظروں سے باپ کو دیکھنے لگا
کیا کام ہے اپکو ” اسنے پوچھا
تو اسکے باپ نے ادھر ادھر دیکھا جیسے کسی کے وہاں نہ ہونے کی تسلی کر رہا ہو ۔۔۔
تمھاری ماں کے قل ہو گئے”
وہ کیا ہوتا ہے”؟ اسنے مسکرا کر پوچھا
عمر” وہ سختی سے اسے گھورنے لگے
خیام ” اسنے اسے یاد دلایا کہ اسکے باپ نے تو اسکے نام کے آگے اپنا نام بھی نہیں دیا تھا یہ تو اسکی ماں نے اپنے باپ کا نام اسکے نام کے آگے لگا کر اسکا نام مکمل کیا تھا
میں آنا چاہتا تھا پھر بس کسی سوچ کے تحت رک گیا
تم نہا دھو لو پھر اسکی قبر پر چل لیں گے”
اجی نوابوں سا مزاج ہے اپکا ۔۔۔ میں اور میری ماں بڑے چھوٹیں ہیں اپکے سامنے وہ طوائف میں طوائف کا بیٹا آپ جناب موذن صاحب کیوں ایک طوائف کی قبر پر جا کر اپنا نام بدنام کرنا چاہ رہے ہیں جائیں یہاں سے ” وہ ہاتھ کے اشارے سے اسے جانے کا کہتا پھر بوتل سے منہ لگا گیا
عمر تم انسانوں کیطرح کس وقت رویہ رکھو گے اپنا ” وہ برہمی سے بولے ۔۔۔
جس وقت آپ جواب دیں گے کہ طوائف سے شادی کرنے کے عین کچھ سالوں بعد یہ مولانا صاحب کا بھیس دھارنے کا کیا مقصد تھا “
وہ سکون سے پاوں جھلاتا سوال کر رہا تھا وہ کسی سے اتنی گفتگو نہیں کرتا تھا سوائے سامنے بیٹھے اپنے باپ کے ہمیشہ وہ اسی سے الجھتا تھا اور اسی سے اتنی لمبی چوڑی بات کرتا تھا
میرا دین تمھاری ماں کے ساتھ رہنے کی اجازت نہیں دیتا تھا تبھی اسے گھر سے نکالا تھا “
وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتے غرائے
اب آپکے دین نے چٹھی لکھی ہے کہ آپ طوائف کی قبر پر جا کر پھول بچائیں” وہ ہنسنے لگا
وہ لاجواب سے ہوتے گھیرہ سانس بھر گئے
جبکہ وہ سکون سے پاوں جھلاتا پینے میں مصروف تھا
جہنمی ہو تم عمر خیام دوزخ میں ڈالے گا تمہیں میرا اللّٰہ کہ یہ حرام شے ہر وقت منہ کو لگائے رکھتے ہو ” وہ بھڑک کر بولے
عمر نے انکی جانب توجہ سے دیکھتا مسکرا دیا
میرے لیے دنیا بھی جنت نہیں ہے ڈیڈ اللّٰہ مجھ سے نفرت کرتا ہے اس بات کا غم ہے میرے سینے میں مگر آپ یہاں اب بےکار میں ایک جہنمی سے الجھنے کی کوشش کر رہے ہیں ” وہ اٹھ کھڑا ہوا
جائیے اپکا معزز گھر اپکا منتظر ہے میں بدنام زمانہ ہوں آپکا کچھ نہیں لگتا ” بولتا ہوا وہ دوبارہ کمرے میں چلا گیا جبکہ اشفاق سلام کھڑے ہوئے اور باہر نکل آئے
جبکہ ملازم انکے لیے چائے پانی لایا تھا جسے پیچھے دھکیل کر وہ باہر آئے چھوٹی سی گاڑی میں ارہم بیٹھا انھیں کا منتظر تھا
کیا ہوا کی بات ” وہ بولا
نشے میں تھا اول فول بھونک کر چلا گیا کتا آخر میری ہی نسل سے کیوں ہے” وہ نفرت سے پھنکارے
آپ مقصد کی بات تو کرے”
عمر خیام ہے وہ نشے میں بھی چھٹی حسیں جگا کر رکھتا ہے فورا مطلب سمجھ کر بے عزتی کرنے لگ جاتا ” وہ بے چینی سے بولے
لیکن عمر کا پیسہ ہماری ضرورت ہے ابو ” وہ بولا جبکہ اشفاق صاحب نے محبت سے بیٹے کو دیکھا
تم فکر نہ کرو اسکی ماں بھی مجھ سے جیت نہیں سکی تھی یہ بھی میری ہی اولاد ہے ” وہ مسکرائے جبکہ ارہم سر ہلا گیا ۔
اگر عمر کچھ مدد کرے گا تو ہمارے ڈوبے ہوے جہاز کو سپورٹ ملے گی” ۔
ہاں اسے گھر لے آوں میں ذرا ” کہہ کر وہ اسکے شانے کو تھپتھپا گئے جبکہ ارہم کو تسلی ہوئ تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیپر کیسا ہوا ” دونوں اسکے پہلو میں بیٹھ گئیں
شکر ہے آج تو اچھا ہوا ہے ” ساز نے سکون کا سانس لیا
ہائے ساز کتنی خوش نصیب ہو تم ۔۔ تمھیں کم از کم ایف ائے کرنے کی اجازت مل گئی
ابا نے تو میٹرک ہی مشکل سے کرنے دیا خیر اب کیا کر سکتے ہیں ویسے تمھیں پتہ ہے تمھارے اور بدر بھائ کے جانے کے بعد سوہا نے نجما چچی کو بہت سنائی ہے”
کیوں ؟ ساز کھڑی ہو گئ ماں کی فکر سی ہوئ
معلوم نہیں اسکی قمیض جل گئ اسے بہت غصہ ہے”
کیسے جلی ” ساز بولتی ہوئ باہر جانے لگی
اور ان دونوں کی بات سنے بنا وہ باہر ا گئ تو نجما کو کچن میں تلاش کیا وہ کچن میں نہیں تھی پھر اسے تائ جان کے کمرے سے آواز آئی تو وہ اس کمرے کی جانب بڑھی مگر بنا اجازت وہ اندر نہیں جا سکتی تھی
نجما یہ حرکت نہ تم نے اچھی نہیں کی بندہ اتنا نہ جلے سوہا تمھاری ہونے والی بہو ہے تم اگر اسکے کام کر دو گی تو کیا جائے گا تمھارا ۔۔ نہیں الٹا سوٹ جلا دیا اسکا تمھیں علم بھی ہے کتنی مہنگا جوڑا تھا اسکا ۔
گردیزی مارکیٹ سے پورے چار ہزار کا لے کر ائ تھی
بارہ سو پندرہ سو روپے کا سوٹ چار چار سال پہنے والوں کو بھی کیا تمیز ۔۔۔ تمھیں میں نے کہہ دیا ہے آئندہ ایسا نقصان ہوا تو تم بھرو گی اس نقصان کو “
جی بھابھی” نجما سر جھکا گئ جبکہ ۔
ساز باہر آنسو پیتی اپنی انگلیاں موڑ رہی تھی
معذرت غلطی کی مانگ لینی چاہیے چچی ” سوہا کی آواز ابھری
سوہا بیٹا مجھے معاف کر دو بس بے دھیانی میں تمھارا اتنا مہنگا جوڑا جل دیا “
انھوں نے معافی مانگی تو ساز کے آنسو آنکھوں سے ٹپکنے لگے
اسکی ماں باہر ائ وہ کچن میں چلی گئ خود سے کھانا بنانے لگی
اسکی روئ روئ نکھیں دیکھ کر نجما جان گئ تھی وہ سن چکی ہے
ساز ” انھوں نے پکارہ ساز نے انکی جانب دیکھا ۔
امی ۔۔ امی آپ اپ کا کوئ قصور نہیں ہے آپ نے کیوں معافی مانگی” وہ بچوں کیطرح اسکے گلے لگتی بولی
کچھ نہیں ہوتا بیٹا غلطی تو بدر کی تھی نہ جان بوجھ کر بچی کا سوٹ جلا دیا بیوی ہونے والی اسکی ۔۔۔
بدر بھائ سوہا کو پسند نہیں کرتے” ساز ذرا منہ بنا کر بولی
جن کی جیب میں دانے نہ ہوں انکی کوئ پسند نہیں ہوتی ” اسکا گال تھپتھپا کر وہ پالک کاٹنے بیٹھ گئ ساز کو اپنی ماں کی اداسی پر بہت تکلیف ہوئ تھی اسکے بعد اسنے اگلے دن پیپر ہونے کے باوجود وہ انکی مدد کرتی رہی اور دوپہر کا کھانا لے کر جانے کے لیے بدر دیر کر چکا تھا
کیونکہ یہ اسی کی ذمہداری تھی اور جب سے اسکے ذمہ یہ بات ائ تھی تب سے وہ یوں ہی کرتا تھا جان بوجھ کر وہ یہ حرکتیں کرتا تھا
اب بدر کیوں نہیں آتا کام نہ کاج کا اور آوارگی کرتا رہتا ہے ” تائ جان کافی غصے میں تھی نجما پریشان سی ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہی تھی اور ساز نے پریشانی سے لینڈ لائین پر نمبر ڈائل کیا
اور بدر کا فون نہیں اٹھ رہا تھا
تقریباً مغرب کی نماز کے بعد وہ گھر آیا تو تائ جان اسپر چڑھ دوڑیں جبکہ بدر کافی خوش تھا
کہاں مر گئے تھے تم کیوں نہیں آئے وقت پر او بھائ تمھیں دو چار سو اس کام کے مل جاتے ہیں کہ وقت پر دکانوں پر کھانا پہنچا دو تم اس سے بھی جانا چاہتے ہو “
جبکہ بدر اسکی کڑوی باتوں کو اگنور کر کے اپنی ماں کو ڈھونڈنے لگا
امی” اسنے کچن میں جھانکا
امی کہاں ہیں ” وہ بولتا یوں پیچھے کی جانب آیا وہ کپڑے دھو رہیں تھیں جبکہ موسم کافی بدل گیا تھا اور انکی طبعیت بھی خراب ہو سکتی تھی وہ آگے بڑھا اور اپنی ماں کو وہاں سے اٹھایا
بدر کہاں چلے گئے تھے کھانا نہیں۔۔
میری جاب لگ گئ ہے بہت بڑی کمپنی ہے مجھے یقین نہیں تھا وہاں سے کال آئے گی میری پورے 70 ہزار کی جاب ہے امی 70 ہزار کی ” وہ بولا جبکہ نجما حیرانگی اور بے یقینی سے اسکی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی ۔
بدر نے اسکی انکھوں میں آنسو دیکھے تھے
نجما اسکے سینے سے لگ گئ
بدر مجھے یقین کیوں نہیں ا رہا ” وہ بے یقین تھی
اب یقین کر لیں امی ۔۔بس اپکو ان سب کے کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے مجھے بہت اچھی امید دلائی ہے میں کوئ چھوٹا موٹا کرائے کا گھر لے لوں گا اور ہم الگ ہو جائیں گے ان سب سے ” وہ اپنی ماں کی پیشانی چومتا ہوا بولا
اچھا تو نوکریاں لگ گئیں ہیں ” تائ جان سب سن چکی تھی بدر کچھ نہیں بولا اپنی ماں کو اندر لے ایا اور دوسری طرف مغرب کا وقت ہو چکا تھا تو تایا جان ارہم اور چچا جان بھی ا گئے تھے
کھانا نہیں بھیجنا تھا سارا دن بھوکے رہے ہیں ہم لوگ” ارہم ماں پر چلایا اور سب مردوں کی اواز سن کر صوفیا صنم اور ساز بھی دوپٹہ سروں پر رکھ کر اپنے آدھے آدھے چہرے چھپائے سلام کرتی نیچے ا گئیں تھیں
ارہم نے ساز کو بڑی غور سے دیکھا تھا جبکہ اسکا رشتہ صوفیا سے ہوا ہوا تھا مگر اسے صوفیا میں کبھی دلچسپی نہیں تھی اسے تو ساز کی گوری رنگت بہت پسند تھی ۔
نوکریاں لگ گئیں ہیں جناب کی اب کیوں کرے گا وہ کوئ کام اور وہ بھی 70 ہزار کی نوکری لگی ہے” تائ جان بولیں تو تایا نے صوفیا سے پانی کا گلاس لے کر بدر کی جانب دیکھا جو سپاٹ چہرے سے سب کو دیکھ رہا تھا
کہاں لگی ہے تمھاری نوکری “
بینک میں ” بدر سکون سے بولا
کیا” تایا جان اپنی جگہ چھوڑ کر اٹھے
حرام لے کر آؤ گے اس گھر میں ” وہ برہمی ہوئے
بھائی جان آپ کی طبعیت نہیں ٹھیک ” چچا جان اٹھے اور انھوں نے اسکا ہاتھ جھٹک دیا
تمھارے باپ نے بھی جوا شراب شروع کر دیا تھا تباہ ہو گیا تھا تم بھی حرام کما کر تباہ ہو گے” ۔
آپکا بیٹا حرام پی سکتا ہے میں حرام کما نہیں سکتا اور میں اپنی محنت کی اجرت لے رہا ہوں بس ” وہ بولا جبکہ استغفار کرتے وہ بیٹھ گئے
بدر اگر تم نے گھر سے باہر قدم نکالے تو ٹانگیں توڑ دوں گا “
آپ میرے لیے فیصلہ نہ ہی کریں تو بہتر ہے” وہ دو بدو ہوا اور ساز اور نجما دل تھام گئے کہیں تایا جان مارنا نہ شروع کر دیں اسے
اب کیوں گونگی ہو گئ ہو بولو اب کچھ ” تائ جان جھگڑا بڑھنے سے پہلے نجما چچی کو جھنجھوڑ کر بولیں
نہیں اب تو گونگی ہو جائے گی یہ عورت خبردار جو بینک وینک کی نوکری کی گھر سے باہر نکال کر دوں گا “
کیوں نکالیں گے میرے باپ نے کاروبار کھا لیا اور گھر بھی کھا گیا کیا میرا حصہ ہے یہاں میں اور میری ماں بہن یہاں اپنے حق ” اور کھینچ کر پڑنے والے تھپڑ پر بدر کا منہ بند کر گیا
یہ حق ہے تیرا یہاں اس سے زیادہ کچھ نہیں
اگر تو نے بینک کی نوکری کرنی ہے تو اس دو گند کو سمیٹ اور نکل اس گھر سے” وہ چیخے
بھائ صاحب آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں بچی ذات ہے میری میں کہاں لے کر جاوں گی بدر کہیں نہیں جائے گا میں وعدہ کرتی ہوں آپ سے” نجما انکے آگے ہاتھ جوڑ گئ جبکہ ساز کے پاس آنسو بہانے جے سوا کچھ نہیں تھا
وہ سوچتی تھی کسی دن کوئ انکی مدد کے لیے ا جائے
اسکے پاس بھی تو ایک فرشتہ ہونا چاہیے جو انھیں اس مشکل سے نکالے اللّٰہ تعالٰی نے تو وعدہ کیا تھا کہ تنگی کے ساتھ آسانی ہے تو اسکے پاس یہ آسانی کب آئے گی
اپنی ماں کو گڑگڑاتے دیکھ اسکی ہچکیاں بند گئیں بدر نے لاکھ نجما کو سمجھایا اٹھایا مگر نجما جانتی تھی کہ ساز کنواری ہے اور اب تک اسکا کہیں رشتہ بھی نہیں ہوا دربدر ہو گئ تو کہاں اپنی بیٹی بیاہے گی بدر نے لاکھ پاوں پیٹے مگر نجما نے جب تک اس سے یہ بات نہیں کہلوا دی کہ وہ یہ نوکری نہیں کرے گا وہ مانی نہیں اور پھر جا کر سب کے دلوں میں چین اترا اور بدر گھر سے ہی باہر نکل گیا
جبکہ نجما آنسو پونچتی سب کے لیے کھانا بنانے چلی گئ
صوفیا اور صنم دونوں ہی غمگین تھیں انکے باپ کی بھی حیثیت اس گھر میں وہ ہی تھی جو شاید انکے مردہ باپ کی تھی
ان دونوں بہنوں کو بھی کبھی کسی قسم کا حق نہیں ملا تھا مگر انکے ساتھ ویسا رویہ بھی نہیں تھا جیسا بدر اور ساز کے ساتھ تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔