Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 47
No Download Link
Rate this Novel
Episode 47
وہ کمرے کو ایک نظر دیکھ گیا اتنا گندا کیا ہوا تھا کمرہ ۔۔۔
لگ تو نہیں رہا تھا ساز رہتی ہو گی یہاں ۔۔۔
سعود واپس جا چکا تھا ۔۔۔
عمر نے کچھ دیر اسکا کمرے میں ویٹ کیا
تھپڑ مار گی عمر تجھے ” وہ گال پر ہاتھ رکھتا سوچنے لگا
چلو اتنا تو ڈیزرو کرتا ہے ” اسنے سکون سے سوچا اور تقریبا آدھے گھنٹے اس کباڑ جیسے کمرے میں اسکا انتظار کرتا رہا لیکن کچھ خاص فائدہ نہ ہوا کیونکہ اسنے انا ہی نہیں تھا وہ کمرے سے باہر ا گیا
یقین تھا کچن میں ہو گی “
وہ کچن میں آیا خالی کچن تھا ۔۔۔ کچھ حیران سا ہوتا ادھر ادھر دیکھنے لگا
ساز کو ڈھونڈ رہے ہو ” ہمیشہ کیطرح بدر کا دیر سے آنا جانا تھا اسی وجہ سے سوہا ہی دیکھائی دی تھی
اسے بلکل شوق نہیں تھا اس گھر کے کسی فرد سے بات کرنے کا وہ رخ موڑ گیا ۔
وہ اوپر اس والے کمرے میں ہے جہاں شادی سے پہلے ہوتی تھی ” وہ بولی تو عمر اس کمرے کی جانب بڑھ گیا
بات سنو ” سوہا کی پکار پر اسنے ایک نگاہ مڑ کر دیکھا
وہ صرف ساز کے لیے آیا تھا اور کسی میں دلچسپی نہیں تھی اسے
وہ اوپر بڑھا دھڑا دھڑ سیڑھیاں چڑھیں اور ساز کے کمرے کا دروازہ کھولا تو لاک تھا اسنے دروازہ بجایا لیکن اندر سے کوئی ریسپونس نہیں آیا
سوہا نیچے سینے پر ہاتھ باندھ کر اسے دیکھنے لگی عمر نے بھی اسکی جانب دیکھا
ہر کسی کا دماغ ٹیڑا نہیں ہے تمھاری طرح ” اسنے چابی اچھلی جسے ایک ہاتھ سے عمر نے کیچ کیا اور مڑ کر دروازہ کھولا اور اندر چلا گیا
شکر ہے ” سوہا نے گھیرہ سانس بھرا اور سٹور روم میں چلی گئ جبکہ دوسری طرف عمر اندر ایا تو صوفیا اور صنم بیڈ پر بیٹھیں تھیں جبکہ وہ جائے نماز پر بیٹھی بے تحاشہ رو رہی تھی روئے جا رہی تھی
عمر کا دل مٹھی میں پکڑا گیا وہ واقعی ایک معصوم جان پر بڑا بوجھ ڈال کر گیا تھا صوفیا اور صنم دونوں ہی اسے دیکھ کر جلدی سے اٹھیں اور باہر نکل گئیں ۔
ساز چہرے پر ہاتھ رکھے روئے جا رہی تھی وہ اسکے سامنے بیٹھ گیا پتہ نہیں کیوں اسکا رونا دل پر لگتا تھا اور اسنے چار مہینے رلایا تھا اسے ۔۔۔
عمر نے اسکے چہرے پر سے ہاتھ ہٹایا ۔
ساز نے اسکا ہاتھ جھٹکا اور اسکے منہ پر پھر تھپڑ دے مارا
اف ” عمر نے ذرا گھوری ڈال کر اسے دیکھا
یہ کیا جب دیکھو تھپڑوں کا تحفہ دے رہی ہو ” وہ بولا ساز نے کوئی جواب نہیں دیا اور اپنا جائے نماز سمیٹ کرکھڑی ہو گئ
اچھا یار غلطی ہو گئ ۔
غلطی ” وہ مڑی عمر اسکی سوجھی سوجھی آنکھوں کو دیکھنے لگا ۔
جائیں یہاں سے اپکا اور میرا کوئی رشتہ نہیں ہے خلع کے پیپرز پر سائین کر دیے ہیں میں نے ” سیدھا بے رخی سے بولی تھی وہ ۔۔
کیا فضول باتیں کر رہی ہو ” اسنے اسکاہاتھ پکڑنا چاہا ساز نے ہاتھ جھٹکے سے چھڑا لیا
کون ہیں اپ کیوں آئے ہیں اور کیوں میرے پیچھے پڑے ہیں اپ مجھے چار ماہ اس سولی ہر لٹکا کر چلے گئے تھے عمر اور میں نے عمر خیام کا چیپٹر تبھی اپنی زندگی سے ختم کر دیا تھا ” وہ بھڑکی ۔
تو آنکھیں کیوں سوجھائی اتنی ” وہ اہستگی سے بولا اسے خود پر افسوس تھا وہ اسکا ہی دل نہیں دکھانا چاہتا تھا بس اور سب سے زیادہ اسکا دل دکھا دیا ۔
آندھی ہو گئ ہوں میں نظر نہیں آتا مجھے ٹھیک پھر بھی میرے آنسو نکلنے کے لیے بے چین ہیں لیکن کم از کم اپکا مسلہ نہیں ہے یہ “
ساز ” عمر کا دل جیسے پاتال میں گر گیا وہ اسکے نزدیک آیا وہ اور دور ہو گئ
میرا اپکا کوئی رشتہ نہیں ہے عمر میری شادی سبحان سے ہو رہی ہے تو بہتر ہے آپ مجھے ” لفظ رک گئے ہمت نہیں پڑی یہ الفاظ منہ اٹھا کر کہہ بھی دے
ط۔۔م۔طلاق دے دیں۔” آنسو پھر گیرنے لگے ۔
یہ تو کبھی نہیں ہو گا ہاں تم ناراض ہو آئی نو یار لیکن میں تمھیں پتہ ہے نہ میں پاگل ہوں ” وہ معصومیت دیکھانے لگا ۔
پی ایچ ڈی انگلش اور پاگل سوری اپکا یہ ایکسکیوز بے کار ہے ” اسنے کہا اور باہر جانے لگی ۔
عمر نے بالوں میں ہاتھ پھیرا ۔
طعنہ بھی پڑھائ کا مار کر گئ تھی بھلا کیا ضرورت تھی پی ایچ ڈی کرنے کی عمر خیام کے لیے تو دس بھی کافی تھی سر جھٹک کر سوچتا وہ خود پر ہی غصہ کر رہا تھا وہ باہر نکل گئ وہ اسکے پیچھے پیچھے بڑھا ۔
اچھا بات تو سنو ” وہ پیچھے پیچھے آیا۔اور ساز کچن میں چلی گئ
مجھے بھی بھوک لگی ہے تمہیں لگ رہا ہے تم سکون میں نہیں تھی تمھیں پتہ بھی ہے چار مہینے میں نے صرف تمھیں سوچا ہے ہر لڑکی میں تم ہی دیکھتی تھی “
مجھے بھی سبحان میں اپ دیکھتے ہیں تبھی اسی سے شادی کرو گی ” وہ بولی اور سنجیدگی سے اپنا کام کرنے لگی
کیا بکواس ہے یار پورا پورا عمر خیام تمھارے پاس ہے اور تم سبحان سبحان لگائے ہوئے ہو “
وہ بھڑکا جبکہ سامنے کوئی ریسپونس نہیں دیا امی کے لیے چائے بنا کر وہ امی کے کمرے کی جانب بڑھی اور عمر اسکے پیچھے پیچھے۔اسی کمرے میں ا گیا نجما جو کسی کپڑے پر کڑاہی کر رہی تھی ایک دم کھڑی ہو گئ
اور عمر نے پہلی بار ساز کی والدہ کو دیکھا تھا بلکل ساز جیسی ہی تھیں یعنی اسکی ساز بوڑھی ہو کر ایسی دیکھتی چلو ٹھیک تھا ۔
بس نکھرا کم ہو جاتا جو اسے یقین تھا اسے دیکھتے ہی شروع ہوا تھا۔
آئیے عمر بیٹھیے ” نجما تو شاکڈ سی بولی
امی یہ اتنے اہم نہیں ہیں کہ انکو آپ ایسے پکاریں اور بیٹھ جائیں “
ساز چائے کا کپ رکھتی بولی تو عمر اسکے اٹیٹیوڈ کو دیکھتا رہ گیا
جی جی شیور پلیز سٹ ڈاون۔”
ہمارے سامنے انگلش بولنے کی ضرورت نہیں ہے امی ان سے کہیں جائیں یہاں سے سونا ہے مجھے ” وہ بولی جبکہ نجما تو ساز کے تیور دیکھ کر پھر عمر کو اپنے کمرے میں دیکھ کر غش کھا رہی تھی ۔
عمر کا دل کیا اپنی ڈگریاں ہی پھاڑ دے وہ پہلا شوہر تھا جس کی بیوی اسکے ایجوکیٹیڈ ہونے سے جیلس تھی ۔
ساز نے اسکے لیے دروازہ کھول دیا
ساز ” نجما نے گھور کر دیکھا
“جائیں یہاں سے” وہ سختی سے بولی
اٹس اوکے ۔۔۔ میرا مطلب اپ رہنے دیں وہ غصہ ہے ” وہ بھلا پھر طعنہ مار دیتی اسکی انگلش پر تبھی فورا سنبھلا اور باہر نکلتے نکلتے اسکا ہاتھ پھر پکڑنا چاہا لیکن ساز نے دروازہ کھینچ کر مارا اور عمر سانس بھر گیا
یہ اتنا بھی اسان نہیں تھا جبکہ دوسری طرف ساز دروازے سے سر ٹکائے رو دی
چار مہینے منتیں مرادیں مانگتی رہی ہو اسکے لوٹنے کی ۔۔۔ لوٹ ایا ہے تو اس پر برس رہی ہو کیا ہو گیا ہے ساز ” ساز نے آنسو صاف کیے اور ماں کی جانب دیکھا
عمر ا گئے ہیں امی ” وہ ماں کے سینے سے لگی پھوٹ پھوٹ کر رو دی بدر کے فورس کے باوجود اسنے سائین نہیں کیے تھے خلع کے پیپرز پر
سبحان سے شادی کا کوئی سوال نہیں تھا اور نہ ہی اسنے کرنی تھی پھر کیوں اسکے ساتھ یہ کر رہی ہو۔ ۔۔ جب وہ آ گیا ہے “
میں نے انکے لوٹنے کے لیے دن رات ایک کیا ہے میری محنت سے آئیں ہیں وہ اس میں انکا کوئی عمل دخل نہیں ہے اور وہ یہ سب ہی ڈیزرو کرتے ہیں نہ مجھے انھیں معاف کرنے کا شوق ہے نہ میں کرو گی ” وہ اٹھ کر بستر پر بیٹھ گئ ۔
اور شاید چار ماہ بعد چین کی نیند سونے لگی تھی کیونکہ اسکا محافظ موجود تھا اب اس گھر میں ۔۔۔۔
دوسری طرف وہ پچھتاوا لیے لون میں گردش کر رہا تھا ایک تو ساز کی امی کا کمرہ لون سے دیکھتا بھی نہیں تھا بے کار لون تھا چھوٹا سا وہ منہ بنائے ادھر سے ادھر چکر لگانے لگا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہاں تک کے صبح ہو گئ اور صبح سورج کی کرنیں نکلنے کے ساتھ بدر بھی گھر میں داخل ہوا تو لون میں اسکو کھڑا دیکھ غصہ ضبط کر گیا
عمر کو کہاں نیند آنی تھی ساری رات ویسے بھی الو کی طرح جاگنے کا عادی تھا درخت کو گھور رہا تھا ۔
اسنے بھی بدر کو دیکھا اور دل کیا سب سے پہلے اسکا منہ توڑ دے چلا تھا اپنی بہن کی شادی کرنے وہ وہیں کھڑا رہا دونوں ایک دوسرے کو گھور رہے تھے اور اس انا پرست کی انا کو جانتے ہوئے وہ خود ہی آگے آیا اور اسکے سامنے کھڑا ہو گیا
کیوں آئے ہو اب “
مجھے خبر ملی تم اپنی بہن کی شادی کروا رہے ہو تو تمھاری زنگ لگے دماغ کو بتانے آیا ہوں کہ وہ شادی شدہ ہے “
اوووو اچھا اسے ضرورت نہیں ہے بھگیڑو چور اور شرابی آدمی کی “
واو تمھیں تو میری ساری خاصیت پتہ ہیں
پلیز ان میں ضدی پاگل اور سر پھیرا بھی ایڈ کر لو تاکہ تمھیں حساس ہوتا رہے عمر خیام کون ہے “
عمر خیام جو بھی ہے آئندہ میری بہن کے اردگرد نظر نہ آؤ تم” وہ آنکھیں نکلتا انگلی اٹھا کر بولا
عمر اسے آنکھیں سکیڑ کر دیکھنے لگا
بیوی ہے وہ میری ” وہ جتا گیا
ہممم کم ظرف اور بھگیڑو آدمی سے شادی کرا دی لیکن کچھ نہیں ہوتا طلاق کوئی مشکل کام نہیں سبحان پڑھا لکھا سلجھا ہوا اور بہت قابل اور ساز سے محبت کرنے والا لڑکا ہے اور تمھارے بارے میں سب جانتے ہوئے بھی ساز سے شادی کرنا چاہتا ہے ۔۔ تم جہاں گئے تھے وہاں جاؤ اور پیپرز سائین کر کے اسے آزاد کرو “
واہ ” وہ ہاتھ اٹھا کر بولا دل کیا اسکا منہ مکوں سے سرخ کر دے ۔
تم سالے نہ ہوتے نہ میرے تمھارا منہ ابھی اپنے جوتے سے رگڑ دیتا اپنی بکواس کو اپنے منہ میں رکھو یہ میرا میری بیوی کے ساتھ مسلہ ہے ۔۔۔ یہ جو سبحان کی پھلجھڑی لے کر گھوم رہے ہو تمھیں تو اچھے سے بتا دوں گا میں “
تم بھی میرے سابقہ بہنوئی ہو ورنہ تمھاری عقل ٹھکانے میں ایسے لگاتا کہ سارا نشہ اتر جاتا میری بہن سے دور رہنا ورنہ ہاتھ پاوں توڑ دوں گا ” غصہ سے کہتا وہاں سے بدر ہٹ گیا جبکہ عمر بینچ پر بیٹھ گیا پوکٹس میں ہاتھ ڈالے وہ اس راستے کو دیکھنے لگا جہاں سے ابھی بدر گزرا تھا ۔
تھوڑی دیر اسے سو جانا چاہیے تھا تاکہ ذرا تازہ دم ہو کر وہ کچھ کرنے قابل ہو کیونکہ سارا کھیل تو اپنے ہاتھوں سے بگاڑا تھا اسنے وہ اٹھا اور اندر جانے لگا ۔
کہ سوہا دیکھائی دی یہ کچھ عجیب سی وابز تھیں وہ کچن میں کام کر رہی تھی ۔
سدھر گئ تھی یہ ایکٹنگ کر رہی تھی وہ نا چاہتے ہوئے بھی کچن میں آگیا
اب اسکی بیوی تو پردہ نوش روح پوش ہو چکیں تھیں ۔
سوہا بدر کے لیے ہی ناشتہ بنا رہی تھی اسکو دیکھ کر چونکی
ہاں جی عمر خیام صاحب کیا بنا ماں گئ اپکی بیگم ” وہ بولی
پہلے یہ بتاؤ انسان بن گئ ہو یہ تمھیں ایکٹنگ کے پیسے ملیں ہیں”
وہ غور سے دیکھتا بولا ۔
سوہا نے اسکی جانب دیکھا اور ہلکا سا مسکرائی ۔
جب اپنے وجود پر مار پڑی تو دنیا کی ہر عورت کی مار کا احساس ہو گیا ” وہ بس اتنا ہی بولی اور سر جھکائے کام کرنے لگی
عمر کی اس سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی یہاں تک کے وہ اسکی سوتیلی بہن تھی اسے اس باتیں بھی دلچسپی نہیں تھی لیکن اتنا سدھر جانا کسی انسان کا حیران کن تھا ۔
کیونکہ دیکھتا تو اسے سب کچھ تھا بولتا نہیں تھا یہ الگ بات تھی کیونکہ ان رشتوں لسے کبھی رشتے بنانے کی سوچھی نہیں آج بھی وہ صرف ایک رشتہ قبول کر کے اس گھر میں تھا اور وہ ساز سے عاشقی کا تھا اسکے علاوہ کچھ بھی نہیں
تمھیں ناشتہ چاہیے ” سوہا کچھ توقف سے بولی
بدر تمہیں مارتا ہے ” وہ سوال کر گیا ۔
سوہا کے ہاتھ سے چمچ چھٹا وہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی ۔
ن۔۔۔نہیں۔” بس اتنا ہی بولی
ہممم تم بیویوں میں عجیب ہنر ہوتا ہے ۔۔ اپنے شوہروں کے عیبوں کو چھپانے کا ۔۔۔۔ خیر آئندہ وہ ایسی حرکت کرے تو اسے بتا دینا میرا دماغ اسپر پہلے ہی خراب ہے کبھی اسکے ہاتھ توڑ دوں” وہ بولا اور جانے لگا
بات سنو ” سوہا سے یہ بات ہضم ہی نہیں ہوئی
تم میرے لیے اسے مارو گے”
ہو سکتا ہے عورت پر ہاتھ اٹھانے والا ہر مرد کم ظرف ہے تمھارا باپ کم ظرف کی پہلی صفت پر کھڑا ہے اور اب وہ بدر بھی جس میں تازہ تازہ پیسے کی ہوا صاف دیکھ رہی ہے لیکن خیر بچہ بچارہ محنت کی ہے تو اپنے تک رکھے”
لیکن تم میری حمایت کیوں لو گے ہم ہم دونوں ایک دوسرے سے کبھی بہن بھائی والا بھی رشتہ نہیں رکھتے۔”
وہ اسکے سامنے ا گئ جو احساس وہ اپنے رشتوں سے چاہتی تھی وہ عمر خیام اسے دے رہا تھا جسے وہ شرابی سمجھتی تھی عیبی سمجھتی تھی ۔
ہاں تو زیادہ فری نہ ہو مجھ سے” وہ اسے دور کر کے باہر نکل گیا سوہا کی انکھیں بھیگ سی گئیں
ایک ایسے انسان سے جذبات کی توقع رکھ لینا کتنا انوکھا ہے جس میں صرف عیب ہی عیب ہوں وہ مسکرا دی ۔
اپنی ہر غلطی پر پشتانے کے سوا اسکے پاس کچھ بھی نہیں تھا ۔۔۔۔
صرف پچھتا رہی تھی وہ اپنے ماضی پر اپنے ماں باپ سے سیکھی تلخ کلامی پر دنیا کا رخ یہ حسین تھا یہ ہی خوبصورت تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کمرے میں ایا گند بلا دیکھ کر اسنے کراہیت سے ہر چیز دیکھی تھی ۔
بیڈ پر گندے کپڑے صوفے پر کھانے کے ڈبے ایل سی ڈی چل رہی تھی اسکا سارا سامان اسکے کپڑے وہاں کچھ نہیں تھا لیکن وہاں ساز کا سامان بھی نہیں تھا یہ سب تو کسی مرد کا تھا
اب یہاں بدر اور ارہم کے سوا کوئی نہیں تھا بدر اتنا نکیلا تھا کہ وہ یہاں کبھی نہ آتا یہ ارہم کا کام تھا اسکا دماغ غصے سے بھنا گیا
دروازہ دھاڑ کر کے مارا اور لاونج میں صوفے پر بیٹھ گیا پاوں جھلانے لگا
سب گھر والے اسے دیکھ رہے تھے وہ غصے سے تپا بیٹھا تھا اور ایک ساز تھی کمرے سے نکل ہی نہیں رہی تھی لیکن کسی میں جرت نہیں ہوئی اس سے پوچھ لے کہ ہوا کیا ہے ۔
اور تبھی تایا جان تائی جان اور ارہم تینوں لوٹ آئے تھے گھر تایا جان کی تو عمر کو دیکھ کر جان ہی لوٹ ائ ایسا لگا زندگی انھیں واپسی مل گئ ہو ۔
عمر ” وہ بے تابی سے آگے بڑھے اور وہ یوں ہی بیٹھا باپ کو دیکھنے لگا وہ رک گئے
یہ بیٹے کی چاہت نہیں پیسے کی لالچ تھی وہ بھی جانتا تھا انکی ہر نیٹ آر حیرانگی سے دیکھ رہا تھا تائی بھی منہ بناے کھڑی تھی
میرے کمرے میں کون رہتا ہے” اسنے باپ سے سوال کیا انھیں علم تھا وہاں ارہم رہ رہا ہے
وہ ۔۔ تمھارا بھائی ہے نہ چھوٹا ہے تو اسنے تمھارے کمرے میں رہنے کی ضد کی تو ساز خود ہی بولی کہ آپ رہ لیں بھائی تو اسی وجہ سے ” وہ جھوٹ بھی بولتے تھے ساز دروازے میں کھڑی یہ سب دیکھ رہی تھی
وہ میرا کمرہ ہی عمر خیام کا نہ ساز کا نہ ہی آپ کے اس بندر کا تو کسی کو وہاں رہنے کی اجازت کے لیے مجھ سے پوچھنا تھا ” وہ بھڑکا ۔
عمر چلو کوئی نہیں بھائی ہے
بھاڑ میں گیا بھائی ” اسنے اشفاق صاحب کا ہاتھ جھٹکا جو وہ اسکے شانے پر رکھ چکے تھے ۔
اس سے کہیں فورا میرا کمرہ صاف کرے جلدی ۔ ۔ اور ایک ایک چیز اگر صاف نہ ہوئی نہ سریسلی ڈیڈ میرے پاگل پن کی اپکو اچھے سے خبر ہے سارا کمرہ جلا دوں گا ” آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ بول رہا تھا اشفاق صاحب جانتے تھے وہ ایسا کر سکتا ہے جو اپنے آپ کو برا ثابت کرنے کے لیے بلاوجہ ڈاکہ ڈال کر جیل چلا جائے وہ یہ سب بھی کر سکتا تھا ۔
انھوں نے مڑ کر ارہم کو دیکھا
میں ایسا نہیں کروں گا میں نے نہیں کرنا کچھ ” ارہم بولا اور تائی نے تو بیٹے کو ایسے پکڑ لیا گویا وہ اسکا ابھی خون کرنے والا ہو اور وہ بچا سکتی تھیں تو بچا لیتی ۔
عمر پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے کھڑا انکی شکل دیکھ رہا تھا
سارا گھر سانس روکے یہ دیکھ رہا تھا سوائے بدر کے جو کمرے میں تھا شاید سو گیا تھا ۔
جاو ارہم صاف کرو بھائی کا کمرہ “
اشفاق صاحب میرا بیٹا اسکا ملازم نہیں ہے” تائی بگڑ کر بولی
تو تیرے بیٹے کو کسی نے کہا بھی نہیں تھا اسکی بیوی کو نکال کر خود قبضہ جما لے” بے دھیانی میں وہ سچ اگل گئے تھے عمر نے نگاہ اٹھا کر دیکھا تھا لیکن خاموش رہا
میں نہیں کرو گا ” ارہم پلٹ کر جانے لگا
اشفاق صاحب اسکا بازو پکڑ کر اسے کمرے میں لے گئے اور جا کر معلوم نہیں کیا بات کی کہ ٹھیک دس منٹ بعد وہ غصے سے بھرا اوپر کمرہ صاف کرنے چلا گیا عمر بھی اسکے پیچھے ہو لیا ۔۔۔
جبکہ دوسری طرف سارا گھر یہ منظر حیرانگی سے دیکھ رہا تھا ارہم تو اس گھر کا وہ لاڈلا تھا جو پانی بھی خود نہیں پیتا تھا ۔
اور عمر خیام کا کمرہ صاف کر رہا تھا ساز سر جھٹک کر اندر چلی گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوہا اسکے لئے ناشتہ بنا کر کمرے میں لائ مگر وہ سو رہا تھا
اچھا لگ رہا تھا سوتے ہوئے سوہا نے اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرا ۔۔۔اور اسپر کمبل ڈال کر اسنے جوتے خود اتارنے لگی کہ بدر کی نیند میں ڈوبی آنکھیں خود کھل گئیں
کیا کر رہی ہو جوتوں کو ہاتھ نہ لگاو ” وہ نیندوں میں بولا اور خود ہی اتار کر پھینکے کر پھر سے لیٹ کر آنکھیں بند کر لیں ۔
سوہا نے گھیرہ سانس لیا اور باہر جانے لگی کہ مڑ کر دیکھا وہ سو گیا تھا
دل کیا اسکی پیشانی پر پیار کرے
لیکن وہ تو ہر وقت ہی اکھڑا ہوا رہتا تھا محبت سے دیکھنا تو دور کی بات ۔۔۔۔ اپنی شکل ہی نہیں دیکھاتا تھا وہ کیا کرتی
چلو جب میسر تھا وہ حق تو جتا سکتی تھی حالانکہ اس وقت اس کے قریب آنے پر وہ چیڑ گئ تھی ۔
پہلے اور اب خود سے اسپر پیار آ رہا تھا
وہ اسکے نزدیک آئی اور جھک کر اسکی پیشانی پر اپنے ٹھنڈے ہونٹ رکھ دیے
تم بہت قیمتی ہو میرے لیے بہت محنت سے تمھیں پایا ہے میں نے “
وہ بہت گھیری نیند میں تھا وہ مسکرائی کہ وہ جاگ نہیں رہا تھا اور پھر باہر ا گئ نجما کے پاس ساز بھی وہیں تھیں
سبحان کے مسیجیز آئیے تھے جنھیں دیکھ کر وہ سائیڈ پر موبائل رکھ گئ
کیونکہ یہ موبائل بھی اسے سبحان نے دیا تھا زبردستی کوئی بہت مہنگا نہیں تھا عام سا موبائل تھا لیکن پہلی بار اسکے پاس آیا تھا
ارہم کورولا دے گا وہ ” سوہا ہنسی
نہیں سوہا بری بات ایسے مت ہنسو ارہم بھی اپنا ہی بچہ ہے “
یار چچی آپ کی نرمی دلی تو معلوم نہیں کیا ہے ” سوہا سر تھام گئ کافی اچھی انکے ساتھ ہو گئ تھی اسکی ۔۔۔ ساز خاموش بیٹھی تھی
لیکن اصل تو چنے ساز چبوا رہی ہے عمر کو ” سوہا مسکرائی۔
ساز پھر بھی کچھ نہیں بولی
اب کس فکر میں ہو بھئ”
سبحان کے میسجز ہیں ملنے کا کہہ رہے ہیں ” وہ بولی
عمر تو ہنگامہ کھڑا کر دے گا “
تو میں اپکے بھائی کی ملازمہ تھوڑی ہوں جو وہ کہیں وہ کروں جاؤ گی میں ” اسنے بھی طعنہ دے مارا سوہا کو ہنسی آئی
اور اسنے غصے سے سبحان کو ٹھیک ہے کا مسیج کر دیا ۔
اب میں تیار ہو رہی ہوں”
واہ بھئی چچی ساز کے تیور دیکھ رہی ہیں اپ کوئی منانے والا ہو تو نکھرا تو خود ا جاتا ہے ” وہ ہلکا سا مسکرائی کہ اسکے لیے ایسا کوئی نہیں تھا وہ روٹھ بھی جاتی وہ ساری زندگی بات نہ کرتا ساز کچھ نہیں بولی بس اٹھ کر تیار ہونے لگی
نجما ذرا غصے سے بولی
پاگل ہو گئ ہے یہ لڑکی” وہ بھڑکیں
لیکن ساز نے کوئی اثر نہیں لیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں جی شہزادے کہاں مصروف ہو ساز کیسی ہے تم کیسے ہو “
شاہنواز کی کال اسنے ٹیرس میں سنی تھی سارا کمرہ ارہم سے صاف کرایا تھا بٹ اسکا دل نہیں لگ رہا تھا ۔
ٹھیک ہوں ” وہ منہ بسور کر بولا
کیوں کیا ہوا ہے ایسے اداس کیوں ہو “
ساز ناراض ہے ” وہ بچوں کیطرح بولا شاہنواز کا قہقہہ ابھرا
آپ ہنسیں مت میں منا سکتا ہوں اسے
افکورس عمر خیام ہو تم شیر ۔۔۔ شیر میرا “
ہاں یار بس دل اداس ہو گیا
تم نے کہا تھا نہ ہر چیز آپ اتنی جلدی کیسے دے دیتے ہیں بس دیکھو یہ چیز نہیں دے سکتا نہ تمھیں خود لینی ہے “
میری ہے لوں گا ” وہ سکون سے بولا
ویری گڈ ” شاہنواز مسکرایا
میں خوش ہو تم پاکستان ا گئے ہو “
ہاں خوش تو میں بھی ہوں لیکن الجھا ہوا ہوں فلحال”
خیریت ” وہ تو جیسے اسکی ہلکی سی شکن پر پریشان ہو اٹھتا تھا
ارہم نے میرے کمرے میں سٹے کیا ہے مجھے یہ کمرہ زیر لگ رہا ہے مجھے سخت نیند ا رہی ہے مگر میں اس بیڈ پر نہیں سو گا “
شہزادے اس میں گھبرانے والی کیا بات ہے میں لیبر بھیجتا ہوں تمھارا کمرہ رینوویٹ کرا دے گے”
یس پلیز ” وہ بولا شاہنواز نے سر ہلایا
چلو تم مجھے دس منٹ دو میں لیبر بھیجتا ہوں پھر فرنیچر وغیرہ دیکھ لینا اور اداس نہیں ہونا ٹھیک ہے”
ہاں کوشش کروں گا ٹھیک ہے میں نے گاڑی بھی نئی لینی ہے اور ہاں وہ میں شادی کرنے لگا ہوں دوبارہ ” شاہنواز ہنسا ۔
فکر ہی نہ کرو ایسی شادی ہو گی پورا اسلام آباد گونجے گا
افکورس لیکن مجھے آپ چاہیے ہیں اس شادی میں ” اسکی فرمائش پر شاہنواز تھم گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
