Haal e Dil by Rimsha Hussain NovelR50524 Haal e Dil (Last Episode)Part 2
Rate this Novel
Haal e Dil (Last Episode)Part 2
Haal e Dil by Rimsha Hussain
شازل شازی کے گال کتنے پیار ہیں اور پُھولے ہوئے نرم سے ہیں دیکھ کر دل چاہتا ہے چٹا چٹ چوم لیا جائے۔ماہی پرجوش لہجے میں شازل کو بتانے لگی وہ سب اِس وقت اپنے اسلام آباد والے گھر میں موجود تھے۔
ہاں واقع پیارے ہیں اور پُھولے ہوئے نرم سے ہیں دیکھ کر دل چاہتا ہے تھپڑ مارا جائے ویسے تھپڑ مارنے سے کتنی اچھی آواز گونجے گی جسٹ امیجن۔شازل اُس کی گود میں شازی کو دیکھ کر بولا تو ماہی نے تاسف سے اُس کو دیکھا۔
آپ سے کسی اچھی بات کی توقع رکھنا فضول عمل ہے۔ماہی نفی میں سراثبات میں ہلاکر بولی۔
اب ایسی بھی کوئی بات نہیں۔شازل نے کہا
اچھا سُنیں ذین لالہ کی شادی ہے اور میں پورے ایک ماہ اپنے گھر رہوں گی اتنا وقت ہوگیا ہے گھر نہیں گئ۔کجھ یاد آتے ہی ماہی شازل کے پاس کھسک کر بتانے لگی۔
ایک ماہ کس خوشی میں رہو گی وہاں؟شازل نے ایک ماہ والی بات پہ اُس کو گھورا
لالہ ہیں میرے اور بہنوں کے کتنے ارمان ہوتے ہیں اپنے بھائیوں کی شادی کو لیکر۔ماہی نے منہ بسور کر کہا
ہوتے ہوگے مگر تم جسٹ فنکنشن وغیرہ میں جاکر واپس آؤں گی ایک ماہ کیا ایک دن بھی رہنا نہیں بنتا تمہارا وہاں۔شازل نے حکم سُنایا
یہ میرے ساتھ زیادتی ہے۔ماہی نے احتجاج کرنا چاہا
اگر تم گئ تو وہ میرے ساتھ زیادتی ہوگی۔شازل دوبدو بولا
آپ ایسا نہیں کرسکتے۔ماہی روہانسی ہوئی۔
مجھے کرنا پڑے گا کیونکہ ایک ماہ بہت زیادہ وقت ہے۔شازل نے کندھے اُچکائے۔
آپ چاہتے ہیں میں اپنے بھائی کی شادی پہ مہمانوں کی طرح جاؤں؟کتنا بُرا لگے گا یہ۔ماہی نے کہا
نہیں لگتا بُرا۔شازل شانِ بے نیازی سے بولا
بات مت کیجئے گا۔ماہی ناراضگی سے کہتی اپنے اور شازل کے درمیان میں شازم کو لیٹا کر خود کروٹ کے بل سوگئ۔
ماہی یار ناراض تو مت ہو میری حالت بھی تو سمجھو میرا دل نہیں لگے گا تمہارے اور شازی کے بغیر۔شازل اُس کے عمل پہ گہری سانس بھر کر بولا مگر ماہی نے کوئی جواب نہیں دیا۔
ماہی؟؟؟شازل نے اُس کو آواز دی۔
ماہی میری آواز کو نظرانداز مت کرو۔شازل کو بُرا لگا تبھی ضبط کیے بولا
مجھے آپ سے بات نہیں کرنی اِس لیے آواز مت دے۔ماہی نرٹھے پن سے بولی تو شازل نے درمیان میں لیٹے شازی کو بے بی کارٹ میں لیٹایا اور خود بیڈ پہ آکر اُس کو اپنے حصار میں لیا۔
ناراض ہو؟شازل نے جاننے کے بعد بھی پوچھا
آپ کو کیا فرق پڑتا ہے۔ماہی سرجھٹک کر بولی۔
چلو ایک ماہ نہیں ایک ہفتہ رہ لینا۔اُس کی ناراضگی پہ شازل دل پہ پتھر رکھ کر بولا
اِس احسان کی بھی ضرورت نہیں میں جاؤں گی ہی نہیں۔ماہی کی آنکھیں نم ہوئی
ایک ہفتے سے زیادہ میں رہنے نہیں دوں گا ماہی کیونکہ مجھے یاد آئے گی تم دونوں کی کیسے رہوں گا میں؟شازل پہلی بار بے بس ہوا۔
آپ خود کا نہ میرا سوچے آپ کو یاد ہے؟ شازی میرے پیٹ میں دو ماہ کا تھا جب میں گئ تھی اور اب ماشااللہ سے ہمارا بیٹا ایک سال کا ہونے جارہا ہے میں نے ایک دفع بھی چکر نہیں لگایا۔ماہی اُس کی جانب کروٹ لیکر بولی۔
کیا تم ایک ماہ وہاں رہ لو گی؟شازل نے سنجیدگی سے پوچھا
میرے ماں باپ کا گھر ہے ظاہر سی بات ہے رہ لوں گی یہ کیسا سوال ہوا؟ماہی کو سمجھ نہیں آیا
ٹھیک ہے پھر چلی جانا۔شازل سنجیدگی سے کہتا اُس کے گرد اپنا حصار توڑ کر کروٹ لیکر لیٹ گیا۔
شازل اب آپ کیوں ناراض ہو رہے؟ماہی اُس کی پشت کو گھور کر بولی۔
“تمہیں فرق نہیں پڑنا چاہیے”شازل نے جتایا
آپ شوہر ہیں میرے آپ کی ناراضگی کا فرق مجھے پڑے گا۔ماہی نے کہا
شوہر کی بات کا بھی پاس ہوتا تو کیا ہی بات ہوتی۔شازل نے طنزیہ کیا۔
اچھا ٹھیک ہے جیسا آپ چاہتے ہیں ویسا ہوگا۔ماہی اپنا سر اُس کی پشت سے ٹکاکر بولی تو شازل کے چہرے پہ گہری مسکراہٹ آئی۔
سوچ لو۔شازل اُس کی طرف رخ کرتا بولا
سوچنا کیسا جب کرنا وہ ہی ہے جو آپ نے کہنا ہے۔ماہی ناک منہ چڑھا کر بولی تو شازل کی ہنسی چھوٹ گئ۔
میری گولوں مولوں بیوی بہت عقلمند ہے۔شازل شدت سے اُس کا ماتھا چوم کر بولا۔
شکر ہے کبھی عقلمند بھی کہا۔ماہی منہ بسور کر بولی۔
ایس
شازل کجھ کہنے والا تھا جب شازم کے رونے کی آواز کانوں میں ٹکرائی تو اُس نے گھور کر بے بی کارٹ کو دیکھا۔
یہ اِس نمونے کو سارا دن چھوڑ کر اِس وقت رونا یاد آتا ہے جب ہمیں سونا ہوتا ہے۔شازل دانت پیس کر بولا
ہاہاہاہاہا کیونکہ وہ سارا دن سوتا ہے تبھی۔ماہی ہنسی ضبط کرتی بولی۔
ویسے تم نے اچھا نہیں کیا رات والی ڈیوٹی مجھے سونپ کر۔شازل اُس کو دیکھ کر بولا
تو آپ دن میں شازی کو سنبھال لیا کرے تب میں اپنی نیند پوری کرلوں گی اور رات کو اِس کی دیکھ بھال کیا کروں گی۔ماہی آنکھیں پٹپٹاکر بولی۔
ویسے کبھی کبھی نہ مجھے لگتا ہے جیسے ہماری لو میریج ہے۔شازل اُس کو دیکھ کر پرسوچ لہجے میں بولا
اچھا اور یہ ایسا کیوں؟ماہی نے دلچسپ نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھا اِس درمیان وہ دونوں شازم کو فراموش کرگئے تھے۔
کیونکہ تم پہلے ہی دن سے مجھے عزیز ترین ہوگئ تھی جب پہلی بار دیکھا تھا معصوم سی کیوٹ سی ڈری سہمی سی۔شازل نے آج پہلی بار صاف گوئی کا مظاہرہ کیا۔
میں تب آپ کے لیے ایک انجان لڑکی تھی۔ماہی نے کہا
ام ہم تم میری بیوی تھی اُس وقت۔شازل نے کہا تو وہ مسکرائی۔
وہ بیوی جس سے آپ چڑتے تھے۔ماہی نے یاد کروایا
ہاں کیونکہ میں تم سے ناواقف تھا اور اب جب اُس وقت کو سوچتا ہوں تو ہنسی آجاتی ہے۔شازل نے بتایا۔
اور آپ کو پتا ہے میں کیا سوچتی ہوں؟ماہی نے کہا
کیا سوچتی ہو؟سوال پوچھا گیا
یہی کے اگر ہمارا نکاح نہ ہوتا اور ایسے ہی ہماری اتفاقً کہیں ملاقات ہوجاتی تو آپ کو کبھی مجھ معمولی شکل وصورت والی لڑکی پسند نہ آتی۔ماہی نے کہا
ہوجاتی کیونکہ محبت کرنے کے لیے محبوب کا چہرہ خوبصورت ہونا میٹر نہیں کرتا مجھے تو تمہاری معصومیت اٹریکٹ کرتی ہے۔شازل اُس کے گال پہ ہاتھ رکھ کر جیسے ہی بولا شازم نے رونے میں رفتار بڑھائی۔
جائے شازی بولا رہا ہے۔ماہی مسکراہٹ ضبط کرتی بولی
اگر اِس نے اپنے کرتوت نہیں بدلے تو وہ دن دور نہیں جس دن میں اِس کو باہر پھینک آؤں گا۔شازل جلے کٹے انداز میں کہتا بیڈ سے اُٹھ کھڑا ہوا۔
صرف دودہ پِلادے سوجائے گا پھر۔ماہی نے مسکراکر کہا
فیڈر تو خالی ہے۔شازل نے فیڈر اُس کے سامنے لہرایا۔
لائے میں کچن سے لاتی ہوں۔ماہی اتنا کہتی اُٹھنے لگی جب شازل بول پڑا
“تم بیٹھو میں لاتا ہوں۔
دودہ کو اُبالیے گا پہلے کیونکہ آج میں نے نہیں اُبالا تھا۔ماہی نے اُس کو جاتا دیکھا تو کہا
حریم نے حورم کے لیے اُبال لیا ہوگا۔شازل اتنا کہتا کمرے سے باہر چلاگیا تو ماہی مسکراتی بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا گئ۔










مُبارک ہو آپ کے بھائی کی نئیا پار لگ ہی گئ آخر۔فجر یامین کو سُلانے کے بعد کمرے میں آئی تھی جب ارمان نے شرارت سے کہا
تمہیں بھی مُبارک ہو۔فجر اُس کو گھور کر بولی
سوچنے کی بات ہے کیا واقع آپ ویسا کرے گی جیسا یامین کو کہتی ہیں؟ارمان اُس کو دیکھ کر بولا
کیا کہتی ہوں میں یامین کو؟فجر ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی۔
یہی کے یمان سر کی بیٹی سے شادی وغیرہ۔ارمان نے کہا تو فجر ہنس پڑی۔
کیا ہوگیا ہے ارمان؟یامین بچہ ہے تنگ کرتا ہے تو بہلانے کی خاطر اُس سے کہتی ہوں مگر تم نے تو اُس بات کو سیریسلی ہی لے لیا۔فجر نے جیسے اُس کی عقل پہ ماتم کیا۔
میری تو خیر ہے اگر یہ بات یامین سیریسلی لے گیا تو؟ارمان پرسوچ لہجے میں بولا
سات سال کا بچہ ہے وہ اُس کو یہ بات یاد نہیں رہے گی ویسے بھی میں اب اُس کو ایسا کجھ نہیں کہتی صرف دو بار کہا تھا۔فجر نے کہا
ماشااللہ سے ایک ماہ بعد وہ آٹھ سال کا ہوجائے گا دوسری بات کے اب کیوں نہیں کہتی اُس سے؟ارمان نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھا
کیونکہ جب رات ہوتی تو وہ بار بار پوچھتا ماموں کی بیٹی کیسی ہوگی؟دیکھنے میں پیاری ہوگی؟اُس کے گالوں میں ہماری طرح ڈمپل ہوگے؟ہم کب اُس کو دیکھے گے؟۔فجر جھرجھری لیکر بتانے لگی تو ارمان ہنس پڑا۔
ہمارا یامین سیریس لگتا ہے۔ارمان نے کہا
ایسا کجھ نہیں۔فجر اُس سے کہتی سونے کے لیے لیٹ گئ۔








آج “دُرید حریم”اور “شازل ماہی”کا ولیمہ تھا جس کا کھانا سب سے پہلے گاؤں کے غریب لوگوں میں تقسیم ہوا تھا اور بچوں کو حویلی کی ایک سائیڈ پہ بیٹھا کر کھانا کِھلایا جارہا تھا حویلی میں آج پورا گاؤں جیسے شرکت کرنے آیا تھا مگر آروش نہیں آ پائی تھی کیونکہ اپنے ولیمے کے اگلے تھے وہ عمرے کی ادائیگی کے لیے نکل گئے تھے۔
آج تو ہم تھک گئے۔حریم کمرے میں آتی تھکن زدہ لہجے میں بولی
کونسا ہل چڑھایا تھا ایک جگہ پہ بیٹھی ہوئی تھی۔دُرید جو اُس کے پیچھے کمرے میں داخل ہوا تھا وہ بولا
تبھی تو تھک گئے ہیں اِتنا بھاری جوڑا جیولری توبہ۔ویسے ہماری حورم کہاں ہیں؟ بات کرتے کرتے حریم کو اچانک حورم کا خیال آیا تو پوچھا
شازل کے پاس ہے۔دُرید نے بتایا
اچھا آپ نے بتایا نہیں ہم کیسے لگ رہے ہیں؟حریم دُرید کے سامنے کھڑی ہوتی گول گول گھومنے لگی تو دُرید کو وہ بچی لگی۔”حریم اِس وقت بلیو کلر کے لہنگے میں ملبوس تھی ساتھ میں سیم کلر کا حجاب پہنا ہوا تھا چہرے پہ ہلکے سے میک اپ کا ٹچ تھا بلیو کلر اُس نے دُرید کی وجہ سے پہنا تھا کیونکہ ایک کلر دُرید کا فیورٹ تھا۔
ہماری زوجہ بہت پیاری لگ رہی ہے۔دُرید اُس کا ہاتھ تھام کر مسکراکر بولا۔
آپ بھی اچھے لگ رہے ہیں ویسے آپ کبھی شازل لالہ کی طرح جینز پہنا کرے نہ۔حریم اُس کو کاٹن کے سفید شلور قمیض کے ساتھ مردانہ شال میں ملبوس دیکھا تو فرمائشی انداز میں کہا جس پہ دُرید نے اُس کو گھورا
چینج کر آؤ تب تک میں ملازمہ سے کھانے کا کہتا ہوں۔دُرید نے بات کا رخ بدلا۔
اچھا۔حریم نے منہ بسورا۔
بھلا پہلے میں چینج کرلوں۔دُرید بڑبڑاتا وارڈروب کی جانب بڑھا
اِس سائیڈ پہ میرے کپڑے ہوتے ہیں۔حریم ابھی اُس کو روکنے والی تھی مگر اُس سے پہلے دُرید نے وارڈرب کھول دیا تھا جس پہ حریم کے سارے کپڑے کسی بارش کی طرح دُرید پہ برسے تھے حریم لب دانتوں تلے دباتی جلدی سے رخ بدل گئ۔جبکہ دُرید جو تپ کے اُس کو کجھ کہنے والا تھا مگر جب نظر سامنے ایک فریم پہ پڑی تو الفاظ منہ میں ہی دم توڑ گئے اُس نے ہاتھ بڑھا کر فریم کو لیا۔
سچی وہ ہم واڑدروب سیٹ کرنے والے تھے مگر بھول گئے تھے ہڑبڑی میں کپڑے رکھ لیے تھے مگر اب ٹھیک کردینگے۔حریم نے ہڑبڑاکر کہا پر دُرید سن کہاں رہا تھا وہ تو یک ٹک فریم میں موجود ایک چیز کو دیکھ رہا تھا جس کا ہونا اُس کے لیے ناقابلِ یقین تھا اُس کو تو یاد بھی نہیں تھا اُس نے ایل ایل بی کی تھی یا اُس کو ڈگری بھی حاصل ہوئی تھی وہ تو اِن چیزوں کو فراموش کیے ہوئے تھا
یہ کیا ہے حریم؟بہت دیر بعد دُرید بولنے کے اہل ہوا۔
ہمارے کپڑے۔حریم بنا دیکھے بولی تو دُرید چلتے ہوئے اُس کے پاس آیا
میں اِس کا پوچھ رہا ہوں۔دُرید نے فریم اُس کے سامنے کیا تو حریم کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئ۔
یہ آپ کو کہاں سے ملا؟ہمیں دے۔حریم نے فریم اُس کے ہاتھ سے لینا چاہا پر دُرید نے اُس کی پہنچ سے دور کیا
مجھے وہ دن اچھے سے یاد ہے جب یہ میں نے ملازمہ کو دی تھی کے ردی کے سامان کے ساتھ اِس کو بھی جلائے تم اُس وقت نہیں تھی وہاں اور اگر تھی بھی تو تمہاری عمر نو سے دس سال کی تھی پھر یہ میری ڈگری تمہارے پاس کیسے آئی؟وہ بھی صحیح سلامت جس کو تم نے فریم تک کروایا ہے۔دُرید کا لہجہ سنجیدہ تھا۔
“ہم دس سال کے تھے اور وہ ملازمہ جس کو آپ نے دی تھی وہاں سے ہم چوری کرکے لائے تھے ہمیں نہیں تھا پتا یہ ڈگری ہے یا کجھ اور ہمیں بس اتنا پتا تھا کے یہ آپ کی چیز ہے جو ہمارے لیے ازحد بہت ضروری تھی ہم کیسے آگ کی نظر کرتے اور یہ فریم تب کروایا تھا جب ہمیں آپ کے وکالت کرنے کا پتا چلا تھا۔حریم نے جواب دیا تھا دُرید بس اُس کو دیکھتا رہ گیا۔
حریم میں اب تمہیں کیا کہوں؟سچ بتاؤں تو تم نے مجھے اسپیچ لیس کردیا ہے۔دُرید اُس کو اپنے حصار میں لیکر بولا
جان کر خوشی ہوئی ویسے آپ نے اِس ڈگری کو پھینکنا کیوں چاہا تھا؟اور کیا آپ نے کبھی کوئی کیس نہیں لڑا؟حریم نے متجسس لہجے میں پوچھا۔
پُرانی بات ہے چھوڑدو اور ہاں میں نے کبھی کوئی کیس نہیں لڑا یہ کام بس شازل کرتا ہے۔دُرید نے جواب دیا۔
اچھا۔حریم بس یہی بولی۔
تم نے بتایا نہیں تھا کبھی کے یہ تم نے سنبھال کر رکھا ہے؟دُرید نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا
ایسے ہی اگر آج بھی آپ کی نظر نہ پڑتی تو ہم بتانے والے نہیں تھے۔حریم نے کہا تو دُرید نے گہری سانس خارج کی۔









میں آپ کی ماں سے ملنا چاہتی ہوں۔زوبیہ بیگم نے دلاور خان سے کہا تو انہوں نے چونک کر اُن کو دیکھا۔
میری ماں سے؟دلاور خان نے کنفرم کرنا چاہا
جی آپ کی ماں سے ہمیں صلح کرنی چاہیے میری غلطی کی وجہ سے آپ اپنی ماں سے دور ہوئے جبکہ وہ تو بس مجھے اور میری بیٹیوں کو نیک راہ پہ چلانا چاہتی تھی دین کا درس دینا چاہتی تھی بتانا چاہتی تھیں کے ایک مسلمان عورت کی کیا حدودطے کی ہے اللہ تعالیٰ نے”میں پہلے یہ سمجھ نہیں پائی کیونکہ میں نام مسلم تھیں قرآن کے بارے میں زیادہ تر معلومات نہیں بس پہلا کملہ پڑھ کر خود کو مسلمان بنادیا سوزی سے زوبیہ بن گئ نام کو بدل دیا مذہب کو بدل دیا مگر دل سے اسلام کو شاید قبول نہیں کیا اور اپنی بیٹیوں کو بھی خود جیسا بنادیا دین سے دور پھر فرق اتنا کے وہ قرآن پڑھ کر بھول چُکی ہیں اور میں نے کبھی قرآن پاک کو پڑھنا چاہا بھی نہیں۔زوبیہ بیگم کے لہجے میں ندامت صاف جھلک رہی تھی جس کو محسوس کرتے دلاور خان نے ڈوب مرنے کے مقام پہ پہنچے تھے۔
قرآن پڑھ کر بھول جانا بہت بڑا گُناہ ہے۔دلاور خان بس یہی بول پائے۔
اِس گُناہ کی معافی مانگنی چاہیے توبہ کرنی چاہیے کے پھر کبھی ایسی کوئی غلطی ایسا کوئی گُناہ ہم سے سرزند نہیں ہوگا۔زوبیہ بیگم نے کہا تو دلاور خان نے گہری سانس بھر کر سر کو اثبات میں ہلایا۔









دلاور خان اور زوبیہ بیگم پیشاور گئے تھے جہاں دلاور خان کا آبائی گھر تھا انہوں نے اپنے گھروالوں سے اپنی ماں بہنوں سے معافی مانگی تھی جس پہ اُن کی ماں جو اب ضعیف ہوچکی تھی اتنے سالوں بعد اپنے بیٹے کو دیکھ کر خوشی سے نہال ہوئی تھی ساری خطائیں اُن کی معاف کرکے انہوں نے آپس میں ہر معاملہ سُلجھا دیا تھا تقریباً ایک ماہ پیشاور قیام کرنے کے بعد اسلام آباد واپس پہنچے تھے جہاں دلاور خان خصوصی کانفرنس میں یہ اعلان کیا تھا کے وہ فلم انڈسٹری چھوڑ رہے ہیں یہ خبر سن کر جہاں سب اچانک فیصلے پہ حیران و پریشان ہوئے تھے وہی آروش بہت خوش ہوئی تھی وہ اور یمان اللہ کے کرم سے عمرہ کرکے واپس پہنچ چُکے تھے جہاں اُن کو دلاور خان اور زوبیہ بیگم کا بدلا ہوا انداز دیکھنے کو ملا تھا۔
میں بہت خوش ہوں۔آروش زوبیہ بیگم کو دیکھ کر خوش ہوکر بولی۔
بس اللہ کا کرم ہیں اُس نے مزید دلدل میں گِرنے سے بچادیا۔زوبیہ بیگم اُس کو اپنے ساتھ لگاکر بولی یمان مسکراکر بس اُن کو دیکھ رہا تھا۔
صاحب آپ آگئے۔نجمہ اچانک لاؤنج میں آتی یمان سے بولی جس کو آئے تقریباً دو گھنٹے ہوگئے۔
نہیں راستے میں ہوں پہنچ کر بتادوں گ۔یمان نے اُس کے بے تُکے سوال پہ گھور کر کہا
اچھا بتادیجئے گا میں آپ کے لیے کافی بناکر لاؤں گی۔اُس کو چڑتا دیکھ کر نجمہ دانتوں کی نمائش کرتی بولی تو آروش کی ہنسی نکل گئ۔
تم اپنے گاؤں گئ تھی کب واپس آئی؟آروش نے مسکراکر پوچھا
او جی کل واپسی ہوئی تھی۔نجمہ قدرے شرما کر بولی
تو اِس میں شرمانے والی کیا بات ہے؟یمان کو اُس کا شرمانا سمجھ نہیں آیا
وہ کیا ہے نہ ہمارا ٹانکا بھی فِکس ہوگیا گل شیر کے ساتھ۔نجمہ اپنا چہرہ ہاتھوں میں چُھپائے بتانے لگی تو زوبیہ بیگم اور آروش خاصی حیرت بھری نظروں سے اُس کو دیکھنے لگے۔
ماشااللہ یہ تو بہت اچھی بات ہے۔آروش نے کہا
مجھے گل شیر کے ساتھ ہمدردی ہے۔یمان خاصے افسوس بھرے لہجے میں گویا ہوا تو نجمہ کا منہ بن گیا۔
یمان کیوں تنگ کررہے ہو بے چاری کو۔زوبیہ بیگم نے کہا تو یمان ہنس پڑا
یہ بتاؤ شادی کب ہے؟ یمان نے اب کی سنجیدگی سے پوچھا
ایک دو ماہ تک۔نجمہ شرم سے بے حال ہونے لگی جبکہ اُس کی حالت دیکھ کر آروش کی ہنسی نہیں رُک رہی تھی۔









آج شازم شاہ کی پہلی بار سالگرہ تھی جس کے لیے پوری حویلی کو سجایا گیا تھا گاؤں میں الگ سے تحائف بانٹے جارہے تھے ماہی یہ سب دیکھ کر خوش ہونے کے ساتھ ساتھ حیران ہوتی جارہی تھی کیونکہ اُس کے سب ٹھیک تھا نہ کوئی صورت کا مسئلہ اور نہ ذات وغیرہ کا وہ شازم شاہ کی بیوی تھی جو کی اب اُس کی پہچان تھی اور آج شازم کی سالگرہ کے ساتھ ساتھ گاؤں دستار بندی کا بھی فیصلہ ہونا تھا جو یقیناً دُرید شاہ کے حق میں ہونا تھا کیونکہ شازل نے پہلے ہی منع کیا ہوا تھا کے وہ سرپنج نہیں بنے گا دوسرا کی بات دیدار شاہ نے اپنی دوسری شادی کا اعلان کیا تھا جس پہ کسی نے اعتراض نہیں اُٹھایا سوائے فردوس بیگم اور شبانا بیگم کے انہوں نے ہنگامہ بہت رچایا تھا مگر کسی نے اُن کی بات سُننا گوارا نہیں کیا تھا شبانا بس ہر وقت ہر ایک کو دیکھتی جلتی کڑھتی رہتی اُس کا بس نہیں چلتا تھا وہ ہر چیز کو اُجاڑ کے رکھ دیتی مگر اُس کا حسد صرف اُس کو ہی جلا کر راکھ کررہا تھا “دیدار نے دوسری شادی کر بھی لی اور وہ بس ہاتھ مسلتی رہ گئ کیونکہ وہ اب دیدار کے کمرے میں نہیں ہوتی دوبارہ اپنے کمرے میں قیام پزیر ہوگئ تھی قسمت نے اچھے سے ہر چیز کا حساب اُس سے برابر کیا تھا جو وہ ماہی کے لیے سوتن لانا چاہتی تھی اب اپنی سوتن کو دیکھ کر وہ بس صبر کے گھونٹ بھرتی رہ جاتی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
او ہو پورے کپڑے گندے کردیئے۔ماہی تاسف سے شازم کو دیکھ کر بولی جو کیک کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھا اُس کے ہاتھ اُس کا چہرہ کپڑے سب کجھ کیک سے لُودھا ہوا تھا کیونکہ شازل نے ایک الگ سا کیک شازم کے سامنے کیا تھا جس پہ اُس نے اپنا حشر نشر کردیا۔
کیا ہوا اِس کو بھی تو پتا ہو یہ اب پُرانہ ہوگیا ہے۔شازل دھب سے بیڈ پہ لیٹ کر سکون سے بولا
خیر میری باتیں مجھے شبانا بھابھی کے لیے افسوس ہورہا ہے۔ماہی نے شازل سے کہا
تمہیں افسوس کرنے کی ضرورت نہیں بھابھی ماں وہ کاٹ رہی ہیں جو انہوں نے بویا تھا۔شازل سنجیدگی سے بولا
ہاں مگر اُن کے پاس اولاد ہونی چاہیے تھی۔ماہی نے کہا
چھوڑو یہ سب باتیں شازم کے کپڑے چینج کرو آج ہمیں اسلام آباد کے لیے نکلنا ہے۔شازل نے بات کا رخ بدلا تو ماہی نے مزید کجھ نہیں کہا۔








ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟آروش کی صبح آنکھ کُھلی تو یمان کی نظریں خود پہ محسوس کیے پوچھا
آپ کیا پریگننٹ ہیں؟یمان کے ایسے سوال پہ آروش کے چہرے کی ہوائیاں اُڑنے لگی وہ سمجھ نہیں پائی یہ اچانک صبح صبح یمان کو کیا ہوا ہے جو ایسا سوال پوچھ رہا ہے۔
نہیں پر تم کیوں یہ پوچھ رہے ہو۔آروش خود پہ قابو پائے جواب میں بولی
آپ کو پتا ہے میں نے خواب میں کیوٹ سی بچی کو دیکھا تبھی پوچھا۔یمان نے کہا تو آروش خاموشی سے اُس کو دیکھنے لگی جس کے چہرے پہ ہلکی مسکراہٹ تھی
تمہیں بیٹیاں پسند ہیں؟آروش نے پوچھا
ہاں بہت میں چاہتا ہوں ہماری بیٹی ہو آپ جیسی پیاری سی۔یمان اُس کو دیکھ کر بولا
اچھا تم فریش ہوجاؤ آفس بھی جانا ہوتا ہے تمہیں۔آروش نے کہا تو یمان اُٹھ کر واشروم میں چلاگیا تھا پر آروش گہری سوچ میں ڈوب گئ تھی کجھ دنوں سے اُس کو اپنی حالت خراب محسوس ہورہی تھی مگر وہ نظرانداز کررہی تھی مگر یمان کی بات پہ اُس کو خوشکن احساسات نے آ گھیرا تھا اُس نے بے ساختہ اپنا ہاتھ پیٹ پہ رکھا تھا یمان کے آفس جانے کے بعد اُس نے کلثوم بیگم کو کال کیے یمان کے خواب کے بارے میں بتایا تو انہوں نے ایک بتائی تھی جس پہ وہ عمل پیراں ہوئی تو پوزیٹو رسپانس دیکھ کر آروش کا دل زور سے دھڑکا تھا اُس سے اپنی خوشی سنبھالے نہیں جارہی تھی۔
یمان کتنا خوش ہوگا۔آروش اپنے منہ پہ ہاتھ رکھتی تصور میں یمان کو لائے سوچنے لگی۔
آروش نے سوچ لیا تھا وہ یمان کو سرپرائز دے گی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
موم آروش کہاں ہیں؟یمان گھر آیا تو آروش کو دیکھ کر زوبیہ بیگم سے پوچھا کیونکہ ہر روز وہ اُس کے لیے ہال میں انتظار کیا کرتی تھی۔
شاید کمرے میں ہو میں نے تو نہیں دیکھا صبح سے اُس کو۔زوبیہ بیگم نے بتایا تو یمان کجھ پریشان ہو۔
میں دیکھتا ہوں۔یمان اُن سے کہتا کمرے میں آیا تو جہاں آروش نہیں تھی یمان ایک نظر پورے کمرے میں ڈورا رہا تھا جب ڈریسنگ مرر پہ لگی ایک چٹ نے اُس کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔یمان ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آتا چٹ اپنے ہاتھ میں لی تو وہاں لکھی تحریر دیکھ کر ساکت سا رہ گیا جس میں محض تین حرف لکھے ہوئے تھے۔
Me come baba
یمان بار بار چٹ کو دیکھتا رہا اُس کی آنکھوں میں بے یقین صاف ظاہر تھی دل میں ایک الگ شور برپا تھا یخلت اُس کو آروش کا خیال آیا تو چٹ پہ اپنی گرفت مضبوط کرتا ٹیرس میں آیا جہاں اُس کی سوچ کے مطابق آروش موجود تھی۔
آروش۔یمان نے اُس کو آواز دی تھی تو آروش اُس کی جانب اپنا رخ کرتی نظریں چُرانے لگی تو یمان کے چہرے پہ گہری مسکراہٹ چھائی تھی وہ تیز قدموں سے اُس تک پہنچتا اپنے گلے لگاگیا تھا۔
تھینک یو سووووووووووو مچ۔میں بتا نہیں سکتا کے کتنا خوش ہوں میں۔یمان زور سے اُس کو خود میں بھینچتا شدت سے بولا تو آروش مسکرائی۔
مجھے تمہارہ یہی خوشی دیکھنی تھی۔آروش نے بتایا تو یمان نے اُس کا ماتھا چوما
آپ کو پتا ہے پہلے مجھے یقین نہیں آرہا تھا میں اپنی کیفیت کیسے بیان کروں ایون میں ابھی بھی کنفیوز ہوں۔یمان نے کہا
میں بھی بہت خوش ہوں۔آروش نے بتایا
آپ ہوسپٹل گئ تھی؟یمان کو اچانک خیال آیا تو پوچھا
نہیں گھر میں پریگنسی ٹیسٹ کی تو معلوم ہوا۔آروش نے آہستہ آواز میں بتایا
موم ڈید کو پتا ہے یہ بات ؟یمان نے مسکراکر پوچھا
سب سے پہلے تمہیں بتایا ہے۔آروش نے بتایا تو اُس کی مسکراہٹ گہری سے گہری ہوتی گئ۔
آئے بتاتے ہیں انہیں۔یمان اُس کے ہاتھ پہ اپنی گہری گرفت مضبوط کیے کہا تو آروش نے سراثبات میں ہلاکر اُس کے ہمقدم ہوئی وہ جانتی تھی اب آگے کا سفر خوبصورت ہے۔










کجھ عرصے بعد!
ہسپتال کے کوریڈرو میں موت جیسا سناٹا چھایا ہوا تھا یمان پریشانی سے یہاں سے وہاں ٹہلنے میں مصروف تھا جبکہ شازل سنجیدہ بینچ پہ خاموش بیٹھا ہوا تھا دُرید نہیں تھا یہاں کیونکہ آروش کی پریگنسی کے ایک ماہ بعد خیر سے حریم دوبارہ پریگننٹ ہوئی تھی جس پہ وہ تو بہت خوش تھی مگر دُرید پریشان ہوگیا تھا ایک تو حورم بھی چھوٹی تھی دوسرا حریم کی ایج بھی کم تھی ایسے میں وہ دو بچوں کو کیسے سنبھالتی مگر جلد ہی حریم نے اُس کے خیالات دور کردیئے تھے دوسرا درید اُس کا بہت سارا خیال رکھ رہا تھا۔اور آج آروش کی ڈیلیوری تھی جس پہ یمان کی جان پہ بن آئی تھی تبھی وہاں ڈاکٹر آئی تو سب الرٹ ہوئے۔
مُبارک ہو بیٹا ہوا ہے۔لیڈی ڈاکٹر نے مسکراکر بتایا تو سب خوش ہوئے تھے وہی یمان نے شکر کا سانس ادا کیا تھا ارمان کے ساتھ بیٹھا نو سالہ یامین کا منہ “بیٹا”لفظ پہ اُترگیا تھا۔
میں مل سکتا ہوں۔یمان نے بی چینی سے پوچھا
شیور۔ڈاکٹر کا اتنا کہنا تھا اور یمان ایک منٹ کی تاخیر کے بنا وارڈ میں چلاگیا جہاں آروش کو رکھا گیا تھا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
کیسا محسوس کررہی ہیں آپ؟یمان آروش کا ماتھا چوم کر فکرمندی سے اُس کا چہرہ دیکھ کر پوچھنے لگا جس کی نظریں اپنے چھوٹے سے بچے پہ تھی۔
میں ٹھیک ہوں یہ دیکھو ہمارا بچہ کتنا پیارا ہے تم پہ گیا ہے بلکل۔آروش پرجوش لہجے میں اُس کو بتانے لگی تو یمان کی نظر اب نومولود بچے پہ پڑی۔
ماشااللہ مجھے دے۔یمان نے مسکراکر کہا تو آروش نے اُس کی گود میں بچہ دیا تبھی وہاں زوبیہ بیگم دلاور خان فجر یامین اور شازل داخل ہوئے تھے۔
آرو کیسی ہو؟شازل آروش کے پاس کھڑا ہوتا پوچھنے لگا۔
میں ٹھیک ہوں۔آروش نے مسکراکر بتایا
یمان یامین کو بچہ دیکھاؤ یہ بہت پرجوش تھا۔فجر کی بات پہ جہاں سب مسکرائے تھے وہی یامین کی شکل ایسی بن گئ جیسے کڑوا بادام نگل لیا ہو۔
آپ کو بیٹی دینی تھی یہ بیٹا کیوں دیا؟یامین منہ کے ہزار زاویئے بناتا آروش سے مخاطب ہوا تو سب کا منہ حیرت سے کُھل گیا
یامین۔فجر نے اُس کو تنبیہہ کی۔
آپی چھوڑے یامین تم یہاں آؤ اور دیکھو بلکل تمہارے جیسا ہے یہ۔یمان نے اُس کو پچکارہ۔
مجھے لِٹل فیری چاہیے۔یامین بضد ہوا۔
ماں سامنے کھڑی ہے اُس سے فرمائش کرو ایک سے دو فیری تمہیں دے گی۔شازل کی زبان میں کُھجلی ہوئی مگر اُس کی ایسی بات پہ فجر سٹپٹائی تھی۔
لالہ۔آروش نے اُس کو گھورا تو شازل نے کندھے اُچکائے۔
مجھے ماموں کی فیری چاہیے۔یامین نے ایک بار پھر کہا۔
تم یہاں آؤ۔یمان نے اُس کو اپنے پاس آنے کا کہا تو وہ مرے مرے قدموں کے ساتھ اُس تک چل کر آیا۔
یہ تمہارا چھوٹا بھائی ہے پہلے اِس کو تو دیکھو پھر فیری بھی مل جائے گی تمہیں۔یمان نے اُس کو پچکارہ تو یامین خوش ہوگیا آروش مسکراکر یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی جب شازل نے اپنا سیل فون اُٹھا کر اپنے موبائیل میں سب کجھ محفوظ کرنے لگا۔
