Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31

جی ” اسنے سوہا کو دیکھا وہ غصے سے گھور رہی تھی اسے
میں نے پوچھا ہے بہت خوش ہو نہ تم وہ شرابی ہونے کے باوجود وہ
تمھارا خیال رکھتا ہے لیکن مجھ سے تمھاری یہ خوشی برداشت نہیں ہو رہی کیونکہ تمھارے بھائ نے میرے لیے انتقام کو چنا ہے تو میں تمھیں عبرت نہ بناو ” پین مین تیل وہ گرم کر رہی تھی کیونکہ اس میں ابھی ہاف فرائ ایگ بنانا تھا ۔ عمر کے لیے
سوہا اسکے نزدیک آتی چلی گئ
سوہا اپی اپکو کیا ہو گیا ہے” ساز دور ہونے لگی
کچھ نہیں بس اگ لگی ہوئ یے مجھ میں لیکن وہ آگ کسی کو اپنی لپیٹے میں نہیں لے رہی اور تم وہ واحد لڑکی ہو جس پر یہ آگ کی لپیٹ ڈالے بنا میرے اندر لگی یہ آگ ٹھنڈی نہیں ہو گی “
اسنے پین پر ہاتھ مارا اور تیل ۔ ساز کے پاوں پر گیرہ
اہ”
وہ چلاتی کہ سوہا نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ کر زور سے دبا دیا ۔
آواز نہ نکلے تمھاری جس طرح تمھارے بھائ کی وجہ سے میری نہیں نکلتی
درد ہو رہا ہے نہ مجھے بھی بہت ہو رہا ہے ۔
بہت زیادہ ہو رہا ہے ساز جب کوئ اپنی محبت کو پا کر بھی اسے پا نہ سکے تو وہ ایسا ہی ہو جاتا ہے لیکن تم صرف میری ہر اس تکلیف کا نشانہ بنو گی جو میں تمھارے بھائ سے کھاو گی میرا اصل حدف ایزہ ہے اور میں اسے جان سے مار کر چین لوں گی”
ساز
کے انسو متواتر گیر رہے تھے وہ مچل رہی تھی تڑپ رہی تھی مگر وہ بھی اسی بے حسی میں کھڑی تھی جو وہ رات کو سہہ کر ائ تھی۔

اگر تم نے میرا نام لیا تو میں تمھارے ساتھ اس سے بھی زیادہ برا کرو گی
انڈا بناتے ہوئے تمھارا پاوں جل گیا اس سے زیادہ کچھ نہیں سمھجی” وہ دھاڑی
جبکہ ساز نے زور زور سے سر ہلایا ۔ کہ وہ سے بس چھوڑ دے
اسے شدت سے تکلیف ہو رہی تھی

وہ دور ہوئ اور ساز رونے لگی اپنا پاوں پکڑ کر ۔ سوہا نے دو قدم دور لیے کچن سے باہر دیکھا بدر آ رہا تھا
ارے ساز یہ کیا کر لیا تم نے” وہ جان بوجھ کر بولی ۔
بدر تیزی سے اندر ایا ۔ سوہا کی آواز سن کر
اور ساز کے جلے ہوئے پاوں دیکھ کر ایکدم اسکی سمت بڑھا
کس نے کیا یے یہ” اسنے سوہا کو خونی نظروں سے دیکھا لمہے بھر کے لیے سوہا کے قدموں تلے زمین نکلی کہ اسے اندازا ہو جاتا تو وہ اسے جان سے مار دیتا ۔
شاید تیل گرم کر کے اسکی چمڑی جلا دیتا
م۔مجھے نہیں پتہ”
دفع ہو جاو ۔ میں نے کہا دفع ہو جاو “
وہ دھاڑا ۔
میں تمھارا منہ توڑ دوں گا سوہا دفع ہو جاو ” وہ ہاتھ اٹھاتا کہ ساز نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا
سرخ چہرے اور انسووں سے تر آنکھوں سے دیکھا وہ پہچان گیا تھا یہ سوہا کا ہی کام ہے ۔
اپکے ہی کیے کی سزا ملی یے بھائ مجھے”
اسنے کہا
اور کھڑی ہو گئ
اور لڑکھڑاتی ہوئ چلتی وہ باہر نکلی کہ اس سے پہلے سوہا نکل گئ ۔
بدر نے مٹھیاں بھینچ لیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہلکی ہلکی سسکی کی آواز نے اسکی نیند کھول دی
اب کیوں رو رہی ہو “
وہ چیڑ گیا عجیب لڑکی تھی ہر وقت آنسو بس ۔ کوئ انسان اتنے بھی انسو نہ بھائے
آہ۔۔۔۔س۔۔سس”
ایکدم اسنے سر اٹھایا اور دیکھا صوفے پر بیٹھی وہ اپنے پاوں پر کچھ لگا رہی تھی وہ لمہوں میں اٹھا تھا ۔اس تک پہنچا
یہ کیا ہوا ہے کس نے کیا ہے تمھارا پاوں کیسے جلا شٹ بہت زیادہ جلا ہے یہ تو “
یو ایڈیٹ تمھیں کس نے کہا تھا کچن میں جاؤ “
وہ بھڑکا اور ساز منہ پر ہاتھ رکھے رونے لگی کہ وہ کافی تکلیف میں تھی
عمر نے اسے بازوں میں کسی نازک گڑیا کیطرح اٹھا لیا ۔
اور اسے یوں ہی لیے باہر نکلا سارے گھر نے یہ منظر دیکھا تھا کہ وہ اسے بانہوں میں لیے باہر بھاگا تھا گاڑی میں بیٹھایا اور ڈاکٹر کے پاس لے گیا ۔
بے غیرتی پھیلا دی اس کی بیٹی نے اس گھر میں”
تائ نجما کو دیکھتی چلائیں بدر بھی غصے سے جا چکا تھا تبھی سوہا سکون میں تھی لیکن جو طوفان ابھی ان سب پر آنا تھا اسکو کیسے روکتے ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں کہتی ہوں بھائ صاحب سے بات کرو اپنی بیٹوں کی شادیاں تو کر لیں نجما صحیح اپنی اولاد سے فارغ ہو گئ اب ساری زندگی بھی اس گھر میں گل سڑ کر کام کرتی رہے کسی کو بھلا کیا فرق پڑے گا میں اپنی بیٹوں کی عمر نکال دوں جا کر بات کریں بھائی صاحب سے ارہم اور صوفیا کی شادی کی
اور صنم کے لیے رشتہ لگوانے کی اجازت مانگیں میری بچیاں پرائ نہیں ہیں اسی گھر کا حصہ ہیں” ثروت چچی بولیں جبکہ چچا نے انھیں چپ رہنے کا کہا ۔ باہر سب سن لیتے اسکی یہ گفتگو ۔
مجھے نہیں فرق پڑتا سن لیں سب میں نے کہہ دیا یے میری بچیوں کا بھی انتظام کیا جائے” وہ بولی جبکہ ۔
غصے سے وہ لال ہو رہیں تھیں اور چچا بھائ کے خوف سے جوتیاں گھسیٹ رہے تھے کہ اب وہ باہر جائیں گے تو تایا جان انھیں کیا رویہ دیں گے لیکن جب وہ باہر آئے تو
ویسے ہی عمر بھی گھر میں داخل ہوا۔
ساز کو بازو میں اٹھایا ہوا تھا اسنے سنجیدگی سے اسے صوفے پر بیٹھایا ساز شرمندگی سے دھوری ہونے لگی
پین کلر لگا تھا تو اب تکلیف اور جلن کم تھی اسکے پاوں پر ٹیوب لگی ہوئ تھی ۔ ان دونوں کی جانب سب ہی دیکھ رہے تھے عمر پاس ہی بیٹھ گیا
کچھ دیر سر تھامے رکھا ۔
میں ۔میں ٹھیک ہوں” وہ اہستگی سے بولی کہ وہ معلوم نہیں کیا کرنے لگا تھا
وہ جھٹکے سے اٹھا اور ۔ سوہا جو صوفے پر ہی بیٹھی تھی خود بھی جھٹکے سے اٹھ کر پیچھے ہٹی
عمر کو علم نہیں تھا یہ کس نے کیا وہ صرف ڈیڈ کو یہ کہنا چاہتا تھا کہ ۔ آئندہ ساز کچن میں نہیں جائے گی لیکن سوہا کی حرکت نے اسے یقین دلا دیا کہ یہ سوہا نے کیا یے اور غصے سے دماغ جیسے مزید بھنا گیا
یہ تم نے کیا ہے” وہ اسکی سمت بڑھا
ہائے میری بچی یہ تو مار دے گا اسکو ارے تیری پھوڑ بیوی ۔ نے خود گرایا ہو گا اور چڑھ گئ اب تیری گود میں ڈرامے باز نوٹنکی کہیں کی بولتی کیوں نہیں اب منحوس “
زبان کو لگام دیں اپنی”
اور پھر جب وہ دھاڑا تو کسی کی جرت نہیں تھی اسکے سامنے بولے
تائ کی سیٹی ایکدم گم کو گئ ساز بھی کھڑی ہو گئ ۔
نجما ثروت صنم صوفیا بھی باہر ا گئیں جبکہ تایا جان نے ارہم کو خود روکا تھا کہ وہ نہ اٹھے ۔
ورنہ بات مزید بڑھتی وہ دونوں خوشی سے یہ نمنظر دیکھ رہے تھے
میں نے سوال تم سے کیا یے تم نے اسے جلایا یے” عمر اسکی جانب ایک اور قدم اٹھا گیا ۔
دیکھو میں تمھارا منہ توڑ دوں گا سیدھی طرح جواب دو “
وہ انگلی اٹھا کر مزید اسکی سمت بڑھا ۔ کہ اب برداشت جواب دے رہی تھی
اور سوہا کا لہجہ لڑکھڑا اٹھا اپنی سنگین غلطی کا احساس ہوا کہ بلاوجہ یہ کر کے اپنے پیچھے پڑا لیا تھا اسنے سب کو ۔
جواب دو ” وہ چیخا
اشفاق صاحب” تائ مری مری اواز میں بولی
مجھے نہیں پتہ میں کیوں ۔ میں وہ خود ۔
عمر” بدر کی آواز پر سب نے اسکی سمت دیکھا ۔
جو سوہا کے سامنے ا گیا اور سوہا جلدی سے اسکے پیچھے چھپ گئ ۔ سوہا ۔ نے حیرانگی سے اسکی شکل دیکھی لیکن عمر کے تیوروں میں ذرا بھی فرق نہیں آیا ۔
وہ انھیں تیوروں سے اسے گھورنے لگا ۔
ہاں یہ اسی نے کیا یے لیکن اس بات کا حساب کتاب میں اس سے خود لوں گا مزید اس گھر میں اسپر کوئ نہ چیخے تو بہتر ہو گا “
وہ بولا اور سوہا کی سمت دیکھا
ساز سے معافی مانگو گی اور
آئندہ تم ایسا کچھ نہیں کرو گی ” ساز مسکرا دی یہ اسکے بھائ نے اچھا کیا تھا بات بھڑنے سے رک جاتی لیکن وہ جانتی نہیں تھی سامنے ایک پاگل بھی کھڑا تھا جسے ان معافیوں سے کوئ غرض نہیں تھی ۔
اور اچانک ہی اسنے بدر کا گریبان اپنی مٹھی میں جکڑ لیا ۔
عمر” ساز نے جلدی سے اسکا بازو تھاما ۔ مگر اسنے توجہ نہیں دی
حمایت کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا یہ بدر زمان کی بہن نہیں عمر خیام کی بیوی یے اور ۔۔۔ میں نے تمھیں کچھ نہیں کہا کیونکہ تم میری بیوی کے بھائ ہو ۔ اپنی بیوی کو اسکی اوقات میں رکھو ورنہ میں اپنی پر اترا تو ایک ایک کو اسکی اوقات یاد دلا دوں گا ۔۔ ائندہ مجھے تمھاری بیوی ساز کے ارد گرد نظر نہ آئے ۔ ورنہ تمھارے سمیت اس گھر کی اینٹ سے اینٹ بجانا میرے لیے کوئ مشکل کام نہیں ” پھنکار کر کہتے اسنے بدر کو جھٹکا دے کر چھوڑا ۔
بدر نے دانت پیس کر اسے دیکھا ۔ اگر اسکے پیسوں کا مقروض نہ ہوتا تو ۔ اس بگڑے ہوئے انسان کو آج وہ اسکا گریبان پکڑنے کا مطلب سمھجا دیتا لیکن وہ خاموش رہا ۔
اینڈ ڈیڈ آج کے بعد ساز کچن میں نہیں جائے گی اس گھر میں ہزار عورتیں ہیں اپنا کام خود کریں اور کوئ ضرورت نہیں میرا اور میری بیوی کا بوجھ اٹھانے کی ۔ میرے پاس اتنا ہے کہ میں کوک رکھ لوں ۔ تو آئندہ کسی نے ساز کو کسی بھی کام کے لیے بلایا ۔ تو وہ اپنی شامت کا ذمہ دار خود ہو گا یہ اپنی بیوی کو سمھجا لیں کیونکہ میں سمھجانے بیٹھا تو لحاظ نہیں کروں گا ۔ اور ہاں
اسنے ساز کا ہاتھ پکڑا ہر شخص خاموشی سے اسے سن رہا تھا
میری بات سے اوپر بات ہوئ تو میں اس کو لے کر یہاں سے چلا جاوں گا پھر اپنے آئے ٹی ایم کارڈ کا انتظام کسی اور جگہ سے کیجیے گا ” وہ طعنہ بھی مار گیا کہ وہ انکے لیے کیا تھا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اوپر لے گیا ۔
بدر نے سوہا کی جانب دیکھا جو پہلی بار شرمندہ تھی ۔
تم ساز سے معافی مانگو گی
ارے کیوں مانگے گی میری بچی تیری بہن بڑی شہزادی۔۔۔
تائ جان” وہ دانت پیس گیا
اپنی بیوی سے بات کر رہا ہوں بہتر ہو گا بیچ میں مت بولیں”
وہ تیور بگاڑ کر بولا ۔
جبکہ اشفاق صاحب نے پیچھے سے آواز لگائ ۔
سوہا کچھ بولتی کہ بدر اسکا بازو سختی سے تھام گیا
مجھے مجبور نہ کرنا میں سب کے سامنے کوئ ری ایکشن لوں ۔ تم ساز سے ہر صورت معافی مانگو گی اور آئندہ گھر میں ایسا کوئ ڈرامہ نہ ہو میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ تمھارے آگے کھڑا ہوں ۔ اور ۔ اپنے بھائ کو سمھجا دینا میرے گریبان کو آئندہ ہاتھ نہ لگائے” وہ سختی سے اسے جھاڑتا باہر نکل گیا ۔
جبکہ تایا جان سر تھام گئے ۔
کیا ضرورت تھی یہ سب کرنے کی” اب انکا زلزلہ اترانا تھا سوہا سہم ہی گئ ۔ یہاں تک کے آنکھیں بھیگ گئیں اور بے بسی سے رو دی مگر ان لوگوں کو اسکے رونے سے زیادہ اپنے خرچے پانی کی پرواہ تھی جو عمر بند کر دیتا تو کیا ہوتا کیونکہ دوکان تو مال بھرنے کے باوجود نہیں چل پا رہی تھی ۔ عمر سے ہی ہر کچھ دن بعد اشفاق صاحب چیک لے رہے تھے اور وہ ایک بات تھی بنا کچھ کہے دے دیتا تھا ۔
ائندہ مجھے اس گھر میں یہ حرکتیں دیکھیں تو گھر سے نکال دوں گا میں ۔
سمھجا دو اپنی بیٹی کو ” وہ بھڑکے تائ جان بھی خاموش رہ گئیں ۔
کوئ ضرورت نہیں ہے ساز سے کام کرانے کی ۔ اسکا دماغ ٹھیک ہو جائے اسکے بعد دیکھا جائے گا پیسے دینا بند کر دے گا نہ وہ اس دن دیکھو گا تم سب کو روز جو مرغ مسلم ٹھونستے ہو یہ اسی کی مہربانی ہے اور یہ ” وہ سوہا کو دیکھ کر بولے
الگ کرو اسکا کھانا پینا بہت اکڑ ہے اسکے شویر میں تو اٹھائے سارا خرچہ خود اس کا کھانا پینا کپڑا بیل سب الگ کر دو “
اشفاق صاحب بیٹی یےا پکی” سوہا حیرانگی سے بال کو دیکھ رہی تھی ۔
اب یہ اس کی بیوی یے جو مجھے ایک لمہہ بھی برداشت نہیں جب دوکان کے کاغزات مل جائیں تو کر لینا سب ایک اس سے پہلے یہ الگ رہیں”
وہ اخبار پھینک کر چلے گئے
ناشتہ حرام کر دیا ” غصے سے بڑابڑائے تھے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اشفاق صاحب نماز کی ادائیگی کر کے واپس لوٹ رہے تھے ۔آج صبح جو کچھ ہوا انکا بی پی ہائے ہو گیا تھا ۔گھر کا سکون ہی غارت ہو گیا تھا انھیں اگر بدر سے بھی زیادہ کسی سے نفرت تھی تو وہ ساز تھی ۔یہ انکی سنگین غلطی تھی جو عمر کی شادی ساز سے کرا دی تھی ۔
بدر کو شیر بنانے والی ساز ہی تھی وہ اپنے شوہر سے پیسے نکلوا کر اپنے بھای کو دے رہی تھی یہ سوچ سوچ کر انکے غصے کا گراف بڑھتا ہی جا رہا تھا ۔
وہ گھر میں داخل ہوتے کہ انھیں کسی جاننے والے نے روک لیا ۔
ارے مولانا صاحب اسلام علیکم ” وہ جھک کر مودب ہو کر سلام کرنے لگا تایا جان نے سر ہلا کر جواب دیا اور پھر سے جانے لگے انکا جھوٹے منہ بھی کسی سے بات کرنے کا دل نہیں تھا ۔
کیسے ہیں آپ صحت اچھی نہیں لگ رہی ۔آج دوکان سے بھی جلدی لوٹ ائے” وہ ادمی بولا جبکہ تایا جان نے سر ہلایا بس بی پی ہائ ہو رہا تھا ۔” وہ بولے
اچھا وہ آپکے بڑے بیٹے عمر خیام کی وجہ سے” وہ ادمی طنزیہ مسکرا کر بولا تو تایا جان کو شدید غصہ چڑھا ۔ انکی عزت بہت تھی شہر میں وہ مولانا تھے اور اپنی بے عزتی وہ بھی عمر لی وجہ سے برداشت نہیں کر سکتے تھے
نہیں ایسا کچھ نہیں ” وہ بولے
تو پینا پلانا چھوڑ دیا اسنے”
تایا جان نے سر ہلایا
ہاں چھوڑ دیا وہ میرا اچھا بیٹا ہے وہ میرا نام روشن کرے گا اور مجھے امید یے بہت جلد ” وہ بولے جبکہ ساز کو ڈاکڑ کے پاس سے لانے کے بعد اسنے کوک کا انتظام کرنے کے لیے شہر کے ہر کوک پر کال گھما دی تھی لیکن محترمہ کا کہنا تھا وہ نہیں کھائے گی ۔وہ تو حیران تھا ایک لڑکی اسکو کیسے چلا رہی تھی اور وہ چل بھی رہا تھا
وہ باہر سے اسکے لیے اور اپنے لیے کھانے کو لینے گیا تھا ۔۔۔۔۔جبکہ ساز نے قسم کھا لی تھی کہ وہ تو نہیں کھائے گی وہ ہھر بھی زبردستی خود گیا تھا آرڈر بھی نہیں کیا تھا اور واپسی پر یہ ساری گفتگو اسنے سنی ۔
اور ۔ چند لمہے وہ ۔ باپ کو دیکھتا رہا جس کے چہرے پر بلاوجہ ہی امید نظر ا رہی تھی
اگر وہ انہیں خاموشی سے نوٹ نکال کر دے دیتا ہے ۔ اور اسنے یہ کہا کہ وہ اچھا بیٹا بنے گا تو یہ بات انھیں ماننی نہیں چاہیے تھی وہ کیسے کسی کو اتنے فخر سے بتا سکتے تھے وہ بھی عمر خیام کے بارے میں یہ انکے چہرے کا اطمینان یہ انکے چہرے کی خوشی ۔ عمر کے پہلو میں جیسے اگ سی لگ گئ ۔
ابھی تو معمہ ایزہ کا نہیں سلجھا تھا ۔وہ چند لمہے انھیں دیکھتا رہا اور پھر گاڑی سے نکلا ۔
لو عمر بھی ا گیا ۔
عمر” انکے پکارنے پر نہ چاہتے ہوئے بھی روکا ۔
یہ انکل مرزا ہیں ۔ پاس کریانے کی دوکان ہے انکی ۔ یہ میرا بیٹا عمر خیام ” وہ اسکے شانے پر ہاتھ رکھتے بولے حالات کچھ اور ہوتے تو وہ اس وقت اسکے دل کی خواہش کو پورا کر رہے تھے لیکن حالات ایسے نہیں تھے کہ ۔ وہ انکے اس ڈھکوسلے میں آتا ۔
اسنے ۔ انکی جانب دیکھا اور مرزا صاحب کے اگے بڑھے ہاتھ کو ۔
اور پھر مرزا صاحب کا ہاتھ اسنے اپنے ہاتھ کی آہنی گرفت میں جکڑ لیا ۔
وہ ذرا منہ بنا گئے ۔
اور عمر انکا ہاتھ چھوڑ کر ۔رسمی بھی مسکرانے کو اہمیت نہ دیتے ہوئے مڑا اور انکو دیکھ کر وہاں سے چلا گیا ۔
یہ وہ کیا کر رہا تھا اسنے اپنے ہاتھوں کی جانب اور پھر اپنے ہی کندھے پر اپنے باپ کا لمس محسوس کر کے وہ کھانا اور سامان وہیں پھینک گیا ۔
جتایا تھا خود کو کہ عمر خیام یہ نہیں مڑ کر باپ کو دیکھا اسکی تعریفوں میں زمین آسمان ایک کر رہے تھے اور اسکے اندر اس بات سے عجیب ہی جنوں ابھر رہے تھے
وہ مڑا اور دوبارہ گھر سے نکل گیا جبکہ ساز نے یہ منظر اوپر سے دیکھا تھا وہ نہیں جانتی تھی پل میں تولہ پل میں ماشہ تھا وہ لیکن وہ رزق کی بے حرمتی نہیں دیکھ سکتی تھی وہ انھیں جلے ہوئے پاوں سے دوڑ کر نیچے آیا اور سامان اٹھا لیا کھانا سارا پیک تھا تو نقصان تو کوئ نہیں ہوا تھا اسنے کھانا اٹھایا اور ۔ اوپر کمرے میں لے گئ ۔
معلوم نہیں اسے کیا ہوا تھا اب وہ پریشانی سے ادھر ادھر ٹہلنے لگی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔عمر کا سیل فون بجنے لگا وہ گاڑی تیزی سے ڈرائیور کر رہا تھا اسنے نمبر دیکھا کال نہیں اتھائ اسے ضرورت نہیں تھی فلحال وہ ۔ اپنے باپ کا نام روشن کرنا چاہتا تھا وہ کس حثیت سے اس کا تعارف ایک اچھے انسان کے طور پر کرا رہے تھے اور اسے اپنا بیٹا کہہ ہے تھے اج تک صرف وہ طوائف کا بیٹا تھا چند روپیہ دے کر وہ انکا بیٹا بن گیا اگر اسے دنیا میں کسی چیز سے سخت نفرت تھی تو وہ محبت تھی ۔ نہ وہ کسی سے محبت کرتا تھا اور نہ کرنا چاہتا تھا
یہ محبت نامی شے نہ اسے کبھی میسر ائ تھی اور نہ ہی وہ اس شے کو اپنی ضرورت بناتا ۔
جبکہ حال دل ایسا تھا جیسے ضرورت سے ہی زیادہ کمزور ہو کہ صرف محبت کی چاہت رکھتا تھا کوئ دو بول صرف اسکے لیے اس سے بولے تو سہی
لیکن اس وقت تو جنوں ہی الگ تھے ۔
اسنے سعود کو کال کی ۔
ہاں بولو ۔ عمر”
چوری کرنی ہے بڑا بڑا میرا نام انا چاہئے اخبار کے فرنٹ پیج پر عمر خیام نامی شخص نے بینک لوٹ لیا سنار کی دوکان یہ کچھ بھی جلدی بتاو آسان طریقہ کیا ہے “
وہ ایک سانس میں بولا
اوو بھائی پاگل ہو گیا ہے ” سعود حیرانگی سے بولا
پہلے بھی عمر کچھ ٹھیک نہیں تھا مجھے بتاؤ یار “
وہ بگڑ کر بولا
پاگل مت بن ہوا کیا ہے “
کچھ نہیں تو ا رہا ہے یہ میں اکیلا یہ کام کرو “
پولیس پیچھے پڑ جائے گی بہت بکھیڑے ہو جائیں گے” سعود نے اسے ڈرانا چاہا لیکن وہ عمر خیام ہی کیا جو کسی سے ڈر جائے ۔
میں دیکھ لوں گا وہ سب “
بھای مجھے جیل نہیں جانا” سعود صاف مکر گیا ۔
کچھ دیر عمر خاموش رہا تو سعود سر تھام گیا
اچھا ارہا ہوں کہاں مرنا ہے ” وہ بولا جبکہ عمر نے اسے سمجھایا ۔ وہ اسکے اس پاگل پن میں اسکا ساتھ دے رہا تھا کیونکہ اسکے علاوہ کوئ راستہ نہیں تھا وہ اور سعود بہت پرانے دوست تھے اور ہر جرم میں ساتھ تھے سعود نے ہی اسے پینے کی علت لگوائ تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے