Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 20,21
No Download Link
Rate this Novel
Episode 20,21
وہ اپنے ہی گھر کے دروازے کے باہر ایک بہت بڑی گاڑی میں بیٹھی تھی اسکی آنکھ سے پانی جھڑنے کیطرح بہہ رہا تھا لیکن قدموں میں ہمت ہی نہیں تھی اور جیسے بہت کچھ آنکھوں میں گھوم گیا
ابو پلیز مجھے معاف کر دیں کسی کا اس میں کوئی قصور نہیں ہے یہ یہ خط میں نے ہی لکھا تھا ” وہ گڑگڑائ تھی لیکن اسکے باپ نے اسکے شانوں کو پیچھے دھکیلا وہ اسکے قدموں میں بیٹھی تھی
بے حیا بے غیرت اسکی ماں نے اسے تھپڑوں اور مکوں سے مارنا شروع کر دیا ایک تو اتنا سنگین گناہ کرتی ہے اوپر سے منہ پھاڑ کر بولتی ہے یہ ہے نہ پھر اسی ناز کی نسل طوائفوں والی خصوصیت تو ہوں گی”
میں نہیں ہوں انکی بیٹی ” وہ جیسے اپنے ہی کانوں پر ہاتھ رکھ گئ وہ باتیں جن کو سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی یہاں ا کر کھڑے ہو کر وہ خود کو اذیت دے رہی تھی
میم آپ کا اڈریس ا گیا ہے”
آپ گھر چلیں” اس سے مزید نہیں سہا گیا اور ڈرائیور گاڑی آگے بڑھا لے گیا اسنے اپنی ہچکیوں کا گلہ منہ پر ہاتھ رکھ کر گھونٹ دیا
آپ کہاں لے جا رہے ہیں”
ایکچلی میم سر کی میٹینگ تھی اور میرے خیال سے وہ فری ہو گئے ہوں گے انھوں نے کہا تھا انھیں میں پک کروں”
مجھے پہلے چھوڑ دو گھر” وہ بولی
سوری میم سر نے کہا تھا اپکو ساتھ لاؤ “
تم غلام ہو انکے” وہ چیڑ گئ ڈرائیور کچھ نہیں بولا اور ایزہ چہرہ پھیر گئ
ایک قاتل کی ملازمت کرنے سے بہتر ہے بھیک مانگ لی جائے” وہ شدت جزبات سے بولی جبکہ ڈرائیور اب بھی کچھ نہیں بولا اور ایزہ کو احساس ہوا شاہنواز اتنی اثرورسوخ رکھتا ہے کہ پرندہ پر نہیں مار سکتا تھا اسکے آگے ۔۔۔
وہ خاموش ہو گئ اور آنسو رگڑ کر آنکھیں صاف کر لیں انکی گاڑی ایک بڑے سارے ہوٹل کے اگے رکی وہ گاڑی میں ہی بیٹھی رہی اور ڈرائیور چلا گیا
تھوڑی دیر بعد ا کر اسنے ایزہ کی سائیڈ کی کھڑی بجائ ایزہ نے اسکی جانب سوالیہ نگاہوں سے دیکھا
میم سر کہہ رہے ہیں اپ تھوڑی دیر اندر ا جائیں یہاں کچھ مزید وقت لگے گا “
مجھے اسکی ضرورت نہیں ” وہ بولی اور ادھر ادھر دیکھنے لگی
اب یہ سب اسکے لیے نیا نہیں تھا وہ جب اپنے گھر سے نکلی تھی تو اسلامہ اباد اسے کسی معجزے کیطرح لگتا تھا اسکی خوبصورتی اسکی عشقانہ سی ہوائیں اسے پریشان رکھتی تھیں کیونکہ بیس سالہ زندگی میں اسلامہ اباد میں گزارنے کے باوجود بھی وہ اسلامہ اباد کو دیکھ نہیں سکی تھی انکے ہاں لڑکیوں کا گھر سے نکلنا حرام تھا اور وہ تو مکمل حرام ہو کر نکلی تھی اپنے گھر سے ۔۔۔۔
لیکن شاہنواز نے اسے دنیا کے رخ اور کئ روپ دیکھائے تھے جنھیں ایزہ نہیں دیکھنا چاہتی تھی اور اسنے کتنا بڑا نقصان اس آزادی کے چکر میں اپنے گلے میں ڈال لیا تھا کہ ایک انسان مر گیا اسکی وجہ سے ۔۔۔
وہ کتنی دیر سوچوں میں بیٹھی رہی کہ اسے احساس بھی نہیں ہوا کہ وہ ا گیا ہے گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھا اور ایزہ کی جانب دیکھا جو انگلیوں سے کھیل رہی تھی جیسے اسے سے زیادہ اہم کام
کوئ بھی نہیں
ڈرائیور نے گاڑی سٹارٹ کی تو اس اواز سے وہ چونکی اور سر اٹھایا تو شاہنواز تھا اسی کو گھور رہا تھا
ایزہ نے چہرہ پھیر لیا
شاہنواز نے وہیں سے اسکی گردن پکڑ کر اپنی جانب موڑ لی
Don’t tease me izah “
وہ جیسے اپنے صبر کے پیمانے سے لبریز ہو رہا تھا
ایزہ کچھ نہیں بولی
شاہنواز مجھے درد ہو رہا ہے” وہ اسکا ہاتھ جھٹکنے کی کوشش کرنے لگی شاہنواز اسکی اس اکڑ پر بل کھا کر رہ گیا اسنے اسکی کمر میں ہاتھ ڈالا اور اسے اپنی ٹانگوں پر کھینچ لیا
شاہ” وہ حق و دق رہ گئ
تمھیں کیا لگتا ہے شاہنواز تمھیں رام نہیں کر سکتا ” وہ اسکی ویسٹ کو سختی سے اپنے ہاتھوں میں جکڑے خشک لہجے میں سوال کرنے لگا ایزہ نے افسوس سے اسکی جانب اور پھر ڈرائیور کو دیکھا
پلیز مجھے چھوڑیں ڈرائیور دیکھ رہا ہے” وہ جھنجھلائ
دیکھنے دو مجھے فرق نہیں پڑتا “
کس کس کو ماریں گے اپنی وجہ سے بے ہودگی آپ نے پھیلائی ہوئی ہے شاہنواز” وہ اسکے شانوں پر ہاتھ رکھتی دور ہونا چاہتی تھی
میرے اندر مزید عیب نکال لو ائ ڈیم کئیر مگر میری بیوی بن کر رہو مجھے اتنے نکھرے کسی عورت کے نہیں پسند ” وہ وارن کر گیا اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ۔۔۔۔۔
پلیز چھوڑیں ” ایزہ کا لہجہ بھیگ گیا
میں اس منظر کو دبارہ کونٹینیو کروں گا صرف اس شرط پر چھوڑ رہا ہوں” اسنے اسے آزاد کیا وہ نہایت شرمندگی سے ساتھ بیٹھ گئ
شاہنواز کو قطعی کوئ فرق پڑتا تھا اسکی کال ا گئ تبھی وہ موبائل پر بات کرنے لگا
اوکے ٹھیک ہے ا جانا”
افکورس یار میرے ساتھ کھانا رات کا کھانا ” وہ بول رہا تھا ایزہ کو اسکی پارٹیز اسکے یہ روز روز کے ایونٹ سے سخت نفرت تھی اسنے مڑ کر اسکی جانب دیکھا
اگر میرے گھر میں کوئ بھی آیا تو میں اسے گھر سے نکال دوں گی” وہ پہلے ہی ڈرائیور کی وجہ سے سڑی بیٹھی تھی تبھی بنا لحاظ کے بولی
شاہنواز نے مڑ کر اسکی شکل دیکھی جو فورا نگاہ پھیر گئ
یار ایک منٹ ذرا تم نہ آنا آج کل کرتے ہیں یہ پلین”
ہاں خیریت ہی ہے میری بیوی کے دماغ کا سکریو ڈھیلا ہو گیا ہے میں ٹائیٹ کر دوں ذرا پہلے اسکو ہی” وہ فون بند کر گیا
خاموشی سے اسے دیکھا جو مکمل نکھرے میں اسکی جانب سے رخ پورا موڑ گئ
شاہنواز باہر دیکھنے لگا
کافی سے زیادہ ضدی تھی اسے اب اندازا ہوا تھا ورنہ وہ تو اسے کسی اور طرح ٹریٹ کرتا تھا جیسے بے ضرر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گھر پہنچے تو ایزہ جلدی سے بھاگ جانا چاہتی تھی اور ہوا بھی کچھ یوں ہی وہ تیزی سے گاڑی سے نکل کر اندر بھاگی شاہنواز اندر آیا وہ لاونج سے ابھی اوپر کی طرف جاتی کہ شاہنواز نے اسے سیڑھیوں میں ہی جا لیا اور اچانک اسکے لبوں پر جھکا وہ اسے اپنا لمس یاد دلا رہا تھا کہ وہ نازک اندام لڑکی جو اسکا لمس سہتے کانپ اٹھتی ہے اپنی زبان اتنی کیسے چلا رہی ہے صرف ایک فہیم کے لیے جو مر بھی گیا ہے بھلا ایک مرے ہوئے انسان کے لیے کیا الجھنا کسی سے۔۔۔۔۔
شاہ” ایزہ نے دور ہونا چاہا شاہنواز نے اسکی گردن جکڑی اور ایک بار پھر سے جھکا وہ اسکے ہونٹوں کی نرمی کو شدت سے خود میں بھرتا اسکے اوسان خطا کر گیا
اسکی سانسوں کو جیسے خود میں کھینچ لیا کہ اسے ایک سانس لینے نہیں دے گا اور پھر ایکدم جھٹکے سے چھوڑا وہ سڑھیوں پر گیری
شاہنواز اسکے سامنے بیٹھ گیا
سب سے پہلی بات فہیم مر چکا ہے میں نے مارا ہے اور مجھے کوئی افسوس نہیں تمھاری طرف کوئی بھی نگاہ اٹھے گی میں اس نگاہ کو نوچ لوں گا “
دوسری بات جو تم نے ڈرامہ کچھ دنوں سے لگایا ہوا ہے اسے قابو میں رکھنا شام میں دادی جان ا رہی ہیں انکے سامنے بکواس کی تو زبان گدی سےکھینچ لوں گا
تمھاری زبان کے جوہر میں سہہ رہا ہوں اتنا کافی ہے ۔
تیسری بات میں ایک سوشل انسان ہوں میرے دوست اور میری کمیونٹی میں ایزہ شاہ ہر ایونٹ آئے روز اور اچانک ہی ہوتا ہے تمھیں اٹینڈ کرنا ہے کرو نہیں کرنا تو اپنی زبان بند رکھو “
اور سب سے اہم بات ۔۔۔۔
مجھے خود کو چھونے سے تم روک نہیں سکتی تو جتنے دن ریلیف کے میں نے تمھاری ضد کی خاطر تمھیں دینے تھے دے دیے اگر مزید تمھارے اس لیٹیل پیلو ڈرامے کی کوئ ایپیسوڈ رہتی ہے تو اسے ختم کرو اور اج رات کے لیے خود کو پریپئیر کرو
ڈریس ویل اینڈ آل سو لوکس ویل “
اب مجھے مزید تمھیں سمجھانا نہ پڑے” وہ اسکے جھکے ہوئے سر کو مطمئین ہو کر دیکھنے لگا کہ وہ کامیاب ہو چکا تھا اسکی اکڑ توڑنے میں لیکن ایزہ نے بھی تو ضد کا یہ رخ اسی سے سیکھا تھا
ایزہ چند لمہے یوں ہی بیٹھی رہی اور پھر سر اٹھایا
اسکے ہونٹ سرخ ہو رہے تھے جیسے ابھی خون چھلکا دیں گے
آپ مجھے آگ میں کودنے کا حکم دیں میں کود جاؤں گی لیکن مجھ سے یہ فرمائش نہ کیجیے گا ائندہ کہ میں اپکا بستر سجاؤ ” وہ کہہ کر اٹھ گئ
شاہنواز نے پیشانی پر ایک مکہ مارا اور کھڑا ہو گیا
فلحال تو میں دادای جان کو لینے جا رہا ہوں رات میں تمھارا دماغ سیٹ کروں گا “
آپ کر لیں سیٹ جیسے اپکا دل کرے میری بات وہیں کی وہیں ہے “
تم مجھے غصہ دلا کر اپنے لیے مشکل کھڑی کرو گی” وہ سنجیدگی سے بولا
ویسے کون سا آپکو مجھ سے محبت ہے جو اب غصہ ا جائے گا تو کچھ فرق پڑ جائے گا ” پٹاخ پٹاخ جواب دیے رہی تھی
اسنے بے رخی سے کہا
شاہنواز نے چبھتی نظروں سے اسکی پشت دیکھی
کسی انسان میں ملتی تھی اسکی یہ ضد ۔۔۔ وہ سر جھٹک گیا
اتنی سی لڑکی ہے وہ جب وہ اسپر چھائے گا تو دم بھی نہیں مار سکتی وہ سوچتا ہوا باہر نکل گیا ۔
آج دادی جان کو لینے جانا تھا اسکا کام اسلامہ اباد میں زیادہ تھا اور دادای جان وہاں انکا انتظار کیے جا رہی تھیں تبھی اسنے انھیں ادھر بلا لیا وہ خود ڈرائیو کر کے انھیں لینے ائیر پورٹ آیا انھوں نے اسکی بلائیں لیں اسے پیار کیا
شاہنواز مسکرا دیا انکا ہاتھ پکڑ کر گاڑی تک لایا اور گاڑی میں بیٹھایا
تیری بیوی کہاں ہے وہ کیوں نہیں آئی “
وہ پوچھنے لگی جبکہ شاہنواز نے گھیرہ سانس بھرا وہ تو بھپری بیٹھی ہے اب کیا بتائے وہ انھیں ۔۔۔
اسکی طبعیت ٹھیک نہیں تھی”
ہیں واقعی ماشاءاللہ ماشاءاللہ خوشخبری ہے ” وہ تو خوش ہو گئیں شاہنواز نے شانے اچکا دیے
دادای جان عام بیمار ہے وہ ۔۔۔
اب میں بیمار ہوں تو آپ کہیں گی پریگنینٹ ہوں میں”
چل ہٹ کیسی باتیں کر رہا ہے” وہ دبا دبا سا ہنسی وہ مسکرا دیا
موس موسی ہر وقت بیمار پڑی رہتی ہے ” وہ غصے سے بولیں جبکہ شاہنواز کچھ نہیں بولا
یہاں تک کے وہ گھر ا گیا اور دادی جان سارے راستے کچھ نہ کچھ اس سے گفتگو کرتی آئیں تھیں وہ لوگ گھر آئے اور لاونج میں بھی ایزہ کو نہ دیکھ کر دادی جان کا پارہ ہائی ہو گیا
کہاں ہے تیری بیوی کوئ ادب و آداب نہیں اس میں” وہ جھلا اٹھیں
ایزہ” شاہنواز کی پکار پر وہ جو اندر ضد باندھے بیٹھی تھی نہیں جائے گی بیٹھی ہی رہی
میں دیکھتا ہوں ” شاہنواز کو چار نچار اوپر چڑھنا پڑا
جبکہ دادای جان نے تو کان پیٹ لیے
توبہ توبہ انگلیوں پر نچانے والی لڑکیاں ا گئیں قیامت کا وقت ہے قیامت کا ۔۔۔
تم باہر کیوں نہیں آ رہی” وہ دراوازہ کھول کر غرایا
وہ مجھ سے ایک ہی سوال کریں گی” وہ جیسے رو دی
اب کیا ہے” وہ چیڑ گیا
نیچے آؤ ورنہ تھپڑ پڑے گا اب بلاوجہ جورو کا غلام بنوا دیا دادی کے سامنے ایک بیس سالہ لڑکی نے پینتیس سالہ مرد کو نچا رکھا ہے طعنے سننے کو ملیں گے
ہاو ڈریمی ” وہ بھنا گیا
کچھ نہیں کیا میں نے ہٹیں اب” وہ اسکے پہلو سے نکل کر نیچے آ گئ
دادی جان نے اسے گھور کر دیکھا
ایزہ شاہ تمیز تہذیب بھولی بیٹھی ہو شوہر ایا ہے تو نیچے آئی ہو
وہ بولیں ایزہ نے نفی کی
نہیں دادی جان میں نیچے ا ہی رہی تھی منہ دھو رہی تھی” وہ سر جھکائے بولی شاہنواز قریب صوفے پر ہی بیٹھ گیا
منہ تو تیرا خشک پڑا ہے” وہ کھوجتی نظروں سے دیکھتی بولیں
دادی جان چھوڑیں وہاں ڈرائیر بھی ہے کر لیا ہو گا خشک آپ بتائیں طبعیت ٹھیک ہے” وہ اسکی جان بچا گیا تھا
ارے ہاں طبعیت تو ٹھیک ہے مجھے اسی سے بات کرنے دو پہلے مزاج تو دیکھو اسکے کیسے بدل گئے ہیں تو نے بگاڑ لیا شاہ اسے” دادی افسوس سے بولی
ایزہ چپ رہی شاہنواز گھیرہ سانس بھر گیا
ہاں یہ بتا تیرے پاوں بھاری کیوں نہیں ہوئے ابھی تک ” وہ غور سے اسے دیکھتی بولیں
ایزہ کی پیشانی پر پسینے سے چھوٹے انکا پوتا بھی پہلو میں بیٹھا تھا اور سوالات کی بوچھاڑ تھی
تو میرے شاہ کو خوش نہیں کرتی نہ ” ایزہ چکرا گئ
یہ دادی میں کون سے سیل لگ گئے تھے جو ایسے بیہودہ سوال کر رہیں تھیں
بلکل بھی نہیں دادی جان” وہ سکون سے بولا ایزہ نے شاہ کی صورت دیکھی اسکے منہ پر مزےدار مسکراہٹ تھی جیسے وہ ابھی مزے لے رہا ہو ۔
اے شرم کر شرم منہ پر لعنت پڑ جائے گی شوہر کا حکم سب سے پہلے ہوتا ہے ۔۔
دادی جان آپ آپ چائے لیں گی” وہ ذرا جھجھکی سی بولی
دفع ہو چائے میرا بیٹا نہیں خوش تو میں کیا آچار ڈالوں اس چائے کا ” وہ منہ بنا گئیں
ایزہ چپ ہو گئ
چل جا لے ا ” وہ پھر بولی تو ایزہ کی جان چھٹی وہ جلدی سے بھاگ گئ
بولنے تو لگ گئ ہے” وہ جیسے جانچ پڑتال کرنے لگی
شاہنواز کو پہلی بار اس بات پر ہنسی آئی تھی
میری جان تو ہی کچھ کر لے آخر کب دیکھو گی اپنے پوتے پوتیاں میں” وہ بولیں تو شاہنواز انکی فرمائش پر کھل کر ہنسا اور بس سر ہلایا
وہ چاہتا ہی نہیں تھا اسکی کوئی اولاد ہو تو یہ فرمائش دادی جان کی پوری کیسے کرتا ۔۔۔
تادیر وہ دونوں باتیں کرتے رہے یہاں تک کے ایزہ چائے لے آئی دونوں کو سرو کی لیکن دونوں کا ہی دھیان اسکی طرف نہیں تھا وہ شکر ادا کرتی بیٹھ گئ
وہ شاہنواز کو دیکھنے لگی
کتنے سکون سے کسی کو قتل کر کے بیٹھا چائے پی رہا تھا ۔
اگر یہ بات دادای جان کو پتہ چل جائے” اسکی انکھیں چمکیں
لیکن انھیں کا پوتا ہے وہ تو اسی کی حمایت لیں گی ” وہ افسوس سے گردن نفی میں ہلانے لگی
اگر وہ خود پولیس کو بتا دے کہ اسکے شوہر نے ایک انسان کو قتل کر دیا ہے تو ” ایک اور سوچ آئی
لیکن وہ اتنا امیر ہے کہ پولیس کو بھی خرید لے وہ کرے تو کیا کرے کیا منہ دیکھائے گی اپنے رب کو “
وہ سوچتی ہی چلی گئ یہاں تک کہ دادای جان نے اسے پکڑ لیا
اب کیا بت بن کر پرانے باسی لباس میں بیٹھ گئ
اے بیٹی شوہر کے سامنے بیٹھی ہے بن سنور کر بیٹھ” وہ جھلائیں
اسے ان سات ماہ میں دادی جان کے اندر چھپی رومانس کی حسوں کی آج تک سمجھ نہیں آئی تھی
وہ بس یہ چاہتی تھی انکا پوتا خوش رہے وہ اٹھ گئ
شاہنواز نے کپ منہ سے لگا لیا
ایزہ کا دل کیا اسے گھور کر جائے مگر دادی جان
وہ چلی گئ ۔۔۔۔
آپ آرام کر لیں میری ایک اہم کال ہے میں ذرا وہ لے لوں” اسنے پیار سے کہا
دادی جان مسکرائیں اور اٹھ گئیں اسے دعائیں دیں
اور ایزہ کو پکارنے لگیں
بلکل ہی تمیز کھو گئ ہے یہاں ا کر تو نے سر پر چڑھا لیا ہے اسے کیسے طوطے کیطرح زبان چل رہی تھی ۔۔۔ وہ بولیں
شاہنواز کچھ نہیں بولا انھیں روم میں لے آیا
اپ آرام کریں میں آتا ہوں” وہ بولا اور چلا گیا
اسکی ضروری کال تھی وہ سٹیڈی میں چلا گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایزہ اپنے کمرے میں ا گئ
میں تو بلکل تیار نہیں ہوں گی ایک قاتل کے لیے” وہ پہلو بدلتی سوچتی جا رہی تھی لیکن دادی جان کا کیا کرے وہ ا گئیں تھیں اب اسے چین نہیں لینے دیں گی وہ جانتی تھی سب سے زیادہ فوکس انکا اسی بات پر ہو گا کہ کسی طرح انکے پوتا پوتی ہو جائیں ۔۔۔
وہ جھنجھلا کر واشروم میں چلی گئ
پیچھے شاہنواز کمرے میں آیا
کمرہ خالی تھا اسنے ائ برو کو جنبش دی اور پھر گمان ہوا ہو گئ اب سیدھی لیکن ایزہ کو ویسے ہی حلیے میں واشروم سے نکلتا دیکھ گھیرہ سانس بھر گیا
فہیم کا مرنا اسکے لیے وبال کھڑا کر گیا تھا
میں اپکے لیے تیار نہیں ہوں گی” وہ اسکے سامنے کھڑی ہوئی
مجھے تمھاری تیاری کی ضرورت بھی نہیں ہے جو مجھے کرنا ہے اسکے لیے میں اکیلا ہی کافی ہوں” وہ اسکی انکھوں میں دیکھتا جتاتی نظروں سے بولا
اسکا اطمینان ایزہ کو بہت برا لگا پیچھے ہٹ گئ
دادی جان کے پاس چلی جاؤ وہ تمھاری زبان کے جوہر سے خفا ہو رہی ہیں چونچ تھوڑی دیر بند کر لو ” وہ ذرا اسکے اٹیٹیوڈ پر جھلایا
جا رہی ہوں اپکو بتانے کی ضرورت نہیں ہے” وہ دروازہ زور سے مارتی چلی گی
وہ پیچھے بس ایک لمہے کے لیے سوچ میں پڑا
کتنی بدتمیزی ہے یہ لڑکی اور نفی میں سر ہلا گیا
یہ عجیب جنگ چل پڑی تھی اچھی بھی لگ رہی تھی اور بری بھی وہ خود پر افسوس کر گیا
صرف بیس سالہ لڑکی کے رویے پر وہ کنفیوز ہے کہ آخر اسے کس طرح ڈیل کرے ۔۔۔۔
ایسے پٹاخ پٹاخ جواب تو سننے کی عادت ہی نہیں تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خاموشی سے بیٹھی وہ دیوار کو گھور رہی تھی کہ گزشتہ مناظر اسکی آنکھوں میں مسلسل گھوم رہے تھے
تائی جان کے الفاظ کسی خنجر سے کم نہیں تھے اسکے وجود کو آر پار کر گئے جبکہ اسنے مڑ کر دیکھا تو وہ جیسے اپنے الفاظ کی دھاڑ سے واقف تھیں اور شاید سوہا چچی صنم اور صوفیا بھی ان سب کے چہروں پر اطمینان کی فضا نے ساز کو یوں انکے بیچ میں کھڑا کر دیا جیسے وہ تپتی دھوپ میں تنہا کھڑی ہو
جیسے اسکا کوئی سائیاں نہیں جو ان لفظوں کی پوچھ پڑتال کرتا جبکہ اسکی ماں ایک طرف دنگ کھڑی تھی اور اوپر اسکا شوہر تھا
اسکے ہاتھ پاوں کانپے اسنے قدم کچن کی سمت بڑھا لیے
تائی مسکرا رہی تھی باقی سب بھی ۔۔۔
شوہر ہے وہ اسکا ” اسکی ماں بولی جبکہ تائی نے ہاتھ کے اشارے سے اسے جھڑکا
اور اپنے الفاظ کی سنگینی کو محسوس کیے بنا ہی وہ دوسری طرف رکھ موڑ گئیں ارہم بھی ہنس رہا تھا جبکہ ساز کچن میں ا گئ اور کچھ ہی دیر میں اشفاق صاحب بھی ا گئے
بہت بھوک لگی ہے کچھ کھانے کو دے دو ” وہ صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولے
آ ہاں اے ساز کھانا وانا بنایا ہے یہ یوں ہی نکمی بیٹھی تھی” وہ چلائیں
کھانا بنا ہوا ہے بھابھی لگا دوں” اسکی ماں بولی تھی
اس میں ہمت نہیں تھی وہ جواب دیتی
ہاں تو احسان نہیں کیا مفت کے ٹکڑے بھی یہیں سے کھاتی ہو تم دونوں چلو کھانا لگاؤ ” وہ اٹھ کر کچن میں ا گئیں
ساز پلیز کھانا سرو کر کے میرے پاؤں دبا دینا بہت دکھ رہے ہیں” سوہا بولی ساز کا جھکا سر اٹھ ہی نہیں سکا
ویسے ساز اچھی مساج کرتی ہے” وہ سب اٹھ کر وہیں آ گئے تھے
صنم بھی بولی جبکہ صوفیا نے بھی سر ہلایا
تو تم دونوں بھی کرا لینا اتنا تو تھک گئے ہیں سب ” تائی نے کہا تو سب نے سر ہلا دیا
وہ اب بھی سر جھکائے کھڑی کھانا نکال رہی تھی اسنے اور اسکی ماں نے ہی کھانا لگایا اور سب ٹیبل پر کھانا کھانے بیٹھ گئے
میرا دل نہیں کر رہا کچھ دیر تک کھا لوں گی” اسنے نجما سے نگاہ چراتے ہوئے کہا اور سائیڈ پر بیٹھ گئ
ساز ارہم کے لیے تازہ پھلکے ڈال دو ” تائی نے اسے بیٹھنے دینا ہی نہیں تھا وہ کچن میں دوبارہ آ گئ اس کی ماں سے لقمے حلق میں اتارنا نہایت مشکل ہو گیا
وہ ایک کے بعد ایک لا لا کر دیتی رہی اور سب کھانے میں اور گفتگو میں مصروف تھے
تبھی سیڑھیاں اتر کر عمر خیام نیچے آیا اور شاید عمر خیام آج سب کی نظروں کو حیران کر گیا تھا
وہ نہایت حسین لگ رہا تھا اسکی سر سے پاوں تک مہنگے ترین ڈریسنگ اسکی ڈریسنگ سینس پھر ناک پر بیٹھا نکھرا اور آنکھوں کو چھپائے گاگلز وہ اس وقت کیجول گرین کوٹ نیچے وائیٹ شرٹ اور بلیک پینٹ میں تھا
ساز” اسنے پکارہ سب کے لقمے عمر کو دیکھ کر رکے تو تھے مگر منہ تک جا رہے تھے
لیکن اتنے سر عام اس پکار پر تو جم ہی گئے جیسے ان لقموں کو سردی حد سے زیادہ لگ گئ ہو
چلو ” وہ بولا
ساز نے سر اٹھایا
مجھے نہیں جانا آپکو بتایا تھا میں نے” وہ سرخ چہرے سے بولی
چیک واپس کرو میرا ” وہ سٹریٹ فاروڈ تو شروع سے ہی تھا وہ بے چارگی سے اسکی صورت دیکھنے لگی
پہلے ہی اسکا دم نکلا ہوا تھا اور اسکی بات پر اسکی انکھ سے آنسو چھلک پڑے
ہے ہے وائے ار یو کرائینگ” وہ اسکے نزدیک ایا
چھو تو سکتا نہیں تھا وہ سر جھکائے سسکنے لگی
وٹس گوئینگ ان” وہ اسکے اسطرح رونے پر اسکی صورت تکتا سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا
ک۔۔کچھ نہیں آپ لے لیں چیک” اسنے اپنے مٹھی کھول دی
اچھا بھئی نہیں لے رہا کیوں رو رہی ہو ” وہ اسے پھر سے اپنا رومال دے گیا اور آج ساز نے وہ تھام بھی لیا اسکے رومال میں بھی خوشبو تھی
گندہ ہو گیا یہ” وہ پریشان ہوئی
تمھارے آنسوؤں سے ” وہ نفی میں سر ہلاتا دوبارہ کھینچ گیا اس سے ۔۔۔
رونا دھونا بند کرو اور چلو میں نے سب ارجنٹ کرایا ہے “
تایا جان نہیں جانے دیں گے اور ۔۔۔ اور میں اپنی امی کو چھوڑ کر”
وہ بولی
جب تمھاری امی محترمہ تمھیں چھوڑ کر گئیں تھیں تب تو کچھ نہیں ہوا تھا “
وہ امی ہیں میری”
میں کیا کروں خیر بحث نہ کرو باہر آؤ اور چینج کر لینا ائیر پورٹ پر لوگ دیکھیں تو تمھیں میری میڈ نہ سمجھیں ” اسکی اپنی ہی دھن تھی یہاں جو وہ کہہ رہی تھی اسپر بلکل دھیان اور توجہ نہیں تھی ۔۔۔
ساز پھر سے روٹیاں بنانے لگی
تم ایسے نہیں مانو گی” عمر نے اسکا ہاتھ جکرا اور یوں ہی اسے باہر کھینچ لیا
ساز حیرانگی سے اسکے ساتھ کھنچتی ہوئی باہر آئی
عمر ” تایا جان کی آواز پر رک گیا
کہاں جا رہے ہو ” وہ پوچھنے لگے
تھائی لینڈ ” وہ سکون سے بولا
اور انکے گھورنے کا مزاہ لیا
ٹھیک ہے ساز کو کہاں لے جا رہے ہو “
تھائ لینڈ ” دوسری بار بھی سکون سے جواب آیا تو ایکدم سب چلا اٹھے ۔۔۔
عمر نے سب کی جانب دیکھا
امی ساز تھائی لینڈ جائے گئ ” سوہا تو مچلی
صنم صوفیا کا بھی حال مختلف نہیں تھا بات تھی کہ بم کیطرح گیری تھی
ائے ہائے بیٹا ہمارے گھر کی لڑکیاں گھروں سے باہر نہیں جاتی “
آپکے گھر کی نہیں جاتی میں اپنے گھر کی لے جا رہا ہوں” “استغفراللہ
تائی نے کانوں کو ہاتھ لگا لیں
تمھیں سمجھ نہیں آیا تمھاری ماں نے کیا کہا ہے ہماری عورتیں گھروں سے باہر نہیں جاتی”
“یہ اول تو میری ماں نہیں ہے دوسرا آپکی عورت کو نہیں لے جا رہا اپنی کو لے جا رہا ہوں
اپکو کیا تکلیف ہے” وہ سیدھا بولا
عمر “
ڈیڈ” وہ انگلی اٹھا گیا
don’t interrupt in my persnal affairs .
سنجیدگی سے وہ انکا منہ بند کرا گیا
ارے کیوں تیرے معملے میں نہ بولیں بھلا بچی ہماری ہے ۔
ساز بیٹا میری جان اندر جاؤ تم”
آج سے پہلے اتنا شریں لہجہ کبھی نہیں تھا انکا
ساز نے عمر کی جانب دیکھا
ساز جاؤ اندر ” تایا بھی جیسے دبا دبا سا چلائے
وہ اپنا ہاتھ چھڑانے لگی سب دیکھ رہے تھے لیکن یہ بات اب عمر کی ضد تھی اسنے ان سب پر سرد نگاہ ڈالی اور اسے لیے باہر نکل گیا
امی” سوہا نے پاؤں پیٹے
تو تو چپ کر “
عمر وہ لوگ مجھے مار دیں گے پلیز ایسا نہ کریں ” ساز خود کو چھرانے لگی
گاڑی میں بیٹھو ” وہ دروازہ کھول گیا
پلیز ضد نہ کریں مجھے کہیں نہیں جانا ” وہ بے بسی سے بولی
گاڑی میں بیٹھو ساز میرا دماغ خراب نہ کرو ” وہ دھاڑا
ساز کا دم سا خشک ہوا
جبکہ باقی سب جو پیچھے پیچھے ا رہے تھے وہیں تھم گئے
بہت غلط کر رہے ہو تم ” اشفاق صاحب پھنکارے
میرے مال پر پل رہا ہے آپ کا یہ خاندان آئندہ میری بیوی کے معملات میں کسی کی زبان نہ کھلے”
اشفاق صاحب جانے سے پہلے اس سے بیس لاکھ لے کر گئے تھے تاکہ دوکان میں کپڑہ ڈال کر کاروبار کو تیزی میں لے کر آئیں اسنے خاموشی سے دیے تھے
انکا منہ سب کے سامنے اتر گیا جبکہ وہ دوبارہ گاگلز لگاتے وہاں سے گاری میں سوار ہوا
سر پھرا تھا کون نہیں جانتا تھا
اسنے اپنی گاڑی باہر نکالی اور اس گھر سے نکل گیا
پیچھے سوہا نے پاؤں پٹخ ڈالے
صنم صوفیا تلملا گئیں ثروت بھی بے چین ہوئی اور تائی جان تو غصے سے گالیاں دینے لگ
قسط 21
اپکو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا وہ لوگ بہت برا کریں گے میرے ساتھ”
وہ ایک ہچکی بھرتی بولی
زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم بتاؤ ” وہ نارملی پوچھ رہا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ہو
آپکی امی مجھے ماریں گی” وہ بولی
ایک تو یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے کہ وہ میری ماں نہیں ہے یہ بات مجھے ہر کسی کو بتانی پڑ رہی ہے ” وہ بگڑا
میرا مطلب تائی جان” وہ سنبھل گئ
جان بھی لگانا ضروری نہیں تھا اسکے آگے تائی چڑیل کہو ” وہ سنجیدہ تھا
میری امی نے بدتمیزی نہیں سیکھائ مجھے” وہ منہ بن کر بولی
غلامی سیکھائی ہے” اسنے سر جھٹکا ساز شرمندہ ہو گئ
وہ تمھیں مارتی بھی ہیں” اسے جیسے یاد آیا اسکی پیشانی پر بل تھے ساز نے ایک نگاہ اسے دیکھا اور پھر سر جھکا گئ
تو تم پاگل ہو جو ان سے پیٹتی ہو ایک گھما کر لگاؤ ہوش ٹھکانے لگیں اسکے” وہ بھنایا
ہر کوئی عمر خیام نہیں ہوتا ” وہ بولی جبکہ عمر کے لبوں پر مسکراہٹ ا گئ
ڈو یو نو تم میرا نام بہت پیارا لیتی ہو “
میں فکر میں ہوں عمر ” وہ جھنجھلائ
بے کار فکر ہے نہ ساز ” وہ اسی کے انداز میں بولا
اب اب کیا ہو گا ” وہ ناخن چبانے لگی عمر نے ناگواری سے اسکی سمت دیکھا
تمھارے اندر ہر گندی عادت ہے” وہ بولا
میں شراب نہیں پیتی ” وہ منہ بنا کر بولی
بس یہ زبان میرے آگے ہی کھلتی ہے یہ نیا نیا کورس کر رہی ہو اور مجھ پر اپلائی کر رہی ہو سب سے پہلے “
اپکو یہ مذاق لگ رہا ہے ” وہ پریشان تھی
تمھیں کوئ کچھ نہیں کہے گا ڈونٹ وری اور یہ بار بار نہیں کہو گا تو اب سر نہ کھانا ۔۔۔
کیسے نہیں کہے گا آپ تو پی لیتے ہیں تو یہ بھی یاد نہیں ہوتا کہ اپکی کوئی بیوی بھی ہے میں آپ پر کیسے بھروسہ کر لوں” وہ باہر گزرتے راستے کو کبھی اسکو دیکھتی بے چینی سے بولی
سریسلی سریسلی کبھی میری کسی نے اتنی انسلٹ نہیں کی اور مجھے یہ سمجھ نہیں آتا میں تمھاری اتنی بکواس سنتا کیوں ہوں” اسنے گاڑی کو گھمایا
ساز منہ بسور گئ
کہاں جا رہے ہیں ہم” وہ سوال کر گئ کیونکہ اسے یقین تھا وہ تھائی لینڈ نہیں جا رہے اتنی جلدی ویزا پاسپورٹ کیسے ہو سکتا تھا سب ۔۔۔۔۔
تھائی لینڈ” وہ سکون سے بولا
میرا اور اپکا مذاق نہیں ہے ” وہ سر جھٹکتی باہر دیکھنے لگی
عمر اس بے عزتی پر ائ برو اچکا گیا
اب تھائی لینڈ جانا کون سا معجزہ تھا جو اسے یقین نہیں تھا
وہ کچھ نہیں بولا
اور ائیر پورٹ کا سفر یوں ہی چلنے لگا ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ ساز ایکدم چلائی
عمر” اسنے اسکی جانب گردن موڑی
میں نے بھائی کو پیسے نہیں دیے پیسے تو میرے پاس ہیں انھوں نے دوبئ جانا ہے آپ مجھے میرے بھائی کے پاس چھوڑ دیں پلیز ” وہ پریشانی سے بولی
ڈونٹ وری میں اسے سینڈ کر دوں گا اکاؤنٹ نمبر دے دو مجھے” وہ اپنا موبائل نکالتا بولا
کیسے سینڈ کریں گے پیسے تو میرے پاس ہیں” وہ اسے مڑا ہوا چیک دیکھانے لگی
Saaz I have balance I’ve my account so give me your brother’s account number?
وہ سوالیہ نظروں سے سے دیکھنے لگا
وہ تو نہیں پتہ” وہ شرمندہ ہوئ
ٹھیک ہے موبائل نمبر دو” وہ ڈائل کرنے لگا
جبکہ ایک ہاتھ سے ڈرائیو کرتا وہ کسی بھی انگلش فلم کا ہیرو لگ رہا تھا جو ساتھ بیٹھی لڑکی سے پک چکا تھا
وہ ۔۔۔ ” ساز کو لگا اب وہ رو پڑے گی
کیا ” عمر کو اسکی میسنی شکل پر صاف دکھائی رہا تھا کہ وہ اسکا نمبر بھی نہیں جانتی
اور یہ بہن بھائی ہیں” اسنے غصے سے گھورا
انھوں نے کبھی نہیں بتایا “
للو ۔۔۔۔
تمھارا بھائی نہیں تم ہو “
استغفار کریں ایسے لفظ استعمال نہیں کرتے”
ماں نہ بنو میری” وہ غصے سے گاڑی دوبارہ موڑ گیا کیونکہ وہ یوں ہی اچھلتی رہتی اگر وہ اسکے بھائی تک پیسے نہ دیتا
جبکہ ساز بڑبڑائی
اللّٰہ نہ کرے” عمر اسکی بڑبڑایٹ سن گیا تھا اسنے گردن مور کر ایک نظر اسکو دیکھا ساز کا دل دھک سے رہ گیا
وہ کاغذ سے زیادہ سینیٹر تھا اس موضوع کو لے کر ۔۔۔
میرا مطلب ۔۔ میرا مطلب ہمارا رشتہ کچھ اور ” عمر نے گاڑی کی سپیڈ بڑھا لی
اسکی ماں طوائف تھی یہ بات تو اسے کبھی زندگی بھولنے نہ دیتی
وہ دوبارہ گھر پہنچے
اور قسمت سے انھیں اندر جانا نہیں پڑا بدر اپنی بائیک سے دروازے پر ہی الجھ رہا تھا
عمر نے میرر نیچے کیا اور بدر کو اشارہ کیا
ہیلو ” ؟ اسکی آواز گونجی سنجیدگی اسکے لہجے سے چھلک رہی تھی
بدر مڑا اور اپنی بہن کو اس عالیشان گاڑی میں دیکھ کر اسکے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئ جبکہ ساز شرمندگی سے سر جھکا گی
کہ وہ بھائی کے سامنے اسکے ساتھ کیسے بیٹھی تھی
اپنا اکاؤنٹ نمبر دو ” بنا سلام دعا کے دو توک بات کی تھی اسنے بدر کو اسکا انداز تو بہت برا لگا لیکن فلحال کچھ نہیں بولا اپنا نمبر دیا اور عمر نے کھڑے کھڑے اسے پیسے سینڈ کر دیے اور بنا کچھ بولے پیچھے گاڑی لی ۔۔۔
ساز نے اسکی جانب دیکھا سنجیدگی سے ڈرائیو کر رہا تھا
یہ لیں” اسنے وہ چیک دے دیا
تم رکھ لو ” وہ نروٹھا نروٹھا سا لگ رہا تھا
میں اتنے پیسوں کا کیا کروں گی”
ساز کو کچھ سمجھ نہیں آئی
تو پھینک دو ” اسنے موڑ کاٹا
ساز کو برا لگا معلوم نہیں کیوں ؟
اسکے چہرے پر اسکی ماں کے نام سے سایہ سا کیوں لہرا جاتا تھا یہ تو وہ ان سے بے پناہ محبت کرتا تھا یہ پھر بے پناہ نفرت کیونکہ انکے متعلق کوئ اچھی یہ بری بات سہہ نہیں پاتا تھا اور تائی جان نے جو کچھ کہا اگر اسے پتہ چل جائے اسکا دل بہت دکھے گا وہ چہرہ موڑ گئ
ہم واقعی ملک سے باہر جا رہے ہیں” ساز کو یقین اب بھی نہیں تھا
اپنی چونچ بند رکھو ” اسنے گاڑی کی سپیڈ بڑھا لی
ساز چپ ہو گئ
وہ بھی عجیب تبدیلیاں خود میں محسوس کر رہی تھی یہ تو اسنے ہنگامہ مچایا تھا کہ وہ اس نشئ سے شادی نہیں کرے گی اور اب اسکے سامنے نان سٹاپ کسی ریڈیو کیطرح بولتی تھی وہ اس چیک کو ڈیش بورڈ پر رکھ گئ
عمر نے ایک نگاہ غلط بھی نہیں ڈالی
پانچ لاکھ روپے تھے کوئ عام بات تو نہیں تھی
اسنے فکرمندی سے دیکھا مگر مجال ہو اس پر کوئ اثر ہو رہا ہو وہ اتنی بڑی رقم دھیان سے رکھ بھی لے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بدر مطمئین سا گھر کے اندر ایا تو گھر والوں میں عجیب کھلبلی سی تھی وہ کچن میں چلا گیا کیونکہ اسکی ماں کا ٹھکانہ وہ ہی تھا
کیا ہوا ہے یہ باہر اتنا سخت ماحول کیوں ہے ” وہ جاننا چاہتا تھا اسکے سارے معملات پورے ہو گئے تھے اور جس سے ادھار لے کر اسنے یہ کام کروایا تھا اب اسے پیسے بھی فورا سینڈ کر دیے تھے وہ خوش تھا زندگی نے اسے بہت اچھا چانس دیا تھا
ساز کو عمر اپنے ساتھ لے گیا ہے وہ معلوم نہیں کون سی جگہ ہے تائی لینڈ”
کوئ بچوں کی جگہ لگ رہی ہے گھمانے لے گیا ہو گا ” وہ خوشی سے بولیں
تھائی لینڈ” بدر حیران رہ گیا اور پھر ہنسنے لگا
وہ تائی لینڈ نہیں ہے تائی جان آپکے سر پر سوار ہو گئ ہیں وہ تھائی لینڈ ہے اور آپکی بیٹی ملک سے باہر جا رہی ہے” وہ تفصیلاً بولا تو نجما لبوں میں انگلی دبا گئ
ہیں ساز ملک سے باہر گئ ہے” وہ حیران ہوئی
ہاں” وہ بولا تو نجما مسکرا دی
بس عمر شراب پینا چھوڑ دے تو دل کا بڑا نہیں ہے”
ہاں یہ تو ہے دل کا برا نہیں ہے خیر اپکو کچھ بتانا تھا ” وہ بولا
کیا ” نجما نے اسکی جانب دیکھا
امی وہ میں دوبئی جا رہا ہوں وہاں بہت اچھی جاب لگی ہے میری تعلیم دیکھیں میرے اس طرح کام آئی ہے تین لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ ہے
ہماری زندگی بدلنے والی ہے” وہ بتانے لگا نجما کی آنکھیں پھیل گئیں
ہیں تین لاکھ روپے”
ماہانہ” اسکے تو اٹک ہی گئے
جی ” بدر خوش ہوا کہ وہ پہلے کیطرح رویہ نہیں دے رہیں تھیں
بدر بچے ” انھوں نے اسکی پیشانی چوم لی
اتنی اچھی تنخواہ ۔۔۔
کہاں ہے دوسرے دوسرے شہر میں ہے” وہ اسکا چہرہ تھامتی بولی
بدر نے انھیں سینے سے لگا لیا
دوسرے ملک ہے امی لیکن دو ڈھائی گھنٹے کا سفر ہے ایک بار اچھے سے کمانے لگ جاؤں پھر آپ دیکھنا آپکو اپنے اس بلا لوں گا ” وہ بولا
تو بھی دوسرے ملک جا رہا ہے تم دونوں کے بنا میں یہاں کیا کروں گی” وہ سوالیہ نگاہوں سے اداسی سے بولیں
بدر کچھ کہت کہ خود ہی گھیرہ سانس بھر گئیں
کچھ نہیں ہوتا بیٹا یہ وقتی اداسی ہے یقینا میرا اللّٰہ میرے دن بدلنا چاہتا ہے تو جا اور اچھے سے محنت کرنا ” وہ شاید خود بھی آزاد ہونا چاہتی تھیں تبھی بولیں
بدر نے انکے ہاتھ چوم لیے
میں بہت جلد آپکو بلا لوں گا ” اسنے کہا
تو نجما کی آنکھوں میں جو نمی تھی بیٹے کی خوشی کے آگے چھپا گئ ۔
اچھا تو یہ تو بگاڑ رہی ہے ان دونوں کو ” تائی جو کچن میں چائے کا کہنے اور نجما کو باتیں سنانے ا رہی تھی وہ چلائی تو دونوں نے انکی جانب دیکھا
ارے دیکھ لیں آپ آپ کی یہ بھاوج اپنی اولاد کو ہوا دیتی ہے اور تو تو کہاں سے دوبئی جانے والی شکل لے آیا ہے تیرے پاس اتنے پیسے کہاں سے آئے یہ دونوں بہن بھائی چور ہیں کہہ دیتی ہوں”
عمر سے لیے ہیں آپکے پاس ایسا کچھ نہیں جو چرایا جائے اگر میں خستہ حال ہوں تو آپ بھی ہیں اب بلاوجہ بولنے کی ضرورت نہیں ہے” ہائے اللّٰہ میرے بچے کو لوٹ لیا اس چھوکرے نے” تائی کے لیے عمر اچانک ہی بچہ ہو گیا تھا
ارے سن بھی رہے ہیں عمر سے پیسے لے کر دوبئی جا رہا ہے بدر صاحب” وہ تایا جان سے بولیں جو جھٹکے سے کھڑے ہو گئے اج تو ساز اور بدر نے حیران و پریشان ہی کر دیا تھا سوہا کے قدموں تلے تو زمین کھسک گئ
کیا کہا دوبئی” تایا جان کو یقین نہیں آیا
عمر نے تمھیں کب پیسے دیے” وہ غصے سے بھڑکے
جب بھی دیے دے دیے میں دوبئ جا رہا ہوں ” وہ سکون سے بولا
تیری کھال بدن سے نا کھینچ لو نکل کر دیکھا تو یہاں سے میری بیٹی تیرے لیے کیا ساری زندگی بیٹھی رہے گئ” وہ دھاڑے
آپکی بیٹی اپکا مسلہ ہے میرا نہیں یہ منگنی زبردستی کی تھی اور آج تک بھی اگر ہے تو بھی زبردستی کی ہی ہے اپ نے اس سے پہلے بھی اپنی مرضی کی تھی اور اس لڑکی کو بھی اپنی مرضی میرے سر پر تھوپا تھا ” بدر کو جیسے بہت کچھ یاد آیا
تایا جان آگے بڑھے اور کھینچ کر تھپڑ مارنا چاہا
جبکہ انکا ہاتھ بدر نے تھام لیا
نہیں تایا جان نہین اب مزید نہیں ۔۔۔
آپ اس وقت سے ڈریں جس دن عمر کو وہ باب پتہ چلے گا جسے آپ اپنی کتاب سے پھٹا ہوا سمجھ رہے ہیں کیونکہ میں تو سب جانتا ہوں میں ہی آپکا راز نہ افشاں کر دوں” وہ پہلی بار آنکھوں میں انکھیں ڈالتا غرایا سب بدر کے بدلے تیور دیکھ کر دنگ تھے
ارہم غصے سے ساز اور عمر کے نکلتے ہی چلا گیا تھا ورنہ اکثر بدر اور ارہم کی لڑائ ہو جاتی تھی
ہاں جیب میں پیسہ ہو تو زبان بھی طاقت ور ہو جاتی ہے پھر شاید کوئ جیت پائے
وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑا تھا لیکن سامنے تایا جان تھے وہ اسکے نزدیک آئے ۔۔۔۔
تو تجھے کیا لگتا رہا ہے راز صرف میرا ہے ۔۔۔۔
تیری ماں کا کچھ نہیں ۔۔۔۔ تو اپنی ماں کو کس کے پاس چھوڑ کر جائے گا ۔۔۔۔
وہ مدھم آواز میں بولے بدر نے انکا گریبان جکڑ لیا
کیا بکواس کی ہے آپ نے” وہ بھڑکا
وہ خباثت سے مسکرائے جبکہ بدر کی آنکھیں پھٹی رہ گئیں
وہ مسجد کے امام تھے وہ حونک تھا وہ اتنی بڑی نظر کے مالک تھے آج تک اسنے ایسا نہیں سوچا تھا وہ نیچے تو تھے مگر ۔۔۔
بدر چھوڑو اپنے تایا کو ۔۔۔۔
چھوڑو ” نجما جلدی سے بیچ میں آئی
اشفاق صاحب تیلی لگا چکے تھے انگلی اٹھا کر بولے
میری بیٹی کو چھوڑ کر جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا
شادی ہو گی اور تم یہیں رہو گے یہ یاد رکھنا بدر زمان تم اشفاق کے ملازم تھے ہو اور رہو گے تم جتنی گردن اٹھانا چاہو کوئ فرق نہیں پڑے گا ” وہ آنکھیں نکالتے وہاں سے چلے گئے جبکہ بدر نے ماں کو خود سے لگا لیا
بھائی صاھب میرے بیٹے کو جانے دیں”
امی” بدر نے انکا چہرہ تھام لیا اسکے وجود پر چونٹیاں رینگ رہیں تھیں
کہیں نہیں جا رہا میں”وہ بولا
نہیں بدر نہیں تم جاؤ “
امی آپ اندر چلیں میں یہیں ہوں ” وہ نجما کو لے کر کمرے میں ا گیا اور دروازہ لاک کر لیا
ایسا لگا جیسے کسی نے اٹھا کر پٹخا ہو
یہ وہ شخص تھا جو پردے کے علاوہ گھر کی عورت کو گھر سے نہ نکلنے دے ۔۔۔۔
یہ وہ شخص تھا جو مار مار کر نماز کی جانب لے جاتا تھا ۔۔۔
یہ وہ امام تھا جو لوگوں کو پانچ وقت کی نماز کی ترغیب دیتا تھا ۔۔
وہ اپنی ماں کے ہاتھ تھامے بیٹھا تھا ۔۔
“وہ ہواؤں میں تھا لیکن ہوائیں تو راس ہی نہیں آتی”
بدر اپنا فیصلہ مت بدلنا تم جاؤ میرے بچے جاؤ اپنی زندگی بناؤ “
اسنے کہا بدر کی آنکھوں میں وہ جزبات تھے کہ شاید وہ ایک ایک فرد کو چیر کر رکھ دیتا
زندگی تو اب میں بناو گا امی میں دیکھنا آپ اب زندگی بناؤ گا ” شدت جذبات سے اسکی آنکھوں کے کنارے سرخ ہو گئے تھے اور ایسا لگا ابھی پھٹ جائیں گی اسکی انکھیں ۔۔۔
اپ ریسٹ کریں “
مگر کھانا بنانا ” جس کا دل کرے گا وہ بنائے گا اپ آرام کریں ورنہ میں کمرے میں بند کر دوں گا اپکو ” وہ ذرا غصے سے بولا
اچھا تم پرہشان نہ ہو میں بھائی جان سے خود بات کروں”
امی” وہ دھاڑ اٹھا
نجما حیران رہ گئ
اس کتے کے منہ بھی مت لگیے گا آپ میں دیکھ لوں گا جو مجھے کرنا ہے”
بدر اس طرح بولو گے ” نجما نے ٹوکا جبکہ وہ مٹھیاں بھینچ کر دروازہ بند کرتا باہر ا گیا تو لاونج میں صرف سوہا کھڑی تھی
سکون سے مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھی
تمھیں کیا لگا مجھے چھوڑنا اتنا آسان ہے بدر ” وہ مسکرائی
میں تمھیں چھوڑ بھی نہیں رہا سوہا ” بدر نے سنجیدگی سے کہا
فکر نہ کرو میں تمھیں نہیں چھوڑو گا ” وہ سنجیدگی سے بولا
سوہا کو عجیب سا لگا وہ اس سے نگاہ چرا لیتا تھا وہ اسکی جانب سے نظر بچا لیتا تھا جواب نہیں دیتا تھا اچانک اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال گیا تھا
سوہا نے اپنا خیال جھٹکا
ہممم دوبئ جاؤ گے تمھیں اپنے پاس سے کہیں جانے نہیں دوں گی اپنے اونچے اونچے انکے خوابوں کو میرے قدموں میں لے آؤ بدر کیونکہ میں اس باپ کی بیٹی ہوں جو سب کچھ کر سکتا ہے چٹکیوں میں” وہ ہوا بازی میں لگ گئ تھی لیکن جب بدر کی بات سنی تو جان نکلی تھی اور اب اسکے سامنے اوور ہو رہی تھی
بدر نے اسکی جانب سکون سے دیکھا اور چلا گیا جبکہ سوہا کو اسکا انداز بہت عجیب لگا تھا پھر اسنے سر جھٹکا وہ ایسا ہی تھا اور ایک بار پھر سے تلملا اٹھی اسے بہت غصہ تھا ساز ملک سے باہر چلی گئ وہ نہیں گئ
اگر ایسا ہو شادی ہو جائے اور وہ بھی دوبئی چلی جائے ہاں یہ ٹھیک ہے
وہ جلدی سے امی کے پاس آ گئ اور امی کو کمرے سے باہر نکال لائی ۔۔۔۔
اب کیا ہے تیرا باپ بہت غصے میں ہے ” امی بولیں
آپ ابو سے کہیں کہ شادی کرا کر مجھے اور بدر کو باہر جانے دیں”
تیری بےحیائی کے تو ریکارڈ ٹوٹیں گے ” وہ غصے سے بولیں
لو ساز کی ٹوٹ گے میرا تو منگیتر ہے بدر”
چپ ہو جا وہ اندر تیری شادی کا ہی ذکر کر رہے ہیں”
ہیں سچی ” وہ اچھل اٹھی
اف اللّٰہ ” وہ اندر چلی گئیں
بدر اور میری شادی” وہ جھومی اور صنم اور صوفیا کو بتانے چلی گئ
بیچاریاں اب تک دونوں بہنیں اس سبحان کے انتظار میں تھیں ویسے اب تم دونوں کا انتظار بے کار ہے یقینا اسے پتہ لگ گیا ہو گا ساز کی شادی ہو گئی ہے تو اسنے لفٹ نہیں کرایا کسی کو “
اسے کہتے ہیں خوابوں کا ریزہ ریزہ ہونا ” وہ قہقہہ لگا کر ہنسی
ہمیں لگا ہم اب دوست بن گئے ہیں تم ہم پر طنز کر رہی ہو ” صنم بولی
دوستی تم دونوں سے ۔۔۔۔
اپنے آپ کو دیکھا ہے پھٹے پرانے کپڑوں میں رہتی ہو تم دونوں “
وہ نہایت ناگواری سے بولی جبکہ دونوں کا منہ اتر گیا اور باہر نکل گئ
صوفیا نے صنم کو دیکھا۔۔۔
بہت اچھا ہوا ہے تمھارے ساتھ ہم ساز کے دوست تھے اسکے ساتھ بیوفائی اس کے لیے اور اسکی دوگلی ماں کے لیے کی تھی جو صرف ہمیں استعمال کر رہے تھے”
صوفیا نے اکثر صنم کو روکا تھا کہ وہ ساز کے ساتھ ایسا نہ کرے مگر صنم پر تو سبحان کا بخار چڑھ گیا تھا
اور وہ لڑکا بھی واپس نہ ایا اور وہ دونوں اپنی دوست سے بھی ہاتھ گنوا بیٹھیں
سوہا جبکہ اڑتی اڑتی پھر رہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دادی جان آپکی چائے”
ایزہ نے چائے کا کپ بیچ میں رکھا
اپنے شوہر کے لیے نہیں بنائی” وہ گھورنے لگیں
وہ یہاں نہیں ہیں ابھی “
آنے والا ہے ۔۔۔ لو ا بھی گیا “
ا جا میرا بچہ میرا لال ” وہ شاہنواز کو اندر آتا دیکھ مسکرائیں
شاہنواز جھکا ان سے پیار کرایا اور ایزہ کی جانب دیکھا جو نگاہ جھکا گئ
شوہر آئے تو منہ میں ایلفی ڈال لیتے ہیں یہ سلام دعا بھی کرتے ہیں یہ بہت بدتمیز ہو گئ ہے شاہ تیری چھوٹ نے اسے بدتمیز کیا ہے” وہ بگڑ کر بولیں
ایزہ نے نگاہ اٹھائی شاہنواز کو دیکھا جو مسکرا رہا تھا سخت زہر لگی تھی یہ مسکراہٹ ۔۔۔۔
اسلام علیکم” وہ سٹریٹ سا بولی
وہ وعلیکم سلام کہتا کہ دادی جان کو سکون نہ آیا
کوئ پیار نہیں کوئی محبت نہیں تو احسان کر رہی ہے
مجھ سے اتنا ہی بولا جاتا ہے” وہ منمنائی اور چلی گئ
یہ لو بھلا بکر بکر کرتی زبان دیکھو اسکی ” وہ بھڑکیں
رہنے دیں دادی غصہ ہے مجھ پر” “شاہنواز بولا جبکہ ایزہ نے جاتے جاتے بل کھا کر اسے دیکھا اب دادی جان اسکی شامت لے آتی
ہائے میرے لال یہ کیا بلا لے ائی میں تیرے سر پر میرا معصوم سا بچہ ” وہ اسے گلے سے لگا گئیں دکھ سے رونے لگ گئیں ایزہ اسے ہی دیکھ رہی تھی بو خوبصورتی سے آنکھ دبا گیا گویا مزاہ ا رہا ہو اب اسے اس سرد جنگ میں ۔۔۔۔
اسے تو میں سیدھا کر دوں گی تو فکر نہ کر” وہ بولیں وہ فرمابرداری سے سر ہلا گیا جبکہ ایزہ پاوں پٹخ کر اندر چلی گئ
اور جب کمرے میں آئی تو بیڈ پر بیٹھتے اچانک ہی اپنی حرکت پر گھیری سوچ میں اتر گئ
کیا پرانی ایزہ اسکے اندر لوٹ رہی تھی ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
