Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 49
No Download Link
Rate this Novel
Episode 49
تم لوگوں کا دماغ خراب ہے اسنے سبحان کو مارا ہے اور اب جیل میں بیٹھا ہے بلکہ بہت اچھا ہوا ہے اسکے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے تھا ” بدر سوہا پر برسا کیونکہ وہ اور نجما بار بار اسے عمر کو لے کر آنے کا کہہ رہے تھے تائی پیچھے پیچھے ہنس رہی تھی سوہا کو علم تھا اسکی ماں کی عادت تھی تبھی و کچھ نہیں بولی جبکہ چچی کے بھی سینے میں سکون سا اترا صوفیہ صنم البتہ پریشان تھیں تایا جان ابھی تک گھر نہیں لوٹے تھے اور ارہم ناراض ہو کر جا چکا تھا گھر سے تبھی بدر کا دماغ کھایا جا رہا تھا
میں اسے چھوڑانے نہیں جاؤ گا ۔۔۔ اچھا ہے دو چار ڈنڈے کھائے گا تو جتنا بگڑا ہو ہے سیدھا ہو جائے گا ” بدر غصے سے بولا جبکہ سوہا نے بھی غصے سے دیکھا
ٹھیک ہے پھر ہم چلے جاتے ہیں “
تم گھر سے پاوں تو باہر نکالو ٹانگیں توڑ دوں گا “
توڑ دو ” وہ بھی بھڑکی اور اٹھ گئ
ہاں بیٹا چل میں چلتی ہوں جب سے کمانے لگا ہے اسکے اندر بہت نشہ گھس گیا ہے پیسوں کا ” ساز اب بھی خاموش بیٹھی تھی
امی بات یہ نہیں ہے بات یہ ہے کہ میں نے سبحان سے ساز کی شادی کرانی ہے وہ جان بوجھ کر کر رہا ہے اب سب “
اچھا ساز نے تو نہیں کرنی ” نجما پہلی بار غصے سے بولی ۔
ارے کوئی اس سے بھی پوچھ لو ایک انار پر سو بیمار ہو گئے ساز نہ ہو گئ کوہے نور کا حرا ہو گئ مردوں کا جھمگھٹا لگ گیا “
تائی جان نے سر جھٹکا جبکہ الفاظ تلخ تھے لیکن بات درست تھی ساز کھڑی ہو گئ
بھائ جو آپ کریں گے میں اپکے ساتھ ہوں” اسنے آہستگی سے کہا
ساز” سوہا اور نجما حیران رہ گئیں
آپ چاہتے ہیں کہ میں سبحان سے شادی کروں تو میں ایسا ہی کروں گی کم از کم بار بار وہ جیل تو نہیں جائیں گے یا چھوڑ چھوڑ کر تو نہیں بھاگیں گے” وہ بولی اور اٹھ کر اندر چلی گئ ۔
سن لیا ہو گا اپنے کانوں سے اب تو ” بدر نے جتاتی نظروں سے اسے دیکھا
خود تو محبت تمھیں کرنی نہیں آتی دوسروں پر بھی جلاد بن جاو “
وہ ذرا غصے سے بولی اور کمرے میں چلی گئ نجما بھی غصے سے اٹھ گئ بدر کو بڑا غصہ چڑھا جو سوہا کہہ کر گئ تھی ۔
وہ ماں کیطرف بڑھتا کہ ماں نے روم لاک کر لیا اور بدر ساز کے پاس گیا
تم یقین مانو یہ فیصلہ تمھارے لیے بلکل ٹھیک ہے ” ساز کے سر پر ہاتھ رکھتے وہ بولا
جی بھائی مجھے آپ پر یقین ہے ” وہ ہلکا سا مسکرائی
انشا اللہ سب ٹھیک ہو گا ” وہ بولا اور اسکے سر پر ہاتھ رکھتا نیچے آیا اور اس سے پہلے کمرے میں جاتا کہ اچانک اسکی بات یاد ا گئ
اسے محبت نہیں کرنی آتی یہ اسے الہام ہوئے تھے وہ سمجھتی تھی کہ محبت صرف وہ کر سکتی ہے وہ سٹور روم کی جانب بڑھ گیا
وہ میٹرس پر بیٹھی تھی معلوم نہیں کیا سوچ رہی تھی
ہممم تو یہاں رہا جا رہا ہے ” ارد گرد سامان اور نیچے میٹرس بچھا دیکھ وہ سکون سے بولا جبکہ اپنے پیچھے دروازے کو کنڈی چڑھا دی
کس لیے آئے ہو “
ایک شوہر بیوی کے پاس کیوں آتا ہے ” وہ اسکی جانب دیکھ کر بولا ۔
جس کے بال بکھرے سے ہوئے تھے جبکہ اسکا رنگ کافی سنھری ہوتا جا رہا تھا
معلوم نہیں شادی کے بعد کا اثر تھا ۔
میرے شوہر کو مجھ سے صرف یہ ہی ایک کام پڑتا ہے لیکن مجھے کوئ شوق نہیں جاو تم مجھے پہلے ہی غصہ رہا ہے” وہ بولی اور کمبل منہ تک تان کر لیٹ گئ
بدر کی پیشانی پر بل پڑے
وہ سمجھتی کیا تھی خود کو وہ اسکا غلام تھا جو اسکی مرضی سے چلتا اسنے جوتے اتارے اور اپنی واچ اتارنے لگا ۔
سوہا کو یقین تھا وہ چلا جائے گا تبھی آنکھیں بند کیے کروٹ لے گئ جبکہ دوسری طرف اسنے میٹرس کے ایک طرف اپنی چیزیں پھینکی اور اپنی شرٹ کے بٹن کھولے اور اسکے پہلو میں لیٹ گیا ۔
بدر ” وہ غصے سے اٹھی
اپنا منہ بند رکھو سمجھ تمھارے دماغ کو لگ چکی ہے میں کیا چاہتا ہوں تو شرافت سے لیٹ جاو “
چونکہ وہاں ایک ہی تکیہ تھا بدر نے اپنے سر کے نیچے لگا لیا جبکہ سوہا اسے بلکل اپنے ساتھ دیکھ کر ذرا پریشان سی ہوئی
وہ محبت نہیں کرتا تھا قربت چاہتا تھا
بلکل اسکے باپ کیطرح اسکے باپ نے بھی تو اسکی ماں کو بیوی ہی سمجھا تھا پھر بیوی کی جگہ کم وہ انکی ماتحت اور غلام بنتی چلی گئ علم نہیں ہوا
میں نہیں چاہتی ” وہ اٹھنے لگی بدر نے غصے سے اسکا ہاتھ جکڑا
ہو کیا تم ہاں جو اتنا نکھرا دیکھا رہی ہو ۔
ہو کیا اپنی شکل دیکھی ہے میرے تو ہاتھ کا رنگ بھی تمھاری اس شکل سے میچ نہیں کرتا اور اترا ایسے رہی ہو جیسے کوئی اپسرا ہو ہاں ہے تمھارے پاس ایزہ جیسا حسن تو اٹھاؤ تمھارے نکھرے ۔
تمھاری جیسی نہ گلی بازاروں میں پانچ پانچ سو میں ریٹ لگوائے کھڑی ہیں
اپنی اوقات نہ بھولا کرو تم اگر بدر ان کی بیوی ہو تو اس میں تمھارا کمال کوئی نہیں ہے بدر زمان کا کمال ہے کہ تمھیں بیوی بنا رکھا ہے آئندہ مجھے منع کیا نہ تم نے کسی بات سے تو منہ توڑ کر ہتھیلی پر رکھ دوں گا ۔
یہ یہ ہی اوقات ہے تمھاری پڑی رہو یہیں ” وہ اٹھا
اپنا سامان اٹھایا شرٹ کے بٹن بند کیے
وہ ساکت بیٹھی اسکی صورت دیکھ رہی تھی
میں بدصورت ہوں اور بدصورت ہی رہو گی بدر کیونکہ واقعی میں تمھارا مقابلہ نہیں کر سکتی میں واقعی ایزہ جیسا حسن نہیں لا سکتی اور نہ کبھی چاہتی کہ تم میرے نکھرے اٹھاؤ لیکن خدا کی قسم تمھیں اس بدصورت لڑکی سے زیادہ دنیا میں کوئ چاہ نہیں سکتا
بازاروں میں پانچ پانچ سو میں میرے جیسی ہی بکتی ہیں لیکن وہ میری طرح تمھارے لیے اپنی جان نہیں دیں گی
تمھارے تو شاید پاوں بھی مجھ سے زیادہ خوبصورت ہیں لیکن تم کہو میرے پاوں کو چوم لو تو وہ پانچ سو میں بکنے والی تمھارے پاوں کو چومنے کی دیوانگی نہیں رکھیں گی
ایسا نہیں ہے کہ میں تمھاری خوبصورتی سے متاثر ہوں ۔۔۔ نہیں وہ دور پرانا ہو گیا
میں شاید ۔۔شاید تم سے والہانہ محبت کرنے پر ہار گئی ہوں میں ہر چیز تمھاری جائز ہی مانو گئ تم نے ٹھیک کہا ۔۔۔۔
آج پہلی بار اللّٰہ تعالٰی سے شکواہ ہو گیا کہ مجھے تمھاری طرح حسین کیوں نہیں بنایا ۔۔۔۔۔۔ ورنہ میں نے کوشش کی کہ تمھیں پسند ا جاو ۔۔
پہلے تو پسند آنے کا سوال نہیں تھا پھر میں نے سچ کی آنکھ سے سب دیکھا مگر میں تمھیں کبھی پسند نہیں او گی کبھی نہیں ۔۔۔
میں خود سے ایسی کالی بدصورت یہ پھر ۔۔۔ اتنی بری کہ تم مجھے بازاری عورت سے ملاو خود سے نہیں ہوں ۔۔۔ بدر
میں پیدا ہی ایسی ہوئی بتاو تیزاب پھینک کر اگر صورت بدل لوں تو قبول کر لو گے ۔۔۔۔
اسے لگا وہ زمین میں دھنس گیا ہو ۔
وہ رو نہیں رہی تھی ۔۔ ہلکی سی پانی کی ایک لہر تھی آنکھوں میں اور دیوانگی کی حد
اپنا آپ اتنا چھوٹا لگا اس وقت کہ الفاظ کچھ باقی بھی نہ رہے
بتاو مجھے میں خود کو کیسے بدلو ۔۔۔۔
بازاری عورتوں جیسی ہی ہوں میں لیکن وہ تمھاری لیے اپنی عصمت کو بحال کر نہیں رکھیں گی ۔
تم مجھے زندگی بھر تھوکتے رہو میں تم سے پھر بھی عشق کرتی ہوں اور میرے جیسا عشق تم سے کوئ دوسرا نہیں کر سکتا یہ میرا دعوا ہے ۔
یہ سوچ رہے ہو گے میں تمھاری قربت میں خوش کیوں نہیں رہتی تو شاید تم سے محبت کی توقع تھی لیکن آج دم توڑ گئ ۔۔
میں نے مان لیا کہ تم مجھ جیسی بدصورت لڑکی سے محبت نہیں کرو گے ۔
ٹھیک ہے ” اسنے آنکھیں صاف کیں دوپٹہ اتارا کر ایکطرف رکھا اور اپنا گریبان چاک کر لیا
بدر کے منہ پر تمانچہ تھا جیسے بڑی شدت سے ۔۔۔۔۔
کیا بازاری عورتیں اسی طرح اپنا آپ پیش کر دیتی ہیں ” وہ لیٹ گئ تھی اسکے لیے ۔۔۔
سوہا نے آنکھیں بند کر لیں
بدر نے دو قدم دور لیے اور باہر نکل گیا جبکہ وہ ویسے ہی پھوٹ پھوٹ کر روتی چلی گئ ۔
یہ اسکا قصور نہیں تھا وہ اسکی طرح خوبصورت نہیں تھی وہ آج سسک سسک کر روئی تھی
اسکی ہر بات سر آنکھوں پر تھی اسنے کہا ایزہ جیسا حسن ہوتا تو وہ نکھرے اٹھاتا کیوں کیوں ایزہ کو لے کر آیا وہ بیچ میں ۔۔۔۔
وہ ایسی ہی تھی اسکے لیے سیلفش اور بہت سیلفش
وہ بہت روئی تھی اس رات خود پر اپنے چہرے پر وہ احساس کمتری اسکے اندر بیٹھ گیا تھا جو شاید سوہا کو سر سے پاوں تک بدل دیتا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گھر میں داخل ہوا گھیری رات تھی اور نیند سے غش کھا رہا تھا لیکن پورے گھر میں کھٹکٹ پٹ لگی ہوئی تھی کیونکہ عمر خیام صاحب کا کمرہ رینویٹ ہو رہا تھا
وہ ادھر ادھر دیکھنے لگا سب کے کمروں کے دروازے بند تھے ۔
کہاں جاتا اسنے ساز کے کمرے کی جانب دیکھا
وہاں اور بھی لڑکیاں تھیں جن کے نام تک سے واقف نہیں تھا وہ لیکن وہ اوپر آگیا اور دروازہ کھولا اب تو چابی اسکے پاس تھی ۔
وہ اندر ایا وہ جائے نماز پر بیٹھی تھی
کیا جوڑی تھی انکی بھی وہ ہر وقت جائے نماز پر رہتی تھی ۔ ۔
اور اسکی آوارہ گردی کچھ زیادہ ہی ریکارڈ توڑ رہی تھی اسنے دیکھا کمرے میں ساز کے علاوہ کوئی نہیں تھا
ایکدم خوش ہو گیا اندر ایا اور ایک سنگل بیڈ ہر لیٹ گیا
اف اتنے سارے بیڈ کیوں تھے یہاں ۔۔۔۔ ہوسٹل کا کمرہ لگ رہا تھا دو بیڈ مزید تھے ۔
ساز کو معلوم نہیں کیوں احساس نہیں ہوا
اسنے جگ اٹھا کر دونوں بیڈ پر پانی پھینک دیا ۔
ہاں اب ٹھیک تھا
شاید وہ دعا مانگتے مانگتے سو گئ تھی پانی کی آواز اور ہلکی پھلکی چھینٹ پر جاگی مڑ کر دیکھا وہ کھڑا تھا
وہ ایکچلی غیر گیا مجھ سے ” وہ معصومیت سے بولا
ساز جلدی سے اٹھتی کہ رک گئ ۔۔۔۔۔ یاد ا گیا اسنے نکل ہی آنا تھا
میرے لیے دعا مانگ رہی ہو نہ” وہ بولا
یہ تمھارا بیڈ ہے “
لگ تو تمھارا رہا ہے تمھاری ہی خوشبو ہے اور وہ دھڑام سے گیرہ
پلیز میرے ساتھ لیٹ جانا “
وہ کہتا کہتا نیند میں اترنے لگا جبکہ ساز اٹھی جائے نماز سمیٹا
بے چاری صوفیی اور صنم اسنے گیلے بستر کو دیکھا پھر گھڑی میں وقت دیکھا رات تین بجے کا وقت تھا نیند سے تو اسکا بھی دماغ گھوم رہا تھا اور آنکھیں خشک ہو گئیں تھیں رو رو کر ۔
لیکن اسکے پاس لیٹ جانے کا مطلب اسے خوش فہمیاں کے سمندر میں غوطہ دلوانا تھا
وہ ماں لیتا ساز اسی کی ہے کیونکہ اب وہ اسکی نہیں ہے “
اسنے سوچتے ہوئے اسکے جوتے اتارے اور اسپر اپنا کمبل ڈال دیا اتنے ٹھنڈا تھا یہ کمبل معلوم نہیں وہ کیسے سو گا
اسنے صوفیا اور صنم کا کمبل بھی ڈال دیا تھا اسپر
وہ اسکے بیڈ پر پورا نہیں ہوا تھا لیکن بلکل بے سود سو گیا تھا وہ کچھ دیر چئیر پر بیٹھی رہی پھر اسے رونا انے لگا صوفیا صنم کے بستر دیکھے وہ بری طرح گیلے تھے اور ساز کو چار نچار اس بیڈ پر بیٹھنا پڑا ۔
اب وہ امی کے کمرے میں جا کر انھیں تنگ نہیں کرنا چاہتی تھیں وہ ہزار سوال کرتیں اور ویسے بھی انکے پاس ایک ہی چارپائی تھی وہ تنگ ہوتی ۔
وہ فاصلہ بنا کر آدھی نیچے تھی کردوں سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئ اور آہستہ آہستہ اسے گھیری نیند نے جا لیا ۔
وہ کب عمر پر غیر گئ پتہ ہی نہ چلا تھا اسے اسکے گیرنے پر عمر نے تھوڑی سی آنکھیں کھول کر اسے دیکھا ہلکا سا مسکرایا
اور بڑی چاہت اسے خود میں سمیٹ لیا وہ بھی تو سکون سے جیسے سونا چاہتی تھی
کمبل اسپر اچھے سے ڈالتے وہ اسے سینے سے لگائے اس سنگل بیڈ کا حق ادا کر رہا تھا
ایک دوسرے میں سمٹے وہ دنیا کو بھلائے گھیری نیند میں اتر گئے تھے اور دروازہ تو عمر پہلے ہی لاک کر چلا تھا ۔
کم از کم بھی وہ ڈیڈ دو دن سونے کا اردہ رکھتا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح بدر کام پر پہلے ہی جا چکا تھا جبکہ سوہا کمرے سے نکلنا ہی نہیں چاہتی تھی وہ ساری رات نہیں سو سکی تھی بر بار آئینے میں اپنا رنگ اپنا چہرہ دیکھتی ۔
حالانکہ سنہری رنگ تھا اور اچھے پیارے نقوش تھے لیکن پھر بھی وہ اسے احساس کمتری میں اتار چکا تھا
جبکہ دوسری طرف ساز کی آنکھ کھلی تو اسکی باہوں میں خود کو قید پا کر وہ جھٹکے سے اٹھی
عمر جبکہ سکون سے پھیل گیا
وہ جلدی جلدی اسکی قربت کے حصار سے نکلی باہر گھر والے کیا سوچیں گے اسکے بارے میں صوفیا صنم کتنی بار ادھر ائی ہوں گی
اف یہ اسنے کیا کیا ہے وہ دکھ سے پریشان ہو گی اسکی نماز بھی قضا ہو گی تھی وہ بھاگ کر نکلی تھی کمرے سے جبکہ اسے خبر نہیں تھی سو چکا تھا دل دھڑک رہا تھا وہ کمرے سے ہی نکل گئ ۔
وہ کمرے سے نکلی تو لیبر گھر سے جا رہی تھی یعنی عمر کا کمرہ بن چکا تھا ۔
وہ پہلے ہی بھکلائی ہوئ تھی آگے سے تایا جان اسے ہی گھور رہے تھے اسکا تو دماغ چکرا گیا
امی کے کمرے میں چلی گئ اور دروازہ ہی لاک کر لیا
تایا جان ارہم کو کال کر رہے تھے جو کہ ناراض ہو کر نکلا تھا
اب کچھ وجوہات ایسی تھیں کہ وہ عمر سے دشمنی مول نہیں لے سکتے تھے اور یہ بات ارہم کو سمجھ ہی نہیں ا رہی تھی ۔
تائی جان بھی بار بار بول رہیں تھیں جبکہ چچی جان کا آج کل موڈ بہت خراب تھا کیونکہ انکی بیٹیوں کے بارے میں اس گھر میں کوئی نہیں سوچتا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات نو بجے وہ اٹھا تھا اور بھرپور انگڑائی لی
کمرے میں صوفیہ اپنا سامان لینے ائ تھی اسے اٹھتا دیکھ بھاگ اٹھی جبکہ عمر کو رتی بھی فرق نہیں پڑا وہ مزے سے اٹھا اور باہر ا گیا ۔
رات کا کھانا کھایا جا رہا تھا اور کھانے کی ٹیبل پر سبحان کو دیکھ کر اسکے مزاج ہی بدل گئے اسنے نگاہ گھمائی وہاں ساز نہیں تھی ۔
یعنی ڈرامہ بھرپور کرنے کو تیار تھا ۔
وہ سبحان کے ساتھ ہی چئیر کھینچ کر ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر بیٹھ گیا ۔
تم کھاؤ سبحان ” بدر بولا
ہاں ہاں سبحان ٹھونسو میرے سالہ نیا نیا امیر ہوا ہے “
عمر سکون سے بولا اور چمچ بھر کر سبحان کیطرف بڑھا دی ۔
ہٹاو اپنا ہاتھ ” سبحان نے چمچ جھٹکی تایا جان تائ چچی چچا ارہم سب ہی موجود تھے جبکہ صوفیا صنم نجما وہ صوفے پر بیٹھے تھے توجہ سب کی ہی یہیں تھی ساز کچن میں تھی اور سوہا بھی ۔
تو آپ مجھے بتائیں بدر بھائی کہ ڈیٹ کب کی فائنل کرو”
ہاں ڈیٹ تو فائنل کر لو یار ۔۔۔ بارات کے اگے ناچنے والوں کا انتظام پہلے سے ہونا چاہیے “
بتاو شاباش ڈیٹ”
بدر نے کھا جانے والی نظروں سے عمر کو دیکھا جبکہ عمر شانے اچکا گیا اور سبحان جبکہ کافی غصے سے اسے دیکھ رہا تھا
اسکی فضولیات چچا جان کی ہنسی بے ساختہ تھی جبکہ اسکا باپ بھی ہنس دیا تھا ۔
لیکن بولے کچھ نہیں کیونکہ وہ بدر کے طور اتوار دیکھ رہے تھے تبھی اس معاملے میں نہیں بولے اورعمر اکیلا ہی کافی تھا اس بات کی خبر بھی سب کو تھی ۔
اپنی بکواس بند رکھو تمھیں نچوا دوں گا میں “
اوکے ۔۔۔۔۔ میں تو ناچو گا میری شادی ہے اینی ویز ڈیڈ مجھے ساز سے دوبارہ شادی کرنی ہے” وہ سیدھی طرح بولا
اجازت کی ضرورت نہیں تھی اسے لیکن پھر بھی بتا رہا تھا اشفاق صاحب کھانا کھاتے ہوئے سر ہلا گئے
تاریخ بتاو ” اختلاف کی کوئی وجہ ہی نہیں تھی تبھی اسی کی سائیڈ لینی تھی انھوں نے ۔ ۔
ارہم تو جل بھن گیا جبکہ سبحان نے بدر کو دیکھا جو خاموش بیٹھا تھا لیکن غصے سے دماغ کی رگیں پھول چلیں تھیں ۔
یہ ہی کوئی ہفتے بعد ” اسنے کہا
ٹھیک ہے اگلے جمعے “
زبردست پہلی بار کوئی اچھا کام کیا ہے آپ نے ویل اینڈ گریٹ”
وہ thumbs up کر کہتا اٹھا ۔
یہ کیا ہے بدر بھائی “
للو یہ عمر خیام کا جلوا ہے تجھے سمجھ کیوں نہیں آتا ” وہ ہنستا ہوا بولا اور کچن میں آگیا ۔
سبحان اگلے جمعے کی تاریخ فائنل ہے تم تیاری کرو ” وہ بولا اور اٹھ گیا سبحان مسکرا دیا جبکہ عمر نے سنجیدگی سے سنا تھا یہ سب وہ کچن میں ایا تو ساز کام میں لگ گئ اور سوہا ویسے ہی کچھ کٹ رہی تھی ۔
یہ تمھارا شوہر کچھ زیادہ ہی اوقات سے باہر ہے ” وہ سوہا سے بولا اور سوہا نے نظر اٹھا کر اسکی جانب دیکھا اور نگاہ جھکا گئ
عمر کی پیشانی پر ایکدم بل ڈلے ۔
لیلن بولا کچھ نہیں چپ چاپ ۔۔ بیٹھا رہا تھا ۔
فلحال وہ سوہا تو نہیں لگ رہی تھی وہ خود کو چھپا کس لیے رہی تھی وہ سیب سائیڈ سے اٹھا گیا ۔
دامن بچانے والے یہ بے رخی کسی ۔۔۔ بتا دو ہمیں اگر ہو گیا ہے کوئی قصور ہم سے “
شادی کی شپاینگ کے لیے چلیں” وہ مزے سے ساز کو دیکھ کر بولا ۔ ساز پریشانی سے سوہا کو دیکھنے لگی
جو پلیٹ میں کھانا ڈال کر سٹور میں جا رہی تھی عمر نے بھی دیکھا تھا ۔
کیا چاہتے ہیں اپ ” وہ بھڑکی اسکے نکلتے ہی
آپ سے شادی ” وہ مسکرایا
عمر تنگ نہ کریں جو ہو رہا ہے وہ ہی ہماری قسمت ہے ” وہ مسکرانے لگا
جان عزیز ۔۔۔ کیسا لگا تمھیں اپنا نام ” وہ خود ہی خوش ہوا جبکہ ساز کا دل دھک دھک کرنے لگا ۔
ہاں تو سنو جان عزیز تنگ تم مجھے کر رہی ہو سیدھی طرح شادی کرو تمھیں کس نے کہا ہے خیام سے پنگے لو ” وہ سیب کی بائیٹ لیتے بولا
مجھے خیام نہیں چاہیے”
عمر لے لو میرے پاس تو دونوں تمھارے لیے مفت ہیں یار کیوں بھاو کھا گئ ہو غلطی ہو گئ کیا اب بچے کی جان لو گی” وہ جھنجھلا کر بولا
سب کیا سوچیں گے اپ اتنا چیخ چیخ کر بول رہے ہیں”
ساز جانتی تھی باہر سب کے کان یہیں لگے ہوں گے”
میں پوری دنیا کو کہہ سکتا ہوں مجھے تم سے محبت ہے اور ہے اور ہے تم بھی مان جاو ” وہ گلا پھاڑ پھاڑ کر بولا
ساز کو یقین تھا دس منٹ اور کھڑی ہوئ تو یہ شخص اسے ذلیل کروا دے گا وہ وہاں سے نکل گئ
کچن کا دروازہ دوسری طرف صحن میں کھولتا تھا وہ بھی وہی چلا ایا ۔
دیکھو ہم ہنی مون سوئٹزرلینڈ میں کریں گئ اپنی ویٹینگ نائیٹ میرے گھر ۔۔۔ اور تم کہو تو شادی بھی میرے گھر کر لیتے ہیں اس سے بڑا ہے یار یہ تمھارے رشتے داروں کو بھی تمھارے منہ پر ایک ہفتہ برداشت کر لوں گا بس تم حکم کرو”
اسکی بکواس پر وہ شرمندہ تو ہوئی تھی لیکن مڑی اور اسکی جانب دیکھا وہ سکون سے چئیر پر بیٹھا تھا
میں حکم کروں آپ مانیں گے”
وہ اسکے سامنے کھڑی ہو گئ
Anytime
سوائے تمھاری جان چھوڑنے کے کچھ بھی “
وہ بولا اور جیب میں سے سیگریٹ اور لائیٹر جلا کر سیگریٹ پینے لگا
مجھے طلاق دے دیں” اسکے مطالبے پر وہ مسکرایا
تم میری جان مانگو نہ اپنی جان کیوں مانگے رہی ہو ۔۔۔
تمھاری جان کسی کو نہیں دینی وہ میری ہے سمجھ جاو اور ایسے باربی ڈول سی میری بیوی اتنے بھاری بھاری لفظ بولتی اچھی نہیں لگتی ہممم تو ائندہ مت کہنا تم شادی کی تیاری کرو ” اسکے سامنے کھڑا وہ اسکا گال تھپتھپا گیا ۔
عمر میں سنجیدہ ہوں ” وہ سنجیدگی سے اسے دیکھ رہی تھی
میں سنجیدہ ہوا تو تمھارے بھائ کی جان لے لوں گا تو انسان کے بچوں کیطرح میری محبت کے اثر میں رہو “
آپ اپ سمجھتے کیا ہیں خود کو “
عمر خیام صرف عمر خیام ” سکون سے کش بھرا تھا اسنے
میں سبحان سے شادی کروں گی اور آپ دیکھیے گا ” وہ بھڑک کر جانے لگی
چلو تمھیں تمھارا بھائی عزیز نہیں “
آپ مجھے بلیک میل کر رہے ہیں”
تم ایسے سمجھ لو ” جواب تو ہر بات کا تھا ۔
جتنا تم مجھے تنگ کر رہی ہو نہ تمھاری لیے اتنا مشکل وقت نہ لے کر آیا تو عمر خیام نہیں میرا نام ” ذو معنی لہجے میں کہتا وہ اسکے پاس سے جانے لگا
کہ اچانک اسکے ہاتھ میں موبائل پر نگاہ گئ ۔
یہ کہاں سے آیا ” اسے علم تھا ساز کے پاس کوئی موبائل نہیں
چھوڑیں سبحان نے لے کر دیا ہے مجھے ” وہ اس سے موبائل کھینچنے لگی ۔
عمر نے سنجیدگی سے اسکی صورت دیکھی اور موبائل کو پھینک کر مارا اور توڑ دیا
عمر ” وہ ایکدم حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی ۔
مجھے غصہ نہ ہی آئے تو بہتر ہے ” اسنے خود کو کول ڈاون کیا ساز گھبرا گئ اس سے پہلے بھی ایک بار اسے غصہ چڑھا تھا تو اسنے چیزیں اٹھا اٹھا کر پھینکیں تھیں وہ کتنا ڈر گئ تھی اور اب بھی موبائل کے دو ٹکڑے ہو گئے تھے جبکہ عمر نے اپنے جوتے کے نیچے اسے مسل دیا ۔
اور اپنا موبائل اسکے ہاتھ میں تھما دیا
مجھے اتنا تنگ کرنا جتنا میں برداشت کر سکوں میرے علاوہ تم کسی کی نہیں ہو یہ اپنے دماغ میں بیٹھا لو ” سنجیدگی سے کہہ کر وہ وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
