Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 15
No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
ساز سیٹ پر بلکل ہی چپک گئ جبکہ عمر خیام کی خوشبو کسی کے بھی ہوش اڑا دیتی پھر اچانک اتنی قربت لیکن دوسری طرف ان باتوں کا اثر بھی نہیں لیا جا رہا تھا
جب تک لاک کی آواز نہ آئے گاڑی بند نہیں ہوتی وہ اسے جھکے جھکے ہی بتا رہا تھا اور یہ سیٹ بیلٹ ہے اگر یہ تم نہیں لگاؤ گی تو شیشے میں جا کر بجو گی اتنی سی ہو الریڈی” اسنے سیٹ بیلٹ باندھی عمر کی انگلیاں اسکی تھائی پر ٹچ ہوئیں وہ جلدی سے سیمٹ گئ
وہ دور ہوا اور ساز کو سانس آیا عمر نے گاڑی سٹارٹ کی اسکا تو دل گاڑی کے سٹارٹ ہونے پر ہی دھڑکا اور جب گاڑی چلی تو وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگی
عمر نے ایک نگاہ اسپر ڈالے اور پھر اپنی سائیڈ کا میرر کھول لیا ڈیش بورڈ سے سیگریٹ اٹھائ لبوں میں دبائ اور ایک ہاتھ سے ڈرائیو کرنے لگا ۔
اسنے سامنے لگی ایل سی ڈی پر ٹچ کیا اور گاڑی میں گانا چلنے لگا اور جو گانا چلا ساز کی آنکھیں پھٹ گی
پی لوں تیرے تیرے نیلے نیلے نینوں سے شبنم
پی لوں تیرے گیلے گیلے ہونٹوں کی سرغم
پی لوں ہے پینے کا موسم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیرے سنگ عشق طاری ہے
تیرے سنگ ایک خماری ہے
تیرے سنگ چین بھی مجھ کو
تیرے سنگ بے قراری ہے ۔
اسنے کبھی گانے نہیں سنے تھے اسنے کبھی ایسا تو کچھ نہیں سنا تھا اسنے تو کبھی کچھ کیا ہی نہیں تھا وہ ساتھ کے ساتھ سیگریٹ کے کش بھرتا باہر دیکھتا گاڑی کو موڑ دیتا ڈرائیو کرتے شاید خود انجوائے کر رہا تھا اور ساز کو لگا وہ بیٹھے بیٹھے شرمندگی سے مر جائے گی
وہ کانپنے لگی ایسا لگا کھڑکی کی ساری ہوا اس پر ا رہی ہے اور وہ برف کی ہوتی جا رہی ہے گاڑی میں مدھم مدھم میوزک اسکی آواز سیگریٹ کی خوشبو موسم کی ٹھنڈک اور اسلامہ آباد کی حسین سڑکیں یہ سب تو ایک نشے کیطرح سا لگ رہا تھا
اچانک ہی اسنے اس پی لوں پی لوں پر ہاتھ مار دیا
اسے سمجھ نہیں ائ کہاں سے بند کرے مگر جہاں بھی ہاتھ مارا گانا بند ہو گیا
شکر ہے خدا کا کہہ کر اسنے استغفار کا ورد شروع کر دیا
عمر خیام نے مڑ کر اسکی صورت دیکھی اور لبوں پر مسکان ٹھہر گئ
ہماری شادی نہیں ہونی چاہیے تھی” سکون سے وہ ایک اور کش بھرتا بولا
میں ۔۔ میں تو کبھی نہ کرتی تائی جان نے زبردستی کی ہے” وہ جلدی سے اسے بتانے لگی
ہممم” وہ ہنکارہ بھر گیا اور ساز کا دل کیا خود کو کچھ مار دے
وہ پھر شرمندہ ہو گئ تھی وہ کتنا اٹیکیٹس والا انسان تھا اسکی ایسی باتوں کا کبھی جواب نہیں دیتا تھا اور وہ منہ پھاڑ کر سب کہہ دیتی تھی آخر عمر خیام سے کتنا پرانہ دوستانہ تھا جو وہ ہر بات کہہ دیتی تھی
س۔۔سوری” وہ سر جھکائے بھرائے ہوئے لہجے میں بولی
کیوں؟ وہ سمجھا نہیں
میں نے ایسے کہا “
نیور مائینڈ” وہ مسکرایا اور گاڑی روکی
سیٹ بیلٹ ہٹائ اور باہر نکل گیا اب ساز کیسے نکلتی
وہ کچھ دیر باہر اسکا ویٹ کرتا رہا اور پھر پلٹ کر دیکھا وہ بیچارگی سے دیکھ رہی تھی
اسنے دروازہ آگے بڑھ کر کھولا
اوہ سوری” کہہ کر اسکی سیٹ بیلٹ کھولی اور اسکی جانب ہاتھ بڑھایا لیکن ساز نے وہ ہاتھ نہیں تھاما اور وہ بنا اسکا ہاتھ پکڑے باہر نکلی
تو اس دنیا میں اسکے قدم ڈگمگا اٹھے
وہ اسے آگے چلنے کا بولا تو وہ پھر چونک گئ وہ اپنے گھر کے باقی لوگوں کے ساتھ بھی گئ ہوئ تھی لیکن کبھی کسی نے ایسا نہیں کہا تھا ہمیشہ وہ آگے آگے چلتے تھے جیسے مردوں کی انا کو یہ بات تسکین دیتی ہو کہ عورت انکے پیچھے چلے ان سے آگے یہ انکے ساتھ برابری کرنے کی حیثیت ہی کب ہے وہ اسکی شکل دیکھنے لگی
ہاتھ تم میرا پکڑنا نہیں چاہتی بت بن کر بار بار دیکھتی ہو کیا ہو بھئ ” وہ سر جھٹک کر خود ہی اسکا ہاتھ پکڑ گیا
ساز اپنے ہاتھ کی جانب دیکھنے لگی جو اسکے ہاتھ میں تھا مکمل گرفت میں ۔۔۔
وہ لوگ اندر آ گئے لوگ عمر خیام کو پلٹ پلٹ کر دیکھ رہے تھے اور دیکھ تو اسے بھی رہے تھے لیکن نظروں میں جو عمر خیام کے لیے تھا وہ اسکے لیے نہیں تھا وہ ایک شاپ میں ا گئے اتنی بڑی دوکان اور اتنی مہنگی یقینا برینڈ تھا اور جب اسنے
Maria.B
پڑھا تو ساز وہیں رک گئ
I want some warm clothes for my wife .
وہ بولا اس لڑکی نے عمر کو دیکھا پھر ساز کو ۔۔۔
اور یس سر کہہ کر وہ ساز کو کپڑے دیکھانے لگی ایکدم ہی یہ سب
اسکے آگے پیچھے ہوئے تو وہ گھبرا گئ عمر صوفے پر بیٹھ گیا وہ پلٹ پلٹ کر عمر کو دیکھتی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا
اسکے لیے جوس آئے عمر کو نہیں چاہیے تھے انھوں نے ساز کو دیا
ساز کانپتے ہاتھوں سے تھام گئ
وہ لڑکیاں ساز کو بہت سارے کپڑے دے چکی تھی یہ کپڑے بہت مہنگے تھے ساز اتنی قیمتیں دیکھ کر چکرا گئ تھی
ایک ایک سوٹ 35 ہزار 45 ہزار 55 ہزار اتنے میں تو وہ اپنی پوری زندگی کے لباس خرید لیتی
میم آپ ٹرائے کریں ” وہ لڑکی بولی
نہیں مجھے اتنے سارے نہیں چاہیے بس ایک”
کوئ تین چار ہزار کا سوٹ نہیں ہے” وہ اہستگی سے بولی جبکہ وہ سیلز گرل مسکرائ
وہ آپکے ہی ہزبینڈ ہیں” وہ عمر کی طرف اشارہ کر کے بولی جس نے ایک حسین سے گلاس میں وائن ڈال لی تھی یقینا کیونکہ بہت سکون سے پی رہا تھا
ہاں” وہ بہت افسوس سے نم انکھوں سے اسے دیکھتی ہوئ بولی
پھر آپ چار پانچ ہزار کا سوٹ کیوں ڈھونڈ رہی ہیں” وہ لڑکی ہنس پڑی
چلیں آپ چینج کر لیں”
ک۔۔کیوں” وہ حیران ہوئ
میم آپ سائز چیک نہیں کریں گی” وہ لڑکی سر تھام گئ
نہیں ضرورت ہی نہیں مجھے لینے ہی نہیں” وہ کپڑے اسکے ہاتھ میں دے کر اسکے پاس آ گئ اسنے نگاہ اٹھا کر دیکھا
کیا ہوا کچھ پسند نہیں آیا “
آپ کیا پی رہے ہیں
عمر نے گلاس کیطرف دیکھا ابھی اسنے برینڈی منگائی تھی
یہ ” وہ پر سوچ ہوا
جوس” اسنے جھوٹ بولا معلوم نہیں کیوں ؟
آپ سچ کہہ رہے ہیں” دونوں انگلیاں موڑ کر وہ سر ہلا گیا لیکن ساز نے کہاں دیکھی تھی اسکی انگلیاں ۔۔۔
اسنے یقین کر لیا ۔۔۔
یہاں بہت مہنگے ہیں کپڑے ” وہ اسے اہستگی سے بتا گئ کہ ان دونوں کی بے عزتی نہ ہو
تو” وہ بھی اسی کیطرح بولا
اتنے پیسے کہاں سے آئیں گے” وہ سر تھام گئ کہ وہ بنا پیے بھی نشے میں رہتا ہے
میرے پاس ہیں” وہ اسی انداز میں بولا اور اپنی ہنسی دبائ
ساز آنکھیں پٹپٹانے لگی
ہائے نور انکو جو پسند ہے وہ ٹرائے کراو میں ویٹ کر رہا ہوں” اسنے اس لڑکی کو کہا
اپکو انکا نام کیسے پتہ ہے” ساز نے آنکھیں گھما کر دیکھا عمر ہنستے ہوئے جام گلے سے اتار گیا مگر پتہ نہیں کیوں ذائقہ پہلی بار اچھا نہ لگا اسنے گلاس سائیڈ پر رکھا
میری گرل فرینڈ ہے” وہ اہستگی سے بولا ساز کی آنکھیں کھل گئ سانس اندر اتارا اور برا سا منہ بنا لیا
چلیں میم”
مجھے نہیں جانا ” صاف مکر گئ
کیا بیویوں والے نکھرے دیکھا رہی ہو ہم ڈیلرز ہیں اوکے تم میرا کام کرو گی میں تمھارا بس بات ختم ” وہ بولا جبکہ ساز کو یاد ا گیا کہ واقعی ایسا ہی تھا
وہ اٹھ گئ
لیکن یہ پھر بھی مہنگے ہیں نہ” وہ بیچارگی سے بولی
جاؤ ساز” وہ سنجیدگی سے بلند آواز میں بولا اور وہ منہ بسورتی ٹرائے روم میں چلی گئ
اسنے ڈریس چینج کیا اور اتنی دیر ادھر ادھر دیکھتی رہی کہیں کوئ کیمرہ تو نہیں اردگرد لیکن کچھ نہیں تھا اتنی قیمتی لباس پہن کر اسکے حسن کو تو چار چاند لگ گئے وہ خود کو حیرانگی سے دیکھنے لگی اور باہر جاتے ہوئے شرمندگی ہوئ
اسنے چادر لپیٹی اور باہر ائ
یہ سائز بہترین ہے آپ تو بہت حسین لگ رہی ہیں ” وہ لڑکی مسکرائی جبکہ وہ کچھ نہیں بولی
چلیں سر کو دکھائیں
کیوں انھیں کیوں دیکھاؤ ؟
وہ جلدی سے اندر جانے لگی مگر وہ لڑکی اسے عمر کے سامنے لے آئی
عمر گلاس سے گھونٹ اندر اتار کر اسکی صورت دیکھنے لگا
چادر ہٹاؤ ” وہ ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بڑی نشیلی نظروں سے اسے دیکھنے لگا جو بے حد کنفیوز سر جھکائے کھڑی تھی
بیوٹیفل” وہ جیسے نکھر گئ پہلے بھی کم حسین نہ تھی مگر لباس نے اسے سادہ کیا ہوا تھا اور اب تو وہ نگاہوں کو خیر کر دینے والی کوئ نازک سی اپسرا لگ رہی تھی وہ بس چند لمہوں میں رونے لگتی اور وہ رو بھی پڑی “
ہے وائے ار یو کرائینگ” وہ جلدی سے اسکے نزدیک آیا
آپکی وجہ سے مجھے سب مردوں نے دیکھ لیا ” وہ غصے سے بولی
اوہ تم مولانی ہو مجھے یہ یاد نہیں رہا ” اسنے نور کے کان میں جھک کر کچھ کہا اور وہ سر ہلا کر آگے چلی گئ اور چند ہی منٹوں وہ ایریا خالی ہو گیا کوئ سیلز مین کوئ سیلز گرل کیشئیر یہاں تک کے کوئ نہیں تھا اس حصے میں ۔۔
وہ حیرانگی سے دیکھنے لگی تھی سب ۔۔۔
اب صرف تم اور میں ۔۔۔ کہو تو میں بھی دفع ہو جاؤں ” وہ مسکرایا
پیاری ہی اتنی لگ رہی تھی پھر رونے لگ جاتی تھی وہ واقعی معصوم تھی اور عمر خیام کا پالا پڑتا ہی کب تھا ایسی لڑکیوں سے جن کے لیے ہر چیز ہی بہت قیمتی تھی
ن۔۔۔نہیں مجھے ڈر لگے گا “
اوکے تو پھر او میں تمھیں شاپنگ کراتا ہوں
وہ اسے مختلف ڈریسز نکال نکال کر دیتا رہا اور اسے زبردستی چینجینگ روم میں بھیج دیتا ۔
No 10/7
یہ ٹرائے کرو” اسنے ریڈ کلر کا ڈریس دیا
واؤ
10/10
یہ پہنو ” پھر پرپل دیا
ایمیزینگ “
واؤ خوبصورت بیوٹیفل
ساز لال سرخ ہو چکی تھی
میں تھک گئ ہوں ” وہ تھکی تھکی سی اسے دیکھنے لگی
اوہ تو پھر چلو کہیں اور سے لیتے ہیں
نہیں بس اب گھر چلتے ہیں “
ارے رکو بھلا اسے بھی شوپنگ کہتے ہیں گھنٹے میں تھک گئ میں جب جب شاپنگ کرانے نکلتا تھا اپنی گرل فریندز کو 24 ہارز وہ میرا تباہ کر دیتی تھیں خیر عمر خیام پیدا ہی تباہ ہونے کے لیے ہوا ہے “
وہ بتاتا ہوا اسے باہر لے جانے لگا
یہ یہ میں نے چینج نہیں کیا “
وہ ڈریس پکڑ کر بولی
تو وہ کون سا بہت قیمتی ہے یہ اچھا لگ رہا ہے یہ ہی ٹھیک ہے”
میری چادر” وہ مڑی
میں دلاتا ہوں کیا بکواس چادر پہنے پھرتی ہو” اسنے وہیں پھینکی اسنے دوپٹہ اچھے سے لیا اور سرخ چہرے کے ساتھ اسکے پہلو سے لگی آگے بڑھ گئ وہ اسے اتنی شاپنگ کرا چکا تھا کہ وہ اتنے پیسوں پر دم سادھے ہوئے تھی جو اسپر خرچ ہو رہے تھے اگر کسی کو پتہ چل جاتا اسکی جان نکال دیتے وہ پہلی لڑکی تھی شاید جو شوہر کے پیسے خرچ ہونے پر تایا تائی سے ڈر رہی تھی جبکہ وہ اس شاپینگ کے دوران کئ بار روئ
سر سے پاوں تک اسے جیسے پل میں اسنے فرش سے عرش پر بیٹھا دیا اور پوری گاڑی ساز کے سامان سے بھر کر وہ گاڑی میں بیٹھا
اوہ” کچھ یاد آنے پر اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگا
U also need your personal things ✅️ right?
وہ بولا ساز نے اسے ساکت نظروں سے دیکھا
ائ تھنک میں نے گارمنٹس کی شاپ دیکھی” اسکی بات ادھوری رہ گئ اور ساز دروازے سے جا کر لگی
وہ بے ہوش ہو گئ تھی عمر نے ایک ائ برو اچکا کر اسکی جانب دیکھا وہ دروازے کے ساتھ لگی تھی
Now who will tell me the size ?
وہ بولا جبکہ ایک نظر غور سے اسے دیکھا اپنی ہی کمینگی پر خود ہی کھل کر ہنسا اور گاڑی سے نکل گیا
کچھ دیر بعد وہ گاڑی میں بیٹھا اور شاپر پیچھے پھینک دیا اس میں بہت کچھ تھا جسے دیکھ کر ساز شاید ہی جاگ پاتی کبھی ۔۔۔۔
وہ گاڑی آگے بڑھا لے گیا اسے بھوک بھی لگی تھی مگر ساز کی وجہ سے رک نہیں سکتا تھا وہ گاڑی گھر کی جانب لے گیا
ساز ” اسنے پکارہ اور پانی کی بوتل سے پانی اسکے چہرے پر ڈالا وہ ہڑبڑا کر اٹھی اور عمر کی جانب ایک نظر دیکھا وہ بلکل بھی اسکی آنکھوں میں نہیں دیکھ سکتی تھی
وہ جلدی سے گاڑی سے نکل کر بھاگ گئ
یار میں ملازم ہوں تمھارا ” وہ بھڑکا
اف ” وہ مٹھیاں بھینچ کر وہ گاڑی سے اسکا سامان نکالنے لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسنے سامان پھینکا اور اپنے کمرے کی جانب بڑھا تو روم لاک دیکھا
ساز” غصے سے جھلایا
دروازہ کھولو “
ن۔۔نہیں آپ آپ تایا جان کے کمرے میں سو جائیں ” وہ اندر سے ہی کانپتے لہجے میں بولی
یو” وہ مٹھیاں بھینچ گیا
ائ ایم ہنگری” وہ بھڑکا
ساز نے تو قسم کھا لی تھی اب اسکے سامنے نہیں جائے گی عمر غصے سے دروازے کو دیکھتا پیچھے ہٹا وہ تو ڈھیٹ ہو گئ تھی اسکا سامان اندر تھا اسکا بہت قیمتی سامان اندر تھا اگر نہ پیتا تو رہتا کیسے زندہ ۔۔
اور ڈیڈ کا روم ” وہ کوفت سے جھنجھلا گیا
میں سریسلی دروازہ توڑ دوں گا ” وہ دھمکانے لگا مگر اندر سے جواب نہیں آیا کافی دیر کوشش کے بعد وہ تھک ہار کر ڈیڈ کے روم میں ا ہی گیا
بمشکل دو چارپائیوں ایک الماری لوہے کی اور ایک شیشہ لگا ہوا تھا اس کمرے میں وہ چارپائی پر لیٹ گیا
نرم گدے کا عادی تھا جب پی کر بلکل مدہوشی میں اس گدے پر گرتا تو وہ کسی ماں کے آغوش کیطرح اسے خود میں سمیٹ لیتا اور اب مچھر اور اس سخت پلنگ پر اسکے غصے کا گراف بڑھتا جا رہا تھا بھڑک کر اٹھا نہ ہی سے نیند آنی تھی اور نہ ہی سکون وہ باہر نکلا تبھی بدر بھی گھر میں داخل ہوا دونوں کا آمنہ سامنا ہو
ساز کہاں ہے ” وہ عمر سے ہی سوال کر گیا
وہ باہر نکل گئ تو میں اسے شوٹ کر دوں گا ” وہ بھڑک کر بولا
کیا بدتمیزی ہے ” بدر ذرا غصے سے بولا
اپنی بہن سے کہو میرے کمرے سے باہر نکلے ” عمر نے بھڑک کر کہا
کیا تمھیں کمرے سے نکال دیا ساز نے؟ بدر حیران تھا
تو تمھیں کیا لگتا ہے مجھے بہت شوق ہے اس گھر میں پھیرنے کا ” وہ پٹاخ پٹاخ جواب دے رہا تھا
بدر کو ہنسی ا گئ
ہا ہا ہا بہت ہنسنے کی بات تھی” عمر نے دانت پیس کر دیکھا تو وہ شانے اچکا گیا اور آگے بڑھنے لگا
بدر سریسلی میرا دماغ خراب ہو رہا ہے” اسکے لہجے کی سنجیدگی پر وہ گھیرہ سانس بھر گیا اور اوپر کمرے کی جانب بڑھا
ساز بچے باہر آؤ کیا حرکت ہے یہ روم لاک کیوں کیا ہے ” بدر نے نرمی سے کہا ۔
ساز اندر بدر کی آواز سن کر اور شرمندہ ہو گئ
ساز چندہ ” دروازہ کھلا اور چہرہ جھکائے وہ شرمندگی سے باہر نکلی
عمر اسے پیچھے کھڑا گھور رہا تھا جبکہ ساز کی نگاہ اٹھ ہی نہیں پا رہی تھی
غلط بات تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ” بدر نے کہا تو وہ رونے لگی
سوری بھائ”
اپنے پاس رکھو یہ سوری اور آئندہ ایسا ہوا نہ کھینچ کر مارو گا ” وہ جھڑک کر بولتا اندر چلا گیا اور دروازہ کھینچ کر مارا ۔
بدر نے گھیرہ سانس لیا
کیوں کیا تم نے ایسا تم جانتی ہو وہ نشے کا عادی کا ہے اسی وجہ سے زیادہ چیڑ رہا ہے ایسے لوگ اپنی ضرورت پوری کیے بنا نہیں رہ پاتے ” وہ اسکا گال تھپتھپا کر چلا گیا جبکہ ساز نے مڑ کر دروازے کی جانب دیکھا اور خود بھی پرانے کمرے میں ا گئ
بار بار اسکے الفاظ کانوں میں گونج رہے تھے اسے بھوک لگی تھی اب وہ بس پیتا رہے گا
اسنے اپنی بات پوری کی اسے اتنی ساری شاپنگ کروائی اور نہ اسنے اسے پہلے کھانا دیا اور نہ ہی اب ۔۔۔
معلوم نہیں وہ اسکے ساتھ اتنی بدتمیزی کیوں کر رہی تھی اسے آج خود پر بہت افسوس ہوا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن اسنے بدر کے لیے ناشتہ بنایا اور دونوں بہن بھائی نے سکون سے ناشتہ کیا
تمھارے لیے اور امی کے لیے ایک سرپرائز ہے میرے پاس ” بدر خوش تھا کافی
واؤ بتائیں کیا ” وہ خوشی سے چہکی
نہ نہ ابھی نہیں بس کچھ چیزیں مکمل ہو جائیں اسکے بعد بتاؤ گا ” وہ مسکرایا جبکہ ساز نے سر ہلایا
آپکو پتہ ہے بھائ مجھے سرپرائز بہت پسند ہیں” وہ جوش سے بچوں کیطرح اچھل رہی تھی جبکہ بدر ہنسنے لگا
ائ نو گڑیا” وہ اسے پیار سے دیکھتا بولا
یہ ساری شاپنگ عمر کی ہے” اسنے بھرے ہوئے صوفوں کو دیکھا
ساز نے سر جھکا لیا
ا۔۔اگر میں اپکو بتاؤ یہ ۔۔ یہ عمر نے مجھے دلائ ہے تو ” وہ جیسے مجرموں کیطرح بولی اور بدر نے منہ سے پانی ہی باہر ا گیا
کیا ” وہ دنگ تھا
ساز نم آنکھوں سے سر ہلا گئ
بھائ مجھے کچھ بھی نہیں لینا تھا انھوں نے دلا دیا ” وہ جلدی سے اپنی صفائی دیتی بولی
یہ سب تمھیں عمر نے دلایا ہے” وہ اٹھ کر ان کیریز کے پاس آیا جن پر بڑا بڑا ماریا بی الکرم بونینزہ اور بھی بہت برینڈز تھے
ساز پیچھے انگلیاں چٹخا رہی تھی
بدر نے بس کیریز دیکھی اندر کیا تھا اسنے نہیں دیکھا
اور تم نے رات اسے کمرے سے ہی باہر کر دیا ” اچانک جیسے اسکے دل کو بہت ساری خوشیاں ملی تھی یہ سب دیکھ کر اور دل سے دعا کی اسکی بہن کی ہر خواہش مکمل ہو ۔۔۔
وہ میں گھبرا گئ تھی”
وہ شوہر ہے تمھارا اگر اسنے تمھارے ساتھ اچھا بیہیو کیا تھا تو تم نے اسکے ساتھ بہت بدتمیزی کی ہے اور اسے ٹھیک غصہ آیا ہے تم پر” وہ سینے پر ہاتھ باندھ کر بولا
ساز سر جھکائے کھڑی رہی
بدر آگے بڑھا اور اسکے شانے پر ہاتھ رکھا
مجھے بہت خوشی ہے”
اپکو غصہ نہیں آیا میں انکے ساتھ گئ”
ارے پگلی شوہر ہے تمھارا ” وہ ہنسا
مگر آپ بھائی ہیں” اسکا آنسو گیرہ
شوہر کے زندگی میں آتے ہی دوسرے ہر فرد کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے” اسنے کہا تو ساز اسکی شکل دیکھنے لگی
وہ اسکا گال تھپتھپا کر وہاں سے چلا گیا
میں شاید لیٹ آؤ اوکے کھانا وانا کھا لینا سکون کے دن ہیں انجوائے کرو ” وہ کہہ کر اپنی بائیک پر سوار ہوا اور چلا گیا
ساز جبکہ اسکی گفتگو کو سوچتی رہ گئ اسنے اب تک ان چیزوں کو ہاتھ نہیں لگایا تھا ڈر لگ رہا تھا عجیب سا پہلے کبھی کسی نے اتنی اہمیت نہیں تھی
کسی نے پوچھا بھی نہیں تھا یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کسی کو یاد ہی نہیں تھا کہ وہ کسی خوشی کی حقدار ہے اسنے کل بہت غلط کیا تھا وہ شرمندہ تھی
وہ کیریز اسنے پھر بھی نہیں اٹھائیں اور وہ برتن دھونے میں اور باقی کاموں میں لگ گئ فارغ ہو کر بیٹھی اسنے گھڑی کی جانب دیکھا دن چڑھ گیا تھا اب تو وہ کھانا بنانے کا سوچ ری تھی 2 بجے کے قریب کا وقت تھا وہ اٹھا نہیں تھا
لیکن وہ کیوں سوچ رہی تھی وہ اٹھی اور آج پلاؤ کھانے کا دل تھا تو پلاؤ بنانے لگی سکون سے جبکہ اسے کچھ دیر بعد احساس ہوا کوئ سیڑھیاں اتر رہا ہے
وہ دروازے کی سمت دیکھنے لگی
عمر تھا موڈ آف تھا کچن میں آیا اور فریزر کھول کیا
اس سے بات نہیں کی تھی
ساز اسے ہی دیکھ رہی تھی چور چور نگاہوں سے ۔۔۔
اسنے دہی لی اور اسے باول میں ڈال کر بڑے بڑے چمچ لیے
اور کچھ دیر شیلف کو پکڑے کھڑا رہا اور پھر جیسے مکمل ہوش میں آیا تھا
مڑ کر دیکھا وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی ساز ایکدم سیدھی ہو گئ
عمر نے انڈے نکالے اور پین رکھ دیا دوسرے چولہے پر ۔۔۔
خود ہی بنانے لگا ساز کو شرمندگی کا احساس شدت سے ہوا
م۔۔۔میں بنا دیتی ہوں”
نو تھینکس ۔۔۔ فورا جوب دیا اور آملیٹ بنانے لگا
ساز نے اسکی جانب دیکھا چہرہ سنجیدہ تھا
وہ ناراض تھا اسے سوری کرنی چاہیے تھی
وہ الفاظ جمع کرنے لگی تھی معذرت کے لیے عمر نے اسکی مڑتی انگلیوں کو دیکھا اور سر جھٹکا
مجھ سے معذرت مت کرنا ” وہ پہلے ہی ٹوک گیا
میری غلطی تھی ۔۔۔
میں غلطیاں نہیں کرتا ” اچانک اسنے پین پھینک کر مارا
ساز کا جیسے دم سا نکل گیا
I just hate sorries do you mean that this blady bullshit word۔۔۔۔
” وہ پھنکارہ
ساز کے گالوں پر آنسو بہنے لگے اس سے ایسی بھی کیا خطا ہو گئ تھی کہ وہ اس طرح کا رویہ دیتا وہ سانس روکے آنسوؤں سے لبریز آنکھوں سے اسے دیکھتی پلکیں جھکتی اٹھتی
سوری” غصے سے وہ باہر نکل گیا اور لاونج میں بیٹھ گیا
اندر وہ دل پر ہاتھ رکھے بیٹھتی چلی گئ آج تک بہت مار بھی کھائی تھی ڈانٹ بھی کھائی تھی لیکن ایسی نہیں جبکہ عمر سر تھام گیا
موبائل نکالا اور ایک نمبر ڈائل کیا
دوسری طرف سے کال جیسے لمہوں میں اٹھائی گئ
عمر خیام ” وہ بس اتنا ہی بولا
حکم کرو “
مجھے رولز روکی چاہیے ” وہ واقعی حکم دیتا تھا
مل جائے گی ” آگے سے ہمیشہ ایسا ہی جواب آتا تھا
اور کچھ ؟
کب ملے گی
بس کل صبح “
آج رات ۔۔۔ آگے سے ہونے کی آواز پر وہ بچوں کیطرح آنکھیں گھما گیا ۔
آج رات مل جائے گی”
آپ میری کسی بات سے انکار کیوں نہیں کرتے” وہ چیڑ گیا
تمھیں انکار پسند نہیں آئے گا نہ”
تو اسکا مطلب یہ تو نہیں ساری باتیں مان لی جائیں”
بس مجھ سے انکار ہوتا بھی نہیں تمھیں ۔۔۔ تم نے میرا موڈ فریش کر دیا “
میں آپکی بیوی نہیں ہوں”
لیکن تم میرے لیے دنیا میں سب سے قیمتی ہو “
کیوں” وہ پھر چیڑ گیا
اب اس کیوں کا جواب تو میں نے کبھی دیا ہی نہیں ” عمر چپ ہو گیا
غصہ کیوں ہو “
وہ سمجھ گیا
ائ ہیڈ آ بیڈ ڈریم”
میں دیکھنا ہی نہیں چاہتا اپنی ماں کو پھر وہ میرے خواب میں ا کر کیوں مجھے ٹیز کرتی ہیں” وہ شعلے کیطرح بھڑکا ۔
ٹیبل کو لات دے کر ماری ساز سن سکتی تھی یعنی یہ بات تھی جو اسپر زلزلہ اترا تھا
دوسری طرف خاموشی تھی ۔
ائ ہیٹ ہر ائ جسٹ ہیٹ”
اوکے ٹیک ایٹ ایزی ” وہ بولا
نو دس از ناٹ ایزی ” وہ چلایا
عمر یار فورگیٹ اباوٹ دیز آل شیٹس ” وہ بولا جبکہ عمر نے اپنی سرخ انکھیں صاف کیں
کم اون یار یو آر سو بریو “
ائ ایم ناٹ مجھے میری گاڑی چاہیے بس “
افکورس رات تک تمھارے پاس ہو گی تم نے ٹینشن نہیں لینی” وہ بولا وہ سر ہلا گیا ۔
ابے یار تمھارے سر کو میں تو نہیں دیکھ رہا منہ سے بول”
اوکے” وہ سنجیدگی سے بولا
اور کچھ”
برینڈی کا نیو ٹیسٹ آیا ہے بٹ ابھی امریکہ میں ہے مجھے وہ بھی چاہیے” وہ منہ بنا کر بولا
ایک تگڑی سی گالی دوسری طرف سے پڑی تھی اور وہ قہقہہ لگا کر ہنسا
مجھے دونوں چیزیں چاہیے “
مل جائیں گی بٹ خوش رہو “
تھینکس ” وہ مسکرا دیا اور فون بند کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
