Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 22)

Haal e Dil by Rimsha Hussain

ماہی نے گاڑی کو جانے پہچانے راستوں پہ چلتا دیکھا تو اُس کا دل خوش فہم ہوا مگر اپنا وہم قرار دیکر دل کو ڈپٹ دیا مگر شدید حیرانی کا جھٹکا تب لگا جب شازل نے اُس کے گھر کے بڑے گیٹ کے سامنے گاڑی کو بریک لگائی۔

شازل یہ

ماہی اتنا کہتی خاموشی سے چہرہ موڑ کر شازل کو دیکھنے لگی جو اُس کی حیرانگی پہ مسکرا رہا تھا۔

ایک گھنٹہ ہے تمہارے پاس جاکر مل آؤ اپنے گھروالوں سے پھر ہمیں شہر کے لیے نکلنا ہے پھر اللہ جانے کب واپسی ہو۔شازل ہاتھ میں پہنی گھڑی پہ وقت دیکھتا مصروف انداز میں بتانے لگا پر شازل کی بات سن کر ماہی کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آنے لگے وہ جو سمجھ رہی تھی اب کبھی اپنے ماں باپ اور باقی گھروالوں سے نہیں مل پائے گی مگر آج اتنے ماہ بعد اپنے گھر جانے کا سوچ کر اُس کا دل تیزی سے دھڑکا رہا تھا اُس کو یقین نہیں آرہا تھا جو وہ سن رہی ہے سچ ہے بھی یا نہیں

آپ سچ بول رہے ہیں؟ماہی نے کنفرم کرنا چاہا

نہیں آج میرا دل جھوٹ بولنے کو چاہ رہا تھا پاگل جب گاڑی تمہارے گھر کے پاس روکی ہے تو یہ سوال کرنے کی کیا تُک بنتی ہے۔شازل اُس کے سر پہ چپت لگاتا بولا

میں جاتی ہوں۔ماہی اتنا کہتا جلدی سے گاڑی کا دروازہ کھولنے لگی اُس کا وجود خوشی کے مارے کپکپارہا تھا۔شازل کو اپنے گھروالوں پہ افسوس ہوا جنہوں نے ایک بیٹی کو اپنے ماں باپ اور ایک ماں باپ کو اپنی اولاد سے دور رکھا تھا۔

ایک گھنٹہ یاد سے۔شازل نے اُس کو جاتا دیکھا تو یاد دُہائی کروائی۔

جی جی۔ماہی تیز قدموں کے ساتھ اپنے گھر کی جانب جاتی بنا پلٹے بولی تو شازل اپنے سیل فون میں بزی ہوگیا۔

امی

آمنہ

ابا جان

بھائی

علی

آپ سب کہاں ہیں؟ماہی گھر کے اندر داخل ہوتی سب کو آوازیں دینے لگی۔

ماہی۔آمنہ جو کچن میں موجود تھی ماہی کی آواز سن کر جلدی سے باہر آئی سامنے عبایا پہنے ماہی کو دیکھ کر آمنہ کو اپنی آنکھوں پہ یقین نہیں آیا

آمنہ۔ماہی بھاگتی اُس کے گلے لگی۔

ماہی تم یہاں کیسے۔آمنہ نے حیرت سے پوچھا

میں یہاں کیسے کیوں یہ چھوڑو یہ بتاؤ امی اور تائی کہاں ہیں؟ماہی نے مسکراکر پوچھا

تم مسکرا رہی ہو ماہی؟آمنہ اُس کے چہرے پہ ہاتھ پھیرتی جیسے خود کو یقین دِلانے لگی۔

امی کہاں ہیں؟ماہی نے ایک بار پھر اپنی ماں کا پوچھا

وہ اپنے کمرے میں مقید ہوکر رہ گئ ہے جب سے تم گئ ہو۔آمنہ ابھی اُس کو بتارہی تھی جب ماہی بختاور بیگم کے کمرے کی طرف بڑھی۔

امی دیکھے میں آگئ۔ماہی بختاور بیگم کے کمرے میں آتی سیدھا اُن کے سینے سے لگی۔

ماہی میری بچی تم یہاں تمہیں یہاں انہوں نے آنے دیا۔بختاور بیگم نے اتنے وقت بعد کو دیکھا تو اُن کو سکون محسوس ہونے لگا۔

شازل لے آیا مجھے آپ لوگوں سے ملانے کے لیے ایک گھنٹہ ہے میرے پاس ماہی اُن کے ہاتھ چومتی بتانے لگی۔

شازل؟بختاور بیگم سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی۔

شازل میرے شوہر۔ماہی کے چہرے پہ چمک آئی تھی جس کو دیکھ کر بختاور بیگم نے بے اختیار دل میں ماشاءاللہ کہا۔

شھباز شاہ کا بیٹا اتنا رحمدل۔بختاور بیگم کو جیسے یقین نہیں آیا۔

جی امی جان ظالم بے رحم شھباز شاہ کی اولادیں اُن کے جیسی نہیں ہے شازل تو بہت اچھے ہیں۔ماہی نے خوشی خوشی سے بتایا۔

میں تمہیں اب جانے نہیں دوں گی تم کیوں بے قصور ہوکر اُن کے ساتھ رہوں گی شازل جیسا بھی ہو پر تمہارے چہرے پہ موجود یہ نیل اِس بات کے گواہ ہیں کے حویلی والوں کا رویہ تمہارے ساتھ اچھا نہیں۔بختاور بیگم ضدی لہجے میں بولی

میری پیاری امی میں اب حویلی نہیں جاؤں گی شازل مجھے اپنے ساتھ شہر اسلام آباد لے جارہے ہیں۔ماہی نے کہا جو اندر آتی آمنہ نے بے خوبی سن لیا تھا۔

حویلی والوں نے اعتراض نہیں اُٹھایا؟آمنہ نے سوال داغا

اٹھایا بہت اُٹھایا پر شازل نے کسی کی بات نہیں سُنی انہوں نے کہا جب تک اصل قاتل سامنے نہیں آتا وہ گاؤں واپس نہیں آئے گے۔ماہی نے جواب دیا۔

تو کیا شازل کو بھی لگتا ہے میرے بیٹے نے قتل نہیں کیا؟بختاور بیگم کو گونا سکون میسر ہوا۔

اُن کو شک ہے بھائی کی گولی سے دلدار شاہ کا قتل نہیں ہوا۔ماہی نے بتایا۔

تم بہت کمزور ہوگئ ہو ماہی۔آمنہ کی بات پہ وہ مسکرائی۔

میری چھوڑو یہ بتاؤ تم میری ماں کا خیال نہیں رکھتی کیا۔ماہی بختاور بیگم کو دیکھتی روعب بھرے لہجے میں آمنہ سے پوچھنے لگی۔

یہ تو میرا بہت خیال رکھتی ہے پر مجھے بس تیری فکر لگی رہتی ہے۔بختاور بیگم نے آمنہ کی طرفداری کی۔

میری فکر سے آپ آزاد ہوجائے کیونکہ میں بلکل ٹھیک ہوں۔ماہی نے تسلی آمیز لہجے میں کہا۔

کجھ کھاؤں گی؟آمنہ کو اچانک خیال آیا تو پوچھا

چائے پیوں گی۔ماہی نے کہا تو آمنہ کمرے سے باہر چلی گئ۔

امی باقی سب کہاں ہیں ابا جان تایا جان تائی اور بھائی۔ماہی نے سب افراد کے بارے میں پوچھا

تیرے ابا تایا بھائی یہ سب زمینوں کے کام سے گاؤں سے باہر ہیں جب کی تیری تائی رشتیدار کے یہاں گئ ہے۔بختاور بیگم نے بتایا تو وہ مایوس ہوئی۔

مجھے لگا تھا میں آج سب سے مل پاؤں گی۔ماہی نے اُداس بھرے لہجے میں کہا

پھر آجانا شازل سے کہنا۔بختاور بیگم نے مسکراکر کہا تو اُس نے گہری سانس خارج کی۔

آج پتا نہیں کیسے میرے کہے بنا یہاں لے آئے آپ کو پتا ہے میں نے کبھی آپ میں سے کسی کا ذکر اُن کے سامنے نہیں کیا کیونکہ مجھے ڈر لگتا تھا کہیں اُن کو غصہ نہ آجائے میں نے آپ لوگوں سے ملنے کی اُمید چھوڑدی تھی پر شازل نے آج مجھ پہ بہت احسان کیا ہے۔ماہی کسی ٹرانس کی کیفیت میں اُن کو سب بتاتی گئ۔

اگر وہ اتنا اچھا ہے تو میری دعا ہے تم دونوں ہمیشہ خوش رہو۔بختاور صدق دل کے ساتھ دعا دینے لگی۔

ہمیشہ۔ماہی اُداس ہوئی۔

ہاں کیوں؟بختاور بیگم نے ناسمجھی سے پوچھا

کجھ نہیں میں آتی ہوں۔ماہی نفی میں سر کو جنبش دیتی اُٹھ کھڑی ہوئی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یاد ہے تم یہاں چُھپ کر ناولز پڑھا کرتی تھی۔وہ دونوں چھت پہ آئی تو آمنہ نے مسکراکر کہا

بلکل یاد ہے اپنی زندگی کے یہ خوبصورت لمحات میں کیسے بھول سکتی ہوں۔ماہی اپنی آنکھیں بند کرکے بولی

تم خوش ہو؟آمنہ نے غور سے اُس کا چہرہ دیکھا

میں مطمئن ہوں۔ماہی نے بنا تاخیر کیے جواب دیا

جب میں تمہیں شاہ خاندان کے بارے میں بتاتی تھی تو تمہیں شازل شاہ اور آروش شاہ سے بہت چڑ لگتی تھی جب کی تم اُن سے کبھی ملی بھی نہیں تھی اور آج دیکھو شازل شاہ تمہیں اپنے قریبی رشتوں سے ملوانے لایا ہے۔آمنہ نے چائے کا گھونٹ بھر کر کہا۔

تب مجھے پتا نہیں تھا وہ دونوں میری زندگی کا اہم کردار ہوگے۔ماہی نے آہستہ سے کہا

کیا مطلب؟آمنہ کو سمجھ نہیں آیا

مطلب وہ شازل شاہ جو مجھے عیاش قسم کا لگتا تھا وہ آج میرا شوہر ہے جس سے مل کر مجھے پتا چلا جیسا میں اُس کے بارے میں سوچتی تھی وہ اُس کے برعکس ہو وہ بہت اچھا ہے آروش شاہ جو مجھے شہر سے پڑھی آئی مغرور سیدذادی لگتی تھی جس سے ملے بنا مجھے اُس سے چڑ ہوتی تھی اُس نے میرے زخموں پہ مرہم رکھا تھا اُس کا رویہ میرے ساتھ باقیوں کی طرح نہیں تھا وہ مغرور نہیں بلکہ ایک پُراسرار قسم کی لگتی ہے جو بس اپنی دُنیا میں رہتی ہے آس پاس کیا ہورہا ہے اُس میں آروش کا کوئی انٹرسٹ نہیں ہوتا ایسا لگتا ہے جیسے وہ اپنے اندر بہت کجھ چُھپائے ہوئے ہے وہ مجھے اب ایک راز اور پہیلی لگتی ہے آروش شاہ سچ میں بہت پیاری ہے جتنا تم نے بتایا اُس سے کئ زیادہ خوبصورت اور خوب سیرت۔ماہی نے جو محسوس کیا وہ سب بتاتی گئ۔

کم عرصے میں بہت جان گئ ہو اُن کے بارے میں۔آمنہ کہے بنا نہ رہ پائی

ہاں شاید تمہیں پتا ہے شازل ایک آئیڈیل پرسن ہے اُس کی خواہش ہر لڑکی کرے گی وہ ایک بہت اچھا بھائی ہے عورت کی عزت کرنا اُس کو خوب آتا خاص طور پہ زمیداری کو اچھے طریقے سے کیسے نبھایا جاتا ہے وہ بھی جانتا ہے مجھے تو آروش اور شازل دونوں شاہ خاندان کے نہیں لگتی آروش تو بلکل بھی نہیں تم نے بس یہ سُنا ہے وہ بہت خوبصورت ہے پر تم نے خود اُس کو نہیں دیکھا میں نے دیکھا ہے وہ واقع خوبصورت ہے پر اُس نے نین نقش شاہ خاندان کے نہیں بلکہ کسی پھٹانوں جیسے ہیں۔ماہی کی آخری بات پہ آمنہ زور سے ہنسی۔

پاگل آروش شاہ پٹھانوں جیسی ہے اگر تم نے یہ بات شھباز شاہ کے سامنے کی تو وہ تمہاری جان لینے میں ایک منٹ نہیں لگائے گے۔آمنہ نے ہنسی کے درمیان کہا

شازل بھی یہی کہتے ہیں۔ماہی نے بتایا

تو کیا یہ بات تم نے اُس سے بھی کی۔آمنہ آج پل پل حیران ہورہی تھی۔

ہاں کی تھی شازل کو بہت بُرا لگا تھا۔ماہی جھرجھری لیکر بولی۔

کیا وہ تم سے پیار کرتا ہے؟آمنہ نے بغور اُس کے تاثرات جانچے۔

وہ میری عزت کرتا ہے اور ایک لڑکی ہمیشہ مرد سے محبت سے زیادہ عزت کی خواہشمند ہوتی ہے مجھے محبت کا تو نہیں پتا مگر ہمارے دل میں ایک دوسرے کے لیے عزت احترام بہت ہے شازل مجھے سمجھتا ہے مجھے سپورٹ کرتا ہے میری پرواہ کرتا ہے مجھ اُس کے علاوہ اور کجھ نہیں چاہیے۔ماہی نے ہلکی مسکراہٹ سے کہا

اگر اِن سب کے درمیان محبت آجائے تو؟آمنہ نے پوچھا

تو پتا نہیں پر ہمارا ساتھ تاعمر کا نہیں میں شازل کو ڈیزرو نہیں کرتی وہ ایک شاندار پرسنائلٹی کا مالک ہے جس نے زیادہ تر اپنا وقت شہر میں گُزارا ہے وہ کبھی گاؤں کی بی اے پاس لڑکی میں دلچسپی نہیں لے گا۔ماہی نے حقیقت پسندانہ انداز رکھا۔

یہ تمہاری سوچ ہے کیا پتا شازل ایسا کجھ نہیں سوچتا نہیں ہو۔آمنہ نے اُس کو اُمید کے جگنوں تھمانے چاہے۔

مجھے ایسے خواب مت دیکھاؤ جس کی تعبیر بھیانک ہو میرے لیے۔ماہی نے نفی میں سر کو جنبش دیکر کہا۔

یہ عبایا تمہیں شازل نے دیا؟آمنہ نے بات کا بدلی

آروش نے دیا اُس نے کہا جیسے بھی پر اب میں شاہ خاندان کا حصہ بن گئ ہو اور شاہ خاندان کی عورتیں عبائے کے بنا حویلی سے باہر جانے کا سوچ بھی نہیں سکتی اُس کی باتوں نے مجھے احساس کروایا میں اب ماہی بخت نہیں بلکہ ماہی شازل شاہ ہوں۔ماہی نے بتایا

تو کیا میں یہ سمجھو تم نے پردہ کرنا شروع کیا ہے۔آمنہ کو انجانی خوشی محسوس ہوئی۔

جب تک میرا نام شازل شاہ سے جڑا ہے تب تک میں اپنے پردے کا بہت خیال رکھوں گی اُس کے بعد کیا ہوگا مجھے نہیں پتا۔ماہی نے کندھے اُچکاکر کہا۔

ماہی آپی۔آمنہ کا بھائی علی چھت پہ آیا

ارے علی کہاں تھے تم؟ماہی علی کو دیکھ کر خوش ہوئی

میں باہر کھیل رہا تھا پر ہماری گیٹ کے پاس بڑی گاڑی کھڑی ہے اُس میں ایک گورا مرد تھا اُس نے مجھے کہا میں آپ کو بلا لاؤں۔علی کی بات پہ ماہی نے اپنے سر پہ ہاتھ مارا

یااللہ شازل نے ایک گھنٹہ دیا تھا اور میں کب سے یہاں ہوں۔ماہی کو پریشانی ہوئی

یہ بڑی گاڑی میں گورا چٹا مرد شازل ہے؟آمنہ نے شرارت سے اُس کو دیکھ کر پوچھا

بکو مت۔ماہی کا چہرہ پل بھر میں سرخ ہوا۔

او ہو ہماری ماہی تو اب شرمانے بھی لگی ہے۔آمنہ اپنا کندھا اُس کے کندھے سے ملانے لگی۔

میں جاتی ہوں شازل غصہ ہورہا ہوگا پتا نہیں کب سے گاڑی میں میرا انتظار کررہا ہے۔ماہی نقاب کرتی عجلت سے باہر کو لپکی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…………….

اتنی دیر۔ماہی جیسے ہی گاڑی میں بیٹھی شازل نے کہا

سوری وہ اتنے وقت سب سے ملی تو وقت کا پتا ہی نہیں چلا۔ماہی شرمندگی سے بولی

میں سمجھتا ہوں پر مجھے حیرت ہے میں نے ایک گھنٹے کا کہا تھا تم نے تین گھنٹے لگائے اب ہم شہر جانے کب پہنچے رات کے وقت سفر کرنا سیو نہیں ہوتا تمہیں پتا ہے گاؤں میں راستے کتنے کچے ہیں۔شازل نے سنجیدگی سے کہا اور ساتھ میں ہیٹنگ سسٹم آن کرنے لگا دسمبر کا مہینہ تھا شام کے سائے چاروں طرف چھاگئے تھے ماحول میں ہڈیوں میں اُترجانے والی ٹھنڈ سب کو اپنے لپیٹ میں لے لیا تھا

گھروالوں سے ملنے وقت کون وقت دیکھتا یا کس کو احساس ہوتا ہے۔ماہی نے سرجھکائے کہا

پہاڑی علاقہ ہے راستہ ناہموار ہے احتیاط سے گاڑی ڈرائیو کروں گا تو گاؤں کی حدوں سے نکلتے ہوئے ڈھائی گھنٹے لگ جانے ہیں میں اکیلا ہوتا تو مجھے کوئی پرواہ نہیں تھی پر تم میرے ساتھ ہو گاڑی بار بار سلپ ہوگی تو مجھے کجھ مت کہنا۔شازل گاڑی سٹارٹ کرتا اُس کو بولنے لگا۔

میں نہیں کہوں گی کجھ پر کیا گاڑی اب بس اسلام آباد میں رُکے گی؟ماہی اب رلیکس ہوتی پوچھنے لگی۔

نہیں گاڑی مین روڈ پہنچنے کے بعد دریائے جہلم کے عین کنارے پہ واقع ریسٹورنٹ ٹیولپ میں رُکے گی وہاں کھانا کھانے کے بعد ہم کہی اور جائے گے۔شازل نے یہ بات عام انداز میں کہی تھی یا طنزیہ ماہی سمجھ نہیں پائی پر خیر اُس نے مزید کوئی اور سوال نہیں کیا کیونکہ اُس کو لگا شازل نے طنزیہ کیا تھا وہ اسلام آباد جارہے تھے تو جہلم جانے کا تو سوال پیدا نہیں ہوتا تھا اگر وہ لاہور جارہے ہوتے تو اُس کے بارے میں سوچا جاسکتا تھا۔

میں بھی کتنی پاگل ہوں۔ماہی خود کو کوستی کھڑی کی طرف اپنا چہرہ کیا شازل ایک نظر اُس پہ ڈالتا سی ڈی آن کرگیا جس میں انجانے میں ہی صحیح ماہی کا فیورٹ گانا گاڑی میں گونج اُٹھا

وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی

کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی

عداوتیں تھیں، تغافل تھا، رنجشیں تھیں مگر

بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا، بے وفائی نہ تھی

بچھڑتے وقت ان آنکھوں میں تھی ہماری غزل

غزل بھی وہ جو کسی کو ابھی سنائی نہ تھی

ماہی کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئ تھی اُس کو سب کجھ اب خوبصورت لگ رہا تھا۔وہ ہمسفر تھا گانا ماہی کا موسٹ فیورٹ گانا تھا پر آج اپنے ہمسفر کے ساتھ سن کر اور زیادہ پسند آرہا تھا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

تم نے بات کی حریم سے؟کلثوم بیگم دُرید شاہ کے کمرے میں آتی اُس سے پوچھنے لگی جو زمینوں کے کاغذات دیکھ رہا تھا

کونسی بات؟دُرید شاہ کا سارا دھیان کاغذوں پہ تھا۔

شادی کے بارے میں۔کلثوم بیگم نے یا کروایا

میں نے اُس کا جواب دیا تھا آپ کو اُسی وقت حریم کی شادی کا خیال آپ اپنے دماغ سے نکال دے۔دُرید نے سنجیدگی سے جواب دیا

دیکھو دُرید بلاوجہ کی ضد مت کرو وہ اٹھارہ سال کی ہونے والی ہے یہی عمر ٹھیک ہے۔کلثوم بیگم نے سنجیدگی سے ٹوکا

حریم کی پڑھائی پوری نہیں ہوئی آپ خالہ جان سے آروش کی بات کریں ویسے بھی تابش اور آروش ہم عمر ہے۔دُرید شاہ کا جواب وہی تھا۔

میں یہاں تم سے حریم کی بات کرنے آئی ہوں اور تم ہو کے بات کو آروش کی طرف لے جارہے ہو۔کلثوم بیگم ناگوار لہجے میں بولی

پہلے آپ مجھے یہ بات بتائے آروش کی شادی کا آپ سب کیوں نہیں سوچ رہے ماشاءاللہ سے اُس کی عمر تو شادی کی ہوگئ ہے نہ پھر کیوں اُس کو گھر میں بیٹھایا ہوا ہے تائی جان حویلی والے سب باتیں بناتے ہیں۔دُرید پوری طرح سے کلثوم بیگم کی جانب متوجہ ہوا تھا۔

آروش تم پہ بوجھ ہے۔کلثوم بیگم افسوس سے دُرید شاہ کا چہرہ دیکھ کر بولی

یہ آپ کیسی بات کررہی ہیں اماں سائیں آروش میری بہن ہے مجھے جان سے زیادہ عزیز ہے آپ نے یہ سوچ بھی کیسے لیا میں اُس کے بارے میں ایسا کجھ سوچ بھی سکتا ہوں میں بس یہ چاہتا ہوں ہمیں اُس کی شادی کردینی چاہیے مجھے اُس کا یوں مایوس رہنا اچھا نہیں لگتا فردوس تائی نور نازلین یہ سب پتا نہیں آروش کے بارے میں کیا کیا باتیں پِھیلا رہی ہیں جس سے آروش ہرٹ ہوتی ہے میں بس اُن سب کے منہ بند کرنا چاہتا ہوں۔دُرید کلثوم بیگم کی بات سن کر تڑپ اُٹھا تھا تبھی ایک سانس میں بولتا چلاگیا۔

پہلے جو ہوا اُس کے بعد آروش شادی نہیں کرنا چاہتی تین سے چار بار اُس نے دولہن کا جوڑا پہنا مگر وہ کبھی سہاگن نہیں بنی آروش نے شاہ صاحب کو قسم دی ہے وہ اب کبھی اُس کی شادی کا نہ سوچے۔کلثوم بیگم دُرید سے نظریں چُراکر بتانے لگی۔

آرو نے قسم کیوں دی کیا کوئی ایسی بات ہے جس سے میں لاعلم ہوں؟دُرید کو حیرت سے کلثوم بیگم کا چہرہ دیکھ کر بولا

مجھے نہیں پتا دُرید اور اتنے سوالات مت پوچھا کرو میں بس یہ کہنا چاہتی ہو آج تم حریم سے خود بات کرو یا میں کروں گی۔کلثوم بیگم گھوم پِھر کر پھر سے حریم کی طرف آئی۔

میں موقع دیکھ کر بات کرلوں گا اُس سے ابھی اُس کا رزلٹ آنا ہے اور حریم یونیورسٹی پڑھنا چاہتی ہے۔دُرید نے بالآخر ہار مان لی۔

یونیورسٹی وہ شادی کے بعد بھی پڑھ سکتی ہے تم بس اُس کو رشتے کے لیے راضی کرو۔کلثوم بیگم کی بات پہ دُرید اُن کا چہرہ دیکھنے لگا جیسے کجھ کھوجنا چاہتا ہو۔

اُس دن آپ نے بس نکاح کا کہا تھا اور آج ڈائریکٹ شادی کی بات کررہی ہیں۔دُرید نے سنجیدگی کہا

تم نے اپنی بےجا ضد پہ پہلے ہی وقت برباد کردیا ہے اب مزید نہیں بہت مناسب رشتہ ہاتھ آیا ہے میں تاخیر نہیں کرنا چاہتی۔کلثوم بیگم نے کہا

حریم کہی بھاگ تھوڑی جارہی ہے جو آپ اتنی جلدی مچا رہی ہیں۔دُرید کو اُن کی بات پسند نہیں آئی۔

لڑکیوں کے معاملے میں دیر نہیں کرنی چاہیے میں چلتی ہوں تم حریم سے بات کرکے مجھے بتانا۔کلثوم بیگم اپنی بات کہہ کر چلی گئ پیچھے دُرید اُن کے رویے کے بارے میں سوچتا رہ گیا اُس کا دل فلحال حریم کی شادی کے لیے مان نہیں رہا تھا پر کلثوم بیگم کے بار بار اسرار پہ وہ مجبور ہوگیا تھا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

اتنی دیر کردی۔فجر جو کب سے یامین کا انتظار کررہی تھی پر ارمان جانے کہاں اُس کو لیکر غائب ہوگیا تھا شام کے وقت وہ جب واپس آئے تو فجر چھیننے والے انداز میں اُس سے یامین کو لیتی بولی

بس گھومنے پِھرنے میں وقت کا پتا نہیں چلا پت دیکھے ہم رات سے پہلے واپس آگئے۔ارمان آسمان کی جانب دیکھ کر بتانے لگا

بڑا احسان کیا۔فجر نے طنزیہ کیا

نہیں احسان والی تو کوئی بات نہیں اب میں چلتا ہوں۔ارمان مسکراکر بول کر یامین کے سر پہ پیار کیا۔

اگر بچے اتنے پسند ہیں تو شادی کیوں نہیں کرلیتے۔فجر نے جانے کیا سوچ کر پوچھا

کرلیں شادی؟ارمان دانتوں کی نمائش کرتا اُلٹا اُس سے پوچھنے لگا۔

کیا مطلب؟فجر نے گھورا

میرا مطلب کرلوں گا شادی۔ارمان گڑبڑا کر جلدی سے بولا

ہمم مجھے تم سے ایک کام تھا۔فجر نے سنجیدگی سے پوچھا

جی بتائے۔ارمان جی جان سے متوجہ ہوا۔

مجھے یمان کا پرسنل نمبر چاہیے۔فجر کی بات پہ ارمان بُری طرح سے پھسا۔

انہوں نے منع کیا ہے کسی کو بھی نمبر دینے سے۔ارمان سرجھکائے بولا

میں کسی نے اُس کی بہن ہوں وہ بھی بڑی۔فجر نے جتایا

میں جانتا ہوں پر سر ناراض ہوگے۔ارمان نے اپنی مجبوری بتائی۔

نمبر دے رہے ہو یا نہیں؟فجر نے دو ٹوک انداز میں پوچھا تو ارمان سر اُٹھا کر اُس کو دیکھا جس کے چہرے پہ اُمید بھرے تاثرات تھے اور یہی ارمان کی ہار ہوئی تھی بنا یمان کے ری ایکشن کا سوچتے اُس نے نمبر دے دیا۔

شکریہ۔فجر کے چہرے پہ چمک آئی تھی جو ارمان نے آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔

میں چلتا ہوں پھر۔ارمان اتنا کہتا واپسی کے راستے چلاگیا۔

امی آج ہم نے بہت انجوائے کیا جھولے پہ بھی بیٹھا اور پارک میں ہم نے فٹ بال گیم بھی کھیلی۔فجر باہر کا دروازہ بند کرکے یامین کو لیتی اندر آئی تو وہ کسی ریڈیو کی طرح شروع ہوگیا۔

اچھا پر میری جان اگلی بار آپ اِن انکل کے ساتھ نہیں جائے گے۔فجر نے پیار سے سمجھایا

پر کیوں وہ ارمان انکل تو بہت پیارے ہیں مجھے آئسکریم بھی کِھلائی۔یامین کی آخری بات پہ فجر آنکھیں چھوٹی کیے اُس کو گھورا

اتنی سردی میں اُس نے تمہیں آئسکریم کِھلائی اگر تمہاری طبیعت خراب ہوئی تو آدھی رات ہسپتال ہمیں وہ لیں جائے گا۔فجر کو ارمان پہ انتہا کا غصہ آیا۔

وہ۔یامین اپنی بے اختیاری پہ لب دانتوں تلے دباگیا۔

چلو تم اندر اپنے اِس ارمان انکل کو تو بھول جاؤ۔فجر اُس کو گود میں اُٹھائے بولی تو یامین کا منہ بن گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *