Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 12)

Haal e Dil by Rimsha Hussain

آپ ٹھیک سے میڈیسن کیوں نہیں لیتے؟ڈاکٹر حمید نے سنجیدگی سے یمان کی جانب دیکھا جو اُن کے کیبن میں موجود تھا۔

بھول جاتا ہوں۔یمان بے تاثر لہجے میں بتانے لگا۔

خیر ایسی بات تو نہ کریں دلاور خان اور تمہارا اپنا ساتھی ارمان وہ تو ہیں نہ تمہیں یاد کروانے والے تم خود لاپروائی کا مظاہرہ کررہے ہو۔ڈاکٹر اُس کی بات پہ بولا

آئندہ کوشش کروں گا لاپرواہی نہ ہو۔یمان نے کہا

تمہیں ٹھیک سے میڈیسن لینی ہوگی یمان ورنہ آپ کی جان کو بھی خطرہ ہوسکتا ہے یہ بات میں کتنی دفع آپ کو بتاچُکا ہوں۔ڈاکٹر نے دو ٹوک لہجے میں کہا

جان کے جانے سے ڈر نہیں لگتا۔یمان نے بتایا

پھر کس چیز سے ڈر لگتا ہے؟ڈاکٹر نے جاننا چاہا

زندگی جینے سے۔یمان نے فورن سے جواب دیا جس کو سن کر وہ گہری سانس بھر کر رہ گئے۔

میں آپ کے پاسٹ سے واقف ہوں مسٹر یمان اور میں یہ بات بھی جانتا ہوں سمجھتا ہوں آپ کے ساتھ کم عمری میں بہت بُرا ہوا لیکن پاسٹ تھا گُزر گیا اُس کو بھول کر آپ زندگی کی نئ شروعات کریں آپ ایک مشہور ہستی ہیں جانے کتنے لوگ ہیں جو آپ سے محبت کرتے ہیں اگر اپنے لیے نہیں تو اُن کے لیے اپنا خیال رکھا کریں ایک واقع کو لیکر آپ زندگی جینا تو نہیں چھوڑ سکتے ہیں نہ یہ تو سراسر آپ اپنے ساتھ ناانصافی کررہے ہیں۔ڈاکٹر نے اُس کو سمجھانا چاہا

میرے ساتھ محبت کی باتیں مت کیا کریں ایسا لگتا ہے جیسے یہ لفظ کھڑا مجھے دیکھ کر ہنس رہا ہے میری حالت کا مذاق اُڑا رہا ہے۔یمان کجھ ناگوار لہجے میں گویا ہوا۔

یاد آتی ہے وہ؟انہوں نے پوچھا

یاد کرنے کے لیے بھولنا ضروری ہوتا ہے۔یمان نے گول مٹول سا جواب دیا۔

آپ کی بہنیں ہیں کبھی سوچا ہے اُن کو آپ کی ضرورت ہوسکتی ہیں اُن کے ساتھ رہو کیا پتا زندگی کا مطلب سمجھ آجائے۔ڈاکٹر نے ایک اور کوشش کی۔

اٹھارہ سال کا تھا جب زندگی کا مطلب اچھے سے سمجھ گیا تھا مزید جاننا نہیں چاہتا۔یمان کا لہجہ طنزیہ تھا۔

لگتا ہے آپ یہ سوچ کر آئے ہیں کے میری نہیں سننی تو اِس ٹاپک کو بند کرتے ہیں اور آپ یہ بتاؤ اگلا گانا کب ریلیز ہوگا آپ کا اُس سے پہلے رکارڈنگ کب شروع ہے دلاور نے بتایا تھا وہ اپنی فلم کے ہیرو میں آپ کو کاسٹ کرنا چاہتا ہے اُس کا کیا بنا؟ڈاکٹر حمید نے بات بدل کر پوچھا

ایک ہفتے بعد رکارڈنگ ہے میری پر فلم میں کام نہیں کروں گا میں۔یمان نے جواب دیا۔

بہت بڑی آفر ہے قبول کرلوں فائدہ ہوگا تمہیں۔ڈاکٹر حمید مسکراکر آپ سے تم تک کا سفر کیا

فلم کا ہیرو بن کر کسی لڑکی سے پیار کا اظہار نہیں کرسکتا اور نہ اُس کو دیکھ کر مسکراکر آہیں بھرسکتا ہوں۔یمان نے جواب پہ وہ لاجواب ہوئے۔

ایکٹنگ کرنے میں کونسی بڑی بات ہے کونسا تمہارا اظہار اصلی ہوگا۔ڈاکٹر کو اُس کا ریزن نامعقول لگا۔

اصلی والا اظہار کیا تھا گال پہ پڑتے تھپڑ کی گونج آج تک کانوں میں سُنائی دیتی ہے۔یمان کا لہجہ ٹوٹ سا گیا تھا۔

یمان تم اپنے پاسٹ سے باہر کیوں نہیں آتے۔وہ جیسے تھک سے گئے۔

پہلے آپ مجھے بتائے میرے جسم سے روح کیوں نہیں نکلتی۔یمان اُن کے پاس تھوڑا جھک کر پوچھنے لگا۔

شادی کرلوں۔ڈاکٹر حمید نے مشورہ دیا تو یمان کے چہرے پہ عجیب قسم کی مسکراہٹ آئی ڈاکٹر حمید نے بہت غور سے اُس کے دونوں گالوں پہ پڑتے ڈمپلز کو دیکھا تھا۔

پانچ سال تک زندہ رہا تو شادی کرلوں گا۔یمان کا لہجہ عجیب سا ہوگیا۔

مطلب؟ڈاکٹر حمید نے اُس کو گھور کر دیکھا

پانچ سال ہونے دو مطلب بھی پتا چل جائے گا۔یہ کہہ کر یمان اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا۔

اپنی زندگی کے ساتھ کجھ غلط کرنے سے پہلے ایک بات یاد کرنا اگر تمہیں تمہاری محبت نہیں ملی تو اس کا یہ مطلب نہیں کے تم باقیوں کو اپنی محبت سے محروم رکھو۔ڈاکٹر حمید کی بات پہ اُس کے قدم ایک پل کو تھمے تھے پھر وہ اپنا سرجھٹکتا کیبن سے باہر نکل گیا۔

یمان کے جانے کے بعد انہوں نے دلاور خان کو فون کیا۔

یمان آیا تھا؟دلاور خان نے کال ریسیو کرکے پہلا سوال یہی کیا

ہاں پندرہ تاریخ کو آنے والا چھبیس تاریخ کو آیا تھا۔ ڈاکٹر حمید طنزیہ لہجے میں بتانے لگے

کیا بات ہوئی؟دلاور خان نے پوچھا

وہی جو ہمیشہ سے ہوتی آرہی ہیں۔ڈاکٹر حمید نے گہری سانس خارج کی۔

کوئی ایمپرومنٹ کیوں نہیں آرہا؟دلاور خان پریشانی سے بولے۔

ہوا ہے ایمپرومینٹ اور یہ ہوا کے پہلے یمان مرنے کی بات نہیں کرتا تھا آج کرکے گیا ہے مجھے لگ رہا ہے اب کجھ وقت کے بعد تم مجھے کال کروگے اور کہو گے حمید یمان مستقیم مرگیا

حمید کیا بکواس کررہے ہو یہ۔دلاور خان لرز اُٹھے۔

ٹھیک کہہ رہا ہوں اُس کے اندر جینے کی کوئی تمنا نہیں۔ڈاکٹر حمید سرجھٹک کر بولے

کوئی تو حل ہوگا آخر تم نے کہا تھا اگر اگر اُس کی سنگر بننے کی خواہش پوری ہوجائے گی تو وہ اپنی زندگی میں مصروف رہنے لگے لگا مختلف لوگوں سے ملے گا تو اُس کو اپنا پاسٹ یاد نہیں آئے گا۔دلاور خان فکرمند سے ہوئے۔

مجھے یاد ہے میں نے کہا تھا پر ساتھ میں یہ بھی کہا تھا اُس کے سر پہ لگی چوٹ بہت گہری ہے آپریشن کے بعد بھی اگر اُس کو تکلیف ہوتی ہے تو وہ میڈیسن ٹائم سے لے پر نتیجہ کیا یمان جان بوجھ کر اپنی جان کا دشمن بنا ہوا ہے۔ڈاکٹر حمید ایک سانس میں بولے۔

میں بات کروں گا آج اُس سے۔دلاور خان کجھ سوچ کر بولے۔

کرلینا بات پہلے یہ بتاؤ کیا اُس لڑکی کا کجھ پتا ہے کہاں ہوتی ہے کیا پتا اب اُس کا ملنا یمان کی زندگی بدل ڈالے۔ڈاکٹر حمید نے کہا

وہ کہاں ہوتی ہے یہ بات شاید یمان خود بھی نہیں جانتا اُس نے کبھی مجھے نام تک نہیں بتایا اُس لڑکی کا بس اتنا بتایا کے ذات اور اسٹیٹس کا فرق کا ایشو اتنا کیا گیا جیسے مذہب الگ الگ ہو۔دلاور خان افسردگی سے بولے

ایسی بات ہے تو اُس کو لڑکی کا آپشن چھوڑدو وہ یمان کی قسمت میں نہیں تم کوئی اچھی سی لڑکی اُس کے لیے تلاش کرو شادی اور بچے ہوجائے گے تو ٹین ایجر والی محبت بہت دور چلی جائے گی۔ڈاکٹر حمید نے مشورہ دیا۔

ہوپ سو کے ایسا ہو۔دلاور خان اُداس مسکراہٹ سے بولے۔

💕
💕
💕
💕

یمان اپنے گھر آیا تو ارمان جلدی سے اُس کے سامنے کھڑا ہوگیا۔

کیا؟یمان کو اُس کا یوں سامنے کھڑا ہونا سمجھ نہیں آیا۔

وہ آئی ہے آپ سے ملنے؟ارمان ڈر ڈر کر بولا

وہ کون۔یمان ایک آئبرو اُپر کیے بولا

مس روزی۔ارمان نے بتایا تو یمان کے چہرے پہ اکتاہٹ بھرے تاثرات نمایاں ہوئے۔

کہاں ہے؟یمان نے ہاتھ میں پہنی گھڑی میں وقت دیکھ کر پوچھا

ڈرائینگ روم میں آپ کا انتظار کررہی ہے۔ارمان اُس کو نارمل دیکھتا پرسکون ہوکر بتانے لگا۔

میں دیکھتا ہوں۔یمان اتنا کہتا ڈرائینگ روم میں جانب آیا جہاں ریڈ کلر کا ٹاپ پہنے ایک لڑکی بڑے شانِ سے بیٹھی تھی یمان ایک نظر اُس کو دیکھتا نظروں کے زاویئے بدلے۔

یمان تم آگئے شکر ہے خدا کا تمہیں میں کب سے کال کیے جارہی تھی پر تم میرا فون ریسیو ہی نہیں کررہے تھے۔روزی نے یمان کو آتا دیکھا تو اپنی جگہ سے اُٹھ کر اُس کے پاس آکر شکوہ کناں لہجے میں بولی۔

پاکستان کب آئی؟یمان اُس کے سوال نظرانداز کرتا سنجیدگی سے پوچھ کر صوفے پہ بیٹھ گیا

تمہیں یقین نہیں آئے گا میں ایئرپورٹ سے ڈاریکٹ یہاں آئی ہوں تم سے ملنے۔روزی پرجوش آواز میں بول کر اُس کے ساتھ صوفے پہ بیٹھی۔

مجھے آگیا یقین۔یمان کہتا اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا کیونکہ روزی بلکل اُس کے پاس چپک کر بیٹھنے کی کوشش میں تھی۔

اچھا پر تم کھڑے کیوں ہوئے۔روزی نے حیرت سے اُس کو دیکھا

میں تھک گیا ہوں آرام کرنا چاہتا تھا پر تم آئی تو میں یہاں آگیا۔یمان نے بتایا

اوو سو سیڈ پر میں تمہیں یا منانے آئی ہوں۔روزی نے مسکراکر کہا

میں تم سے ناراض تو نہیں۔یمان ناسمجھی سے بولا

ارے بابا یہاں بیٹھو تو۔روزی اُس کا بازوں پکڑ کر اپنے ساتھ بیٹھایا

انکل دلاور نے بتایا تم فلم کرنے سے انکار کررہے ہو پلیز انکار نہیں کرو اُن کی فلم میں ہیروئن کا رول میں پلے کرنی والی ہوں۔روزی اچانک منت بھرے لہجے میں بولی

تو سارے ایکٹر مرگئے ہیں کیا جو سب میرے پیچھے پڑگئے ہو اگر میں نے ایک بار انکار کردیا ہے تو انکار ہے میرا بار بار مجھے تنگ کرنے کی ضروری نہیں کسی کو۔یمان تیز آواز میں بولا

یمان

اسٹاپ روزی میں پہلے ہی بہت پریشان ہو مزید پریشان مت کرو۔یمان اُس کی بات کاٹ کر بولا تو روزی اپنا سا منہ لیکر رہ گئ۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

آج حویلی کے بڑے ہال میں شازل کے خلاف عدالت لگی ہوئی تھی۔شھباز شاہ ارباز شاہ اور شھنواز شاہ کے ساتھ اُن کی بیگمات سب اپنا چہرہ چھپائے ایک سائیڈ پہ کھڑی تھی۔دُرید پرسکون شازل کے ساتھ بیٹھا تھا دوسری طرح بیٹھا دیدار شاہ آگ برساتی نظروں شازل کا چہرہ دیکھ رہا تھا جب کی آروش نازلین اور نور وہ تینوں سیڑھیوں کی ریلنگ کے پاس کھڑی تھی۔

کہاں ہے وہ بدذات۔ارباز شاہ کے جملے پہ شازل نے زور سے اپنے ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینچا

بولنے سے پہلے یہ بات یاد رکھے وہ میری بیوی ہے میں اُس کے خلاف یا اُس پہ گالی برداشت نہیں کروں گا۔شازل چُھبتے لہجے میں بولا

بھائی صاحب دیکھ رہے ہیں آپ اپنے بیٹے کے لچھن اُس پرائی لڑکی کے لیے ہماری نافرمانی کررہا ہے۔شھنواز شاہ خاموش بیٹھے شھباز شاہ سے بولے۔

تایا جان آپ کو نہیں لگتا یہ بات کہنے میں آپ نے کجھ جلدی کی ہے کیونکہ ابھی تو میں نے آپ کو جواب ہی نہیں دیا۔شازل عام لہجے میں شھنواز شاہ سے بولا

شازل حد میں رہو۔دیدار نے غصے سے کہا

میں اپنی حد میں ہوں مگر کوئی میری بیوی کے بارے میں غلط بات کرے گا میں ایک منٹ نہیں لگاؤں گا حد سے نکلنے میں۔شازل طنزیہ لہجے میں بولا

شازل وہ ونی میں آئی ہوئی لڑکی ہے مطلب جانتے ہو ونی کا؟فردوس بیگم نے کاٹ دار نظروں سے اُس کو دیکھا

میں نہیں جانتا ونی کا مطلب اور نا جاننے میں دلچسپی ہے میں بس اتنا جانتا ہوں وہ میرے نکاح میں ہے اور شازل شاہ کو اپنی بیوی کی حفاظت کرنا آتی ہے۔شازل نے کہا

بیوی نہیں وہ ایک خون بہا میں آئی ہوئی لڑکی ہے قاتل کی بہن تمہاری بیوی نہیں وہ میرے بھائی کا قتل ہوا کے تمہیں اندازہ ہے اِس وقت تم کس کی طرفداری کررہے ہو۔دیدار شاہ دھاڑے

اگر ایسی بات ہے تو جائے اور قاتل کا گریبان پکڑے مگر خبردار جو کسی نے ماہی کی طرف انگلی بھی اُٹھائی تو آپ سب کو جو کرنا تھا وہ کرچُکے ہیں میری غیرموجودگی پر اب میں ایسا بلکل ہونے نہیں دوں گا اُس کو کس چیز کی سزا ملے کیا اُس نے قتل کیا ہے یا وہ اُس جگہ پہ تھی جہاں قتل ہوا تھا۔شازل دیدار سے زیادہ اونچی آواز میں دھاڑا

شازل۔دُرید نے اُس کو تنبیہہ کرتی نظروں سے دیکھا۔

آپ خاموش کیوں ہیں؟ارباز شاہ کو شھباز شاہ کا اتنا خاموش ہونا سمجھ نہیں آرہا تھا۔

اگر شازل اُس کو اپنی بیوی تسلیم کررہا ہے تو ہم کجھ نہیں کرسکتے۔شھباز شاہ کی بات پہ وہاں موجود سب لوگ حیرت کی انتہا کو پہنچے شازل بھی اپنی جگہ حیران ہوا تھا پر اُس نے ظاہر ہونے نہیں دیا

وہ ہماری ذات کی یا ہمارے خاندان کی نہیں بابا سائیں۔دُرید شاہ کے لہجے میں کانچ جیسی چُھبن تھی اُپر کھڑی آروش کے چہرے پہ سرد تاثرات نمایاں ہوئے تھے۔

لالہ۔شازل نے اُس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر کجھ بھی بولنے سے باز رکھا

دُرید اُس کا ہاتھ جھٹکتا اُٹھ کر حویلی سے باہر چلاگیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

ماضی!

میں بھی چلوں۔شہر جانے کی تیار کرتی آروش کے پاس کھڑی حریم نے کہا

کہاں میں چلوں؟آروش نے گھور کر پوچھا

آپ کے ساتھ تھر(شہر)حریم نے کہا

پہلے شہر بولنا سیکھ لو گیارہ کی ہونے والی ہوں پر مجال ہے جو تمہارے منہ سے صاف الفاظ نکلے۔آروش ہنس کر بولی

میں مس کروں گی۔حریم منہ بسور کر بولی

جھوٹی تم بس اپنے دُر لا کو یاد کرتی رہتی ہو۔آروش عبایا پہننے کے بعد نقاب کرتی بولی

آپ کو بھی کرتی۔حریم نے جلدی سے کہا

او تیری۔اچانک کجھ یاد آنے پہ آروش نے اپنے سر پہ ہاتھ مارا

تیا ہوا؟حریم اپنی چھوٹی پیشانی پہ بل لائے بولی

تیا نہیں کیا ہوتا ہے جب سیکھ جاؤں گی بولنا تو بتادوں گی ابھی میں آئی۔آروش جلدی سے کہہ کر کمرے سے باہر چلی گئ پیچھے اُس کی بات پہ حریم کا منہ بن گیا۔

آروش سیدھا دُرید شاہ کے کمرے میں آئی تھی پورا کمرا خالی تھا کیونکہ پڑھائی کے سلسلے میں دُرید شاہ مُلک سے باہر تھا۔

لالا کا پُرانہ سیل فون کہاں ہوگا۔کمرے میں آتی آروش پورے کمرے میں نظر گُھماتی وارڈروب کی طرف آئی چابیاں پہلے سے وہاں موجود تھی اُس نے جیسے وارڈروب کُھولا وہاں سیل فون تو نہیں پر کجھ تصاویرات دیکھ کر اُس کے چہرے پہ مایوسی چھاگئ مختلف طریقے سے کی گئ تصویریں ایک ہی لڑکی کی تھی جس کے چہرے پہ خوبصورت مسکراہٹ کا بسیرا تھا۔

کومل۔آروش اُس تصویر پہ ہاتھ پھیرتی بولی اُس کے دماغ میں آج سے کجھ سال پہلے کا واقعہ تازہ ہوا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بابا سائیں

چودہ پندرہ سالہ آروش شھبازہ شاہ کے ساتھ حویلی سے باہر جارہی تھی جب اُس اکیس سالہ دُرید کی بانہوں میں کسی مُردہ لڑکی کا وجود دیکھ کر سہم کر شھبازشاہ کے پیچھے ہوئی

یہ کیا حماقت ہے دُرید شاہ۔شھباز شاہ برہم ہوئے

کیوں

کیوں

بابا سائیں کیوں آپ اِس معصوم کی جان لی اِس کا کیا قصور تھا وہ میری محبت تھی۔دُرید شاہ اپنی لالہ انگارہ آنکھوں سے اپنے باپ کو دیکھ کر بولا

میں نے کہا تھا تمہاری شادی غیرخاندان کی لڑکی سے یا ذات سے نہیں ہوگی پھر تمہیں کیا ضرورت تھی بغاوت کرنے کی۔شھباز شاہ آروش کا وجود فراموش کیے اُس پہ گرجے۔

آروش سہمی نظروں سے دُرید کو دیکھ رہی تھی اُس کو سمجھ نہیں آرہا تھا ابھی تک درید نے اُس کو اپنی بانہوں میں اُٹھا کر کیوں رکھا تھا۔

بغاوت نہیں تھی بابا سائیں آپ سے درخواست تھی آپ کو اعتراض تھا تو بتادے یوں قتل کروانے کی کیا ضرورت تھی۔دُرید چیخا

تذفین کا بندوبست کرو اور بھول جاؤ۔شھباز شاہ کٹھور پن کی حدیں توڑ کر بولے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آروش

اپنے نام کی پُکار پہ آروش حقیقت کی دُنیا میں واپس آئی تصوریریں اپنی جگہ پہ رکھ کر وہ بنا سیل فون اُٹھائے کمرے سے نکل گئ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *