Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 41)

Haal e Dil by Rimsha Hussain

حریم کیا ہوا رو کیوں رہی ہو؟دُرید شاہ دس سالہ حریم سے پوچھنے لگا

دُر لا آروش آپی نے امیں مالا۔حریم نے روتے ہوئے دُرید سے آروش کی شکایت کی جو مٹی کے برتن بنانے میں مصروف تھی

امیں نہیں ہمیں ہوتا ہے اور مالا نہیں مارا ہوتا بولنا نہ آتا ہو تو بندے کو چاہیے خاموش رہے۔ سولہ سالہ آروش نے اُس کو گھور کر کہا تو حریم اور زور سے رونے لگی۔

آروش۔دُرید نے مصنوعی گھوری سے اُس کو نواز کر حریم کو اپنے ساتھ لگایا

لالہ یہ ایک نمبر کی جھوٹی ہے خود اِس نے میرے سارے محنت سے بنائے ہوئے برتن توڑے ہیں اور اب میسنی بن کر آپ کو میری شکایت لگا رہی ہے اگر ایسا رہا تو میں نے سچ میں اِس کے کان کے نیچے زور سے تھپڑ لگانا ہے۔آروش غصے سے اپنی ناک پُھولا کر بولی

ام جھوٹے نہیں۔حریم نے احتجاج کیا۔

سؤ جھوٹے مرے ہوگے جب تمہارا جنم ہوا ہوگا۔آروش نے پھر سے کہا

حریم علی جھوٹ نہیں بولتی۔حریم ہونٹ لٹکاکر کیوٹ سی شکل بنائی تو دُرید کو بے ساختہ اُس پہ پیارا آیا تبھی جھک کر اُس نے حریم پہ ماتھے پہ بوسہ دیا

حریم علی کا یہی سب سے بڑا جھوٹ ہے کے وہ جھوٹ نہیں بولتی۔آروش نے اُس کو تپایا

دُر لا۔حریم پھر سے روتی دُرید کے سینے میں چہرہ چُھپانے لگی

میں تمہیں تھپڑ ماروں گا آرو کیوں تنگ کررہی ہو حریم کو یہ تو بچی ہے تم تو بڑی ہو نہ۔دُرید حریم کے بال سہلاتا ہوا اُس سے بولا

جی نہیں ہم بچی وہ بھی چھوٹی سی کاکی سی کل ہی تو جنم ہوا تھا میرا۔آروش فورن بولی

کل کیوں تمہارا تو صبح جنم ہوا تھا بس صحتمند ہونے کی وجہ سے یہاں آگئ مٹی کے برتن بنانے۔دُرید اُس کو گھور کر بولا

لالہ مجھے یوں گھورے مت میں بتا رہی ہوں بابا سائیں کو آپ کی شکایت لگاؤں گی۔آروش نے اپنی طرف سے دُرید کو دھمکایا

ماما جان کی چمچی۔حریم منہ بسور کر بولی تو دُرید نے لب دانتو تلے دبائے اپنی مسکراہٹ دبائی جب کی آروش کا منہ کُھلا کا کُھلا رہ گیا۔

خود کیا ہو تم دُرید لالہ کی چمچی۔آروش اُٹھ کر اپنے مٹی والے ہاتھ اُس کے گال پہ لگا کر بولی۔

دُر لا کی آرو جیلس ہورہی ہے۔حریم نے چڑایا

میں ابھی بابا سائیں سے کہتی ہوں کے آپ دونوں کی کلاس لگائے ٹھنڈ میں آج کی رات آپ دونوں کو ننگے پاؤں لان میں کھڑا کرے تب پتا چلے گا آروش شاہ سے پنگا اِز نیور چنگا۔آروش باہر کی جانب بڑھتی ہوئی بولی۔

او چھوٹا پیک بڑا دھماکا حریم کا نام مت لینا۔دُرید نے اُس کو جاتا دیکھا تو کہا

سب سے پہلے تو اِس میسنی کا نام لوں گی۔آروش دُرید کی بات پہ پلٹ کر بولی۔

آگے جاکر تمہارا نام جھوٹوں لی لیسٹ میں سرفہرست ہوگا۔دُرید تپ اُٹھا۔

جی نہیں یہ اعزاز تو آپ چہیتی حریم کا ہے میں کیوں کسی کی جگہ لینے لگی آروش شاہ کسی کی جگہ لیتی نہیں بلکہ خود کی جگہ بناتی ہے۔آروش شانِ بے نیازی سے کہتی باہر کو بھاگی۔

باتوں میں تو اِس کا کوئی ثانی نہیں۔دُرید اُس کی اتنی ڈائیلاگ بازی پہ حیران ہورہا تھا۔

تھارا وت تیوی دے کے گی تو ایشا ہوتا نا۔(سارا وقت ٹی وی دیکھے گی تو ایسا ہوگا نہ)حریم نے دُرید کی معلومات میں اُضافہ کیا۔

تمہیں بڑا پتا ہے۔دُرید اُس کی ناک دباکر بولا۔

تیوں تی ام بی اُن تے سات ہوتے اے۔(کیونکہ ہم بھی اُن کے ساتھ ہوتے ہیں)حریم اُس کے کان کے پاس آتی بتانے لگی۔

اچھا یہ بتاؤ آرو نے کہاں مارا؟جو تم اتنا روئی۔دُرید کجھ سنجیدہ ہوا۔

وہ یہاں بازوں پہ انہوں نے اپنا ناخن دبایا۔حریم پھر سے رونے والی شکل بنائے بتانے لگی۔تو دُرید عش عش کر اُٹھا

سیریسلی حریم آرو کے ناخن تو بہت چھوٹے ہیں تم جو اتنا روئی میں نے سوچا خدانخواستہ آرو نے تمہارا سر تو نہیں پھاڑ دیا۔دُرید اُس کے دونوں بازوں چیک کرتا بولا جہاں کوئی چوٹ یا ناخن تک کا کوئی نشان نہیں تھا۔

آپ تو لگے تو پتا چلے۔(آپ کو لگے تو پتا چلے)اتنی درد ہوتی ہے۔حریم ناراض لہجے میں بولی۔

اچھا درد ہوا ہوگا مگر حریم بہادر بنو ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں میں رویا نہیں کرتے کہو اب حریم بڑی ہوکر بہادر بنے گی۔دُرید نے نرمی سے اُس کو سمجھانے کی خاطر کہا تو حریم زور زور سے نفی میں سر کو جنبش دینے لگی۔

کیوں نہیں کہو گی بولو۔دُرید نے تھوڑا سختی سے کہا

ام بادر نہیں آپ تی ٹیوی بنے گے۔(ہم بہادر نہیں آپ کی بیوی بنے گی)حریم نے منہ پُھلا کر کہا

کیا کیا بنوں گی؟دُرید کو سمجھ نہیں آیا

ٹیوی وہی جو ماما جی تی مامی جی ہیں وہ ہی ام آپ تی بنے گی۔(بیوی وہی جو ماما جی کی مامی جی ہیں وہ ہی ہم آپ کی بنے گی۔دس سالہ حریم اب قدرے شرماکر بولی تو ساری بات سمجھ آنے کے بعد دُرید کا چھت پھاڑ قہقہقہ گونجا

ٹی وی تم تیوی بولتی ہو اور بیوی کو تم ٹیوی بول رہی ہو حریم یار اب مجھے تمہاری فکر ہو رہی ہے ماشااللہ سے دس کی ہو مگر تمہارا توتلہ پن نہیں جارہا اگر بیس سال کے ہونے کے بعد بھی تم ایسی رہی نہ تو آرو نے سچ میں تمہارا مزاق اُڑا اُڑا کر جینا دشوار کرنا ہے لگتا ہے مجھے تمہارا چیک اپ کروانا پڑے گا۔دُرید ہنس کر بولا

ام مجاق نہیں تررہے۔حریم بُرا مان گئ۔

مجھے پتا ہے آپ مذاق نہیں کرتی آپ بہت سیریس بندی ہے آپ مزاق کو بھی مزاق نہیں بلکہ سیریسلی لیتی ہیں مگر لگتا ہے تمہیں انار زیادہ کِھلوانا پڑے گا اور چیک اپ بھی کروانا پڑے گا تاکہ توتلہ پن تو ختم ہو۔دُرید مسکراہٹ ضبط کرتا بولا

چھوٹے سائیں شاہ سائیں آپ کو بُلا رہے ہیں۔حریم کجھ کہنے والی تھی جب وہاں ملازمہ سرجھکاکر دُرید سے بولی۔

حریم لگتا ہے تمہارے ماما جی چمچی نے ہماری چغلی دی ہے اب ہمیں واقع ساری رات لان میں گُزارنی ہوگی۔دُرید افسوس بھری شکل بناتا حریم سے بولا تو وہ کھی کھی کرکے ہنسنے لگی۔

۔۔۔٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠۔۔٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠

ہسپتال سے کال آئی تھی شازل سائیں آپ کو ہسپتال آنے کا بول رہے۔دُرید ماضی کی یادوں میں کھویا ہوا تھا جب ایک آدمی نے اُس کو بتایا تو ہوش حقیقت کی دُنیا میں پہنچا۔

ہمممم تم جاؤ۔دُرید سنجیدگی سے اُس کو بولا تو وہ سر کو جنبش دیتا چلاگیا۔

ایک ناخن لگنے پہ اتنا روتی تھی اتنی ساری تکلیف کیسے برداشت کی ہوگی تم نے۔دُرید آج خود کو بہت بے بس پارہا تھا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

چٹاخ

خاموش کوریڈور میں تھپڑ کی آواز زور سے گونجی تھی جو شھباز شاہ نے دُرید کے آتے ہی اُس کے گال پہ رسید کیا تھا۔

بابا سائیں۔شازل نے اُن کو روکنا چاہا

چپ کوئی نہیں بولے گا۔شھباز شاہ نے ہاتھ کے اِشارے سے اُس کو خاموش رہنے کا کہا۔

تمہیں پتا ہے دُرید تم نے کیا حماقت کی ہے قتل کردیا تم نے اِس کا انجام جانتے ہو۔شھباز شاہ کی بات پہ دیدار اور شازل کو شدید قسم کا حیرت سے جھٹکا تھا۔

قتل وہ بھی لالہ نے۔شازل کو یقین نہیں آرہا تھا۔

پہلا قتل نہیں کیا تمہارے لالہ جو اتنا حیران ہورہے ہو۔دیدار شاہ نے اُس کی بڑبڑاہٹ سُنی تو کہا۔

تو میں اور کیا کرتا اُس کو زندہ زمین پہ چلنے پِھرتے دیکھتا اِسے انسان کا انجام ایسا ہی ہونا چاہیے جو عورتوں کو کمزور لاچار بے بس سمجھتے ہیں ان کو جینے کا کوئی حق نہیں عورت کی پیٹ سے پیدا ہوکر عورت کو ہی اپنے پیروں کی جوتی سمجھنے لگتے ہیں میری نظر میں اُن کا کام تمام کرنا ہی عقلمندی ہے۔دُرید آہستہ مگر سخت لہجے میں بولا اُس کو اپنے عمل پہ کوئی پچھتاوا نہیں تھا۔

مگر لالہ قتل کرنا بہت بڑا گُناہ ہے۔شازل افسوس بھری نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا

تم اب دین کا درس دینے نہ لگ جانا۔دیدار شاہ نے اُس کو ٹوکا۔

قتل کرنا گُناہ ہے تو کسی معصوم کو اپنی دردندگی کا نشانہ بنانا کیا ثواب کا کام ہے ساری رات اُس کو تشدد کا نشانہ نیکی کا عمل ہے۔دُرید اُس کی بات سن کر سرد لہجے میں بولا تو شازل خاموش ہوگیا۔

ٹھیک تمہاری بات دُرست ہے ایسے تو جانے کتنے مرد تمہیں ملے گے جو آتی جاتی لڑکیوں کو اپنی حوس کا نشانا بناتے ہیں کوئی مرد اپنی بیوی کو مارتا پیٹتا ہے بہتان بازی کرتا ہے تو ان کا کیا کرو گے انہیں بھی جاؤ اور جاکر قتل کردو ایک کے مرنے سے کیا ہوگا آج ایک مرا ہے کل دوسرا پھر تیسرا ایک کے مرنے سے بُرائیاں ختم نہیں ہوجاتی دُرید اور نہ لوگ پھر گُناہ کرنا چھوڑدیتے اگر کسی ایک کی موت دوسرے کے لیے عبرت کا نشان ہوتی نہ تو آج کہی کوئی گُناہ کوئی بُرائی تمہیں نظر نہ آتی اگر لوگوں کو عبرت لینی ہوتی تو قرآن سے لیتے توبہ کرلیتے۔شھباز شاہ نے کرخت آواز میں کہا تو اُس نے اپنا سرجھٹکا

میری نظر کے سامنے اگر اُن کو گُزر ہوگا تو میں وہ بھی کروں گا چاہے پھر مجھے پھانسی ہوتی یا عمر قید حریم کے ساتھ جو ہوا میں نے فلحال بس اُس کا حساب لیا ہے تاکہ کل دوسرا تابش پیدا نہ ہو تابش کو نہ اب غسل نصیب ہوگا اور نہ قبر نہ ہی اُس کا جنازہ ہوگا نہ کوئی اُس کے لیے جنازہ نماز ادا کرے گا۔دُرید پھنکارا۔

ہمارے یہاں کوئی قانون نہیں ہوتا دُرید ہم اپنے گاؤں کے جج بھی خود ہوتے ہیں اور وکیل بھی ہمارا فیصلہ کوئی کورٹ یا پولیس والے نہیں کرتے یہ سب ہمارے گاؤں کے معزز لوگ کرتے ہیں اور تم نے چاہے جو کجھ کیا جس کے لیے بھی کیا اُس کا حساب تو الگ سے ہوگا۔دیدار کی بات پہ شازل کے دماغ میں کجھ کلک ہوا

کیا ایک بار پھر سے جرگہ بیٹھایا جائے گا۔شازل جیسے دیدار شاہ کی ساری بات سمجھ گیا۔

ظاہر ہے دوسری پارٹی خاموش تو نہیں رہے گی۔دیدار شاہ نے کہا۔

جرگہ بیٹھانے سے پہلے اُن کو ڈوب کر مرجانا چاہیے کیونکہ اُن کو جرگے سے کجھ حاصل نہیں ہوگا سِوائے زلت کے۔دُرید کو کوئی فرق نہیں پڑا۔

ایکسکیوز می پلیز شور مت کرے مریض ڈسٹرب ہورہے ہیں۔پاس سے گُزرتی نرس نے اُن کی آواز سُنی تو کہا

حریم کیسی ہے؟دُرید نے پوچھا

کون حریم؟نرس ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی۔

جس کو ابھی آپ لوگوں نے روم نمبر ٹونٹی فائیو میں شفٹ کیا ہے۔اِس بار شازل نے سمجھایا

جی وہ ابھی خطرے سے باہر نہیں وہ کوئی رسپانس نہیں کررہی جیسے اُن کے اندر جینے کی تمنا نہ ہو وہ مزید جینا نہیں چاہتی۔نرس نے بتایا

وہ کیا چاہتی ہے اور کیا نہیں اُس کی پرواہ کرنے کے بجائے ٹھیک سے علاج کرے آپ لوگ۔دُرید نرس کی بات سن کر بھڑک اُٹھا۔

جی ہم وہ ہی کررہے ہیں۔نرس گڑبڑا کر بول کر وہاں سے چلی گئ۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

جس طرح جھنگل میں آگ پِھیلتی ہے ٹھیک اُسی طرح دُرید نے تابش کا قتل کردیا یہ بات پورے گاؤں میں پھیل چُکی تھی جس سے حویلی میں جہاں پہلے ہی غم کے بادل تھے اب مزید بڑھ گئے تھے۔

مجھے پتا تھا یہی ہوگا۔شبانا سب پہ ایک نظر ڈال کر بولی اُس کا لہجہ خاصا طنزیہ سے بھرپور تھا۔

نجومی جو ہیں۔آروش کا اُس کا انداز پسند نہیں آیا۔

اپنے لیے دعا کرو اب جرگہ بیٹھے گا تو سب سے پہلے ونی مانگے گے۔شبانا نے شیطانی نظروں سے اُس کو دیکھ کر مصنوعی فکرمندی چہرے پہ سجاکر کہا

سید زادیاں ونی میں نہیں جایا کرتی اگر مجھے اپنے لالہ کے لیے جانا بھی پڑا تو شوق سے جاؤں گی آپ کو میری فکرمندی میں گُھلنے کی ضرورت نہیں۔آروش نے بے تاثر لہجے میں کہا تو شبانا کے تن بدن میں آگ لگ گئ۔

آروش کے پاس بیٹھی ماہی نے رشک سے اُس کا پرسکون چہرہ دیکھا تھا۔

اُن کا تعلق شاہ خاندان سے ان کو چاہیے ایسی رواج ایسے قانون ختم کریں اگر خدانخواستہ کل کلاں اُن کی بیٹی قصاص کے نام پہ جائے وہ بھی غیر سید کے پاس تو وہ کیا کریں گے۔

ماہی کو ماضی میں کہے اپنے جُملے یاد آئے تو اُس نے شرمندگی سے اپنا سر نیچے کرلیا اُس کو آج اپنے الفاظوں پہ پچھتاوا ہورہا تھا۔

کلثوم آپا۔وہ سب عورتیں ہال میں بیٹھی ہوئی تھی جب صدف بیگم اُجڑی ہوئی حالت میں حویلی داخل ہوئی۔

کیا ہوا؟فردوس بیگم نے سپاٹ تاثرات سے پوچھا

کیا ہوا یہ سوال ابھی بھی پوچھنا بنتا ہے میرا بڑا بیٹا تم حویلی والوں نے مارا ہے وہ کہاں ہیں مجھے اپنے بیٹے کا آخری دیدار کرنا ہے دُرید سے کہے مجھے اپنا بیٹا لاکر دے۔صدف بیگم چیخ چیخ کر بولی۔

آپ خالہ جان اُس وقت کہاں تھی جب حریم پہ اتنا ظلم ہورہا تھا ہمیں آپ حریم پہلے جیسی واپس کردے پھر آپ جانے اور آپ کا بیٹا۔آروش اپنی جگہ سے اُٹھتی اُن کے سامنے آئی۔

دیکھو آروش اگر مجھے میرا بیٹا نہ ملا تو میں جرگہ بیٹھاؤں گی۔صدف بیگم سب پہ نظر ڈال کر دھمکی آمیز لہجے میں بولی۔ماہی پریشانی سے سب کو دیکھنے لگی اُس کو اپنی موجودگی مس فٹ لگ رہی تھی۔

جرگہ بیٹھانے کا کوئی فائدہ نہیں صدف جو تمہارے بیٹے نے کیا تھا اُس حساب سے جرگہ ہم لوگوں کو بیٹھانا تھا پر دُرید نے خود ہی کام پورا کردیا اِس لیے تمہاری کوششیں رائیگان جاری گی۔کلثوم بیگم نے سرد لہجے میں کہا

آپ تو میری بہن ہیں پھر بھی ایسی باتیں بول رہی ہیں۔صدف بے یقین نظروں سے اُن کو دیکھنے لگی۔

میں تمہاری بہن ہو اِس بات کا افسوس مجھے تاعمر رہے گا ابھی یہاں سے چلی جاؤں ہم سب پہلے سے ہی پریشانیوں میں مبتلا ہیں۔کلثوم بیگم نے سنجیدگی سے کہا۔

میرا بیٹا قتل ہوا ہے۔وہ چیخ پڑی۔

ہمارے حریم اُس کا کیا جو آپ کے بیٹے نے اُس کے ساتھ کیا قصور کیا تھا اُس کا وہ تو معصوم تھی۔آروش کو اُن کا میرا بیٹا میرا بیٹا کہنا پسند نہیں آیا۔

تم نے اپنے بیٹے کی اچھی پروش نہیں کی کم سے کم اُس کو عورت کی عزت کرنا تو سکھاتی تاکہ وہ اپنی عورت کی عصمت نہ لوٹتا۔فاریہ بیگم حددرجہ ٹھنڈے لہجے میں بولی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

یمان تم کیا مصروف ہو؟دلاور خان نے یمان کو موبائیل میں مصروف دیکھا تو پوچھا

نہیں بس وہ آن لائن ٹِکٹ بُک کروارہا تھا۔

آج رات میرا شو ہے لاہور میں۔یمان نے بتایا۔

اچھا مطلب بزی ہو۔دلاور خان اُس کی بات سننے کے بعد بولے۔

ابھی ایک گھنٹہ فری ہوں آپ کو کوئی کام ہے تو بتادے۔یمان نے کہا

میں گاؤں جارہا تھا اپنی امانت لینے سوچا تمہیں ساتھ لے چلوں پر اگر تم لاہور جانے کی تیاری میں ہو تو ٹھیک ہے پھر میں خود چلاجاتا ہوں۔دلاور خان نے کہا

آپ ہمیشہ امانت لفظ یوز کرتے ہیں آپ کی امانت ہے کیا؟یمان نے آج پوچھ لیا۔

میری بیٹی۔دلاور خان نے بتایا۔

بیٹی؟یمان کے چہرے پہ ناسمجھی والے تاثرات نمایاں ہوئے۔

ہاں بیٹی جب یہاں آئے گی تو مل لینا۔دلاور خان نے مسکراہٹ سے جواب دیا

اوکے۔یمان نے کندھے اُچکائے۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آپ کے پیشنٹ کو ہوش آگیا ہے۔ڈاکٹر کی بات نے جیسے سب پہ خاص طور پہ دُرید کے جسم میں نئ روح پھونک دی ہو۔

میں مل سکتا ہوں؟دُرید نے پوچھا

جی مگر کوئی اسٹریس والی بات اُس کے سامنے مت کیجئے گا۔ڈاکٹر نے ہدایت کی تو دُرید سراثبات میں ہلاتا اُس سے ملنے جانے والا تھا مگر شھباز شاہ نے اُس کا بازوں پکڑا۔

بابا سائیں؟دُرید سوالیہ نظروں سے اُن کو دیکھنے لگا۔

بیوہ کردیا ہے تم نے اُس کو عدت میں بیٹھے گی وہ اب تو تمہارا چار ماہ دس دن اُس سے کوئی ملنا نہیں ہوگا۔شھباز شاہ کی بات کسی بم کی طرح اُس پہ گِری وہ ساکت نظروں سے شھباز شاہ کو دیکھنے لگا جو بلکل سنجیدہ تھے۔

میں اتنا وقت اُس سے دور کیسے رہوں گا مجھے حریم کو سنبھالنا ہے۔دُرید کی زبان لڑکھڑاہٹ کا شکار ہوئی۔

تم نے حریم کا خیال کیا اُس کا یہ مطلب نہیں ہوتا تم اُس کے لیے محرم بن گئے ہو وہ تمہاری ہے تو کزن نہ اُس کا تم سے پردہ بنتا ہے میں نے پہلے کبھی حریم سے نہیں کہا وہ تم سے اپنا چہرہ چُھپائے کیونکہ میں یہ نہیں چاہتا تھا وہ یہ سمجھے کے ہم اُس سے پیار نہیں کرتے یا وہ کسی غلطفہمی کا شکار بنے تمہارا پہلے جو کوئی اُس پہ حق تھا وہ اُس دن ختم ہوگیا تھا جس دن تم نے اُس کو تابش کے ساتھ رخصت کیا تھا تم اُس کے لیے نامحرم ہو اور حریم کے عدت کے دن ہیں غلطی سے بھی اُس کے سامنے مت آنا۔شھباز شاہ ایک کے بعد ایک جھٹکا دُرید کو دیتے رہے۔دُرید بس بے بسی سے اُن کو دیکھنے لگا جب کی شازل اور دیدار خاموش تھے کیونکہ اُن کو پتا تھا شھباز شاہ درست بات کررہے تھے۔

چار ماہ بہت بڑا عرصہ ہے حریم کو میری ضروری ہے۔دُرید نے احتجاج کیا

اُس کو تمہاری ضرورت تھی دُرید پر تب تم نے اپنا ہاتھ چھڑوا لیا میں اُس بچی کے سامنے پہلے سے ہی شرمندہ ہوں وہ بھی تمہاری وجہ سے اب جب تم اُس کے لیے فکرمندی دیکھا رہے ہو مجھے غصہ آرہا ہے۔شھباز شاہ نے طنزیہ کیا۔

اُس کے اور میرے درمیان نامحرم والا فرق نہیں۔دُرید سرجھکاکر بولا

کیوں نہیں ہے فرق ہے فرق وہ تمہاری لگتی کیا ہے جب اُس کا نکاح ہورہا تھا نہ تب اُس کے پانچ منٹ پہلے میں نے تم سے کہا تھا حریم سے خود نکاح کرلوں مگر تب نے میری بات نہیں سُنی تو بس اب تمہارا کوئی تعلق نہیں حریم سے۔شھباز شاہ سختی سے بولے

آپ میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتے میرا آپ لوگوں سے زیادہ اُس پہ حق ہے میں نے بچپن سے اُس کو پالا ہے۔دُرید کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے۔

حریم جس حال میں ہے وہ خود تمہاری شکل دیکھنا نہیں چاہے گی حریم سے تم بے فکر ہوجائے آروش تم سے زیادہ اچھے طریقے سے خیال رکھے گی۔شھباز شاہ نے دو ٹوک کہا

حریم بس میرے قریب رہی ہے۔دُرید پھر سے بولا

آروش حریم کی آئیڈیل رہی ہے وہ ہمیشہ سے اپنا وقت آروش کے ساتھ گُزارنا چاہتی تھی اور اب وہی ہوگا جو حریم چاہے گی۔شھباز شاہ نے جیسے پورا پلان ترتیب دے رکھا تھا۔

زیادتی ہے میرے ساتھ آپ دوبارہ میرے ساتھ کررہے ہیں۔دُرید نے کہا

زیادتی وہ ہے جو حریم کے ساتھ ہوئی ہے اور دُرید تم ضد کیوں کررہے ہو چچا جان کے ساتھ کیا تم بھول گئے ہو ہمارے خاندان کے رسم ورواج کو حریم نے دس سال کی عمر میں مجھ سے شازل سے دلدار لالہ سے سب سے پردہ کرنا شروع کیا تھا مگر تمہارے کمرے میں وہ جب چاہے آ جایا کرتی تھی جس حال میں بھی وہ ہو اُس بات پہ سب کو اعتراض تھا مگر پھر بھی کسی نے کجھ نہیں کہا کیونکہ تم نے بچپن سے لیکر اُس کا خیال رکھا تھا مگر اب حالات پہلے جیسے نہیں ہے تم زیادہ نہیں تو حریم کی عدت ختم ہونے تک کا صبر کرو۔اِس بار دیدار نے سنجیدگی سے کہا

تمہیں اگر لگتا ہے تمہیں دیکھ کر حریم تم سے لپٹ جائے گی اور پہلے کی طرح سب کی تمہارے ساتھ شکایت کرے گی تو یہ تمہاری خام خیالی ہے۔شھباز شاہ نے جیسے اُس کے دل پہ وار کیا دُرید سے اُن سب کی باتیں برداشت سے باہر ہو رہی تھی تبھی بنا کجھ کہتا وہاں سے نکلتا ہسپتال سے باہر چلاگیا۔اُن سب کی باتوں سے اُس کو اپنا دم گھٹتا محسوس ہورہا تھا کتنا انتظار کیا تھا اُس نے کے حریم کو ہوش آئے اور جب اتنے وقت بعد ہوش آیا بھی تو کوئی اُس سے ملنے نہیں دے رہا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *