Haal e Dil by Rimsha Hussain NovelR50524 Haal e Dil (Episode 33)
Rate this Novel
Haal e Dil (Episode 33)
Haal e Dil by Rimsha Hussain
یمان
یمان
تم ٹھیک ہوں؟یمان صبح فجر کے وقت گھر آیا تھا ابھی وہ سونے کا اِرادہ کیے ہوئے تھا جب دلاور خان پریشانی سے اُس کو آواز دیتے کمرے میں داخل ہوئے۔
میں ٹھیک ہوں مگر آپ کجھ ٹھیک نہیں لگ رہے سب خیریت؟یمان بیڈ سے اُٹھتا اُن کے پاس آیا
تمہاری گاڑی دیکھی میں نے کیا تمہارا ایکسیڈنٹ ہوا تھا؟دلاور خان نے پوچھا
نہیں ایکسیڈنٹ تو نہیں ہوا بس کسی نے غلطی سے گاڑی کو پیچھے سے ہِٹ کرلیا تھا۔یمان نے جواب دیا۔
تمہیں چوٹ وغیرہ تو نہیں آئی؟دلاور خان نے ایک بار پوچھا
جی کوئی چوٹ نہیں میں بلکل ٹھیک ہوں آپ پریشان مت ہو۔یمان نے ہلکہ سا مسکراکر کہا تو دلاور خان کجھ پرسکون ہوئے۔
تمہیں ایک بات بتانا چاہ رہا تھا۔دلاور خان جانے والے تھے پھر ایک خیال کے تحت وہ اُس کی طرف پلٹے جی بتائے۔
میں شہر سے کجھ دن دور جارہا تھا ایک بہت ضروری کام سے دعا کرنا ہوجائے گا۔دلاور خان نے سنجیدگی سے کہا
کونسا کام آپ کہے تو میں چلوں ساتھ؟یمان نے بغور اُن کے تاثرات جانچے۔
نہیں میں اکیلے چلا جاؤں گا تمہیں تو لاہور جانا ہے نہ تم وہاں جانا بس یوں سمجھ لوں میری قیمتی چیز کسی اور کے پاس ہے اُس کو لینے جارہا ہوں دعا کرنا وہ محفوظ ہوں۔دلاور خان نے کہا تو یمان نے محض سر کو جنبش دی آج اُس کو دلاور خان کا انداز بے حد مختلف لگا تھا۔
جیسا آپ کو مناسب لگے میں ویسے بھی ایک گھنٹے بعد ہسپتال جاؤں گا آپی اکیلی ہے یامین کے ساتھ جب کی لاہور کی فلائٹ تو میری دو تین دن بعد ہے۔یمان نے بتایا







مما آپ کا بلکل خیال نہیں رکھتی تبھی آپ کو چوٹ آئی نہ۔ارمان صبح ہی اسلام آباد پہنچا تھا اُس کو جیسے ہی یامین کی چوٹ کا پتا چلا تھا وہ فورن اپنے گھر کے بجائے ہسپتال آیا تھا یامین کے سر پہ پٹی بندھی دیکھ کر اُس کو بہت افسوس ہوا۔
میں خیال رکھتی ہوں بس کل جانے کیسے لاپرواہی ہوگئ۔فجر یامین کا ہاتھ چومتی فکرمندی سے گویا ہوئی آج اُس کو ارمان کی بات سے چڑ نہیں ہوئی تھی وہ یامین کے لیے پریشان تھی۔
جانتا ہوں میں بس یامین کو ہنسانا چاہ رہا تھا۔ارمان نے ایک نظر چاکلیٹ کھاتے یامین کو دیکھ کر اُس سے کہا
آپ کل کہاں تھے؟یامین نے ارمان سے پوچھا
میں کل شہر سے باہر تھا آپ کے جو ماموں ہیں نہ انہوں نے کام سے بھیجا تھا۔ارمان نے مسکراکر کہا۔
فجر رہ بات سننا۔عیشا ایک نظر مسکراکر یامین سے بات کرتے ارمان کو دیکھ کر فجر سے بولی تو فجر اسٹول سے اُٹھ کر باہر کی جانب گئ۔
یہ یمان کا اسسٹنٹ یہاں کیا کررہا ہے؟فجر باہر آئی تو عیشا نے پہلا سوال یہی داغا
یمان نے شاید بھیجا ہو۔فجر نے کہا
شاید پر تمہیں نہیں لگتا یامین کو اُس کے ساتھ اتنا اٹیچ ہونا چاہیے؟عیشا نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا
تمہارے کہنے کا مطلب کیا ہے وہ یمان کی عمر کا ہے تم اگر کجھ اُلٹا سوچ رہوں تو اُس خیال کو اپنے ذہن سے نکال دو۔فجر نے سختی سے اُس کو جھڑکا۔
غصہ مت ہو میں نے جسٹ ایک جنرل بات کہی وہ یمان سے چھوٹا نہیں دوسری بات یہ کے یامین کو کسی اجنبی کے ساتھ اتنا کلوز ہونا نہیں چاہیے۔عیشا نے اُس کو غصہ کرتا دیکھا تو اپنی بات کا مطلب سنجھایا
میں خیال کروں گی۔فجر نے بس یہ کہا۔







صبح شازل کی آنکھ مسلسل اپنے فون پہ آتی کال پہ کُھلی اُس نے ہاتھ بڑھا کر دیکھا تو دُرید شاہ کی کال تھی اُس کو اپنا سر درد سے پٹھتا محسوس ہورہا تھا اُس نے سائیڈ ٹیبل پہ دیکھا تو لیموں پانی کا گلاس بھی پڑا تھا۔
لالہ کی کال وہ بھی اتنی صبح صبح۔شازل بیٹھنے کی کوشش کرتا پریشان ہوا دُرید کی کال دیکھ کر۔
السلام علیکم لالہ خیریت؟شازل کال ریسیو کرتا دُرید سے بولا جب کے دوسرے ہاتھ سے اُس نے لیموں پانی کا گلاس اُٹھایا
تم کل رات پھر کلب گئے تھے؟دوسری جانب دُرید شاہ نے سخت لہجے میں استفسار کیا۔
آپ کو کس نے بتایا؟شازل نے سنجیدگی سے پوچھا
مجھے سوال کے بدلے سوال نہیں بلکہ تم سے جواب چاہیے۔دُرید نے دو ٹوک کہا
جی گیا تھا ارحم کی برتھ ڈے تھی اور آپ پلیز میری جاسوسی نہ کروایا کرے میں کوئی بچہ نہیں۔شازل بیزار ہوا۔
تم نے ہیوی ڈوز لی تھی کسی اور کی گاڑی بھی ہٹ کرلی تھی تمہیں پتا ہے اگر اُس کو نقصان ہوتا تو تم کتنے مسئلے میں پڑسکتے تھے جس کی گاڑی تم نے ٹھوکی تھی وہ کوئی معمولی شخصیت نہیں تھی۔دُرید نے غصے سے کہا
آپ یہ مت پوچھنا مجھے کہی چوٹ تو نہیں آئی بس یہ فکر ہے کہی اُس شخصیت کو نقصان پہنچ جاتا تو یہ ہوتا کون تھا وہ پرائم منسٹر تھا۔شازل چڑ گیا۔
گلوکار تھا یمان مستقیم۔دُرید نے بتایا تو شازل کو یاد آیا۔
وہ جس کو کجھ ماہ پہلے ہارٹ اٹیک بھی آیا تھا؟شازل نے کان کی لو کُھجاکر پوچھا
میں نے تمہیں اِس لیے کال نہیں کی کے تم مجھ سے یمان مستقیم کا بائیو ڈیٹا لو میں نے اِس لیے کال کی ہے کے اب تم شادی شدہ ہو اِس لیے خود میں بدلاؤ لاؤ۔دُرید نے سختی سے کہا جب کی اُس کے کمرے میں آتی آروش یمان مستقیم نام سن کر ایک پل کو ساکت ہوئی تھی۔
جی اور کوئی حکم۔شازل نے کہا
یہی کرلوں بڑی بات ہے۔دُرید طنزیہ انداز میں کہتا کال کٹ کرگیا جبھی اُس کی نظر دروازے کے پاس گم سم کھڑی آروش پہ پڑی
آرو وہاں کیوں کھڑی ہو اندر آؤ کوئی کام تھا؟دُرید نے آروش کو دیکھ کر مسکراکر کہا
جی بات کرنی تھی ویسے آپ کس سے بات کررہے تھے؟آروش نے اپنا لہجہ نارمل کیے پوچھا
تمہارے نالائق لالہ شازل سے۔دُرید نے بتایا
ایسے تو بولے وہ بہت اچھے ہیں۔آروش فورن شازل کے دفع میں بولی۔
چھوڑو شازل کو تم بتاؤ کیا بات کرنے آئی تھی۔دُرید نے کہا
میں حریم کے سلسلے میں آپ سے بات کرنے آئی تھی کیا آپ کو نہیں لگتا یہ سب بہت جلدی ہورہا ہے اگر آپ اُس کو اپنی زندگی میں شامل نہیں کرنا چاہتے تو حریم کی شادی بھی نہ کروائے۔آروش نے اپنے آنے کا مقصد بیان کیا
وہ تو بچی ہے کم سے کم تم تو بچی ہونے کا مظاہرہ نہ کرو یہی وقت ہے حریم کی شادی کا وہ آہستہ آہستہ سمجھ بھی جائے گی۔دُرید نے کہا
آپ اُس سے شادی کیوں نہیں کرلیتے مانا کے عمروں کا فرق ہے مگر وہ آپ سے بہت پیار کرتی ہے آپ کے علاوہ اُس کو کوئی خوش نہیں رکھ سکتا آپ جانتے ہیں محبت کے کھونے کا دُکھ تو آپ کیوں چاہتے
آروش خاموش۔آروش جو اُس کو سمجھانے کی خاطر بول رہی تھی دُرید نے سختی سے اُس کو ٹوک دیا۔
میں بس
میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا اُس معاملے میں مجھے تم سب سے زیادہ حریم کی فکر ہے میں کوئی بھی فیصلہ اُس کے لیے غلط نہیں لے سکتا اور جو میں لے رہا ہوں وہ ہی بہتر فیصلہ ہے۔دُرید دوبارہ سے اُس کی بات کاٹی تو آروش خاموشی سے اُس کے کمرے سے جانی لگی تو دُرید کو احساس ہوا وہ بہت سخت ہوگیا تھا تبھی اُس کو آواز دی
آرو ایک منٹ میری بات سننو۔
آج کے لیے اتنا کافی ہے یہ آپ لوگوں کا آپسی معاملہ ہے مجھے درمیان میں نہیں آنا چاہیے تھا۔آروش بنا مُڑے بولی
ایسی بات نہیں۔دُرید شرمندہ ہوا۔
چلتی ہوں۔آروش سنجیدگی سے کہتی کمرے سے نکل گئ۔
شِٹ یار۔دُرید کو خود پہ غصہ آنے لگا۔







دُرید سے بات کرنے کے بعد شازل فریش ہوکر کمرے سے باہر آیا تو ماہی اُس کو کہی نظر نہیں آئی اُس نے چاروں اطراف نظر گُھماکر اپنا رخ کچن میں کیا تو ماہی کو کچن میں پایا۔
گُڈ مارننگ۔شازل اُس کو مارننگ وِش کرتا فریج سے پانی کی بوتل نکالنے لگا دوسری طرف ماہی شازل کی موجودگی محسوس کرکے کانپ سی گئ تھی۔
کیا ہوا؟شازل نے اُس کو جواب دیتا نہیں پایا تو پوچھا
ک کجھ نہ نہیں۔ماہی نے لڑکھڑاہٹ بھرے لہجے میں کہا
تمہاری زبان لڑکھڑا کیوں رہی ہے طبیعت تو ٹھیک ہے؟شازل نے ہاتھ بڑھا کر اُس کی پیشانی چھونا چاہی پر ماہی بدک کر اُس سے دوری ہوئی۔
میں ٹھیک ہوں بلکل۔ماتھے پہ آیا پسینا صاف کرتے ماہی نے جواب دیا کل رات کے بعد اُس میں ہمت نہیں تھی شازل سے نظریں ملانے کی جب کی دل میں کہی نہ کہی اُس کو یہ ڈر بھی لگ رہا تھا کے شازل سب کجھ بھول تو نہیں گیا اکثر اُس نے ناولوں میں پڑھا تھا شراب پینے کے بعد انسان کو کجھ یاد نہیں رہتا اور شازل کا اتنا نارمل ری ایکشن اُس کو الگ الگ وسوسو سے روشناس کروا رہا تھا۔
لگ تو نہیں رہی خیر بریک فاسٹ تیار ہے تو دے دو مجھے باہر جانا ہے۔شازل نے کندھے اُچکاکر بولا
آپ جائے میں لاتی ہوں۔ماہی نے کہا اُس کو شازل کی موجودگی ڈسٹرب کررہی تھی جب کی اُس کی بات سن کر شازل کچن سے نکلتا ڈائینگ ٹیبل پہ جاکر بیٹھ گیا اُس کے جانے کے بعد ماہی خود میں ہمت جمع کرتی اُس کے لیے ناشتہ لیتی باہر آئی ٹیبل پہ وہ اُس کا ناشتہ سجاتی خود جانے لگی تو شازل نے ہاتھ پکڑ کر اُس کو روکا
کیا آج تم میرے ساتھ نہیں کروں گی ناشتہ؟شازل نے اُس کو یوں جاتا دیکھا تو پوچھا
مجھے بھوک نہیں۔ماہی نے زور سے آنکھوں کو میچ کر جواب دیا
یہ کیا بات ہوئی روز ساتھ کرتی ہو تو آج بھی کرو۔شازل کو اُس کی بات نامعقول لگی۔
آپ کرلے میں بعد میں کرلوں گی۔ماہی نے بہانا تراشا
میرے ساتھ کرنے میں کیا مسئلہ ہے اور آج تمہیں ہو کیا گیا ہے؟شازل نے بالآخر پوچھ لیا۔
کجھ نہیں ہوا۔ماہی جواب دیتی خود بھی کُرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئ اُس نے منٹ میں فیصلہ کرلیا تھا اگر شازل نارمل انداز میں اُس سے بات کررہا تھا تو وہ بھی نارمل رہنے کی کوشش کرے گی۔
تمہاری اسکن کو کیا ہوا ہے؟سلائس کھاتے شازل کی نظریں اُس کے چہرے پہ پڑی تو پوچھا
میری اسکن کجھ بھی تو نہیں۔ماہی گال پہ ہاتھ رکھتی بولی
تمہارا چہرہ لال ہوا پڑا ہے تبھی پوچھا۔شازل نے جیسے وجہ بتائی جب کی اُس کی بات سن کر ماہی اُس کا منہ تکتی رہ گئ
افففف اللہ کیا بے نیازی ہے اِن موصوف کو یہ بھی نہیں پتا کے مجھے اِن سے شرماہٹ محسوس ہورہی ہے۔ماہی نے شازل کو رغبت سے ناشتہ کرتا دیکھا تو بے ساختہ سوچا۔









ماموں مجھے آئسکریم میں کھانی ہے۔یمان یامین کے ڈسچارج ہونے کے بعد اُس کو پارک لیکر گیا تھا اب وہ اُس کو لیکر گھر جانے والا تھا جب اُس نے فرمائشی انداز میں کہا
اوکے چلتے ہیں آئسکریم پارلر۔یمان اُس کی بات سن کر مسکراکر بولا اور گاڑی آئسکریم پارلر کی جانب موڑی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شازل کسی کام سے کورٹ جانے والا تھا جب اُس کی نظر آئسکریم پارلر میں موجود کسی بچے کے ساتھ کھڑے یمان پہ پڑی جہاں بس اکا دکا ہی لوگ تھے وہ کجھ سوچتا اپنی گاڑی سے اُترتا یمان کے پاس گیا۔
ہائے۔ شازل نے اُس کو اپنی جانب متوجہ کرنا چاہا
السلام علیکم۔یمان ایک نظر اُس کو دیکھتا سلام کرنے لگا
وعلیکم السلام میں کل ہوش میں نہیں تھا پھر بھی تمہیں پہچان لیا مگر لگتا ہے تم نے نہیں پہچانا مجھے۔شازل مسکراکر کہتا پاس والی چیئر پہ بیٹھا۔
آپ کو ایسا کیوں لگا میں نے آپ کو پہچانا نہیں ہوگا۔یمان اپنا دھیان یامین سے ہٹاتا اُس کی جانب کیے بولا
کیونکہ آپ کا اٹیٹیوڈ یہی بتارہا ہے۔شازل نے غور سے یامین کو دیکھ کر اُس سے کہا
ایسی بات نہیں میں نے آپ کو پہنچان لیا تھا شازل شاہ نام ہے نہ آپ کا۔یمان نے کہا
بلکل اچھی بات ہے آپ کو میں یاد ہوں دراصل مجھے تمہارا شکریہ ادا کرنا تھا تبھی یہاں آیا مجھے لگتا ہے کل میں نے نہیں کیا ہوگا۔شازل نے کہا
اٹس اوکے کوئی بڑی بات نہیں تھی۔یمان نے عام انداز میں کہا
میں نے تمہیں کل تنگ تو نہیں کیا تھا مطلب کل غلطی سے میں ہیوی ڈوز لیکر گیا تھا اِس لیے پوچھ رہا ہوں۔شازل نے جاننا چاہا
میں کونسا لڑکی تھا جو نشے میں ہونے کی وجہ سے آپ مجھے تنگ کرتے۔یمان اُس کی بات کے جواب میں بولا تو شازل ہنس پڑا
کافی اچھی باتیں کرلیتے ہو خیر یہ بتاؤ تمہارا بیٹا ہے یہ اور اِس کے سر پہ کیا ہوا ہے؟شازل نے آئسکریم کھاتے یامین کو دیکھا کر یمان سے پوچھا
بھانجا ہے میرا سیڑھیوں سے گِرنے کی وجہ سے چوٹ آئی ہے۔یمان نے بتایا
سیرسیلی تمہارا بھانجا ہے سیم تمہاری کاپی ہے مگر اِس پاس ڈمپلز ہیں شاید تمہارے پاس نہیں۔شازل نے غور سے یامین کو دیکھا تو کہا کیونکہ آئسکریم کھانے کی وجہ سے یامین کے گالوں پہ ڈمپلز کے نشان نمایاں ہوئے رہے تھے۔
بھانجے اپنے ماموں پہ ہی جاتے ہیں۔یمان محبت سے یامین کو دیکھتا بولا مگر اُس نے یہ بتانا ضروری نہیں سمجھا گہرے ڈمپلز تو اُس کے گالوں میں پڑتے ہیں۔
تم سنگر ہو رائٹ؟شازل نے جاننے کے باوجود بھی اُس سے پوچھا جانے کیوں اُس کو یمان سے بات کرنا اچھا لگ رہا تھا۔
رائٹ۔یمان نے مختصر جواب دیا۔
اکیلے رہتے ہو یا فیملی کے ساتھ؟شازل اُس سے ایسے سوالات کررہا تھا جیسے جانے کتنے برسو کی جان پہچان ہو
فیملی کے ساتھ۔یمان نے بتایا
اچھا نائیس میں یہاں پہلے اکیلا رہتا تھا مگر اب اپنی بیوی کے ساتھ رہتا ہوں۔شازل نے خود ہی بتایا
لگتا ہے آپ اپنی بیوی سے بہت پیار کرتے ہیں تبھی کل رات بھی اُس ذکر اب بھی۔بیوی لفظ پہ یمان کے دماغ میں کل والا واقع تازہ ہوا تو کہا۔
اچھا میں بار بار کررہا تھا۔شازل کو ہنسی آئی تھی۔
ہمم۔یمان نے ہنکارہ بھرا
ویسے تم مجھے آپ نہیں تم کہہ کر پُکار سکتے ہو آپ سے عجیب بڑھاپے والی فیلنگز آتی ہیں۔شازل نے کہا تو یمان نے محض سر کو جنبش دی
اوکے پھر میں چلتا ہوں مجھے کسی ضروری کام سے جانا تھا اور یہاں میں تم سے باتوں میں لگ گیا۔شازل کو وقت کا احساس ہوا تو اُٹھ کھڑا ہوا۔
ٹھیک ہے۔یمان نے کہا
ویسے تم معروف گلوکار ہو مگر حیرت کی بات مجھے یہ لگی کے تم میں غرور نہیں۔شازل ایک مسکراتی نظر اُس پہ ڈال کر چلاگیا۔
خاک ہوں خاک میں مل جاؤں گا پھر غرور کس چیز پہ کروں؟اپنے خاک ہونے پہ۔یمان شازل کی پشت کو تکتا سوچنے لگا۔









پڑسو حریم کا نکاح ہے تم شازل کو حویلی آنے کا کہو۔شھباز شاہ نے دُرید شاہ سے کہا
جی میں کال کرکے اُس سے کہوں گی۔دُرید نے جوابً کہا۔
ہممم تمہاری بھابھی ماں کی عدت بھی پوری ہوچکی ہے کل لگے ہاتھ اُس کا نکاح بھی دیدار شاہ سے ہوگا۔شھباز شاہ نے بتایا
آپ نے اُن سے پوچھا ہے؟دُرید نے جاننا چاہا
پوچھنا کیا ہے بس یہ طے پایا گیا ہے تو ہوکر رہے گا۔شھباز شاہ نے کہا
آپ آروش کے بارے میں کوئی فیصلہ کیوں نہیں لیتے۔دُرید نے کہا
آروش کے لیے کیا کونسا فیصلہ؟شھباز شاہ نے سنجیدگی سے اُس کو دیکھا
اگلے ماہ وہ ماشااللہ سے پچیس سال کی ہوجائے گی آپ کو نہیں اب اُس کی شادی کردینی چاہیے حریم کی شادی ہوجائے گی شازل بھی شہر میں اپنی زندگی بسا بیٹھا ہے بھابھی ماں کا نکاح دوبارہ ہونے جارہا ہے کجھ ماہ بعد نازنین اور نور بھی اپنے گھر کی ہوجائے گی ایسے میں آروش تو تنہا ہوجائے گی۔دُرید کے لہجے میں آروش کے لیے فکر تھی۔
اگر میں یہی بات تمہیں کہوں تو وہ تو خیر سے پچیس کی ہے مگر تم تو بتیس سال کے ہو تمہارے کیا اِرادے ہیں؟شھباز شاہ نے بڑے خوبصورت طریقے سے بات کا رخ آروش کے بجائے اُس کی جانب موڑا
مجھے اب چلنا چاہیے۔دُرید اُن کی بات نظرانداز کیے اُٹھ کھڑا ہوا
کہاں؟شھباز شاہ کا اُس کا یوں جواب نہ دینا بُرا لگا۔
حریم کو شاپنگ کروانا چاہتا ہوں۔دُرید کی بات سن کر اُن کے چہرے پہ استہزائیہ مسکراہٹ آئی۔
اب تم اُس پہ اتنے مہربانیاں کرنے کی ضروری نہیں جب شادی سے انکار کردیا ہے تو اب بس چھوڑدو اُس کی فکر کرنا۔شھباز شاہ نے طنزیہ انداز میں کہا۔
میرا فیصلہ دُرست ہے اِس بات کا اندازہ آپ سب کو ایک دن ہوجائے گا۔دُرید سنجیدگی سے بولا
تمہارا فیصلہ بہت غلط ہے اور بہت جلد اچھے سے تمہیں پتا چل جائے گا۔شھباز شاہ نے کہا تو دُرید وہاں سے چلاگیا۔
شاہ سائیں آپ سے کوئی ملنے آیا ہے۔شھباز شاہ دُرید کے جانے کے بعد زمینوں کا حساب چیک کررہے تھے جب ایک آدمی نے آکر بتایا
کون؟شھباز شاہ نے پوچھا
نام نہیں بتایا مگر میں نے مہمان خانے میں اُن کو بیٹھایا ہے خود کو آپ کا دوست بتارہے تھے گاؤں کے لگتے نہیں شاید کسی شہر سے آئے ہیں۔آدمی نے بتایا تو شھباز شاہ پرسوچ ہوئے۔
ٹھیک ہے اُس کی مہمان نوازی کا انتظام کرو میں آتا ہوں۔شھباز شاہ نے کہا تو وہ سرہلاتا چلاگیا تھوڑی دیر گُزرنے کے بعد شھباز شاہ بھی اُٹھ کر اپنا رخ مہمان خانے کی جانب کیا۔
السلام علیکم۔شھباز شاہ نے اندر آکر کسی کو پشت کیے کھڑا پایا تو سلام کیا جواب میں سامنے جو بھی تھا اُس نے اپنا رخ شھباز شاہ کی طرف کیا تو شھباز شاہ کو اپنا وجود سناٹوں کی زد میں آتا محسوس ہوا کیونکہ وہ جس شخصیت سے آج اُن کا سامنا ہوا تھا انہوں نے کبھی نہ ملنے کی خواہش کی تھی۔
وعلیکم السلام میرے یار کیسے ہو۔وہ چلتا ہوا بڑے گرمجوشی سے اُن سے ملنے لگا مگر شھباز شاہ کو ابھی بھی سب خواب سا لگ رہا تھا اُن کے اندر گرمجوشی کی تو دور کی بات ہلکی سی خوشی بھی نہیں تھی۔








ماہی پورے گھر کی صفائی کرنے کے بعد ٹی وی دیکھنے بیٹھی تھی جب شازل اُس کے پاس آتا بیٹھ گیا۔
آپ نے لیٹ کردی آنے میں۔ماہی نے ٹی وی کی آواز کم کرکے پوچھا
ہممم کام تھا خیر تمہیں شاپنگ کروادوں اُس کے بعد ہمیں گاؤں کے لیے نکلنا ہے۔شازل کی بات پہ پہلے تو ماہی ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی مگر گاؤں جانے والی بات پہ اُس کے چہرے کی رنگت پل بھر میں متغیر ہوگئ تھی۔
گاؤں کیوں؟ماہی نے اپنی گھبراہٹ چُھپاکر پوچھا
حریم کی شادی ہے لالہ کا فون آیا گاؤں آنے کا حُکم دیا ہے۔شازل نے بتایا
حریم تو ابھی چھوٹی ہے نہ؟ماہی حریم کی شادی کا سن کر کجھ حیران ہوئی۔
ہاں چھوٹی ہے پر ہمارے یہاں زیادہ تر اِسی عمر میں لڑکیوں کی شادی ہوتی ہے مطلب اگر پہلا رشتہ آئے تو ہم فورن انکار نہیں کرتے سوچتے ہیں کجھ پھر جب مناسب لگتا ہے تو ہاں کردیتے ہیں ہمارے یہاں منگنیوں کا جھنجھٹ نہیں ہوتا اور ڈائریکٹ نکاح ہوتا ہے پھر رخصتی کرنے میں ہم تاخیر نہیں کرتے ۔شازل نے بتایا
میرا جانا کیا ضروری ہے آپ کے ساتھ؟ماہی نے جھجھک کر پوچھا
بلکل ضروری ہے تم میری بیوی ہوں۔شازل نے فورن سے جواب دیا
میں ونی میں آئی ہوئی لڑکی ہوں۔ماہی نے جیسے یاد کروایا
اگر تمہارے بھائی نے ق**ت*ل نہیں کیا تو پریشان مت ہو سچ جلد سب کے سامنے آجائے گا۔شازل پُریقین لہجے میں بولا۔
پھر کیا ہوگا آپ مجھے میرے گھر چھوڑ دینگے؟ماہی کے اندر ایک ڈر سا بیٹھ گیا شازل کی بات پہ۔
تیار ہوجاؤ ہمیں شاپنگ کے بعد گاؤں کے لیے نکلنا ہے وقت بہت کم ہے۔شازل اُس کی بات نظرانداز کرتا اُٹھ کھڑا ہوا تو ماہی نے افسوس بھری نظروں سے اُس کو دیکھا
