Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 62

ایم سوری ایزہ ” ساز کی آواز پر وہ کچن میں پلیٹوں کو بلاوجہ ہی الٹ پلٹ کرنے لگی ۔
اٹس اوکے” مدھم لہجے میں کہہ کر وہ دوسری جانب مصروف ہو گئ
ایم سوری پلیز مجھے اور ب۔۔۔بھائ کو معاف کر ۔۔”
تم تو میری دوست تھی ” اسنے بس اتنا سا شکواہ کیا تھا ۔۔۔۔
ساز کی آنکھیں بھر گئیں اور وہ ایزہ کے گلے لگ گئ ۔۔
ایزہ کی بھی آنکھیں بھر گئیں
پلیز مجھے معاف کر دو ۔۔ میں کچھ نہیں کر پائی تمھارے لیے” وہ بولی تو ایزہ بھی اسکے سینے سے لگ گئ ۔۔۔۔۔
کم از کم میری سچائی کے لیے آواز تو اٹھاتی ۔۔”
میری کوئ ولیو نہیں تھی ۔۔ میری بات کی ولیو ہی نہیں تھی” وہ دور ہوتی اسکے ہاتھ تھام گئ
ہممم اب تو گزر گیا وقت ” ایزہ نے اہستگی سے کہا
تمھیں صبر کا پھل بہت میٹھا ملا ہے ماشاءاللہ ” ساز مسکرائی ۔۔ ایزہ بھی مسکرائی
لیکن تمھیں کافی خطرناک ” اسنے ساز کے گال کے قریب فاونڈیشن کی لئیر سے جھلکتا نشان دیکھ کر کہا جبکہ ساز تو پانی پانی ہی رہ گئ اسنے جلدی سے اسپر ہاتھ رکھ دیا ایزہ منہ پر ہاتھ رکھتی ہنس دی
ساز کو تو بے شرم ہی لگی اور اسنے جھجھکتے ہوئے کہہ بھی دیا
شاہنواز کے ساتھ رہتے ہوئے کسی فرشتے کی بھی شرم اڑ جائے گی”
توبہ ہے”
لگ تو میرے بھائ کا بھی یہ ہی حال رہا ہے ” وہ مسلسل اسے چھیڑے جا رہی تھی جبکہ ساز بار بار سرخ ہو رہی تھی
اچھا چپ ہو جاو تم تو بہت ” بات ادھوری چھوڑ گئیں ایزہ کھلکھلا کر ہنسی اور گھیرہ سانس بھر گئ ۔۔۔۔
دونوں ایک دوسرے کی جانب دیکھنے لگی ۔۔
اور دونوں ہی ایک دوسرے کے گلے لگتی رو پڑیں تھیں
پلیز تم بھائی کو بھی معاف کر دو ” ساز اہستگی سے بولی ۔
میں شادی شدہ ہوں ساز اور بہت خوش مجھے کسی سے کوئی شکواہ نہیں ” وہ مسکرا کر بولی ساز کو بہت اچھی لگی وہ دونوں ہی بہن بھائی نرم طبعیت کے تھے ان دونوں کی نیچر سب میں مختلف تھی ساز مسکرا دی آنسو صاف کیے
تم چلو میں آتی ہوں سامان لے کر “
میں بھی ہیلپ کرا دیتی ہوں”
ارے بھئی مہمان ہو تم پھر عمر بھائی کا پتہ بھی ہے تمھیں رہنے دو انھیں ایسے ہی فالتو میں بولتے ہیں”
اچھا” وہ ہنسی جبکہ وہ پھر سے شرما گئ اور ایزہ کی ہیلپ کرنے لگی جبکہ ملازمہ بھی تھی لیکن اسے اچھا لگ رہا تھا ایزہ کی ہیلپ کرتے ۔۔۔
جانے تمھیں شرم آنی چاہیے میری بیوی سے کام کرا رہی ہو ” اور وہ لمہوں میں بولا تھا
تو آپکی بیوی میری دوست ہے ” وہ منہ بنا کر بولی ۔۔
ہیلو وہ صرف میری بیوی ہے ” وہ اٹھا اور اسے اپنے پہلو میں بیٹھا لیا
عم۔۔عمر کیا ہو گیا ہے”
کچھ نہیں جان عمر یہ بڑی کام چور لڑکی ہے پہلی بار میری خدمت میں کچھ کر رہی ہے کرنے دو “
وہ جلدی سے بولا ساز تو منہ بنا گئ ۔۔ جبکہ شاہنواز کے سامنے شرمندگی الگ ہوئی لیکن مجال ہو شاہنواز کو اسکی کسی بات پر غصہ بھی آتا ہو ۔۔ مسکرا رہا تھا اسے دیکھ کر
اسنے مڑ کر ایزہ کو دیکھا
ادھر او تم ملازمہ کر لے گی” اسنے ایزہ کو بھی بلا لیا
بہت کوئی بدتمیز ہیں اپ میری دوست بھی آپکی میرے شوہر بھی آپکے ” وہ بولی عمر کا قہقہہ بلند ہو جس میں شاہنواز کا بھی شامل ہو گیا تھا ۔
کافی اچھا وقت ان دونوں نے وہاں گزارا تھا اور پھر واپسی کی راہ لی جبکہ شاہنواز نے اسے گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے ہی روک لیا
تم کل میرے ساتھ چل رہے ہو تمھیں تمھاری سیٹ دیکھانی ہے”
سیٹ کون سی ” وہ شاید بھول گیا تھا ۔
تم کل انا پھر بتاو گا
نہیں یار میں ابھی بیزی ہوں”
وہ منہ بنا کر بولا ساز کا چہرہ لال ٹماٹر ہو گیا جبکہ وہ اسنے دروازہ بند کر لیا عمر نے ہنسی ضبط کی شاہنواز نے اسکا گال تھپتھپایا ۔
تھوڑی دیر کے لیے ” وہ ریکوسٹ کر رہا تھا ایزہ تو حیران ہوئی وہ کسی کے آگے ریکوسٹ کرے بڑی بات تھی ۔
اچھا دیکھیں گے ” دوسری طرف اسکے بھائی کے نکھرے نہیں جا رہے تھے وہ سر ہلا گیا وہ گاڑی میں سوار ہوئے اور چلے گئے
شاہ ” وہ جلدی سے اسکے آگے ا گئ
اور شاہ نواز نے اسکی کمر میں بازو احتیاط سے ڈالے
آپ بھائی سے اتنا پیار کیوں کرتے ہیں”
اسکے سوال پر شاہ نواز نے اسکی پتلی سی ناک کو کھینچا ۔
تم سے بھی تو کرتا ہوں “
میں آپکی بیوی ہوں “
وہ میرا دوست بھائی سب کچھ ہے “
غلط بات ہے آپ بھائ کا فیور لیتے ہیں” وہ منہ بسور گئ ۔
اور تم سے محبت کرتا ہوں” وہ نرمی سے اسکے بازوؤں میں اچک گیا
شاہ رکیں نہ ۔۔ مجھے ابھی اور بھی سوال کرنے ہیں”
کمرے میں کریں گے وہ بھی میں دیکھو گا جواب دینا ہے یہ نہیں”
وہ بولا جبکہ ایزہ نے اسکے شانے پر مکہ برسا دیا ۔
آپ بہت بدتمیز ہے ساز کہہ رہی تھی میں بے شرم ہو گئ ہوں”
آپ کی وجہ سے ہوئی ہوں” وہ ایک سانس بولے جا رہی تھی شاہنواز ہر بات کا الزام سن رہا تھا لبوں کی تراش میں مسکراہٹ تھی اور وہ اسے لیے کمرے میں چلا گیا جبکہ دوسری طرف عائشہ کے اندر جیلسی اور بڑھ گئ تھی اسنے ان دونوں کو دیکھا ۔
وہ دونوں خوش تھے شاہنواز ایزہ کے ساتھ جس طرح تھا اسطرح تو واقعی وہ کسی کے ساتھ نہیں تھے
ایک انا پرست شخص کیسے اپنی سے اتنی چھوٹی عمر کی لڑکی پر مر مٹا تھا
لیکن کتنے عرصے اگر ایزہ کو پتہ چل جاتا کہ اسکی ماں شاہ نواز کی کیا تھی تو کیا یہ محبت پھر بھی برقرار رہتی ۔۔۔ وہ گھور کر انکے کمرے کو دیکھنے لگی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گھر پہنچے تو وہ غصے سے اندر جانے لگی عمر اسکے پیچھے پیچھے چل رہا تھا ۔
ہر وقت ساری باتیں سب کے سامنے کہہ دیتے ہیں کسی کا لحاظ نہیں شاہنواز سر کتنے بڑے ہیں وہ کیا سوچتے ہوں گے کتنے بے حیا ہیں اپ””
وہ کمرے میں جانے کے بجائے مڑ گئ جبکہ وہ اسکے پیچھے پیچھے گھوم رہا تھا
میرے پیچھے مت ائیں ” وہ غصے سے پلٹی ۔
تو کس کے پیچھے جاوں ” وہ دیوار سے ٹیک لگا کر اسے گھیری نگاہوں سے دیکھتا بولا وہ ضبط سے اسے دیکھنے لگی ۔
عمر آپ اپنی زبان پر قابو نہیں رکھتے ” وہ بولی
اور تمھاری کتنی زبان ہے تم نے دیکھا ہے جب سے تمھاری مجھ سے شادی ہوئی ہے مجال ہے ایک دن بھی تم نے مجھے عزت دی ہو ” وہ بھی بھڑکا جبکہ ساز اسے منہ بنا کر دیکھنے لگی ۔۔۔
لڑتی رہتی ہو لڑتی رہتی ہو ہر وقت مجھ سے “
اسنے اسکو پکڑا جبکہ ساز نے اسکے بازو پر تھپڑ برسا دیے۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہے اپکو عمر “
پیار ہے تم سے شہزادوں لیکن بہت گھمنڈ ہو گئ ہو تم نہ پیار کرنے دیتی ہو نہ پینے دیتی ہو نہ بات کرتی ہو چاہتی کیا ہو تم اتنی خوبصورت لڑکیاں تھیں دنیا میں ایسے ہی بندری پر دل ا گیا میرا “
وہ تیوری چڑھا کر اسے دیکھتا کچن کی جانب مڑ گیا
میں ۔۔۔ میں ” وہ افسوس سے بات مکمل نہ کر سکی کہ وہ کتنے آرام سے اسے بندری کہہ گیا تھا
ہاں تم” وہ آنکھیں سکیڑ کر بولا ساز نے رونے وال منہ بنا لیا ۔
اور بس عمر نے اسکا چہرہ تھام لیا اور اسکے گالوں کو زور زور سے پیار کر کے اسنے اپنے ہونٹوں پر ہاتھ پھیر کر انکھ دبائی تھی جبکہ ساز شرما سی گئ عمر کا قہقہہ ابھرا
بس اتنے میں ہی مان جاتی ہے پگلی” وہ نفی میں سر ہلاتا جمپ لگا کر کاوچ پر بیٹھا ساز کو اپنے ساتھ بیٹھا لیا اور مووی لگا لی
میں مویز نہیں دیکھتی ” وہ آنکھیں پر ہاتھ رکھ گئ
نہیں یہ گندی نہیں ہے ” عمر نے تسلی دی تھی ۔
نہیں گناہ ہے نا محرم کو دیکھنا
آہ ائ ڈاڈی مولانی چپ چاپ دیکھ لو بس ” وہ گھور کر بولا ۔
نہیں نہیں آپ بھی نہ دیکھیں ویسے بھی عشاء کی نماز پڑھنی ہے مجھے “
وہ بولی عمر نے اسے چھوڑ دیا اور خود پھیل کر لیٹ گیا
آپ بھی پڑھ لیں ” وہ بولی ۔۔ عمر نے سر ہلا دیا جیسے ٹال دیا ہو ساز کو کچھ ہوا تھا اسے بہت دکھ ہوتا تھا جب وہ ایسے کرتا تھا ۔
وہ ناز کے کمرے میں ا گئ اور نماز پڑھتے ہوئے اسنے عمر کے لیے بہت دعا کی تھی کہ اسے کبھی کوئی تکلیف نہ ہو تاکہ وہ اپنے اندر کے ہر خوف سے آزاد ہو جائے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سو کر اٹھا تھا ساز اب تک سو رہی تھی وہ اسپر بلنکیٹ درست کرتا نیچے ا گیا ۔
زندگی جیسے یکا یک بدل گئ تھی وہ اسکی بانہوں میں سوتی تھی شرماتی تھی مسکراتی تھی وہ اسے دیکھ کر خوش ہو جاتا تھا اور اسے کچھ نہیں چاہیے تھا بس وہ اور ساز کافی ہی تو تھا اور اسے کچھ بھی نہیں چاہیے تھا
وہ سکون سے جمپ لگا کر بوفرز میں گانے چلا کر انجوائے کرتا اسکے لیے اور اپنے لیے ناشتہ بنا رہا تھا ۔
کہ اچانک ہی اسکی نگاہ اٹھی تو سامنے سے اشفاق صاحب اور ارہم آتے دیکھائی دیے اس نے ریموٹ اٹھا کر بوفرز بند کیے اور سکون سے ان دونوں کو دیکھنے لگا
وہ اندر آئے انکا منہ سا بن گیا اور اسکے نزدیک ا گئے عمر کا رویہ سپاٹ ہو گیا ۔
کیا کام ہے آپ کو ” وہ بولا تو اشفاق صاحب جو اردگرد دیکھ رہے تھے مسکرائے
کام تو تمھیں ہے مجھ سے لیکن فلحال میں کچھ لینے آیا ہوں عمر خیام ” وہ ادھر ادھر دیکھنے گھر کو سکون سے دیکھتے بولے عمر نا سمجھی سے انھیں دیکھنے لگا ۔
یہ گھر اس کی مالیت کیا ہو گی اس وقت ” وہ بولے ارہم خاموشی سے کھڑا انھیں ہی دیکھ رہا تھا اور پھر ساز ا گئ ۔
اسے علم نہیں تھا ارہم تایا جان جان بھی ہوں گے وہ عمر کی شرٹ میں تھی شرارتی نظروں سے اسے دیکھتی وہ اتر ہی رہی تھی کہ ایکدم کانپ سی گئ کیونکہ تایا خان تو منہ موڑے کھڑے تھے لیکن ارہم کا چہرہ اسی کی جانب تھا وہ ایکدم اندر کی جانب بڑھ گئ
ارہم اسکے چمکتے شانوں اور ان شانوں پر بنے نشانوں کو دیکھ کر آنکھیں خیر کر گیا
عمر نے یہ سب نہیں دیکھا تھا ورنہ آنکھیں نکال ہی نہ دیتا ۔
ارہم اس جانب چل دیا
ساز کا دل پتے کیطرح کانپنے لگا تھا
ارہم اسے دیکھ چکا تھا وہ جانتی تھی وہ اچھا آدمی نہیں ہے پتہ نہیں کیوں خوف سا محسوس ہوا تھا اسے ۔۔۔
جبکہ ارہم نے اس کمرے کی جانب دیکھا اور مسکرا دیا ۔
پلٹ کر عمر کو دیکھا اور معلوم نہیں وہ اس وقت کیا کچھ سوچ رہا تھا جو کہ کسی بہت بڑے طوفان کا پیش خیمہ تھا ۔
آپ یہ فضول بکواس کرنے آئے ہیں ” وہ بولا جبکہ اشفاق صاحب مسکرا دیے
چلو کام کی بات کرتا ہوں عمر خیام تمھیں تمھاری ماں کی ڈائری چاہیے یہ نہیں ” وہ بولے جبکہ عمر کی آنکھیں ایکدم کھلیں اور پھر کچھ تیور سے پڑے تھے اسکے ماتھے پر ۔۔۔
کیا مطلب وہ ڈائری آپکے اس نہیں ہے مجھے علم ہے “
اچھا ” وہ ہنسے چلو مان لو میرے پاس ہے تو تمھیں چاہیے ” وہ بولے تو عمر کی پیشانی کے بل اور بھی گھیرے ہو گئے
میں اپکے کسی نئے ڈرامے کا حصہ نہیں بننا چاہتا میں اپکا گھر چھوڑ چکا ہوں میں اور میری بیوی یہیں رہیں گے “
ارے ارے ” اشفاق صاحب نے نفی کی
نہیں میرے بیٹے تم ایسا نہیں کرو گے تم یہ گھر میرے نام کرو گے “
انکی اس بات پر عمر کا دما لمہوں میں بھڑکا تھا
یہ طوائف کا گھر ہے اپکو اس گھر سے کیا لینا دینا ہے ” وہ ایکدم چلا اٹھا ۔
مجھے تمھارے سے تو لینا دینا ہے نہ ” وہ ہنس رہے تھے اسے زیچ کر رہے تھے
جائیں یہاں سے ” وہ دھاڑا ساز دل تھام گئ
کاش وہ نیچے جا پاتی کاش وہ اسے تایا جان سے بچا سکتی ۔
یار بات سنو تمھیں وہ ڈائری چاہیے کیا تم یہ نہیں جاننا چاہوں گے تمھاری نیچ ماں نے کس مرد کے ساتھ بے وفائی کی راتیں گزار کر میرا ساتھ چھوڑا ہے “
وہ بولا ۔۔ عمر کے اندر جیسے چبھ گئیں تھیں ساری باتیں اسکی سانسیں پھولنے لگیں دانت پیس گیا تھا وہ اور اگر سامنے وہ آدمی کوئی اور ہوتا تو وہ مار مار کے اسکا حشر بگاڑ دیتا
دفع ہو جائیں یہاں سے ۔۔۔۔ میں نے کہا چلے جائیں سے مجھے دوبارہ اپنی شکل مت دیکھائیے گا
میں مے دیکھا ہے اپکو آپ جانور تھے اور آپ جانور ہی رہیں گے میں اپنے اوپر لعنت بھیجتا ہوں کہ آپکی اولاد ہوں میں مجھے خود سے نفرت ہے آپکی وجہ مجھے اپنے ہونے سے نفرت ہے آپکی وجہ ۔
آپ یہ تو چلے جائیں یہاں سے ورنہ میں جان سے مار دوں گا “
وہ دھاڑا وہ چلا اٹھا تھا ساز اندر رونے لگی تھی اسنے فورا بھاگ کر
اپنا لباس تبدیل کیا سر پر دوپٹہ اڑھا اور دوڑتی ہوئی نیچے ا گئ ۔جبکہ دل تھا کہ کانپ اٹھا تھا سرخ چہرے سے وہ باپ کے سامنے تن کر کھڑا تھا ساز نے اسکا بازو پکڑا ارہم نے جیسے اندر تک اسکا معائنہ کر لیا تھا وہ نگاہ بھی نہ اٹھا سکی ۔۔۔
جاو تم یہاں سے ” وہ بھڑکا
تایا جان ہنستے رہے ۔
عمر “
میں نے کہا جاؤ یہاں سے میں ان لوگوں کے لیے اکیلے ہی کافی ہوں مجھے سہارے کی ضرورت نہیں کیا سمجھتے ہیں اپ اپنے آپ کو کیا مجھے نہیں پتہ آپ نے کیا کیا تھا ان کے ساتھ جو داز ہے اسے راز رہنے دیں “
نہیں عمر اس راز کو تو کھولنا پڑے گا کیونکہ یہ راز کھلے گا تو مزاہ ہی الگ آئے گا سوچ لینا اس بارے میں اس اگر جاننا چاہو تو تم یہ گھر میرے نام کر دو “
عمر دانت پر دانت چڑھائے کھڑا انھیں سنجیدگی سے دیکھنے لگا وہ مسکرا کر وہاں سے نکل گیا جبکہ ارہم تو ساز کو ہی دیکھ رہا تھا
عمر نے غصے سے شیلف کی ساری چیزیں پھینک دیں تھیں
وہ بھڑکا اور ساز کی جانب مڑا ساز ڈر گئ
اسے کانپتے ہوئے دیکھنے لگی
وہ چند لمہے اسے دیکھ کر وہاں سے چلا گیا تھا ۔
ساز نے جلدی سے دروازہ بند کرنا چاہا کہ ارہم نے دروازے میں ہاتھ پھنس لیا ۔
تم تو بہت خوش ہو اور سچ مانو تو یہ نشان تمھارے بدن کو اور حسین بنا گئے
کیا مجھے بھی دیکھنے کا موقع دو گی میں ضرور یہ موقع حاصل کرنا چاہو گا “
ہٹ۔۔۔ہٹیں ارہم بھائی”
وہ بھرائے ہوئے لہجے میں بولی ارہم مسکراتا رہا اور پھر چلا گیا وہ دروازہ بند کر کے وہیں بیٹھ گئ
یہ تو اکثر ہوا تھا اکثر وہ یہ گھٹیا باتیں لر لیتا تھا وہ دل سنبھالتی اٹھی اور عمر کو دیکھنے کے لیے آگے بڑھ گئ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوہا تائی جان نجما چچی تینوں ہی آمنہ کے گھر گئیں تھیں سوہا نے بدر کو انفارم نہیں کیا تھا وہ لوگ صبح نکلے تھے اور شام تک گھر پہنچ ہی جانا تھا تبھی اسنے انفارم نہیں کیا تھا ۔۔۔۔۔۔
وہ آج بہت ہنسی تھی شاہد کبھی اتنا ہنسی ہو ۔۔ اسے کافی مزاہ آیا تھا آمنہ آنٹی کے گھر اور ان لوگوں نے اسکی کافی تعریف کی تھی وہ بس مسکرا دی تھی وہ جب گھر آئ تو بدر لاونج میں ہی بیٹھا تھا
کہاں گئ تھی تم ” وہ سنجیدگی سے بولا
سوہا نے ایک قدم دور لیا کہیں ہاتھ ہی نہ اٹھا دے
میرے ساتھ گئ تھی اب اپنے ساتھ لے جانے کے لیے بھلا تم سے پوچھنا تھا مجھے اپنی بیٹی کو کہیں لے جاتے “
نجما کی بٹ پر وہ چپ سا ہو گیا اور کمرے میں چلا گیا
نجما تمھاری بھی بھئی پوری زبان لگ گئ “
تائی جان ہنس پڑی جبکہ نجما ہلکا سا مسکرائی اور سوہا کی تو جان پر بن گئ تھی نہ ۔۔۔ وہ پریشانی سے ان دونوں کو دیکھنے لگی
بیٹا پریشان نہ ہو ” وہ سر ہلا کر کمرے میں آئی اور بدر نے اسکا بازو تھام کر سختی سے اندر کھینچا
تم اس شہریار کے گھر گئ تھی تم نے مجھے بتایا ” وہ بھڑکا
وہ کزن ہے میرا “
تو میں تمھارا شوہر ہوں “
میں تم سے ڈرنے لگ گئ ہوں ” وہ بولی تو بدر کے ہاتھ کی گرفت ہلکی ہوئی تھی اسپر ۔۔۔
ڈر لگتا ہے مجھے تم سے کہ کہیں تم مجھے مارو نہ کہیں تم مجھ پر ہاتھ ہٹاؤ کہیں میرے بچوں کو نقصان نہ پہنچا دو میں اسی لیے تمھیں نہیں بتایا اور “
تم ” وہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگا ۔
میں تھک گئ ہوں ” وہ اسکے بازو کے نزدیک سے نکل گئ اور دوسری طرف بدر اسکو دیکھتا رہ گیا ۔
بلاوجہ گی تھی تم ٹائم ویسٹ کیا ہے تم نے اپنا کیا کیا ہے تم نے وہاں ” وہ بولا جیسے بے چین ہو ۔۔۔
نہیں اچھا لگا ایسا لگا کہ زندہ ہوں “
ہاں میرے ساتھ رہ کر مردہ ہو گئ ہو نہ ” وہ چیڑا جبکہ سوہا نے مڑ کر دیکھا جواب کوئی نہیں دیا
یہ جو تمھارا رویہ ہے نہ سوہا بی بی سخت زہر لگتا ہے مجھے”
وہ تکیہ پھینکتا چیخا
کیا چاہیے تمھیں ” وہ بیٹھ گئ اسکے ساتھ
آئندہ تم اس شہریار سے بات نہیں کرو گی “
ٹھیک ہے ” وہ فورا ماں گئ ۔
بدر اسے دیکھتا رہا
تسلی رکھو تمھارے سوا کسی محبت نہیں کی ہاں تم نے نہیں کی یہ لگ بات ہے میری طرف سے ایسے خطرات کا شکار نہ ہو بدر زمان “
وہ اٹھنے لگی تھی پھر سے کہ بدر نے اسکا بازو پکڑا اور کھینچا تو وہ اسکی گود میں آ کر گیری ۔
حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی
کیا ہو تم کیوں تم ایسے کر رہی ہو کیوں چاہ رہی ہو تمھاری طرف متوجہ ہوں میں ” وہ بولا جبکہ سوہا کو اسکی نرم ایک بات ہی نعمت لگی اسکے سینے پر سر رکھ گئ ۔
کیا میں تمھاری دھڑکنوں کو سن لوں”
وہ دیوانی تھی بدر کو اندازا ہو گیا تھا وہ واقعی دیوانی تھی
وہ بنا تردد کے اسے سینے سے لگا گیا
سوہا آنکھیں بند کر گئ تھی جبکہ ۔۔۔ پہلی بار بدر کو الجھن نہ ہوئی
ہاں جو جیلسی اسے ہو رہی تھی اس میں تسلی ہوئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سر کوئی اشفاق صاحب آپ سے ملنے آئیں ہیں ” اسکے پی آئے نے کہا ابھی وہ عمر کو ہی کال کرنے والا تھا کہ وہ اب تک آیا نہیں اسنے سنجیدگی سے پی آئے کو دیکھا
بھیجو ” بس اتنا ہی کہا ۔
اور اپنی ریوالور نکال لی اشفاق صاحب اندر آئے اور وہی مسکراہٹ
ارے جناب شاہنواز صاحب عرف میری بیگم کے عاشق میری بیٹی کے شوہر کیسے ہیں اپ “
اشفاق صاحب بولے اور لمہے کے لیے شاہنواز کی آنکھیں سکیڑی تھیں حیرانگی اتری تھی اسکی آنکھوں میں ۔
ہمممم آپکی آنکھوں کی حیرانگی بتا رہی ہے بات کی طے تک پہنچ گیا ہے ” وہ فخر سے بولے شاہنواز کچھ نہیں بولا
اب کیا چھپانا “
وہ مسکراتے ہوئے اسکے آگے ایک تصویر رکھ گیا
شاہنواز نے ناز کی اور اپنی تصویر دیکھی واقعی جو سانس اسنے کھینچا تھا وہ سانس اسے بڑی تکلیف دے کر گیا تھا اور ریوالور نکال کر وہ شفاف صاحب پر تان گیا اور وہیں اشفاق صاحب کا رنگ فق ہو گیا جبکہ دوسری طرف شاہنواز مسکرایا ۔۔
ٹھا “۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے