Haal e Dil by Rimsha Hussain NovelR50524 Haal e Dil (Episode 56)
Rate this Novel
Haal e Dil (Episode 56)
Haal e Dil by Rimsha Hussain
یمان کیا ہوگیا ہے اِس لہجے میں بات کیوں کررہے آروش کو بُرا لگ سکتا ہے۔زوبیہ بیگم یمان کا آج ایسا رویہ دیکھ کر حیرت سے غوطہ زن ہوتی ہوئی بولی یمان جو ہر وقت آرام سے بات کرتا تھا اور اب یوں اِس طرح۔
مجھے بھی بُرا لگ سکتا ہے آپ لوگوں کا یوں بار بار اِن کو میری بہن کہنا۔یمان بولے بنا نہ رہ پایا
سوری بیٹا لگتا ہے یمان آج شاید نیند میں ہے۔زوبیہ بیگم یمان کو گھور کر آروش سے بولی جو اب اپنے چائے کے کپ کو دیکھ رہی تھی۔
کوئی بات نہیں۔آروش محض بس یہی بولی تو یمان نے اُس کی پشت کو گھورنے لگا جو انجان بن کر بیٹھی تھی۔
یمان میں نے تمہیں اِس لیے آواز دی تھی کیونکہ روزی کا فون آیا تھا۔زوبیہ بیگم نے ابھی اتنا کہا تھا جب یمان بیچ میں بول پڑا
کون روزی؟
یمان میری مانو کمرے میں جاکر اپنی نیند پوری کون روزی؟تمہاری فیانسے روزی جس کے ساتھ کجھ وقت میں شادی ہے۔زوبیہ بیگم کو آج یمان ٹھیک نہیں لگا تبھی کہا۔
“فیانسے”لفظ پہ آروش نے نظریں اُٹھا کر زوبیہ بیگم کو دیکھا جو یمان کو دیکھ رہی تھی۔
کیوں فون کیا تھا اُس نے آپ کو؟یمان کو اِس وقت روزی کا ذکر ایک آنکھ نہیں بھایا تھا
اُس کی کجھ فرینڈز ہیں جن سے وہ تمہیں ملوانا چاہتی ہے ساتھ میں تم دونوں کو پارٹی میں بھی جانا ہے جو تم دونوں کے لیے آرگنائز کی گئ ہے۔زوبیہ بیگم نے اُس کو بتایا
میرا آج ٹف شیڈول ہے میری طرف سے آپ معذرت کرلے۔یمان نے فورن سے انکار کیا
یمان اچھا نہیں لگتا وہ فیانسی ہے تمہاری اُس کا حق ہے تم پہ بیچاری تم سے مانگتی کیا ہے اور مجھے ویسے بھی آروش کو لیکر مال جانا ہے شاپنگ کے لیے۔زوبیہ بیگم نے اُس کو سمجھانے کی خاطر کہا
شاپنگ پہ یہ چلے گی؟یمان جتنا حیران ہوسکتا تھا اُتنا ہو کر بولا
میں آپ کے ساتھ نہیں جاسکتی میں خود نہیں جاتی کہی حویلی میں بھی اماں سائیں سارا کجھ کرتی تھی یہاں بھی آپ کردے۔زوبیہ بیگم اُس سے پہلے یمان کو جواب دیتی آروش بول کر اُٹھ کھڑی ہوئی۔
رکو تو کہاں جارہی ہو۔زوبیہ بیگم نے اُس کو جاتا دیکھا تو آواز دی
میں اپنے کمرے میں جارہی ہوں دو پہر کی نماز کا وقت ہوگیا ہے۔آروش جواب دیتی تیز قدموں کے ساتھ وہاں سے چلی گئ۔
یہ کیا بات ہوئی ساتھ چلتی تو اچھا تھا نہ۔زوبیہ بیگم پریشانی سے بڑبڑائی
میں چلتا ہوں آپ کے ساتھ کیا پتا میری وجہ سے آپ کی کجھ مدد ہوجائے گی۔یمان جلدی سے زوبیہ بیگم کے پاس بیٹھ کر بولا
تمہارا تو آج ٹف شیڈول تھا؟زوبیہ نے گھور کر طنزیہ کیا تو یمان سٹپٹاگیا۔
“تھا”ٹف شیڈول تھا اب نہیں ہے۔یمان نے “تھا”لفظ پہ خاصا زور دے کر کہا
یمان؟زوبیہ نے مشکوک نظروں سے اُس کو دیکھا
موم آپ ماں ہیں اور آپ سے بڑھ کر میرے لیے کوئی ٹف شیڈول تو نہیں ہوسکتا نہ پہلے ماں پھر کام دوجا۔یمان اُن کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیکر بولا تو زوبیہ بیگم اُس کے واری صدقے ہوئی۔
ماں صدقے جائے میں بس چینج کرلوں پھر چلتے ہیں۔زوبیہ بیگم خوش ہوتی اُس کا ماتھا چوم کر بولی
میں تب تک گاڑی سٹارٹ کردیتا ہوں پورچ سے نکال کر۔یمان جوابً بولا تو زوبیہ بیگم اُٹھ کر چلی گئ۔
یمان ابھی باہر جانے والا جب اُس کی نظر ٹیبل پہ چائے کے کپ پڑی جس میں آروش کجھ دیر پہلے چائے پی رہی تھی۔یمان نے ایک چور نظر آس پاس ڈورائی پھر وہ کپ اپنے ہاتھ میں لیا جس میں آدھی چائے ابھی بھی باقی تھی۔یمان چند پل اُس کو دیکھتا رہا پھر وہی کپ اپنے ہونٹوں کے پاس کیے آروش کی بچائی ہوئی چائے کا سِپ لینے لگا۔







کیا ہوا آپ پریشان ہیں؟ماہی نے شازل کو بہت دیر تک بات کرتا نہ دیکھا تو خود ہی بات کا آغاز کیا اُس کو محسوس ہوا تھا جب سے وہ شہر سے منتھلی چیک اپ کے بعد واپس آئے تھے شازل کجھ خاموش سا تھا مگر اصل بات کیا تھی وہ اُس سے بے خبر تھی۔
ہاں نہیں میں کیوں پریشان ہونے لگا۔شازل اُس کی بات سن کر چونک کر بولا
پھر اتنا خاموش تو نہیں ہوتے آپ جتنا آج ہیں۔ماہی اُس کے پاس بیٹھ کر بولی
تمہیں زیادہ فیل ہورہا ہے ورنہ ایسی کوئی بات نہیں۔شازل اُس کی ناک دبائے بولا
کاش ایسا ہی ہو۔ماہی نے کہا
ہممم ایسا ہی ہے خیر تم نے دوائی لی؟شازل بات بدل کر بولا۔
جی لی ہے۔ماہی نے مسکراکر کہا
اوکے پھر آرام کرتا ہوں،میں آتا ہوں کجھ ضروری کام ہے۔شازل اُس کا گال تھپتھپاکر بول کر اُٹھ کھڑا ہوا۔
شازل۔شازل اُس کے پاس سے گُزر رہا تھا جب ماہی نے اُس کا ہاتھ پکڑا
کیا ہوا؟شازل سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھنے لگا۔
آپ پریشان ہے مجھے لگ رہا ہے۔ماہی شازل کو اتنا چپ دیکھ کر روہانسی ہوئی۔مگر شازل کے چہرے پہ گہری مسکراہٹ آئی تھی۔
یہاں آؤ۔شازل نے اُس کو اپنے حصار میں لیا تو ماہی پرسکون ہوتی اُس کے سینے لگی اپنی آنکھوں کو بند کرگئ تھی۔
میں پریشان اِس لیے ہوں کے میں نے اکثر سُنا ہے عورتیں شادی کے بعد جب بچے پیدا کرتی ہیں تو اُن کا ویٹ بڑھ جاتا ہے فِگر بھی ڈول مول سی ہوجاتی ہیں کوئی کپڑے اُن کو فِٹ ہی نہیں آتی چلنے میں بھی اُن کو دُشواری ہوتی ہے اُٹھنے میں تو کسی کے سہارے کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔تم اتنی گولوں مولوں سی ہوگئ ہو مگر میں خود کو یہ تسلی کرواتا ہوں ہمارے بچے کی پیدائش کے بعد تم پھر سے پہلی کی طرح سمارٹ نظر آؤں گی۔پر اگر ایسا نہ ہوا تو بیڈ پہ تم سوؤں گی تو میں کہا؟سوؤں گا۔بس ایک یہ فکر ہے جو رات کو مجھے سونے نہیں دیتی۔ماہی جو اپنی آنکھیں بند کیے ہوئی تھی شازل کی سنجیدہ لہجہ میں گوہر افشانی سن کر اُس کے چودہ طبق روشن ہوئے وہ ایک ہی جھٹکے سے شازل سے دور ہوتی آنکھیں پھاڑ کر اُس کو دیکھنی لگی جس کا قہقہقہ ضبط کرنی کی کوشش میں سفید رنگت سرخ ہوگئ تھی۔
شازل آپ بہت بہت بہت زیادہ مین ہیں۔ماہی دانت کچکچاکر بولی
ہاہاہاہا میری گولوں مولوں سی بیوی اگر میں نے کہا پریشان نہیں ہو تو تم کیوں پریشان ہو رہی ہو ایسی بات سوچ کر جب کی ڈاکٹر نے تمہیں اِس حالت میں کوئی بھی اسٹریس لینے سے منع کیا ہے۔شازل اُس کے سامنے آتا اُس کا ماتھا چوم کر بولا
مجھے آپ سے بات نہیں بہت بُرے ہیں آپ ہر بار میرا مذاق اُڑاتے ہیں جب ہمارا بے بی ہوگا نہ تو میں آپ کی شکایت کروں گی اُس سے۔ماہی نروٹھے پن سے بولی
یہ ظلم مت کرنا اپنے معصوم شوہر پہ۔شازل نے مظلوم سی شکل بنائی۔
میں تو کروں گی۔ماہی کا انداز دیکھ کر شازل مسکراکر دوبارہ سے اُس کو اپنے حصار میں لیکر اُس کے بالوں میں بوسہ دیا۔







یمان اور زوبیہ بیگم اسلام آباد کے بڑے مال میں داخل ہوگئے تھے یمان نے اپنے چہرے پہ ماسک پہنا ہوا تھا جس وجہ سے اُس کا چہرہ کور تھا وہ نہیں چاہتا تھا لوگوں کی بھیڑ جمع ہو۔اور یہاں مال میں یمان آیا تو زوبیہ بیگم کے ساتھ تھا مگر مال میں داخل ہوتے ہی اُس کی نظر ہر طرف پِھر رہی تھی وہ زوبیہ بیگم کے ساتھ ہوکر بھی اُن کے ساتھ نہیں تھا۔
یمان آروش کے لیے یہ ڈریس کیسا رہے گا۔زوبیہ بیگم ایک ڈریس یمان کے سامنے کیے بولی۔
یمان جو پرشوق نظروں سے ایک وائٹ کلر کے خوبصورت گاؤن کو دیکھ رہا تھا زوبیہ بیگم کی آواز پہ چونک کر اُن کی جانب دیکھا جو ایک گھٹنوں تک آتی شرٹ اُس کو دیکھا رہی تھی جو تھی سلیولیس۔
یہ آپ آروش کے لیے رہی ہیں؟یمان کی آنکھوں میں ناگواری بھرے تاثرات آئے تھے جس کو چُھپانا اُس نے ضروری نہیں سمجھا
ہاں پیاری ہے نہ کالا رنگ تو اُس پہ خوب بھی جچے گا۔زوبیہ بیگم خاصے پرجوش لہجے میں بولی۔
آہمم۔آپ کو نہیں لگتا کجھ اور لینا چاہیے اُن کے لیے جیسے یہ گاؤن کتنا پیارا ہے ساتھ سیم کلر کا حجاب بھی ہے یا پھر وہ ڈریسز دیکھے کتنے پیارے اور نفیس ہیں۔یمان کبھی گاؤن تو کبھی خوبصورت پرنٹڈ سوٹس کی طرف اِشارہ کرتا اُن کو بتانے لگا۔
ہم کونسا آروش کو کسی میلاد میں بھیج رہے جو ایسے ڈریسز لے ماڈرن زمانہ ہے تمہیں لڑکیوں کی شاپنگ کا نہیں پتا میں خود ہی دیکھ لیتی ہوں۔زوبیہ بیگم نے اُس کی بات سن کر ہنس کر سرجھٹکا
آپ کا یہ ماڈرن زمانہ اُن کو نہیں آنے والا پسند خیر ہم اپنی فیوچر وائیف کے لیے اُن کے حساب سے خریداری کرتے ہیں جو غالباً نہیں یقیناً اُن کو بہت پسند آئے گی۔یمان زوبیہ بیگم کو دیکھ کر سوچتا اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا۔
ایکسکیوزمی۔یمان نے ایک سیلز بوائے کو اپنی جانب متوجہ کیا۔
Yes,sir how can I help you ?
سیلز بوائے مسکراکر یمان کے پاس آکر بولا
مجھے یہ گاؤن پیک کرکے دے اور ساتھ میں بیس پچیس ڈریسز کے درمیان نفیس خوبصورت کے ڈریسز بھی جس میں سیم کلر کا ڈوپٹہ اور اسٹالر بھی ہو۔ آپ کو سمجھ آرہا ہے نہ میرے کہنے کا مطلب؟۔یمان اپنی بات کرنے بعد تائید نظروں بھری نظروں سے اُس کو دیکھنے لگا
Yes,of course sir, I completely understand.
سیلز بوائے یمان کی بات سن کر مسکراکر بول کر کجھ ڈریسز اُس کے سامنے کیے۔
آپ کے کہنے کا مطلب تھا ایسی ڈریسز جو مشرقی گرلز پہنتی ہیں۔سیلز بوائے ڈریسز پیک کرنے کے بعد بیگز یمان کی طرف بڑھا کر بولا
یا رائٹ۔یمان ہنس کر بولا پھر ایک چور نظر آس پاس کی جہاں زوبیہ بیگم نہیں تھی شاید وہ کہیں اور گئ تھی۔یمان مال سے باہر آتا اُن سب بیگز کو گاڑی کی پچھلی ڈگی میں رکھ کر دوبارہ مال کے اندر آتا زوبیہ بیگم کو تلاش کرنے لگا۔
آپ کی ہوگئ شاپنگ پانچ گھنٹے ہوگئے ہیں۔یمان کو مال کے تین چار چکر کاٹنے کے بعد بلاآخر زوبیہ بیگم ملی تو ہاتھ میں پہنی گھڑی میں وقت دیکھ کر اُس نے کہا
آلموسٹ ہوگئ ہے بس ایونٹ کے لیے آروش کے لیے کوئی ڈریس پسند نہیں آرہا سوچ رہی ہو وہ اپنی ڈیزائنر سے ڈیزائن کراؤ۔زوبیہ بیگم نے پرسوچ لہجے میں اُس سے کہا
ایونٹ؟یمان سوالیہ نظروں سے اُن کو دیکھنے لگا۔
ہاں آروش کے لیے ہم نے ایک پارٹی آرگنائز کرنے کا سوچا ہے۔زوبیہ بیگم نے بتایا
او اچھا۔یمان صرف یہی بول پایا
ہاں اور آج رات زر فشاں زر نور زرگل بھی پاکستان لینڈ کررہی ہیں۔زوبیہ بیگم نے مزید بتایا
یہ تو اچھی بات ہے۔یمان اُن کی خوشی دیکھ کر مسکرایا۔







آروش یہ تمہارے لیے کال ہے تمہارے گھر سے۔نور آروش کے کمرے میں آتی اپنا فون اُس کی جانب بڑھائے بولی تو آروش ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی۔
میرے لیے کال آپ کے سیل فون پر؟آروش کو بات کجھ سمجھ نہیں آئی۔
ہاں حویلی سے ہے شاید انہوں نے ڈیڈ کو کال کی تھی مگر وہ تو یہاں تھے نہیں تو میرا نمبر اُن کو دے دیا۔نور نے بتایا تو آروش نے بے چینی سے اُس کے ہاتھ سے فون لیکر اپنے کان کے پاس کیا۔
السلام علیکم۔آروش فون کان کے پاس کرتی سلام کرنے لگی۔نور ایک مسکراتی نظر اُس پہ ڈال کر کمرے سے باہر چلی گئ۔
وعلیکم السلام کیسی ہو میری بچی؟دوسری جانب سے نم لہجے میں کلثوم بیگم سے پوچھا
جیسی بھی ہوں آپ لوگوں کو کیا آپ لوگوں نے تو پرواہ سمجھ کر حویلی سے بے دخل کردیا تھا۔آروش شکوہ بھرے لہجے میں بولی
ایسے مت کہو آروش۔کلثوم بیگم تڑپ کے بولی
تو اور کیا کہوں اماں سائیں؟جب سے یہاں آئی ہوں کسی نے مجھے یاد تک نہیں شازل لالہ نے بھی نہیں مجھے لگا تھا اُن کو جیسے پتا چلے گا وہ مجھے لینے آئے گے مگر آپ سب نے بتادیا میں تب سب کو پیاری تھی جب شھباز شاہ کی بیٹی تھی جب پتا چلا میں کسی دلاور خان کی بیٹی ہوں تو سب نے منہ موڑ لیا۔آروش کی آنکھیں بھیگی تھی۔مگر دوسری جانب موبائل جو اسپیکر پہ تھا دُرید شاہ اور شازل شاہ نے سختی سے اپنے ہونٹوں کو بھینچا تھا اُس کی بات پہ۔شازل کلثوم بیگم سے موبائل لیتا اسپیکر آف کرتا اپنے کان کے پاس کرگیا۔
بہت بدگمان ہوگئ ہو آرو۔شازل نے افسوس بھرے لہجے میں کہا
بدگمان کرنے والے بھی آپ سب ہیں۔آروش پہلے تو شازل کی آواز پہ حیران ہوئی تھی مگر اُس پہ قابو پہ دوبدو بولی۔
تمہیں کیا لگتا ہے ہمیں تمہاری پرواہ نہیں تمہاری یاد نہیں آتی؟شازل نے سنجیدگی سے کہا
بلکل یہی لگتا ہے اگر آپ کو میری پرواہ ہوتی تو آج میں یہاں نہ ہوتی آپ میں سے کسی کو میری یاد کیوں آئے گی؟جب بابا سائیں کو پتا نہیں کے اُن کے دل کا ٹکڑا کس حال میں ہے۔شھباز شاہ کا خیال آتے ہی اُس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔
کیا کجھ ہوا ہے آرو مجھے بتاؤ؟شازل اُس کی آخری بات پہ پریشان ہوا جب کی دُرید اور کلثوم بیگم کی نظریں بھی اُس پہ ٹک گئ۔
اور نہیں تو کیا حویلی میں کسی کو ایک بار کوئی کام کہتی تھی یا کوئی چیز لانے کا کہتی تھی تو مل جایا کرتی تھی اور یہاں جب سے آئی ہوں ہر ایک سے جائے نماز اور قرآن کا بولا ہے بار بار یاد بھی کرواتی ہوں مگر مجال ہے جو کسی نے اُس پہ عمل کیا ہوا ہاں کہہ کر چلے جاتے ہیں اور ایک میں ہوں جو یہاں بس اُن کی راہ تکتی ہوں۔آروش شکایتی لہجے میں بولی تو شازل نے گہری سانس لی۔
تو پھر کیا تم نے نماز نہیں پڑھی اتنے وقت سے؟شازل نے پوچھا اور کال دوبارہ سے اسپیکر پہ کی۔
لالہ نماز کیسے چھوڑ سکتی ہوں وہ پڑھتی ہوں ایک شال ہے اُس کو بار بار دھوتی ہوں یا کبھی ایسے ہی فرش پہ پڑھ لیتی ہوں مگر جائے نماز کا ہونا تو ضروری ہے نہ۔آروش کی بات پہ دُرید اور شازل کو اُس پہ انتہا کا پیار آیا تھا جب کی کلثوم بیگم کے چہرے پہ فکرمندی چھائی۔
آروش تم دھوتی ہوں شال؟اسلام آباد میں تو ٹھنڈ بھی ہوگی زیادہ پانی میں ہاتھ مت ڈالا کرو ورنہ بیمار پڑجاؤ گی۔کلثوم بیگم نے پریشانی سے کہا
یہاں میرے لیے بابا سائیں نے کوئی خاص ملازمہ نہیں رکھی ہوئی جو گلاس پانی کا بھی خود اُٹھا کر دے دن میں جانے کتنی بار دھونی پڑتی ہے اب بار بار تو میں کسی کو نہیں بُلاسکتی نہ کیا سمجھے گے کتنی پھوہر ہے یہ۔آروش کلثوم بیگم کی بات پہ سرجھٹک کر بولی۔
پھوہر تو تم ہو۔شازل نے اُس کو چڑایا تو دُرید نے اُس کو گھور کر دیکھا جب کی کلثوم بیگم اُس کی بات نظرانداز کیے آروش سے بولی
لالہ سے تو اچھے سے بات کی ماں سے کیوں ایسے بات کررہی؟
کیونکہ جب میں یہاں آرہی تھی تو آپ نے مجھے گلے نہیں لگایا تھا اور نہ ماتھا چوم کر یہ کہا تھا اللہ کی امان۔آروش بنا تاخیر کیے بولی
آرو کونسا تم جنگ یا بارڈر پہ جارہی تھی جو اماں سائیں ایسا کرتی۔شازل نے کہا تو کلثوم بیگم نے ایک تھپڑ اُس کے بازوں پہ جھرا تو وہ منہ بسور کے بیٹھ گیا۔
آروش تمہیں میں لینے آؤں؟دُرید نے پہلی بار باتوں میں حصہ لیا۔
بابا سائیں واپس یہاں بھیج دینگے۔آروش افسردگی سے بولی
ان کا دل بھی نہیں لگتا یہاں تمہارے بنا۔کہتے نہیں مگر نظر آتا ہے۔دُرید نے نرمی سے کہا
وہ جب خود سے کہے تو آجاؤں گی یا جب حُریم کی ڈیلیوری کا وقت قریب ہوگا۔آروش نے سنجیدگی سے کہا
حریم سے پہلے میرا بچہ اِس دُنیا میں آئے گا تو کیا تب نہیں آؤں گی؟میں بتارہا ہوں آرو بات نہیں کروں گا کبھی۔شازل نے رعب سے کہا۔
لالہ مجھے یاد ہے آپ کے بچے کی پیدائش میں اب بس خیر سے دو ماہ رہتے ہیں اور آپ کو پتا ہے اگر آپ لوگوں نے بچے کا نام نہیں سوچا تو وہ رکھ لے جو میں نے سوچا ہے آخر کو میں بھی پُھپھو ہوں اُس کی۔آروش کا لہجہ اشتیاق سے بھرپور ہوگیا تھا۔وہ تینوں بھی مسکراکر اُس کی طرف متوجہ ہوئے
ہم نے واقع ابھی تک نہیں سوچا تم بتاؤ کیا سوچا ہے؟شازل نے مسکراکر پوچھا
اگر خیر سے بیٹا ہوا تو “سید شازم شازل شاہ”اور اگر خیر سے بیٹی ہوئی تو “سیدہ شازمہ شازل شاہ”۔آروش نے بتایا
ماشااللہ نام تو دونوں پیارے ہیں۔کلثوم بیگم نے کہا تو آروش خوش ہوئی۔
لالہ آپ کو کیسا لگا نام؟آروش نے شازل سے جاننا چاہا
مجھے بھی بہت پسند آئے ہیں ہم یہی نام رکھے گے۔شازل نے کہا
ماہی کو بُرا تو نہیں لگے گا نہ وہ ماں ہے۔آروش کو اچانک ماہی کا خیال آیا تو پوچھا
نہیں وہ بے غرض اور معصوم ہے مجھے پتا ہے اگر میں اُس کو یہ نام سُناؤں گا تو خوش ہوگی کیونکہ نام اُس نے نہیں سوچے صرف کھانے کی پڑی رہتی ہے۔اور اب تو جیسے جیسے ڈیلیوری کا وقت قریب پہنچ رہا ہے وہ چڑچڑی سی ہونے لگی ہے۔شازل کے لہجے میں ماہی کے ذکر میں محبت تھی جس کو سب نے محسوس کیا تھا۔
ٹھیک ہے ویسے لالہ حریم کہاں ہیں میری اُس سے بات کروائے۔آروش نے مسکراکر کہا
وہ سو رہی ہے اُس کو آجکل نیند بہت آنے لگی ہے تم کل اُس سے بات کرنا جب وہ جاگ رہی ہوگی تو میں تمہیں کال کردوں گا اِسی نمبر پہ۔اِس بار جواب دُرید نے دیا تھا۔
