Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

اسے سوہا نے کمرے میں دھکیل دیا تھا
ساز دروازے کے ساتھ چپکی کھڑی رہی ۔۔۔ اسنے دوپٹے کی آوٹ سے کمرے میں نگاہ گھمائ تو یہ کمرہ انکے گھر کا نہیں لگ رہا تھا انکے گھر کے ہر کمرے میں سیم زدہ دیواریں منہ چیڑا رہی تھیں تایا جان کی کنجوسی کی گواہ تھیں جبکہ یہ کسی امیر شہزادے کا کمرہ تھا جو خود سے بھی لا پرواہ تھا
کمرے میں اسکے سونے سے سانسوں کی آواز پھیلی ہوئ تھی جبکہ اسکے بیڈ کے پاس دو بوتلیں لڑھکی ہوئ تھیں
سیگریٹ کے ڈبے آدھ کھلے دراز سے جھانک رہے تھے جبکہ ایش ٹرے بھی بھری ہوئ تھی
ڈریسنگ پر پرفیوم کی بوتلیں الٹی ہوئ تھیں جبکہ کمرے میں ایک صوفہ جس پر اسکے کئ کپڑے تھے
اور اسی کمرے میں ٹریگ میل اور ایک وائلن بھی تھا یعنی اسنے ہر کام تایا جان کے خلاف کرنا تھا
ساز کی سسکی سی بلند ہوئ
یہ وہ کہاں آ گئ تھی اسکی دنیا تو نہیں تھی یہ ۔۔ اسکے سسکنے پر عمر نے سر اٹھایا مڑ کر دیکھا
ساز جلدی سے پردہ کر گئ ۔
اسے تو بس ایک سایہ سا دیکھا تھا وہ تکیوں میں پھر سے منہ ڈال گیا حالانکہ نشے کے باعث وہ بھول چکا تھا جس شرط پر شادی کی تھی آج اسنے وہ چیز اپنے باپ سے لینی تھی اسکی اسی طبعیت کے باعث اشفاق صاحب اسکا فائدہ اٹھا رہے تھے کہ حوش میں ہو تو اسے کچھ یاد رہے ۔
وہ پھر سے سو گیا اور ساز وہیں بیٹھ گئ
اور پھر جتنا وہ بے آواز رو سکتی تھی روتی ہی چلی گئ
اسے شکواہ تھا سب سے ۔۔ اپنے بھائ سے ماں سے کسی نے اسکا ساتھ نہیں دیا
صوفیا صنم بھی کیسے اجنبی ہو گئیں
عمر خیام وہ شخص تھا جس کے سائے سے بھی وہ بھاگتی تھی آج تک اس نے اسکی ایک انگلی بھی نہیں دیکھی تھی پھر وہ آج اسکی محرم بن کر اس کمرے میں کیسے ا گئ
وہ تادیر رونے کے بعد تھک گئ
فجر کی اذانیں بھی شروع ہو گئیں تھیں وہ جلدی سے اٹھی اس مشکل وقت میں اسکا رب ہی اسکا سہارا تھا ۔
اسنے ارد گرد واشروم تلاشنا چاہا تو اسے ایک دروازہ دیکھ گیا اور وہ اندر آ گئ اسنے وضو کیا
اور باہر ا گئ دل کیا یہ سرخ جوڑا اتار کر پھینک دے لیکن اس وقت اس جوڑے کے علاوہ کچھ نہیں تھا اسکے پاس تبھی یہ مجبوری تھی پہنا
وہ جائے نماز کی تلاش میں اسکے کمرے کو کافی حد تک صاف کر گی لیکن اسے جائے نماز نہ ملا اسنے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی ہچکیاں روکیں وہ نماز بھی نہیں پڑھتا تھا
وہ دروازے کو کھولنے لگی لیکن دروازہ باہر سے لاک تھا
اسنے توبہ کرتے ہوئے وہیں کلین پر صاف حصے پر نیت باندھ لی اور نماز پڑھتے ہوئے بھی وہ بے تحاشا روتی رہی جبکہ اگلے نفوس کے سونے کی آواز ہی سنائی دیتی رہی تھی
وہ بہت دیر روئ دل کا بوجھ تھا کم ہی نہیں ہورہا تھا اور پھر وہ ایک سائیڈ پر بیٹھ گئ
کوئ دروازہ کھول دیتا تو وہ بھی یہاں سے بھاگ جاتی
معلوم نہیں کب اسے نیند نے جا لیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسنے ہاتھ مارا اور اپنی بوتل تلاشنی چاہی لیکن خالی بوتل نے منہ چیڑا
ربش” بول کر وہ اٹھ بیٹھا کمرے کی بڑی ساری کھڑکی سے روشنی اندر ا رہی تھی
اسنے بمشکل آنکھیں کھول کر موبائل میں وقت دیکھا کیونکہ گھڑی کے سیل تو سالوں پہلے ہی ختم ہو گئے تھے جن کی خبر بھی نہیں تھی اسے ۔۔۔۔
اسنے وقت دیکھا دن کے ڈھائ بج رہے تھے اور اچانک دھڑا دھڑ دروازہ بجا
پہلے اپنے دروازے کی جانب ناگواری سے دیکھا اور اسکے بعد صوفے پر کوئ پوٹلی سی سرخ جوڑے میں پڑی تھی ہڑبڑا کر اٹھی اور وہ اس کا چہرہ کیا دیکھ پاتا وہ بھاگ کر دروازہ کھول گئ
بے شرم بے حیا آدھے دن چڑھے کمرے میں گھسی ہوئ ہے بدذات اتنی بے حیائی پھیلائے گی” تائ جان نے اسے باہر کھینچا
عمر کو لگا اسکی یادداشت چلی گئ ہے یہ ہو کیا رہا تھا وہ اس شور شرابے کا عادی نہیں تھا
تائ جان میں میں ۔۔۔ ساز بولنے کے لیے لب وا کرتی کہ کھینچ کر تھپڑ لگا نجما دل تھام گئ
بھابھی “
ارے بس چپ کرو جوان جہاں لڑکیاں ہیں اس گھر میں یہ بے حیائی نہیں چلے گی یہاں ۔۔۔۔
عمر کو پیچھے دیکھ کر وہ ذرا سٹپٹائ
کیا تماشہ ہے یہ” بے زاریت سے وہ بولا
نجما کو لگا تھا وہ اسکے لیے کچھ بولے گا
صبح صبح میرے سر پر کیوں ہتھوڑے برسا رہیں ہیں اپ اس بے سری آواز میں ” وہ چلا اٹھا
اور اسنے دروازہ تائ کے منہ پر مارا
اسے یاد تک نہیں تھا یہ لڑکی جس نے تھپڑ کھایا ہے اسی کی بیوی ہے
تائ سمیت سب کے دلوں میں چین پڑ گیا کہ عمر کو ساز سے فرق نہیں پڑتا
اگر وہ اسکی حمایت لے لیتا تو شاید اس وقت سب کو اوقات یاد ا جاتی اپنی مگر وہ جانتا تک نہیں تھا کہ یہ اسی کی بیوی ہے بس تیری اوقات بتا دی میرے بیٹے نے دفع ہو بدل اس لباس کو اور کام پر لگ اور ہاں سن اب بات میری آج سے سارے کام تیرے ذمہ ہے کپڑے دھونے سے لے کر ہانڈیاں بنانے تک ۔۔۔ بہو ہے اب اس گھر کی تو اور یہ پڑھائ وڑائ سب ختم بکواس کاموں میں لگ گھر داری کون کرے گا ” وہ اسے آگے دھکیلتی بولیں
بھابھی آپ کیسا رویہ رکھ رہی ہیں”
اب تجھے بتاو کیسا ہے میرا رویہ” وہ نجما کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ کر بولیں
وہ دلہن ہے”
او بی بی جس کی دولہن تھی اسے پرواہ نہیں ہے اب زیادہ نہ سیکھا وہی منحوس شکل ہے کچھ بھی نہ بدلا اے میں کہتی ہوں عمر نے تجھے منہ لگایا بھی ہے یہ نہیں ” وہ منہ پر ہاتھ رکھتی ہنسنے لگی
ساز کو لگا وہ غش کھا کر گیر جائے گی وہ اتنی بڑی بات کہہ گئیں تھیں اسے ۔۔۔
لگتا تو نہیں ” ثروت چچی بھی دبا دبا ہنس دیں
ہیں واقعی ساز” سوہا نے بھی ٹھونگا مارا
وہ بے بسی کی انتہا پر تھی
بے عزت ہو رہی تھی بھری محفل میں وہ اپنے کمرے میں بھاگ گئ سب ہنسنے لگے اور نجما رو پڑی تھی ۔
کپڑے بدل کر وہ بے حسوں کیطرح نیچے ائ اور سب کی طنزیہ ہنسی مذاق اڑانے والی نظروں کو سہتی وہ واقعی گھر کے سارے کام سنبھال گئ
اسنے نجما کو کوئ کام کرنے نہ دیا
سب کام کچن سے لے کر گھر کی صفائی ستھرائی تک خود کیے معلوم نہیں بدر کہاں تھا اسے یاد ا رہی تھی اپنے بھائ کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تایا جان نے اسے اپنے کسی دوست کے گھر بھیج دیا تھا وہ اپنا گھر شفٹ کر رہے تھے اور انھوں نے زبردستی اسے بھیجا کہ وہ جائے گا تو وہ کچھ پیسے اسے دے دیں گے
اور بدر اختلاف کے باوجود بھی چلا گیا کہ واقعی اب وہ اس نہج پر ا گیا تھا کہ مزدوری کر کے کما لیتا ۔
وہ گھر میں داخل ہوا تو سامان اٹھا اٹھا کر اسکے ہاتھوں پر چھالے پڑے تو وجود تھکان سے چور ہو گیا
ساز” اسنے بہن کو دیکھا وہ بھرائ ہوئ آنکھوں سے اسکے نزدیک آیا جو اسکے ہاتھوں پر چھالے دیکھ کر تڑپ اٹھی
یہ یہ کیا ہوا ہے بھائ”
ارے پگلی کچھ نہیں یہ تو بس محنت کی ہے اسکے کچھ زخم ہیں تم بتاو ٹھیک ہو ” وہ فکرمندی سے بولا
نہیں نہیں میں تو ٹھیک ہوں” وہ بولی کیا تکلیف دیتی کہ کم اسکی تکلیفیں تھیں زندگی میں ۔۔۔
وہ اسکے گال پر پیار سے ہاتھ رکھ گیا
اچھا ذرا کچھ لگانے کے لیے لا دو ” وہ بولا تو ساز پلٹی تبھی سوہا بھی آ گئ
یا اللّٰہ یہ کیا ہوا ہے” وہ اسکے ہاتھ تھام گئ
بدر نے نفرت سے کھینچ لیے
تمھیں کتنی بار کہا ہے دور رہا کرو “
اچھا ٹھیک ہے زیادہ نہ بولو کیا ہوا ہے تمھارے ہاتھوں پر” وہ بولی
شیٹ اپ تم ہوتی کون ہو مجھ سے یہ سوال کرنے والی” وہ اکھڑ کر بولا
منگیتر ہوں تمھاری جس سے چاہ کر بھی تم چھوڑا نہیں سکتے ” وہ کچن کی جانب بڑھی اور سکون سے بولی اندر کچن سے اسنے دوائ اٹھائ جسے ساز ڈھونڈ رہی تھی کہ جہاں آخری بار اسنے دیکھی تھی وہاں ملی نہیں تھی اسے
وہ باہر ائ اور بدر کے ہاتھ تھامے
بدر نے اسکے ہاتھ سے دوائ کھینچی اور ساز کے ہاتھ میں تھما دی
ساز نے اپنے بھائ کے ہاتھوں پر روتے ہوئے لگائ
دفع ہو جاو روتی ہی رہو گی ” سوہا بولی جبکہ بدر نے اسکی جانب دیکھا
جن کے سینوں میں دل ہوں گے وہ ہی ایک دوسرے کی تکلیف پر مر مٹیں گے تم تمھارا باپ منافق لوگ ہو اور منافقوں کے دل صرف سیاہی سے بھرے ہوتے ہیں آئندہ مجھے ہاتھ لگایا نہ تو منہ توڑ دوں گا” وہ کہہ کر اٹھ گیا
لگاؤ گی منگیتر ہو میرے اور شوہر بھی تم ہی بنو گے” وہ بھی چیڑ کر چلائ
غضب خدا کا کیوں منہ پھاڑ رہی ہے” تائی دل پر ہاتھ رکھتی نکلیں
اماں ابا کو نہ سمجھا لیں بدر سے الٹے سیدھے کام نہ کرائیں ” وہ بھڑکی
تم نہ چپکی رہو ” وہ پھر سے ڈپٹ کر چلی گئیں سوہا منہ بنا گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تیار ہو چکا تھا آج صعود کے ہاں جانا تھا اسنے اور ویل ڈریس رہتا تھا ہمیشہ تیار ہو کر اسنے سیگریٹ منہ میں دبایا اور کلون چھڑکا کلون کی سمیل سیگریٹ میں گھل گئ اور وہ باہر نکلتا کہ پہلی بار بدر کو اپنے کمرے میں دیکھا
اسنے گھیرہ سانس بھر کر بےزاری سے اسے دیکھا
کہ وہ کیوں آیا ہے
کیسے ہو عمر” وہ سوال کرنے لگا
یہ پوچھنے آئے ہو” اسکے پاس کسی بات کا درست جواب تھا ہی نہیں
بدر نے اپنے غصے کو اندر اتارا
نہیں تم سے ضروری بات کرنی تھی”
مجھ سے” اسے یقین ہی نہیں آیا
ہاں” وہ بولا
کیا ؟
بیٹھ سکتے ہیں “
ا گئے ہو تو بیٹھ جاو ” وہ جیسے جان چھڑانا چاہتا تھا اور بدر کی اس وقت مجبوری تھی اس سے بات کرنا
وہ میں نے تم سے ساز کی بات کرنی ہے” اسنے بات کا آغاز کیا
کون ساز” وہ پٹاخ جواب دے گیا بدر نے حیرانگی سے اسکی صورت دیکھی
تمھاری بیوی” وہ بولا جبکہ عمر خیام کو وقت لگا یہ جاننے میں کہ اسکی شادی ہو چکی ہے اوہ ہاں یاد ا گیا
Her name is saaz?
وہ حیرانگی سے پوچھنے لگا
بدر تعجب سے اسے دیکھتا رہا
نائیس نیم کس نے رکھا ہے” وہ بولا
جبکہ بدر نے چہرے پر ہاتھ رکھا
میوزک لائیک انسٹرومنٹ کیوٹ” وہ اسکے نام کو دھراتا حیران تھا کہ یہ کیسا نام ہے
وہ کل تمھارے کمرے میں تھی”
کیوں”؟
اسکے سوال پر بدر نے مٹھیاں بھینچ لیں دل کیا اٹھ کر تھپڑوں سے اسکا منہ سرخ کر دے ۔۔۔ وہ اٹھا
میری بہن بہت معصوم ہے عمر خیام اسے اپنے شرابی ذہن سے ٹریٹ مت کرنا ۔۔ میں نے تم پر صرف اتنا بھروسہ کیا ہے کہ تم اپنے باپ اور سوتیلی ماں سے میری بہن کی حفاظت کرو گے اور ہاں یہ تمھیں کرنا ہو گا ورنہ” وہ بگڑ کر بولتا روکا
عمر کے چہرے پر ایسا تاثر تھا جیسے وہ اسکا بھڑکنا انجوائے کر رہا ہو
ورنہ” اچانک سنجیدہ ہوتا وہ اسکی جانب قدم بڑھا گیا
میں تمھاری جان بھی لے سکتا ہوں” وہ اسکا گریبان پکڑ گیا
عمر نے بدر کے ہاتھ دیکھے
میرے پاس سب سے سستی چیز یہ ہی یعنی میری جان کسی بھی وجہ کے تحت لے سکتے ہو تم نیور مائینڈ” اسنے اسکا ہاتھ اپنے گریبان پر سے ہٹایا اور ایکدم گرفت ڈالی اسکے ہاتھ پر
آئندہ میرے گریبان کو مت پکڑنا ” سیدھی طرح جھٹک کر اسکے ہاتھوں کو وہ بولا
اور اسکے بعد وہ مڑ گیا
اپنے کمرے سے نکل کر نیچے آیا اور گھر سے ہی نکل گیا
ساز کو بلکل دلچسپی نہیں تھی اس میں وہ دیکھتی یہ نہ دیکھتی برابر تھا اسکے لیے زندگی پہلے بس اتنی تھی وہ کتابوں میں دل لگا لیتی تھی اب بس برتن دھونے اور کھانے بنا کر گھر والوں کے کپڑے دھونے میں نکل جاتی اور اسکی زندگی کا فرشتہ جسے وہ مانگتی تھی یہ امید بھی ٹوٹ چکی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خواہشیں جگی ہیں پیاسے پیاسے لبوں پے
خود کو جلا دوں تیری بانہوں میں
آغوش میں آج میرے سما جا
جانے کیا ہونا ہے ہے ذرا ذرا قریب سے جو پل ملے نصیب سے
آجا ذرا قریب سے ۔۔۔۔
پہلی بار گھر تایا جان کے گھر میں دھماکے دار گانوں کی آواز گونج اٹھی تھی جس میں عمر خیام کے گنگنانے کی بھی آوازیں اٹھ رہیں تھیں ساز رات اسکے کمرے میں نہیں گئ تھی وہ تھکان سے اتنی چور ہو چکی تھی کہ کچن میں ہی بیٹھے بیٹھے سو گئ اور جب ٹھنڈ کے باعث اسکی انکھ کھلی تو فجر کا وقت تھا وہ شکر ادا کرتی نماز پڑھ کر سب کی نظروں سے بچتی کچن میں ا گئ ویسے بھی تائی جان کا حکم تھا کہ وہ اگر دیر سے اٹھی تو اسکا وہ حشر بگاڑ سکتیں تھیں اور ایسا وہ کر بھی جاتی تبھی ساز پہلے ہی کچن میں کھڑی ہو گئ اسنے جب سے کچن کی ساری ذمہداری سنبھالی تھی نجما کو آرام تو مل گیا تھا مگر وہ اسی کوشش میں لگی رہتی کہ وہ دولہن تھی نئ نویلی وہ دلہنوں کیطرح رہتی مگر اسکا حال تو پہلے سے بھی بدتر ہو گیا تھا اور یہ بات اسکا دل چیرٹی تھی جب وہ خالی خالی نظروں سے اپنی ماں کو دیکھتی احساس ہوتا کہ ان لوگوں نے کتنا غلط فیصلہ لیا ہے
تایا جان دکان پر چلے گئے تھے چاچو کے ساتھ اور بدر بھی گھر سے باہر تھا جبکہ تائی ثروت چچی اور سوہا صنم صوفیا کو ابھی ناشتے دیے تھے اور نجما کو بھی ۔۔۔ لیکن نجما اسکے پاس کھڑی اسے اپنی پلیٹ میں سے لقمے دے رہی تھی
اور وہ ساتھ کے ساتھ رو بھی رہی تھی ۔
آپ رو کیوں رہی ہیں ” وہ برتن دھوتے ہوئے سوال کر گئ
مجھے لگا تھا میری بیٹی کی قسمت کا ستارہ چمکنے لگ جائے گا ” وہ منہ پر ہاتھ رکھ گئیں ۔
چمک تو گیا ۔۔۔
کتابوں سے برتنوں تک پہنچ گئیں ہوں آپ پریشان مت ہوں اور پلیز بدر بھائ کو کچھ مت بتائیے گا ” وہ بولی تو اسکی ماں نے اسکی پیشانی چوم لی
میں اللّٰہ سے دعا کروں گی تمھارے لئے وہ بہت خوبصورت دروازے کھولیں گے ” وہ سر ہلا گئ
عمر خیام کبھی خوبصورت دروازہ نہیں ہو سکتا تھا اسکے لیے وہ دونوں اسی گفتگو میں تھیں کہ اچانک گھر میں گانے کے ساتھ ساتھ عمر خیام کی آواز بھی گونجی جیسے کسی موج میں وہ گا رہا تھا ۔
لاحول “
ساز” تائ جان چلا اٹھیں
جبکہ وہ ادھورے برتن چھوڑ کر باہر نکلی تو نجما نے برتن دھونے شروع کر دیے وہ تو دن رات کی مشقت میں پڑ جاتی تھی پہلے پڑھائ کی وجہ سے کچھ دیر توقف بھی ا جاتا تھا
جی تائی جان” اسنے پوچھا
گانوں کی آواز اسے بھی رہی تھی مگر نہ ہی اسے دلچسپی تھی اور نہ اسنے دھیان دیا کہ وہ کس قسم کا گانا سن رہا ہے
او بی بی اپنے شوہر کو جا کر سمجھاؤ یہ کیا اول فول لگا رکھی ہے اسنے گھر میں جوان بچیاں پھر رہی کیا اثر لیں گی”
تائی نے سختی سے جھاڑا ساز سر جھکا گئ
میں میں کیسے کہو ” وہ کچھ پریشان ہوئ عمر سے تو کبھی بات نہیں کی تھی امنا سامنا نہیں کیا تھا
لو بھلا اور کون جا کر کہے گا بیوی تو ہے اسکی”
یہ لفظ گولی کیطرح لگتا تھا اور ایسا لگتا سب جان بوجھ کر یہ کہہ کہہ کر اسے ٹیز کرتے ہیں
تائی جان آپ اپ کے بیٹے ہیں اپ کہہ د”
بات ادھوری ہی تھی کہ انھوں نے چپل اٹھائ تو وہ دو قدم دور ہوئ
منہ رنگ دوں گی تیرا ۔۔۔
یہ شرابی نشئی یہ منحوس میری سوتن کی نسل میرا بیٹا نہیں ہو سکتا ۔۔۔
یہ بس تیرا شوہر ہے اب دفع ہو اور یہ ناٹک بند کروا ورنہ منہ رنگ دوں گی جوتی سے تیرا ” وہ اپنے اندر کا زہر اگلتی بولیں جبکہ ساز نے حیرانگی سے انھیں دیکھا کیونکہ وہ تو عمر پر چاپلوسی کی انتہا کر دیتی تھی اسنے صوفیا اور صنم کو دیکھا وہ دونوں خاموشی سے اسے ہی دیکھ رہی تھیں
صوفیا اور صنم سے بھی اسنے بولنا چھوڑ دیا تھا
وہ سر ہلا کر اوپر کی جانب بڑھنے لگی ایک ایک قدم ہر آنسو کی جھڑی بندھ رہی تھی عجیب خوفزدہ سی ہوتی وہ اسکے کمرے کے باہر پہنچ گئ
سب نیچے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے وہ کوئ عجوبہ ہو سب کی نظروں کو محسوس کر کے اسنے دروازے پر دستک دی
لیکن اندر سے جس طرح مگن انداز میں آوازیں ا رہیں تھیں وہ اسکی معمولی دستک سنتا
وہ دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھتی
ایکدم دروازہ کھول کر آنکھوں کو سختی سے میچ کر اندر گھس گئ
نیچے ایک ایک شخص ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگا
پیٹے گی یہ اس نشئ سے” سوہا بولی جبکہ باقی سب بھی متفق ہوئے تھے حد تو صوفیا اور صنم پر تھی جو لالچ کی وجہ سے تائ اور سوہا کی جانب ہو چکیں تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دروازہ کھلا اور وہ جو گیند دیوار پر مار کر دوبارہ کیچ کر رہا تھا ایکدم رکا گانے کی سر اب بھی ویسے ہی چل رہے تھے لیکن اسکے لب رک گئے تھے
وہ مڑا اور اپنے کمرے میں ایک لڑکی کو دیکھ کر اسکے ہاتھ میں موجود گیند وہیں تھم گئ
وہ کون تھی ؟ پہلا سوال یہ ہی تھا
آنکھیں بھینچیں ہوئیں مٹھیاں سختی سے بند اور دروازے کو سختی سے جکڑے
۔۔۔عم۔۔۔عمر۔۔۔عمر بھائی تائی جان کہہ رہی ہیں گ۔۔۔گانے کی اواز۔۔۔آواز بند کر دیں” بند آنکھوں سے ہی وہ بولی ۔
اور عمر کو یہ گانے کی آواز ڈسٹربینگ سی لگی اسنے ریموٹ اٹھا کر ڈیک بند کیا
نیچے ایکدم حیرانگی سے سب ایک دوسرے کو دیکھنے لگے جبکہ ساز نے بھی حیرانگی سے آنکھیں کھول دیں
وہ اسی کی جانب دیکھ رہا تھا
پہلی بار دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تھا
ساز کے ہاتھ پاوں ڈھیلے سے پڑ گئے
اسے لگا اسکا وجود اتنی شدت سے کانپ رہا ہے کہ وہ یہیں گیر جائے گی
وہ کچھ بولا نہیں تھا
عمر گیند اچھالتا ہوا صوفے پر دھپ سے بیٹھا نگاہ کا زاویہ ایک لمہے کے لیے تبدیل نہیں ہوا تھا
اور اسنے سیگریٹ لبوں میں دبا کر گھیرہ کش بھرا
ساز کو لگا یہ بے کار ہے کہ وہ اسکے سامنے کھڑی ہے ہاتھوں میں جنبش پیدا کر کے اسنے دروازہ کھولنا چاہا
ویٹ” اسکی آواز پر قدم رکے
کون ہو تم؟ لمہے بھر کے لیے ساز کو حیرانگی ہوئ تھی اس سوال پر پھر اپنی قسمت پر ہنسی ا گئ
ک۔۔کوئ ن۔۔نہیں” وہ کہہ کر باہر نکلنے لگی
ائ سیڈ جسٹ ویٹ” لہجے میں ذرا سختی تھی
ساز پیٹھ موٹے ہی کھڑی رہی
نام کیا ہے تمھارا ” اسنے دوبارہ سوال کیا
س۔۔ساز” وہ آہستگی سے بولی اور عمر کے ہاتھ کی سیگریٹ کی راخ ایکدم انگلی پر لگی اسنے نگاہ اٹھائ
ساز” اسنے نام دہرایا
میری بیوی ؟ وہ ہنس دیا
ٹرن یور فیس ” شاید اب وہ مزید اسے دیکھنا چاہتا تھا
تا۔۔تائ جان نے بس بس اسی کام سے بھیجا تھا کہ ڈیک بند کر دیں” وہ آہستگی سے بولی بس بھاگ جانا چاہتی تھی ان نگاہوں سے ۔۔۔
عمر نے ریموٹ اٹھا کر ڈیک پھر سے کھول دیا اور اب آواز ایسی تھی کہ سر پھاڑ دیتی
وہ مڑی
گریٹ” اسنے بند کر دیا
بیوٹیفل” وہ اسکی تعریف کر گیا
اور ساز کو لگا جیسے وہ گنہگار ہو رہی ہو
اسنے دھواں فضا میں چھوڑا اور اسے توجہ سے دیکھنے لگا
اتنی شفاف رنگت کہ داغ بھی برا لگے بڑی بڑی جھکی جھکی نگاہیں انپر گیری خم دار پلکیں نوخیز جوانی اور اس سے جھجھک کھاتا انداز ۔۔۔ کافی ایمپریس تھا لیکن اسکا حلیہ غریبوں کو بھی مات دے دے
تم میری بیوی ہو ؟ وہ کہتا ہوا کھڑا ہوا
ساز جلدی سے دور ہوئ
وہ رک گیا وہیں
پھر تم نے مجھے بھائ کیوں کہا ” وہ کچھ کنفیوز سا ہوا
م۔۔منہ سے نکل گیا ” وہ جلدی یہ گفتگو ختم کر کے یہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی
ہممم خیر عمر خیام رشتے میں اپکے شوہر ہوتے ہیں” اسنے ہاتھ آگے بڑھایا جیسے خود بھی اپنی بات کا لطف لیا ہو جبکہ ساز کے لیے یہ سب نہایت مشکل تھا
میں ۔۔میں جانتی ہوں” وہ بس اتنا ہی بولی
کافی ذہین ہو میری یادداشت کا مسلہ ہے دیکھتی رہو گی تو یاد رہے گا بیوی ہو ورنہ بھول جاوں گا ” وہ لاپرواہی سے سر جھٹک گیا
کیا اسکے لیے یہ بڑی بات نہیں تھی کہ ایک بلکل اجنبی لڑکی اسکی زندگی میں شامل ہو گئ تھی
ویسے شادی کس دن ہوئ تھی” اسنے مڑ کر پھر سوال کیا
تین دن پہلے” ساز اب بھی کچھ حیران تھی
تو تم تین دن سے تو مجھے نظر نہیں ائ” وہ بولا
جبکہ ساز کے پاس الفاظ ہوتے یہ وہ کچھ کہتی تبھی تائ جان کی آواز نے اس گفتگو کو اختتام دیا وہ اس آواز پر ایسے بھاگی جیسے بھوت دیکھ لیا ہو
عمر کی گفتگو ادھوری رہ گئ
نہایت ناگواری سے اسنے بند دروازے کو دیکھا تھا
جبکہ وہ نیچے دوڑتی ہوئ ائ
بے حیا کیا رنگ رلیاں منا رہی تھی”
وہ ہمیشہ بات ایسے کرتی کہ سامنے والے کہ کپڑے اترنے لگتے
ن۔۔نہیں” وہ بولی جبکہ ایکدم چھت پھاڑ گانوں کی آواز پر تائ نے سر تھام لیا ۔
اڑے جا اس منحوس کا گلہ بند کروا “
ج۔۔۔جی” وہ پاگلوں کیطرح پھر اوپر ائ تو اب کی بار رو دی
وہ تھک گئ تھی وہ ان سب چیزوں کو ہینڈل نہیں کر سکتی تھی
اپنی سسکیاں روک کر وہ اندر داخل ہوئ جیسے وہ منتظر ہی تھا
اور اسنے ڈیک کی آواز بند کر دی
ساز نے آنسوؤں سے بھری آنکھیں اٹھائیں
اور عمر خیام نے پہلی بار کسی عورت کو روتے ہوئے دیکھا تھا
وہ اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگا
آپ پلیز بند کر دیں” اسنے کہا اور دوبارہ باہر چلی گئ
عمر کا دل نہیں کیا اسے روکے
چند لمہوں بعد اسنے سر جھٹکا اور موبائل اٹھا لیا صعود کی کال تھی
ہاں میں نے آنا ہے ” اسنے کہا
ٹھیک ہے ” اور کال بند کر کے وہ وارڈروب کی جانب بڑھ گیا
لیکن دماغ میں کہیں نہ کہیں منظر ٹھہر گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے