Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 05

گھر میں تایا جان نے خیر و برکت کے لیے میلاد کروائ تھی جس میں انھوں نے سب کو مدعو کیا تھا اور اس میلاد میں ہونے والی تمام چیزوں کی ذمہ داری بدر پر ڈال دی تھی ۔
میں نیا جوڑا لوں گی” سوہا نے ماں کی جانب دیکھا
بس کرو تمھارے ابا کبھی پیسے نہیں دیں گے” وہ بولیں تو سوہا نے دونوں پاوں پٹخے مجھے نہیں پتہ میرا جوڑا نیا آئے گا ” وہ بولی جبکہ تائ جان نے ذرا غصے سے اپنے چھوٹے سے پرس میں سے تین ہزار روپے نکال کر اسکے ہاتھ میں تھما دیے جبکہ سوہا خوش ہو گئ
اور اپنے باپ کو مت بتانا ” ساتھ ساتھ تنبیہ بھی کر دی
جبکہ سوہا کو پرواہ کب تھی دوسری طرف صنم اور صوفیا کے پاس نئے جوڑے موجود تھے تبھی انھیں کوئ پریشانی نہیں تھی اور ساز نے کبھی کسی چیز کی فرمائش نہیں کی تھی جو اسکے پاس تھا وہ وہ ہی پہن لیتی ۔۔۔
سوہا زبردستی ماں کو گھسیٹ کر مارکیٹ لے گئ اور باقی سب بھی کاموں میں لگ گئے
وہ بازار سے ایک گھنٹے بعد بہت محنت کر کے آسمانی رنگ کا سوٹ لائ تھی جو سٹچ تھا تبھی وہ بآسانی آج کی میلاد میں پہن سکتی تھی دوسری طرف ساز اور نجما نے گھر پر ہی کھانا پکایا تھا اور ثروت اور صنم صوفیا انکی مدد کر رہیں تھیں۔
ساز اچھے خاصے نومبر کے مہینے میں بھی پسینے سے شرابور باہر ائ تو تائ جان نے اسے چادریں بچھانے کا آرڈر نافذ کر دیا وہ اس کام میں لگ گئ اور جب وہ فارغ ہوئ تب تک سوہا تیار ہو کر آ گئی تھی وہ اپنے کپڑوں کی شو مارتی کبھی ادھر جاتی کبھی ادھر ساز نے ایک پل کے لیے اسے دیکھا
جن لڑکیوں کے باپ زندہ ہوں اور مائیں تائ جان جیسی ہوں انکی قسمت بہت اچھی ہوتی ہے ان کی فرمائشیں پوری ہو جاتی ہیں اور انھیں کسی کی اترن نہیں پہنی پڑتی وہ سوہا کو دیکھتے ہوئے سوچنے لگی یہ سوچیں بچوں جیسی تھیں تو وہ اتنی بڑی تھی بھی نہیں کہ ہر چیز پر صبر کر لیتی لیکن اسنے انکھ کھولتے ساتھ ہی صبر کرنا سیکھا تھا اور یہ ہی اسکا مقدر تھا وہ گھیرہ سانس بھر کر اٹھی
بدر مٹھائ کا ٹوکری لے کر اندر آیا تھا اسنے بےزار نگاہ سے سوہا کو دیکھا اور اسکے بعد اپنی بہن کی جانب اسکی شفاف رنگت میں ہلکی سی سرخی گھلی ملی تھی جیسے وہ ابھی چولہے پر سے ہٹ کر ائ ہو ۔
سوہا بدر کو ہی مسکرا کر دیکھ رہی تھی بدر نے مٹھائ کا واحد ٹوکرا جو بڑی مشکل سے تایا جان نے بھیجا تھا گھر وہ رکھا قور ہاتھ میں موجود شاپر کو ساز کی طرف بڑھا دیا
ساز نے بدر کو سوالیہ نگاہوں سے دیکھا جبکہ سوہا بھی وہیں موجود تھی باقی سب نہا دھو کر فریش ہونے چلے گئے تھے
یہ پہن لینا آج” بدر نے کہا تو ساز کے چہرے پر بس ایک عام سے لباس کو لے کر جو خوشی چھائی بدر کو شدید شرمندگی ہوئ اسنے یہ پیسے بچا کر اسکے لیے لباس لیا تھا لیکن یہ عام سا تھا کہ اسکی شاید کوئ ولیو ہوتی ۔۔۔
جبکہ سوہا یہ منظر دیکھ کر آگ بگولہ ہوتی ان دونوں کے نزدیک ائ اور ساز کے ہاتھ سے وہ شاپر کھینچ کر اسنے وہ ڈریس دیکھا اور پھر طنزیہ مسکرائ
یہ تو کچھ زیادہ ہی عام ہے” وہ ہنس دی
ویسے تمھارے پاس پیسے کہاں سے آئے کہیں ابا کے”
شیٹ اپ” وہ گھور کر جھاڑ گیا
تمھیں ہزار بار کہا ہے میری عزت کیا کرو ورنہ ابا کو کہہ کر تمھارا دماغ درست کروانا میرے لیے مشکل نہیں ہے” سوہا کی بکواس پر ساز نے بھائ کو دیکھا
جاؤ تم تیار ہو جاو ” بدر نے تحمل سے کہا اور ساز وہاں سے چلی گئ جبکہ بدر بھی بنا جواب دیے ہٹنے لگا کیونکہ اس سے بحث کرنا دنیا کا سب سے بے کار کام تھا ۔
بدر چلا گیا تھا اور سوہا نے سر جھٹکا دونوں بہن بھائی ہی بے کار تھے
وہ اپنا میکپ درست کرنے چلی گئ وہ جانتی تھی اس سے زیادہ کوئ خوبصورت نہیں لگے گا
مہمان اکٹھے ہونے لگے تھے لیکن نجما اب تک کاموں میں لگی ہوئ تھی باہر بدر جبکہ لاونج میں ساز ان تینوں کو ہی گھر کے نوکروں سے زیادہ کی اہمیت نہیں دی گئ تھی
جبکہ صوفیا اور صنم کو انکی ماں نے بیٹھا دیا تھا
سوہا ساز کو دیکھ کر جل بھن چکی تھی کیونکہ وہ اس عام سے لباس میں بھی اتنی خاص لگ رہی تھی کہ جیسے چاندنی سی اسکے چہرے سے پھوٹ رہی ہو
عورتیں جمع ہوئیں اور میلاد شروع ہو گئ
ساز صنم اور صوفیا سے دور بیٹھی تھی تبھی بجھی بجھی سی تھی تائ جان نے اسے دم لینے ہی کب دیا تھا
ساز پانی پلا دو ساز اٹھ کر پنکھا چلا دو ساز یہ دو ساز وہ دو اور نجما کو نہ اٹھنا پڑا ساز سب کام خود کر رہی تھی
کتنی پیاری بچی ہے یہ ” ایک عورت ہلکی آواز نجما سمیت سب کے کانوں میں پڑی تو نجما نے ساز کی جانب دیکھا وہ سر پر دوپٹہ رکھے بیٹھنے ہی لگی تھی
ساز” تائ جان کی آواز پر وہ ایکدم کھڑی ہو گئ
جا کر مٹھائ پلیٹوں میں لگاو ” جھڑک کر بولیں
جی تائ جان” وہ کہہ کر کچن میں چلی گئ نجما کا چہرہ مرجھا سا گیا
بہن اسکی والدہ کون ہیں” انھوں نے نجما سے ہی پوچھا
میں” وہ آہستگی سے بولی
ارے ” وہ عورت مسکرائ کافی امیر خاتون لگ رہیں تھیں
بہت پیاری بچی ہے آپکی کیا اس بچی کا رشتہ ہوا ہوا ہے کہیں” انھوں نے کہا
نجما کی آنکھیں چمک گئیں پہلی بار ہوا تھا ایسا کہ کسی نے اسکی بچی کے بارے میں پوچھا تھا
نہیں ابھی تو کہیں نہیں” نجما مسکرائ
ماشاءاللہ یہ تو بہت اچھا ہو گیا
میرا بیٹا ہے صائم بہت شریف ہے مجھے آپکی بیٹی بہت اچھی لگی ہے میں او گی آپکی طرف” وہ عورت کھلے عام کہہ رہی تھی تائ جان سوہا یہاں تک کہ ثروت بھی پہلو بدلنے لگیں
نجما اٹھو دیکھو کہیں مر گئ ہے یہ ساز ” تائ کی کڑک آواز پر نجما جلدی سے اٹھی اور کچن میں چلی گئ اسکے بعد میلاد ختم ہونے تک وہ عورت ساز کے بارے میں ہی پوچھتی رہی تھی
اور جاتے جاتے بھی وہ آنے کا کہہ کر گئ تھی جبکہ اسنے خصوصی ساز کو پیار کیا تھا جو انکے پیار کا مطلب نہیں سمجھ سکی تھی
میلاد ختم ہونے کے بعد تائ جان کے پاوں دکھ گئے جبکہ سوہا
تائ جان اور ثروت چچی اور باقی سب کے لیے چائے بنانے کے لیے کچن میں ساز کھڑی ہو گئ تھی تاکہ نجما بھی کچھ دیر سکون حاصل کر لے ۔
یہ عورت وہ بڑے گھر والی تھی نہ بھابھی جو میری ساز کے بارے میں بات کر رہی تھی” نجما خوشی سے بولی
ارے رہنے دو کون ہے کیا ہے کیا کرتے ہیں ہمیں کیا پتہ بس عورتوں نے بھی فضولیات شروع کر دی ہے اللّٰہ کا ذکر ہو رہا تھا اور دیکھو رشتے داریاں شروع کر دیں تمھارے جیٹھ کو پتہ چل گیا تو اچھا نہیں ہو گا ” ساتھ کے ساتھ وہ ڈرا بھی گئیں
اور ساز نے ان باتوں پر کان دھرنے کے بجائے ان سب کو چائے دی اور بدر کے لیے لے کر باہر ا گئ بدر سامان اٹھا رہا تھا
بھای چائے” ساز کی آواز پر وہ پلٹا
میرے لیے” وہ حیران ہوا
جی” وہ مسکرا دی
اچھا بھئ تایا جان نے مجھ تک آنے دی چائے” وہ حیرانگی کا اظہار کرتا چئیر کھینچ کر بیٹھ گیا ساز کی جانب دیکھا
اچھی لگ رہی ہو ” وہ بولا تو ساز مسکرا دی چہرے پر شرم و حیا پھیل گئ بدر بھی مسکرایا
کل پیپر ہے آخری تیاری ہے” اسنے سوال کیا ۔
جی تیاری تو ہے اگر ریوائس کرنے کا وقت مل جائے تو اچھا ہو جائے گا ” اسنے کہا
چلو پھر جاؤ تم تیاری کرو “
لیکن کام کون کرے گا پھر” وہ افسوس سے بولی
میں دیکھتا ہوں جاؤ تم” بدر نے کہا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اندر لے ایا
امی ساز اب پیپر کی تیاری کرے گی تو اسے ڈسٹرب نہ کیجئے گا ” بدر نے سب کے سامنے کہا
ارے بھئی تم ہمیں کہو نہ سیدھا ایک چائے کا کپ کیا بنا دیا حمایت ہی شروع کر دی تم نے” تائ جان بولی
جی تائ جان سوہا سے بنوا لیں یہ چیزیں اسکے بھی آگے جا کر کام آئیں گی” وہ بول کر گزرنے لگا
آئے ہائے تم میری بچی سے کام کرواؤ گے” وہ بھڑکیں
اس قابل ہی نہیں ہے آپکی بچی کہ اپنے ہاتھ بھی خود ہلا لے”
بدر” نجما پریشان سی ہو گئ
دیکھ لو سیکھا پڑھا کر ہمارے آگے اسے بولنے کے لیے چھوڑا ہوا ہے تم نے” وہ نجما پر بھڑکی جبکہ بدر نے گھور کر تائ کو دیکھا
امی آپ ذرا کمرے میں آئیں میں ا رہا ہوں” وہ نجما کو بھی وہاں سے نکال کر لے گیا جبکہ نجما بولتی رہی تھی اسے کہ وہ بہت بدتمیز ہو گیا ہے
بدر کے پاس فلحال جواب نہیں تھا کیونکہ اسکی ماں حق پر بولنے کو بھی بدتمیزی کا نام دیتی تھی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں تمھیں لینے آیا ہوں گھر چلو ” عمر کی جانب دیکھتے وہ بولے جبکہ عمر نے گلاس میں بوتل سے مشروب ڈالا اور اسکے بعد وہ گلاس حلق میں اتار لیا
مسکرایا پھر ہنسنے لگا
اپکو میری ضرورت کیوں ہے”
اولاد ہو تم میری” وہ اب کے بھڑکے کہ وہ کسی طور قابو میں نہیں ا رہا تھا
اولاد” وہ گھیرہ سانس بھر کر پھر سے پینے لگا
آپ اپنا وقت ضائع کرتے ہیں بار بار یہاں ا کر” اسنے شانے اچکائے
ہر وقت یہ گند پیتے رہتے ہو تبھی اس قدر زہر لگتے ہو ” وہ بلا تکلف بولے
زیر ہی ہوں آپ کیوں پینے کے چکروں میں ہیں مجھے ۔۔۔ مر جائیں گے” وہ مسکرایا جبکہ اشفاق صاحب آگے ہوئے
بات توجہ سے سنو عمر میری ۔۔۔
تمھیں لینے آیا ہوں سیدھی طرح میرے ساتھ چلو “
وہ بولے جبکہ عمر نے سانس کھینچا
میرے پاس وہ چیز ہے جو تمھیں چاہیے اور وعدہ کرتا ہوں اگر تم میرے ساتھ چلو گے تو جو تمھیں چاہیے میں تمھیں دے دوں گا ” اشفاق صاحب جیسے اسکے اندرونی معاملات سے واقف تھے وہ سنجیدگی سے انھیں دیکھنے لگا
مجھے پتہ ہے تم اپنی ماں کی ڈائری ڈھونڈتے ہو میرے پاس ہے میں تمھیں دوں گا لیکن” وہ ٹانگ پر ٹانگ چڑھا گئے
تمھیں میرے ساتھ چلنا ہو گا ” وہ سکون سے بولے
چلیں” عمر نے بوتل ہاتھ میں لی اور کھڑا ہو گیا اشفاق صاحب کے لبوں پر مسکان تھی
میرا بیٹا ” وہ اسکے شانے پر ہاتھ دھر گئے
عمر کو انکی منافقت سے نفرت تھی انکے ہونے سے ہی نفرت تھی اسنے انکا ہاتھ اپنے شانے سے جھٹکا اور آگے چلنے لگا
گاڑی نکالی اور انک ویٹ کیے بنا ہی وہاں سے گاڑی نکال گیا جبکہ اشفاق صاحب باہر آئے تو ارہم انتظار کر رہا تھا
کیا ہوا ” وہ بے تابی سے بولا بات بن گئ ہے وہ گھر ہی گیا ہے” وہ بولے اور گاڑی میں بیٹھ گئے
سچ ابو ” ہاں بھی” وہ ہنسا
زبردست ہو گیا بس اس سے پیسے لے کر خواجہ محبوب کے منہ پر مارا کر ہم اپنی جان بچائیں گے” ارہم نے گاڑی گھمائ اشفاق صاحب سر ہلا گئے
ابھی تو یہ گھر آیا ہے آگے دیکھتے ہیں کیا کرنا ہے”
ابو عمر کی شادی کرا دیں”
ارہم کے مشورے پر وہ چونکے کون کرے گا اس سے شادی” وہ بولے اور باہر دیکھنے لگے یہ تو سچ تھا اس سے شادی کون کرتا جس قسم کے اسکے حالت تھے کیا کوئ جانتا نہیں تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روہان اوپر والے پورشن میں چہل قدمی کر رہا تھا لیکن اسکا اصل مقصد صرف اور صرف شاہنواز بھائ کی نئی نویلی بیوی کو دیکھنے تھا وہ اتنی خوبصورت تھی کہ وہ حیران تھا کہ اتنی خوبصورت لڑکی اتنے بڑے مرد کی بیوی تھی
وہ ہر کمرے میں جھانکتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا کہ ایزہ نے کمرے کا دروازہ کھولا اور وہ باہر نکلی
روہان ایزہ کو دیکھ کر اسکی سمت بڑھا اور ایزہ کی توجہ بھی نہیں تھی اسپر وہ نیچے جانے لگی تھی شاہنواز تو جا چکے تھے تبھی وہ دادی جان کے پاس جا رہی تھی کہیں وہ خود اوپر آتی اس سے پہلے وہ نیچے جانے لگا
ایزہ” روہان نے پکارہ تو ایزہ نے مڑ کر دیکھا
شاہنواز کے الفاظ کی باز گشت اسکے کانوں میں گونجی
ہائے کیسی ہو ” روہان مسکرا کر اسکے قریب آیا
ایزہ نے جواب نہیں دیا پاس سے گزرنے لگی
کیا ہوا ” روہان آگے ا گیا
مجھے نیچے جانا ہے آپ پلیز آگے سے ہٹ جاییں” ایزہ آہستگی سے بولی
ایزہ تم شاہنواز بھائ کے ساتھ کیسے رہتی ہو وہ کتنے بڑے اور تم ایک کومل سی کلی کیطرح ہو جسے “
ایزہ خوفزدہ سی دور ہوئ کیونکہ روہان اسے ہاتھ لگانا چاہ رہا تھا
آپ دور ہو جائیں”
کیوں کیا ہوا کیا تم ایک بڈھے کے ساتھ “
آپ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں” وہ سسک اٹھی
تم تو ڈر گئ” روہان ہنسا ادھر ادھر دیکھنے لگا کہ کوئ دیکھ تو نہیں رہا
یہ میرا نمبر ہے تم مجھ سے رابطہ”
اسکی بات مکمل ہوتی کہ اسکے ہاتھ میں موجود نمبر کسی نے اچک لیا اور ایزہ کی روح جہاں فنا ہوئ وہیں روہان گھبرا کر دور ہوتا سیڑھیاں اترتا گیا
چار پانچ سیڑھیاں اترتا وہ دور ہوا
شاہنواز نے خاموشی سے وہ نمبر دیکھا
اسنے ایزہ کی جانب نہیں دیکھا وہ کانپ رہی تھی وہ شدت سے کانپ رہی تھی دل تھا کہ تھرتھرا گیا
شاہ نواز نے بھی چار پانچ سیڑھیاں اتریں روہان دور ہونے لگا
شاہ بھائ ایزہ نے نمبر مانگا تھا میں تو آپکی بیوی کے بہکاوے میں ا گیا ” روہان کی بات پر وہ چکرا گئ
شاہنواز نے ایکدم اسکی گردن جکڑ لی
اور اس شدت سے دبائ کہ روہان کی آنکھیں باہر ا گئیں
تم جانتے ہو وہ کون ہے”
شاہ نواز کی سرد آواز پر روہان نے سانس حلق مین اتارا
میں سچ کہہ اپکی بیوی نے “
ششش جواب دو ” وہ اپنی بات پر اٹل رہا
آپ آپ کی بیوی”
شاہنواز سکندر کی بیوی جو نہ رعایت دیتا ہے نہ غلطیوں کی معافی” کھینچ کر تھپڑ روہان کے منہ پر مارا اور دادی جان اور آنٹی روہان کی ماں کے قدموں میں روہان جا کر گیرہ
شاہنواز” دادی جان کی آواز پر شاہنواز نے کان نہیں دھرے
کھڑے ہو ” وہ اسے ٹھوکر مار کر کھڑا ہونے کا کہنے لگا
کیا ہوا ہے” انھوں نے روہان کو پکڑا جبکہ روہان چلانے لگا
شاہ بھائ کی بیوی نے خود مجھے سے نمبر مانگا تھا یہ مجھے مار رہے ہیں” وہ غصے سے بولا
جبکہ دادی سمیت وہ عورت بھی توبہ توبہ کرنے لگی
او بھائ اپنی بیوی پر پٹا ڈالو” وہ عورت روہان کو اپنے قریب کرتی چلائ جبکہ شاہنواز نے “
روہان کی جانب پھر سے ہاتھ بڑھایا اور دادی جان نے آگے ا کر روکا
اپنی بیوی کو روکو شاہ اتنا اندھا اعتبار کرتے ہو اسپر” وہ آگ بگولہ ہوئیں ۔۔۔
شاہ نواز جوالہ مکھی کیطرح پلٹا اور ایزہ کا بازو جکڑ کر اسے کمرے میں لے گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے