Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024

Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Last updated: 20 June 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ek Ana Parast By Tania Tahir

تھکی تھکی سی نگاہ اٹھا کر اسنے اس کی جانب دیکھا جو لاغرض سا آئینے کے سامنے کھڑا خود کو سنوارتا کافی مطمئین تھا ۔ اسکے پہلو میں ساری رات گزار کر بھی اس شخص نے ایک بار بھی یہ سوال نہیں کیا تھا کہ تمھارا وجود تپ کیوں رہا ہے ۔ صرف اپنی ضروریات کو ملحوظ خاطر رکھنے والا 35 سالہ شاہنواز سکندر کافی بے حس تھا رات ایک پارٹی ہے اسکے لیے ریڈی رہنا اور کوشش کرنا چہرے پر سے

یہ مجوسیت اتار جائے" ۔ شاہنواز سکندر کی بھاری آواز کمرے میں گونجی

اور اسکے ناتواں وجود پر اسکی آواز کا بھی کئ گناہ بوجھ تھا کجا کہ وہ اسے ہر رات برداشت کرنے پر مجبور تھی وہ سر جھکا گئ ۔ اسنے آئینے میں سے ہی دیکھا ۔ ایزہ نے حلق تر کیا جی میں تیار رہو گی" ۔ شدید بخار میں تپنے کے باوجود وہ انکار نہیں کر سکی ۔ اور میں نے تمھارے لباس کا کہہ دیا ہے پہنچ جائے گا ۔ " ۔وہ بولا

خود پر خوشبو برسا کر اسنے پرفیوم پھینکا اور بالوں میں ہاتھ پھیر کر پیچھے پلٹا

اور اپنی ویسکوٹ اٹھا کر پہنی ۔بلاشبہ وہ کمال وجاہت کا مالک تھا ایزہ سر جھکائے بیٹھی تھی ۔ تم بھری ہو ایزہ " ۔وہ گھڑی پہنتا اس سے سکون سے سوال کرنے لگا آ۔۔آ۔ معافی چاہتی ہوں جی میں وہ ہی لباس پہنو گی" ۔ وہ پھر سے جلدی سے بولی ۔ شاہنواز نے سر جھٹکا ۔ اور باہر نکل گیا ۔ اسنے اس بند دروازے کی جانب دیکھا اب تو رونا بھی نہیں آتا تھا ۔ وہ اٹھی بستر پر کئ شکنیں تھیں ۔ اور ہر شکن اس کی بے بسی اور اس مجبوری کی گواہ تھی جو وہ ایک غلطی کے سبب سہ رہی تھی ہاں اسکی غلطی ایک گناہ تھا لیکن انسانوں میں اتنی وسعت کیوں نہیں ہوتی

کہ وہ معاف کر دیں وہ کیوں اپنے رب کی درگزر کی صفت کو اپنا نہیں لیتے ۔ نہ اسے کوئ معافی ملی تھی نہ ہی اسکی سزا ختم ہوئ تھی اسنے آئینے میں بے دھیانی سے ہی خود کو دیکھا ایزہ " ۔ جیسے اپنے اندر ہی کسی نے پکارہ تھا وہ اگنور کر گئ پیچھلے چھ ماہ سے اسنے اپنے آپ کو ہر قسم کی رعایت سے محروم کر لیا تھا ۔ وہ تیار ہو کر نیچے ائ ۔ تو شاہنواز سکندر ناشتہ کر رہا تھا دادی جان کے ساتھ وہ سلام کرتی چئیر کھینچ کر بیٹھی تو اسکے ہاتھوں میں واضح لرزش تھی کیونکہ رات اسکے آگے سے کھانا کھینچ لیا گیا ۔تھا شوہر کے بعد آنے والی بیویاں آوارہ ہوتی ہے ایزہ شاہ" ۔دادی جان کی آواز پر وہ اپنا ہاتھ روک گئ ۔ شاہنواز لاتعلق سا بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا ۔ جیسے اگر یہاں طوفان بھی ا جاتا وہ اپنی جگہ سے نہ ہلتا ۔ معافی چاہتی ہوں دادی جان طبعیت ٹھیک نہیں تھی" وہ اہستگی سے بولی یہ طبعیت کے ڈرامے تمھارے جیسی جوان جہان عورتوں پر نہیں جچتے " ۔وہ کڑک لہجے میں بولیں وہ عورت تھی؟ صرف بیس سالہ لڑکی عورت تھی ۔؟؟؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔