Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 39

کیا ہے اس میں اتنا قیمتی جو آپ کی جان جا رہی ہے ” ایزہ نے اسے غور سے دیکھا
نہیں کچھ نہیں ہے بس پلانٹس سے میری اٹیچمنٹ ہے تو مجھے اچھا نہیں لگتا کوئی انھیں چھیڑے ۔۔۔۔
میں کوئی نہیں ہوں شاہنواز سکندر ” وہ اسکی اس بے کار ڈیفینیشن پر جیسے تڑپ اٹھی بنا لحاظ کے اسنے اسپر ہاتھ اٹھا لیا تھا اور اب کیا تفصیل دے رہا تھا
میں کوئی دروازے پر پڑا ڈور میٹ نہیں ہوں جیسے جب چاہیں گے اسپر قدم رکھ دیں گے یہ پودے آپکے لیے اتنی ولیو رکھتے ہیں کہ آپ انکی وجہ سے ایک جیتے جاگتے انسان کو بڑی طرح پیٹ ڈالیں اور بس یہ ہی وجہ ہے ہمارے بیچ میں کبھی کچھ ٹھیک نہیں ہو سکتا ” بھیگے لہجے میں بولتی وہ بھالو کو اسکے قدموں میں پھینک گئ
مجھے بھی ٹیڈی بئیرز بہت پسند ہیں اگر آپ انھیں چھیڑیں تو اجازت دیں کہ میں بھی اپکو تھپڑ مار سکوں ” وہ دو قدم دور ہوتی اسکی آنکھوں میں دیکھتی بولی تھی شاہنواز خاموش رہ گیا ہاں جو وجہ اسنے بتائی تھی وہ سننے میں تو کافی بے کار تھی ۔
ایزہ میری بات ” وہ ابھی کچھ بولتا کہ وہ اس پودے کے پاس گئ اور اس پودے کی سوکھی ہوئ بقیہ ٹہنیاں اور جھاڑیاں ساری نکال کر پھینک دی یہاں تک کے اسکے ہاتھ بھی زخمی ہو گئے ۔
ایزہ نے شاہنواز کی جانب دیکھا وہ لہو ہوتی آنکھوں سے برداشت کے ڈھانے پر کھڑا تھا اس پودے کو دیکھ رہا تھا
ایزہ نے اپنی بھیگی پلکیں صاف کیں اور اسکے پاس سے گزرنا چاہا کہ شاہنواز نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔۔ ہاتھ پر گرفت پہلے سخت تھی لیکن ایزہ کی آنکھوں میں دیکھ کر اسنے گرفت نرم کر لی
سوری میں واقعی آئندہ تم پر ہاتھ نہیں اٹھاؤ گا میری بات کا یقین کرو ” وہ بولا تو لہجہ نرم تھا وہ ریکویسٹ کر رہا تھا وہ حیران رہ گئ
یہ شاہنواز سکندر ہے جو دوسروں کو صرف اسکی اوقات پر رکھتا ہے یہاں تک کے ایزہ کو بھی جو اسی کی بیوی ہے
شاہنواز کی بات پر اسنے مڑ کر اس پودے کو دیکھا
وہ میں نے توڑ دیا اپکو غصہ نہیں ا رہا ” اسکے سوال پر شاہنواز نے ایک نگاہ گھما کر بھی نہیں دیکھا تھا کہ وہ کیسے بکھرا ہوا پڑا تھا
نہیں “
تو اس دن کیوں آیا “
بہت سوال کرتی ہو اتنے سوال نہ کیا کرو ” اسنے اسکا گال تھپتھپایا لیکن ایزہ کی آنکھوں میں الجھن تھی ۔
شاہنواز اسکے شانے پر ہاتھ رکھتا اسکا بھالو خود اٹھا کر اسے اندر لے آیا
ایزہ حیرانگی سے آنکھیں پھیلائے اسے دیکھنے لگی
آپکو واقعی بخار ہو گیا ہے ” وہ منہ بنا کر بولی شاہنواز نے سر جھٹکا
ناشتہ کرو ” اسنے بیٹھنے کا کہا
دادی جان کب آئیں گی۔”
شاید دو چار روز تک “
اتنی دیر سے میں بور ہو جاؤ گی ” وہ گھیرہ سانس بھر گیا
اچھا تو تمہیں انکے طعنے سن کر مزاہ آتا ہے “
شاہنواز نے اسکی جانب دیکھا جبکہ وہ سکون سے ناشتہ کر رہی تھی
جی نہیں لیکن بس گھر بڑا نہیں لگتا “
اداس مت ہوا کرو تمھیں جو چیز چاہیے جس سے تم اداس نہ ہو جس سے تمھارا دل لگ جائے بتاؤ مجھے ۔۔۔ میں تمھارے پاس اویلیبل کر دوں گا “
وہ کانٹا منہ کیطرف لے جاتا بولا
ایزہ کا ہاتھ تو رک گیا تھا مجھے ان مہربانیوں کی وجہ سمجھ نہیں ائی ” اسکے سوال پر شاہنواز نے خاموشی سے اسے دیکھا اور سر ہلایا ۔
ٹھیک ہے میں سمجھاتا ہوں مگر پرومس کرو کہ تم کوئی سوال نہیں کروں گی “
جی ” وہ اپنا ناشتہ چھوڑ چکی تھی
بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ آپ کسی پیاری سی لڑکی کے ساتھ ہوئی زیادتیوں کو دل سے فیل کر لیتے ہیں اور پھر کوشش کرتے ہیں کہ اسے خوش کر دیں
تو بس اتنی سی بات ہے “
آپ مجھے خوش کرنا چاہتے ہیں ” وہ بولی شاہنواز نے اسکا خوبصورت ہاتھ تھپتھپایا
ہاں”
اچھا ۔۔۔ اور اگر میں اپکو ایک بات بتاؤ “
وہ جیسے اسے آزمانا چاہ رہی تھی جیسے چاہتی تھی کہ ابھی وہ اس کھول سے باہر نکلی اس نقاب سے جو وہ اپنے منہ پر چڑھا کر اس سے باتیں کر رہا ہے
تبھی اپنی جان کی پرواہ نہیں کی تھی
کیا بات ” وہ سنجیدگی سے پوچھنے لگا
میں بلکل ویسی ہی ہوں جیسا دادی جان کہتی ہیں ” وہ بولی اسکی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی
آوارہ کہہ سکتے ہیں میرے گھر والوں نے میری شادی اسی وجہ سے مجھ سے پندرہ سال بڑے مرد سے کی کیونکہ میری عاشقی معشوقی پکڑی گئ تھی
ہاں لوگوں کی زبانیں ان ساری باتوں کو انھیں لفظوں میں ادا کیا جاتا ہے
میرے بھائی کو بتایا گیا تھا کہ میں گھر سے بھاگ گئ ہوں
میرا کردار ” اسنے سانس لی
جیسے ماضی یاد کر کے اسکے اندر تک تکلیف اتر گئی تھی
سب کے سامنے معمہ ہی رہ گیا ” اسنے انکھ سے بہنے والے آنسو کو صاف کیا اسے بہنے نہ دیا
شاہنواز نے اپنے اندر کی تمام برداشت کع اس وقت آزمائش میں ڈال دیا تھا اسنے دو بار گھیرے سانس بھرے
کس سے محبت کرتی تھیں تم “
وہ محبت تو نہیں ہوتی بدکردار ہوتی ہو جائے پاک نہیں ہوتے جھوٹے فریب ہوتے ہیں ہمارے سلام میں محبت جائز نہیں تھپڑ جائز ہیں
بہن بیٹی بیوی یہاں تک کہاں کو مارنا حلال ہے لیکن محبت حرام یہ تو بات بھی نہیں ہو سکتی کہ محبت کسی سے کی جائے ” وہ بری طرح رو پڑی شاہنواز اسے دیکھتا رہا ۔
لیکن ۔۔۔۔ میں قسم کھاتی ہوں میں نے اپنے بچے کے بعد کسی کو سوچنا نہیں چاہا ” وہ اپنا جرم بتا رہی تھی
شاہنواز اسکے پہلو سے اٹھ گیا
ناشتہ کر لینا ضروری ہے تمھارے لیے “
وہ غصہ نہیں ہوا تھا لیکن اسکے چہرے پر کئ رنگ تھے
ایزہ کی سچائی اتنی ہی تھی کہ اسنے بدر سے محبت کی تھی لیکن جنگ کے میدان میں وہ بھی اجنبی ہی تھا کہ اسے پتہ ہی کہاں تھا اس محبت کا ۔۔۔ جو اچانک کھل گئ تھی
ایزہ سر جھکائے آنسو صاف کر گئ
اسنے سوچ لیا تھا وہ بلکل نہیں روئے گی
شاہنواز بھی تو کسی سے محبت کرتا ہے وہ جانتی تھی شاید اسی خوبصورت عورت سے ” اسنے گھیرہ سانس بھرا
اپنے منہ سے وہ سب سچ بتا چکی تھی اسے
اب دل پر بوجھ رکھنے کو کچھ نہیں تھا آزاد ہو گئ تھی وہ ہر چیز سے لیکن اسکا بہت دل تھا وہ عمر سے ملے اسکا بھائی آئے وہ اس سے باتیں کرے ۔
اور کسی چیز کی تو تمنا نہیں تھی اسے ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہممممم یہ گھر کا اڈریس ہے تم نے یہاں پر 4 دن سے زیادہ ریلی نہیں کرنی یہاں ایک لڑکا ارہم ہے اور ایک اسکے علاوہ ہے وہ لڑکا اسکی تصویر اور اسکی ڈیوٹیلز مجھے چاہیے “
اس کے ہاتھ میں اشفاق صاحب کے گھر کا اڈریس تھما کر وہ سنجیدگی سے بولا تو زمیر سر ہلا گیا ۔
ارہم کے علاوہ وہاں بدر تھا وہ جانتا تھا سب کو لیکن شاہنواز کے اگے بول نہیں کھول سکتا تھا اپنی ۔۔۔
جی سر کہہ کر وہ باہر نکل گیا
شاہنواز صبح سے سٹڈی میں ہی تھا ۔
ایزہ کے بارے میں جان کر اسکے اندر کا ایک انا پرست مرد انگڑائی لے رہا تھا بار بار ایک جنون کیطرح اسکی انا اٹھتی جسے وہ بمشکل بیٹھاتا تھپتھپا دیتا
یہ بات اسے ہضم ہو ہی نہیں رہی تھی کہ اسکی قربت میں اسکی بیوی کسی اور مرد کے خیال میں رہتی تھی
اسنے سچ بتایا تھا اپنے منہ سے بتایا تھا
کوئی اور حالات ہوتے یہ ایزہ کی جگہ کوئی اور عورت ہوتی وہ اسکی زبان ہی کھینچ دیتا کہ اسکی جرت کیسے ہوئی وہ اسکے سامنے بیٹھ کر اپنے کرتوت سنائے اور یہ بتائے کہ وہ ابھی اپنے بچے کے بعد اسے بھولی ہے
اگر وہ اپنے گریبان میں جھانک لیتا تو کیا وہ ایزہ سے محبت کرتا تھا جو اسکی محبت کی کہانی پر تڑپ اٹھا تھا ۔
اپنی محبت اپنی تھی دوسرے کی غیرت پر بن رہی تھی
مردوں میں انا ایک سی ہی ہوتی ہے بھلے وہ عاشق ہی کیوں نہ ہو۔
دوسری طرف سارا دن گزر گیا تھا اسے پریشانی ہو رہی تھی اب اسنے شاہنواز کے لیے وہ ساری ٹہنیاں اکٹھی کی اور انپر ایک ریڈ بو باندھ کر اسنے وہ ملازم کے ہاتھ سٹڈی میں بھیج دیں
لیکن ملازم اندر سے تڑپ کر نکلی کہ وہ ٹہنیاں شاہنواز نے اسکے منہ پر ماری تھی وہ بھاگ کر باہر ا گئ
ایزہ کا تو دم ہی نکل گیا
معلوم نہیں کس جون میں بہک کر اسنے سب سچ اگل دیا اب تو دل تھا سہم ہی اٹھا تھا ۔
ایزہ نے اپنے کانپتے ہاتھ دیکھے اور دل تھام لیا
اب کیا ہو گا وہ کیا کرے گا شاید اسکو مار مار کر وہ بھی گھر سے نکال دے کیا ضرورت تھی اسے یہ سب کہنے کی ۔۔۔
وہ اپنی بھیگی آنکھیں سٹڈی کے دروازے پر جما گئ تھی ۔
شاہنواز کی ایک پکار پر جیسے دل منہ کو ا گیا
ایزہ ” غصہ نہیں تھا سنجیدگی تھی اسکے لہجے میں اسے یاد آیا اسنے فہیم کو مار دیا تھا کیونکہ اسنے ایزہ کو چھونے کی کوشش کی تھی تو اب کیا ہو گا وہ باہر کھڑے ہی رونے لگی ۔
ایزہ ” دوبارہ پکارہ
ایزہ دروازہ کھول کر اندر آئی
تقریبا اندھیرہ تھا سٹڈی میں بس ایک لیمپ ہی چل رہا تھا وہ اندر آئی اور دروازے کے نزدیک رک گئ شاہنواز نے اسے اپنے پاس بلایا ۔
ایزہ گویا مجرموں کیطرح اسکے نزدیک آئی وہ اسے مارے گا ۔
اسے یقین تھا وہ اسکے پاس ائی اور شاہنواز نے چئیر کو تھوڑا دور کر کے اسے اپنے بازوں میں اٹھا کر ٹیبل پر ایک جھٹکے میں بیٹھا دیا اور چئیر عین اپنے قریب کر دی
ایزہ اسے حیرانگی سے دیکھنے لگی ۔
لیٹ جاؤ ” یہ وہی شاہنواز لگ رہا تھا جس سے وہ شادی کے پہلے روز ملی تھی ۔
ایزہ کے پاس دوسرا کوئی اوپشن نہیں تھا شاہنواز نے ہاتھ مار کر ٹیبل کا سارا سامان پھینک دیا ۔
شاہ “
چپ ” وہ آنکھیں نکال کر بولا ایزہ نے انکھیں زور سے بند کر لیں
شاہنواز اٹھا اور اسکی کمر پر ہاتھ رکھتا اسکے چہرے پر جھکا
تمھیں میری خوشبو ا رہی ہے ” سنجیدگی سے اسکے کانپتے لبوں کو دیکھا تھا اسنے سوال کیا
ج۔۔۔جی ” وہ جواب دینے کی پابند تھی
سمیل می ” اسنے کہا ایزہ نے ایک گھیرہ سانس بھر کر اسکی خوشبو کو اندر اتارا
ج۔۔۔جی “
Open your eyes and look at me fast “
اسنے جتنی تیزی سے کہا اتنی تیزی سے ایزہ نے پٹ سے آنکھیں کھول دیں
یہ خوشبو تمھارے شعور اور لاشعور بلکہ ہر حد میں ہونی چاہیے ایزہ شاہ ۔۔۔ تم شاہنواز سکندر کی بیوی ہو اور آخری سانس بھی تمھیں اسی حالت میں لینی ہے کہ تم پر تمھارے دماغ پر تمھاری روح پر میرا اختیار ہو صرف شاہنواز کا ورنہ میرے لیے یہ کام کہاں مشکل ہے کہ میں فہیم کیطرح کسی کو بھی مروا دوں
بدر زمان یہ نام میرے ذہن میں چھپ گیا ہے تمھاری حرکات اسکی زندگی یہ یاد رکھنا
میں اپنے لیے کمپرومائز نہیں کرتا
آ ۔۔۔۔۔آ ” اسکی پھیلتی آنکھوں پر پیار کرتے وہ بولا
حیران مت ہو میں نے کہا نہ تمھاری کوئی بھی حرکت اسکی زندگی ۔۔
اور مجھے ایمپریس کرنے کی کوشش مت کرنا
میں کوئی بھی تمھارا عمل اسکی زندگی کے لیے برداشت نہیں کروں گا “
اسنے اسکے ہونٹوں کو چھوا اور اہستگی سے وہ چھوتا وہ تیزی پر اتر گیا ۔۔
ایزہ کیا کرتی بدر کی زندگی کا سوچتی یہ پھر اپنے اوپر برستے اس شخص کو ۔۔۔
کم اوں ریسپونس کرو ائ ڈونٹ لائیک ایٹ “
وہ شدت سے اسکے ہونٹوں پر برستہ یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ وہ اسکی ہے اور ہر صورت اسی کی رہے گی وہ یہ سمجھنا بھول جائے کہ وہ اس سے انجان ہے
اسنے ناز کا لگایا پودا آج ناز کی بیٹی سمجھ کر نہیں ایزہ سمجھ کر ہی اسنے اسے اگنور کیا تھا لیکن اسکی حرکت شاہنواز کو غصہ دلانے کے لیے کافی تھی
وہ اسکے ہونٹوں سے اترتا اسکی گردن کو چھونے لگا بدر کہیں دور چلا گیا
ایزہ اسکے لمس کو محسوس کر رہی تھی شاہنواز نے اسکے گلے سے دوپٹہ اتارا کر اپنے ہاتھ میں جکڑتا وہ اسپر جھکا کھڑا تھا ۔
ایزہ مچل سی گئ وہ مسکرا دیا
پہلی بار ایک الگ سا احساس تھا
وہ دور ہوا۔۔۔۔۔ کھڑا ہو گیا
سٹینڈ آپ ” اسنے بولتی اسکی آنکھوں میں دیکھا اور اسکی جانب ہاتھ بڑھایا
شاہ ” وہ کچھ کہنا چاہتی تھی شاہنواز نے اسکے لبوں پر اپنی انگلی جما دی نہ کوئی سوال نہ کوئی جواب اتنا بھی ہلکا نہیں ہے شاہنواز سکندر کے اسکی قربت میں تم کسی کو سوچ سکو بات یہیں ختم مجھے دوبارہ تمھاری اس زبان پر شاہ کے علاوہ کوئی نام سنائی نہ دے ” اسکا گال تھپتھپا کر وہ بولا
اور چئیر پر بیٹھ گیا اسکے ہاتھوں میں اب بھی ایزہ کا دوپٹہ تھا ۔
اور وہ سکون سے چئیر گھماتا ایزہ کو ہی دیکھ رہا تھا جس میں رتی بھی نگاہ اٹھا کر یہ سوال کرنے کی ہمت نہیں تھی کہ بدر زمان کا اسے کیسے پتہ چلا
وہ آپ نے کہا ” وہ چپ ہو گئ
کم ہئیر آج تم نے میرا موڈ بنا دیا ہے
کمرے میں آؤ ” وہ اٹھا اور اسکا دوپٹہ ایک ہاتھ میں لیے وہ آگے آگے بڑھا ایزہ سن سے ذہن سے بیٹھی تھی
ایزہ شاہ کہیں دیر نہ ہو جائے ” وہ بس اتنا ہی بولا ایزہ نے پریشانی سے سر اٹھایا اور جلدی سے اسکے پیچھے لپکی
وہ اسکے پیچھے پیچھے چلتی ایک معصوم سی پری لگ رہی تھی جو بلکل ڈر گئ تھی اس سے ۔۔۔ شاہنواز کمرے میں داخل ہوا اور ایزہ بھی پیچھے پیچھے ا گئ ۔
دروازہ بند کر کے ڈریس چینج کرو میں زیادہ دیر ویٹ نہیں کروں گا ” اسنے کہا تو وہ دروازہ بند کر گئ
اس وقت اسکے دماغ میں صرف شاہنواز کا خیال تھا وہ کیا کر رہا تھا کہیں اسکی وجہ سے بدر کی زندگی وہ اسکی بات کو مذاق نہیں سمجھ سکتی تھی وہ فہیم کو مار سکتا تھا تو بدر کیا تھا
بہت دنوں بعد کوئی فرمائش کی تھی اسنے ۔۔۔
اور ایزہ نے ہینگ ہوئی نائٹیز میں سے ایک پرپل کلر کی نائیٹی کھینچی اور اسے لیے واشروم میں چلی گئ
شاہنواز بیڈ پر لیٹا موبائل سکرول کر رہا تھا کہ زمیر نے اسے بدر کی تصویر سینڈ کی
خوبرو سا نوجوان تھا ہینڈسم تھا لیکن وہ مان نہیں سکتا تھا اس سے زیادہ ہے ۔۔۔
خستہ حال ٹوٹی پھوٹی بائیک پر بیٹھا تھا اسنے سر جھٹک کر موبائل پھینک دیا
ایک اختیار سا اسکے اندر سما گیا
اسنے ایزہ کو دیکھا وہ اسکی تھی اسکا حق تھا وہ اسے چھوتا اسکے ساتھ جو مرضی کرتا نا چاہتے ہوئے بھی جیلس تھا وہ بدر سے ۔۔
موبائل پھینک کر اسنے ایزہ کو آگے بڑھ کر کسی نازک گڑیا کی طرف خود پر خود ہی کھینچ لیا
وہ سردی سے کانپنے لگی تھی
شاہنواز نے ہیٹر تیز کر دیا اور اسکی صورت دیکھی جو نگاہ نیچے جھکائے ہوئے تھی
کیا سوچ رہی ہو ” شاہنواز کی بات پر ایزہ نے اسکی سمت دیکھا ۔
میری زندگی میں اب آپکے علاوہ کوئی نہیں بھلے آپ مجھ سے محبت کریں یہ پھر نہ کریں ” ایزہ بے اپنا ٹھنڈا ہاتھ اسکی گردن پر رکھا لیکن آنکھیں اوپر نہیں اٹھائی تھیں اس نے ۔
وہ بقر بار پلکیں جھپکا رہی تھی جھکا رہی تھی دوسری طرف شاہنواز نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا
مجھے علم ہے اور ایسا ہی ہونا چاہیے ” وہ سنجیدگی سے بولا
ایزہ نے سر ہلایا
مجھ سے نگاہ چرانے کی ضرورت نہیں ٹیک ایٹ ایزہ دیکھ لیا ہے اس پھٹیچر کو میں نے انسان کا محبت کرنے کا کوئی ٹیسٹ بھی ہونا چاہیے ” اسکے ہونٹوں پر نرمی سے انگوٹھا رگڑتے وہ بولا
ایزہ کچھ نہیں بولی پھر اسے اس عورت کا خیال آ گیا
آپ بھی تو کسی سے محبت کرتے ہیں ” اچانک ہی اسنے پوچھ لیا شاہنواز نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا ۔
میں نے تمھیں یہ کبھی اپنے منہ سے کہا ہے “
لیکن میں نے وہ تصویر دیکھی ہے ” وہ منہ بنا کر بولی اور شاہ نے اسکے ہونٹوں کو پوری طرح خود میں قید کر لیا
کہ سانسیں بھی اسکی سانسوں میں بھرنے لگی تھی وہ ۔۔۔
شاہنواز کے ہاتھوں کی حرکت چارو اطراف میں پھیلی ہوئی تھی وہ مدہوش سی ہوتی اسے دیکھنے کی کوشش کرنے لگی
جس دن اپنے منہ سے بتاؤ اس دن مان لینا ” وہ اسے تکیے پر لیٹاتا بولا اور اسکی گردن سے نیچے نائیٹی کا نیٹ کا گاون ہٹایا ۔
آپ نے کہا تھا مجھ سے محبت نہیں کر سکتے ” اسے یاد تھا
کافی ذہین ہو ۔۔۔
ممکن ہے کر لوں “
اہستگی سے بولتا وہ ایزہ کو دنگ چھوڑتا اسکی گردن سے کچھ نیچے جھکا اور ایزہ کی جیسے جان ہی کھینچ گیا
ایزہ کے جسم کا رواں رواں شاہنواز کے لبوں کی حرکت پر جاگ رہا تھا وہ آنکھیں بند کر گئ اور وہ اس پر زور شور سے برسنے لگا
شاہنواز نے اسکے دونوں بازو اپنی گردن میں حائل کر لیے ایزہ کو اپنے لبوں پر اپنی گردن پر اسکی سارے احساس تھے
شاہنواز نے اسکے بازو پر جو وہ اس نیٹ گاؤں سے آزاد کرا چکا تھا دانت چبھو دیے
وہ سسکی اور ماتھے پر مدھم سے تیوری ڈالتی اسے دیکھنے لگی وہ مسکرایا اور اپنی شرٹ کے بٹن آدھے کھول کر چھوڑ دیے
Open it “
اسنے حکم دیا
ایزہ نے کانپتی انگلیوں سے بٹن کھولے اور شاہنواز نے اپنی شرٹ اسکی آنکھوں پر باندھ دی
شاہ “
ششش ” اسنے روکا اور اسپر اپنے تمام اختیار کو اپنے قبضے میں لیے وہ اسکی جان پر بنا رہا تھا
آج اس قربت میں ایک الگ ہی اختیار تھا اگر نہیں تھی تو صرف ضرورت نہیں تھی
جو ہمیشہ سے ان دونوں کے بیچ رہی تھی
آج شاید ایک ننھا منھا سا اپنائیت کا پودا جنم لے چکا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے