Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 17
No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
آج صدف آپی کی بارات تھی اور ساز بار بار کارڈ کو دیکھ دیکھ کر رو رہی تھی وہاں سب کتنا مزاہ کر رہے ہوں گے اور وہ یہاں اکیلے گھر میں تھی بلکل اکیلے ۔۔۔
بدر نے اسے سمجھایا تھا اور وہ آگے سے کچھ نہیں بولی تھی بس سر ہلا گئ تھی کیونکہ وہ کسی کے سامنے نہیں بولتی تھی ہاں عمر کے سامنے اسے خود علم نہیں تھا وہ اتنے آرام سے بدتمیزی کر جاتی تھی ۔
یہ اسی کی دی ہوئ شے تھی ورنہ اس میں ہمت نام کی چیز تو کبھی تھی ہی نہیں ۔
بدر کی بات سمجھنے کے باوجود بھی اسکا دل بچوں کی سی ضد لیے بیٹھا تھا اب وہ اس دل کو کیسے سمجھاتی جس میں شادیوں میں جانے کے ارمان ہی ارمان ہوں وہ کیا کرے اس اکیلے گھر میں بدر تو روز نکل جاتا تھا اور عمر” اسنے پلٹ کر بند دروازے کو دیکھا وہ ” رات کب آیا اسے نہیں پتہ تھا وہ اسکے کمرے میں تھوڑی سوتی تھی وہ رات چلا گیا تھا اسکی گاڑی اس گھر میں پوری ہونی ہی نہیں تھی معلوم نہیں کہاں اسنے وہ اتنی بڑی گاڑی کھڑی کی تھی ۔
لیکن بار بار اسکے دماغ میں یہ بات ا رہی تھی کیا اسنے یہ گاڑی تایا جان سے مانگی تھی وہ جو کوئ بھی تھا لمہوں میں اسکی فرمائش پوری کر گیا تھا
کاش اسکی زندگی میں بھی کوئ ایسا فرشتہ ہوتا وہ جس چیز کی خواہش کرتی وہ جلدی سے اسکے پاس آ جاتی ۔
کوئ جن ہی ہوتا وہ اسے اپنا غلام بنا لیتی اور اس سے چھوٹی چھوٹی خواہشیں پوری کراتی وہ روتے روتے سوچنے لگی
لیکن ایسا ہو ہی تو نہیں سکتا ” اور وہ پھر سے رونے لگی
اسنے شادی کا کارڈ ایکطرف رکھ دیا
کتنے مزے مزے کے کھانے ہوں گے جو سوہا صنم اور صوفیا کھا رہے ہوں گے انھیں محنت بھی نہیں کرنی پڑی اور کھانا مل گیا ” وہ خود سے بولی
اور یہاں میں سارے سارے دن کھانے بناتی ہوں” وہ چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا کر رونے لگی
میں نہ بھاگ جاتی ہوں یہاں سے ویسے بھی گھر میں کوئ بھی نہیں دیکھ رہا ” اسنے ارد گرد دیکھا
لیکن میں بھاگ کر بھی کہاں جاو گی” اسکے پاس بس شکایتوں کا انبار تھا وہ کشن میں منہ دیے رونے لگی
یہ جانے بنا کہ دروازے سے ٹیک لگائے وہ اسکی ہی باتین سن رہا تھا کافی دیر سے ۔۔۔
اج اسنے اسکے دلائے ہوئئ کپڑے پہنے تھے ڈراک بلو کلر کے لباس میں وہ بے حد حسین لگ رہی تھی سر پر دوپٹہ تھا جبکہ اسکے بال دوپٹے کے پیچھے سے دیکھ رہے تھے اب تک اسنے اسکے بالوں پر توجہ دی ہی نہیں تھی بس انکھوں میں ہی کبھی کبھی کھو سا جاتا اور پھر سر جھٹک دیتا وہ گھیرہ سانس بھرتا عین اسکے سامنے بیٹھ گیا
روز تم نے مجھے اپنی اس “بھو بھو” سے جگانا ہوتا ہے”
عمر نے سنجیدگی سے دیکھا ” ساز نے سر اٹھایا اور اسے دیکھنے لگی
رو رو کر انکھیں سرخ کر لیں تھیں
تم نہایت چیٹر ہو ” وہ سینے پر ہاتھ باندھ گیا
جی نہیں میں بہت اچھی سٹوڈنٹ ہوں لیکن تایا جان مجھے آگے پڑھنے نہیں دیں گے” وہ اداسی سے بولی اور دوپٹہ ٹھیک کر لیا
میں اس بارے میں بات نہیں کر رہا ۔۔۔
تمھاری اور میری ڈیل ہوئ تھی میں تمھیں کپڑے دلاو گا اور تم یہ اپنا رونا دھونا بند رکھو گی اور ناشتہ دو گی ۔۔ وہ اسے یاد دلانے لگا
آ۔۔۔ہاں وہ میں ۔۔۔ وہ مجھے نہ رونا ا جاتا ہے” وہ سر جھکا گئ
اب کس بات پر رونا ایا ہے ” وہ پاوں جھلاتا غور سے اسکی صورت دیکھنے لگا
صدف آپی کی بارات ہے اج” وہ بے حد اداسی سے بولی
تو” وہ کہاں ان جزبات میں پڑنے والا انسان تھا جو بات کو سمجھتا
تو تو مجھے بھی جانا تھا شادی میں” وہ آنکھیں جھپکانے لگی
یہ یہ کیا تم آنکھیں جھپکاتی ہو ” وہ چیڑ کر بولا
میں نے کیا کیا ہے” وہ اور بھی زیادہ رو دی اسکے ڈپٹنے پر
اف سو اریٹیٹنگ “
اوکے فائین تمھیں شادی میں جانا ہے ” وہ بولا وہ سر ہلانے لگی
ٹھیک ہے گھنٹے تک ریڈی ہو جاؤ میں لے چلتا ہوں”
صدف آپی کی شادی میں” وہ حیرانگی سے کھڑی ہو گئ
نہیں میرے دوست کی شادی ہے مگر میں نہیں جا رہا تھا اب بلاوجہ جینٹل مین بن کر جانا ہو گا لیکن” وہ انگلی اٹھا گیا
آئندہ روتی ہوئ نہ دیکھنا ائ سوئیر تمھیں تھپڑ لگا دوں گا زہر لگتی ہے مجھے تمھاری روتی ہوئ آواز جب میری نیند ڈسٹرب کرتی ہے “
ٹھیک ہے” وہ بچوں کیطرح خوش ہو گئ
عمر کے لبوں پر بے ساختہ مسکان ا گئ اور وہ وہیں لیٹ گیا جبکہ وہ بی بی تیار ہونے پہنچ گئیں تھیں مطلب شادی کسی کی بھی ہو اسنے جانا ضرور تھا
وہ گھنٹہ بھر کے لیے واقعی وہیں سو گیا
اب جب ساری ساری رات گھر سے باہر رہے گا تو سارا سارا دن سوئے گا نہ ۔۔۔۔
وہ بلیک کلر کا نفیس سا ڈریس پہن کر باہر ا چکی تھی منہ دھویا اور دوپٹہ کس کے سر پر باندھ لیا
تائی جان تو اسی طرح لے کر جاتی تھیں اسے جب بھی کہیں جانا ہوتا تو اسکی تیاری صاف کپڑوں دھلے ہوئے چہرے سے کبھی آگے بڑھی ہی نہیں وہ تیار تھی
اسکی جانب دیکھا وہ سو گیا تھا
سنیے ہم نے شادی پر جانا ہے آپ سو گئے ہیں” وہ بولی دور سے بنا چھوئے ۔
عمر اسکی آواز پر بمشکل تمام آنکھیں کھول گیا
بہت گھیری نیند ا رہی تھی اسے۔۔ ایک آنکھ کھولے اسے دیکھنے لگا
تم تیار کیوں نہیں ہوئ ” وہ بولا اور آنکھیں رگڑتے کھڑا ہو گیا
میں تو تیار ہوں” وہ جھجھکتی ہوئ بولی
بہت ہی جاہل ہو تم تو ” وہ سر نفی میں ہلاتا برا سا منہ بنا گیا ۔
آتا ہوں ” کہہ کر اوپر چلا گیا
اور ساز کو اسکی بے عزتی کرنے پر رونا آنے لگا اسنے چپکے چپکے سے آنسو بھا لیے
وہ نیچے اترا تو کافی مہنگے لباس میں تھا
وائیٹ کوٹ وائیٹ پینٹ اور عمر خیام وہ انتہائی حسین لگ رہا تھا کہ ساز مرجھا گئ گھبرا کر اس پر سے نگاہ ہٹا لی
تم روئ ہو” اسکی گیلی پلکوں پر نگاہ چلی گئ تھی اسکی ۔۔
ن۔۔نہیں نہیں تو میں تو نہیں روتی اب” وہ جلدی سے بولی
براوو” اسنے کہا اور اسے آگے چلنے کا کہا
ساز خوش ہو گئ وہ شادی میں جا رہی تھی
وہ دونوں نکلے عمر نے گاڑی نہیں نکالی
آج پیدل جائیں گے ہم” وہ پوچھنے لگی
وہ ہنس دیا اور اچانک انکے آگے گاڑی آئی ساز پیچھے ہٹی یہ گاڑی کی آواز اسکے دل کی دھڑکنیں بڑھا کیوں دیتی تھی
وہ سوار ہوا اور اسکے لیے دروازہ کھولا
وہ اندر بیٹھی اور کلک کی آواز سے دروازہ بند کیا خوش ہو گئ اسے دروازہ بند کرنا ا گیا تھا
اسکے چہرے کی خوشی وہ ہنسی ضبط کرتا دیکھنے لگا
کتنے عجیب لوگ ہوتے ہیں دنیا میں کن چیزوں کو لے کر خوش ہو جاتے ہیں ۔۔
خوشیاں انھیں نہیں کہتے ” اسنے لمحہ بھر کے لیے سوچا
سیٹ بیلٹ ” وہ بولا تو ساز نے سر ہلایا
میں لگاؤ” وہ پوچھنے لگی وہ سر ہلا گیا اور پھر اسنے سیٹ بیلٹ لگائ
واؤ تم تو بہت ذہین ہو ” وہ اسکی جانب دیکھنے لگا جو ٹماٹر کیطرح سرخ ہو گئ تھی جیسے اسے تمغہ بہادری ملا ہو جبکہ عمر نفی میں سر ہلاتا ۔
گاڑی آگے بڑھا گیا اسے لگا وہ گاڑی میں نہیں پانی پر چل رہی ہے اتنی سموتھ آف ” دل تیز تیز دھڑکنے لگا
وہ بار بار خوشی میں عمر کو دیکھتی
ایک ایک بات پوچھوں” اسکے سوال پر اسنے سر ہلایا
پوچھو””
آپ کو یہ گاڑی تایا جان نے لے کر دی ہے ” اسکے اتنی معصومیت سے پوچھنے پر وہ اپنا قہقہہ دبا نہیں سکا ” وہ منہ بنا گئ
تمھارا پھٹیچر تایا رولز روکی دنیا کی موسٹ ایکسپینسیو کار مطلب میک سم سینس ہنی” وہ نفی میں سر ہلانے لگا
ساز نے اسے چور نگاہوں سے دیکھا اسنے اسے ہنی کہا تھا
یعنی شہد ایسا کیوں کہا اسنے وہ مکھی تھی جو شہد پر ہوتی ہے
یہ کیا بات ہوئ بھلا ۔
میرا نام ساز ہے” وہ اسے یاد دلا گئ
مجھے اب یاد ہو گیا ہے” وہ مسکرا دیا
پھر ہنی کیوں کہا ” اسے جیسے برا لگا وہ پھر ہنسنے لگا
سوری “
آپ غلطیاں نہیں کرتے” وہ یاد دلا گئ
تمھارے سامنے ہو جاتی ہیں” وہ شانے اچکا گیا
کیوں میں تو بہت عام سی ہوں”
میں کون سا خاص ہوں”
نہیں آپ تو بہت امیر ہیں” وہ بولے جا رہی تھی
ڈو یو نو میں بلکل اتنی باتیں نہیں کرتا نہ ہی اتنے سوالوں کے جواب دیتا ہوں ” وہ بولا ساز کا چہرہ اتر گیا اور وہ جلدی سے آنکھیں جھپکنے لگی
عمر گاڑی روک گیا
میں تمھیں گاڑی سے باہر پھینک دوں گا ” وہ جنجھلایا
بھلا ایسی معصومیت بھی کسی کے پاس نہیں ہوتی
ڈانٹے جا رہے ہیں ڈانٹے جا رہے ہیں نہیں لانا تھا تو نہ لاتے ” وہ بولی اور چہرہ موڑ گی
تمھاری آنکھیں ڈسٹرب کرتی ہیں” وہ سنجیدگی سے بولا اور ساز نے آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا
یہ بے ساختہ تھا عمر اسے دیکھتا رہا
اسکے پنک لیپس واقعی کسی لیپسٹک کے محتاج نہیں تھے لیکن جیسے ہی نگاہ اسکے ہاتھوں پر گئ وہ ٹھہر گیا
جیسے منظر ساکت ہو گیا ہو ۔۔۔
یہ تمھیں کس نے دی ہے” جھٹکے سے اسکے ہاتھ میں موجود رینگ کو دیکھتا وہ چلا اٹھا
ساز گھبرا گئ ۔۔۔۔۔۔
یہ رینگ تمھیں کس نے دی ہے ساز ” نہایت سنجیدگی سرد پتھر جیسے لہجے میں سوال کیا اسکے ہاتھ اپنے آپ کانپنے لگے تھے
بکواس کر رہا ہوں میں یہ بہری ہو ” وہ دھاڑا
گاڑی کی وارم فضا میں اسکی آواز بس ایسی تھی جیسے شیر کی دھاڑ پر ہرن کے رنگ اڑ جائیں
وہ یہ ” اسکے انسو گلے میں اٹک گئے
تمھیں کہاں سے ملی یہ کس نے دی ہے ساز بتاؤ مجھے ورنہ میں پاگل ہو جاؤ گا ” وہ بے دھیانی اور غصے کی کیفیت میں اسکا ہاتھ پکڑ کر موڑ چکا تھا
م۔۔۔میرا میرا ہاتھ” وہ ہچکی بھر گئ
اسنے ہاتھ جھٹکا اور گاڑی سے باہر نکل گیا
ایسا لگا سانس اکھڑنے لگی ہو
کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا کرے وہ اتنے بڑے فراڈ میں پھنس گیا
لائیک سریسلی” وہ سر تھامتا گاڑی سے ٹیک لگاتا روڈ پر بیٹھتا چلا گیا
عمر ۔۔۔ مجھے ایک لڑکی بہت پسند ہے “
تو میں کیا کروں” وہ اپنے کمرے میں جانے لگا
میں نے اسے اپنی انگوٹھی پہنائی ہے سمجھو میں نے اسے تمھارے لیے چنا ہے” وہ مسکرائیں
اوہ رئیلی” وہ آگے جاتے جاتے پلٹا
مطلب کچھ بھی “
مجھے سمجھ ہی نہیں آتا آپ کیا ہیں ایک طوائف ہو کر اتنی ڈیسینٹ بنتی ہیں اور آپ ہوتی کون ہیں میرے لیے کسی کو پسند کرنے والی”
عمر” وہ دکھ سے بیٹے کو دیکھنے لگی
پلیز موم آپ میرے لیے اے ٹی ایم سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہیں تو میری زندگی سے دور رہیں اینڈ پلیز پلیز مارک نائے ورڈ
میں کسی کتیا سے شادی کر لوں گا لیکن اس سے نہیں کروں گا
جو آپ کی پسند ہو گی”
اینڈ ائ پروو دیٹ ” وہ انھیں گھور کر آگے چلا گیا جبکہ پیچھے نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہیں تھیں
اسے یہ انگوٹھی اچھے سے یاد تھی
بہت اچھی طرح یہ چھلا اسکی ماں کے ہاتھ میں ہر وقت ہوتا تھا لیکن جب انھوں نے یہ بات کی تب نہیں تھا یعنی ساز کو ۔۔۔۔
ساز انکی پسند تھی وہ اس لڑکی کی گردن دبا دے گا
وہ جتنا اس عورت سے دور جانا چاہتا تھا اتنا ہی قسمت اسے اسکی ماں کے پاس لا کر پٹختی تھی اسے برباد کر دیا تھا اس عورت نے ۔۔۔۔ وہ شعلے اگلتا اٹھا
اس سے پہلے وہ اسے گاڑی سے کھینچ کر باہر پھینکتا اور اسپر سے گاڑی چڑھا جاتا وہ اسے گاڑی سے نکلتے ہوئے اور اپنے ہی نزدیک آتے ہوئے دیکھی
وہ ہزیانی سا ہو گیا تھا اسے لگ رہا تھا اسکا یہ جرم شراب پینے سے بھی زیادہ سخت ہے
وہ اسکے دونوں بازو اپنی سخت گرفت میں جکڑ گیا
اسکی انگلیاں ساز کے نازک بازؤں میں بے دردی سے کھبنے لگیں وہ تکلیف سے دور ہونے کی کوشش کرنے لگی مگر عمر واقعی پاگل ہو گیا تھا
یہ تمھیں میری ماں نے پہنائے ہے ” وہ دھاڑا سنسان روڈ پر اسکی آواز گونج گونج کر پلٹ رہی تھی
بتاؤ مجھے” اسنے اسے دھکا دیا
ن۔۔۔نہیں” وہ سسکیاں بڑھتی روڈ پر گیری وہیں سیمٹ گئ
آنکھوں میں خوف تھا
ن۔۔۔نہیں “
پھر کہاں سے آئی یہ تمھارے پاس “
میں ۔۔ میں نے چوری نہیں کی”
بکواس بند کرو جتنی بات کی ہے اتنا جواب دو ” وہ ٹانگیں فولڈ کیے اسی کے پاس بیٹھ گیا تھا
س۔۔سینک پر ایک۔۔ایک دن پڑی ہوئ ملی تھی
میں میں نے چوری واقعی نہیں کی ” وہ بری طرح رونے لگی
عمر کا غصہ کرنا شاید ان تمام لوگوں سے زیادہ خوفناک تھا جو اٹھتے بیٹھتے اسے سناتے تھے
ایک سکھ کی سانس عمر خیام کے اندر اتری اور بے ساختہ اسنے اسے کھینچ کر سینے سے لگا لیا جو پتے کیطرح کانپ رہی تھی اور دونوں ہاتھ سینے پر جوڑے وہ اسکے سینے سے لگی اسکی خوشبو اور اسکے اس عمل پر شاکڈ تھی
اوہ ٹھیک گاڈ تھینکیو سو مچ ” وہ اسکے بالوں میں ہاتھ پھیر رہا تھا
تھینک گارڈ تم وہ نہیں ہو نکالو اس انگوٹھی کو ” اسنے اسکی حیران آنکھوں کی پرواہ نہیں کی اور اسکا گال تھپتھپا کر اسنے وہ انگوٹھی اتارنے کا کہا
ساز کو یہ انگوٹھی ناز نے ہی دی تھی لیکن آج تک یہ بات اسنے کسی کو نہیں بتائی تھی جب بھی کوئ پوچھتا تو ٹال دیتی وہ انگوٹھی دیکھنے میں ہی بہت مہنگی تھی
اور ناز آنٹی ساز سے بہت پیار کرتی تھی اسے ویسے ٹریٹ نہیں کرتی تھیں جیسے سب کرتے تھے
وہ میٹرک میں تھی تب اسے یہ انگوٹھی ناز نے دی تھی اسنے وجہ جانی تو اسنے بس اتنا ہی کہا
“کہ تم ہمیشہ اسے اپنے پاس رکھنا یہ بہت قیمتی ہے”
اور وہ یہ ہی سوچ کر اسے پہنے پھیرتی تھی اور اسکی حفاظت کرتی تھی کہ اسکے پاس کچھ بہت قیمتی ہے لیکن عمر کا ری ایکشن اسکا دل اندر تک ہلا گیا
وہ ناز آنٹی کا نام لیتی وہ اسے جان سے مار دیتا
وہ اپنی ماں سے نفرت کرتا تھا تبھی تایا جان کے پاس رہتا تھا لیکن جب تایا جان اسے بے عزت کر کے نکال دیتے تو وہ چار نچار انکے پاس چلا جاتا کیونکہ کوئ اور آپشن بھی نہیں تھا اسکے پاس ۔۔۔
لیکن اسے علم نہیں تھا کہ وہ اسقدر نفرت کرتا ہے کہ وہ انکا نام تک برداشت نہیں کر پاتا
عمر سے سہم کر اسنے اپنی پوری زندگی کا پہلا جھوٹ بولا تھا کہ یہ اسے سینک پر سے ملی تھی پھر اسنے اسے سینے سے لگا لیا
وہ پہلی بار کسی مرد کے سینے سے لگی وہ بھی اتنا شاندار مرد اور پھر اسکی خوشبو ۔۔۔
ساز رونا دھونا بھولے ساکت ہو گئ تھی
عمر نے اسکے ہاتھ سے وہ رینگ کھینچ لیا اور جیسے ہی اسکے ہاتھ بنا اس رینگ کے دیکھے تو چین سا ا گیا تھا
وہ بیوقوف نہیں بنا تھا لیکن یہ لڑکی بیوقوف ضرور تھی
آئندہ کچھ بھی کہیں بھی ملے اپنے ہاتھ میں مت پہن لینا ” وہ اسے سمجھانے لگا جبکہ ساز نے بس سر ہلایا
عمر کا تمام غصہ جھاگ کیطرح بیٹھ چکا تھا لیکن ساز اب بھی شاکڈ تھی ۔
اسنے جھوٹ بولا وہ اسکے سینے سے لگ گئ اسکی خوشبو میں کھو گئ اور اسکی سب سے قیمتی چیز عمر خیام نے کھینچ لی تھی
وہ اسکی جانب ہاتھ بڑھا گیا مگر ساز نے اسکا ہاتھ نہیں تھاما ۔
وہ اٹھی اور گاڑی میں سوار ہو گئ
عمر بھی بیٹھ گیا
اس میں اتنا منہ بنانے والی بات نہیں ہے میں تمھیں نیو رینگ لے دوں گا ” وہ بولا
اسکی جانب دیکھا ساز کچھ نہیں بولی
ساز” اسنے پکارہ مگر وہ پھر بھی کچھ نہیں بولی ۔
وہ گاڑی کی سپیڈ بڑھا گیا کہ اسے شادی میں جانے کا شوق ہے تو خوش ہو جائے گی وہاں جا کر ۔۔۔
مجھے گھر واپس جانا ہے ” وہ بولی
اور جلدی سے نگاہ جھکا لی کہ اس سے پہلے وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتا ۔۔۔۔
یہ انگوٹھی ٹھیک عورت کی نہیں ہے تم تو بہت پاک صاف ہو نہ پھر ایسی عورت کی انگوٹھی بھی کیوں پہنو جو” وہ رک گیا
کسی کے کردار کا سرٹیفیکیٹ آپ سے نہیں ملنا مجھے میں اتنا ضرور جانتی ہوں ناز آنٹی بہت اچھی تھیں” وہ گاڑی ایک بار پھر سے روک گیا
ساز کا دل پتے کیطرح کانپنے لگا یقینا وہ اسکا منہ تھپڑ سے سرخ کر دے گا
کیا اچھائی تھی ان میں ” وہ سنجیدگی سے پوچھنے لگا
ساز کچھ نہیں بولی ۔
مجھے گھر جانا ہے “
وہ لب دبا گیا گاڑی کو موڑا اور گھر کی جانب چلا لی
بقیہ تمام راستے دونوں کے درمیان کوئ بات نہیں ہوئی اور گاڑی روکتے ہی عمر کے گاڑی سے نکلنے سے پہلے ہی وہ لاک کھول کر باہر نکل گئ
اپنا ہی سیکھایا ہوا اسے زہر لگا نہ سیکھاتا تاکہ بند رہتی اس گاڑی میں اسے نکھرے دیکھا رہی تھی ۔۔۔
وہ بھی اسی کی ماں کی حمایت میں” وہ سر جھٹک کر نکلا انگوٹھی جیب میں تھی وزن ایسا تھا کہ اسے لگا اسکے وجود کا انگ انگ مل کر بھی اسکا بوجھ نہیں اٹھا سکتا تھا
وہ اندر ا گیا ایک لاشعوری نگاہ چاروں اطراف میں گھمائی وہ اسے کہیں نظر نہ ائ
اسے بھوک لگی تھی وہ کوٹ اتار کر صوفے پر رکھتا کچن میں ا گیا
اسنے وہی دو انڈے اٹھائے اور اسکا آملیٹ بنایا
ساتھ سلائس بھی ٹوسٹ کیے اور کافی ڈھونڈنے لگا
کیسا بکواس کچن ہے ہر چیز آدھی ادھوری تھی
اسکے گھر میں ہر چیز پوری مکمل اور اسکی پسند کی رکھی تھی
خیر اسنے چائے بنائی اور ٹرے میں سامان رکھ کر باہر ا گیا
تم جہاں کہیں بھی ہو باہر نکل کر کچھ کھانا ہے تو کھا لو ” وہ لاونج میں اونچی آواز سے بولا
ساز کو اپنے روم میں آواز آئی تھی بھوک تو بہت لگی تھی
اب جائے یہ نہیں ۔۔۔ نہیں جائے گی تو بھوک سے سو بھی نہیں پائے گی وہ ذرا شرمندہ ہوتے دروازہ کھول کر باہر ا گئ
وہ سر جھکائے خاموشی سے کھا رہا تھا اسے اوپر نہیں دیکھا کہ وہ شرمندہ ہو جبکہ اسکے پاس موقع تھا وہ ذلیل کر سکتا تھا مگر وہ لاپرواہ بنا ہوا تھا جیسے کوئ غرض نہ ہو
میں نے کھانا بھی بنایا تھا میں وہ لے آؤ ” وہ انگلیاں موڑتی بولی
لے آؤ ” وہ بس اتنا ہی بولا
آپ کھائیں گے ” اسنے سوال کیا
لے آؤ گی تو کھا لوں گا ” اسنے پھر بھی نگاہ نہیں اٹھائی تھی
ساز کچن میں ا گئ کھانا اوون میں گرم کیا اور باہر لے ائی
عمر نے پلاؤ رائتہ سلاد ساتھ سالن دیکھا تو اپنے بورڈنگ کھانے پر افسوس ہوا
اسنے اپنی پلٹ سائیڈ پر رکھی اور اسکے سامنے سے پلیٹ اٹھا لی
ہممم وہ اویں سمجھتی تھی اٹیکیٹس ہیں اس میں بلکل تایا جان والی حرکت کی تھی اسنے وہ بھی تو دوسروں کے منہ سے یوں ہی نوالہ چھینتے تھے
اب شرابی کے ساتھ ایک پلیٹ میں تو مولانی کھا نہیں سکتی “
اسنے کہا اور اپنی دوسری پلیٹ میں کھانا نکال کر وہ پلیٹ اسکے آگے رکھ دی
ساز کو لگا جیسے قسمت ساری کی ساری عمر خیام کے ساتھ ہے اور وہ دل ہی دل میں شرمندہ ہو گئ
نائیس تم کھانا اچھا بناتی ہو” وہ کھاتے ہوئے بولا
ساز بھی کھا رہی تھی کافی عجیب بھی لگا اسکے ساتھ کھانا بٹ وہ کھانے لگی دونوں نے کھانا کھایا اور ساز نے سارے برتن دھو کر رکھے اور جب وہ باہر ائ تو عمر لاونج میں نہیں تھا
وہ ابھی اپنے کمرے کی جانب بڑھنے لگی
کہ اسکے قدم وہیں رک گئے جب ایکدم لائیٹ چلی گئ
کیا تھا آخر وہ اچھی بھلی کمرے میں سونے جا رہی تھی اب اس قبر سے اندھیرے میں کون سوئے گا
وہ پلٹی کچھ دیکھائ نہیں دیا
سن۔۔سنیے”؟ کانپتی آواز میں عمر کو پکارہ
وہ سن ہی نہ لیتا “
سن۔۔سنیے ” وہ پھر بولی مگر کوئ فائدہ نہ ہوا
وہ باہر لون میں بھاگتی کہ عمر دروازہ کھول کر باہر نکلا
ساز ” اسنے پکارہ
ع۔۔عمر” کانپتی آواز میں پہلی بار اسکے منہ سے اپنا نام سن کر وہ وہیں جم گیا
اسکی جانب موبائل کی ٹارچ ماری جو آنکھیں بھرے کچھ فاصلے پر ہی کھڑی تھی شاید نیچے جانے لگی تھی
وہ اسے یوں ہی دیکھتا رہا
ساز کو بھی احساس ہوا اسنے بدتمیزی کر دی ہے “
س۔۔سوری وہ میں اندھیرے سے ڈر لگتا ہے نہ تو بے دھیانی میں نام نکل گیا آپ پلیز کسی کو مت بتائیے گا “
تم نے بہت پیارا کہا ہے”
جی” وہ حیران ہوئ
بس آج کے بعد عمر خیام کہو گی تم ” وہ بولا لبوں پر مسکان تھی
اچھا بات سنو اندھیرے سے ڈر لگتا ہے مجھے کیا تم میرے ساتھ سو سکتی ہو آج رات “
یہ تب تک جب تک لائیٹ نہ آئے ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
