Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 66

بدر دوپہر میں گھر آیا تھا اسے سوہا کی فکر ہوئ تھی کیونکہ وہ کافی حساس ہو گئ تھی اور اوپر سے اسکا دل خود بخود متفکر ہو رہا تھا وہ گھر آیا اور اسنے سب سے پہلے سوہا کی تلاش میں نگاہ گھمائی اور ۔۔ جب وہ کمرے میں آیا تو اسے کہیں بھی سوہا دیکھائی نہ دی کچھ بل سے ماتھے پر ڈال کر وہ کمرے سے نکلا اور تائی جان کے کمرے سے خواتین کی آوازیں انے لگی گویا سب وہاں موجود تھے
سوہا مجھے لگ رہا ہے کہ یہ عمر نے کچھ کر دیا ہے ہائے خدا غارت کرے اسے مجھے پتہ ہے وہ وہ اسی نے میرے بچے کو غائب کیا ہے ” تائی جھولیاں اٹھا اٹھا کر کوسنے اور بدعائیں دے رہی تھی
اسنے نہ نہیں کیا امی عمر ایسا کیوں کرے گا
وہ دیکھ لینا اسی نے میرے بیٹے کو غائب کر دیا ہے وہ ہی ہے ۔۔ تو دیکھ لینا ” وہ بری طرح رو دیں نجما بھی خاموش کھڑی تھی کیونکہ شک تو اسے بھی تھا اور صوفیا بھی رو رہی تھی جبکہ اشفاق صاحب ریپورٹ لکھوانے پہنچ گئے تھے
کل ہی ارہم رات غائب ہو گیا اپنے دوست کے ساتھ نکلا تھا اور رات سے اب یہ وقت ا گیا نہ اسکی کوئی خبر تھی نہ ہی کچھ پتہ چلا تھا واضح بات تھی عمر اپنی کہی بات پوری کر رہا تھا
بدر نے سمجھ لی تھی بات وہ خاموشی سے سب کی جانب دیکھنے لگا سوہا جلدی سے اسکے قریب ا گئ
لیکن ارہم نہیں مل رہا پلیز اسے ڈھونڈو وہ کہاں چلا گیا ہے اسے عمر نے کچھ کر دیا بدر وہ مار دے گا اسے ” وہ بولی تو تائی اور بھی رونے لگ تھی ۔۔۔۔
اور بدر نے ایک سانس کھینچا تو تمھارے بھائی کو میری بہن کے ساتھ کچھ کرنا بھی نہیں چاہیے تھا اسے پتہ ہونا چاہیے وہ عمر خیام کی بیوی ہے ۔۔۔
عمر خیام ” اسنے نام دھرایا کر باور کرایا تھا
ہاں ٹھیک ہے مجھے پتہ ہے اسنے ہی کچھ کیا ہے لیکن لیکن اسکی جان ضروری ہے ابو بہت پریشان ہیں پلیز بدر ڈھونڈو اسکو ” وہ رونے لگ گئ
چلو شکر ہے تمھارے ابو کو بھی پریشانی دی کسی نے ” وہ سر جھٹک کر بولا سوہا اور رونے لگ گئ
بدر کو اسکے آنسو اچھے نہ لگے “
اچھا تم یہاں آرام سے بیٹھو پہلے ہی تمھاری طبعیت ٹھیک نہیں رہتی ” بدر نے اسے بیٹھایا “
بدر وہ میرا بھائی ہے “ہاں تو جس نے اٹھایا ہے وہ بھی بھائی ہے تمھارا “
پلیز ڈھونڈ لو “
اوکے اوکے اب چپ ” وہ سکون سے اسکے انسو صاف کرنے لگا وہ حیران ہوئی یہ بدر ہی تھا نہ وہ نفی میں سر ہلا گئ کہ نہیں اور کچھ بھی نہیں ۔
تم نے کھانا کھایا ۔۔ تمھیں کھانے کی پڑی ہے وہاں سب پریشان ہیں “، ہاں مجھے اب بس اپنے بچوںکی پڑی ہے اور اس گھر میں پریشانی کا لیول ایسا ہی ہے ” وہ شانے اچکا گیا
سوہا نے اسکی جانب دیکھا اور اسے دور جھٹک دیا ۔
بدر اسے دیکھتا رہا
یعنی تم مجھے سکون سے بیٹھنے نہیں دو گی” وہ گھور کر بولا وہ کچھ نہیں بولی وہ سانس کھینچا کر اٹھا
نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے تمھاری وجہ سے جانا پڑ رہا ہے ” وہ غصے سے نکلا
ابو پولیس سٹیشن گئے ہیں “
درحقیقت تو تمھارے باپ کو جیل میں پونا چاہیے” وہ ذرا دانت پیس کر کہہ کر وہاں سے نکل گیا جبکہ سوہا ا پیچھے اسکی پشت دیکھتی رہی ۔ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ارہم کے منہ پر کپڑا ڈالا ہوا تھا وہ ایک رسی سے بندھا ہوا تھا اور عمر نے اسکے منہ پر کئی مکے مار دہے تھے ارہم کے چہرے سے خون نکل رہا تھا شاہنواز ایک طرف بیٹھا تھا پاوں جھولا رہا تھا اور ۔۔۔
عمر خیام کا بس نہیں چل رہا تھا وہ ان آنکھوں کو پھوڑ دے جنھوں نے ساز کو دیکھا اس دماغ کو ختم کر دے جس نے ساز کے بارے میں سوچا اور ان ہاتھوں کو ہی توڑ دے وہ کافی دیر سے اسے رک جانے کا کہہ رہا تھا
ارہم مسلسل گڑ گڑا رہا تھا شاہنواز کے لیے یہ کھیل عام تھے موت کے گھاٹ تک لوگوں کو پہنچا دینا کہ وہ خود ہی مر جائیں اسپر کئی کیس بنے ہوئے تھے لیکن وہ اپنی بات سے پیچھے آج تک نہیں ہٹا اور جن کے اندر جنوں ہوں وہ اس حد تک پہنچ جاتے ہیں عمر نے ایک کھینچ کر مکہ مارا تھا اور پیچھے ہو گیا جبکہ شاہنواز نے اسے ہاتھ کے اشارے سے روکا
میں نہیں چاہتا تمھارے اوپر قتل کا کیس بنے”
بھاڑ میں جائے کیس م” وہ سر جھٹک گیا
لوگوں کو بے سب کر کے مزاہ آتا ہے ان لوگوں کو آج اپنی بے بسی پر سارے شہر میں تلملا پھر رہا ہے میرا باپ کمال ہے واقعی اس سے محبت ہے اسے “
وہ اپنے ہاتھ کو جھٹکے لگا جو زخمی ہو گیا تھا ۔
اچھا ریلکس ہو جاو غصہ نہ کرو “
کیوں نہ کروں اسکو تو جان سے مار کر چین ملے گا مجھے ” اسکے چلانے کے سبب اسکے منہ پر ٹیپ لگا دی تھی عمر نے جس کی وجہ سے ایک عجیب خوفناک آواز نکل رہی تھی اسکے منہ سے ۔۔۔
عمر چیڑ کر کھڑا ہوا اور اسکے منہ پر سے سب کچھ کھینچ کر اتارا ارہم رونے لگا اور زور زور سے روتا وہ عمر کو تو بہت برا لگا تھا
عمر نے اسکا گریبان جکڑا اور اسکے زخمی چہرے کو خود سے نزدیک کیا
تمیز سے اپنے گھر جا اور جا کر میری ساز سے معافی مانگ اور اس سے کہہ ۔۔ ۔
کہ وہ تیری بہن ہے تیری آنکھیں پھوڑ دوں گا آئندہ تو نہ میری بیوی پر میلی نگاہ بھی ڈالی سمجھا ” وہ اسے جھنجھوڑ کر بولا ارہم کراہتے ہوئے سر ہلا گیا کہ وہ ایسا ہی کرے گا عمر نے اسے چھوڑ دیا اسکا پورا منہ نیلا ہو چکا تھا اسکے ہاتھوں پر چوٹیں تھیں ارہم وہاں سے کراہ کراہ کر نکلا اور عمر شاہنواز کے پاس بیٹھ گیا
میرا بس نہیں چل رہا میں کچھ کر گزرو “
شہزادوں اب بس کرو یار اسکی حالت کو دیکھو “
ڈیزرو کرنا ہے سالا ” وہ دانت پیس گیا
میری آنکھوں سے وہ منظر نہیں جاتا جب عمر خیام کی بیوی اسکے آگے ہاتھ جوڑ رہی تھی اور جب عمر خیام کی ماں اسکے باپ کے اگے ہاتھ جور رہی تھی
انکی نسلیں تباہ کر دوں میرا بس نہیں چلتا لیکن افسوس یہ ہے کہ میں ہی نسل ہوں اسکی اور میں خود کو تباہ کر دیتا اگر ساز میری زندگی میں نہ اتی ” وہ غصے کی شدت سے چنگھاڑتا آخر میں آہستہ ہو گیا شاہنواز اسکے شانے پر ہاتھ رکھا اور اسکا شانا تھپتھپانے لگا
اتنا غصہ نہ کرو “
نفرت اسی لیے تو ہے خود سے کہ کبھی کچھ کر ہی نہیں کر سکا کچھ کر جاتا تو اج نارمل انسان ہوتا ” وہ کہہ کر جھٹکے سے اٹھا اور وہاں سے باہر نکل گیا
عمر ” شاہنواز نے چینی سے اسکے پیچھے لپکا ۔
میں چلا جاوں گا ” عہ کہنے لگا مگر شاہنواز بیٹھ گیا تھا اسکے ساتھ اور ڈرائیو بھی شاہنواز نے کی تھی شاہنواز کو اس میں اپنا عکس دیکھائی دے رہا تھا عمر بے چینی سے بیٹھا تھا ۔
شاہنواز راستے میں اس سے بات کر رہا تھا لیکن زیادہ کچھ اثر نہ ہوا اور وہ گھر ا گیا ۔۔ وہ گھر میں داخل ہوا ۔۔اور سامنے ہی ساز کو دیکھ دل میں کچھ چین سا اترا تھا وہ اسکے پاس ایا اسے بس یوں ہی کسی بچے کیطرح گود میں اٹھا کر بیٹھ لیا جبکہ وہ صوفے پر بیٹھی تھی ۔۔۔۔
اور معلوم نہیں کیسے کیسے ساز کا ہاتھ اٹھا اور عمر کے گال پر لگا وہ کوئی بہت زور سے نہیں لگا تھا لیکن وہ اسکے منہ پر تھپڑ مار چکی تھی عمر سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگا
ساز خود ہی پریشان ہو گئ کہ اسنے یہ کیا کیا ہے
آپ ۔۔ اپ نے ارہم بھائی کو کڈنیپ کر لیا آپ اپ نے انھیں مارا پیٹا تایا جان نے آپکے خلاف ریپورٹ کرا دی بدر بھائی بھی ائے تھے ۔۔
کتنا رو رہے تھے سب آپ اپ اتنے وحشی اور جنگلی ہیں اپ ۔۔ اپ کیا ہیں عمر ” اور اچانک عمر نے اسکے بال جکڑے اور اسکا چہرہ اپنے چہرے کے نزدیک کرتے آنکھیں نکال کر بولا تھا لفظ جیسے چبا ڈالے تھے
تم سے محبت نہ ہوتی تو آج تمھیں اس تھپڑ کا جواب بہت اچھے سے دیتا ۔۔ عمر خیام ایسا ہی ہے اور ایسا ہی رہے گا ۔۔ تم جاو اپنے اس ارہم کی حمایت لو میرے سامنے اب مجھے اپنی شکل نہ دیکھانا میرے سینے میں آگ لگی ہے کہ تمھیں کسی نے میلی نگاہ سے کیوں دیکھا اور تمھیں اسکا خیال ا رہا ہے اس نیچ کا ۔۔ جو میرے پیچھے میرے گھر آیا مگر تم ۔۔۔ تم نے مجھے بتانے تک کی زحمت نہ کی”
وہ دھاڑا اور ساز اسکے پاس سے اٹھ گئ کہیں وہ اسپر ہاتھ نہ اٹھا دیتا ۔
یو آر سچ آ ڈم گرل جسٹ گیٹ آوٹ ” اسنے دانت پیس کر کہا جبکہ ساز رونے لگ گئ اور عمر اسے وہیں چھوڑ کر کمرے میں چلا گیا ساز شرمندگی سے وہیں صوفے پر بیٹھ کر رو دی ۔۔
اسکا غصہ بہت برا تھا وہ غصے میں ہر حد پار کر دیتا تھ تایا جان نے اسکے خلاف ریپورٹ کرا دی تھی ۔
کیسے کیسے وہ سنبھالے سب ۔۔۔ وہ جذباتی ہو گئ تھی اسنے عمر پر کیوں ہاتھ اٹھایا عمر سے زیادہ تو کوئی اہم نہیں تھا اسکے لیے ۔
وہ رو کر جب دل ہلکا کر گئ تبھی اٹھی اور اوپر جانے لگی
آج یہ سب ہوا تو اسکا رویہ یہ تھا اور اگر کل کو اسے ساری حقیقت پتہ چلے گی تو کیا ہو گا اسنے کہا تھاساز اس سے جھوٹ نہ بولے کچھ نہ چھپائے اور اگر اسے علم ہو گیا وہ کیا کرے گی لیکن بتائے بھی تو کیسے بتائے اسے ۔۔
وہ بے بس سی اوپر آئی دیکھا وہ بیڈ پر لیٹا ہوا تھا تکیوں میں منہ دیے اسنے اپنے آنسو صاف کیے اور اپنی نازک انگلیاں اسکے بالوں میں پھنس دیں
عمر ۔۔ عمر ناراض ہو گئے ہیں ” وہ بولی اور اسکے ساتھ لیٹ گئ ۔۔
عمر پلیز ناراض نہ ہوں آئ ایم سوری میں آپ سے کچھ نہیں چھپاؤ گی آئندہ میں ۔۔ میں ڈر گئ تھی کہیں اپکو برا نہ لگے “
وہ اسکے بازو کو ہٹانے لگی جو عمر آنکھوں پر رکھے لیٹا ہوا تھا اور وہ غصے سے بازو ہٹا گیا
ساز نے کچھ ہمت کرتے اسکے گال پر ہونٹ رکھ دیے
اب بھی نہیں مانیں گے ” وہ اداسی سے بولی
سوری عمر ” وہ بولی مگر وہ ٹسٹ سے مس نہ ہوا
ہم شاید میری غلطی ہے اتنی بڑی ہے کہ اب آپ مجھے چھوڑ دیں گے میں تو مر جاؤں گی نہ پھر اچھا ٹھیک ہے پھر ” وہ اٹھی اور عمر کی آنکھوں پر سے بازو ہٹایا
تم نے کچھ زیادہ ہی سمارٹ بنتی ہو جس دن میرے ہاتھوں کا تھپڑ پڑ گیا اس دن تمھارے حوش ٹھکانے ا جائیں گے ” کھینچ کر اسے اپنے سینے میں بھرتا وہ بولا تھا
آپ مجھے ماریں گے ” بہت معصومیت سے جان بوجھ کر آنکھیں پتپٹاتی بولی
ہاں بہت برا اور خبردار جو کیوٹ بننے کی کوشش کی بہت بری ہو تم”
میں کیوٹ ہوں ” وہ بولی تھی
ہاں 🐵 بندریا جیسی کیوٹ “
عمر ۔۔۔”
شیٹ اپ مجھ سے دور رہو میں ناراض ہو تم سے تم نے مجھے الو بنا رکھا ہے “
آپ مان گئے ہیں اب ناراض نہ ہوں میں اپکو ایک خاص چیز دوں گی پکا پرومیس “
کیا “
بہت سارا پیار” ساز مزے سے بولی
اور وفا ؟ اسکے سوال پر ساز اسکے ہاتھ تھام گئ
میں قسم کھاتی ہوں عمر میری ساری وفائیں آپکے لیے ہیں یہاں تک کے مر کر بھی آپکی ہی رہو گی ۔۔ اپ یقین کریں میرا “
تمھیں میرا علاوہ کسی کی ضرورت نہیں ہے نہ عمر خیام تمھیں ہر طرح سے چاہے گا “
عمر ” وہ اسکا چہرہ ہاتھوں میں بھر گئ عمر نے گھیرہ سانس لیا
جو میں نے کیا ٹھیک کیا ہے ” وہ بولا
ہاں ٹھیک کیا ہے ” وہ بولی اور عمر اسے اپنے جانب کھینچ گیا ۔
اب اب یہ کیا ” وہ حیران ہوئی
ساز اس تھپڑ کی ” اسنے ہاتھ بڑھا کر لائیٹ بند کی
اور کمرے میں معنی خیز سی خاموشی پھیل گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جھنم میں جائے گا اسکے ہاتھ ٹوٹیں یہ مر جائے اسکی زندگی عذاب ہو جائے اسے کبھی خوشیاں نہ ملیں یہ اپکا کیا دھرا ہے اور اس طوائف سے شادی کر کے اس سانپ کو جنم دلواتے ہائے میرا اللّٰہ عمر مر جائے میرے مول عمر مر جائے ایسی موت آئے اسے کیڑے پڑیں تائی کے کوسنے نجما کے دل کو ہلا رہے تھے لیکن وہ بیٹے کو بے ہوش پڑا دیکھ ایک سانس لگی ہوئی تھیں ۔
جبکہ سب ہی یہ تو نہیں چاہتے تھے کہ عمر کو کچھ ہو مگر حال برا تھا اشفاق صاحب کے اندر غصے کی شدت بہت شدید تھی ۔
اور وہ عمر کو بخشنے والے بلکل نہیں تھے
یہ وقت بتاتا کہ وہ عمر کو اس سے کتنے گناہ زیادہ اذیت دیتے