Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 43

دن بڑی تیزی سے پر لگا کر اڑنے لگے لیکن بس ساز کے لیے دن گزارنا اور پھر رات اسی کمرے میں کاٹنا سالوں کی طرح بن گیا ۔
وہ کوشش کرتی تھی پورے دن میں اتنا تھک جائے اتنا تھک جائے کہ نیند اسکے ٹوٹے پھوٹے وجود پر رحم کھا لے ۔
بنا افسوس بنا کسی بھی بات کی پرواہ کیے یہ یہ سوچے کہ کوئی تو اسکا احساس اور خیال رکھے وہ کام میں لگ جاتی ۔
نجما کوشش کرتی تھی وہ بات کرے تائی جان کے طعنوں پر اپنی ہی ماں سے شکواہ کر لے مگر ایک لفظ بھی منہ سے نہیں نکلتا تھا ۔
وہ سارا سارا دن کام میں لگی رہتی اور جب کوئی کام نہیں بھی ہوتا تب بھی وہ کچھ نہ کچھ ڈھونڈ ہی لیتی
ذہنی اذیت اگر دیکھی جاتی تو شاید اس غم کو جو سینے میں چھپائے وہ خاموشی سے پھر رہی تھی کوئی دیکھ کر مر نہ جاتا ۔
اسکے جانے کے بعد تو نفرت ہونی تھی اس سے یہ محبت میں شدت نے جگہ لے کر اسے محبت سے اوپر کے راستے کیوں دیکھا دے بدر ہر طرح سے کوشش کرتا تھا ساز کو نارمل کرنے کی ۔۔۔
لیکن وہ ہوں ہاں میں جواب دے دیتی اور جو سب سے بڑی حیرانگی کی وجہ تھی گھر میں وہ تھی سوہا ۔
جو کہ تائی جان کو تو ہضم نہیں ہو رہی تھی ثروت چچی بھی حیران تھی کہ آخر معاملہ کیا ہے کیا بدر نے اسے سیدھا کر دیا تھا
لیکن بدر تو اسے منہ بھی نہیں لگاتا تھا تو وہ بدر کو ایمپریس کرنا چاہ رہی تھی
نہیں وہ اسکی غیر موجودگی میں بھی ساز کا لاشعوری طور پر خیال کر رہی تھی لیکن نہ ہی ساز کام میں کسی کی مدد لیتی تھی اور نہ ہی اسے ضرورت تھی
اگر کوئی کام کر بھی دیتا اسے لگتا اب وقت بچ گیا ہے اب سوچیں اسے جینے نہیں دیں گی لیکن پھر بھی سوہا کہ سینے میں کیوں اسکے نام کی ہمدردی جنم لے رہی تھی ۔
شاید اس لیے کہ لمہہ بھر کے لیے اسنے بدر کو کسی اور کا سوچ لیا تھا وہ لیپسٹک کا نشان وہ خوشبو اس وقت اسکا پاگل پن ایسا تھا کہ وہ چیخیں مرے پھر ساز بھی تو ایک لڑکی ہی ہے اور اسکی آنکھوں کی ویرانی اسکی محبت کی گواہ تھی ۔
صنم اور صوفیا بھی کشمکش میں تھیں اپنی ماں کی باتوں پر وہ غصہ کرتی لیکن ساز تو بس وہ ربڑ کا کھیلوں بنتی جا رہی تھی جس کو مار بھی لیا جائے اسکی صحت پر اثر نہیں پڑے گا ۔
ساز کچن میں کھڑی برتن دھو رہی تھی ڈھنڈے پانی میں انگلیاں شل تھیں وہ دھو رہی تھی
اور تبھی جیسے کسی کا احساس اپنے پیچھے ہوا تھا ابھی وہ مڑتی کہ کسی نے اسکی کمر پر ہاتھ رکھا اور ساز مڑی ارہم کو دیکھ کر وجود سے جیسے خون ہی خشک ہو گیا
کیسی ہو اداس اداس رہتی ہو آنکھیں بھی اداس ہیں بھئ مسکراو تمھیں چاہنے والے کم تھوڑی ہیں تم نے بلاوجہ اس شرابی کو اپنا مان لیا ہے “
ارہم بھائی ” وہ جھٹکے سے دور ہوئی ۔
دیکھو بھائی وائی کہہ کر موڈ نہ خراب کرو بتاؤ تمھیں ائسکریم کھلاو “
جائیں اپ یہاں سے ” وہ کانپ اٹھی ۔
یہاں کون سا کوئی تمھیں دیکھ رہا ہے اتار دو یہ شرافت کا اور معصومیت کا ماسک آؤ چلو “
ارہم بھائی ” اسکی جیسے دنیا کی ہل گئ تھی ۔
چھوڑیں میرا ہاتھ میں چلا چلا کر سب کو اکٹھا کر لوں گی” وہ اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرنے لگی
اچھا ٹھیک ہے ڈرامے بند کرو اس شرابی کے ساتھ بھی تو لمہوں میں سیٹ ہو گئ تھی میرے ساتھ کیا تکلیف ہے ” ارہم گھور کر دیکھنے لگا تھا
شوہر ہیں وہ میرے “
تھا میری جان تھا جس کے سر کے سائباں نہیں اسے ہمارے جیسوں کی ہی ضرورت ہوتی ہے ۔
تو زیادہ منہ بنانے کی ضرورت نہیں”
ارہم بھائی میرا ہاتھ چھوڑیں آپ یہ سب کیا کر رہے ہیں” وہ بے بسی سے رو دی ۔
بھائی ” وہ چلاتی کہ ارہم نے اسکے منہ پر ہتھیلی جما دی ۔
تیرے کمرے میں بھی گھس سکتا ہوں اپنی زبان کو لگام دے ائندہ یہ ڈرامہ برداشت نہیں کروں گا تیرا اور تو ہے کون تو اب اس گھر میں فالتو اور بے کار چیز ہے تو تیرے ساتھ تو سب سے پہلے میں کھیلوں گا “
وہ دانت دیکھاتا وہاں سے چلا گیا ساز کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں جب وہ کنواری تھی تب ارہم کی جرت نہیں ہوئی تھی اور آج جب وہ اسے تنہا چھوڑ گیا تھا تو اسے نوچنے کے لیے اسکے گھر سے ہی سب سے پہلے کھڑا ہو گیا تھا ۔
آنکھوں سے آنسو یوں بہنے لگے جیسے پانی ٹپک رہا ہو وہ دوڑ کر کمرے میں بند ہو گئ اور اسکا یوں بند ہونا سوہا نے دیکھا تھا پھر اپنے بھائی کو دیکھا جو دانت نکوس رہا تھا
کیا ہوا ہے اسے ” اسنے سنجیدگی سے ارہم سے پوچھا
بے چاری اب تک شوہر کے غم میں ہے ” وہ ہنس دیا
سوہا اسے سنجیدگی سے دیکھتی رہی
ڈوب کر مر جاو ارہم ” اسنے اسے پیچھے دھکیلا
اوو ہیلو تمھیں اگر ہمدردی کا دورہ پڑ گیا ہے تو ضروری نہیں سب کو پڑ جائے میرے معملات سے دور رہو “
میں بدر کو بتا دوں گی” وہ وارن کرنے لگی ارہم ہنس دیا
اسکے پاس سر کھجانے کی فرصت نہیں ہے
وہ تو تمھاری بات پر کیا توجہ دے گا کہا نہ میرے معاملے سے دور رہو ” وہ سختی سے بولا
شادی شدہ ہے وہ ” سوہا نے جیسے یاد دلایا تھا
شرابی کی بیویوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے “
ارہم ” وہ بھڑکی
اف ہو زیادہ ہی اوور ہو گئ ہو تم تو ” وہ جھنجھلا گیا
اور وہاں سے چلا گیا جبکہ سوہا کو کیوں افسوس تھا وہ خود بھی انجان تھی وہ پانی کا گلاس وہیں رکھ کر ساز کے کمرے میں ا گئ اور دروازہ کھولا ہوا تھا وہ دروازے سے ہی ٹیک لگائے بیٹھی تھی اتنا ڈسٹرب ہو گئ تھی کہ سوہا کو دیکھ کر خوفزدہ ہوتی پیچھے ہٹنے لگی ۔
ساز”
ک۔۔۔کیوں ائ ہیں آااپ “
سوہا کا دل کٹ سا گیا پہلی بار جو کسی کی تکلیف کو محسوس کر رہی تھی ۔
تم پریشان نہ ہو وہ دوبارہ تمھارے ارد گرد نظر نہیں آئے گا میں ٹانگیں نہ توڑ دوں اسکی ” وہ دور کھڑی ہی اسے تسلی کے دو بول دے رہی تھی
اور اب تک وجہ خود بھی نہیں سمجھی تھی ۔
کہ وہ یہ سب کیوں کر رہی ہے لیکن ایک بات طے تھی ساز کے لیے ہمدردی خود با خود ہوئی تھی اس میں بدر کا کوئی ہاتھ نہیں تھا
اسنے سوہا کی جانب دیکھا اور دیکھتی رہ گئ
ایسے مظبوط الفاظ تو آج تک عمر کے علاوہ اسے کسی نے نہیں دیے تھے ساز اسے دیکھتی رہی
تم ایزی ہو جاو اور اپنا روم لاک کر لیا کرو “
آپ بھائی کو بتائیں گی ” وہ بولی
ویسے حق تو یہ ہی بنتا ہے ” وہ رک گئ
وہ میرے بارے میں کیا سوچیں گے ” وہ سہمی سہمی سی بولی
وہ سب کے بارے میں سب کچھ سوچ سکتا ہے سوائے تمھارے “
میری بے عزتی ہو گی سب مجھ پر الزام لگائیں گے اپ بھی ” وہ بول گئ
سوہا کمرے کے اندر ا گئ
میں کسی کو نہیں بتاؤ گی” وہ اہستگی سے بولی
آپ اچھی نہیں ہیں پھر کیوں بننے کی کوشش کر رہی ہیں ” اسکی سمجھ میں نہیں آیا تھا سوہا کو ہنسی ا گئ
معلوم نہیں کیوں غصہ نہیں آیا
بلکل میں اچھی نہیں ہوں شاید تب تک کوشش کر سکتی ہوں جب تک عمر لوٹ نہ ائے” وہ شانے اچکا گئ ۔
وہ نہیں آئیں گے ” وہ بس اتنا ہی بولی اور چہرہ موڑ گئ سوہا چپ ہو گئ اسکو چند لمہے دیکھتی رہی اور پھر وہاں سے جانے لگی
شکریہ ” وہ بس اتنا ہی بولی تھی
کہ اسکے انے سے وہ جو پاگل سی ہو رہی تھی کچھ بہتری آئی تھی
وہ مسکرا دی اور باہر نکل گئ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دودھ والے کو پیسے دینے ہیں کب سے روکے ہوئے ہیں” تائی جان نے اشفاق صاحب کی جانب دیکھا جبکہ تایا جان نے حساب کتاب کی کتاب انکے منہ پر ماری
یہ لے لے اس میں سے پیسے “
ابو ” سوہا تقریبا ساری رات ہی نہیں سو سکی تھی ۔
کیونکہ بدر گھر نہیں ایا تھا وہ جانتی تھی وہ دوکان پر ہی ہو گا آج کل یوں ہی کر رہا تھا
وہ صبح بھی گھر میں سب سے پہلے جاگتی ہوئ نظر ا رہی تھی اور ماں کے پاس سے آ لگی تو یہ نظارہ دیکھ کر آج اسے تکلیف ہوئی اسکی ماں کی تلخی ایسے ہی نہیں تھی ۔
اے دفع ہو یہاں سے ” اشفاق صاحب کا جب سے قومی خزانہ چلا گیا تھا وہ تلخ ہو چکے تھے ایسا ہی رویہ تھا کیونکہ ارہم دوکان پر بیٹھتا نہیں تھا کام بن نہیں رہا تھا سیزن شادیوں کا تھا کوئی نیا مال نہیں تھا تقریبا دوکان بند ہی رہتی تھی بدر کو ترقی کرتے دیکھ وہ جیسے کوئلوں پر سوتے تھے وہ دن رات ایک کر رہا تھا جیسے خود کو بنانے میں ۔۔۔۔۔
سوہا اپنی ماں کو دیکھنے لگی جو کہ اپنا دوپٹہ ٹھیک کرتی کھجالت مٹا رہی تھی
بس ہر وقت غصہ میں رہتا ہے اب موئے عمر کو ہم نے تو نہیں بھیجا
ذلیل عورت یہ تیری ہی منحوست کی وجہ سے ہوا ہے جب سے تو ائ ہے ٹکے ٹکے کے لیے مر رہا ہوں وہ ناز تھی تو پیسہ ٹوٹ ٹوٹ کر برستہ تھا
وہ غصے سے انھیں مارنے لگے ۔
سوہا اندر داخل ہوئے اور باپ کے سامنے کھڑی ہو گئ
اپنے ہاتھوں کو سنبھال لیں مفت نہیں ہے میری ماں
نکل باہر یہاں سے تو شکل گم کر اپنی ” وہ اسے باہر دھکے دے چکے تھے انھوں نے دروازہ بند کر لیا اور جیسے سوہا کی جان نکلنی لگی
یہ بے حسی تھی جو ان سب میں سے احساس اور محبت کو ختم کر گئ
وہ بے ساختہ رو پڑی جب اپنے وجود پر یہ ہی نشان جو اسکی ماں کے وجود پر تھے بنے تو اسےاندازا ہوا
اسکی ماں ایک جاہل عورت تھی جو شوہر کی مار کو اسکا حق سمجھتی تھی
وہ بس اتنا ہی بول رہی تھی اشفاق صاحب میری ہڈیوں میں آپکی مڑ سہنے کی ہمت نہیں اب اور تھپڑ اور مکوں کی آوازیں باہر تک سنائی دے رہی تھی
بدر گھر میں داخل ہوا تو وہ دوڑ کر اس تک گئ
ابو امی کو مار رہے ہیں ” اسکی آنکھیں تکلیف کی گواہ تھیں
کچھ کرو بدر وہ بوڑھی ہو گئ ہیں ” وہ بے چینی سے اسے جھنجھوڑتی بولی
اگر وقت پر انکا ہاتھ روک دیتے تو آج باہر کھڑی تڑپ نہ رہی ہوتی “
کہہ کر وہ پہلو سے نکل گیا
بدر ” وہ چلائی
مگر وہ بھی نہیں رکا اور اندر کی مار بھی نہیں ۔
کتنے بے حس ہو ” وہ کمرے میں اگئ غصے سے بولی
تم لوگوں سے کم ہو ” تھکے تھکے اسنے اپنے شانوں کو اپنے ہی ہاتھوں سے دبایا تھا
سوہا اسے دیکھنے لگی ۔
آگے بڑھی اور اپنا ہاتھ اسکے شانے پر رکھ کر خاموشی سے دبانے لگی
بدر نے مڑ کر دیکھا
مہربانی کی وجہ ” اسنے سوال کیا مگر اسکا ہاتھ نہیں ہٹایا
تم ابو سے بہتر ہو ” اسنے سب اتنا ہی کہا
مجھے تو نہیں لگتا ہاتھ تو میں نے بھی اٹھایا ہے تم پر ” اسنے چہرہ اٹھایا کر اسے دیکھا ۔
پتہ نہیں لیکن پھر بھی تم ان سے اچھے ہو ” وہ جھنجھلا گئ
ماں کے لیے بے چین تھی باہر چلی گئ
آواز انا بند ہو گئ تھی وہ دروازے کو گھورتی رہی دل کیا دروازے توڑ دے پھر اندر آئ
ابو کو پیسے دے دو ” بدر نے اسکی صورت دیکھی ۔
اس آدمی کو اپنا تھوک بھی نہیں دوں گا برسوں تک میرا حصہ کھائے مجھے بھکاری بنا دیا اور اب تم کہتی ہوں پیسے دوں اسے کبھی نہیں” بھڑک کر کہتا واشروم میں چلا گیا ۔
سوہا پھر باہر آئی
ابو باہر نکل کر چلے گئے تھے وہ دوڑ کر امی تک پہنچی
وہ بیڈ پر بیٹھیں تھیں سوہا انکے سینے سے جا لگی اور رونے لگی
اے کیا ہو گیا تیرے باپ کی عادت ہے جب پیسہ اسکے ہاتھ میں نہیں ہوتا سب سے پہلے مجھے ہی مار دیتا ہے بس ہڈیوں میں اب مار سہنے کی طاقت نہیں رہی ” وہ بس اتنا ہی بولیں سوہا کو یوں لگا جیسے وہ لوگ ڈوب کر مر جائیں
ان کے لیے کتنی عام بات تھی شوہر کی مار کو سہہ جانا یہ پھر انکی حمایت کرنا انکے چہرے کے نیلے نشان بھی انھیں تکلیف نہیں دے رہے تھے وہ انکے ہاتھ چومنے لگی
سوہا ” انھوں نے اسے حیرانگی سے دیکھا
بڑے بڑے نشان دیکھیں ہیں تو نے مجھ پر آج سے پہلے تو ایسے نہ ہوئی ” وہ مسکرائی
خود پر نہیں پڑی تھی نہ تو تکلیف کا احساس نہ ہوا ” وہ بولی
اور ان کے ہاتھ پکڑ لیے آپ لیٹ جائیں میں کچھ لاتی ہوں
ارے نہیں بھئی اٹھو اب اب نہیں سونا مجھے”
وہ بولیں جبکہ سوہا نے زبردستی لیٹا دیا
اور دس منٹ میں وہ سو بھی گئیں وہ باہر آ گئ ۔۔
بدر خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا ۔
سوہا غصے میں اسکے قریب ائی
بہت بدتمیز اور برے ہو تم ” وہ بھڑکی
اچھا ” وہ سینے پر ہاتھ باندھ گیا
مجھے ان جذبات کی ضرورت نہیں ہے بدر میں مر جاو گی اپنے اردگرد کا ظلم دیکھ کر ” وہ اسکے سینے سے لگ گئ
وہ یوں ہی کھڑا رہا وہ روتی رہی
میں اس ڈرامے کو کیا نام دوں یہ بتا دو ” اسنے سنجیدگی سے کہا ۔
سوہا نے غصے سے سر اٹھایا
نہایت گھٹیا ہو ” وہ آنسو صاف کر گئ
ناشتہ کرنا ہے میں نے ساز کہاں ہے” وہ بولا
میں بنا دیتی ہوں
تم مجھے ہارٹ اٹیک دے دو ” وہ زیچ ہوا
چلو کچھ تو آئے تمھیں ” وہ کچن میں چلی گئ
زبان تو نہیں روکے گی تمھاری ” وہ اسکے لئے ناشتہ بنانے لگی
میں ساز کو دیکھ لوں ” اسنے کہا اور اوپر کی جانب بڑھا کہ ساز خود ہی نیچے ا رہی تھی وہ کچن میں آ گئ ۔
سوہا کو ناشتہ بناتے دیکھ اسنے جلدی سے اس سے سامان لے لیا ۔
آپ لوگ باہر بیٹھیں میں بنا دیتی ہوں
وہ بنا رہی ہے تم ادھر آؤ بدر نے اسکا ہاتھ پکڑا
نہیں بھائی میں ۔۔۔۔
جاؤ ساز میں کر لیتی ہوں ” وہ بولی تو ساز نے ایک نظر اسے دیکھا اور بدر کے کہنے پر اسکے پیچھے پیچھے ہو لئ
اور اسکے بعد بدر نے اس سے لاکھ سوال کیے جن کا جواب ساز کے پاس نہیں تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمر کی فکر تو تھی لیکن وہ ٹریپ پر جا چکا تھا وہ تھائ لینڈ میں تھا اور اسکی جو ایکٹیوٹی جا رہیں تھیں وہ عام نہیں تھی
لیکن دوسری طرف اسکی بہن نے شاہنواز کو گھنچکر بنا دیا تھا
وہ اسکے اشاروں پر ناچ رہا تھا یہ دادی جان کا کہنا تھا ۔۔۔
شاہنواز نے اسکی کسی بھی بات کا اختلاف کرنا چھوڑ دیا تھا
اور یہ حالات دیکھ کر ایزہ شیر ہوتی جا رہی تھی اسے لگتا تھا شاہنواز اسکے بھائی کے دھمکانے سے ڈر گیا ہے ۔
اور اسے حیرانگی ہو رہی تھی کہ وہ کسی کے دباو میں ا گیا البتہ خوش بہت تھی
شاہ اٹھیں ٹیرس پر چلتے ہیں ” اٹھتے ساتھ ہی اسنے اسے جھنجھوڑ دیا
ایزہ ” وہ کھانے کو دوڑا
کیا ” وہ بولی
میرا موڈ نہیں ہے ” کہہ کر اسنے سر تک کمبل لے لیا
شاہ ” وہ اسکے بازو کے سائیڈ سے کمبل اٹھا کر اندر منہ دیتی اسے دیکھنے لگی
اف ” شاہنواز غصے سے کروٹ لے گیا
دیکھیں چل لیں ایسے بوڑھی روح کیوں بن گئے ہیں”
وہ دوبارہ اسکے کمبل کے اندر منہ ڈال گئ
شاہنواز نے وہیں اسکی گردن جکڑی اور اسے اپنے کمبل کے اندر چھپا کر زور سے بھینچتا خود میں آنکھیں بند کر گیا
یہ کیا بدتمیزی ہے”
تم مجھے تنگ کر رہی ہو اور میں بچہ نہیں ہوں تو مجھے تنگ کرنا بند کرو ” وہ بولا
شاہ ” وہ اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کرنے لگی مگر وہ گڑیا سی کڑکی اسکے چنگل سے نکل نہیں سکتی تھی
منہ بن کر اسنے کوشش ترک کر دی تھی
شاہ نے گردن اٹھا کر سکی جانب دیکھا منہ پھلائے ہوئے تھی وہ گھیرہ سانس لے گیا ۔
اٹھو چلو چلتے ہیں ” وہ اٹھ کر بیٹھ گیا
نہیں جانا اب میں دادی جان کو لے جاو گی ” وہ اٹھ کر بھاگی
ایزہ۔” وہ جھڑک گیا
ایک تو تمھارے اندر معلوم نہیں کون سی مشین لگ گئ ہے “
دادی جان کو لے جاؤں گی نہ۔”
تم انھیں بہت تنگ کرتی ہو رات بھی تمھاری شکایتوں کا انبار تھا انکے پاس کیوں چھیڑتی ہو انھیں “
وہ شور مچاتی ہیں پھر ” وہ منہ پر ہاتھ رکھ گئ
کچھ شرم کرو اور یہ تمھارے بھائی کی دھمکی نہ مجھ تک کافی ہے دادی جان کو دینے کی ضرورت نہیں ” وہ گھورنے لگا
میں تو بتا رپی تھی عمر بھائی آئے تھے ” وہ بولی جبکہ شاہنواز نے اپنی شرٹ ڈالی اور اسکے سامنے کھڑا ہو گیا ۔
اسے دیکھنے لگا
ایزہ کی پلکیں جھپک سی اٹھی ۔
آنکھوں کے پردے جھک گئے وہ ایسی ہی لو دیتی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا ۔
اسنے اپنی ہتھیلی اسکے گال پر پھیری
ٹیرس پر کچھ نہیں ہو گا رات بھی تم سوئ ہوئ تھی کیوں نہ ہم کمرے میں ہی رہیں “
اسکی انگلیاں اسکے رخسار پر گردش کر رہی تھیں تیزی سے
ایزہ کو اسکی ٹھنڈی انگلیاں سے عجیب احساس ہونے لگا ۔
وہ دو قدم دور ہوئی اور شاہنواز دو قدم نزدیک ہوتا اسے بازو میں اچک کر دیوار سے لگا گیا ۔
وہ اسکے شولڈرز تھامے اسی کی جانب دیکھ رہی تھی ۔
شاہنواز اسکے ہونٹوں کو خشک ہوتا دیکھتا رہا اور پھر دیوار پر ہاتھ رکھتا اسنے ایزہ کے ہونٹوں کو تر کرنا چاہا تھا ۔
ابھی جزبات کا طوفان انگڑائی ہی لیتا کہ دروازہ کوئی کھولنے کی کوشش کر رہا تھا اور دادی جان اندر آتی کہ شاہنواز جھٹکے سے مڑا ۔
ایزہ کو چکرا کر زمین پر گیری کیونکہ وہ مکمل اسپر تھی
دادی جان آپ “
آئے ہائے یہ چشمہ کہاں چلا گیا شاہنواز کوئی ملازم بھی نہیں سن رہا ” “
شکر یہ تیرا کمرہ تھا ۔
شاہنواز نے دادی جان کو دیکھا عینک کے بنا انھیں بس تھوڑا بہت ہی دیکھتا تھا ۔
سکون کا سانس لیا مڑ کر دیکھا ایزہ منہ بنائے ہوئے تھی
اٹھو ” وہ اہستگی سے بولا
آئے شاہنواز “
دادی جان ڈھونڈتا ہوں “
نہیں اٹھنا مجھے “
اچھا یار اٹھ جاو کہیں عینک تم نے تو مہیں چھپائی “
ایزہ نے فورا نفی کی
ایزہ”
وہ ٹوٹ گئ مجھ سے ” وہ معصومیت سے بولی
تو بتایا کیوں نہیں مجھے” وہ گھورنے لگا
میں ڈر گئ تھی” وہ بولی تو شاہنواز نے گھیرہ سانس بھرا
دادی جان دفع کریں میں نئی بنوا دوں گا
یہ ایزہ ہے نہ یہ اسی نے چھپائے ہے بڑی چالاک ہو گی ہے ایسے جواب دیتی ہے نہ میں کہتی ہوں شاہنواز اسے فارغ کر “
وہ بولیں ایزہ نے شاہنواز کو دیکھا وہ نفی میں سر ہلانے لگا
گویا کہہ رہا ہو ایسا نہیں ہو گا ایزہ اسکے پاس ائ
منہ سے تو اپکا بیٹا کہہ نہیں سکتا دادی جان کہ نہیں چھوڑو گا ایزہ کو کان میں کہہ رہا ہے ” وہ کہہ کر کمرے سے نکل گئ
شاہنواز شرمندہ سا ہو گیا جبکہ دادی جان تو توبہ توبہ کرنے لگی
تو دیکھ اسکی زبان کیسے کھینچی کی طرح چلتی ہے اس چلاکو ماسی کی زبان کیسے تر تر چلاتی ہے میں کہہ دیتی ہوں شاہ یہ مجھے مار کر دم لے گی” دادی جان آپکی عینک ابھی دس منٹ میں بن جائے گی”
ہائے بیٹا اللّٰہ تجھے زندگی دے ۔
تیرے بچوں کو دیکھنا نصیب کرے مجھے ۔۔۔
میرا بچہ ورنہ یہ چڑیل ہے شاہ تیری بیوی تو ” وہ منہ بنا گئ
شاہنواز نفی میں سر رکھ ہلا گیا ۔۔۔۔
سہی ڈرامہ لگ گیا تھا اسکے گھر میں۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے