Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 06
No Download Link
Rate this Novel
Episode 06
اسنے ایزہ کا ہاتھ نہیں چھوڑا ایزہ کا چہرہ پیلا پڑتا جا رہا تھا یہ سچ تھا وہ پچھلے چھ ماہ میں اسنے یہ پر ہاتھ نہیں اٹھایا تھا لیکن اسکا خوف اتنا تھا کہ ایزہ کو لگتا تھا اسکی ساری صلاحیتیں ختم ہو گئیں ہوں زبان بول نہیں سکتی اور شاید وہ اپنے حق کے لیے بھی کچھ کہہ نہیں سکتی
شاہنواز نے دروازہ بند کیا
ایزہ آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی وہ مڑا
سیاہ قمیض شلوار میں بازو کہنیوں تک فولڈ کیے وہ اپنے بھاری مردانہ بازو کی گرفت اسکے ناتواں بازو پر ڈالے شاید توڑ دینے کا ارادہ رکھتا تھا
ایزہ کو لگا اسکی سانسوں کا سلسلہ ابھی ٹوٹے گا اور وہ شاہنواز کے قدموں میں جا کر گیرے گی لیکن وہ کھڑی تھی وہ اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگا ۔
اور دیکھتے ہی دیکھتے ایزہ کی انکھ سے آنسو ٹوٹ کر اسکے گال پر گیرہ شاہنواز اب بھی خاموشی سے اسے گھور رہا تھا
وہ رو نہیں رہی تھی جیسے پتھر آنکھوں میں کوئ تاثر ہو بس ایسا ہی تھا اسکا حال بھی پتھرایا ہوا سا وجود اور کہیں دور سے اسکے اندر اٹھتا کوئ تاثر شاہنواز سکندر نے اسکا چہرہ اپنے ہاتھ کی سخت گرفت میں جکڑا
ایزہ کے وجود کو ایک جھٹکا لگا اور اسنے پلکیں جھپکیں تو دو تین آنسو مزید اسکے گال پر لڑھک آئے
شاہنواز نے اسے پیچھے دھکیل دیا وہ عین بیڈ کے بیچ میں گیری
وہ کچھ نہیں بولا اور وہاں سے واشروم میں چلا گیا
ایزہ کی آنکھوں میں مزید حیرانگی پھیل گئ وہ آنکھیں پھاڑے اس بند دروازے کو دیکھنے لگی
کیا وہ چھوڑ گیا تھا اسے۔۔۔ ایزہ کو لگا آج وہ اسے دھنک کر رکھ دے گا کیونکہ وہ پچھلے چھ ماہ سے وہ اسکے ساتھ جتنی پارٹیز اٹینڈ کر چکی تھی یہ تو سمجھ گئ تھی وہ بہت تنگ ذہنیت کا شخص تھا
ایزہ سن بیٹھی تھی اسے لگتا تھا اکثر وہ پاگل ہے
جس کے پاس کوئ تاثر ہی نہیں وہ اسکے چھوڑ دینے پر حیران رہ جاتی اسکے پکڑ لینے پر مرنے کو ہو جاتی
ایک شخص کی محبت نے اسکو کہاں سے کہاں پہنچا دیا تھا ۔
دروازہ کھلا وہ اپنی ٹانگیں سمیٹ گئ
وہ باہر نکلا تو چہرے پر پانی کی کئ قطرے تھے ایزہ اسے دیکھنے لگی وہ بہت خوبرو تھا بے حد خوبرو ۔۔۔
اسے تو اپنا آپ اب اچھا لگتا ہی نہیں تھا
شاہ نواز نے بالوں میں برش کیا اور صوفے پر بیٹھ گیا ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے وہ سامنے اپنی بیس سالہ بیوی کو دیکھنے لگا جو اپنی ٹانگیں سینے سے لگائے سکڑ کر بیٹھی تھی ۔
وہ کچھ نہیں بول رہا تھا ایزہ کی پریشانی بڑھ رہی تھی
معلوم نہیں کس طرح سزا دے اسے ۔۔۔
کھڑی ہو جاؤ “اور حکم ہو گیا ۔۔۔ خاموشی ٹوٹ گئ
ایزہ فورا کھڑی ہو گئ
جاو میرے لیے کھانا لگاو ” وہ سنجیدگی سے بولا اور موبائل نکال لیا
ایزہ پھر حیرانگی سے بت بنی کھڑی اسے دیکھنے لگی
شاہنواز نے نگاہ اٹھائ تو وہ سٹپٹا کر پیچھے ہوئ اور باہر نکل گئ ۔
جبکہ اسنے موبائل صوفے پر پھینکا اور خود بھی اٹھ گیا
ایزہ نیچے ائ تو روہان اور اسکی ماں جا رہے تھے
بہت دکھ ہوا چچی شاہنواز کو اپنی بیوی پر اعتبار تھا برسوں سے رشتے داریاں ہیں ہماری”
ایسا نہیں ہے دیکھنا اسکا بھی دماغ درست کر رہا ہو گا بہت سخت ہے شاہنواز ان معاملات میں اسے سخت نفرت ہے کہ اسکی چیز کو کوئ چھیڑے بھی تم دل پر نہ لو ” دادی جان بولیں تو آنٹی نے سر جھٹکا جبکہ یہ یہ سب سنتے ہوئے وہ کچن میں چلی گئ
شاہنواز کبھی کبھی ہی کوئ کام اسے کہتا تھا ورنہ اس گھر میں ایک شو پیس کی طرح سی اہمیت تھی اسکی کہ وہ اسے اٹھا کر لوگوں کو دیکھانے لے جاتا ورنہ وہ اسکی بوڑھی دادی کی باتیں سنتی رہ جاتی
بس کریں چچی وہ جا رہی آپ کی بہو ” وہ غصے سے بولیں اور روہان کو لے کر باہر نکل گئیں
دادی جان نے پلٹ کر دیکھا شاہنواز بھی سیڑھیاں اتر رہا تھا
وہ لاونج میں ہی بیٹھ گیا
تم نے اسکا دماغ درست نہیں کیا ارے اتنے بڑے گھر کی بہو ہے یہ اور حرکتیں” دادی کی بات پر شاہنواز کی رگیں غصے سے مزید تن گئیں تھیں ۔
میں کل اسلامہ آباد جا رہا ہوں آپ بھی چل لیں ” وہ مختصر بولا
اور تمھاری یہ آوارہ بیوی پیچھے یار بنا لے بتا رہی ہوں شاہنواز بہت آوارہ ہے یہ ارے مجھ سے سنو یہ جو بت بنی ادھر سے ادھر پھرتی رہتی ہے تمھیں کیا لگتا ہے بہت سنجیدہ ہے
نہیں جی اپنے عاشق کا غم مناتی ہے “
اسکے باپ نے اس بدچلن کو ہمارے سر پر باندھ دیا اور پلٹ کر اسکی صورت بھی نہیں دیکھی” وہ بولتی جا رہیں تھیں ایزہ کے ہاتھ سے برتن چھٹے اور شیلف پر گیرے تھے جبکہ شاہنواز آنکھیں سکیڑے سب سن رہا تھا ۔
اب تم کیوں بت بن گئے ہو سختی کرو اسپر ورنہ میں نے تمھاری شادی کسی اور سے کرا دینی ہے اگر اس بدچلن کے یہ ہی ناٹک رہے تو”
دادی جان” سپاٹ سی آواز تھی وہ رک گئیں
ایزہ کا ٹھنڈا پڑتا وجود گویا تھا وہ بے ہوش ہو جائے گی وہ غیر جائے گی نہیں تو شاید اسکی روح نکل جائے ۔۔۔
جب میں آپ سے اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتا تو آپ کیوں کر رہی ہیں” وہ بولا لہجہ بری طرح سختی لیے ہوئے تھا
بتا رہی ہوں آگاہ کر رہی ہوں اسے یہاں چھوڑ کر جائے گا تو یہ تیرا نام برباد کر دے گی “
وہ کچھ نہیں کرے گی نہ ہی وہ ایسی ہے آپ فضول وہم نہ پالیں” شاہنواز کے منہ سے نکلنے والے الفاظ پر ایزہ ششدر سی پلٹی اور کچن کے دروازے پر کھڑی اسکی پشت دیکھنے لگی
یقین بے یقینی کی سی کیفیت تھی وہ حیرانگی سے اسکی پشت دیکھنے لگی
یعنی تجھے تیری دادی کی باتوں کا اعتبار نہیں” وہ ذرا غصے سے بولیں
مجھے صرف اپنی نکھوں کا عتبار آتا ہے میری آنکھیں جو دیکھتی ہیں میں صرف اسپر یقین رکھتا ہوں
جس دن میں نے ایسا کچھ دیکھا تو دنیا کی ہر لڑکی کے لیے اسے عبرت کا نشان بنا دوں گا لیکن جو کچھ آپ کہہ رہی ہیں چھ ماہ میں میں نے ایسا کچھ نہیں دیکھا ” وہ صاف بولا جبکہ دادی کا چہرہ اتر گیا وہ سچی ہونے کے باوجود جھوٹی بن گئیں تھیں وہ سچ کہہ رہیں تھیں وہ دنیا میں ایک ہی شخص سے محبت کرتی تھی اور بے پناہ
ٹھیک ہے تمھارا یہ اعتبار جس دن ٹوٹے گا اس دن تمھیں دادی کی باتیں یاد آئیں گی”
اعتبار وقار کوئ نہیں ہے مجھے کسی پر لیکن کہا نہ آنکھوں دیکھے پر یقین کرتا ہوں” تو جو ابھی روہان اسکو تو نہیں چھوڑو گا شاہنواز سکندر کی بیوی پر ہاتھ ڈالنے والے کے ہاتھ جڑ سے اکھاڑ دوں گا ” وہ بے لچک لہجے میں بولا جبکہ دادی جان نے ایزہ کی جانب دیکھا
تمھاری عزت خاک میں ملا دے گی یہ یاد رکھنا شاہ کر لو اسپر اعتبار آج تم” وہ کافی غصے میں لگیں جبکہ شاہنواز کھڑا ہوا
دادی جان” وہ انکو پکڑنے لگا لیکن وہ غصے سے چلی گئیں
شاہنواز نے غصے سے ایزہ کی طرف دیکھا جو تقریبا چھپ سی گئ ۔
اور دادی جان بولتی ہوئ اندر چلی گئیں شاہنواز کو انھوں نے اکیلے پالا تھا اور وہ کبھی بھی دادی جان کے بارے میں برا نہیں سوچ سکتا تھا نہ انکا دل دکھاتا تھا اور نہ ہی انکی بات کو ٹالتا تھا ایزہ سے شادی بھی تو انکے کہنے پر ہی کی تھی
شاہنواز دادی جان کے پاس چلا گیا جبکہ ایزہ پریشانی سے باہر اسکا انتظار کرنے لگی اسے باہر آوازیں ا رہیں تھیں
اچھا ٹھیک ہے اسے اپنے ساتھ لے جاوں گا ” وہ ہار مانتا بولا
تجھے میری بات کا اعتبار نہیں شاہ” دادی جان خفگی سے بول رہی تھیں ۔
میں نے ایسا کچھ نہیں کہا میں نے اپکو بس اتنا کہا ہے کہ میں اپنی انکھ سے دیکھی ہوئ باتوں پر یقین کرتا ہوں اور وہ صرف بیس سال کی ہے میرے ہاتھ لگانے پر کانپ اٹھتی ہے وہ کسی اور سے کیا افئیر چلائے گی” وہ جیسے بے دھیانی میں بول رہا تھا
ایزہ دل پر ہاتھ رکھے آنکھیں بھرے سب سن رہی تھی ۔
اس شخص کو اسپر اعتبار نہیں تھا لیکن وہ اتنے عرصے میں پہلا تھا جس نے اسپر اندھا اعتماد کیا تھا
وہ کچھ جانے بنا اسکے حق میں بول رہا تھا
ایزہ کی آنکھوں سے متواتر آنسو بہہ رہے تھے دل عجیب سا ہو گیا تھا ہر بات پر ہی سہم جاتا رو پڑتا تھا
کسی نے اسپر بھی اس جیسے گندے وجود پر بھی عتبار کیا وہ شاید شاہنواز کا بے دھیانی میں کیا ہوا یہ احسان کبھی نہ بھولتی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب عمر کو دوبارہ گھر میں دیکھ کر حیران رہ گئے ۔
وہ لاپرواہی سے سب کو دیکھ کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا
پورے گھر میں اسکا کمرہ بلکل ہی الگ تھا کیونکہ یہ اسکی ماں کے پیسوں سے سجا ہوا تھا
وہ پہلی بار نہیں آیا تھا وہ یہاں یوں ہی آتا تھا اور نکال دیا جاتا تھا ۔
ساز صنم اور صوفیا اسے دیکھ کر چھپ گئیں تھیں کیونکہ پیچھے تایا جان بھی ا رہے تھے اور وہ تینوں ہی پردہ کرتی تھیں خاص کر عمر سے اور عمر نے کبھی نہیں دیکھا تھا ان میں سے کسی کو لیکن ان لوگوں نے دیکھا ہوا تھا کیونکہ وہ تھا ہی ایسا کہ اسپر ایک بار نگاہ اٹھے تو بار بار دیکھنے کو دل کرتا تھا صنم تو خصوصی طور پر اسے دیکھتی تھی لیکن بس دیکھنے کی حد تک ورنہ کون نہیں جانتا تھا کہ عمر کیا ہے
خوف ہی آتا تھا کیونکہ وہ شراب پانی کیطرح پیتا تھا ۔
تائ جان تو بے حد خوش ہو گئیں جبکہ ثروت اور نجا بھی حیران تھیں بدر نے بھی بے زاری سے اسے دیکھا تھا اور دوسری طرف تایا جان اندر ا گئے
کھانا بناو عمر آیا ہے کچھ خاص چیزوں کا اہتمام کرنا ” وہ بولے تو ثروت اور نجما اسکے لیے اہتمام کرنے اٹھ گئیں وہ دونوں بھی تھکی ہوئ تھی پھر بھی خلاف نہیں کر سکتیں تھیں کہ یہ حکم تایا جان کا تھا ارہم بھی وہیں بیٹھ گیا سوہا بھی وہیں موجود تھی جبکہ چچا جان نے بھی اپنے بھائ کی جانب دیکھا
سارا کاروبار وہ ہی سنبھال رہے تھے تبھی انکی حیثیت بس اتنی ہی تھی کہ جو وہ کہہ دیتے وہ بس وہ ہی کرتے
کھانے کا شاندار اہتمام ہوا اور سب کو کھانے پر بلایا گیا
بدر بھی وہیں تھا
جاؤ بدر یہ بوتل وغیرہ لے او ” تایا جان نے اسے کھانے پر بیٹھنے سے پہلے ہی کام کہہ دیا جبکہ بدر نے انھیں سرد نظروں سے دیکھا جبکہ وہاں ارہم بھی تھا
بدر نے ان سے جھٹکے سے پیسے کھنچے تایا جان نے گھور کر دیکھا اور وہ وہاں سے نکل گیا نجما نے دکھ سے اسے دیکھا جبکہ وہ کافی دیر سے کھانا مانگ رہا تھا اور اب غصے میں وہ کچھ کھانے والا نہیں تھا
عمر کو تو بلا لو” تایا جان بولے تو ارہم اٹھ گیا اور وہ عمر کو لینے جانے لگا کہ عمر پہلے ہی باہر ا گیا
تینوں لڑکیاں الگ بیٹھیں تھیں بلکل خاموشی سے وہ دم سادھے انتظار میں تھیں کہ کب عمر خیام صاحب کھانا نوش فرمائیں اور کب انھیں کچھ ملے ۔۔۔
عمر نے ان سب کی جانب دیکھا
آؤ عمر کھانا کھاو بیٹے دیکھو تمھاری پسند کی چیزیں بنا ہیں ” تائ جان نے پیار سے اٹھ کر کہا
اپکو کیسے پتہ میری پسند کیا ہے” اسکے سوال پر ایکدم سب کی مسکراہٹ سمٹ گئ وہ سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا
میری پسند تو مجھے بھی نہیں پتہ پھر آپ نے کیسے میرے لیے کچھ بنا لیا “
وہ ائ برو اچکا کر پوچھنے لگا کہ تائ جان کھسیانی سی ہنس دیں
ارے میرے ہاتھوں میں بڑے ہوئے ہو تمھاری پسند کا پتہ ہے مجھے”
کیوں میری ماں کے پاس ہاتھ نہیں تھے”
اسکے جوابوں پر صنم اور صوفیا اپنی ہنسی دوپٹہ رکھا کر روکنے لگیں کہ پورے گھر میں تایا تائ کو صرف عمر کے علاوہ کوئ سیدھا نہیں کر پاتا تھا جبکہ ساز کو تو بس بھوک کی فکر تھی جو کہ اسے شدید لگی تھی ۔
ارے چھوڑو بیٹا کن باتوں میں پھنس گئے ہو چلو ا جاو میں تمھارے لیے کھانا نکالتی ہوں” تائ جان نے اسے بیٹھنے کا کہا اور وہ خلاف تواتر بیٹھ گیا اور چمچ بجانے لگا
جیسے وہ کھانوں کو دیکھ رہا تھا کیا کھانا چاہیے تھا اسے ۔۔۔
یہ لو چاول کھاو بریانی ہے تمھیں اچھی لگے گی میری سوہا نے بنائی ہے اپنے بھائ کے لیے”
تائ کی چاپلوسی سب سن رہے تھے اور اچانک ہی ان سب کے بیچ بدر نے بوتل پٹخ دی
امی مجھے کھانا مل سکتا ہے” وہ چیڑ کر نہایت غصے سے بولا
ہ۔۔ہاں بس عمر لے لے پھر نکال کر دیتی ہوں” نجما بولی جبکہ بدر نے ضبط سے ماں کو دیکھا اور دوسری طرف عمر نے بھی ۔۔
کیوں میں پرائم منسٹر ہوں ڈیڈ بھی تو کھا رہے ہیں جو مرضی کھائے مجھے بلاوجہ کے تکلفات دینے کی ضرورت نہیں ہے” وہ بے دھڑک بولا جبکہ ۔
تایا جان نے اسکی جانب دیکھا اسنے تھوڑے سے چاول نکال لیے اور کھانے لگا جبکہ باقی سب نے بھی کھانا نکال لیا
عمر خیام کی وجہ سے دال سے جان چھٹ گئ میرا تو دم گھٹ رہا تھا” صنم بولی جبکہ صوفیا نے بھی سر ہلایا ساز کی توجہ کھانے پر تھی اور ان سب کے بیچ سے پھر سب سے پہلے عمر ہی اٹھا اور دو لقمے لینے کے بعد جس چیز کی طلب ہو رہی تھی وہ اسکو پوری کرنے کو باہر نکل گیا
جبکہ تایا جان نے غصے سے اسکی پشت دیکھی
گیا ہو گا بوتل چڑھانے” ارہم نخوت سے بولا جبکہ تایا جان نے سب کو نماز کی ادائیگی کا حکم دے دیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں تو کہتی ہوں عمر کی شادی کر دیں گھر ٹک جائے گا بار بار وہم ہوتا ہے واپس چل گیا تو “
کون کرے گا اس سے شادی” تایا جان نے کھاتوں پر سے نگاہ اٹھا کر دیکھا
آپکو ایک بات بتانی تھی” وہ رازداری سے انکے قریب ہوئ
یہ جو ساز ہے نہ اسکا رشتہ آیا تھا اج دوپہر میں امیر کبیر عورت تھی لڑکا بھی اچھا تھا میں نے تو جھڑک کر واپس بھیج دیا” وہ بولی جبکہ تایا جان نے سر ہلایا
اسکے رشتے کیوں ا رہے ہیں” وہ پوچھنے لگے
منحوس کی صورت پر مر مٹتے ہیں لوگ ” وہ منہ بن کر بولیں
جبکہ دوسری طرف تائ جان مزید قریب ہوئ
یہ جو ساز ہے اسکی شادی کر دیں عمر سے” وہ آہستگی سے بولیں تو تایا جان نے نگاہ اٹھا کر دیکھا
تمھارا دماغ خراب ہو گیا ہے نہایت آوارہ ہے عمر اور اتنا آوارہ کے بوتل منہ سے نہیں ہٹاتا چوبیس گھنٹے نشے میں رہتا ہے اور لڑکیوں کے ساتھ ناجائز تعلقات الگ” وہ بولے جبکہ تائ منہ پر ہاتھ رکھ گئیں کہیں نہ کہیں ساز پر ترس ہی آ گیا تھا انھیں تو خاموش ہو گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ لاکھ روپے کا چیک کاٹ دو ذرا” اشفاق صاحب بنا جھجکتے بولے تو عمر نے انکی جانب دیکھا وہ ابھی سو کر اٹھا تھا اور اٹھتے ساتھ ہی انھیں سامنے دیکھ کر منہ کڑوا ہو گیا
عمر مجھے دکان پر جانا ہے جلدی کرو ” وہ اسکی چیک بک لیے کھڑے تھے اسنے بنا کچھ کہے لاکھ روپے کا چیک کاٹ کر اپنی چیک بک پھینکی اور پھر اندھا سو گیا جبکہ وہ باہر ا گئے
تھنکیو ابو ” ارہم جوش سے بولا اج وہ اپنے دوستوں کے ساتھ جا رہا تھا اور اسنے اشفاق صاحب سے پیسے مانگے تھے انھوں نے اسے پیسوں کا چیک دیا تو وہ بے حد خوش سا باہر ا گیا اپنی گاڑی میں سوار ہونے لگا تو اسے ساز نظر ائ وہ کپڑے دھو رہیں تھی شاید کیونکہ اسکے کپڑے بھیگے ہوئے تھے وہ اسکے نزدیک ا گیا اسے دیکھنے لگا
ادھر ادھر دیکھا کوئ دیکھ تو نہیں رہا تھا اور اچانک اسنے ساز کی بھیگی قمیض پر ہاتھ رکھا تو ساز چلا کر دورہوئ
ا۔۔۔ارہم بھائ” وہ سر پر دوپٹہ اوڑھ کر انکی اس حرکت پر خوفزدہ رہ گئ جبکہ ارہم دانت نکال کر اسے دیکھتا رہا
ساز کی آنکھیں حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی
خوبصورت ہو کافی تم ” اسکی بات پر وہ خوفزدہ ہو گئ
گورا رنگ ملائ ہوتی ہے نہ دودھ کی ویسی لگتی ” اور ایکدم وہ پیچھے ہٹ گیا کیونکہ اندر سے کوئ ا رہا تھا
وہ اسے آنکھ مارتا چلا گیا جبکہ ساز کے رونگٹے کھڑے ہو گئے آج سے پہلے اسکے ساتھ کبھی ایسا نہیں ہوا تھا اور ارہم بھائ اسپر بری نظر رکھتے تھے اسے تو خبر ہی نہیں تھی اسکی آنکھیں بھیگ گئیں اور وہ روتی ہوئ جلدی سے چھپ گئ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنا بیگ پیک کرو تم میرے ساتھ اسلامہ اباد جاو گی” اسنے حکم دیا تو ایزہ سر ہلا کر اٹھ گئ ۔
دادی جان تم سے کچھ زیادہ خفا ہیں اگر زبان چلا کر بول لو گی تو وہ تمہارے بارے میں کچھ اچھا سوچ لیں گی” وہ ترچھی نگاہوں سے اسے دیکھتا بولا
جی اچھا ” اسکے پاس کسی بات کی نفی کی گنجائش نہیں تھی وہ اپنے اوپر سے کمبل ہٹاتی اٹھنے لگی شاہنواز جبکہ تیار ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا تھا
ادھر او ” ایک بات ہی پسند تھی اسے اسکی وہ اسکے حکم کے آگے ایک لفظ نہیں بولتی تھی
وہ اسکے سامنے ا گئ بڑی بڑی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی شاہ نواز نے انگلی اسکے چہرے پر پھیری اور پھر اسکے ہونٹوں پر انگوٹھا پھیرنے لگا ۔۔۔
وہ اسے دیکھ رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
