Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 70

شاہنواز نے اسکی جانب دیکھا جو پورا دن ہو گیا تھا بھوکا تھا اور اب جو اسکی حالت تھی شاہنواز اسے دیکھ کر دلچسپ نظروں سے اسکے مزید بوڑھے وجود کو دیکھنے لگا
تمھیں یہ لگ رہا تھا عمر کو تکلیف دینے کے لیے شاہنواز تمھیں ایسے ہی چھوڑ دے گا اتنا اسان ہے یہ اب پھر شاہنواز کو پکڑ لینا اتنا اسان ہے تم نے یہ سوچا بھی کیسے کہ شاہنواز تمہیں یہ راز کھولنے کے لیے دنیا میں ایسے ہی آوارہ چھوڑے گا کہ تم جس کے پاس چاہو گے تصویریں بھیجو گے جس کے پاس چاہوں گے اسے اس راز کی خبر دینے پہنچ جاؤ گے تمہیں کیا لگ رہا تھا شاہنواز سکندر کے بارے میں وہ بڑے فخر سے بولا تھا
ایک بار تمہارے سے ڈسا جا چکا ہوں ایک ہی جگہ سے بار بار ڈسنے والا نہیں ہے شاہنواز اج تمہاری حالت دیکھ کر مجھے افسوس ہو رہا ہے کاش تم نے اپنی چونچ بند رکھی ہوتی تو اج تم یہاں نہ ہوتے سکون سے اپنے بستر پہ بیٹھے ہوتے ہاں لیکن تم نے اپنی چونچ کو بند کرنے کا سوچا نہیں تم نے یہ سوچا کہ شاہنواز کا راز کھول کے عمر کو تکلیف دے کر ایزہ کو مجھ سے دور کر کے تم بہت کچھ کر لو گے چہ چہ
دیکھو ایک ہفتے سے تم یہاں ہو بتاؤ ذرا کس نے تمہیں ڈھونڈ لیا
اور اگر میں چاہوں تو تمہیں ساری زندگی بھی یہاں سے کوئی نہیں نکال سکتا ہاں تمہاری لاش ضرور جائے گی یہاں سے پھر اسے کندھا دینے کے لیے تمہارے دو بیٹے بھی موجود ہوں گے ایک تمہارا داماد بھی ہو جائے گا اور ایک تمہارا کوئی بھی ہمدرد
بہت جلد تم دنیا سے رخصت ہو جاؤ گے میں کسی کو مارتا نہیں ہوں لیکن وہاں تک ضرور لے جاتا ہوں کہ وہ مر جائے خود ہی دنیا سے چلا جائے میں نے تمہارے لیے سوچا نہیں تھا لیکن تم نے اپنے لیے خود ہی سب کچھ سوچ لیا اب بھگتو گے بھی تم ہی خود “
سکون سے پاوں پر پاوں چڑھائے بیٹھا وہ اسے دیکھتا پاوں جھلاتا بول رہا تھا اسنے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور اشفاق صاحب بہت بوڑھے لگ رہے تھے اسکے آگے جبکہ وہ شیر کیطرح بیٹھا تھا آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بیٹھا تھا ۔۔
اشفاق صاحب نے اپنے بازوں کھولنے کی کوشش کی شاہنواز اٹھ کر اسکے پاس ایا
ارے ارے ۔۔ اتنی طاقت نہ آزما کہ تم ابھی جان دے دو ابھی مجھے تمھیں زندہ رکھنا ہے کیونکہ میرا عمر تمھارے لیے پریشان ہے”
ناز کے بستر میں سو کر وہ تمھارا عمر ہی بن گیا ہے وہ نیچ وہ بدبخت میری اولاد ہے بھی نہیں معلوم نہیں کس کا گند ہے ۔۔ وہ”
اشفاق صاحب کے منہ سے نکلنے والے زہر پر شاہنواز اپنا ہاتھ نہ روک سکا کھینچ کر مکہ اسکے منہ پر مارا تھا ۔۔
میں نے ناز کو کبھی نہیں چھوا ” وہ دھاڑا
تو عمر کس کی اولاد ہے ” اشفاق صاحب بھی چلائے تھے ۔۔۔
جسٹس شیٹ یور ماوتھ ۔۔۔ ” شاہنواز کا بس نہیں چلا کہ وہ کچھ کر ہی ڈالے
تم تمھیں کیا لگ رہا ہے یہ راز کبھی کھولے گا ہی نہیں ہاں کبھی کھولتے گا نہیں کہ عمر خیام کون ہے ۔۔ اس رات تم ہی تھے وہاں وہ تمھارا گند ہے جسے تم سینے سے لگائے پھر رہے ہو ۔۔
کاش کاش اس گھٹیا عورت کے وجود سے ہوتی ایک میری اولاد میں اسکا گلا دبا دیتا ایزہ کو اپنے ہاتھوں سے مار دیتا یہ کم از کم کسی ۔۔ غریب غربا یہ جانور سے بیاہ دیتا جو اسے مار دیتا تم سے ہی کیوں شادی کرا دی میں نے یہ ہی افسوس ہے مجھے” وہ چلا رہے تھے جبکہ شاہنواز ضبط سے کھڑا تھا ۔
اسکی آنکھوں میں خون سا اتر گیا
عمر تمھارا ہی بیٹا ہے “
نہیں ہے میرا بیٹا ناز نے اتنے مردوں کے ساتھ راتیں گزاری ہیں کہ مجھے کیا خبر کہ وہ کس کا بیٹا ہے لیکن مجھے شک ہے کہ وہ تمھارا بیٹا ہے تبھی تو اسے سینے سے لگائے پھرتے ہو ” یہ باتیں شاہنواز پر تیزاب کی طرح گیر رہی تھی ۔۔
شاہنواز نے اشفاق صاحب کا گلہ دبا دیا
کس نے مجبور کیا اسے یہ سب کرنے پر کس نے اسے مار مار کر دوسرے مردوں کے پاس بھیجا تم تھے وہ درندے جو اپنی ہی عورت کو طوائف بنا چکے تھے ا تھو ” وہ تھوک گیا
یہ تھوکنا ہوں تم پر کہ تم نے مولوی ہو کر اپنی عورت کو غیروں کے پاس سلایا اور وہ میرے پاس آتی تھی میں دیتا تھا وہ پیسا اور میرا رب گواہ ہے کہ اس عورت سے محبت کی لیکن اسکے ساتھ کبھی ” وہ رک گیا تھم گیا اسکی سانسیں پھولنے لگیں تھیں
تمھارا مر جانا بہتر ہے ” اسنے اشفاق کے سینے پر لات کھینچ کر ماری اور اسکے دل پر اپنا جوتا رکھتا وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا ایسا خون سوار تھا کہ وہ اسے جان سے مار کر بھی چین نہ لے اور اسکا پی ائے دوڑ کر اس تک نہ پہنچنا تو وہ شاید آج مار ہی دیتا اسکے پی ائے نے شاہنواز کو کھینچا
چھوڑو مجھے جان سے مار دوں گا میں اسکو ۔۔ چھوڑو مجھے” وہ دھاڑا تھا اسکے دھاڑا گونج گئ ۔
اس نیچ کو کچھ کھانے کو نہیں دینا خدا کی قسم اسے یہیں اپنے ہاتھوں سے مارو گا ” وہ منہ پر پاتھ پھیرتا بھرے شیر کیطرح وہاں سے نکل گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گلاس میں پڑا وہ کالا سیال حلق میں اتار کر اسنے سامنے بیٹھے انسپکٹر کی جانب سرخ نظروں سے دیکھا اور آنکھیں سکیڑ لیں ۔۔۔۔
اور کتنے دن لگیں گے ایک آدمی شہر سے غائب ہو گیا اور تم لوگ اب تک اسے ڈھونڈ نہیں پا رہے” ایک دھاڑا تھی جو پولیس سٹیشن میں گونجی ۔۔۔ جبکہ اسنے ٹیبل پر مکہ مارا تھا
سر ہم اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہے ہیں اور ہم بہت جلد انہیں ڈھونڈ لیں گے اپ کو شکایت کا موقع مزید نہیں ملے گا اپ ہمیں پلیز تھوڑا سا ٹائم دیں
اور کتنا وقت ” اس انسپیکٹر کا گریبان جکڑ لیا اس کی انکھوں میں جیسے خون سا اترا ہوا تھا
اور کتنا وقت چاہیے تمہیں کتنے وقت میں ایک ادمی کو شہر میں سے ڈھونڈ کر نکالو گے دانت پر دانت چڑھائے وہ کافی غصے میں لگ رہا تھا اور اسے اس دن سے غصہ چڑھا ہوا تھا جس دن سے اشفاق صاحب غائب ہوئے تھے پورا ایک ہفتہ گزر چکا تھا اور اب تک ان کی کوئی خبر نہیں تھی اور خبر گیری کرنے کے لیے بھی جیسے سب نے ہاتھ کھڑے کر دیے تھے بدر نے تو اس بات کو اہمیت ہی نہیں دی تھی مر جائیں بلکہ اچھا ہی تھا کہ مر جائیں دوسری طرف ارہم کو عمر نے اس قابل چھوڑا ہی نہیں تھا کہ وہ بستر سے اٹھ سکتا جبکہ تائی جان اس کی خدمت میں وقت لگا رہی تھی کہ وہ جلد از جلد صحت یاب ہو اور اپنے باپ کا پتہ نکالے کہ اخر وہ کہاں چلا گیا بیٹھے بٹھائے ایک انسان کا غائب ہو جانا اس کے گھر والوں کے لیے کسی مصیبت سے کم نہیں تھا جبکہ عمر خیام پہلے جو اپنے اپ کو اپنے جذبات کو کنٹرول میں کرنے کی کوشش کرتا رہا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے جذبات اگ کی طرح شعلے اڑانے لگے اور اب اس کے اندر اس قدر جنون اور غصہ بھر گیا تھا کہ وہ یہ چاہتا تھا کہ
وہ نہ بات کرے اس ادمی سے اس کی شکل نہ دیکھے اس سے کسی اچھے کی امید نہ رکھے لیکن وہ ادمی زندہ ہو اور اس کے سامنے رہے وہ بس اتنا جانتا تھا اور پورے ایک ہفتے سے اس نے پولیس کو جیسے شہر بھر میں ایسے پھرا رکھا تھا جیسے کوئی اپنی کھوئی ہوئی محبوبہ کو ڈھونڈتا ہو ہاں اسی طرح وہ اپنے باپ کو ڈھونڈ رہا تھا اور اس باپ کو جس سے وہ شدید نفرت کرتا تھا اور وہ باپ بھی اس سے شدید نفرت کرتا تھا لیکن اس کا ڈھونڈنا بہت زیادہ ضروری تھا عمر نے انسپیکٹر کو دھکا دیا بالوں میں ہاتھ پھیرا پیشانی پر اپنی دو انگلیوں کو رگڑ دی اور منہ پر ہاتھ رکھ کے وہ انسپیکٹر کی جانب دیکھنے لگا تمہارے پاس صرف 24 گھنٹے ہے صرف 24 گھنٹے کے اندر اندر مجھے وہ یہاں چاہیے اپنے سامنے اور اگر 24 گھنٹے کے اندر اندر مجھے وہ نہ ملا ۔۔۔۔۔”
ابھی بات اس کی مکمل نہیں ہوئی تھی کہ اچانک اس کا فون بجنے لگا اس کے فون پر انے والی کال شاہنواز کی تھی اس نے غصے سے وہ کال اٹھائی اور کان سے فون لگایا
کیا ہے یہ سب کچھ اور کتنے دن لگیں گے مجھے ڈھونڈنے میں انہیں اپ کرتے کیوں نہیں کچھ اپ کیوں نہیں جانتے کہ کہاں ہیں وہ نکالیں ان کا پتہ مجھے چاہیے وہ اپنے سامنے ” وہ اپنے اندر کا غصہ اس کے اوپر نکال رہا تھا جبکہ شاہنواز لب پر لب دبائے اس کی بات سن رہا تھا
تم پریشان نہ ہو میں کوشش کر رہا ہوں اپ کوشش نہیں کر رہے اپ تو سب کچھ کر سکتے ہیں جو میں چاہتا ہوں وہ اپ سب کر دیتے ہیں پھر کیوں نہیں وہ ادمی میرے سامنے ا رہا مجھے وہ ہر صورت میں چاہیے اور اگر 24 گھنٹے کے اندر اندر وہ مجھے نہ ملا تو میں پاگل ہو جاؤں گا ” عمر ریلکس شاہنواز نے اسے تسلی دی
نہیں میں ریلکس نہیں ہو سکتا اور نہ ہی میں ہوں گا میں یہیں بیٹھا ہوں پھر نہ اپ کچھ کر رہے ہیں نہ یہ پولیس والے کچھ کر رہے ہیں کہاں ہیں وہ اچانک وہ کہاں چلے گئے ہیں مجھے یہ بات بتائیں یا تو وہ مر جائیں تو ان کی لاش میرے سامنے ہو میں اپ کو کہہ چکا ہوں وہ مجھے اگلے 24 گھنٹے میں میرے سامنے چاہیے اگر وہ میرے سامنے نہ ائے تو پھر میں بھی کہیں چلا جاؤں گا پھر اپ مجھے ڈھونڈ کے دکھائیے گا “
غصے سے کہہ کر اس نے موبائل اور اپنی ساری چیزیں اٹھائی جبکہ گلاس اٹھا کر اس ٹیبل پہ پھینکا جس کی دوسری طرف انسپیکٹر بیٹھا تھا اور وہ لمبے قدم بھرتا وہاں سے باہر نکل گیا
اسکے اندر عجیب کیفیت تھی اس نے ہمیشہ چاہا تھا کہ اس کے ماں باپ اکٹھے رہیں ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھے اس نے ہمیشہ چاہا تھا کہ وہ اپنے ماں باپ کی محبت کے سائے میں رہے اور وہ بھی ایک عام انسان کی طرح اور ایک عام لڑکے کی طرح ان عام لوگوں کی طرح رہے جس کے ماں باپ اس سے بے حد محبت کرتے ہو لیکن نہ ہی اس کی قسمت میں ایسے ماں باپ تھے اور نہ ہی اس کی قسمت ایسی تھی اب جیسے بھی اس کے ماں باپ تھے وہ ان سے نفرت کرتا تھا محبت
وہ خود کچھ نہیں جانتا تھا اس بارے میں لیکن اس کی ماں بھی اس کے سامنے ہی مری تھی نا تو اس کے باپ کو بھی اس کے سامنے ہی مرنا تھا اس طرح غائب ہو جانے سے اس کے اوپر تکلیف کا انصر بڑھتا جا رہا تھا وہ غائب نہیں ہونے چاہیے تھے وہ حقیقت میں اگر مرتے تو وہ اس کے سامنے مرتے تاکہ اس سے تسلی رہتی کہ ہاں اس کا باپ مر گیا
رش ڈرائیونگ کرتے وہ سڑکوں پر بلاوجہ پھر رہا تھا اور اسے ایسے ہی پھرتے تا دیر ہو چکی تھی سڑکوں پر پھرتے پھرتے یہاں تک کہ رات ہو گئی وہ جانتا تھا کہ ایک لڑکی اس کا انتظار گھر کر رہی ہے اس کا انتظار اس کے گھر پہ کیا جا رہا ہے لیکن اس کا دماغ اتنا ماوف تھا کہ وہ بالکل اپنا کنٹرول کھو چکا تھا اس کے اعصابوں پہ اتنا وزن تھا اس بات کا اشفاق صاحب کہاں چلے گئے کہاں ہیں کدھر گئے کیسے گئے کیوں گئے اور کس نے کیا کیا وہ ان سب باتوں کے جواب چاہتا تھا مسلسل اس کے موبائل پر بچتے ہوئے کالیں اسے ٹیز کر رہی تھی اس نے موبائل اٹھایا اور دیکھا شاہ نواز کی کال سے اس نے موبائل کو اگنور کر کے ڈیش بورڈ پہ پھینکا اور سیدھا گھر کی راہ لی۔۔۔۔۔ جب کے ساتھ ساتھ گاڑی میں پڑی بوتل وہ پوری ختم کر چکا تھا یہ صرف اور صرف دماغ پر سوار ڈپریشن تھا جو اسے پینے پہ مجبور کر رہا تھا اور اکثر یہی ہوتا تھا وہ اسے انہیں دوران پیتا تھا جس میں وہ کسی ذہنی فکر میں ہو
وہ گھر پہنچانا چاہتے تھا اس نے اج پی لی تھی جبکہ وہ اس دن سے نہیں پی رہا تھا جب سے اس کی شادی ساز سے ہوئی تھی شاید احترام تھا اس کی محبت کا احترام تھا کہ وہ اس کے ہوتے ہوئے حرام چیز کو منہ نہیں لگانا چاہتا تھا لیکن ڈپریشن اتنا تھا اتنی گہری سوچ تھی اندر اتنی اگ تھی کہ وہ پیے بغیر نہ رہ سکا اور پینے کے بعد اسے اپنا دماغ کچھ بہتر محسوس ہوا اور انسپیکٹر پر شاہنواز پر غصہ نکال کر وہ گھر لوٹ ایا وہ لاؤنج میں بیٹھی اس کے منتظر تھی پریشان ہی سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی اور اس کے ڈولتے قدم اور تھکا تھکا وجود دیکھ کر ساز حیرت سے وہ اسے دیکھتی رہ گئی اکثر اس پر ترس اتا تھا کہنے کو وہ اس وقت اپ سے یعنی تایا جان سے نفرت کرتا تھا ان کی نا ہی عزت کرتا تھا نہ ہی ان سے کبھی محبت سے بات کی لیکن ان کے لیے وہ ایسے پھر رہا تھا کہ شاید ان کا سگا بیٹا بھی یہ حق ادا نہ کر پاتا اور وہ ان کے بڑے بیٹا ہونے کا حق ادا کر رہا تھا صرف اس لیے اور صرف یہ جاننے کے لیے کہ کیا وہ ٹھیک ہے خاموشی سے اسے دیکھتی رہی جبکہ وہ اندر ایا ہلکا سا مسکرایا سرخ انکھیں مزاج میں نشہ اسے دیکھنے لگا میرے دل کے چین سوری اس نے معذرت کی لہجہ لڑکھڑایا ساس کچھ نہیں بولی اپ کے لیے کھانا لگا دوں اس کا سوال تھا انداز میں ناراضگی تھی عمر جانتا تھا وہ کس وجہ سے ناراض ہے اس نے نفی میں سر ہلایا اور سیدھا کمرے میں چلا گیا ساز اسے نیچے سے ہی دیکھنے لگی پھر اس نے گھڑی کی جانب دیکھا تقریبا 12 بجے کا وقت ہے اتنی دیر سے انے کے باوجود بھی وہ سیدھا اوپر چلا گیا تھا اور اس نے ایک بار پھر شراب پی تھی لیکن پھر بھی وہ اسے چھوڑ نہیں سکتی تھی اس کے پیچھے پیچھے اوپر ائی کھڑکی کا وہ پاس کھڑا کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا ہوا ٹھنڈی چل رہی تھی فروری کا مہینہ تھا اس نے ایک لمبا سانس کھینچا اس کے سانس میں بڑی بیزاری تھی جیسے ہر چیز سے بیزار ہو گیا ہوں ساز نے اس کی شانے پر ہاتھ رکھا آپ پریشان نہ ہو جان جلدی مل جائیں گے
تمہیں پتہ جب میں بہت چھوٹا سا تھا سکول جاتا تھا ایک بار سکول سے ایا تو مام نے بتایا کہ گھر پر حلال کھانے کے لیے کچھ نہیں اس نے ساز کی طرف دیکھا ساس کی انکھوں میں رنگی سے اتری اس کی بات کو لے کر اس وقت وہ بات سمجھ نہیں ائی کہ حلال کیا میں نے کہا بھوک لگی ہے انہوں نے کہا تمہارا باپ غائب ہے اٹھ نو سال کے بچے سے ایسی باتیں کر رہی تھی وہ سمجھ تو کچھ نہیں ا رہا تھا لیکن ذہن کی سکرین پر ہمیشہ ہر یاد نقش رہ گئی اج پھر وہ غائب ہے اور جب تب بھی وہ ایک ماہ ہمارے پاس نہیں ائے موم نے اپنے حرام کمائی کھلانا شروع کر دی تو تب بھی میں نے انہیں یاد کیا تھا دیکھتے دیکھتے ساز کی انکھیں انسو سے لبریز ہو گئ آپ بہت محبت کرتے ہیں تایا جان سے بھی اور ناز انٹی سے بھی اور اتنی شدت سے نفرت کرتے ہیں وہ سمجھ نہیں اتا عمر کہ کیا ہے یہ سب ۔۔۔
تم کیوں پریشان ہو رہی ہو یہ ساری پریشانی اور فکرے میری ہیں تمہاری ٹینشن کی بات نہیں ہے ہنی تمہاری تو ابھی نئی نئی شادی ہوئی ہے تمہیں تو مسکرانا چاہیے دل بہلانا چاہیے تم تو میرا گلاب ہو ساز نے نفی میں سر ہلایا ہم مل کر ڈھونڈتے ہیں تایا جان کو وہ بھرائے ہوئے لہجے میں بولی لو جی چونٹی ڈھونڈی گئی اب اشفاق صاحب اور اپنی مسکراہٹ دوائی ساز نے ذرا خفگی سے اس کی طرف دیکھا اور جا کر بیڈ پر بیٹھ گئی
عمر نے گھیرہ سانس بھرا اور تھکا تھکا سا ساز کی گود میں سر رکھ گیا ۔۔
ایک سوال کروں تم سے ” اسکی بات پر ساز نے اسکے بالوں میں انگلیاں چلائیں اور گردن ہلائی
ایک بیٹے کا حق یہ ہی ہوتا ہے جو میں ادا کر رہا ہوں” وہ بولا تو ساز نے سر ہلایا
آپ بہت اچھے ہیں عمر”
نہیں میں اپنی تعریف نہیں سننا چاہتا صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ایک بیٹے کا حق یہ ہی بنتا ہے کہ اسکا باپ بیٹھے بیٹھائے کہاں غائب ہو گیا اور وہ پورے شہر میں اس آدمی کو ڈھونڈ رہا ہے جو اس سے اتنی نفرت کرتا ہے کہ اسے مار بھی دے ” اپ بہت اچھے بیٹے ہیں میں نے کہا نا میری تعریف نہ کرو وہ بیزاری سے اس کی جانب دیکھ رہا ہیں ساز خاموش ہو گئی تمہیں پتہ ہے مجھے اپنے اپ سے اتنی نفرت ہے اتنی نفرت ہے کہ کسی دن مجھے ایسا لگتا ہے میں اپنے اپ کو خود ہی مار دوں گا اتنا سب کچھ برداشت کرنے کے لیے بڑا جذبہ چاہیے میرے پاس اتنا بڑا دل کبھی تھا ہی نہیں چھوٹے سے دل کا عجیب سا عمر تھا سب نے مل کر عمر خیام بنا دیا پینے پلانے کی عادت دوستوں نے ڈال دی محبت کی عادت تم نے ڈال دی انتظار ماں باپ نے کروا دیا اب لگتا ہے کوئی بھی بات سینے کے ار پار ہو جائے اور اس دن سانس سے رک جائیں گے عمر کیسی باتیں کر رہے ہیں اس نے غصے سے اس کی جانب دیکھا میرے پاس اپ کے علاوہ کوئی نہیں ہے جی ٹھیک ہے اپ کے پاس ہزاروں لوگ ہیں جن سے اپ کو ہزاروں شکوے ہیں میرے پاس کوئی نہیں ہے اپ کے علاوہ اپ کیسی باتیں کر رہے ہیں اپ مجھے چھوڑ کے چلے جائیں گے اپ نے اپ نے یہ سوچا بھی کیوں وہ ایک دم ہی حد سے اکڑ گئی اور اس کو دور کر کے جبکہ روتے ہوئے بستر سے اتر گئی سب کا خیال ہے سب کی باتیں اپ کو تکلیف دے سکتی ہیں اور مجھے میرا کیا ہے میرے بارے میں نہ پہلے کسی نے سوچا اور نہ ہی کوئی اپ سوچ رہے ہو مجھے پہلے کسی کی بھی پرواہ نہیں تھی لیکن اب اسے مڑ کر اس کی جانب دیکھا اپ کے ساتھ ساتھ مر جاؤں گی اور انہیں باتوں کو تو اس کی انہیں باتوں پہ تو عمر کا دل بار بار اس کے اوپر اتا تھا فخر سے اس کی جانب دیکھتا لاڈ سے اس کے چہرے کو اپنی دونوں ہاتھوں کے پیالے میں بھرتا اس کے انسوؤں کو چن گیا جان عمر بس یہی تمہاری باتیں ہوں جس نے مجھے تمہارے پلو سے باندھ دیا تمہارے پاس سے عمر کہیں نہیں جاتا مسکرا کر اس کی جانب دیکھتا وہ اس کی شکوہ بھری نگاہوں پر پیار کر گیا
وہ تلخ باتیں ہیں اپ نہ سوچیں ” ساز نے اسکی پیشانی پر سے گھنے بال ہٹائے
ہاں مجھے نہیں سوچنا چاہیے لیکن میں پھر بھی فکرمند ہو رہا ہوں معلوم نہیں کیوں ” وہ بولا اور گھیرہ سانس بھر کر آنکھیں بند کر گیا اور اسے سینے سے لگا لیا جبکہ ساز نے اسے دوبارہ لیٹا دیا ۔۔۔
آپ بہت تھک گئے ہیں عمر ” اسکی آنکھوں کے پردوں پر آرام سے اہستگی سے اپنی انگلی چلانے لگی ۔۔
تم مجھ سے محبت کرتی ہو ” اسنے معصومیت سے اپنا سر ہلا دیا ۔جبکہ مسکراہٹ لبوں میں تھی ۔
میں بھی تم سے بہت محبت کرتا ہوں ” اسنے ساز کی گردن میں بازو ڈالا اور اسے اپنے چہرے پر جھکا لیا یہاں تک کے اسکے تپش سے بھرپور سانسیں ساز کے چہرے سے ٹکراتی اسکے دل کی دھڑکنوں کو دھڑکا رہیں تھیں ۔
وہ مسکرا رہا تھا وہ لبوں کو دانتوں میں دبا رہی تھی اور عمر نے اسکے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کی مدد سے اسکے دانتوں کی بے رحم گرفت سے آزاد کیا اور ہلکا سا پیار کرتا وہ ساز کے سرخ چہرے کو پیار سے دیکھنے لگا
اچانک اسکا موبائل بجنے لگا تھا
دیکھو کس کی کال ہے ” وہ سکون سے انکھیں بند کرتا بولا
میں بات کروں ” وہ کچھ آکسائیڈ سی لگی
ہمم ” عمر اسے متجسس سا دیکھنے لگا وہ کال اٹھا کر سلام کر رہی تھی جبکہ یہ آوٹ آف کنٹری سے کال تھی ۔۔۔
Excuse me … is there umer khyam????
ساز نے موبائل کان سے ہٹا کر اسے دیکھا جبکہ عمر نے اسے بات کرنے کا کہا
No his wife “
وہ بولی تو عمر نے بے آواز تالی بجائ تھی
Oky mam his brandy is ready and on the way kindly send us further payments .. thank you.
ساز نے عمر کی جانب دیکھا اور عمر نے اس سے موبائل اچک لیا اور کتنی مستعدی سے وہ بات کر رہا تھا انگلش میں اور تقریبا پانچ سات منٹ بات کر کے اسنے موبائل بند کیا
یہ برینڈی شراب ہے نہ” اسنے جاننا چاہا ۔
آآ ۔۔۔ ” عمر کچھ سوچنے لگا
سعود نے مہنگائی ہے
جھوٹ آپ نے پینی ہے نہ آپ اپ مجھے لگا اپ نے پینا چھوڑ دی ہے لیکن آپ ۔۔ کے پاس تو ختم ہو گئ تھی آپ نے مزیدار منگایا ہے کتنی بڑے چیئر ہیں اپ ٹھیک ہے اب اس برینڈی کے ساتھ ہی رہیے گا “
ہے نوٹنکی روکو یہیں” وہ وہاں سے اٹھ کر جانے لگی کہ وہ روکتا اٹھا مگر وہ بولتی بولتی آگے چلی گئ اور کمرے سے نکل گئ۔۔۔۔
عمر اسکے پیچھے پیچھے گیا اور جلدی سے اسے پیچھے سے ہی اٹھا لیا جبکہ ساز۔چلانے لگی
عمر چھوڑو مجھے ۔۔۔ عمر آپ مجھے چھوڑیں ۔۔ “
نہیں یار سچ میں یہ بہت پہلے آرڈر کیا تھا پھر اب ریڈی ہو گیا ہے” تو پیمینٹس مانگ رہے ہیں وہ تو ا جائے میں تو غریبوں میں بانٹوں گا تمھاری قسم ” وہ اسکے سر پر ہاتھ رکھ گیا
جبکہ ساز نے اسے دیکھا
چلو ٹھیک ہے آپ نے اب ایک بوند بھی پی تو میں مر جاوں گی یاد رکھیے گا اور یہ غریبوں میں بانٹنے کا کیا مطلب ہے “
عمر جیسے پچھتانے لگا تھا وہ کیوں اسکے سر پر ہاتھ رکھ گیا جبکہ ساز آنکھیں مٹکاتی مزے سے وہاں سے ۔۔ کچن کی جانب بڑھ گئ ۔
تم بہت چالاک ہو ” وہ بولا اور اسے بانہوں میں بھر گیا جبکہ دوسری طرف ساز کی گردن پر جھکتا وہ ساز کی گردن پر ایک حسین سا نشان بناتا اسکے۔کان کے قریب پیار کرتا وہ اسکے گالوں پر آیا اور ساز کو ایکدم دیوار سے لگا دیا ۔
عم۔۔عمر ” وہ بولنا چاہتی تھی کہ اسکے گلے سے دوپٹہ کھینچ کر عمر نے وہیں پھینکا اور اسے پیار کرتا کمرے کی جانب بڑھنے لگا اور ساز پیچھے قدم اٹھانے لگی جبکہ عمر نے اسکے بازو اپنی گردن میں حائل کیے اسے زمین سے اٹھاتا وہ اسے ۔۔ کمرے کے اندر ا گیا اور اس سمیت بیڈ پر لیٹ گیا ۔۔۔۔۔
ائ لو یو ۔۔ لو یو وڈ کریسی وائبز وہ مدہوشی میں بولتا اسکے اوسان خطا کر گیا تھا جبکہ ۔۔ دوسری طرف ساز اسکی محبت پر آنکھ بند کر کے بھی اعتبار کر گئ تھی کیونکہ وہ دنیا کا واحد شخص تھا جس کے لیے اسکا دل بہت بے چین رہتا تھا ہر وقت اسے کسی بھی مستقبل کی تکلیف سے بچا لینا چاہتا تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔
بدر کافی فکر مند تھا اس نے اس وقت سوہا سے کافی لڑائی بھی کی تھی کہ وہ یہ بات سیدھا عمر کو کیوں نہیں بتا رہی جبکہ سوہا نے اس کے آگے ہاتھ جوڑے اور اسے روکا کہ عمر کو مزید کسی تکلیف کا شکار نہ کرو جبکہ بدر غصے سے بھنا ہی گیا وہ بچہ نہیں ہے اور جو کچھ تم سب مل کر اس کے ساتھ کر رہے ہو یہ سب کچھ اسے زیادہ تکلیف دے گا با نسبت اس کے کہ اسے وقت سے پہلے ہی سب بتا دیا جائے وہ بے وقوف نہیں ہے اس سے تم لوگ بے وقوف کیوں بنا رہے ہو اور وہ شاہنواز بدر نے جیسے اس کا نام بھی دانتوں میں کچل ڈالا اگر یہ یہ حقیقت ہے شاہنواز تعلق ناز سے ہے تو پھر تو تایا جان سچے ہیں ناز انٹی اتنی گندی عورت تھی
ہم سچائی نہیں جانتے اور ہم کسی کو یہ نہیں کہہ سکتے سوہا نے اختلاف کیا جانے دو ایسی عورتوں کا انجام پھر یہی ہوتا ہے بلاوجہ اس عورت پر ہم نے ترس کھایا بدر کمرے سے باہر نکل گیا جبکہ بدگمانی کی فضا بڑھ گئی تھی سوہا پریشان سی ہو گئی کہ وہ واقعی سچ بول رہا ہے کیا ناز انٹی کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا وہ صحیح ہوا تھا یہ پھر وہی سچ ہے جو تایا جان کہتے ہیں اس نے با مشکل بدر کو روکا تھا کہ وہ عمر کو کچھ نہ بتائے وہ رک بھی گیا تھا لیکن صرف یہ کہہ کر کہ جس دن بھی عمر نے اس سے سوال کیا اور کچھ بھی جاننے کی کوشش کی تو وہ ساری سچائی اس کے سامنے کھول کر رکھ دے گا کیونکہ اس میں اس کی خیر خواہی نہیں کہ اس سے سب کچھ چھپا کر اسے بے وقوف بنایا جائے سوہا کافی پریشان تھی وہ چاہتی تھی وہ ساز سے رابطہ کرے اسے بتائے کہ بدر سب جان گیا رفتہ رفتہ کسی اگ کی طرح یہ بات پھیل رہی تھی اور گردش صرف عمر کے گرد تھی وہ جانتی تھی شاہنواز عمر تک اس بات کو پہنچنے نہیں دے گا جبکہ دوسری طرف بدر کے دل میں یہ شک مستند ہو گیا تھا کہ اگر شاہنواز اور ناز کا کوئی تعلق ہے تو اس وقت اشفاق شاہنواز کے پاس ہے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے