Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

شاہنواز کے دوست ا گئے تھے ایک بات تھی وہ کافی سوشل تھا اور انکے ہاں تو سوشل ہونے کا کوئ ٹرینڈ ہی نہیں تھا
وہ اسکے ساتھ ساتھ چل رہی تھی اسنے لونگ شرٹ پہنی تھی اور آج شاہنواز نے اسے بیوٹیشن کو بلا کر تیار کرایا تھا شاید اسکے نشانات دیکھ کر خود بھی سمجھ گیا تھا کہ وہ ان کو چھپا نہیں سکتی ۔
وہ خوبصورت سی موم کی گڑیا اسکے بازوں میں تھی جبکہ کئ لوگوں ہی نگاہوں میں اسکے دوست اپنی باتیں کر رہے تھے جبکہ اسکا دل کیا کہ رمشہ ا جاتی لیکن آج وہ نہیں تھی
وہ لوگ انکی بیویاں بھی تھیں لیکن سب اتنے بڑے بڑے تھے وہ جھجھک رہی تھی کسی سے بھی فارمل ہو کر بات نہیں کر پا رہی تھی اور پتہ نہیں کیوں ہائی کلاس کے لوگوں کو اسکی یہ شرم اور جھجھک بے حد اچھی لگ رہی تھی
شاہ بلاخر وہ اسکو پکار گئ
اسنے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر نزدیک کیا ۔
ہم بولو ” جوس کا گھونٹ بھرتا وہ اسکے نزدیک اپنا کان کر گیا
سب کے سامنے اسکی بولڈنیس نئی تو نہیں تھی اسکے لیے لیکن وہ جھجکی
وہ میں تھک گئ ہوں کیا میں اوپر چلی جاوں” اسکی آنکھوں میں منت تھی ۔
شاہنواز نے سنجیدگی سے اسکی جانب دیکھا ۔
ایزہ کو لگا وہ کچھ غلط کہہ گئ اور وہ اسکے گال کو بے ساختہ چوم گیا ۔
ایزہ کی دھڑکنیں بے ہنگم سی حیران تھیں
جاؤ” اسنے اسکی کمر پر ہاتھ رکھ کر اسے آگے جانے کا کہا
ایزہ شاکڈ سی ہوتی وہاں سے ہٹ گئ لیکن سمجھی نہیں کسی کی نگاہ اسی پر تھی ۔
فہیم شاہنواز کا دوست تھا جو ایزہ کو بہت دیر سے دیکھ رہا تھا اور ایزہ جیسے اسے بہت اچھی لگی تھی
شاہنواز کو ایک نظر دیکھا وہ کسی اور سے بات چیت کر رہا تھا پھر اسنے ایزہ کو دیکھا جو چھوٹے چھوٹے قدم بھرتی اوپر چڑھ رہی تھی اسکی ملائ سی رنگت اسکا مکھن سے ملتا وجود وہ نوخیز جوانی ۔۔ فہیم کے اندر شیطان سا ابھار گئ
وہ اٹھا اور شاہنواز سے نگاہ بچا کر اسکے پیچھے پیچھے چل پڑا
اور ایزہ کمرے میں ائ اور بیڈ پر بیٹھ گئ
شاہنواز کا لمس اسکے گال پر اب بھی تھا
یہ لمس اس لمس سے بہت مختلف تھا جو رات بھر اسنے سہا تھا
کیا محبت کی موجودگی بھی چھونے کی حسوں کو تبدیل کر دیتی ہے ۔
وہ اسی سوچ میں تھی اسنے اپنے پاوں سے سینڈل اتارے اور
اپنے گداز پاوں کارپینٹر پر رکھتی وہ دوپٹہ اتار کر بیڈ پر پھینکتے اس جیولری سے عاجز آتی اپنی جیولری اتارنے لگی کہ اچانک ہی دروازہ کھلا اور اندر شاہنواز کے دوست کو آتے دیکھ وہ ایکدم گھبرا کر پلٹی
وہ دانت نکوستہ دروازے کو لاک کر گیا
ا۔۔۔آپ ” ایزہ کی آواز ہی سہم گئ
ہاں میں شاہنواز کی موجودگی میں بات ہی نہیں ہو سکتی بات تو کیا نگاہ بھی نہیں اٹھ سکتی تھی لیکن تم مجھے بہت خوبصورت لگی ہو ” وہ اسکے نزدیک آنے لگا
آپ آپ باہر جائیں اپ میرے کمرے میں کیوں آئے ہیں’
ہائے تمھاری آواز سوچ رہا ہوں شاہنواز کو کہاں سے مل گئ تم۔۔
بہت نوچتا ہو گا تمھیں تو ” وہ ہنسا
ایزہ کا دماغ اسکی اس بکواس پر چکرا کر رہ گیا
میں شاہ کو شکایت کر دوں گی جائیں اپ یہاں سے” وہ غصے سے بولی
ارے تھوڑی دیر میں کچھ نہیں ہوتا ” وہ اسکے نزدیک آیا اور ایزہ کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے دبوچ لیا اتنی سختی سے کہ جیسے کمر توڑ دیتا ۔
اور ایزہ کے بازو کو اسکے ہاتھوں نے دبانا شروع کیا
شاہ” وہ چلا اٹھی اسپر اپنے نازک ہاتھوں سے مکے برسانے لگی
آواز نہ نکال تیرے شوہر نے سن لیا تو ٹکڑے کر دے گا ” وہ اسکا منہ دبوچ گیا اور زبردستی اسکی گردن پر اپنے دانت گاڑنے کی کوشش کرنے لگا
ایزہ کو لگا اسکی روح نکل جائے گی
وہ حلق کے بل چلانے لگی مگر فہیم کی ہتھیلی اسکی آواز گلا دبا رہی تھی
شاہ “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے شاہنواز چلتے ہیں
یہ فہیم کہاں ہے” اچانک علی نے کہا تو شاہنواز کی عقاب سی نظروں نے چاروں سمت دیکھا
فہیم” اسنے پکارہ مگر وہ اسے کہیں نظر نہیں آیا اور پھر اسکی نگاہ اس بند دروازے پر گئ وہ فہیم کی طبعیت سے واقف تھا واقف تو سب ہی تھے لیکن اج تک مذاق میں ہی اڑاتے تھے
شاہنواز کے قدموں تلے زمین سی کھسکی تھی اسے لگا جیسے اسکے قدم ڈول سے گئے ہوں وہ سیڑھیاں چڑھا اور تقریبا دوڑتے ہوئے اسنے دروازہ کھولنا چاہا مگر دروازہ لاک تھا
ایزہ “
شاہ” وہ درد سے چلائ
فہیم گھبرا گیا
ایزہ کے شانے پر دانتوں کے نشان تھے ایزہ کا بازو پھٹ چکا تھا اسکے چہرے پر فہیم کے ہاتھوں کی سختی کے نشان تھے
فہیم نے اس ٹوٹتے ہوئے دروازے کو دیکھا اور وہاں سے بھاگنے کو جگہ تلاشنے لگا مگر یہ کمرہ تھا یہ کنواں کوئ کھڑکی نہیں تھی وہ پھنس گیا تھا
ایزہ اٹھ کر دروازے کی جانب لپکی کہ فہیم نے اسکی ٹانگ کھینچ لی
آہ ” وہ منہ کے بل گیری اور باہر شاہ نواز اسکی آوازوں پر جیسے جھلس اٹھا ۔
وہ دروازہ توڑ دینا چاہتا تھا
ایزہ پیٹ پر ہاتھ رکھ گئ اور درد سے رونے لگی جبکہ فہیم کو لگا اب سب الٹا ہو چکا ہے اچانک ہی شاہنواز نے دروازہ جیسے توڑ دیا اور وہ اندر داخل ہوا ایک نگاہ ایزہ کو دیکھا اور دوسری فہیم کو جس کے رنگ اڑ گئے تھے اور اسکے بعد اسنے کھینچ کر فہیم کو لات ماری تھی گھر میں شاہنواز کے غرانے کی آواز گونج رہی تھی اسنے فہیم کو گالیوں مکوں تھپڑوں سے مار مار کر برا حشر کر دیا تھا اسکے باقی دوست بھی کھڑے تھے
ارے آپ روکیں شاہنواز کو وہ فہیم بھائ کو مار دیں گے” کسی ایک کی بیوی بولی
یہ اسی قابل ہے اسے شاہنواز کا پتہ نہیں تھا اور وہ کبھی نہیں روکے گا ” وہ بولے تو جیسے سب سہمی ہوئ نگاہ سے دیکھنے لگے شاہنواز نے بس ایزہ کے شانے پر ابھی دانت کے نشان دیکھے تھے
اور اسنے اتنے مکے اسکے دانتوں پر برسائے یہاں تک کے گالیاں دیتا وہ اسکے منہ پر بھاری لیمپ دے کر مار چکا تھا فہیم درد سے چلایا اور اسکے اگلے دانت ٹوٹ گئے
وہ اٹھا اسنے اپنی گن نکال لی
شاہنواز ” علی اور باقی سب نے اسے جکڑا
چھوڑو مجھے آج اس ( گالی) کو جان سے مار دوں گا اس نے شاہنواز کی بیوی پر ہاتھ ڈالا ہے” وہ گن لوڈ کر گیا
شاہ نواز بھائ ایزہ بے ہوش ہو گئ ہے ” علی کی بیوی نے ایزہ کے ساکت وجود کو آگے بڑھ کر چھوا
شاہ نواز کے سر پر اس وقت خون سوار تھا کہ اسکے ہوتے ہوئے اسکی بیوی کو کسی اور نے چھو کیسے لیا کس طرح اس تک کوئی پہنچ گیا اسکا بس نہیں چل رہا تھا فہیم کو لہو لہان کر دے
میں نے کہا ہے چھوڑو مجھے” وہ دھاڑا
تم پاگل مت بنو پہلے ہی اسکا بڑا حال ہو چکا ہے شجاع یار اٹھاؤ اسے ” علی نے شاہنواز کو سختی سے جھڑتے دوسرے دوست کو کہا جو فہیم کی طرف بڑھے تھے اسکے دانت ٹونے کی وجہ سے وہ درد سے رو رہا تھا
چھوڑو مجھے ۔۔۔ شاہنواز تو اسی طرح پاگل تھا کیا وہ سب جانتے نہیں تھے اور اسنے بنا کچھ دیکھے فہیم کے ہاتھوں پر فائرنگ کر دی اسکے پاوں پر ۔۔۔
بس ” علی نے اسے دور دھکیلا
فہیم کی چیخوں نے گھر سر پر اٹھا لیا تھا
جبکہ شاہنواز تو اسے چیڑ دینا چاہتا تھا اسکے باقی دوست فہیم کو کھینچ کر وہاں سے لے گئے جبکہ شاہنواز کے سر پر خون سوار تھا
کیوں پاگل ہو جاتے ہو تم” اسنے شاہنواز کو دیکھا
وہ علی کو بھی دور دھکیلا گیا بنا جواب دیے اسنے ابھی تک ایزہ کو چھوا نہیں تھا غصے سے پھنکار رہا تھا
ہاں ڈی سی پی صاحب ایک تصویر اور نام بھیج رہا ہوں یہ کتا جس بھی حالت میں ہے مجھے سلاخوں کے پیچھے چاہیے” علی سر تھام گیا شجاع بھی جبکہ باقی دوست فہیم کو ہسپتال لے کر بھاگ گئے تھے کہیں مر ہی نہ جاتا
میں نے کہا مجھے اس نام کا شخص سلاخوں کے پیچھے چاہیے ” وہ دھاڑا تو گھر کی درو دیوار بھی جیسے ساکت رہ گئ
اسنے فون بند کیا اور اگلا فون رمشہ کو گھمایا تھا
رمشہ کسی بھی ڈاکٹر کو لے کر گھر آؤ “
بس اتنا کہہ کر کال بند کر دی
علی کی بیوی نے ایزہ کے چہرے پر پانی ڈالا تھا وہ ہوش میں نہیں رہی تھی شاہنواز نے بنا کچھ کہے انکے ہاتھ اپنی بیوی پر اسے ہٹائے اور اسے بازوں میں بھر لیا تو وزن کا احساس بھی نہ ہوا
اسکی گردن پر صبح والے نشان جتنی اسکی انا کو تسکین دے چکے تھے اس وقت یہ ایک نشان اسکی جان نکال رہا تھا سچ تو یہ تھا اسنے زور سے اسکی گردن پر یہ نشان دبا دیا ایزہ کے وجود میں جنبش بھی نہیں تھی
وہ کمرے سے ہی باہر نکل گیا جبکہ علی شجاع اور انکی مسز بھی
شاہ تم تھوڑا تو چین لے لیا کرو “
علی دفع ہو جاؤ اگر تم میرے ہاتھوں مرنا نہیں چاہتے اس ( گالی ) کا نشان میری بیوی کے وجود پر ہے تم یہ کہہ رہے ہو میں چین لوں” وہ ٹیبل کو لات مار گیا تم نے اسکا کیا حال کر دیا ہے تھوڑا سکون لو “
نہیں لوں گا جان سے مار دوں گا میری چیز کو چھونے کی جرت بھی کیسے کی اسکے دماغ میں یہ خیال بھی کیسے آیا ” وہ جیسے بھوکے شیر کیطرح کبھی ادھر تو کبھی ادھر پورے لاونج میں گردش کر رہا تھا
رمشہ تیزی سے اندرا ئ
کیا ہوا ” وہ بولی اسکے ساتھ ڈاکٹر بھی تھیں
شاہنواز نے جواب نہیں دیا اور ڈاکٹر کو اپنے روم میں چلنے کا کہا
اور سوائے رمشہ کے کسی میں جرت نہیں تھی اسکے ساتھ ہی کمرے میں گھس گئ
شاہنواز” رمشہ چلا اٹھی
وہ دانت پر دانت چڑھائے کھڑا رہا
ڈاکٹر بھی خاموشی سے اسکی ٹریٹمنٹ کرنے لگی
یہ بے ہوش کیوں ہوئ ہے”
ویک نیس ۔۔ بہت ویک ہیں آپکی وائف کوشش کریں انھیں ریلکس کرنے دیں کچھ وقت ” ڈاکٹر اس نشان پر دوائ لگانے لگی رمشہ نے گھور کر اسے دیکھا جس کے تیور اتنے خراب تھے کہ وہ سب کے منہ پر تھپڑ برسا دیتا
وہ ادویات لکھ کر اسکے ہاتھ میں تھما گئ
شی نیڈز گڈ بیہوئیر مسٹر شاہنواز’
ٹھیک ہے اب جاو یہاں سے” وہ چیڑ کر بولا
جبکہ رمشہ کو شرمندگی سی ہوئ وہ ڈاکٹر اسکی اچھی جاننے والی تھی ڈاکٹر چلی گئ اور علی اور شجاع بھی اس پاگل کو ٹھیک کرنے والی جو ا چکی تھی
یہ کیا کیا ہے تم نے”
رمشہ کے سوال پر اسنے غصیلی نگاہ اتھائ
نکلو تم بھی یہاں سے” اسنے کہا
شیٹ اپ تم اتنے جنگلی جانور کیسے ہو سکتے ہو ” وہ ایزہ کے پاس بیٹھ گئ
تبھی وہ تم سے سہمی رہتی ہے کچھ نہیں بولتی “
رمشہ کو لگ رہا تھا یہ سب شاہنواز نے کیا تھا اور شاہنواز اس نشان کو دیکھ دیکھ کر جل رہا تھا
وہ سر تھامے کچھ دیر ایزہ کو دیکھتا رہا اور پھر اٹھ کر چلا گیا جسے ڈارپ لگی ہوئ تھی
پتہ نہیں اسے چین کیسے آتا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے ہوش آیا تو اسنے اپنے پاس رمشہ کو دیکھا اور ایکدم اسکے سینے سے لگ کر وہ بری طرح رو دی معلوم نہیں کیوں لگا تھا وہ اسکی ہمدرد ہے
رمشہ نے بھی اسے خود سے لگا لیا کسی بڑی بہن کیطرح ۔
تم پریشان نہ ہو میں اسکی ٹانگیں توڑ دوں گی یہ تمھارے ساتھ ایسا رویہ کیسے رکھ سکتا ہے” وہ بولتی جا رہی تھی
یہ ۔۔۔۔یہ انکے دوست نے کیا ہے وہ وہ نہ آتے تو شاید میں ” وہ بری طرح رو دی
کیا ” رمشہ پر جیسے پہاڑ سا ٹوٹا وہ اسے مزید خود میں بھینچ گئ اسکی سسکیوں سے رمشہ کے اعصاب چیخنے لگے تھے
ایزہ ” وہ پکار اٹھی ایزہ روتی چلی گئ
تم ایسا کرو کچھ وقت کے لیے اپنے ماں باپ کے پاس چلی جاؤ مجھے لگ رہا ہے فہیم کو وہ مار دے گا ” رمشہ سمجھ گئ تھی یہ کس نے کیا ہے
ایزہ جیسے ماں باپ کے نام پر تر رو دی اتنا تو شاید چھ سات ماہ میں بھی نہیں سسکی تھی وہ روتی ہی چلی گئ
میرے ماں باپ نہیں ہیں وہ کہیں بھی نہیں ہیں جن لڑکیوں کے سر سے ماں باپ ہاتھ اٹھا لیں انکا انجام ایسا ہی ہوتا ہے ” وہ ہچکیاں بھرنے لگی
رمشہ چپ رہی وہ ہرٹ تھی اور اس وقت مزید ہو جاتی اگر وہ کوئ سوال کرتی
آپ پلیز یہیں رہ جائیں میرے پاس ” آنسو صاف کرتی وہ منت بھرے لہجے میں بولی
اچھا ٹھیک ہے تم پریشان نہ ہو ” وہ اسکے گال سہلانے لگی
تم کچھ کھا لو پہلے ڈاکٹر نے کہا ہے بہت ویکسین ہے تمھیں” وہ بولی اب کیا بتاتی کہ جب اسے بھوک لگتی تھی تو دادی جان اسکے آگے سے کھانا اٹھا لیتی تو اب اسے بھوک مارنے کی اتنی عادت ہو گئ کہ وہ کچھ کھاتی ہی نہیں تھی
رمشہ اس سے پہلے اٹھتی کہ شاہنواز کمرے میں داخل ہوا دونوں کی نگاہ ملی اور شاہنواز اسکی آنکھوں میں کیا دیکھتا وہ نشان خون کھلانے کے لیے کافی نہیں تھا
تم گئ نہیں اب تک” رات کے دس بج رہے تھے وہ ذرا کڑوے تیوروں میں بولا
ایک بات بتاو شاہنواز وہ صرف بیس سال کی ہے بیس سال کی لڑکی اتنی بےبس ہوتی جیسے کوئ بچہ ۔۔۔
نہ ہی اس سے کسی بردبانہ بات کی توقع کی جا سکتی ہے اور نہ ہی یہ امید لگائ جا سکتی ہے کہ وہ اپنی حفاظت خود کر سکتی ہے اور نہ ہی کوئ انسان کسی بچے کو جانوروں کی طرح ٹریٹ کرتا
وائے یو بیہیو لائیک دس “
جسٹ شیٹ اپ رمشہ اینڈ گیٹ اوٹ” وہ ہاتھ اٹھا کر بولا
یو جسٹ شیٹ اپ مجھے مجھے افسوس ہو رہا ہے کہ ہم بہت اچھے دوست ہیں” وہ غصے سے بولی
یعنی تم نہیں جاؤ گی” ۔
ایزہ نے مجھے یہیں رہنے کا کہا ہے میں کہیں نہیں جا رہی اگر دھکے مار کے نکلوا گے تو تمھاری مرضی” وہ ہاتھ سینے پر باندھ کر کھڑی ہو گئ
شاہنواز نے ایزہ کو دیکھا جو گھبرا سی گئ اسے امید نہیں تھی رمشہ اسکا نام لے گی
شاہنواز کی گھورتی نگاہ نے ایزہ کا دم سا نکال دیا
کہو اس سے یہ جائے یہاں سے ” وہ سیدھا بولا
ایزہ نے بے چارگی سے رمشہ کی جانب دیکھا
اسکا سر پھاڑنا تم” رمشہ غصے سے ایزہ کو دیکھتی بولی ایزہ میں اتنی ہمت تھی کہ وہ ایسا کرتی ۔۔
بہت اچھے مشورے دے رہی ہو تمھارے اندر تو چین ہی میرے مرنے پر آئے گا ” وہ دونوں اتنے بڑے ہونے کے باوجود بچوں کیطرح لڑنا شروع ہو چکے تھے ایزہ کبھی یہاں دیکھتی کبھی وہاں ۔۔۔
مگر نہ جانے کیوں شاہنواز کے ان لفظوں پر اسکے منہ سے بے ساختہ اللّٰہ نہ کرے نکلا تو رمشہ نے کھا جانے والی نگاہوں سے اسے دیکھا
کچھ دیر کے لیے آمین کہہ دیتی اور چڑھاوے اسکو سر پر جو پہلا ہی سر پر چڑھا ہوا ہے ” وہ ایزہ کو ڈپٹ دیتی
ایزہ چپ ہو گئ اور شاہنواز نے اپنے سینے پر ہاتھ باندھ لیے جیسے پوچھ رہا ہو اب بتاؤ
زہر لگ رہے ہو ” رمشہ کہہ کر ایزہ کے پاس ائ
میری جان اپنا خیال رکھا “
رمشہ یہ کسی کی جان نہیں ہے زبان کھینچ لوں گا اب بکواس کی تو ” وہ بھڑکا
رمشہ دانت پیس گئ
یہ پاگل سنکی بڈھا ہے ” وہ آہستگی سے بولی
پلیز اپنا خیال رکھنا اور تم کچھ کھا لینا اور اس سے ڈرنا مت ایزہ ” وہ اسکا گال تھپتھپاتی رک گئ کیونکہ وہ اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا
وہ جانتی تھی شاہنواز اپنے چاہنے والوں کو لے کر پاگل ہے
ایزہ نہیں چاہتی تھی وہ جائے مگر وہ جا رہی تھی شاہنواز کی جانب دیکھا بھی نہیں وہ باہر نکل گئ اسنے کمرے کا دروازہ بند کیا ایک نظر پورے کمرے میں ڈالی
عجیب سا احساس ہونے لگا وہ آگے بڑھا ایزہ کی ڈرپ کھینچ کر نکالی وہ کراہ اٹھی نم نظروں سے اس بے حس کو دیکھنے لگی اسنے آگے بڑھ کر اسے اٹھا لیا
ایزہ کی سانس اٹکی اور وہ اسے اس لیے کمرے سے باہر ا گیا
دوسرے کمرے میں داخل ہوا وہاں ایزہ کو بیڈ پر بیٹھایا اور خود وہاں سے چلا گیا
ایزہ کو پہلی بار محسوس ہو رہا تھا وہ کتنا انا پرست تھا اس سے وہ جگہ برداشت نہیں ہو رہی تھی تو وہ اسے کیسے برداشت کرتا اسنے جلدی سے اپنے نشان کو چھپا لیا
وہ تقریبا آدھے گھنٹے بعد کمرے میں ایا تھا اور اسکے ساتھ ملازم بھی تھے ۔۔۔
انھوں نے کھانے کی ٹرے رکھی ایزہ شاہنواز کو دیکھنے لگی جو کہ
کبرڈ میں سے کچھ نکال رہا تھا
ایزہ نے کھانے کی ٹرے تب تک اپنے نزدیک کھینچ لی اور کھانے لگی
بھوک بھی تھی لیکن پتہ نہیں کیوں زیادہ کھایا ہی نہیں گیا بہت جلد چند لقموں میں پیٹ بھر گیا خوف تھا اسکے اردگرد حلق سے نیچے کچھ بھی نہ اترتا ۔۔۔
اٹھو شاور لو اور کوشش کرو اس نشان کو ہٹاؤ اپنے جسم پر سے نوچو اکھاڑو یہ یہ حصہ کاٹ کر پھینک دو مجھے یہ تمھارے جسم پر نشان نہیں چاہیے ” اسنے اسکی جانب ایک نائیت ڈریس پھینکا اور سنجیدگی سے بولا ۔
کوئ ہمدردی نہیں کی تھی اسے اس سے بس وہ اپنے ہی مسلے میں تھا ۔
ایزہ نے نم آنکھوں سے وہ ڈریس اٹھایا اور اسکے پاس سے گزر گی یہاں تک کے وہ ایک قدم دور ہوا
ایزہ کا دل پھٹنے کو تھا اسکا کوئ قصور نہیں تھا اس میں تو کیا شاہنواز اس سے گھن کھائے گا اس سے دور رہے گا
واہ کیا قسمت تھی اسکی وہ واشروم کی دیوار پر سر ٹکائے بری طرح رو دی کہ دروازہ کھلا وہ اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگا
اسنے اپنی شرٹ کے بٹن کھولے ایزہ کا رونا بند نہیں ہوا تھا
اسے دیکھ کر بھی اس بات نے کافی تکلیف دی تھی ہاں ٹھیک ہے وہ دونوں بس میاں بیوی تھے کوئ جذبات نہیں تھے مگر وہ اسے بیوی سمجھتا تھا اور اب اس سے گھن کھا رہا تھا
وہ روتی ہی چلی گئ شاہنواز کے سامنے پہلی بار رو رہی تھی وہ شرٹ وہیں پھینک کر اندر داخل ہوا اور اسکے شانے پر ہاتھ رکھا
میں ۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا شاہ مجھے نہیں پتہ تھا وہ ک۔۔کون کون ہے وہ میں تو اپنے کمرے میں گئ تھی میں نے تو کچھ نہیں کیا میں کسی کو نہیں جانتی میرے ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے میں ۔۔۔ میں اب اپکو اپنی سچائ کا کیسے یقین دلاؤ گی ” وہ سسکنے لگی جبکہ شاہنواز کا دل پہلی بار اسکی آنکھوں کے آنسوؤں میں ڈالنے لگا کیونکہ پہلی بار اسے اپنا قصور دیکھ رہا تھا اسنے اسکے چہرے پر ہاتھ رکھا اور اچانک اسے سینے سے لگا لیا
یہ اتنا مشکل بھی نہیں تھا جتنا اسکی انا پر گزر رہی تھی
ہاتھ مار کر شاور کھولا اور ایزہ کو جھٹکے سے شاور کے نیچے کر دیا گرم پانی اسکے وجود پر پڑا تو عجیب احساس سا ابھار گیا جیسے ایک راحت سی ملی ہو
شاہنواز اسکے جھکے سر کو دیکھنے لگا
ایزہ کا وجود بڑی تیزی سے بھیگ رہا تھا پانی کے گرنے کی آواز شور برپا کر چکی تھی
اسنے ایزہ کو حکم دیا بہت آہستگی سے
اور ایزہ نے اسکے حکم کی تعمیل کی تھی وہ کسی بات کو نہیں ٹالتی تھی اسکی یہ ہی بات شاہنواز کو اسکے نزدیک کھینچتی تھی
وہ اسکے زخم پر سے بار بار نگاہ ہٹاتا
شاہ میرا کوئ قصور نہیں ہے” اسکی خاموشی ایزہ کو اپنی غلطی کا احساس دلا رہی تھی
میں نے کب کہا ہے تمھارا قصور ہے اسنے اسکا چہرہ پکڑ کر اوپر کیا گرم پانی اسکے چہرے پر بھی گرنے لگا
لیکن میں یہ سب برداشت نہیں کر سکتا ایزہ ۔۔۔
تم جانتی ہو میں ایزہ شاہ تمھیں کیوں کہتا ہوں کیونکہ تم شاہ کی ہو اور صرف میری ہی رہو گی ۔
جھٹکے سے اسنے اسے خود پر کھینچا تھا کہ ایزہ اسکے چہرے کو قریب سے دیکھنے لگی
اسکے بال بھیگ کر اسکی پیشانی پر چپکے ہوئے تھے اور اسکے لہجے میں ایک جنون سا تھا
صرف میری شاہنواز کی دنیا کچھ بھی بھونکتی رہے شاہنواز کا جو ہے وہ صرف شاہنواز کا ہی رہے گا تم سمجھ رہی ہو میری بات کو ” جھٹکے سے اسے دیوار سے لگاتے وہ احساس دلا رہا تھا وہ کتنا پاگل ہے
یہ نشان میرے اندر کچھ کاٹ رہا ہے میری انا پر کوڑے برسا رہا ہے مجھے بتا رہا ہے یہ میرا قصور ہے” وہ دیوانگی سے اسے اپنا لمس دینے لگا اسکے چہرہ کو اپنے ہتھیلی میں بھرتے وہ جا بجا چھوتا اسپر سے جیسے کسی اور کا لمس نوچ دینا چاہتا تھا
جلا دیں اسکو ایسا ۔۔ ایسا کریں اس حصے کو کاٹ دیں” وہ بھی پاگل ہو جانا چاہتی تھی اگر ایسا تھا تو ایسے ہی سہی
شاہنواز نے اسکی آنکھوں میں دیکھا
میرے پاس اپکو دینے کے لیے صرف یہ وجود ہی تھا اور اسپر بھی کسی کا نشان اپکو تکلیف دے رہا ہے” وہ سرخ ہوتی نظروں سے اسکے چہرے پر اپنا ہاتھ رکھ گیا
پانی دونوں کو بھگو رہا تھا
شاہنواز اسکی بات پر ٹھہر گیا
مار دوں گا میں فہیم کو تم دیکھ لینا وہ مر جائے گا
کتے کی موت مارو گا اسے میں اسنے تمھیں چھونے کی ہمت کیسے کی ” اسکے الفاظ ایزہ کی آنکھیں پھیلا گئے جبکہ شاہنواز اسکے ہونٹوں پر جھکا
اسنے تمھیں یہاں نہیں چھوا نہ” اسکا جنون ایزہ کو حیران کر رہا تھا کوئ کیسے اتنا خود پرست ہو سکتا تھا
یہ یہاں اسنے اسکی گردن کے دوسرے حصے پر ہونٹ رکھے یہ یہاں
اور پھر کچھ نیچے ۔۔۔ اور یہاں کرتے کرتے وہ اسے عجب دیوانگی سے پہلی بار ہمکنار کر رہا تھا
ایزہ کو نیچے اتار کر وہ خود نیچے بیٹھ گیا
ایزہ پاگل سی ہونے لگی یہ سب انوکھا اور نیا تھا اسکے لیے ۔۔۔
شاہ” اسکی پکار پر شاہنواز جھٹکے سے اٹھا اور ایک بار پھر اسکے ہونٹوں پر جھکا اسے جابجا چھوتا اسکے بازو پر اپنا لمس بکھیرتا وہ یہ احساس دلا رہا تھا کہ وہ صرف اسکی ہے وہ اسکے جسم سے یہ لمس جو کسی غیر کا تھا نکال دے گا
ایزہ اس پاگل پن کو پہلی بار دیکھ رہی تھی
پہلے تو بس ایک گھمنڈ اور انا پرست انسان کو دیکھا تھا
اسنے جھٹکے سے اسے موڑا پانی ایزہ کی کمر پر جیسے شبنم کے قطروں کیطرح پھیل رہا تھا ۔
شاہنواز نے اسکی کمر پر اپنا ہاتھ رکھا اور جیسے اسکی نازک کمر سمٹ گئ اسکی ہاتھوں میں ہی ۔۔۔ وہ جھکا اور اسکی کمر کو چھوتا اسپر اپنے لمس کی برسات کرتا آج ایزہ کی دھڑکنیں سے کھیل رہا تھا
یہ سب پہلی بار تھا
وہ سہمی نہیں بلکہ اسکے پاگل پن کے ساتھ پاگل ہو رہی تھی
تم میری ہو تم ایزہ شاہ ہو ” وہ اسکے کان کی لو کو لبوں میں بھرتا جنونی سی سرگوشی کر گیا
مجھ سے بہت کچھ چھینا گیا ہے میں تمھیں کسی کا ہونے نہیں دوں گا ” ایکدم ایک جنون میں اسنے اسکی گردن جکڑ لی
Mark my word iza shah u r mine just mine mine ” .
اسکی گردن پر دباو ڈالتا وہ بولا ایزہ اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگی
جس انسان کو اتنا کریز تھا کیا وہ اسکی محبت کا برداشت کرتا کسی اور کے لیے لیکن یہاں مدعا محبت تو نہیں تھا وہ کون سا محبت کرتا تھا اس سے بات وہ تو صرف اسکے وجود کی کر رہا تھا
ی۔۔۔یہ سب آپکا ہے شاہ مجھے چھونے والے آپ پہلے مرد ہیں
اور آخری بھی ” اسنے کہا تو اسکے چہرے پر ایک الگ ہی تاثر ابھرا
تم سچ کہہ رہی ہو “
ج۔۔۔جی” وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتی بولی اور شاہنواز اسکے لبوں کی نغمات پر پھر جھک گیا
اور بھی شدت سے
میں مار دوں گا فہیم کو “
پلیز ایسا مت کیجیے گا ” وہ اسکا ہر ستم سہتی اسکے پاگل پن کو سنبھالنے کی کوشش کرنے لگی جبکہ سانسوں کی بے ہنگم گواہ تھی ایزہ شاہ آج واقعی شاہنواز سکندر کے قبضے میں ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے