Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 56
No Download Link
Rate this Novel
Episode 56
نشے میں دھت وہ بکھرے بال سیاہ ٹراوزر شرٹ میں وہ ہلکی ہلکی سرخی لیے شاہنواز کے پیچھے پیچھے چلتا ہوا ا رہا تھا اور شاہنواز کتنا گریس فل تھا ساز کے پاس رک گیا
ساز کا سانس اوپر کا اوپر رہ گیا
دھک دھک دل سے اسے دیکھنے لگی
اسنے نرمی سے سلام کیا تو ساز کے ہاتھ پاوں پھول گئے عمر ہنسی روکے دیکھ رہا تھا پیچھے ہی تھا
کیسی ہو بیٹا آپ “
وہ نرمی سے پوچھ رہا تھا لیکن اسکی شخصیت کا جتنا دبدبہ تھا ساز کی ہمت نہ بن پڑی کہ خود کو نارمل کرنے کی اسنے سانس حلق میں اتارا اور ہلکا سا سر ہلا دیا
یہ لڑکا ذرا پاگل ہے آپ ۔۔ ذرا تھوڑی سی بات اسکی اسکے روم میں جا کر سن لیں “
عمر اپنی ہنسی روکنے کی پوری کوشش میں تھا لیکن پھر بھی ہنس پڑا شاہنواز کے گھورنے پر ایکدم ہنسی کو روکا
آپ بات کر لیں اسطرح تو مان لی ” وہ سینے پر بازو باندھ گیا
پلیز بیٹا میری ریکوسٹ سمجھ لیں”
میں معافی چاہتی ہوں آپ نے کوئی بات کی اور اسکی خلاف ورزی کرو لیکن یہ بلکل اچھے نہیں ہیں اور میں انکی بات نہیں مانو گی کوئی “
یہ اپکو تنگ کرتا ہے ” شاہنواز نے پھر گھور کر دیکھا تو وہ معصومیت سے سر نفی میں ہلانے لگا
سریسلی بلکل نہیں۔۔۔۔
خوامخواہ ہی ناراض ہے ۔۔۔۔۔ بتاو بھلا شادی بھی کرنی ہے اور ٹیکا بھی دیکھانا ہے عمر نہیں دیکھتا کسی کا اپنے پاس رکھے ” وہ بولا تو شاہنواز نے مڑ کر اسے سنجیدگی سے دیکھا
کیا ” وہ حیران ہونے کی اداکاری کرنے لگا
Say sorry to her
کیا میں سوری کرو ۔۔۔۔ کبھی نہیں “
عمر”
یار یہ غلط بات ہے آپ ” اچھا سوری”
وہ سر جھٹک کر بولا شاہنواز کو لگا کہ وہ اس سے بھی زیادہ ضدی ہے انا پرست ہے ۔
اسنے پیار سے اسکے گال پر ہاتھ رکھا اور تھپتھپا دیا ۔ ۔
معاف کر دو بچہ ہے ” وہ نرمی سے ساز سے بولا
یہ بچے ہیں شراب پیتے ہیں ہر وقت” اسے بھی موقع ملا تھا شکایت کرنے کا ۔
بات سنو میری تم نہ کم شکایتیں لگاو تم بھی کوئی اچھی نہیں ہو بتاو میں پھر تمھیں”
میں بتاؤں تمھیں” وہ بولا اور اسپر شاہنواز بولا ساز تو چوڑی ہو گئ آنکھیں گھما کر اسے دیکھا اور منہ پھیر لیا
شراب نہیں پینی آج کے بعد تم نے “
یہ تو خیر ناممکن ہے ۔۔ “
بیٹے تمھاری برینڈی کا سٹاک میرے پاس ہی ہے یاد رکھنا “
یہ کیا بات ہوئی یار ” وہ چیڑ گیا
اور کچھ ” وہ مسکرا کر ساز کو دیکھنے لگا جو نفی میں سر ہلا گئ
نہیں کچھ نہیں آپ کون ہیں جو یہ آپ کی بات مان رہے ہیں ” اسنے اہستگی سے سوال کیا تھا
باہر انکے خاندان کا ایک ایک شخص یہ منظر دیکھ اور سن رہا تھا
اور سب کے منہ کے سوال کو اسنے چھین لیا ۔
مائے رئیل ڈیڈ ۔۔ ” عمر خوشی سے اسکے شانے پر بازو پھیلا گیا جبکہ شاہنواز اسے دیکھتا رہ گیا
اگر وہ واقعی اسکا بیٹا ہوتا تو “
تو اسکی بیوی ایزہ نہ ہوتی ” وہ نفی میں سر رکھ ہلا گیا اور خیال کو جھٹک دیا ۔۔ شاہنواز مسکرایا
اب میں چلتا ہوں کل صبح میرے پاس آ جانا اوکے”
ڈن ڈن ڈن” وہ مسکرایا ۔
شاہنواز مڑا بس وہ وہاں موجود ایک شخص کو دیکھنا نہیں چاہتا تھا ورنہ وہ اپنے اندر کے وحشی پن سے بھی واقف تھا وہ باہر نکلتا چلا گیا اسکے گارڈز بھی چلے گئے اسکی گریس ہی الگ تھی عمر نے گھیرہ سانس بھر کر اسے دیکھا جو اپنی ہی مرضی کا تیار تھی سر پر دوپٹہ لے کر ایسے بھی کوئی انسان تیار ہوتا ہے ” عمر سر جھٹک کر باہر نکل گیا
ساز کی آنکھیں بھر گئہونٹ نکل گئے اور رونے لگی
وہ مذاق بنا گیا تھا کتنا بدتمیز تھا
ہائے گائیز سوری فار ایبسینس آپ کہیں گے عمر خیام دولہے کے روپ کے بجائے کیا بنا کھڑا ہے
پہ بھی ہے کہ ویسے تو میں نے پی ہوئی ہے لیکن سب سے اہم آج میرا موڈ نہیں بنا تو ۔۔ اس پلین کو کینسل کرتے ہیں کل کا ونیو آپ لوگوں تک پہنچ جائے گا ہم مہندی کل کریں گے
اوکے بائے” سر پر ہاتھ رکھ کر کہہ کر خدا حافظ کرتا وہاں سے چلا گیا جبکہ سب مہمان بڑبڑا کر وہیں سے چلے گئے جبکہ اسکے باپ نے مٹھیاں بھینچ لیں تھیں
کون تھا یہ آدمی ؟ پہلا سوال اسکے دماغ کا یہ ہی تھا اور عمر سے کیا تعلق تھا اسکا اور عمر اتنا فدا کیسے تھا اسپر ۔۔۔ کئ سوال تھے جو اٹھ رہے تھے
وہ اندر ایا ساز آنسو صاف کر رہی تھی ۔
وہ اسکا ہاتھ پکڑ گیا ساز نے جھٹکے سے ہاتھ چھڑایا
یہ جو اتنا نکھرا دیکھا رہی ہو نہ تم مجھے میرے چنگل میں جس دن پھنس گئ نہ یہ منہ پر ہاتھ پھیر کر کہہ رہا ہوں تمھاری ہڈیاں بھی توڑ دوں گا پھر ہائے ہائے کرتی رہنا ” شدت سے گھورتا اسے بولتا وہ دوبارہ کمرے میں چلا گیا ۔
ساز اسکی پشت دیکھنے لگی اور غصہ اتنا چڑھا کہ اسکے پیچھے پیچھے چلتی ایکدم اسے سیڑھیوں پر روک گئ ۔۔۔
آپ نے اپنی حرکتیں دیکھی ہیں میں تیار تھی سارے تیار تھے گھر سجا ہوا تھا اور آپ ۔۔۔۔ آپ معلوم نہیں کس بات پر ناراض کمرے میں بند تھے ۔۔۔
اور پھر ان انکل کے آنے پر باہر آئے ہیں تو نواب زادہ جناب عمر خیام کا دل نہیں آج مہندی کا فنکشن کرنے کا کل میرا دل نہیں ہو گا جس مرضی کے ساتھ کر لیجیے گا ۔۔ آپ مسکرا رہے ہیں ” وہ پاؤں پٹخ گئ سب حیرانگی سے ساز کا یہ روپ دیکھ رہے تھے ۔
نظر ا رہا ہے بولو ” وہ دیوار سے ٹیک لگا گیا ساز نے مٹھیاں بھینچ لیں
اگر کوئی نارمل انسان بھی ہو گا نہ آپ اسے پاگل کر دیں گے مجھے یقین ہے ” اسکی آنکھیں بھرا گئیں ۔۔
مجھے آپ سے شادی ہی نہیں کرنی کیونکہ میرا موڈ نہیں ہے” وہ کہہ کر سیڑھیاں اتری
تمھیں تو گھر سے اٹھا کر نہ لے جاوں بات کر رہی ہے ” وہ پھر اوپر چڑھ گیا ساز کا بس نہیں چلا اسکے بال کھینچ لے پیچھے سے لیکن ہھر سب کو دیکھ کر ۔۔۔ روتی ہوئی وہ کمرے میں چلی گئ ۔۔۔
یہ آدھا مینٹل ہے ” ارہم چیڑ کر بولتا خود بھی کمرے میں چلا گیا اور رفتہ رفتہ سب ہی کمرے میں چلے گئے تھے جبکہ عمر خیام ۔۔۔ بیڈ پر مندھا گیرا اور سو بھی گیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح وہ کافی فریش تھا اسنے بلاوجہ سوچنے کی زحمت نہیں کی تھی اور جلدی سے اٹھ کر وہ نیچے دوڑتا ہوا آیا تھا ۔۔
اور اسنے دیکھا اشفاق صاحب ارہم اور سائیڈ پر بدر ناشتہ کر رہے تھے اور خواتین ہمیشہ کیطرح انکے آگے پیچھے تھی ۔
اچھا تو اگر کسی کا موڈ ہو میری شادی میں آنے کا تو ۔۔ میں ونیو سب کو سینڈ کر دوں گا ا جانا ” لاونج میں کھڑے ہو کر اسنے کہا اور ادھر ادھر دیکھا ۔
ساز دیکھائی نہ دی وہ اسکے نکھروں پر نفی میں سر ہلا وہاں سے باہر نکلنے لگا ۔۔
عمر ” باپ کی پکار پر قدم جما گئے ۔۔ مڑ کر دیکھا ۔۔
کہاں کرنی ہے اب تم نے شادی تمھاری ماں کے گھر ہاں میں قدم نہیں رکھو گا ” وہ سنجیدگی سے بعلے جبکہ عمر نے ۔۔ ماتھے پر تیوری ڈالے انھیں دیکھا
وہ ایک قبر ہے ڈیڈ وہاں جانے سے وحشت مجھے بھی ہوتی ہے ” سنجیدگی سے وہ بولا
میں اوں گا جہاں بھی رکھنا چاہو ” بدر بیچ میں ہی بول پڑا ۔
ڈیٹا گریٹ ” وہ مسکرایا اور اسکی جانب پنچ بڑھایا ۔۔
بدر نے ائ برو اچکائ اور اسکے ہاتھ پر پنچ مار دیا
اپنی بیوی کو نہ لانا میں اسکی شکل نہیں دیکھنا چاہتا ۔
وہ بولا اور باہر نکل گیا بدر کی مسکراہٹ جو ابھی ا ہی رہی تھی دم توڑ گئ اسکے نکلتے ہی سوہا بھی آ گئ بدر نے سوہا کی جانب دیکھا اور زخمی سا مسکرا دی ۔۔
یہ تو ہونا ہی تھا ۔
اچھا یہ تھا کہ ا کر اسنے اسے شوٹ نہیں کر دیا ۔
سوہا نے نگاہیں جھکا لیں سب اسکی بات پر حیران ہو گئے تھے
بدر کو اندازا ہو گیا کہ اسنے اسے سچ بتا دیا ہے ورنہ ایسی سہیلیاں بنتی جا رہی تھیں دونوں اور اب وہ اسکی شکل نہیں دیکھنا چاہتا تھا اسنے کھانا چھوڑا
سوہا کے حلق میں پھنسے ہوئے آنسو اسے دیکھائی دے رہے تھے معلوم نہیں کیوں دل میں کچھ ہوا اور سوہا جیسے ہی پلٹی وہ بھی کھانا چھوڑ کر اٹھ گیا
آئے دن کا تماشہ ہے اس گھر میں ” ارہم بھی اٹھ گیا اشفاق صاحب خاموشی سے دیکھ رہے تھے ۔
بدر کمرے میں ایا تو وہ آنسو جلدی جلدی صاف کر رہی تھی مڑی اسے دیکھا اور واشروم جانے لگی
بدر نے اسکی کلائی پکڑی اور اسکا رخ اپنی سمت موڑا
کیا ضرورت تھی بتانے کی ” اسکے سوال پر وہ ہلکا سا مسکرائی
خودغرضی بہت بڑھ جاتی اگر ایزہ اپنے سگے بھائی کی شادی میں نہ ہوتی اور بدر زمان میری طرف سے تم آزاد ہو میں تمھیں۔قید نہیں کرو گی تم جہاں مرضی جاو جس سے بھی ملو ہاتھ چھوڑ دو میرا مجھے میرا دل گھبرا رہا ہے ” اسنے آنسو صاف کیے اور بولی جبکہ بدر نے اسکی کلائی چھوڑ دی
نہ بھی بتاتی تو فرق کسی کو نہیں پڑ رہا تھا “
وہ بولا اور سوہا بیڈ پر بیٹھ گئ کچھ نہیں بولی
میں تمھیں ڈاکٹر کے پاس لے چلوں ” وہ بار بار سینے پر ہاتھ رکھتی گھیرہ سانس بھر رہی تھی
اسکے سوال پر نفی میں سر ہلا گئ
میں ۔۔۔۔۔میں بہت سارا رونا چاہتی ہوں کیا میں ۔۔تمھارے کندھے پر سر رکھ سکتی ہوں بس چند لمہوں کے لیے میں جانتی ہوں تم مجھے پسند نہیں کرتے لیکن بس اس لمہے کے لیے مجھ پر ترس کھا لو”
وہ بولی جبکہ ۔۔۔۔۔ بدر کا دل خود اسکی گھٹن پر گھٹنے لگا وہ اٹھا اور اسے سینے سے لگا کیا ۔
سوہا بری طرح رو پڑی تڑپ ہی گئ ۔۔۔ پھوٹ پھوٹ کر روتی وہ اسکے چپ کرانے پر بھی چپ نہیں ہو رہی تھی
سوہا ” وہ بولا ۔۔۔۔
بدر کے قابو سے باہر ہونے لگی تھی ۔۔۔۔۔
وہ اتنا رو دی شاید اپنے کیے گئے ہر ظلم کا پشتاوا اسے چین لینے نہیں دے رہا تھا ۔۔۔
اور معلوم نہیں روتے روتے کیسے بے ہوش ہوئی
سوہا ” بدر نے اسکا گال تھپتھپایا ۔۔
سوہا کیا ہوا ہے سوہا ” اسنے اسکو لیٹایا وہ عمر کیطرح نہیں تھا کہ وہ ڈاکٹر کو فون کرتا اور ڈاکٹر خود بھاگ کر آتا اسے جانا پڑتا اسے بازوں میں اٹھا کر وہ باہر بھاگا تو نجما اور تائی جان سب سے پہلے بھاگ کر آئیں تھیں ۔
اشفاق صاحب نے تو سر بھی نہ اٹھایا
کیا ہوا میری بچی کو ” تائی کے تو اوسان خطا ہو گئے اسکا ٹھنڈا وجود دیکھ کر ۔۔
اسکے پاس بائیک تھی ۔۔ اور صرف عمر کی گاڑی کھڑی تھی جس کی چابی سوہا کے پاس تھی اس وقت گاڑی ہی آخری حل تھا وہ سوہا کو نجمہ کے پاس چھوڑ کر گاڑی کی چابی اٹھا لایا اور اسنے جب گاڑی کھولی اور سوہا کو لیٹا کر وہ گاڑی باہر نکالی تو اشفاق صاحب کی آنکھیں پھٹی رہ گی
عمر نے یہ اتنی مہنگی گاڑی بدر کو دے دی تھی ۔۔
وہ جھٹکے سے اٹھے۔۔ غصے سے خون کھول گیا کہ باپ نے کتنی بار مانگ لی وہ قسم کھا چکا تھا جیسے اب نہیں دے گا اور اس کو دے دی گئی ۔۔ دل کیا بدر کے ٹکڑے ہی کر دے قسمت اسپر اپنے آپ مہربان ہو رہی تھی کاروبار زبردست چل رہا تھا اور ۔۔ گاڑی مفت کی مل گئ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ پریگنینٹ تھی بدر کے لیے یہ حیرانگی کا جھٹکا تھا ۔۔۔
آپ کون ہیں ؟ ڈاکٹر نے سنجیدگی سے پوچھا ۔
میں انکا ہزبینڈ ہوں ۔۔۔ وہ بولا
ہمممم تو بیوی کو پریگنینٹ کرنا بس کام ہے اپکو شکل سے تو بلکل جاہل نہیں لگتے ” وہ بھڑکیں بدر شرمندگی کی انتہا پر پہنچ گیا ۔
تھری ویکس کی پریگنینسی ہے انکو اور اپکو خبر تک نہیں ” وہ اور بھڑکی
خون کی شدید کمی ہے ان میں اور بہت سٹریس فیل ہو رہا ہے
اپنے بچوں کو زندہ دیکھنا چاہتے ہو تو اسکا خیال رکھو ورنہ اپنے ہاتھ سے مارو ہمارے پاس لانے کی ضرورت نہیں”
ب۔۔بچے” اسکی جھاڑ پر وہ اسکے ان الفظوں پر غور رک گیا
جی بلکل دو بیبیز ہیں آپکے شادی کو کتنا وقت ہوا ہے” وہ سنجیدگی سے بولی
بدر کو شرمندگی ہو رہی تھی اسکے سوالوں کے جواب پر اور دوسرا دھچکا ٹوئینز کا تھا
وہ دو یہ تین منتھ شاید ” وہ بولا جبکہ ڈاکٹر نے پین پھینک دیا
آپکی بیوی پچھلے ایک ماہ سے کچھ دن کم کی پریگنینٹ ہے بچے ٹوئینز ہیں اپکو ۔۔۔ یہ بھی یاد نہیں کہ آپ دونوں کی شادی کب ہوئی زہر کرتے ہیں ایسے مرد ۔۔ انا پرست بیوی کی عزت بھی کوئ چیز ہے”
وہ ایک لفظ نہیں بولا سکا ۔۔۔
اب وہ ٹھیک ہے “
جی بلکل ٹھیک ہے اگر آپ نے اسے ٹھیک رہنے دیا
دو دن تک ہاسپٹل میں رہیں گی یہ اس لیے نہیں کہ سریس کنڈیشن ہے اس لیے کہ اپکا دماغ درست ہو کم از کم بیوی کا احساس پیدا ہو اینی ویزہ خون کی کمی ہے اور بچے دونوں نقصان میں جا سکتے ہیں خون انکی ٹریٹمنٹ ضروری ہے “
پرچے پر دھڑا دھڑ دوائیاں لکھ کر اسے دے کر وہ دوسرے پیشنٹ کو دیکھنے لگ گئ
بدر نے ایک نظر اس پرچے پر ڈالی وہ اس شاکڈ سے باہر نہیں نکلا تھا کہ باپ بننے جا رہا ہے وہ بھی ایک ساتھ دو بچوں کا ۔۔۔۔
خوشی تو کہیں دور بھی نہیں تھی ٹینشن الگ ہو چکی تھی ۔
کس بات کی وہ بھی نہیں جانتا تھا اسنے میڈیسن لے کر نرس کو دے دی اور سوہا کو روم میں شفٹ کیا تھا کیونکہ وہ ہوش میں اب بھی نہیں تھی
وہ خاموشی سے کھڑا اسے دیکھنے لگا ۔۔۔ پھر اسکے پیٹ کی جانب دیکھا اور سر تھام گیا ۔
اسی کا کیا دھرا تھا اتنا تو وہ مانتا تھا ۔
ایک گھیرہ سانس بھرا اور گھر سے آنے والے فون کو پک کیا
جی امی” نجما کی آواز سن کر وہ بولا
بیٹا سوہا ٹھیک ہے دل گھبرا رہا ہے کیا ہوا ہے بچی کو وہیں تائی نے بھی کھینچ لیا
آپ لوگ نانی دادی بننے والے ہو وہ بھی ایک بچے کے نہیں دو کے اب مجھے تنگ مت کیجیے گا ” کھٹک فون بند اور فون پھینک دیا اسنے ۔
وہ ناشکری نہیں کر رہا تھا لیکن شاید اتنی جلدی ریڈی بھی نہیں تھا کسی ایسے آپشن کے لیے
چند لمہے بیٹھتے ہی اچانک ہلکی ہلکی آواز ابھری
بدر ” جس جگہ پر لوگ ماں کو یاد کرتے ہیں اسنے اسے یاد کیا تھا وہ اٹھ کر نزدیک گیا سوہا نے آنکھیں کھول دیں وہ جھٹکے سے اٹھی تھی ۔
کیا ہو گیا ہے ریسٹ کرو ” اسنے چیڑ کر اسے دیکھا احتیاط ضروری تھی اب ۔
ہاں لیکن میں ۔۔۔ مجھے کیا ہوا ہے ” وہ بولی
ماں بننے والی ہو زیادہ کچھ نہیں ہوا عام سی بات ہے”
وہ لاپرواہی سے بولا سوہا کی آنکھیں کھلیں اور لگا اسے پوری زندگی کی پہلی خوشی ملی ہے ۔۔۔
کیا ” حیران تھی خوش تھی معلوم نہیں کیا کیا جذبات تھے لیکن خوش بہت تھی۔۔۔۔
تم خوش ہو “
ہاں اللّٰہ نے ہمیں کتنی بڑی نعمت سے نوازا ہے”
اور انکے خرچے کون اٹھائے گا ابھی سب سیٹ نہیں ہوا اور بلاوجہ وزن ” وہ بولا جبکہ سوہا نے حیرانگی سے دیکھا تھا اسے ۔
کچھ نہیں بولی دل ہی نہ کیا اور سکون سے بیٹھ گئ
منہ پر ہاتھ رکھتی شکر ادا کرنے لگی تھی
ٹوئنز ہیں اور الریڈی ون منتھ کی پریگنینٹ ہو تم ” وہ بتا گیا
سوہا تو خو شی کے مارے چلا اٹھی
کیا واقعی ٹوئینز ہیں یا اللّٰہ تمھیں پتہ ہے بدر کبھی سوچا تھا میں نے کہ میرے بچے ٹوئینز ہوں گے اور دیکھو میری بات پوری ہو گئ آف میں بہت خوش ہوں” وہ خوشی سے کھڑی ہو گئ ۔۔۔
بدر سر تھام گیا
تم پاگل ہو” سنجیدگی سے بولا
اب تو تم مجھے کہہ سکتے ہو میں مائینڈ نہیں کروں گی” وہ مزے سے بولی اور بدر خاموش ہو گیا لیکن سوہا کی خوشی دیکھنے لائق تھی
امی کو بتایا ” وہ بولی
ہاں “
ٹوئینز کا بھی” کچھ شرمائی
بدر نے سر ہلایا اور سوہا جلدی سے بیڈ پر بیٹھ گئ اور چہرے پر ہاتھ رکھے معلوم نہیں کیا کیا پڑھنے لگ گئ
بدر نے گھیرہ سانس بھرا وہ واقعی پاگل ہو گئ تھی وہ ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گھر نہیں لوٹے تھے الٹا سب ل ہسپتال میں ملنے ا رہے تھے ۔۔۔۔
تائی جان نجمہ تو بہت ہی خوش تھیں اور ثروت ایک طرف کھڑی تھی
ساز بھی ائی تھی جلدی سے سوہا کے گلے لگ گئ
میں بہت خوش ہوں ماشاءاللہ ماشاءاللہ بھائی بھابھی کی نظر اتارنی چاہیے ” وہ بدر کو بولی جو لاپرواہ بن موبائل پر کام کرنے میں مصروف تھا
کیوں دنیا میں کیا عورتیں پریگنینٹ نہیں ہوتی” اسکے سوال پر ایکدم سب کا جیسے منہ اتر گیا مگر سوہا کو رتی بھی اسکی بات پر نہیں کر کے گئ تھی ۔۔ وہ خوش تھی یہ اسکی خوشی تھی اور اب بدر جو مرضی کرے اسے فرق نہیں پڑتا تھا ۔۔۔
تم رہنے دو اپنے بھائی کو میرے پاس پیسے ہیں تم میرے بچوں کی نظر اتار دو “
سوہا کی بات پر بدر نے اسکی صورت دیکھی ۔۔
ذرا غصے سے کھڑا ہوا ۔۔ جیب سے کچھ نوٹ نکالے اور اسکے اوپر سے وار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھتا وہ وہاں سے نکلتا چلا گیا
دیکھو بھلا اپنی ہی اولاد کی نظر اتارتے ہوئے ٹیکا کتنا دیکھا کر گیا ہے” تائی جان منہ بناکر بولیں
امی رہنے دیں مجھے برا نہیں لگتا رہا آپ بھی نہ سوچیں” سوہا مسکرائی
ویسے مجھے ڈسچارج کیوں نہیں کیا گیا ” وہ سوال کر گئ اور پھر سب ہلکی پھلکی باتوں میں لگ گئے سوہا البتہ بے تحاشہ خوش تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ شاہنواز کے گھر میں اور بھی دھڑلے سے گھس گیا تھا اب کی بار بلکل اسی طرح گاڑی دروازے کے بیچ میں پھنسا کر وہ اندر ایا اور سیدھا اندر گھس گیا ۔
ایزہ صوفے پر بیٹھی تھی ہاتھ سینے پر باندھے ہوئے تھے ۔
گویا ناراض ہو اور وہ بوڑھی دادی ایزہ کو جھاڑ رہی تھیں اور ساتھ ایک لڑکی بھی کھڑی تھی
ہائے ہائے دیکھو تو سہی اس لڑکے کی جرتیں ایسے گھر میں چلتا ہے جیسے اسکے باپ کا ہے کیا ہے بھئ کیوں آئے ہو “
دادی جان نے اسے دیکھا تو اسپر برسیں
ہیلو بڈھی کے بال ۔۔۔۔ میری بہن کو ڈانٹ کس خوشی میں رہی ہیں اپ ۔۔ اور ہاں یہ میرے باپ کا گھر ہے اب بتاو کیا کرو گی” وہ اسکی جانب بڑھا
دادی جان پیچھے ہوئے ۔۔ اور ٹھیک اسی وقت لاونج میں باہر سے شاہنواز بھی ا گیا ۔
عمر ” اسکی پکار پر عمر نے مڑ کر تو نہیں دیکھا البتہ قدم پیچھے لیے تھے ۔ ۔
اور دادی جان سینے پر ہاتھ رکھتی شاہنواز کی جانب بڑھی
شاہ میرے بچے نکال دے اسکو گھر سے اب اسکا بھائی ہے تو کیا سر پر بیٹھا لیں دیکھ میرا دل کیسے دھڑک رہا اور یہ ایسے چڑھ کر آیا ہے مجھ پر “
عائشہ بڑی غور سے اس نخریلے لڑکے کو دیکھ رہی تھی جو کہ ۔۔۔ اپنی بہن کیطرح سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا ہو گیا
تم یہیں بیٹھو میں اتا ہوں” اسنے عمر کو کہا اور عمر نے ایزہ کی جانب دیکھا
جانے کس بات پر منہ پھلائے بیٹھی ہو ” وہ اسکے ساتھ ایزی سا ہو کر بیٹھ گیا
یوں لگا برسوں کے غم دھل گئے وہ اسے بچپن میں پیار سے جانے کہتا تھا وہ چھوٹی سی تھی اور وہ اسے گود میں اٹھائے پھرتا تھا ۔۔ اور دونوں بہن بھائیوں کی تو جان ایک دوسرے میں تھی تبھی وہ اسے اپنی جان یعنی جانے کہتا تھا
ایزہ مسکرائی پھر آنکھیں نم ہو گئیں ۔۔
جبکہ دوسری طرف دادی جان شاہنواز پر غصہ کرنے لگیں عائشہ بھی وہیں ا گئ شاہنواز کو فلحال تو پرواہ نہیں تھی اسکی تبھی اگنور کر دی
تو ان دونوں بہن بھائی کو سر پر چڑھا لے نہیں تیری بیوی تک تو ٹھیک تھا یہ اب منحوس کون ہے جسے تو نے سر پر چڑھا رکھا ہے”
ناز کا بیٹا ہے عمر خیام اپکو یاد ہے عمر خیام ” اسکے الفاظ تھے کہ دادی جان کو بریکیں لگ گئیں عائشہ بھی حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔
لیکن وہ صرف ناز تک جانتی تھی عمر خیام کو نہیں ۔
ناز ۔۔ ” دادی جان نے حیرانگی سے دیکھا تو شاہنواز نے سر ہلایا
یعنی ایزہ ناز کی بیٹی ہے” انھیں دھچکا لگا
ہ۔۔۔۔ہاں” وہ گھیرہ سانس بھر گیا
تجھے پتہ تھی یہ بات “
نہیں ۔۔۔ کاش پتہ ہوتی تو ۔۔ میری مجال تھی میں اسکو تکلیف دیتا بس ایک ہی پشتوا ہے اور وہ یہ ہی ہے ” وہ سر جھکا گیا ۔
میری بچی ناز ۔۔ ناز کی نشانیاں ہمارے پاس ہیں ۔۔ میری بچی نے بڑے غم سہے بڑے غم سہے ہیں ۔۔ ” دادی جان بے ساختہ رو دیں عائشہ خاموش کھڑی تھی شاہنواز نے انھیں چپ کرایا ۔
وہ باہر انتظار کر رہے ہیں ہمارا ۔۔۔ آپ ان دونوں کو ناز کیطرح قبول کر لیں عمر مجھ سے بہت اٹیچ ” اسکی بات پوری نہیں ہوئی تھی کہ دادی جان نے آنسو صاف کیے
تو کیسی باتیں کر رہا ہے شاہ وہ میری بچی کا بچہ ہے ۔۔ اسے قبول نہیں کروں گی تو کیسے کرو گی ۔۔ وہ کہتے ہی اٹھیں
ایزہ بھائی کے سینے سے لگی تھی اور عمر ۔۔ اسکو آہستہ آہستہ کچھ سمجھا رہا تھا ۔
جی کیا باتیں ہو رہیں ہیں” شاہنواز ہلکے پھلکے انداز میں بولتا بیوی کی جگہ عمر کا گال تھپتھپا کر صوفے پر بیٹھ گیا
ایزہ نے خون خوار نظروں سے اسے دیکھا اول تو وہ بتا نہیں رہا تھا کہ وہ عمر کو کیسے جنتا ہے پھر عمر سے ابھی اسنے پوچھا تو وہ بات گول کر گیا اور اب وہ بیوی کو چھوڑ کر بیوی کے ہی بھائی کو پیار کر رہا تھا وہ مٹھیاں بھینچ گئ اور شاہ نواز گھیرہ سانس بھر کر اٹھا اور اسکا گال بھی تھپتھپا گیا
سوری ” وہ اپنی غلطی مان گیا تھا عائشہ کو دھچکا لگا کہ شاہنواز سکندر بھی کسی سے معافی مانگ سکتا ہے ۔
عمر کا البتہ قہقہہ بھرا تھا ۔
تم رو کیوں رہی تھی”
مجھ سے بات نہ کریں” سیدھا سب کے سامنے کہہ گئ
یہ مان بھی عجیب چیز ہے جب محبت ہو جائے انسان پر مان بھی خود ہی بڑھ جاتا ہے ورنہ وہ ایزہ ایسی نہ تھی کہ شاہنواز کے آگے بول سکتی نہ وہ شاہنواز ایسا تھا ۔۔۔
شاہنواز نے سر ہلا گیا
دادی جان بھی آگے بڑھیں اور عمر کا چہرہ دیکھنے لگیں ۔۔
اسکے بال سنوارتے انکی آنکھیں اپنے آپ بھیگ گئیں عمر انھیں حیرانگی سے دیکھنے لگا جبکہ ۔۔۔ ایزہ بھی حیران تھی
دادی جان ” شاہنواز نے فورا سنبھالا
چلو بھئی اب تم دادی جان سے دوستی کر لو ۔۔۔ اور اب تم دونوں کی لڑائی ختم “
میں زیادہ دوست نہیں بناتا ” وہ منہ بنا کر بولا
دادی جان مسکرا دیں ۔۔۔
انکے انداز کی نرمی یکا یک بدلی تھی
جو دونوں کو ہی حیران کر گئ ۔۔
چلو کر لو دوستی اب آخری بندے سے کرا رہا ہوں آئندہ کسی سے نہیں کراو گا ” شاہنواز نرمی سے بولا تو وہ سر ہلا گیا ۔۔۔۔
اور دادی جان اسکے چہرے پر پیار سے ہاتھ پھیر گئیں ۔۔
عمر کے لیے یہ انوکھا تھا وہ نہ رشتوں میں بڑا ہوا تھا اور نہ ہی اپنوں کے ہوتے ہوئے اسنے کسی سے محبت حاصل کی تھی تبھی آج بے رخی تھی اسکے انداز میں
وہ آگے بڑھا اور شاہنواز سے ایونٹ کی ڈکشن کرنے لگا اور مجال ہو اس انسان نے اسکی ایک ایک بات کی بھی نفی کی ہو کہ نہیں ایسا نہیں ایسا ہو گا دادی جان بھی بیچ بیچ میں بولنے لگ گئیں تو وہ ان سے بی بول رہا تھا ایزہ البتہ غصے سے لال ہو رہی تھی اور شاہنواز کی اگنورنس پر تو جی جل رہا تھا کچھ ہی لمہوں میں وہ وہاں سے اٹھ کر بھاگ گئ
آپ کی بیوی جلتی ہے مجھ سے ” عمر مزے سے بولا
شاہنواز ہنس دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
