Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 71

گلشن بائی کی حالت روز بروز خراب ہوتی جا رہی تھی سوہا کو اس نے پیغام بھجوا دیا تھا لیکن اس کی طرف سے کوئی بھی رسپانس نہیں آیا تھا تبھی مجبور ہو کر گلشن بائی نے ایک خط عمر خیام کے گھر پہنچوا دیا وہ نہیں جانتی تھی کہ یہ خط کتنوں کی زندگی بدل دے گا جیسے طوفان لے ائے گا ہو بھی سکتا ہے محبت کرنے والوں کو دور کر دے عمر گھر سے جا چکا تھا ساز روز کی طرح اس کے جانے کے بعد اس کی چیزوں کو اٹھا رہی تھی وہ کسی بچے کی طرح تیار ہوتا تھا ہر چیز کو اٹھا اٹھا کر دوسری چیز کے اوپر پھینک دیتا اور پھر بھی اسے وہ چیز جس کی اسے طلب ہوتی وہ نہیں ملتی تھی ان کے گھر میں کوئی ملازمہ نہیں تھی وہ انہیں کاموں میں مصروف تھی کہ اچانک ہی عمر دوبارہ آ دھمکا
تم کتنی بڑی بے وقوف ہو تم نے مجھے موبائل بھی نہیں دیا وہ سائیڈ ٹیبل پر سے موبائل اٹھا کر اسے دیکھاتا ہوا بولا
اب اس میں میری بے وقوفی کی کیا بات ہے اپ خود بھول کر گئے ہیں وہ حیرانگی سے اس کی جانب دیکھتی ہوئی بولی جبکہ عمر اس کے قریب ایا اس کے گالوں کو کھینچا اور اس کی پیشانی پر پیار کر کے باہر نکلا جلدی جلدی دھڑا دھڑ سیڑھیاں اترا اور سیدھا سامنے کی جانب چلنے لگا جب کہ چوکیدار کو وہ دیکھ سکتا تھا کہ وہ اسی کی طرف ا رہا تھا
عمر بابا چوکیدار نے اس کو روکا ابھی نہیں ابھی نہیں ابھی مجھے جلدی ہے مجھے جانا ہے اس نے موبائل پاکٹ میں ڈالا اور چابی گاڑی میں گھمائی لیکن صاحب یہ کوئی خط ایا ہے ساز بی بی کے لیے وہ بولا اور شانے اچکا کر اندر کی جانب جانے لگا کہ عمر نے اپنے گاگلز کو نیچے کیا اور اس کی جانب دیکھا ماتھے پر ایک دو بل نمایاں ہوئے اور اس نے گاڑی کی کھڑکی سے سر باہر نکالا
لاؤ مجھے دو اس نے وہ خط چوکیدار کے ہاتھ سے لے لیا خط کا لفافہ کھولا جس کے اندر ایک سفید کاغذ تھا
اور اس سفید کاغذ پر تین سطریں تحریر تھیں
“میری زندگی کا مجھے بھروسہ نہیں ہے ناز کے حقیقت اگر تم میں سے کوئی بھی جاننا چاہتا ہے تو میرے مرنے سے پہلے ا جاؤ شاہنواز اور ناز کا آپس میں کیا تعلق تھا یہ جاننا شاید تمہارے لیے بہت ضروری ہے ساز میں تمہارا انتظار کر رہی ہوں اس سے پہلے سانسیں ساتھ چھوڑ جائیں میرے پاس ا جاؤ “
گلشن بائی۔۔۔۔
عمر اس کاغذ کو غور سے دیکھنے لگا ایسے جیسے ان تحریروں پر اپنی ماں کے نام کے ساتھ شاہ نواز کے نام کو دوبارہ پڑھنا چاہ رہا ہو جیسے یہ نام اس کے نام کے ساتھ نہ ہو اور وہ غلط نام دیکھ رہا ہو جیسے اسے کچھ اور نظر ا رہا ہو اور وہ پڑھ کچھ اور رہا ہو اس نے ایک لمبا سانس کھینچا پیشانی پر موجود بلوں میں اور اضافہ ہو گیا
سامنے سے ساز آ رہی تھی اس نے ساز کی جانب نگاہ اٹھائی اپ ابھی تک یہیں ہیں اپ نے کہا تھا اپ کو جلدی ہے
خیریت اپ یہاں کیوں کھڑے ہیں اپ کو کوئی چیز چاہیے اس نے لا تعداد سوال کرتے ہو اس کی جانب قدم اٹھائے عمر چند لمحے اسے دیکھتا رہا اور پھر اس نے گاڑی کو ریورس گیر پر لگایا اور اپنے گوگلز کو اوپر کیا وہ گاڑی کو زن سے اگے بڑھا گیا ساز اس کی خیر و عافیت کی دعا کرتی چوکیدار سے دروازے کو بند کرنے کا کہہ کر اندر کی جانب جانے لگی
بی بی جی اپ کے نام کوئی خط ایا تھا چوکیدار نے شاید اس کو بتانا مناسب سمجھا تھا
خط میرے نام کس لیے کیوں کس کا خط تھا ساز کے کئی سوال تھے
معلوم نہیں عمر بابا نے وہ خط مانگا اور اس کو اپنے پاس ہی رکھ لیا علم نہیں جی کون تھا کوئی اجنبی سا مرد تھا اپ کے لیے خط دے کر گیا تھا ساز پریشانی سے اس کی شکل دیکھنے لگی کون مرد وہ پریشانی سے سوچنے لگی چوکیدار چلا گیا جب کہ ساز کا دل بری طرح گھبراہٹ کا شکار ہو گیا دوسری طرف عمر اس خط کے اوپر اپنی ماں کے نام کے ساتھ شاہنواز کے نام کو سمجھ ہی نہیں پا رہا تھا جیسے جاننے کی کوشش کرنا چاہ رہا ہو کہ یہ دو نام ایک ساتھ کس طرح لیکن اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا اور جواب دینے کے لیے ابھی ایک شخص زندہ تھا جس نے یہ سوال اٹھایا تھا اسی کے پاس جا رہا تھا وہ اسے یاد تھا ایک پرانی بھولی بسری سی یاد کہ ایک بار وہ اس کوٹھے پر گیا تھا گلشن بائی سے بھی ملا تھا اور جو ایک بار وہ اس کوٹھے پر گیا تھا تو اس ایک ہی باری میں اس نے وہاں کے لوگوں کو توبہ کرنے پر مجبور کر دیا تھا اور اس کے بعد وہ کبھی اس جگہ پر نہیں گیا جبکہ ان لوگوں سے اس کی ماں کے جاننے والوں سے اسے سخت نفرت تھی جب وہ اس کی ماں کی میت پر بیٹھے بلبلا بلبلا کر رو رہے تھے تب بھی اس نے انہیں ایسے ہی بازاریت سے دیکھا تھا جیسے وہ اپنی ماں سمیت ہر شخص سے بیگانہ ہو لیکن اج وہ اسی جانب جا رہا تھا
نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی گاڑی اس خط پر لکھے دو ناموں کے سوال کو لے کر گلشن بائی کی جانب بڑی تیزی سے بڑھ رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلیک شرٹ اور بلیک پینٹ میں گریبان چاک کیے وہ دو سیڑھی چڑھا دماغ میں جیسے ماضی گھوم سا گیا اسے کئ لڑکیوں نے بڑی للچائی ہوئی نگاہوں سے دیکھا تھا جبکہ وہ اپنے اعصابوں پر کنٹرول کرتا وہ اندر بڑھا سامنے تخت پر بیٹھی عورت ایک دم کھڑی ہو گئی
عمر ۔۔۔ اس کے لب پھڑپھڑائے وہ حیرانگی سے دیکھ رہی تھی عمر نے ادھر دیکھا ادھر دیکھا کون ہے گلشن بائی آواز میں سختی تھی لہجے میں لچک نہیں تھی ایک روعب سا تھا جب کہ وہ عورت اس عمر کو جانتی تھی جو یہاں سے بھاگتا تھا جب ناز اسے یہاں لے کر آئی تھی تو اسے اس کوٹھے کے سب سے خوبصورت کمرے میں بٹھایا گیا جہاں گھنگرو کا شور اسکے کانوں میں سنائی نہ دے ۔۔ وہ ہر وقت اس کے پاس بیٹھی رہتی اور جب اپنے کام کے لیے اٹھتی تو کتنی ہی کوشش نہ کرتی کہ عمر اس وقت سو جائے لیکن عمر بچپن سے ہی کافی ضدی تھا اور اج بھی اس کی انکھوں میں وہ ضد دیکھ سکتی تھی ان کی انکھوں میں اس کے لیے نرمی سی اتر گئی
شوکت انہوں نے بلند آواز میں ایک ادمی کو بلایا سیاہی مائل وہ شخص مناسب جسم قدوقامت کا عمر کے پاس ایا وہ بھی عمر کو جانتا تھا یہاں پر کون نہیں تھا جو عمر خیام سے ناواقف تھا جو نہیں جانتا تھا کہ عمر خیام ناز کا بیٹا اس کوٹھے کی رونق کا بیٹا تھا جس کے گھنگرو کی تھاپ کتنوں کو گھنٹوں گھنٹوں اس کوٹھے پر بٹھائے رکھتی تھی عمر جیسے سانس روکے کھڑے تھا اس نے اس ادمی کی جانب دیکھا اس عورت نے اسے گلشن بائی تک پہنچانے کے لیے کہا وہ ادمی عمر کی جانب ہاتھ بڑھا کر اسے اگے جانے کے لیے کہنے لگا عمر اگے کی طرف قدم اٹھاتے سیڑھیاں تیزی سے چلتا اوپر چڑھ رہا تھا معلوم نہیں کیوں جیسے جیسے وہ اوپر چڑھ رہا تھا دل گھٹ سا رہا تھا فی الحال تو دماغ میں کچھ نہیں تھا یہ دو نام ایک ساتھ کیسے تھے کیوں تھے وہ یہ ضرور جاننا چاہتا تھا لیکن فی الحال کچھ ایسی سوچ نہیں تھی اس نے اپنے گوگلز اتارے بالوں میں ہاتھ پھیرا یہ کوٹھا تھا یہاں ہر جگہ دلکشی تھی لیکن اسے کبھی دلچسپی نہیں ہوئی تھی ہوتی کیسے اس کی زندگی میں معلوم نہیں کس نیکی کا پھل ساز کی صورت میں موجود تھا وہ جانتا تھا تو اس نے اج تک کوئی نیکی نہیں کی اس نے کوئی اچھا کام نہیں کیا اس نے کسی کے ساتھ بھلائی بھی نہیں کی تھی لیکن پھر بھی ساز اسے ملی تھی پھر اسے کسی میں دلچسپی کیسے ہوتی دروازہ کھلا وہ اندر بڑھا اس عورت کو جانتا تھا جو بستر پہ پڑی کراہ رہی تھی اس کے ہائے ہائے کی اواز بھی عمر کیے اعصابوں پر یا اس کے دل پر کوئی نرمی نہیں ڈال سکی یہاں اگر کوئی بیمار ہو کر مرتا تھا یا پھر جیسے بھی بھی شاید یہاں کی کسی عورت پر ترس کھانا بے وقوفی تھی اس نے سائیڈ پر پڑی ایک کرسی اٹھائی کرسی کو بیڈ کے سامنے رکھا اور ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر گلشن بائی کی جانب دیکھنے لگا جو عمر کو دیکھتے ہی زور زور سے رونے لگی تھی اس نے عمر کی جانب ہاتھ بڑھایا وہ انھیں جانتا تھا اس صورت کو اکثر اس کی ماں کے ساتھ ہوتی تھی عمر پاؤں ہلانے لگا ساتھ اسے دیکھ رہا تھا البتہ اسکا ہاتھ نہیں پکڑا تھا ساز کو کیسے جانتی ہو ۔۔۔۔
یہ اس کا پہلا سوال تھا گلشن نے ذرا انکھیں پھیلا کر اس کی جانب دیکھا تو اسے احساس ہوا کہ وہ کتنی بڑی غلطی کر چکی ہے اس کے انسو رک گئے اس نے اٹھنے کی کوشش کی اس کے پہلو میں کھڑی دو لڑکیوں نے اسے اٹھا کر بٹھایا اس کے پیچھے تکیہ لگایا عمر یہ سب تماشہ دیکھ رہا تھا
میں نے پوچھا میری بیوی کو کیسے جانتی ہو ” لہجے میں حقارت تھی اسکے اس کے نام پر یہ خط میرے گھر میں کیسے ایا” اسنے وہ خط اسکے منہ پر دے مارا وہ اتنی ہی نفرت کرتا تھا یہاں کے لوگوں سے ۔۔۔
گلشن بائی چند لمحے اسے دیکھتی رہی اس نے اپنے گال صاف کیے سب کو سانپ سونگھ گیا تھا کوئی ایک لفظ بھی نہیں بول رہا تھا جبکہ گلشن بائی سر جھکا گئی تھی
ناز کے بارے میں پوچھنے آئ تھی تمھاری بیوی ” عمر کے لیے یہ پہلا دھچکا تھا
اس نے چیئر پر اپنی کہونی ٹکائی تقریبا وزن اس پر دے کر انکھیں سکیڑتا گلشن بائی کو دیکھ رہا تھا
مجھ سے جھوٹ نہ بولنا ” اس نے جیسے ان کی بات پر یقین نہ کیا
اس طرح مرگ پر پڑ کر بھی اگر میں تم سے جھوٹ بولوں گی ” تھکی تھکی نظروں سے اسکی طرف دیکھتے وہ رونے لگی
عمر کی برداشت سے باہر سا ہو بے چین ہو کر پہلو بدلا کھڑا ہو گیا دو قدم چل کر بالوں میں ہاتھ پھیرا اور پھر چیئر کھینچ کر اسکے آگے بیٹھ گیا
کیوں کیا مطلب ” وہ سمجھا ہی نہیں تھا ساز اسکی ماں کے بارے میں جاننے کے لیے کوٹھے چل آئی اسکو بنا بتائے کیوں ” اسکے اندر تپش سی اٹھ رہی تھی جو اسکے دل کو جلا رہی تھی ۔۔
گلشن بائی نے اپنا کانپتا ہاتھ اسکے چہرے پر رکھا عمر نے انکا ہاتھ دور نہ کیا وہ جس کیفیت میں رفتہ رفتہ مبتلا ہو رہا تھا اس سے خود گھبرا رہا تھا اگلا سوال وہ کرنا نہیں چاہتا تھا
۔۔ لیکن گلشن بائ بے ساختہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی اور عمر انھیں دیکھنے لگا دانت پر دانت چڑھا لیے
وہ تم سے بہت محبت کرتی تھی میرے بچے اسنے ایک ایک سانس تمھارے لیے گزار دی ۔۔ بس یہ کہتے کہتے مر گئ کہ عمر کو تنہا نہ چھوڑنا میرے عمر کا خیال رکھنا آخری وقتوں بھی تمھارے لیے فکرمند رہی تھی ۔۔۔
وہ ہچکیاں بھر رہی تھی عمر انکی جانب دیکھ رہا تھا
بہت بدنصیب تھی بہت بدنصیب ۔۔” گلشن بائ نے جیسے پچھتاتے ہوئے پیشانی پیٹ ڈالی عمر کا دم سا گھٹنے لگا وہ سانس بھر کر سیدھا ہوا انکا ہاتھ ہٹا دیا میں یہاں سے صرف اپنی بیوی کا پوچھ رہا ہوں ۔
نہیں عمر تم اپنی بیوی کا نہیں شاہنواز کا نام اپنی ماں کے ساتھ کیوں ہے دیکھنے آئے ہو “
سننے آئے ہو کہ یہ نام اس نام کے کیوں ہے ” وہ بولیں مسلسل انسو صاف کر رہی تھی
عمر کی انکھیں پھیل گئ سانس جیسے حلق میں ہی پھنس گیا وہ گلشن بائ کی جانب دیکھنے لگا جو سہارے سے اٹھی تھی ۔
اور کانپتی کانپتی ایک الماری کے سامنے جا کھڑی ہوئی اور اسنے ۔۔ اس الماری سے ایک پرانا بوسیدہ البم اور ایک ڈائری نکالی تھی
عمر اس کالی ڈائری کو دیکھ ساکت ہو گیا دل کیا اٹھ کر بھاگ جائے ۔۔۔ بھاگنے کا دل تھا
بلکل ننھے بچے کیطرح چھپ جانے کا دل تھا اسکا لیکن وہ چھپ نہیں سکتا تھا اسنے وہ ڈائری دیکھی اور اس ڈائری سے ہی جیسے کہانی زندگی کی بندھی تھی ۔۔
وہ خاموشی سے اس ڈائری کو دیکھتا رہا اور وہ اسکے پاس کر بیٹھ گئیں انسو تھے کہ تھم ہی نہیں رہے تھے انکے اور وہ بار بار عمر کے چہرے پر ہاتھ رکھ رہیں تھیں
تمھارا خیال رکھنے کا کہہ گئ تھی اور دیکھو ۔۔۔ تمھیں ایک تکلیف دہ باب زندگی کا سنانے بیٹھ رہی ہوں ” وہ بولیں اور پھر جیسے چارو اور خاموشی چھا گئ ۔۔۔
انھوں نے بیماری کی وجہ سے اور بڑھاپے کی وجہ سے کانپتے ہاتھوں سےاس ڈائری کو کھولا اس میں عمر کی تصویر تھی
جس پر میری زندگی لکھا تھا ۔۔ گلشن زاروں قطار رونے لگی
عمر اس تصویر کو دیکھنے لگا ۔۔۔
مجھ سے ہمیشہ خفا رہے عمر تم ۔۔ خدا کی قسم تمھاری ماں کا وجود ساری عمر جہنم کی آگ میں جلتا رہے گا ۔۔ کیونکہ وہ گنہگار ہے قصور وار ہے تمھاری ۔۔ تمھاری اس معصوم دل کی جس نے بڑی کم عمری میں شدتیں سہیں
میرے بیٹے مجھ سے نفرت نہ کرنا ۔۔ تمھاری ماں تم سے بہت محبت کرتی تھی بہت ۔۔۔۔اس تصویر کے پیچھے لکھا تحریر کو پڑھ کر اسنے اس ڈائری کی جانب دیکھا جسے گلشن نے بند کر دیا ۔
ایک طویل سانس کھینچا اور عمر کی جانب دیکھا
بتاؤ سننے کا سب جاننے کا حوصلہ لیے بیٹھے ہو ” گلشن کے الفاظوں کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا اسپر اسنے بس گاگلز لگائے اور اسکی جانب دیکھا
سنائیں ” کافی مدھم آواز میں بولا تھا
گلشن نے آنسو صاف کرے کے سر ہلا دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نگینہ بائی کی بیٹی ناز کورنگی کے کوٹھے کی رونق تھی نگینہ بھائی نے ہمیشہ اسے کسی آبگینے کی طرح چھپا کر رکھا ہوا تھا ۔۔ ناجائز اولاد تھی لیکن اتنا نور شاید نگینہ بائی خود خوفزدہ تھی اسکے حسن سے اسنے ہمیشہ اسے چھپا کر رکھا لیکن وہ کوٹھا چلا رہی تھی اسکے اٹھارہ سال کے ہونے کی منتظر تھی اٹھارہ سال کے ہوتے ہی ناز کا مجرا دیکھنے کے لیے معلوم نہیں کہاں کہاں سے لوگ آنے تھے ۔۔
ہر دوسرا شخص منتظر تھا اسکے دیدار کو لیکن نگینہ بائی نے کبھی اسکی جھلک تک نہ دیکھائی تھی ۔۔۔۔ دنیا کو وہ ناز سے بہت پیسہ کمانے چاہتی تھی اتنا کہ بس اسکا کوٹھا شہر کا سب سے بڑا کوٹھا بن جائے اور ہوا بھی کچھ ایسا ہی ۔۔۔۔
اٹھارہ سالہ ناز ان گھنگروں کی تھاپ سے نفرت سی کرتی تھی اسے گھنگروں کا شور عورتوں کی بے مقصد آوازیں قہقہے اور یہ فضولیات بہت کوفت زدہ لگتی تھی وہ جانتی تھی وہ اپنی ماں کی ناجائز اولاد ہے دکھ اور غم تو بہت تھا جو اسے نڈھال رکھتا لیکن معلوم نہیں کیوں اک کوٹھے والی کی بیٹی ہو کر دل میں خدا کا خوف کیوں تھا وہ اس خوف کے زیر اثر رہتی اور بہت خاموش رہتی ۔۔۔
اسکے پاس صرف اسکی ماں آتی تھی آج تک کوٹھے کی کسی عورت نے بھی اسے نہیں دیکھا تھا ۔۔۔
وہ کمرہ جہاں وہ رہتی تھی بہت بند تھا یہاں سے نہ باہر جھانک سکتے تھے اور نہ اندر کوئی ہوا بھی آتی تھی ۔۔ وہ اسی کمرے میں اپنی زندگی کہ اٹھارہ سال پورے کر کے جب اگلی صبح اسنے انکھ کھولی تو سامنے ہی اپنی ماں کو دیکھ کر اٹھ بیٹھی آبشار کیطرح سے بہتے بال وہ اپنی بڑی بڑی بادامی آنکھوں سے انھیں معصومیت سے تکنے لگی
آج اٹھارہ کی ہو گئ ہے تو تجھے یاد ہے نہ سب “
مائی ” اسنے نہایت معصومیت سے کہا تھا ۔
ہمممم۔” اسکے بال سنوارتی وہ بولیں
مجھے ناچ گانا نہیں پسند “
اسکی بات پر وہ ہنس پڑی بیوقوف لڑکی کوٹھے والی کی اولاد یے باتیں کیا کر رہی ہے جب تو ناچے گی نہ تو پھر دیکھ کہ کروڑوں لوٹا کر جائیں گے مرد یہاں” اسنے کہا جبکہ ناز کی آنکھیں پانی سے بھر گئیں ۔
مائی مجھے نہیں پسند “
تجھ سے تیری پسند نہیں پوچھی کسی نے بھی” سختی سے وہ بولی اور ۔۔اسے اٹھنے کا کہا ۔
ناز اٹھی اور وہ اسکے بال سنوارنے لگی
مائ اگر ایسا ہو کہ میری جگہ کوئی اور “
چپ ” ایکدم بال کھینچ کر سختی سے بولتی وہ اسکی چیخیں نکلوا گئ
جتنا کہا ہے اتنا ہی کرنا ہے تو نے ” وہ برہمی سے بولی تو وہ سہم کر سر ہلا گئ
ہاں زیادہ چوں چراں نہیں کرتے آج تو میں بہت خوش ہوں تجھے اپنے ہاتھوں سے سجاؤ گی چل نہا لے “
میں خود نہا لوں گی ” وہ بولی تھی مگر وہ روکیں نہیں اور اسے پھولوں کے پانی سے نہلایا تھا ۔
اسکے بالوں کو خشک کرتی اسکے چمکتے دھڑکتے وجود کو تولیہ میں چھپا دیکھ وہ بس یہ سوچ رہی تھی کہ جب یہ حسن کسی بستر پر جائے گا اس روز اسکے کوٹھا پر سونے کی برسات ہو جائے گی ۔
وہ سوچ رہی تھی ناز نگاہ جھکائے بیٹھی تھی ۔
پورا دن مائی نے اسکے ساتھ گزارا اور پھر اسکا پور پور سجا دیا تو ناز کو خود سے گھن سی ائ ۔
وہ یہ کیا بن گئ تھی لیکن مائ کے اگے بولنے کی جرت دل و دماغ میں نہیں تھی ۔
مائ ۔۔ میں یہ سب نہیں پہنو گی ” وہ رونے لگی
نگینہ بائ نے غصے سے ڈنڈا اٹھایا اور اسکے احتجاج پر اسے درخت کی پتلی سی ٹہنی سے بری طرح مارنے لگی ناز کی چیخ نکل رہی تھی مگر وہ آواز آج تک اس شور میں کسی کے کانوں میں نہیں پڑی تھی ۔۔۔ اور نہ چاہتے ہوئے بھی ۔۔۔ ناز کا پہلا مجرا شہر بھر میں تہلکہ مچا گیا ۔
ایسا ہنگامہ آرائی ہوئی کہ ہر دوسرا شخص دوسرے شخص پر چڑھ کر اسکا مجرا اسکا حسن دیکھنے کو پہنچ گیا تھا ۔
ناز اس رات بہت روئی ۔۔ اتنا روئی کہ اسنے ٹھان لی وہ اب نہیں ناچے گی وہ یہاں سے بھاگے گی ۔
اسکے دماغ میں یہ خیال تو ا گیا لیکن بھاگنے کے لیے اسے اس بھول بھلیاں کا علم بھی تو ہوتا وہ کمرے سے نکلی نیچے تک کا بھی سفر نہیں جانتی تھی دیوار سے ٹیک لگائے بچوں کیطرح رو دی
تم رو رہی ہو تمھارا مجرا تو شاندار گیا ہے گلشن نے اسکو کہا جبکہ ناز نے اسکا ہاتھ ہٹایا ۔
تم یہ سب نہیں کرنا چاہتی کیا ” گلشن کے سوال پر وہ سر ہلا گئ
تم بہت حسین ہو “
مرد تمھارا مول لگا رہے ہیں نیچے ” ناز کا سانس تھم گیا
اس کوٹھے پر ایسا مول نہیں لگا اج تک دیوانہ کر دیا ہے سب کو تم نے ” گلشن نے کہا تو ناز اور بھی رو دی ۔۔
کیا تھا یہ سب ۔۔
مجھے یہاں سے بھاگنا ہے “
شش” گلشن نے انکھیں نکالیں اسکے ان الفاظوں پر وہ سہم ہی گئ
مرنا ہے تم نے یہ باتیں منہ پھاڑ کر کرنے والی نہیں یہ جو تمھاری ماں ہے نہ جانور ہے فرعون ہے فرعون “
بھاگ رہی تھی شبنم اسکو مار کر اسکی لاش درندوں کے حوالے کر دی وہ بھی بیچ چراہے پر ۔۔۔ کہ دیکھنے والی آنکھ دیکھ نہ سکے اور کسی کی دوبارہ جرت نہ ہو ۔۔۔”
لیکن وہ ماں ہیں میری “
ناجائز اولاد ” گلشن نے اسے یاد دلایا وہ رونے لگ گئ
اچھا چپ ہو جاؤ نکال دو گی تمھیں یہاں سے ” وہ بولی اور اگلے دن گلشن بائی نے ناز کو کوٹھے سے نکال دیا ۔
جاؤ بھاگ جاؤ ” اسنے کہا جبکہ وہ کہاں بھاگتی دنیا دیکھی ہی کب تھی اسنے ۔۔ وہ بے مقصد چلنے لگی تھی نگینہ نے اسے دو دن کا آرام دیا تھا تبھی وہ نکل گئ تھی ۔۔۔۔
چلتے چلتے کس علاقے میں آئی کچھ نہیں پتہ چلا اور اچانک وہ کسی سے بری طرح ٹکرائی
مسجد کی دہلیز پار کرتے اشفاق نے اس حسن کے مجسمے کو دیکھا اور جیسے وہیں تھم گیا نا دوسرا لفظ بول سکا نہ تیسری بات ۔
ناز اسے آنکھیں پٹپٹا کر دیکھنے لگی جبکہ باپ کے خوف سے اشفاق نگاہ پھیر کر دوسری سمت نکل گیا ۔۔۔
لیکن ذہن کی سکرین پر وہ مجسمہ حسن چمٹ گئ تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے