Haal e Dil by Rimsha Hussain NovelR50524 Haal e Dil (Episode 29)
Rate this Novel
Haal e Dil (Episode 29)
Haal e Dil by Rimsha Hussain
سر چلے؟ارمان نے دیر تک یمان کو آتا نہیں دیکھا تو گاڑی سے اُترتا باہر آیا۔
ٹھیک ہے آپی چلتا ہوں۔یمان نے آخری نظر فجر پہ ڈال کر کہا
پھر کب آؤ گے؟فجر نے اُس کو جاتا دیکھا تو پوچھا
پتا نہیں۔یمان اتنا کہتا باہر کی جانب اپنے قدم بڑھائے۔
ایک نظر مجھ پہ بھی ڈال لیا کریں کبھی۔ارمان نے فجر کو یمان کی پشت پہ نظر جمائے دیکھا تو شرارت سے بولا
کیا مطلب تمہارا؟فجر ماتھے پہ بل ڈالے ارمان کو دیکھ کر بولی
میرا مطلب ہم جارہے ہیں آپ کو مجھ سے کوئی کام تو نہیں؟ارمان نے بڑی صفائی سے پنترا بدلا
مجھے تم سے کوئی کام نہیں۔فجر نے کہا
سوچ لے کیا پتا کام نکل آئے۔ارمان نے چھیڑنے والا انداز اپنایا۔
نہیں ہے کہا جو۔فجر نے اب کی گھور کر کہا تو ارمان گڑبڑا سا گیا۔
یہ آپ کا بچہ ہے؟ارمان نے اُس کی گود میں یامین کو دیکھ کر بے تُکہ سوال کیا۔
نہیں تو تمہارا ہے۔فجر زچ ہوتی جانے کیا بول گئ اُس کو خود پتا نہیں چلا۔
لاحول ولاقوة میری تو ابھی شادی ہی نہیں ہوئی بچہ کہاں سے ہوگا یہ یقینً آپ کا ہی بچہ ہے۔ارمان کانوں کا ہاتھ لگاتا اُس کی بات کو اپنا رخ دے گیا تو فجر اُس کو ایک گھوری سے نوازتی اندر کی طرف بڑھی۔ارمان بھی ایک مسکراتی نظر اُس کی پشت پہ ڈالتا اپنے قدم واپسی کی جانب بڑھاگیا۔
فجر اندر آئی تو لینڈ لائن پہ کسی کی کال آرہی تھی اُس نے کمرے میں جاکر آرام سے یامین کو بیڈ پہ لیٹا کر اُس کے دونوں سائیڈز میں تکیے رکھے تاکہ وہ گِر ناپائے پھر باہر آئی جہاں مسلسل جانے کون کال پہ کال کیے جارہا تھا۔
ہیلو کون؟فجر نے کال اُٹھاکر سب سے پہلے یہی پوچھا
عیشا بول رہی ہوں۔دوسری طرف سے سنجیدگی سے جواب دیا گیا۔
عیشا کیسی ہو آج یمان لاہور کے لیے نکل گیا تم اُس سے ملنے کیوں نہیں آئی؟فجر نے ایک ہی سانس میں اُس سے سب پوچھ لیا۔
یمان کو ہمارے گھر کے حالات کا کیسے پتا چلا؟عیشا نے اُس کی بات نظرانداز کرکے اپنی بات کہی۔
میں سمجھی نہیں؟فجر ناسمجھی سے بولی
کل یمان آیا تھا میری ساس کو بہت بھاری رقم پکڑائی ہے اور مجھ سے پوچھنا گوارا تک نہیں کیا۔عیشا نے بتایا
یمان نے تمہاری ساس کو پئسے کیوں دیئے تمہیں کیوں نہیں دیئے۔فجر ابھی بھی اُس کی بات مطلب سمجھ نہیں پارہی تھی مگر اُس کی بات سن کر عیشا نے اپنے موبائل کو کان سے ہٹاکر اسکرین کو گھورا جیسے سامنے فجر ہو۔
تم عقل سے اتنی پیدل کب سے ہونے لگی ہو یمان مجھے پئسے کیوں دیتا میری ساس کیوں دیئے ہر وقت پئسو کی پیاس انہیں ہوتی ہے اور تمہیں پتا ہے یمان اُن کو دھمکاکر گیا ہے کے آج کے بعد وہ کبھی مجھ سے سخت انداز میں بات نہ کرے نا ہی مجھے کسی بات کا طعنہ دیا کریں اگر اُن کو کجھ چاہیے ہو تو وہ اُسے کال کرے پورا غنڈا بن کر آیا ہے یمان اور ایک اہم بات یمان کے پاس اتنے پئسے کہاں سے آئے کیا وہ کوئی غیرقانونی کام تو نہیں کرنے لگا۔عیشا اچانک بات کرتے کرتے یکدم چونک کر بولی
تمہاری عقل شادی کے بعد لگتا ہے گھاس کھانے گئ ہے ایسا کجھ نہیں جب یمان یہاں تھا تو اسلام آباد گیا تھا دو تین دن کے لیے اُس کو ایک سونگ کی آفر ہوئی تھی شاید وہ پئسے اُس نے تمہاری ساس کو دیئے ہو مجھ سے تو ایسا کوئی ذکر نہیں کیا تھا۔فجر نے اپنی معلومات کے مطابق بتایا۔
میری ساس نے مجھ سے پئسے مانگے تھے یہ بات میں نے تمہیں بتائی تھی یمان کو کیسے پتا چلی؟عیشا نے پوچھا
مجھے نہیں پتا کجھ یمان اتنا چپ رہتا تھا مجھے میں ہمت نہیں ہوتی تھی اُس سے کوئی بھی بات کرنے کی اور میں پئسوں کی بات کیسے کرسکتی تھی وہ ہمارا چھوٹا بھائی ہے ہمارا باپ نہیں۔فجر نے جلدی سے اپنی صفائی دی۔
اب یہ تم اُس کو چھوٹا کہنا چھوڑدو اپنی عمر سے دوگنا لگتا ہے جانے کیا کھاتا ہے۔عیشا نے بے زاری سے کہا۔
ماشااللہ کہنے سے زبان میں درد ہوتا ہے کیا؟فجر نے طنزیہ کیا
ماشااللہ سے ہمارا بھائی بڑا ہوگیا ہے اب میری بات سنو یمان سے تمہاری اگر بات ہو تو اُس سے کہنا وہ میرے سسرال کے لیے اتنا کجھ نہ کرے خوامخواہ پھر وہ اُس کے پیچھے پڑ جائے گے گھر کے حالات تمہارے سامنے ہیں یمان کب تک اُن کے لیے کرے گا کل کو اُس نے بھی شادی کرنی ہے اور صبح ایک لڑکا آیا تھا جانے کیا نام ہے اُس کا جو یمان کے ساتھ ہوتا ہے؟عیشا پرسوچ انداز میں کہتی سوچنے لگی۔
ارمان؟فجر نے تُکہ لگایا
ہاں وہی ارمان صبح کو آیا تھا ارشد کو ایک لیٹر دے کر گیا تھا کہا کے کل سے اِس آفس میں جایا کرے اُس کی جاب پکی ہے۔عیشا نے منہ بگاڑ کر بتایا
شکر ہے تمہارے شوہر کی جاب لگ گئ مگر یہ تم اتنے ناشکرے پن کا مظاہرہ کیوں کررہی ہو یمان نے تمہارے لیے اتنا کیا بجائے تم خوش ہونے کے اُس سے اتنا ناراض ہورہی ہو اگر یمان چاہتا تو ہمیں ہمارے حال پہ چھوڑ سکتا ہے اپنی زندگی میں مگن ہوسکتا تھا مگر اُس نے ایسا کجھ نہیں اُس کو ہم سے پیار ہے ہماری فکر ہے تبھی تو ہمارے لیے سوچ رہا ہے۔فجر نے اُس کو شرمندہ کرنا چاہا۔
واقع یمان نے میرے لیے بہت کیا جیسے بڑے بھائی اپنی بہنوں کے لیے کرتے ہیں میں ناشکری نہیں ہورہی نا اِس بات سے انکاری ہوں مگر فجر وہ جو کررہا ہے یہ سب صحیح نہیں میرے گھر والے اُس کی زمیداری نہیں بابا نے لوگوں کے ڈر سے میری شادی میں بہت جلدبازی کی میں اپنی قسمت سمجھ کر خاموش رہی پر یہ یمان کی مہربانیاں اُس کے لیے مشکل بن سکتی ہیں۔عیشا نے کہا
کیا تمہارے ساتھ اُن کا رویہ ٹھیک نہیں ہے؟فجر فکرمند ہوئی۔
ایسی بات نہیں سب اچھے ہیں۔عیشا نے کہا تو وہ پرسکون ہوئی۔
تم یمان کی فکر نہیں کرو وہ سب دیکھ لے گا دوسری بات یمان کوئی غنڈہ نہیں بس تمہارا مستقبل سیکیور کررہا ہے اب ہم چاروں کا ایک دوسرے کے علاوہ ہے کون۔فجر نے افسردگی سے کہا
چوتھا کون؟عیشا کو سمجھ نہیں آیا۔
یامین۔فجر نے تیز آواز میں بتایا
او ہاں میں یہ تمہارا گولوں مولوں بیٹا تو بھول ہی گئ تھی۔عیشا ہنس کر بولی۔
میرا بیٹا کوئی گولوں مولوں نہیں اور نہ بھولنے والی کوئی چیز۔فجر نے فورن سے کہا
ہے تمہارا بیٹا گولوں مولوں اور جو تم اُس کے گالوں پہ پڑتے ڈمپلز دیکھ کر اِتراتی ہوں نہ بتادوں بڑا ہوکر موٹا ہوگا بہت پھر اُس کے یہ ڈمپلز نظر نہیں آئے گے۔عیشا نے اُس کو چِڑایا۔
تم جلتی رہنا میرے بیٹے کی خوبصورتی سے بس۔فجر بُرا ماننے والے انداز میں کہہ کر کال کٹ کرگئ۔









حال!
آپ یہاں میں سب سیٹ کردوں گی۔ماہی نے شازل کو کچن میں سامان لاتا دیکھا تو کہا
میں تمہاری ہیلپ کردو اُس کے بعد مجھے کسی ضروری کام سے جانا ہے۔شازل نے کہا
اچھا تو آپ بتادے رات میں کیا کھانا بناؤں؟ماہی نے پوچھا
کجھ بھی نہیں کھانا میں باہر سے کھاکر آؤں گا میرے جانے کے بعد تم باہر کا دروازہ لاک کرکے سونا میرے پاس ڈوپلیکیٹ کی ہے۔شازل شاپرز سے سامان نکالتا مصروف انداز میں بتانے لگا۔
آپ وقت بتادے میں انتظار کرلوں گی۔ماہی نے کہا
دو بج جائے گے مجھے اپنے کلائنٹ سے ملنا ہے پھر ایک فرینڈ سے کیس ڈسکس کرنا ہے بہت مصروف آدمی ہوں میں۔شازل نے اپنی اہمیت بڑھانی چاہی۔
کلائنٹ سے ملنا ہے کیس ڈسکس کرنا ہے آپ کیا کرتے ہیں مطلب کیا یہاں کی کوئی جاب ہے؟ماہی پاس پڑے اسٹول پہ بیٹھ کر شازل سے پوچھنے لگی وہ چاہتی تھی شازل کے بارے میں اُس کو سب معلوم ہو مگر ایک شازل تھا جو اُس کے لیے بہت موڈی انسان ثابت ہوگیا تھا جب دل کرتا تو اپنا آپ اُس پہ کھولتا موڈ نہ ہوتا تو نہ کرتا۔
تمہاری مجازی خدا نے لاء پڑھا ہے۔شازل نے گویا اُس پہ دھماکا کیا۔
لاء پڑھا ہے تو کیا آپ وکیل ہیں؟ماہی نے حیرت میں آکر ہمیشہ کی طرح اپنے بے وقوف ہونے کا ثبوت دیا۔
نہیں میں چپراسی ہوں۔شازل تو اُس کے سوال پہ جل ہی اُٹھا مگر اُس کا جواب سن کر ماہی خجل سی ہوئی تھی۔
آپ اپنے بارے میں سب کجھ بتادے ایک ہی بار میں ہر روز نئ خبر معلوم ہوتی ہے اچھا ہے ایک دفع میں معلومات ہوجائے آپ کے بارے میں پوری طرح سے ہمیں اتنے ماہ ہوگئے ہیں ساتھ رہتے ہوئے مگر مجھے آج پتا چلا ہے کے میرا شوہر وکیل ہے۔ماہی نے منہ بسور کر کہا۔
پھر کبھی بتاؤں گا ابھی مجھے نکلنا ہے۔شازل ہاتھ میں پہنی گھڑی پہ وقت دیکھ کر بولا۔







دُرید ڈیرے میں بیٹھا مسلسل اپنے ہاتھ کو دیکھ رہا تھا جس سے اُس نے حریم پہ ہاتھ اُٹھایا وہ حریم کو تھپڑ مارنا نہیں چاہتا تھا وہ تو اُس پہ ہاتھ اُٹھانے کا سوچ بھی نہیں سکتا نہ حریم پہ ایک خراش بھی برداشت کرسکتا تھا مگر اُس نے جو بات کہی تھی اُس پہ بے ساختہ اُس کا ہاتھ اُٹھ گیا جس پہ اب اُس کو پچھتاوا ہورہا تھا خود پہ غصہ بھی وہ حریم کو پیار سے سمجھا بھی تو سکتا تھا ہاتھ اُٹھانے کا کیا جواز بنتا تھا۔
رو رہی ہوگی وہ۔دُرید کو اچانک حریم کی فکر ہوئی۔
مجھے ایک بار اُس سے بات کرنی چاہیے کیا پتا وہ سمجھ جائے ہمارے درمیان موجود فرق اُس کو نظر آجائے۔ایک خیال کے تحت دُرید اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا۔








آپ میرے ساتھ ایسے نہیں کرسکتے میں آپ کے علاوہ کسی سے شادی نہیں کروں گی۔حریم چھت پہ کھڑی ہوکر دور خلاؤ میں دیکھتی نم لہجے میں تصور میں دُرید شاہ سے بولی اُس کی آنکھوں سے گرم سیال بہتے جارہے تھے جس سے وہ سرے سے بے نیاز تھی۔
حریم۔آروش کی آواز پہ حریم نے کوئی رسپانس نہیں دیا۔
مجھ سے بھی ناراض ہو؟آروش اُس کے سامنے کھڑی ہوتی بولی
ضرور آپ ہم سے یہ کہنے آئی ہوگی کے ہم اپنا بچپنا چھوڑدے۔حریم کا لہجہ ناراضگی سے بھرپور تھا۔
دُر لا کبھی تم سے شادی نہیں کرینگے حریم وہ تم سے پیار کرتے ہیں بہت پیار کرتے ہیں مگر اُس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کے وہ تم سے شادی کرنے کا سوچے گے۔آروش نے نرمی سے اُس کو سمجھایا۔
آج انہوں نے پہلی بار ہم پہ ہاتھ اُٹھایا ہمیں غصے بھری نظروں سے دیکھا ہم سے سخت انداز میں بات کی۔حریم نے ٹوٹے لہجے میں بتایا
تمہاری بات پہ اُن کا عمل فطری تھا۔آروش نے کہا تو حریم نے ناراض نظروں سے اُس کو دیکھا
ہم نے محبت کی ہے کوئی گُناہ تو نہیں کیا۔حریم نے دُکھ بھرے لہجے میں کہا
کبھی کبھار ہم سے کی ہوئی محبتیں ہمارا گُناہ بن جاتی ہیں۔آروش کسی ٹرانس کی کیفیت میں بولی۔
ہم نے سوچ لیا ہے ہمیں اب کیا کرنا چاہیے۔حریم کو آروش کی بات سمجھ تو نہیں آئی تھی تبھی کجھ یاد آنے پہ اُس نے کہا
کیا کرنے والی ہو تم؟آروش نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا
اپنی محبت کو پانے کی ایک کوشش۔حریم کے چہرے پہ پہلی بار مسکرائٹ آئی تھی۔







تم ایک بار پھر آگئے۔فجر دروازہ نوک ہونے پہ باہر آئی تو ارمان کو دیکھ کر سختی سے بولی
میں بھی آیا ہوں۔ارمان کے کجھ کہنے سے پہلے یمان نے سامنے آتے کہا تو فجر کی آنکھوں میں خوشی سے آنسو آگئے۔
یمان۔فجر فورن سے اُس کے سینے سے لگی ارمان کو اپنا آپ اضافہ لگا تو وہ وہان سے چلاگیا۔
کیسی ہیں آپ؟یمان نے مسکراکر پوچھا
ٹھیک پر تمہیں پتا ہے کتنے وقت بعد آئے ہو۔فجر نے اپنی آنکھیں صاف کیے اُس سے شکوہ کیا
آ تو گیا نہ اور آپ نے ارمان سے میرا نمبر لیا پھر کال کیوں نہیں کی؟یمان اندر داخل ہوتا بولا
کرنے والی تھی پر تم آگئے بتاکر آتے تو میں تمہارے تمہاری پسند کا کجھ بناتی۔فجر نے کہا
کجھ بھی کھالوں گا میں آپ یہ بتائے یامین کہاں ہے؟یمان نے آس پاس یامین کو نہیں دیکھا تو پوچھ لیا۔
عیشا کے پاس ہے اسکول کی چھٹیاں ہیں نہ تو میں نے اُس کو وہاں بھیجا ہے عیشا کے بچوں سے کھیلے گا تو اُس کا دل بہل جائے گا یہاں ہوتا تو بس مجھے تنگ کرتا۔فجر نے بتایا
میرے پاس بھیج دیتی ارمان آتا تو ہے یہاں۔یمان نے کہا
تم جب گئے تھے رابطہ ہی نہیں کیا اِس لیے میں نے ماموں کے پاس نہیں خالہ کے پاس بھیج دیا۔فجر نے کہا
میں ویسے یہاں آپ اور عیشا آپی کو لینے آیا تھا۔یمان نے کہا
کہاں کیوں؟فجر نے پوچھا۔
اسلام آباد دو دن بعد میری منگنی ہیں آپ دونوں کا ہونا تو لازمی ہے۔یمان نے بے تاثر لہجے میں بتایا تو فجر کے چہرے پہ خوشگوار تاثر نے احاطہ کیا۔
سچ میں یمان مطلب اتنے سالوں بعد تمہیں عقل آگئ۔فجر خوش ہوکر بولی۔
موم نے کہا۔یمان نے جیسے بتایا کے اُس کی کوئی مرضی نہیں۔
عیشا بہت خوش ہوگی یہ بات سن کر اور دو دن بعد تمہاری سالگرہ بھی تو ہے۔فجر پرجوش سی ہوگئ تھی۔







یہ اِس وقت دروازے پہ کون ہے۔شھباز شاہ جو سونے والے تھے دروازے نوک ہونے پہ بولے
آروش ہوگی بے وقت آپ کے پاس وہ ہی آتی ہے۔کلثوم بیگم نے اندازہ لگایا۔
میں دیکھتا ہوں۔شھباز شاہ آروش کا نام سن کر جلدی سے دروازے کے پاس جانے لگے۔
حریم تم اِس وقت یہاں؟شھباز شاہ نے حریم کو رات کے وقت اپنے کمرے کے دروازے کے پاس کھڑا پایا تو کجھ حیران ہوئے۔
ہمیں آپ سے بات کرنی ہے ماما سائیں۔حریم نے سپاٹ انداز میں کہا
اندر آؤ۔شھباز شاہ بغور اُس کے تاثرات جانچ کر اندر آنے کا کہنے لگے تو حریم اُن کی بات پہ عمل کرتی کمرے میں داخل ہوئی۔
حریم خیریت تم اِس وقت یہاں۔کلثوم بیگم نے بھی حریم کو دیکھا تو خاصا حیران ہوئی۔
ہممم بیٹھو اب تم اور بتاؤ کیا بات ہے؟شھباز شاہ کلثوم بیگم کو خاموش ہونے کا اِشارہ کرتے حریم سے بولے جو نیچے بچھے قالین کو دیکھے جارہی تھی۔
آپ کو یاد ہے ماما سائیں کجھ عرصہ پہلے آپ نے ہم سے کہا تھا ہم نے آپ پہ بہت بڑا احسان کیا ہے جس کے مشکور آپ ساری عمر رہے گے کیونکہ ہم جو کیا تھا وہ آپ کو احسان لگ رہا تھا جس کو آپ کبھی اُتارنا چاہے بھی تو نہیں اُتار سکتے پھر آپ نے ہم سے واعدہ کیا تھا زندگی میں اگر ہمیں کجھ چاہیے تو آپ ہمیں وہ دلادینگے۔حریم اپنے آنسو پیتی ضبط کرتی شھباز شاہ کو اُن کے کہے جُملے یاد کروانے لگی۔
ہاں یاد ہے تم بتاؤ کیا چاہیے تمہیں۔شھباز شاہ نے سنجیدگی سے کہا
ہمیں آپ کا بڑا بیٹا چاہیے۔حریم کی بات پہ کلثوم بیگم گنگ سی حریم کی جرئت دیکھنے لگی جس نے بڑے آرام سے شھباز شاہ سے اپنی بات کہی تھی جو آج تک آروش نے بھی نہ کی ہوگی جب کے اُن کے برعکس شھباز شاہ خاموشی سے حریم کو دیکھ رہے تھے جو اُن کی اکلوتی بہن کی نشانی تھی اور شاید زندگی میں پہلی بار اُن سے کجھ مانگنے آئی تھی۔
حریم ہوش ہو میں ہو تم جانتی بھی ہو کیا بات اور کس سے کررہی ہو۔کلثوم بیگم بیڈ سے اُٹھتی سخت لہجے میں حریم سے بولی
ماما سائیں ہم آپ کے جواب کے منتظر ہیں۔حریم نے خود کو ایسے ظاہر کیا جیسے کلثوم بیگم کی بات سُنی ہی نہ ہو۔
تم جو چاہتی ہو وہ ہوگا۔شھباز شاہ اُس کے سر پہ ہاتھ رکھ کر بولے تو حریم کے چہرے پہ چمک در آئی تھی مگر کلثوم بیگم خاصا پریشان ہوئی








یہ صبح صبح کون ہے؟ماہی جو ابھی ناشتہ کرکے بیٹھی تھی دروازہ نوک ہونے پہ بڑبڑاتی اُٹھ کھڑی ہوئی مگر جیسے ہی اُس نے دروازہ کھولا تو سب سے پہلے اُس کی کسی لڑکیوں کے خوبصورت پیروں پہ پڑی تو ماتھے پہ بل آئے اُس نے سراُٹھایا تو چار سے پانچ لڑکیاں جینز پینٹ شرٹ پہنے فل میک اپ کُھلے بالوں کھڑی تھی۔
تم کون؟اُن میں سے ایک لڑکی نے بغور اُس کا جائزہ لیکر کہا
یہ سوال مجھے آپ لوگوں سے کرنا چاہیے آپ سب کون؟ماہی کو اُن سے عجیب قسم کی جلن ہونے لگی۔
میں عائشہ ہوں اور ہم سب شازل سے ملنے آئی ہیں اُس کی فرینڈز ہیں۔ایک لڑکی جو فل ریڈ کلر کی شرٹ اور پینٹ میں ملبوس تھی اُس نے مغرور انداز میں بتایا تو ماہی نے باقی سب کو دیکھا جنہوں نے اپنا تعارف کروانا شروع کیا تھا
میں نیہا
میں دلکش
میں صبور
میں ماہین
سبھی لڑکیوں نے باری باری اپنا نام بتایا تو عائشہ نام پہ اُس کے دماغ میں کجھ کلک ہوا۔
اندر آنے کا نہیں کہو گی کیا؟عائشہ نے طنزیہ کیا
مجھے لگا آپ سب میں سے کوئی رہ گیا ہو وہ بھی آجاتا۔ماہی نے بھی طنزیہ کا جواب طنزیہ سے دیا۔
