Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 59
No Download Link
Rate this Novel
Episode 59
بارات کے جوڑے میں ۔۔ وہ اتنی حسین لگ رہی تھی کہ عمر نے اسے گھیرہ سانس بھر کر دیکھا
ابھی وہ مسکرا کر اندر داخل ہوتا ہی کہ ۔۔۔ رک گیا ۔
سازکے ہاتھ میں وہ انگوٹھی تھی جو اسنے بہت پہلے اتروا دی تھی یہ اسکی ماں کی انگوٹھی تھی جو کہ انکے ہاتھ میں ہر وقت موجود ہوتی تھی اور اسکے بعد اسنے ساز کے ہاتھ میں دیکھی تھی ۔
ساز اس انگوٹھی کو دیکھ رہی تھی ۔۔ اسنے وہ انگوٹھی رکھ دی
تبھی نجما نے وہ انگوٹھی اٹھائئ
تم جانتی ہو نہ ناز نے تمھیں بڑے پیار سے پہنائ تھی پھر کیوں اس انگوٹھی کو ایک طرف رکھ رہی ہو ۔
وہ پہلی بار ساز کی امی کو اپنے کمرے میں دیکھ رہا تھا
امی عمر سے بولا گیا پہلا جھوٹ ہے یہ میں نہیں چاہتی وہ اس بارے میں کبھی جان جائیں
میں تو خود انھیں نہیں جانتی تھی کہ عمر خیام کون ہے ہمارے گھر رہنے کے باوجود کبھی انھیں دیکھا نہیں تھا ۔
ناز آنٹی نے خود پہنائی تھی معلوم نہیں انھوں نے عمر کے لیے پسند کیا تھا ۔۔ شاید پہلے ہی
اچھا واقعی ” وہ مسکرائیں ۔
لیکن یہ بات عمر نہیں جانتے” وہ ماں کو دیکھنے لگی
کچھ نہیں ہوتا وہ اسکی ماں ہے اور ماں باپ سے انسان آخر کب تک ناراض رہ سکتا ہے تم اس انگوٹھی کو پہن لو ۔۔۔ ہمممم”
نجما نے زبردستی پہنا دی اور باہر نکل گئ تو اب وہاں کوئی نہیں تھا
ساز نے آئینے میں خود کو دیکھا ۔
پھر اس کمرے کی خاموشی کو محسوس کر کے اسپر عجیب سا احساس طاری ہو رہا تھا
اور وہ ہلکا سا مسکرا دی ۔
عمر خیام ” اسنے مسکرا کر اسکا نام پکارہ
آپ مجھے ہر حال میں قبول ہیں ” دل کی دھڑکنوں کو سنبھالتی وہ خود سے ہی مخاطب تھی ۔۔۔ مسکرا کر اردگرد دیکھا کمرے میں کوئی ڈیکویشن نہیں تھی وہ باہر ا گئ ۔
عمر گاڑی لیے کھڑا تھا ۔
ساز کو اسکے ساتھ بیٹھتے ہوئے معلوم نہیں کیوں شرم آ رہی تھی گھر کے تقریبا لوگ فنکشن میں جا چکے تھے سوائے بدر اور سوہا کے سوہا بدر کے پاس سے ہلی بھی نہیں تھی جبکہ بدر کی طبعیت بھی ٹھیک نہیں تھی ۔۔۔
وہ گاڑی میں سوار ہوئی اسنے گاڑی آگے بڑھا لی
خاموشی سے ڈرائیو کر رہا تھا ۔
نہ کوئی چھیڑ خانی نہ عادت کے مطابق اسنے کوئی پنگا لیا وہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی لیکن عمر نے پھر بھی نہیں دیکھا
ساز کا دل بجھنے لگا
آج تو اسے لگ رہا تھا عمر اسکی تعریفوں میں زمین آسمان ایک کر دے گا لیکن اسنے ایک نظر بھی نہیں ڈالی تھی
اور اچانک ساز کی نگاہ اس انگوٹھی پر گئ دل دھک سے رہ گیا ۔
ایسا لگا پاتال میں گیرہ ہو کہیں وہ باتیں سن تو نہیں چکا ورنہ ایسا تو کبھی ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ اسکے ساتھ ہو اور وہ کوئی بات نہ کرے اسنے نا محسوس طریقے سے انگوٹھی اتار دی ۔
ڈیش بورڈ پر رکھ دی
عمر نے پھر بھی توجہ نہیں دی بس پیشانی پر دو بل تھے ۔۔۔۔
اور وہ ڈرائیو کر رہا تھا
نہ دل دھڑکا دینے والی کوئی بات کی تھی ۔۔ نہ ہی نظریں اٹھا کر دیکھا تھا ۔
وہ مارکی کے باہر پہنچے عمر نے خود اسکے لیے دروازہ کھولا اور وہاں کی ارینجمنٹس لوگوں کی تعداد چہل پہل دیکھ کر آنکھیں خیر ہو جاتی
یہ پہلی شادی تھی جس پر دولہا دولہن کو خود لایا تھا لیکن دولہا اتنا سنجیدہ تھا کہ دولہن کا دل بیٹھ رہا تھا ۔
کوئی بات ضرور تھی اور یقینا وہ جان گیا ساز نے اس سے جھوٹ بولا تھا ۔
ساز کے شانے پر اسنے ہاتھ رکھا اندر لے ایا
وہاں اسکے دوستوں نے ہلا گلہ مچا دیا شور شرابہ سا ہو گیا ۔
وہ بھنگڑے ڈالنے لگے عمر کو بھی فورس کیا مگر بے سود وہ اپنی جگہ سے ہلا تک نہیں شاہنواز نے اسکے سر پر سے کئ نوٹ وار دیے بینڈ کی آواز اور پھر ۔۔۔۔
خوشی کا سما ہر شخص مسکرا رہا تھا سوائے اسکے سنجیدگی سے ارد گرد دیکھتا آگے بڑھا
ایزہ اسکے نزدیک آئی اور وہ ہلکا سا مسکرا دیا انکی کئ تصاویر کھینچیں ۔۔۔ اور بڑی خوبصورتی اور سہولت سے سب ہوتا چلا گیا
سعود نے اسے پلانے کی کوشش کی تھی مگر وہ ارادے میں نہیں تھا تبھی کچھ بھی نہیں پیا اور ساز کو اندر ہی اندر یہ خاموشی کسی طوفان کی پیش خیمہ لگ رہی تھی ۔
فنکشن عمر خیام کی جانب سے سنجیدگی سے نپٹ گیا ۔۔۔ اور سب سے پہلے یہاں تک کے مہمانوں سے پہلے وہ جانے کے لیے اٹھ گیا
بس شاہنواز سے ملا تھا اسکے بعد سیگریٹ کا کش بھرتے وہ باہر نکل گیا
ساز کو بھی نجما نے اسکے پیچھے جانے کا اشارہ کیا وہ نہیں چاہتی تھی بیٹی پر باتیں بنیں کیونکہ نوٹ سب کر گئے تھے عمر کو وہ وہاں
سے چلے گئے تھے
گاڑی میں سوار ہوئے اور اسکے بعد عمر گاڑی ایک بار پھر چلانے لگا
عمر ” اسنے ہمت کرتے خود ہی سوال کیا ۔
جواب نادر
اپکو کیا ہوا ہے ” وہ بولی مگر اب بھی کوئی جواب نہیں تھا
ایک خوبصورت رات اور اسلامہ اباد کی حسین ٹھنڈ دلکشی ضرور پھیلا دیتی اگر وہ دلکشی کے موڈ میں ہوتا
وہ سنجیدہ تھا کس جانب جا رہا تھا علم نہیں تھا اور پھر جیسے ہی تقریبا آدھے گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد گاڑی رکی تو عمر گاڑی سے اتر کر کھڑا ہو گیا
ایک خوبصورت سے جھیل تھی جس سے ہوا ٹکرا کر اور بھی ٹھنڈی ہو رہی تھی ۔ ۔
وہ اس جھیل کے سامنے کھڑا ہو گیا ۔۔ سیگریٹ کو دوبارہ کش دیا اور جھیل کے اس پار کچھ دیکھنے لگا ۔
ساز کو گاڑی سے خود ہی اترنا پڑا تھا وہ اتر کر اسکے ساتھ ا گئ
عمر کیا ہوا ہے ” اسنے اسکا بازو پکڑا جسے عمر نے جھٹکا
تم نے مجھ سے جھوٹ کیوں بولا ” وہ ایکدم ہی سیدھا ہوا اور سنجیدگی سے اسے دیکھا ۔
ساز نے اسکی جانب دیکھا کافی سنجیدہ تھا
وہ پریشان سی ہو گئ جس بات کا ڈر تھا وہ ہی سوال وہ پوچھ رہا تھا ۔۔ وہ بھکلائ بھکلائ سی اسے دیکھنے لگی ۔۔۔۔
تمھیں میرے لیے میری ماں نے پسند کیا اور تم یہ سب جانتی تھی یعنی تمھیں یہ سب پہلے سے پتہ تھا کہ تمھاری شادی مجھ سے ہو گی “
ن۔۔نہیں ایسا نہیں ہے میں نے تو اپکو کبھی دیکھا “
شیٹ یورپ ماوتھ یو لائیر ” آگے بڑھ کر وہ سختی سے بولا
ع۔۔۔عمر میں ج۔۔۔جھوٹ نہیں ب۔۔۔بول رہی میں سچ میں اپکو تو جانتی تک نہیں ۔۔ یہ۔۔۔یہ بات تو آپ نے بتائی تھی کہ ۔۔ آنٹی نے یہ ڈیسائیڈ کیا ہوا تھا ” وہ گھبراتے ہوئے اپنی بات مکمل کر گئ ۔
عمر نے سر جھٹکا ۔
اور ایک گھیرہ کش بھرا تبھی سامنے سے ایک بوٹ آتی دیکھائی دی تھی اور عمر نے ہاتھ اوپر کر کے ہلایا جبکہ ساز آنکھوں میں آنسو لیے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔وہ اسے جھوٹا سمجھ رہا تھا اسکی کسی بات پر اب یقین نہیں رکھتا تھا کیا ۔
اسنے اپنا گال صاف کیا اور سیدھی ہو کر کھڑی ہو گئ
بوٹ انکے قریب ا کر رک گئ عمر آگے بڑھا ۔۔۔ اور بوٹ پر جمپ لگا کر سوار ہو گیا
لیکن مڑ کر دیکھا تو اب بھی وہ ہیں سر جھکائے کھڑی تھی
وہ سینے پر ہاتھ باندھ کر اسے دیکھنے لگا ۔
کاش اسے بھی رونا ا جاتا تو تقریبا غم دھل جاتے ۔۔۔۔
ساز ” اسنے پکارہ لیکن وہ پھر بھی وہیں کھڑی رہی
زیادہ اکڑ نہ دیکھاؤ مجھے یہیں دھکا دے کر مار بھی دوں گا ” غصے میں وہ اتر کر آیا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر کھینچ کر بوٹ کی جانب لے گیا جبکہ ساز کو مزید رونا آیا اور وہ باقائدہ آواز سے رونے لگی تھی عمر نے وہاں کھڑے ورکرز کی جانب دیکھا اور آنکھ سے اشارہ کر کے ان کو جانے کا کہا ۔۔
تو وہ ورکرز اتر گئے اسنے خود ہی اسے بازوں میں اٹھا کر بوٹ پر سوار کر دیا
وہ ایکدم پانی پر بوٹ کے ہلانے پر گھبرا کر رونا بھول گئ ۔
آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھنے لگی عمر بھی سوار ہوا ۔۔ اور اسنے رسی کھول دی جس سے بوٹ ایکدم پانی میں چھٹ گئ اور ساز جلدی سے اسکا بازو تھام گئ ۔۔
عمر یہ ڈوب جائے گی “
ہاں ٹائ ٹینیک ہے میں تمھیں لایا ہی اسی لیے ہوں یہاں کہ تمھیں یہیں دھکا دے کر جان سے مار دوں ” وہ ڈبڈبائ آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی جبکہ عمر اندر کی جانب بڑھ گیا ۔۔۔۔
وہ بوٹ میں اندر چلا گیا ساز کا دم سا نکلا ایک تو کالی سیاہ رات پھر جھیل کا پانی کالا سیاہ اور اسپر ستم تنہائی وہ کانپتی ہوئی لہنگا اٹھا کر اندر بھاگی تھی ۔
جیسے ہی اندر آئی تو وہ ایک چھوٹے سے کمرے میں جا رہا تھا ۔
وہ بھی اندر گھس گئ
پورے کمرے میں گلابوں کی خوشبو اور ٹھنڈک تھی ساز ایکدم ذرا تھمی اور عمر گول چھوٹے سے بیڈ پر بیٹھ گیا جس پر وائیٹ شیٹ تھی اور نہایت خوبصورتی سی ہر چیز سجی ہوئ تھی ۔۔
ساز دروازے میں ہی کھڑی رہ گئ
عمر نے سر اٹھا کر اسے دیکھا ۔
جب غلطی ہوتی ہے تو سوری کی جا سکتی ہے ۔۔ یہ جو اکڑ جاتی ہو نہ یہ دروازہ کھول کر لات ماری ہے اور تم پانی کے اندر”
آپ اپ ایسا کریں گے” وہ اسکے ڈرانے پر بے حد خوفزدہ ہو گئ تھی ۔
جی بلکل ایسا ہی کرو گا مجھے جھوٹ بولنے والے لوگ بہت بڑے لگتے ہیں”
معاف آپ کسی کو نہیں کرتے جھوٹ بولنے والے لوگ آپ کو برے لگتے ہیں سب کچھ آپکی مرضی سے ہو گا باقی سب تو کچھ بھی نہیں ہیں”
ہاں ایسا ہی تو ہے
عمر خیام سب کچھ نہیں ہے کیا ” وہ اٹھا لو دیتی نظروں سے اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگا اور اسکے چہرے پر آتی چند لٹوں کو سنوارنے لگا
نہیں ” روتے میں بھی جواب دے گئ
ہاں اسے امید نہیں تھی ساز اس سے جھوٹ بولے گی کبھی لیکن اسکی باتوں پر اسے ایمان لانا ہی تھا کہ وہ سچی ہے اتنا عرصہ اسکے ساتھ رہ کر اسے اندازا تھا کہ وہ باتیں گھمانا یہ باتوں میں چالاکیاں کرنے سے آگاہ تھی ہی نہیں ۔
اسکے جواب دینے پر ایکدم عمر نے اسکی کلائی پکڑی اور زور سے گھما کر موڑ دی
س۔۔سی” بے ساختہ اسکے لبوں سے آزاد ہوا جبکہ اسکی پشت عمر کے سینے سے لگی ۔۔۔۔
ایکسپٹ یور مسٹیک اینڈ پرومیس می آئندہ مجھے کھونے کے ڈر سے بھی مجھ سے جھوٹ نہیں بولو گی ” وہ سنجیدگی سے بولا اور اسکی کلائی پر اور زور سے دباؤ ڈالا جبکہ ساز مچلی کہ اسکے ہاتھ میں درد الگ اٹھا تھا
عم۔۔۔عمر میرا ہاتھ”
شششش” اسنے اسکے ہونٹوں کو انگوٹھے اور انگلی کی مدد سے پاوٹ کی شیٹ دی اور توجہ سے اسکے سرخ اناری لبوں کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔
یہاں سے صرف وہ ہی الفاظ نکلیں جنھیں میں سننا چاہتا ہوں ۔۔۔”
وہ ایک نگاہ اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولا ۔۔۔
جلدی بولو ” جیسے بے چینی سے وہ بولا تھا
ا سوری عمر میں آئندہ آپکی سے کبھی جھوٹ نہیں بولو گی اور “
وہ بولی اسکی لو دیتی نگاہوں میں دیکھا ہی نہ گیا
براووو تم میری زندگی کی پہلی اور آخری خوشی ہو مجھے اسکے بعد کچھ نہیں چاہیے تم ہی وہ واحد انسان ہو جسے میں معاف کر رہا ہوں آئندہ وہ بھی نہیں کروں گا “
بات مکمل کرتے ہی اسنے جھٹکے سے اسے سیدھا کیا اور اسکو سینے میں بھینچ لیا ۔
ساز کی دھڑکنیں اتھل پتھل ہو گئیں بس ایسے جیسے ابھی دل سینے سے باہر ا جائے گا جبکہ نرمی سے وہ اسکی کمر پر ہاتھ پھیرتا اسکے سر پر لگے دوپٹے تک لے گیا ۔
اسکے سر سے دوپٹہ جدا کیا ۔۔۔
وہ چند پنوں سے جڑا تھا اسکے کھینچتے ہی نکل گیا ۔۔
اور اسکے قدموں میں دوپٹہ گیرا ساز زور سے آنکھیں بند کر گئ دل کا شور عمر کے دل تک ضرور پہنچ رہا تھا ۔
جسے وہ محظوظ ہو کر سن رہا تھا عمر نے اسے دور کیا
اسکا گھیرہ گلہ اسکی کمر کے نشیب و فراز اسکی گردن اسکا کا کانپتا وجود بے چینی اٹھا رہا تھا جیسے ۔
تم میری زندگی کی سب سے حسین عورت ہو ” ساز نے ایکدم آنکھیں کھول دیں عمر مسکراتی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا ۔
اپکو ۔۔اپکو شرم بھی نہیں اتی” وہ نگاہ جھکا گئ ۔
لو میں نے کیا کہا ہے اب ” آپ کی زندگی میں کتنی عورتیں تھیں جو میں ان میں خوبصورت ہوں ایسے تعریف کرتے ہیں ” وہ اسے دور کرنے لگی
ایک تو تمھارے نکھرے آسمان پر چڑھ رہے ہیں پھینک دینا ہے میں نے تمھیں اٹھا کر” وہ بھڑکا
ساز زبان دبا گئ اور عمر خیام نے اسکی کمر کی پشت پر ہاتھ رکھ کر سرکایا وہ سانسیں اندر کھینچ گئ جیسے اگلی سانس بھی بھال نہیں کر سکے گی ۔
اسکی ناک کی نتھ پر اپنے ہونٹ رکھ دیے ۔۔
محبت کی خوشبو تھی وہ اس وقت وہ اپنے اردگرد محسوس کر سکتا تھا اور ساز کو بھی اسکی سرد انگلیوں کی حرکت محسوس ہو رہی تھی ۔
اسکا ہاتھ سرکتا ہوا ۔۔ ساز کی کمر کی ڈوریوں میں الجھا ساز ایکدم دور ہوئ
عمر جو مکمل مدہوشی میں تھا غور سے اسکی جانب دیکھتا اسکے نزدیک بڑھا اور اپنی شیروانی اتار کر اسنے سائیڈ پر پھینکا دی
ساز کا دم سا نکلنے لگا تھا وہ قدم پیچھے کھینچتی جا رہی تھی ۔۔
جبکہ عمر آگے بڑھا اور اسنے زور سے پکڑ کر اسے بیڈ کی جانب دھکیل دیا
اچانک بوٹ نے جھٹکا کھایا تھا ساز کی چیخ سی جبکہ عمر ہنس دیا ۔
تم مجھ سے سوال کر سکتی ہو میں آج کیا چاہ رہا ہوں تم سے”
وہ مسکرایا
اور اسنے ایک الماری کھولی
وہاں شراب کی بوتلوں کی تعداد ایسے تھے جیسے وہ کوئی بار ہو ۔
آنکھیں پھاڑے وہ یہ سب دیکھ رہی تھی اسنے بوتل نکالی اس بوتل کو چوما اور ساز کو آنکھ ماری
ساز حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی ۔
اس سے پہلے وہ اس بوتل کو کھول کر لبوں سے لگا لیتا اسنے آگے بڑھ کر اس سے بوتل کھینچ لی ۔
وہ اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگا
مجھے پتہ ہے یہ زیادتی ہے تمھارے ہوتے ہوئے پینا جرم ہے گناہ کا وزن بھی بڑھ رہا ہے لیکن طلب گنجائش نہیں دے رہی” وہ ہاتھ آگے بڑھا گیا
ساز کو اسپر ترس سا آیا وہ اتنا زیادہ اپنے آپ کو ان چیزوں کا عادی بنا چکا تھا ۔
کہ اسنے اسکے بڑھے ہوئے ہاتھ کو اپنی کمر کے گرد لپیٹ دیا
عمر کی مسکراہٹ گھیری ہو گئ اور اسنے ایکدم ساز کو گود میں کھینچا اور ۔۔۔۔ اسکے ہونٹوں پر جھکا
شدت جیسے ساری اسپر نکلنے کو بے تاب تھا یہاں تک کے بوٹ مکمل ہل چکی تھی اسکے یوں کھینچنے پر اور ساز نے وہ بوتل چھوڑ دی
اسے سب منظور تھا لیکن اب عمر کا پینا پلانا نہیں
وہ شدت جذبات میں چور ہو رہا تھا اور اسے بھی کر رہا تھا ساز کی سانسیں اکھاڑنے لگی
ع۔۔عمر” اسنے اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر ذرا فاصلہ بنایا اور عمر خیام کچھ توقف سے دور ہوا تو اسکی ساری لیپسٹک پھیل چکی تھی عمر کے ہونٹوں کے اردگرد لگ گئ تھی
عمر کا قہقہہ ابھرا اور ٹشو سے اسکے ہونٹوں کو صاف کیا اور اپنے ہونٹوں کو بھی ۔
اب مزید کوئ بات نہیں ” اسنے لائیٹ بند کی ساز کا کانپتا ہاتھ تھامے اب اس کمرے میں بس ایک لیمپ کی روشی تھی
اور وہ بھی وہ کم کر چکا تھا یہ بھی اسی کے لیے تھا تاکہ وہ پریشان نہ ہو ۔
اسنے ساز کو اس ہلکی پھلکی روشنی میں کھڑا کیا اور سکون سے اسکے بازوؤں کی ڈوریاں کھولتا وہ ساز کو بے ہوش ہو جانے کے قریب لے گیا شولڈرز پر سے ذرا سا کھسکا کر اسنے محبت کی پہلی مہر لگائی تھی اور پھر اسے بیڈ پر دھکیل دیا
بوٹ پوری طرح ہل گئ ۔
عمر خیام اسے ہی دیکھ رہا تھا جس کی اتھل پتھل ہوتی سانسیں جس کے چہرے پر چھائی شرم و حیا جس کی خوبصورتی اسے یہاں چند لمہے بھی ٹکنے نہیں دے رہی تھی ۔
اسنے اپنے کرتے کے بٹن کھولے ساز بیڈ شیٹ مٹھیوں میں بھینچ گئ دل حلق میں ہی ا گیا ۔
اسکی خوشبو ساز کو پاگل دیوانہ کر رہی تھی وہ جھکا ساز کی گردن پر نازک سی گستاخیاں پر اسکے دل کو چھوتا اسکے چہرے پر چھائے گھبرائے ہوئے تاثرات دیکھنے لگا
U enjoy it?
اسکے سوال پر وہ شرم سے دھری ہوتی اپنا چہرہ چھپا گئ وہ مسکرایا ۔
Your body tell the truth .
وہ بولا اور اسکی بڑھتی ہوئی سانسوں کو اپنی شانوں میں الجھایا اسکے بازوں کو تھام کر اوپر لگا گیا
پھر عمر خیام کا جادو اس پر چھانے لگا تھا وہ کانپ سی گئ دھڑکنوں کا شور طوفان کیطرح تھا ۔
وہ اسکے بازوں کو پیار سے چھوتا دوبارہ اسکے ہونٹوں پر جھکا اور پھر اسکے شانے پر ایک نشان بنا دیا
محبت دونوں کے بیچ حسین سا منظر بنا چکی تھی
ایسی خوشبو تھی دونوں کے گرد جس میں مدہوشی کی مہک تھی ۔
عمر” وہ اسکی بڑھتی جسارت پر کپکپا اٹھی ۔
جبکہ عمر نے زور سے ہتھیلی اسکے لبوں پر رکھ کر اسکی آواز دبا دی ۔۔۔ جبکہ محبت کا نشہ بڑا زور آور تھا وقت ہاتھ میں بھربھری ریت کی مانند سرکنے لگا
حجاب و حدود کی منزلیں پار کرتے وہ محبت کے نشے میں مکمل بھکا بھکا سا ۔۔۔ اسکی پیشانی چومتا اسکے پہلو میں لیٹ گیا
اسکے نازکت سے بھرپور وجود کو سینے میں بھینچ کر عمر خیام کو جیسے زندگی کی ہر دولت مل گئ تھی
ساز بھی سمٹ گئ لیکن ہمت اسکی جانب دیکھنے کی بھی نہ تھی وہ بار بار اسکی پیشانی پر ہونٹ رکھ کر اسکے شرم سے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھتا ہنس دیا ۔
مجھے نیند نہیں ا رہی اگر اجازت دو تو تھوڑی دیر ؟؟
بات ادھوری چھوڑ دی جبکہ ساز اب کے رونے لگ گئ
آہ۔۔۔۔ اچھا سوری اچھا یار سوری چپ ہو جاو مذاق کر رہا ہوں”
وہ دونوں ہاتھ چہرے پر رکھتی اسکی جانب سے کروٹ موڑتی بری طرح رونے لگی اور عمر کا قہقہہ پوری بوٹ میں گونج گیا ۔
سوری نہ ۔۔۔میں کچھ زیادہ ہی اوور ہو گیا معلوم نہیں تھا نہ اتنی نازک سی ہو ” وہ اسے پیار سے اپنی جانب موڑتا بولا
ساز سو سو کرنے لگی
اچھا سو جاو بھئ تم تو گلے کا ہار ہی بن جاتی ہو “
وہ سر جھٹک کر لیٹ گیا اسپر بلنکیٹ ڈالا اور اسکے گال پر پیار کر کے اسے خود میں بھینچ لیا
ویسے اگر ایک بار ۔۔۔ اور۔۔۔
ہٹیں یہاں سے” وہ اب کے بھڑکی
س۔۔۔۔سسسسوری ” اب چپ اچھے بچوں کیطرح سو جاؤ بس اور کتنا تھکاو گی مجھے”
عمر آپ اپ چپ ہو جائیں” وہ منہ بنا گئ
گڈ نائیٹ مائے بیوٹی” وہ بولا اور لیمپ بند کر دیا
محبت سے خود میں بھینچتا وہ خود بھی آنکھیں بند کر گیا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سٹور میں موجود ایک ایک چیز اٹھا اٹھا کر دیکھ لی تھی محور ہے آج معلوم نہیں کس بات نے انھیں شبے میں ڈال دیا تھا
تبھی وہ سٹور میں گھس گئے اور وہاں کی ہر چیز الٹ دی اور بلاخر بہت محنت کے بعد انھیں وہ چیز مل ہی گئ تھی
انھوں نے اس البم کو دیکھا ناز کی کئی تصویریں تھیں وہاں
اسکے ناچنے کی اسکے کوٹھے کی ۔۔۔۔
اس تصویروں میں ایک تصویر تھی جس میں شاہنواز کھڑا تھا
آج اسے دیکھ کر جیسے احساس ہوا تھا کہ اس شخص کو کہیں دیکھا ہے اور وہ ڈھونڈنے نکلے تو انکی آنکھیں پھٹ گئیں
ناز کا عاشق وہ سولہ سترہ سالہ لڑکا ۔
جس نے ایک بار اشفاق صاحب کو بری طرح پیٹ تھا وہ کیسے کیسے بھول گئے ۔
آوارہ بدچلن عورت نے اس کو اپنے ساتھ ساتھ رکھا اور پھر اسکے پیسے سے مرعوب ہو کر اپنی اولاد اسکے حوالے کر دی
اتنی اتنی بڑی گیم کیا عمر کو خبر تھی
نہیں ہو ہی نہیں سکتا تھا عمر یہ بات جانتا ہو اگر جانتا تو شاید شاہنواز کو جان سے مار دیتا ۔۔
اسکا ایک روپیہ بھی حلال نہ سمجھتا
واہ واہ واہ ” وہ اپنی کارکردگی پر خوش ہو گئے
اب جو ہو گا وہ سب سے زیادہ مزے دار ہونے والا تھا ۔
وہ خوشی سے باہر نکلے ۔۔۔ اور اس تصویر کو کسی خزانے کیطرح چھپا دیا
تائی خان نے انکی خوشی وہ تصویر سب چیزیں دیکھیں تھیں
کیا ہوا تھا وہ سمجھ نہ سکیں ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
