Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 11)

Haal e Dil by Rimsha Hussain

شازل شاہ جو دُرید کے کہنے پہ گاؤں چلا آیا تھا حویلی میں داخل ہوتے ہیں شبانا کو کسی لڑکی کے ساتھ بے رحمی والا سلوک دیکھ کر اُس کے ماتھے پہ بل آئے تھے مگر جب اُس نے لڑکی کو گِرتے دیکھا تو جلدی سے اُس کو گِرنے سے بچایا۔

آر یو اوکے؟شازل اُس کا زخموں سے بھرا چہرہ دیکھ کر فکرمندی سے پوچھنے لگا ماہی جو کمزوری کے باعث پہلے سے ہی نڈھال تھی ایک نظر شازل کو دیکھنے کے بعد بے ہوش ہوگئ تھی جس کو دیکھ کر شازل کے ہاتھ پیر پُھول گئے اُس نے اُٹھا کر صوفے پہ لیٹانا چاہا پر اُس کو ہاتھ لگانے سے ایک جھجھک آرے آگے آرہی تھی تبھی زور زور سے ملازماؤں کو آوازیں دینے لگا جو اُس کی ایک ہی پُکار پہ حاضر ہوگئے تھے۔

شبانا شازل کی اچانک آمد پہ ہڑبڑا کر جلدی سے اپنے چہرے پہ چادر ڈالی تھی

کون ہے یہ اور بھابھی آپ کیسے کسی لڑکی کے ساتھ ایسا سلوک کرسکتی ہیں۔شازل کاٹ دار لہجے میں بولا تو شبانا کے چہرے پہ طنزیہ مسکراہٹ آئی۔

میرے سہاگ کو اُجاڑنے والی کی بہن ہے اور تم اِس کمبخت کو چھونے سے کتراؤ نہیں کاغذی ہی صحیح تمہاری بیوی ہے۔شبانا کی بات سن کر شازل کتنی ہی دیر اپنی جگہ سے ہل نہیں پایا اُس نے بے یقینی نظروں سے ماہی کے چہرے پہ نگاہ ڈالی جو نیلوں نیل تھا شازل کو خود پہ انتہا کا غصہ آیا تھا تبھی وہ بنا کسی کی پرواہ کرتا ایک جھٹکے میں اُس کو گود میں اُٹھاتا باہر کی طرف بڑھا۔شبانا کا منہ حیرت سے کُھلا کا کھلا رہ گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ کیا لگتے ہیں پیشنٹ کے؟شازل فلحال ماہی کو گاؤں میں موجود چھوٹے سے ہسپتال لایا تھا جہاں لیڈی ڈاکٹر نے شازل سے پوچھا

بیوی ہے۔۔شازل کو یہ بتاتے ہوئے دل چاہا ڈوب کے مرے۔

میں سمجھ گئ یہ وہی ہے نہ جو ونی میں آئی ہے؟انہوں نے افسردہ نظر بیڈ پہ لیٹی ماہی پہ ڈال کر پوچھا جس پہ شازل نے محض سر کو جنبش دی۔

دوائی میں کجھ لکھ کر دے رہی ہو ہوسکے تو ان کو بیڈ ریسٹ کرنے دے ساتھ میں اِن کی غذا کا بہت خیال کریں۔

ٹھیک ہے۔شازل اُن کی بات کے جواب میں بولا

آپ اِن کو لیکر جاسکتے ہیں پر چیک اپ ضرور کروائیے گا ہفتے میں دو بار تاکہ ان کے زخموں کا معائنہ کرسکوں۔ڈاکٹر نے کہا تو شازل ناسمجھی سے اُن کو دیکھنے لگا۔

مطلب؟شازل نے جاننا چاہا

شاید آپ کو پتا نہیں ان کے چہرے سے زیادہ جسم پہ بھی زخم ہے کافی تشدد کا نشانہ بنی ہیں۔انہوں نے تفصیل سے بتایا تو شازل نے غصے سے ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آپ کا بیٹا اُس کو باہر لے گیا ہے آپ اُس کو بتادینا وہ اُس کو اپنی بیوی تسلیم نہ کرے ورنہ میں اؐن دونوں کو چھوڑوں گی نہیں۔جب سے شازل باہر گیا تھا ماہی کو لیکر تب سے شبانا کے جسم میں آگ لگی ہوئی تھی اُس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ کیا کر گزرتی تبھی وہ کلثوم بیگم کے کمرے میں آتی اپنے دل کا غبار نکال رہی تھی۔

وہ اُن دونوں کا معاملہ ہے تم دور رہو۔کلثوم بیگم سنجیدگی سے بولی

تائی جان یہ اُن دونوں کا معاملہ نہیں میرا اور اُس بدذات لڑکی کا معاملہ ہے شازل سے کہے وہ دور رہے۔شبانا آپے سے باہر آئی

میں شازل سے کہوں وہ اپنی بیوی سے دور رہے اچھا مذاق ہے۔کلثوم بیگم سرجھٹک کر بولی

بیوی نہیں ہے وہ اُس کی ونی میں آئی ہوئی جس کی حیثیت دو ٹکے کی بھی نہیں۔شبانا پاگل ہونے کے در پہ تھی۔

ایک لڑکی کی حیثیت کیا ہوتی ہے وہ اُس کا شوہر طے کرتا ہے تم اتنا مت سوچو ونی میں آئی ہوئی کا رتبہ جو بھی ہم سمجھے پر ہے وہ شازل کی بیوی اور شازل اتنا بے غیرت نہیں جو اپنی عزت کو یوں دوسروں کے رحم وکرم پہ چھوڑے۔کلثوم بیگم کی بات پہ اُس کے تن بدن میں آگ لگانے کے لیے کافی تھی۔

تائی جا

عدت کے مہینے سکون سے اپنے کمرے میں گُزارو اور کوشش کرنا دوبارہ حویلی کا مرد تمہاری پرچھائی بھی نہ دیکھے آدھا چہرہ یا آواز سننا تو دور کی بات ہے۔شبانا کجھ بولنے والی تھی جب کلثوم بیگم نے ہاتھ کے اِشارے سے بولنے سے باز رکھا۔وہ جو کلثوم بیگم کی خاموش اور صلح مذاج دیکھ کر اُن پہ رعب جمانے آئی تھی اُن کا آج کا روپ دیکھ کر بیچ وتاب کھاتی رہ گئ اور یہ بات سمجھ گئ کے وہ جس سے بات کرنے آئی تھی اپنا روعب جمانے آئی تھی وہ گاؤں کے سرپنج کی بیگم تھی جو پل بھر میں اُس کو خاموش کرواگئ تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شازل ماہی کو واپس حویلی لاتا سیدھا اپنے کمرے میں آیا تھا وہاں بیڈ پہ اُس کو آرام سے لیٹاتا غور سے اُس کی جانب دیکھنے لگا اُس کو اپنے عمل پہ شرمندگی ہورہی تھی ایک پچھتاوا سا ہورہا تھا اگر وہ اُس دن غصے میں چلا نہ جاتا تو شاید حالات آج سے کجھ مختلف ہوتے۔

سوری یار پر ٹینشن نہ لو اب کوئی تمہیں ہاتھ لگانے کی جرئت نہیں کرے گا کیونکہ حالات جیسے بھی تم میرے نکاح میں ہو میری بیوی ہو اِس لیے جب تک تمہارا نام میرے نام سے جُڑا ہے میں تمہاری حفاظت کروں گا۔شازل غور سے اُس کی جانب دیکھتا خود سے عہد کرنے پھر اچانک اُس کی نظر ماہی کے کپڑوں پہ پڑی جو میلے اور شکن زدہ تھے شازل اُس کے وجود پہ نظر ڈالتا اُٹھ کر کمرے سے باہر چلاگیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شازل آروش کے کمرے میں آیا تو اُس کو کھڑکی کے پاس کھڑا پایا۔

آرو۔شازل نے آواز دی۔

لالہ آپ؟آروش نے شازل کو دیکھا تو حیرت سے اُس کے منہ سے بس یہی نکل پایا۔

ہاں میں تم سے ایک کام تھا۔شازل نے کہا

جی کہیں۔آروش اُس کی جانب متوجہ ہوئی

وہ جو لڑکی ہے اُس کی حالت ٹھیک نہیں تم کوئی اپنا ڈریس اُس کو پہنادو تو۔شازل اتنا کہتے کہتے خاموش ہوگیا۔

لڑکی کون آپ کی بیوی؟آروش اُس کی بات سن کر بولی

ہاں وہی۔شازل اتنا کہتا پھر سے خاموش ہوگیا

اتنے وقت بعد آپ کو احساس ہوگیا کے کوئی بیوی بھی ہے آپ کی۔آروش نے بنا کسی تاثر کے کہا

آرو پلیز یار میں پہلے ہی بہت شرمندہ ہوں تم مزید شرمندہ مت کرو۔شازل نے التجا کی۔

میرا اِرادہ آپ کو شرمندہ کرنے کا نہیں میں بس یہ چاہتی ہوں آپ کو احساس ہو اُس لڑکی کے آپ پر کجھ حقوق اور فرائض لاگو ہوتے ہیں جس پہ آپ کو اللہ کے سامنے جوابدہ بھی ہونا ہے میں چاہتی ہوں آپ اچھے طریقے سے اپنے حقوق پورے کریں اور اُس لڑکی کی حیثیت بیان کریں جو کہنے کو تو آپ کی بیوی ہے پر آپ کو اُس کا نام تک نہیں معلوم۔آروش کی باتوں سے وہ شرم سے پانی پانی ہوگیا۔

باقی کے طنز کل کے لیے پینڈنگ پہ رکھ لو۔شازل گہری سانس لیکر بولا

میں اپنے ڈریسز جو میں نے ایک بار بھی استعمال نہیں کیے وہ آپ کے وارڈروب پہ سیٹ کردیتی ہوں جب وہ ٹھیک ہوجائے تو آپ اُس کو شاپنگ کروا دیجئے گا۔آروش سنجیدگی سے بولی

اُس کا نام کیا ہے؟شازل جھجھک کر پوچھنے لگا

جب اُس کی حالت ٹھیک ہوجائے تو آپ پوچھ لینا کے بیگم میں آپ کا مجازی خدا ہوں کیا آپ کے نام جاننے کا شرف حاصل کرسکتا ہوں۔کوئی اور وقت ہوتا تو شازل اُس کی بات پہ ہنس پڑتا پر اِس وقت وہ شرمندگی کی گہیرائی میں دُھنستا جارہا تھا۔

میں جانتا ہوں مجھ سے غلطی ہوئی ہے پر اُس کا مطلب یہ تو نہیں تم ایک ہی وقت میں مجھے شرم سے پانی پانی کردو۔شازل نے اپنا دفع کرنا چاہا۔

میں کون ہوتی ہوں کسی کو شرم سے پانی پانی کرنے والی آپ میرے بھائی ہے مجھے آپ کا احترام ہے میرے دل میں آپ کے لیے محبت ہے بس میں چاہتی ہوں آپ اُس لڑکی کو سپورٹ کرے جو بے قصور ہوکر سب کا ظلم برداشت کررہی ہے۔آروش شازل کے سامنے کھڑی ہوتی بولی۔

فکر مت کرو میں آگیا ہوں نہ سب کو دیکھ لوں گا۔شازل اُس کے سر پہ ہاتھ رکھ کر بولا

مجھے آپ سے یہی اُمید تھی۔آروش ہلکہ سا مسکراکر بولی۔

اور مجھے اپنی بہن کی اُمیدوں پہ پورا اُترنا آتا ہے۔شازل جوابً مسکراکر بولا

💕
💕
💕
💕
💕
💕

ماضی!

آپ نے بُلایا بابا سائیں؟آروش شھباز شاہ کے کمرے میں داخل ہوتی بولی

جی میرا بچہ آجکل آپ کے خلاف بہت شکایات موصول ہورہی ہیں۔شھباز شاہ اُس کو اپنے پاس بیٹھا کر شرارت سے بولے۔

ان کی باتوں میں مت آئے یہ ہمارے درمیان اختلافات کرنے کی سازشیں ہیں۔آروش مزے سے بولی تو وہ ہنس پڑے۔

پھر تم بتاؤ اپنی ماں سے کیا بول رہی تھی۔شھباز شاہ نے محبت سے پوچھا

بابا سائیں وہ ہم شہر جاکر پڑھنا چاہتے ہیں۔آروش نے کجھ ہچکچاہٹ سے بتایا

تمہیں پتا ہے نہ ہمارے خاندان کی عورتیں شہر جاکر پڑھا نہیں کرتی مردوں کے درمیان۔شھباز شاہ سنجیدگی سے بولے

کیا آپ کو مجھ پہ یقین نہیں؟آروش کو دُکھ ہوا

بات یقین کی نہیں۔شھباز شاہ جلدی سے بولے

تو پھر اجازت دے یقین کرے میں آپ کا سر کبھی جُھکنے نہیں دوں گی اور نہ آپ کی عزت پہ آنچ آنے دوں گی۔آروش پُریقین لہجے میں بولی

اماں سائیں کبھی راضی نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا

آپ بات کرے نہ اُن سے پلیز لالہ والے بھی تو آگے پڑھ رہے ہیں نہ تو لڑکیوں پہ ایسی پابندی کیوں۔آروش ایک اور کوشش کرکے بولی تو اپنی لاڈلی بیٹی کے سامنے وہ جیسے ہار مان گئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دماغ ٹھیک ہے تمہارا شھباز شاہ اب کیا ہمارے خاندان کی لڑکیاں شہر جائے گی اور ہاسٹلز میں رہا کریں گی۔مہتاب بیگم سے شھباز شاہ نے جیسے ہی بات کی اُن کا غصہ ساتویں آسمان پہ آ پہنچا۔

اماں سائیں مجھے اپنی بچی پہ پورا بھروسہ ہے اگر وہ آگے پڑھنا چاہتی ہے تو میں رکاوٹ نہیں ڈالوں گا بلکہ اُس کو سپورٹ کروں گا۔شھباز شاہ عاجزی سے گویا ہوئے۔

میں اِس بات کی اجازت قطعیً نہیں دوں گی اگر وہ حویلی کی دہلیز پار کرے گی تو باقیوں کو بھی راستہ مل جائے گا۔مہتاب بیگم صاف انکار کرکے بولی۔

آروش کا دل ٹوٹ جائے گا۔شھباز شاہ آہستہ آواز میں بولے کیونکہ سامنے اُن کی ماں تھی۔

دل شیشے کا نہیں بنا ہوتا اور شاہ خاندان کی لڑکیوں کا دل اور کردار پہاڑوں کی طرح مضبوط ہونا چاہیے ناکہ چھوٹی چھوٹی باتوں کا روگ لگالیں۔مہتاب بیگم ناگواری سے بولی۔

گُستاخی معاف اماں سائیں آروش میری اکلوتی بیٹی ہے مجھے جان سے زیادہ عزیز ہے میں اُس کی کوئی بھی بات ٹال نہیں سکتا اور نہ اُس کی آنکھوں میں آنسو برداشت کرسکتا ہوں۔شھباز شاہ اٹل لہجے میں بولے

بیٹی کے لیے ماں سے بغاوت کررہے ہو۔مہتاب بیگم نے کیناں توز نظروں سے اُس کو دیکھا

بغاوت کیسی اماں سائیں آگے پڑھنا اُس کا حق ہے اور میں آروش کو اُس کے حق سے محروم نہیں رکھ سکتا۔شھباز شاہ یہ بول کر اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑے ہوئے۔

تو میری بات بھی لکھ لو تمہاری یہ بیٹی تمہارا بھروسہ ایک پل میں چکنا چور کرکے تمہیں منہ کے بل گِرائے گی اگر تمہاری اجازت پہ وہ شہر گئ اور وہاں مجھے کوئی اُس کے خلاف ایسی کوئی خبر موصول ہوئی تو اُس کو زہر دے کر میں جان سے مارا تو میرا نام بدل ڈالنا۔مہتاب بیگم تیز آواز میں بولی

میری بیٹی ہے وہ اماں سائیں خدا کے واسطے سوچ سمجھ کر بولے۔شھباز شاہ اُن کی بات پہ تڑپ اُٹھے۔

ابھی تو کہا ہے دل تھام کے رکھو کرنے سے گریز نہیں کروں گی۔مہتاب بیگم ایک طنزیہ نظر اُس پہ ڈال کر بولی

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

حال!

ماہی کی آنکھ کُھلی تو اُس نے خود کو انجان جگہ پہ پایا وہ حیرت سے آس پاس نظر گُھماکر پہنچان نے کی کوشش کرنے لگی۔

شکر ہے تمہیں ہوش آگیا۔اپنے پاس مردانہ آواز سن کر اُس کا دل اچھل پڑا

آپ کون؟ماہی خوفزدہ نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولی

جب اُس کی حالت ٹھیک ہوجائے تو آپ پوچھ لینا کے بیگم میں آپ کا مجازی خدا ہوں کیا آپ کے نام جاننے کا شرف حاصل کرسکتا ہوں۔

ماہی کے سوال پہ شازل کو اپنے کانوں میں آروش کی باتیں گونجنے لگی۔

میں آپ کا مجازی خدا ہوں کیا آپ کے نام جاننے کا شرف حاصل کرسکتا ہوں۔شازل کسی ٹرانس کی کیفیت میں بولا تو ماہی کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئ وہ غور سے شازل کو دیکھنے لگی جو وائٹ شرٹ کے ساتھ بلیک جینز پینٹ میں ملبوس تھا بال نفاست سے سیٹ کیے ہوئے تھا چہرے پہ ہلکی سی شیو اور گلے میں بڑا سا لاکیٹ لٹک رہا تھا۔

کیا ونی میں آئی ہوئی لڑکی کا شوہر اتنا شاندار بھی ہوسکتا ہے۔غور سے شازل کو دیکھنے کے بعد ماہی بس یہ سوچ سکی۔

ہیلو؟شازل نے اُس کے سامنے اپنا ہاتھ لہراکر ہوش میں لانا چاہا

آپ سچ میں میرے شوہر ہیں۔ماہی جھجھک کر پوچھنے لگی۔

جھوٹ میں بھی شوہر ہوتا ہے کیا؟شازل نے مصنوعی حیرت کا مظاہرہ کیا تو ماہی کا سر جلدی سے نا میں ہلا۔

جی پھر میں آپ کا سچ والا شوہر ہوں یہ ہمارا کمرہ ہے اگر تم چل پھر سکتی ہو تو واشروم میں جاکر فریش ہوجاؤ تب تک میں کھانے کا کہتا ہوں۔شازل اُس سے ایسے بات کرنے لگا جیسے جانے کتنے عرصے کی شُناسائی ہو

میں بعد میں ہوجاؤں گی فریش۔ماہی اُس کا اتنا نرم لہجہ دیکھ کر بس یہی بول پائی

اگر کوئی مسئلہ ہے تو کوئی بات نہیں میں لیکر چلتا ہوں۔شازل نے پیش کش کی۔

آپ کیسے لے جاسکتے ہیں؟ماہی نے بے تُکہ سوال کیا

جیسے حویلی سے ہسپتال پھر ہسپتال سے حویلی اور حویلی سے کمرے تک لایا بلکل ویسے ہی۔شازل مسکراہٹ ضبط کیے بتانے لگا

کیسے لائے؟ماہی ابھی تک اُس کی بات سمجھ نہیں پائی۔

گود میں اُٹھاکر۔شازل سرسری لہجے میں بولا پر اُس کے جواب پہ وہ کانوں کی لو تک سرخ پڑگئ

نہیں میں چلی جاؤں گی خود ہی۔ماہی خود پہ قابوں پاتی اُٹھنے کی کوشش کرتی بولی

ایز یو وِش۔شازل نے کندھے اُچکائے۔

ماہی ہمت کرتی واشروم تک پہنچی شازل اُس کو جاتا دیکھنے لگا پھر کسی خیال کے تحت اُس کو آواز دی

سنو!

جی۔ماہی جلدی سے پلٹی۔

تمہارا نام؟شازل یہاں وہاں دیکھ کر بولا

ماہی بخت اور آپ کا۔یہ سوال پوچھتے وقت ماہی کی اپنی حالت بھی شازل سے مختلف نہ تھی۔

شازل شاہ ویسے ہم دُنیا کے انوکھے میاں بیوی ہیں جن کو ایک دوسرے کا نام تک نہیں معلوم۔شازل اپنی بات کے احتتام پہ خود ہی مسکرا پڑا

جب کی واشروم میں جاتی ماہی کے کانوں میں بار بار(میاں بیوی)والے الفاظ گونجنے لگے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *