Haal e Dil by Rimsha Hussain NovelR50524 Haal e Dil (Episode 34)
Rate this Novel
Haal e Dil (Episode 34)
Haal e Dil by Rimsha Hussain
اماں جان حریم کہاں ہیں؟دُرید کلثوم بیگم کے پاس آتا حریم کا پوچھنے لگا۔
صدف آئی تھی اُس کو اپنے ساتھ لیکر گئ ہے۔کلثوم بیگم نے بتایا
خالہ جان آئی تھی پر حریم کو اپنے ساتھ کیوں لیکر گئ اور کہاں گئے ہیں وہ؟دُرید نے سنجیدگی سے پوچھا
نکاح کا جوڑا تو اُس نے اپنی پسند کا لیا تھا پر ولیمے کا جوڑا وہ حریم کو اُس کی پسند کا دِلانا چاہتی تھی تبھی ساتھ لیکر گئ ہے۔کلثوم بیگم نے وضاحت دی۔
ہمارے یہاں ایسا نہیں ہوتا کیا آپ نے خالہ جان کو بتایا نہیں اور حریم پانی تک تو میری اِجازت سے پیتی نہیں خالہ جان کے ساتھ حویلی سے باہر چلی گئ مجھ سے پوچھنا تو دور بتانا تک گوارا نہیں کیا۔دُرید کو حریم کا اِس طرح جانا ہضم نہیں ہورہا تھا۔
پہلے کی بات اور ہوتی اب بات اور ہے حریم کا اور تمہارا رشتہ پہلے جیسا نہیں ہوسکتا نہیں نہ وہ اب بنا تمہاری اِجازت کے تمہاری کمرے میں آسکتی ہے نہ تم سے لاڈ اٹھوانا چاہے گی وہ اب تم سے فاصلہ کرے گی تم نے اُس کو ریجیکٹ کیا اور کوئی بھی لڑکی اپنا ریجیکشن برادشت نہیں کرسکتی خاص طور پہ اُس انسان سے جس سے وہ سب سے زیادہ محبت کرتی ہوں۔کلثوم بیگم سپاٹ انداز میں بولی تو دُرید کو اپنا زمین میں دھنستا محسوس ہوا۔








تم نے ٹِکٹ خرید لی؟فجر نے ارمان کو دیکھا تو پوچھا
آپ یہاں کیوں نہیں رہ لیتی یہاں سب ہیں سب سے بڑی بات یامین یہاں بہت خوش ہے۔ارمان نے اُس کے جانے کی بات سُنی تو بولا
مجھے یہاں رہنا پسند نہیں تم بس وہ بتاؤ جو پوچھا ہے۔فجر نے سنجیدگی سے کہا
جی آج شام کی ہے آپ تیار ہوجانا میں خود آپ کو چھوڑ آؤں گا۔ارمان نے گہری سانس بھر کر بتایا
تم کیوں ہم خود چلے جائے گا۔فجر نے کہا
سر کا حکم ہے۔ارمان نے بتایا
میں یمان سے خود بات کرلوں گی تمہیں زحمت دینے کی ضرورت نہیں۔فجر کجھ سوچ کر بولی
اِس میں زحمت والی تو کوئی بات نہیں آپ کو اگر مجھ سے مسئلہ ہے تو وہ الگ بات ہے۔ارمان نے کہا
مجھے تم سے کیا مسئلہ ہونا ہے؟فجر ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی۔
آپ کو مجھ سے کیا مسئلہ ہے یہ تو آپ کو پتا ہوگا۔ارمان نے کندھے اُچکاکر کہا تو فجر نے گھور کر اُس کو دیکھا
تمہارا اتنا فضول بولنا ضروری ہوتا ہے کیا؟فجر نے طنزیہ کیا
آپ کا ہر بات میں گھورنا ضروری ہوتا ہے کیا انسان نارمل لہجے میں بات بھی کرسکتا ہے۔ارمان ترکی پہ ترکی بولا
تم سے بات ہی کیوں کررہی ہوں میں۔فجر اپنی عقل پہ ماتم کرتی جانے لگی۔
کیونکہ آپ کو مجھ سے بات کرنا اچھا لگ رہا ہے۔ارمان نے پیچھے سے ہانک لگائی جو فجر سِرے سے نظرانداز کرگئ۔








سر آپ کجھ سُنا دیں۔یمان اپنے اسٹوڈیو جارہا تھا جب راستے میں اُس کے فینز نے آ گھیرا۔
گانا نہیں سُنا سکتا میرا گلا خراب ہے۔یمان نے کجھ اِس انداز سے کہا کے سب کی ہنسی نکل گئ۔
کوئی شعر کوئی غزل ہی سُنا دے محبت پہ یا جُدائی پہ آپ بہت اچھے سُناتے ہیں۔ایک فین نے اصرار کیا تو یمان کی پیشانی پہ سوچ کی پرچھائیاں چھائی۔
ٹھیک ہے۔یمان اتنا کہتا اپنا گلا کھنکارنے لگا۔
اتنے بے جان سہارے تو نہیں ہوتے ناں
درد دریا کہ کنارے تو نہیں ہوتے ناں
رنجشیں ہجر کا معیار گٹھا دیتی ہیں
روٹھ جانے سے گزارے تو نہیں ہوتے ناں
راس رہتی ہے محبت بھی کئی لوگوں کو
وہ بھی عرشوں سے اتارے تو نہیں ہوتے ناں
ہونٹ سینے سے کہاں بات چھپی رہتی ہے
بند آنکھوں سے اشارے تو نہیں ہوتے ناں
ہجر تو اور محبت کو بڑھا دیتا ہے
اب محبت میں خسارے تو نہیں ہوتے ناں
اک شخص ہی ہوتا ہے متاع جاں بھی
دل میں اب لوگ بھی سارے تو نہیں ہوتے ناں
یمان کہتا خاموش ہوا تو سب نے خوش ہوکر یاہو کا نعرہ لگایا







کس سے پوچھ کر تم خالہ جان کے ساتھ گئ تھی؟حریم گھر واپس آئی تو دُرید نے سخت لہجے میں اُس سے پوچھا
ہم آپ کے جوابدہ نہیں۔حریم نے بے رخی سے کہا
حریم بدتمیزی مت کرو۔دُرید نے ٹوکا
ہمیں آپ سے بات ہی نہیں کرنی۔حریم اپنے لہجے میں ناگواری سموئے بولی تو دُرید دنگ سا اُس کو دیکھتا رہا جو بلکل اجنیوں سے زیادہ رُوخے لہجے میں اُس سے بات کررہی تھی یہ اُس کی حریم تو نہیں تھی جو چنچل سی ہوتی تھی جو ایک ایک لفظ تک سوچ سمجھ کر اُس کے سامنے ادا کیا کرتی تھی۔
تم ایسی تو نہیں تھی اتنی جلدی بدل گئ ہو تم۔دُرید کے لہجے میں افسوس تھا اُس کو حریم کا ایسا بات کرنا تکلیف پہنچا رہا تھا۔
آپ کو پتا ہے جب آپ نے ہمارے چہرے پہ تھپڑ مارا تھا تو ٹیس ہمارے دل میں اُٹھی تھی ہم اُس ٹیس اُس کو تکلیف کو نظرانداز کیے اپنی عزت نفس کو مجروح کیے اپنی انا کو مار کر ایک بار پھر خود کو آپ کے سامنے بے مول کیا تھا اور آپ نے کیا کیا تھا ہمیں خالی ہاتھ لوٹا دیا ہم نے کیا چاہا تھا بس آپ سے آپ کا نام چاہا تھا ہماری ڈیمانڈ کوئی بڑی تو نہیں تھی ہم آپ کے کمرے کے کسی کونے میں پڑے رہتے آپ سے اف تک نہ کہتے آپ کا ہر ظلم مسکراکر سہہ جاتے ہم نے کوئی آپ سے یہ تو نہیں کہا تھا ہمیں آپ کی محبت چاہیے ہمیں آپ کی توجہ چاہیے ہم نے بس یہ کہا تھا ہمیں اپنے نکاح میں لے اُس کے بعد چاہے آپ ہم پہ ایک نظر نہ ڈال لیتے کوئی حقیر چیز سمجھ لیتے مگر ہمیں تب ایک چیز کا افسوس تو نہ ہوتا کے ہم نے جس کو دل دیا ہے وہ ہمارا نامحرم نہیں بلکہ محرم ہے اِس جہاں میں اُس کا ساتھ نہ بھی ملا تو خیر تو اُس جہاں میں ضرور ملے گا جو کی دائمی ہے مگر افسوس اب ہماری زندگی میں بس پچھتاوا رہے گا کے ہم نے خیانت کی ہے اُس انسان کے ساتھ جس کو اللہ نے ہمارے لیے چُنا تھا اور ہم شیطان کے بہکاوے میں آکر کسی نامحرم سے عشق کر بیٹھے جو کبھی ہمارا تھا ہی نہیں یہ تو بس ہمارا خود کا وہم تھا۔حریم ایک کے بعد ایک وار دُرید کے دل پہ کرتی چلی گئ وہ تو بس شد سا اُس کی دیوانگی دیکھ رہا تھا حریم کی آنکھوں سے نکلتے آنسو اُس کو کس تکلیف سے دوچار کررہے تھے وہ کوئی اُس سے پوچھتا۔
میں نے بس تمہیں ہمیشہ سے بچی سمجھا۔دُرید نے کمزور سی دلیل دی۔
کاش آپ ہمیں جذبات رکھنے والا انسان بھی سمجھتے آپ کو پتا ہے وقت آنے پہ جب آپ کو آپ کی زیادتی کا احساس ہوگا اور آپ ہمارے پاس آکر شادی کی پیش کش رکھے گیں تو خُدا کی قسم ہم انکار کردینگے کیونکہ ہم اُن میں سے نہیں جو ایک ہی پتھر سے بار بار ٹھوکر کھاتے ہیں۔حریم بے دردی سے اپنے آنسو صاف کرتی وہاں رُکی نہیں تھی پیچھے دُرید شاہ کو ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ زوردار تماچا مار کر اپنے تھپڑ کا حساب برابر کرگئ ہو۔
اپنے کمرے میں آکر اُس نے کھینچ کر اپنا حجاب اُتارا اور عبایا اُتار کر نیچے پھینک دیا دُرید کے سامنے تو وہ اپنے اندر کا غبار نکال آئی تھی مگر اب اُس کو خود پہ انتہا کا غصہ آرہا تھا وہ پاگلوں کی طرح در پہ در خود کو تھپڑ مارنے لگی۔
کیوں اتنی باتیں سنائی ہم نے اُنہیں کیا ہماری محبت ایسی ہے زلیل کرنے والی آخر کیوں ہمارے دل نے ہم رسوا کردیا کیوں ہم نے اُس کی سُنی کیوں۔حریم زور سے اپنا گال پہ تھپڑ مار کر خود پہ غصہ اُتارنے لگی۔
ہمیں آپ سے محبت کبھی نہ ہوتی اگر آپ ہمیں اتنی محبت نہ دیتے۔حریم تصور میں اُس کو مخاطب ہوتی رو پڑی۔
سوچوں تو ساری عمر محبت میں گزر گئی
دیکھوں تو ایک شخص بھی میرا نہیں ہوا.








د دلاور۔شھباز شاہ کی آواز میں لڑکھڑاہٹ واضع تھی اُن کو یقین نہیں آرہا تھا اتنے سالوں بعد وہ دلاور خان سے مل پائے گے۔
بہت سال گُزرگئے تمہاری تلاش میں ہم آپس میں جگری یار تھے مگر تم نے کبھی مجھے اپنے گاؤں کا نام تک نہیں بتایا نہ ہی رابطہ جس سے تمہارا پوچھتا سب لاعلمی کا اظہار کرتے۔دلاور خان اُن کے گلے ملتے پرجوش آواز میں بولے اُن کی آواز میں کھنک سی تھی چہرہ خوشی کے مارے چمک رہا تھا اُن کے برعکس شھباز شاہ کا جیسے سارا خون چہرے پہ سمٹ سا گیا ہو۔
شاہ تمہیں مجھے دیکھ کر خوشی نہیں ہوئی کیا؟دلاور خان نے اُن کی خاموشی نوٹ کیے پوچھا
ا ای ایسی بات نہیں بس اتنے سالوں بعد یوں اچانک تمہیں دیکھ کر بس حیران سا ہوگیا ہوں۔شھباز شاہ اپنی حالت پہ قابو کیے بولے۔
بس دیکھ لو میں نے تمہیں تلاش کرلیا۔دلاور خان شرارت سے کہا
بیٹھو۔شھباز شاہ نے بیٹھنے کا اِشارہ کیا۔
تم بلکل نہیں بدلے۔دلاور خان نے غور سے اُن کی جانب دیکھ کر کہا
کیسے آنا ہوا؟شھباز شاہ نے کسی فالتو بات کو طویل نہ دی سیدھا اصل بات پہ آئے۔
تم سے ملنے آیا تھا اور اپنی امانت لینے آیا ہوں۔دلاور خان پرسکون لہجے میں کہا۔
کونسی امانت؟شھباز شاہ نے بے خبری کا مظاہرہ کیا۔
اپنی بیٹی حور کو لینے آیا ہوں جو تمہیں دی تھی چوبیس سال پہلے امانت کے طور پہ۔دلاور خان کو اُن کے ایسے پوچھنے کی سمجھ نہیں آئی تھی اُن کا دل انجانے خوف سے دھڑک اُٹھا تھا۔
وہ چوبیس سال پُرانی بات تھی جو چوبیس سال پہلے ختم ہوچکی ہے۔شھباز شاہ کے لہجے میں بلا کا اعتماد آ چُکا تھا۔
شاہ بات ختم نہیں ہوئی تھی مت بھولوں میں نے اپنی بیٹی اپنا خون تمہیں سونپا تھا اعتبار کیا تھا اگر تمہیں یاد نہ ہو تو کروادوں تم نے واعدہ کیا تھا امانت میں خیانت نہیں کروں گے۔دلاور خان کو غصہ آگیا تھا۔
پٹھان کا خون جوش مار رہا ہے۔شھباز شاہ اتنے کہہ کر ہنس پڑے
خان تمہارے پاس چار بیٹیاں ہیں نہ اُن کے ساتھ خوش رہو بھلا اولاد بھی کوئی امانت میں دینے والی چیز ہے۔شھباز شاہ نے کہا
میری بیٹی کہاں ہے؟دلار خان نے سرد انداز میں پوچھا
اپنے گھر میں ہے تمہیں یہ تو یاد ہے میں نے کیا کہا تھا تو یہ بھی یاد ہوگا تم نے کیا کہا تھا میری بیٹی کو اپنا نام دو تو میں نے اُس کو اپنا نام دے دیا اب تم جس کو لینے آئے ہو بطور امانت تو وہ شھباز شاہ کی بیٹی ہے تین یا چار کی نہیں ماشااللہ سے چوبیس سال کی ہے وہ کبھی تمہیں اپنا باپ تسلیم نہیں کرے گے کیونکہ اُس کی نظر میں اُس کا باپ شھباز شاہ ہے اور وہ شھباز شاہ سے پیار کرتی ہے اُس کے ہر ڈاکیومینٹس میں کوئی حور دلاور خان نہیں بلکہ سیدہ آروش شھباز شاہ ملے گی بچہ جب بولنے لگتا ہے تو ماں لفظ نکالتا ہے جب کی جس کو تم اپنی بیٹی بول رہے ہو اُس نے پہلا لفظ مجھے دیکھ کر بابا بولا تھا رات کے وقت سونے کے لیے بچے کو زیادہ تر ماں کی ضرورت ہے مگر آروش کو جب تک رات میں گود میں نہ اُٹھاتا اُس کو نیند نہیں آتی تھی اُس کا آئیڈیل باپ فلم انڈسٹری میں کام کرنے والا دلاور خان نہیں وہ کسی دلاور خان کو نہیں جانتی اگر جانتی بھی ہوگی تو بس اِس حیثیت سے کے فلاں فلم کا ڈائریکٹر دلاور خان تھا فلاں فلم کا رائٹر دلاور خان تھا آروش شاہ کی زندگی تین مردوں کے گرد گھومتی ہے پہلا شھباز شاہ جو اُس کا باپ ہے دوسرا دُرید شاہ جو اُس کا بھائی جس کو لالہ لالہ کہتے وہ نہیں تھکتی اور تیسرا شازل شاہ جس میں اُس کی جان بستی ہے تم خود سوچو کیا وہ تمہارے پاس آئے گی بس یہ سن کرکے تم اُس کے حقیقی باپ ہو یہ سن کر کیا وہ اپنی زندگی کے وہ چوبیس سال بھول جائے گی جہاں اُس نے اپنی آنکھ کھولی جہاں اُس نے چلنا سیکھا۔شھباز شاہ نے مغرور لہجے میں کہا اُن کے ہر ایک لفظ پہ غرور اور حقیقت کی جھلک تھی۔
تو میں یہ سمجھو میرا دوست غدار نکلا کیونکہ اسلام ہمیں یہ اجازت نہیں دیتا کے کسی بچے کے نام پہ اُس کے اصل باپ کے علاوہ کسی اور کا نام لگایا جائے مجھے افسوس ہوا جان کر تم نے کبھی حور کو یہ نہیں بتایا اُس کا باپ کون ہے۔دلاور خان کو تکلیف ہوئی اپنے جگری دوست سے ایسی باتیں سن کر
حور نہیں آروش شاہ کہو دوسری بات شھباز شاہ اپنے قول کا پکا ہے میں تم سے غداری نہیں کروں گا۔شھباز شاہ سنجیدگی سے بولے
مجھے میری بیٹی چاہیے اُس کے لیے میں تمہیں منہ مانگی قیمتی دوں گا۔دلاور خان کا یقین شھباز سے اُٹھ گیا تھا۔
میں تم اپنا سب کجھ دیتا ہوں زمینے کاروبار روپیا پئسا بس تم جس خاموشی سے آئے ہو اُس خاموشی سے چلے جاؤ کے تمہاری کوئی پانچویں بیٹی بھی ہے۔شھباز شاہ نے کہا
میں اپنی بیٹی کا سودا نہیں کروں گا۔دلاور خان ایک جھٹکے سے اُٹھ کھڑے ہوئے۔
غصہ آیا نہ سن کر اُس بیٹی کے لیے جس کو تم نے بس چند گھنٹے اپنی بانہوں میں اُٹھایا تھا تو سوچو مجھے کتنا غصہ آیا ہوگا تمہاری بات سن کر میں نے چوبیس سال سے اُس کو بیٹی بنا کر رکھا اپنے سگے بیٹوں سے زیادہ اُس کو محبت دی کیا میں اُس کا سودا کروں گا۔شھباز شاہ بھی اُٹھ کر طنز کیا۔
دیکھو شاہ وہ میری بیٹی ہے یہ ایک ایسی حقیت ہے جس کو تم جھٹلا نہیں سکتے پیار دینے سے وہ تمہاری بیٹی نہیں ہو سکتی۔دلاور خان نے کہا
ٹھیک کہا میں نہیں چاہوں گا ہماری دوستی میں کوئی رکاوٹ آئے میں نے تم سے امانت لی تھی امانت واپس بھی کروں گا پر اُس کے لیے مجھے وقت چاہیے۔شھباز شاہ نے کجھ سوچ کر کہا
وقت کیوں؟دلاور خان نے پوچھا دل کے کسی کونے میں سکون کی لہر ڈورگئ تھی۔
میں نے کہا نہ وہ کوئی چار یا پانچ سال کی بچی نہیں جس کو تم بتاؤ گے میں تمہارا باپ ہوں تو وہ تمہارے ساتھ لپٹ جائے گی چوبیس سال اُس نے جس کو اپنا باپ سمجھا وہ اُس باپ نہیں اُس کو حقیقت بتانے کے لیے وقت چاہیے حویلی میں کسی کو نہیں پتا آروش کا سوائے میرے اور میری بیوی کے بہت لوگوں کو سمجھانا ہے اُس کے بھائی ہیں جو کبھی اُس کو جانے نہیں دینگے اُن کو سنبھالنے کے لیے وقت چاہیے۔شھباز شاہ نے کہا پہلے جو اُن کی نیت بدل گئ تھی اب اچانک سے انہوں نے اپنے دل کو ڈپٹ دیا تھا۔
ایک دفع میں اپنی بیٹی کو دیکھ لوں اُس کی کوئی تصویر وغیرہ بھی مل جاتی تو اچھا ہوتا اُس کی ماں دیکھ لیتی تو چین آجاتا۔دلاور خان نے کہا
ہمارے یہاں فلحال شادی کا ماحول ہے وہ گُزرجائے خیریت سے اُس کے بعد تم اپنی امانت لیکر جاسکتے ہو مگر ہم جب چاہے آروش سے مل سکتے ہیں اُس پہ کوئی پابندی نہیں ہوگی۔شھباز شاہ نے ابھی سے دو ٹوک کہا۔
اُس کے لیے تم پریشان مت ہونا کیونکہ مجھے پتا ہے میری بیٹی پر میرے سے زیادہ تمہارا حق ہے۔دلاور خان نے پہلی بار مسکراکر کہا۔
ہممم کجھ ماہ پھر صبر کرو۔شھباز شاہ نے کہا
دو ماہ بعد حور کی سالگرہ ہے اُس سے پہلے اگر چلتی تو۔دلاور خان اتنا کہتے چپ ہوگئے۔
میں پھر بتاؤں گا سوچ کر تم اپنا نمبر دیتے جاؤ۔شھباز شاہ نے کہا
میرا نمبر وہی ہے جو آج سے چوبیس سال پہلے تھا میں نے چینج نہیں کیا کیونکہ مجھے لگتا تھا شاید تم کوئی رابطہ کرو۔دلاور خان نے مسکراکر کہا
ٹھیک ہے پھر میں تمہیں کال پہ بتادوں گا۔شھباز شاہ نے گہری سانس بھر کر کہا تو انہوں سر کو خم دیا شھباز شاہ کے سینے میں اُداسی سی پھیل گئ تھی۔
ویسے میری بیٹی دیکھنے میں کسی ہے؟دلاور خان کو اچانک خیال آیا تو اشتیاق بھرے لہجے میں پوچھا
تمہاری کاپی ہے بس آنکھوں کا رنگ مختلف ہے پٹھانوں کا منہ بولتا ثبوت ہے مگر پٹھانوں والا غصہ اُس کو نہیں آتا۔شھباز شاہ نے بتایا تو ان کے چہرے پہ گہری مسکراہٹ نے احاطہ کیا۔








اُداس کیوں ہو؟شازل گاڑی ڈرائیو کرتا خاموش بیٹھی ماہی سے بولا وہ دونوں گاؤں جانے کے لیے نکل گئے تھے۔
اُداس نہیں ہوں۔ماہی نے گہری سانس بھر کر کہا
پھر کیا بات ہے جو تمہیں پریشان کررہی ہے ورنہ تو ایسے تم خاموش نہیں بیٹھا کرتی۔شازل نے ماحول میں چھائی خاموشی کو ختم کرنے کے غرض سے مزاحیہ انداز اپنایا
بس اپنی زندگی کے بارے میں سوچ رہی تھی کیا سے کیا ہوگئ ہے میں نے ایسا سوچا بھی نہیں تھا جیسا میرا ساتھ ہوگیا ہے۔ماہی نے کھوئے انداز میں کہا تو شازل نے گردن موڑ کر اُس کو دیکھا آج اُس کو ماہی بہت سنجیدہ لگی ورنہ جب پہلی بار وہ اُس سے ملا تھا تھوڑا ڈری سہمی ضرور تھی مگر وہ ایسی باتیں نہیں کیا کرتی تھی۔
کیا ہوا ہے تمہارے ساتھ اچھی خاصی زندگی تو گُزر رہی ہے تمہاری۔شازل نے ایسا کہا جیسے کجھ جانتا ہی نہ ہو۔
آپ کو کیا نہیں پتا میں کس بارے میں بات کررہی ہو؟ماہی نے پوچھا
دیکھو ماہی۔شازل نے اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا تو اُس کے دل نے ایک بیٹ مس کی۔
مانا کے تمہاری شادی عام حالات میں نہیں ہوئی اپنے مستقبل کے لیے تم نے بھی کجھ سوچا ہوگا مگر میں ایک بات کلیئر کردینا چاہتا ہوں میری وجہ سے تمہیں کبھی کوئی پریشانی نہیں ہوگی میں کبھی تمہاری خواہشات میں رکاوٹ نہیں بنوں گا۔شازل نے مان بھرے لہجے میں کہا تو اُس کے چہرے پہ اطمینان بِکھرا تبھی بنا کجھ کہے اُس نے اپنا شازل کے بازوں پہ رکھ دیا اُس کی حرکت پہ شازل محض مسکرادیا
گانا سُننا چاہوں گی؟شازل نے پوچھا
ضرور۔ماہی نے جھٹ سے کہا تو شازل نے سونگ آن کیا۔
دل مانگ رہا ہے مہلت
تیرے ساتھ دھڑکنے کی
تیرے نام سے جینے کی
تیرے نام سے مرنے کی
گانا چلنے کی وجہ سے ماحول اچانک سے ماہی کو رومانٹک ہوتا محسوس ہوا تو وہ شازل کو گانا سننے کی حامی پہ جی بھر کر پچھتائی تھی اُس نے اپنا سر آہستہ سے شازل کے بازوں سے ہٹادیا پھر اپنا دھیان گانے کے بجائے کھڑکی سے باہر چلتے مناظر پہ جمادی۔
دل مانگ رہا ہے مہلت
تیرے ساتھ دھڑکنے کی
تیرے نام سے جینے کی
تیرے نام سے مرنے کی
تیرے سنگ چلوں ہر پل
بن کرکے پرچھائی
ایک بار اجازت دے
مجھے خود میں ڈھلنے کی
گانا سٹاپ کردے یا کوئی اور لگادے۔ماہی کی اچانک کی گئ بات پہ شازل نے چونک کر اُس کو دیکھا
کیوں؟شازل نے تعجب سے پوچھا اُس کا سارا دھیان گانے کے بجائے ڈرائیونگ پہ تھا جس وجہ سے وہ سمجھ نہیں پایا ماہی آخر کس چیز پہ خفت کا شکار ہورہی ہے۔
بس ایسے۔ماہی اُس کی جانب دیکھے بنا بولی
دیکھا ہے جب سے تجھ کو
میں نے یہ جانا ہے میرے
خواہش کے شہر میں
بس تیرا ٹھکانا ہے
میں بھول گیا خود کو بھی
بس یاد رہا ہے توں آ تیری ہتھیلی
پہ اِس دل کو میں رکھ لوں
دل بول رہا ہے حسرت
ہر حد سے گُزرنے کی
تیرے نام سے جینے کی
تیرے نام سے مرنے کی
شازل نے اب گانے پہ غور کیا تو جیسے وہ ساری بات کی تہہ تک پہنچ گیا اُس کے چہرے پہ اچانک معنی خیز مسکراہٹ نے احاطہ کیا۔
میں نہیں کرنے والا بند لمبا سفر ہے میں بور ہوجاؤں گا تم تو کجھ منٹس میں آرام سے سوجاؤں گی میرے کندھے پہ سر رکھ کر میں کس کے کندھے پہ سر رکھوں گا۔شازل نے مزے سے کہا تو ماہی نے دانت کچکچائے اُس کے بعد شازل نے سوائے اِس گانے کے کوئی اور گانا نہیں سُنا تھا ماہی سوائے ضبط کے کجھ نہیں کرپائی وہ سمجھ گئ تھی شازل جان بوجھ کر اُسے زچ کررہا ہے اور واللہ وہ زچ کرنے میں انتہا کردیتا ہے۔
جانے کیا سکون ملتا ہے مجھے بے سکون کرنے پہ۔ٹیڑھی نظروں سے شازل کو دیکھ کر وہ بس سوچ سکی۔
