Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 59)

Haal e Dil by Rimsha Hussain

شازل۔ ماہی صوفے پہ شازل کے پاس بیٹھ کر اُس کا نام لیا۔

ہمممم۔ شازل نے جوابً ہمم کہنے پہ اکتفا کیا

آپ کب سے ڈرنک کرتے ہیں میرا مطلب کیوں ڈرنک کرتے ہیں جب آپ کو پینے کے بعد کسی چیز کا ہوش نہیں رہتا۔ ماہی اپنی ہی بات پہ گڑبڑاکر شازل سے بولی

تم نے یہ سوال آج کیسے پوچھ لیا؟ شازل کو اُس کا جواب عجیب لگا۔

ایسے ہی من میں آیا تو سوچا پوچھ لیا۔ ماہی نے خود کو لاپرواہ ظاہر کرنا چاہا

سچ بتاؤ۔شازل کو یقین نہیں آیا مگر ماہی اپنی انگلیاں چٹخانے لگی اُس کو سمجھ نہیں آیا وہ اب کیسے شازل کو اپنی بات سمجھائے؟

جب آپ نے لاسٹ ٹائیم ڈرنک کی تھی؟ماہی اتنا کہتی چپ ہوگئ

ہاں آگے۔شازل پوری طرح سے اُس کی جانب متوجہ ہوا

تو جو اُس ٹائم آپ کو فیل ہوا یا پھر خواہش ہوئی کیا وہ پہلے کبھی ایسا ہوا تھا جب آپ اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ ہوکر پیتے تھے تو۔ ماہی بے ترتیب لفظوں کا چُناؤ کرتی شازل سے پوچھنے لگی جس پہ شازل کو پہلے کجھ سمجھ نہیں آیا مگر جب اُس کو سمجھ آیا تو چہرے پہ معنی خیز مسکراہٹ نے احاطہ کیا وہ تھوڑا کھسک کر ماہی کے قریب بیٹھا تھا ماہی ہڑبڑا کر اپنے پیٹ پہ ہاتھ رکھ کر فاصلہ قائم کرنے لگی تو شازل مزید اُس کے قریب ہوا

کیا ہے ؟دور رہ کر بھی جواب دیا جاسکتا ہے۔ ماہی نے ٹوکا

وہ میں تمہاری بات سمجھ نہیں پایا ٹھیک سے تو تم تھوڑا ایکسپلین کرو یا کوئی ہینٹ وغیرہ دو تو میں سمجھو۔ شازل اپنی مسکراہٹ ضبط کرتا بولا

اتنے آپ ناسمجھ تو نہیں۔ ماہی نے منہ کے زاویئے بگاڑے۔

تم ایک اور کوشش کرو کیا پتا اِس بار میں سمجھ جاؤں۔شازل نے اسرار کیا۔

میں یہ کہنا چاہ رہی کے ڈرنک کے بعد جو اُس دن آپ سے ہوگیا کیا پہلے کبھی ہوا؟ ماہی نے سرسری لہجہ کیے پوچھا

اُس دن مجھ سے کیا ہوگیا تھا؟ شازل کو اب اپنی ہنسی کنٹرول کرنا محال لگا۔

شازل کیا واقع آپ میری بات نہیں سمجھ پارہے یا ڈرامہ کررہے؟ ماہی نے اب کی خفگی بھرے لہجے میں کہا تو شازل کی ہنسی چھوٹ گئ۔

ہاہاہاہاہاہا ماہی سیریسلی مجھے سمجھ نہیں آرہا ایسے سوال پہ میں تمہیں معصوم کہوں یا بے وقوف۔ ہنس ہنس کر شازل کی آنکھوں میں نمی اُتر آئی تھی۔

آپ کی نظروں میں تو ہمیشہ مجھے بے وقوف ہی رہنا ہے اِس لیے اب بتائے پہلے ایسی کوئی طلب محسوس ہوئی تھی یا نہیں۔ ماہی جھنجھلاہٹ بھرے لہجے میں بولی

آنسٹلی بات بتاؤ؟شازل تھوڑا اُس کی جانب جھکا تو ماہی فورن سے اپنے چہرہ پیچھے کرنے لگی۔

دور رہ کر بتائے۔ماہی نے کہا

دور ہی ہو درمیان میں تمہارا اتنا بڑا پیٹ جو ہے۔شازل کی بات پہ اُس کا منہ بن گیا جو چڑانے کا کوئی بھی موقف ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا۔

بتائے اب آنسٹلی۔ ماہی نے پوچھا

وہ کیا ہے نہ پہلے ایسا کجھ فیل نہیں ہوا تھا اور نہ ایسی کوئی خواہش اندر میں جاگی تھی جب میں اپنی گرل فرینڈز کے ساتھ پیتا تھا اور نہ ایسا کجھ ہوا جو لاسٹ ٹائیم پیتے وقت مجھ سے ہوگیا تھا۔پتا ہے کیوں؟ شازل اپنی بات پہ سسپینس پھیلا کر اُس کے بہت قریب ہوتا گیا تھا جس پہ ماہی سانس تک روکے ہوئے تھی اُس نے اُس وقت کو ہزار بار کوسا جب شازل سے ایسا سوال کیا۔

ک کیوں؟ ماہی کی زبان لڑکھڑائی

کیونکہ تب میں کنوارہ چھڑا چھانٹ تھا تمہارے جیسی پیاری بیوی نہیں تھی نہ اِس لیے ایسی کوئی طلب بھی نہیں جاگی۔ شازل اپنی بات کے احتتام پہ اُس کے جُھکنے والا تھا جب ماہی یکدم اُس کو دھکا دیتی اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر اُٹھ کھڑی ہوئی۔

ب بے ش شرم۔ ماہی لڑکھڑاہٹ بھری آواز میں کہتی واشروم میں جانے لگی تو شازل کا چھت پھاڑ قہقہقہ فضا گونجا

اگر میں شرم و حیا والا ہوتا تو اِس وقت تم اتنا بڑا پیٹ لیکر نہ گھوم رہی ہوتی۔ شازل کی اِس قدر بے باک بات پہ ماہی کے کانوں سے دھواں نکلنے لگا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

نیوز چینلز دیکھے آپ نے؟ زوبیہ بیگم خاصے تپے ہوئے لہجے میں دلاور خان سے بولی

ہمممم کل سے ہر اینکر چیخ چیخ کر بول رہا ہے اپنی فلم میں لڑکیوں کو ننگے سر شارٹ کپڑے پہنانے والا دلاور خان اپنی بیٹی کو چُھپائے بیٹھا ہے وہ درس دیتی ہے یوں سمجھو جتنے منہ اُتنی باتیں۔ دلاور خان پریشانی سے ڈوبی آواز میں بولے

یہ دیکھے۔زوبیہ بیگم نے ایک میئگزین دلاور خان کے پاس کی تو وہ چونک کر اُس کو دیکھنے لگا۔

یہ کیا؟ دلاور خان تعجب سے میئگرین کی فرنٹ سائیڈ پہ یمان کی بیک سائیڈ والی تصویر اور آروش کا ہلکہ سا نظر آتا حجاب دیکھ کر زوبیہ بیگم سے بولے جس میں یمان کا چہرہ تو صاف عیاں تھا مگر آروش کا نہیں کیونکہ یمان کا ہاتھ اُس کے گال پہ تھا

سب لوگوں کو نیا اسکینڈل مل گیا ہے۔ زوبیہ بیگم نظریں چُراتی بولی

ایسی بکواس خبر چھپوانے والے کا آفس میں ہمیشہ کے لیے بند کرواتا ہوں۔ دلاور خان نے طیش میں آکر گرجے

یمان نے پہلے ہی بندوبست کرلیا ہے۔ زوبیہ بیگم نے کہا

سمجھ نہیں آرہا میں کروں تو کیا کروں؟ باہر جاتا ہوں تو میڈیا والے تیار بیٹھے ہیں مجھے گھیرلینے کے لیے۔ دلاور خان نے کہا

ایک انٹرویوں میں سارا کجھ کلیئر کردے ایسا کرے آروش کو بھی راضی کرلے کیا تاکہ وہ بھی ساتھ ہو انٹرویو میں ایسے یہ خاموش نہیں ہونے والا معاملہ۔ زوبیہ بیگم نے مشورہ دیا۔

آروش سے بات کرنی تو ہوگی ورنہ ہمارے لیے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ دلاور خان نے کہا

ہاں اور یمان کو بھی کہے زیادہ آروش کی سائیڈ نہ لے وہ نہیں جانتا ایسے معاملات کیسے ہینڈل کیے جاتے ہیں۔ زوبیہ بیگم نے کہا تو دلاور خان نے اثبات میں سرہلایا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آروش دو دن سے اپنے کمرے تک محدود تھی وہ نہ خود باہر آئی تھی نہ کسی کو اندر آنے کی اِجازت دی تھی مگر وقت پہ یمان کے کہنے پہ نجمہ اُس کو کھانا دے کر چلی جاتی تھی فلوقت ہر ایک نے اُس کو اُس کے حال پہ چھوڑا ہوا تھا جس پہ آروش نے شکر کا سانس خارج کیا تھا اب وہ اپنے کمرے سے باہر نکلتی یمان کے کمرے کے دروازے کے پاس کھڑی نروس حالت میں اپنی انگلیاں چٹخا رہی تھی جو بھی تھا اُس دن یمان جیسے اُس کی ڈھال بن گیا تھا ایسے اگر وہ نہ کرتا تو وہ جیتے جی مرجاتی اگر کسی اور حساب سے یمان مدد کرتا تو شاید آروش کو کبھی خیال نہ آتا کے اُس کو یمان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے مگر اب وہ خود کو یمان کے احسان تِلے دبتا محسوس کررہی تھی کیونکہ یمان نے اُس کی حفاظت کی تھی اُس کا چہرہ کوئی اور نہ دیکھ لے وہ سب کجھ فراموش کیے سامنے آگیا تھا۔ آروش کا ہاتھ بے ساختہ اپنے گال پہ پڑا تھا جہاں یمان نے اپنا ہاتھ رکھا۔ جانے کیوں اُس کو اب بھی یمان کا لمس محسوس ہونے لگا تو اُس نے جلدی سے اپنا ہاتھ گال سے ہٹایا مگر تبھی دروازہ کھول کر یمان باہر جانے کے لیے جیسے ہی آگے بڑھا آروش کو اپنے سامنے دیکھ کر اُس کو خوشگوار حیرت نے آ گھیرا جب کی آروش اُس کی اچانک آمد پہ ہڑبڑا سی گئ۔

آپ یہاں خیریت؟

کوئی کام تھا؟ یمان نے ایک سانس میں پوچھا

میں ٹھیک ہوں بس تمہارا شکریہ ادا کرنے آئی تھی انجانے میں ہی مگر تم نے مجھ پہ بہت احسان کیا ہے اگر اُس دن تم نہ ہوتے تو۔ آروش اتنا کہتی خاموش ہوئی تو یمان مسکرادیا

مجھے اُس دن ہونا تھا کیونکہ مجھے آپ کو پروٹیکٹ کرنا تھا اُس کے لیے آپ کو شکریہ کہنے کی ضرورت نہیں اور جو میں نے کیا وہ میرا احسان نہیں میری محبت میری عقیدت تھی جس کو گوارا نہیں تھا کے کوئی اور آپ کو دیکھے۔ یمان شدت پسندی سے بولا

میرے اِس طرح بات کرنے پہ تمہیں کوئی خوش فہمی پالنے کی ضرورت نہیں میرا جواب آج بھی وہی ہے۔آروش نے کہا

ضد چھوڑدے آپ کیونکہ آپ کا انتظار تو میں اپنی آخری سانس تک کروں گا۔ یمان کا اعتماد قابلِ دید تھا

اور تمہیں کیوں ایسا لگتا ہے کے تمہارا انتظار حاصل ٹھیرے گا؟ آروش نے جاننا چاہا

کیو

یمان صاحب آپ کی فیانسی روزی میم ملنے آئی ہیں شی ویٹنگ فار یو ویری بے صبری سے۔ یمان آروش سے کجھ کہنے والا تھا جب نجمہ دونوں کے درمیان مداخلت کرتی قدرے شرمانے والے انداز میں یمان سے اُردو انگلش میں بولی تو اُس کی بات پہ یمان نے سختی سے اپنے ہونٹوں کو بھینچا کیونکہ وہ اپنے چہرے پہ آروش کی تمسخرانہ نظریں اچھے سے محسوس کررہا تھا یمان نے بے بسی سے اپنی آنکھوں کو بند کرکے کھولا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

چچی جان حریم کہاں ہیں؟آج اُس کے چیک اب کا دن تھا ہمیں شہر کے لیے نکلنا تھا۔ دُرید باورچی خانے میں فاریہ بیگم کے پاس آکر بولا

دُرید بیٹا اُس نے منع کردیا ہے بول رہی تمہارے ساتھ نہیں جائے گی۔ فاریہ بیگم نے گہری سانس بھر کر بتایا

اِتنے ماہ وہ میرے ساتھ چلی ہے تو پھر آج کیا مسئلہ ہے؟ دُرید نے سنجیدگی سے پوچھا

بیٹا پتا نہیں بس اچانک اُس کو کیا ہوجاتا ہے بہت چڑچڑی سی ہوگئ ہے بات پہ بات کاٹ کھانے کو ڈورتی ہے۔ فاریہ بیگم کافی پریشانی سے بولی

میں ٹھیک کرتا اُس کو بہت دنوں سے ڈھیل دی ہے اُس کا نتیجہ ہے۔ دُرید تیز آواز میں کہتا جانے لگا جب فاریہ بیگم بول پڑی

نرمی سے بات کرنا بیٹا کیونکہ وہ جس کنڈیشن میں ہے اُس حالت میں اُس کا یوں اسٹریس لینا اچھی بات نہیں۔

آپ فکر نہ کرے دُرید اُن کو تسلی دیتا باورچی خانے سے نکل گیا۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

کون؟ دروازہ نوک ہونے پہ حریم نے پوچھا

میں ہوں دُرید۔دوسری طرف سے آتی آواز پہ حریم کے دل نے ایک بیٹ مس کی۔

کیا کام ہے؟ حریم اجنبی لہجے میں بولی

دروازہ کھولوں۔ درید اُس کی بات نظرانداز کرکے بولا

ہم نہیں کھولے گے آپ جائے یہاں سے۔ حریم نے اپنے لہجے کو سخت کیا۔

مجھے غصہ مت دلاؤ حریم جلدی سے دروازہ کھولوں اور تیار ہوجاؤ آج تمہارے چیک اپ کا دن ہے میں کوئی کوتائی برداشت نہیں کروں گا۔دُرید نے جتانے والے انداز میں کہا

آپ کو ہماری فکر میں ہلکان ہونے کی ضرورت نہیں ہمیں اگر چیک اپ کروانا ہوگا تو ہم خود دیکھ لینگے۔ حریم نے سنجیدگی سے کہا

ایک منٹ کے اندر اندر دروازہ کھولوں وگرنہ میں دروازہ اگر توڑ کر اندر آیا نہ تو ایک لگاؤں گا کان کے نیچے پھر نکل جائے گی یہ ساری اکڑ۔دُرید اُس کی ایک ہی رٹ پہ زچ ہوتا بولا تو حریم کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو آنے لگے ایسے ہی دیکھتے دیکھتے وہ زور سے سسکیاں لیتی زارو قطار رونے لگی جس کی آواز دُرید نے باآسانی سے سُنی اور سن کر خاصا پریشان ہوگیا۔

حریم

حریم

حریم یار کیا ہوگیا ہے؟کیوں رو رہی ہو کیا کہی پین ہورہا ہے؟مجھے بتاؤ میں ڈاکٹر کو یہی بلوالیتا ہوں مگر پلیز تم روؤ مت۔دُرید اُس کے ایسے رونے پہ حددرجہ پریشانی کا شکار ہوتا دروزہ کھٹکھٹا کر اُس سے ایک سانس میں بولا تبھی ایک ملازمہ اُس کے ہاتھ میں ڈوپلیکیٹ چابی تھماکر گئ تھی تو دُرید دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوا تھا حریم کو دیکھ کر وہ جیسے سانس لینا تک بھول گیا جو اپنا پورا وجود گرم شال میں چُھپائے چہرہ ہاتھوں دیئے پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔

حریم۔ دُرید سے اُس کی حالت دیکھی نہیں گئ جبکی حریم نے اپنا سر نہیں اُٹھایا ویسی ہی پوزیشن میں رہی

تمہیں میری بات بُری لگی؟ دُرید تھوڑا فاصلے پہ کھڑا ہوتا پوچھنے لگا

ہمیں آپ سے کوئی بات نہیں کرنی پلیز جائے یہاں سے۔ حریم ہچکیوں کے درمیان بولی تو دُرید کا دل کٹ کے رہ گیا

میں جانتا ہوں تم مجھ سے نفرت کرنے لگی ہو پر حریم میری غلطی کی سزا خود کو یا بچے کو تو نہ دو پلیز اُٹھ کر تیار ہوجاؤ چیک اپ کے لیے جانا ہے پریگنسی کی حالت میں ایسے رونا یوں لاپرواہی ظاہر کرنا بچے کے لیے ٹھیک نہیں۔دُرید انجانے میں اُس کی دُکھتی رگ پہ ہاتھ رکھ گیا حریم کا رونا یکدم بند ہوگیا تھا۔

آپ جائے ہم آتے ہیں۔حریم بنا اُس کو دیکھ کر سپاٹ انداز میں بولی کجھ بھی مگر وہ اپنے بچے کی حالت پہ کوئی کمپرومائز یا لاپرواہی نہیں کرنے والی تھی یہ تو طے تھا

آنسو تو صاف

ہاتھ مت لگائے آپ مجھے۔ حریم نے بے دردی سے اُس کا ہاتھ جھٹکا تو دُرید نے سختی سے اپنے ہونٹوں کو بھینچا

کیوں کررہی ہو ایسا؟ دُرید نے پوچھا

ہم آپ کے جوابدے نہیں۔ اجنبی لہجہ

میں ایسا کیا کیوں کروں؟جو تم پہلے کی طرح ہوجاؤ اور مجھے معاف کردو؟دُرید گھٹنوں کے بل اُس کے قدم کے پاس آکر بیٹھا تو حریم کے چہرے پہ عجیب تاثرات نمایاں ہوئے۔کل جو وہ اُس کے قدم کی دھول بننا چاہتی تھی آج وہ لمبا چوڑا مضبوط عصابوں کا مالک مرد اُس کے قدموں کے پاس بیٹھا تھا

آپ ہمیں ہمارے حال پہ چھوڑدے یہ آپ کا بڑا احسان ہوگا ہم پہ۔حریم بے رخی سے بولی

یہ تو ناممکن ہے تابش کی موت کا اگر تمہیں علم ہے تو یہ بھی بتا ہوگا میرے آگے کیا منصوبے ہیں۔دُرید اُس کو دیکھ کر بولا

ہمیشہ وہ نہیں ہوگا جو آپ چاہتے ہیں۔حریم نے باور کروایا

ہمیشہ کا پتا نہیں مگر اِس بار وہ ہی ہوگا جو میں چاہتا ہوں۔دُرید کا لہجہ مضبوط تھا

آپ کی سوچ ہے۔حریم نے طنز کیا

میرا یقین ہے۔دُرید دوبدو بولا

جلد ہی یہ یقین ٹوٹے گا۔ حریم نے کہا

وہ تو آگے چل کر پتا چلے گا ابھی تم اُٹھو مجھے فاریہ چچی کو بھی تیار ہونے کا کہنا ہے آگے ہی تم نے بہت باتوں میں وقت ضائع کردیا ہے۔ دُرید اُٹھ کر کندھوں پہ اپنی مردانہ شال دُرست کیے سارا الزام اُس پہ ڈال کر بولا

ہم کوئی باتیں نہیں کررہے تھے اور نہ ہم آپ کے ساتھ جانا چاہتے ہیں جو آپ کا قیمتی وقت ضائع ہورہا ہے۔ حریم تلخ ہوئی

حریم کیا ہوگیا ہے یار؟ میں بس مزاق کررہا تھا۔ دُرید نے وضاحت دینا چاہی

ہمارا اور آپ کا کوئی مزاق نہیں۔ حریم دو ٹوک لہجے میں اتنا کہتی واشروم کی طرف جانے لگی۔

“بہت چڑچڑی سی ہوگئ ہے بات پہ بات کاٹ کھانے کو ڈورتی ہے۔ “

دُرید کے کانوں میں فاریہ بیگم کے کہے جُملے گونجے تو اُس نے بے بسی سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

تم تو غائب ہی ہوجاتے ہو میرا تو زرہ برابر خیال نہیں تمہیں۔ روزی نے شکوہ کناہ لہجے میں یمان سے کہا

ایسا کِس نے کہہ دیا تم سے؟ یمان کو تمہاری بہت پرواہ ہے ہر ایک سے بس تمہارا ذکر کرتا ہے۔ یمان کے جواب دینے سے پہلے آروش نجمہ کے ساتھ ریفریشمنٹ کا سامان لاتی اُس سے بولی تو یمان جھٹکے سے گردن موڑ کر آروش کو دیکھنے لگا جس کی تنقیدی نظریں سلیولیس شرٹ کے ساتھ گھٹنوں تک پھٹی ہوئی پینٹ پہنے روزی پہ تھی جس کے کندھوں تک آتے بال کُھلے ہوئے تھے اور چہرے پہ بڑی فرصت سے میک اپ کیا گیا تھا

میرے گنہگار کانوں نے تو کبھی یمان صاحب کے منہ سے بھولے سے بھی روزی نام نہیں سُنا۔ نجمہ چور نظروں سے روزی آروش اور اُڑی ہوئی رنگت کے ساتھ بیٹھے یمان کو دیکھ کر سوچنے لگی۔

تم آروش رائٹ؟ روزی کی باچھیں کُھل گئ تھی آروش کی بات پہ اِس لیے اُس کو دیکھ کر نام کنفرم کرنا چاہا

رائٹ۔ آروش اتنا کہتی سینٹر صوفے پہ بیٹھی تو یمان نے پہلو بدلا

یمان پھر کیا خیال ہے آج رات ڈنر ساتھ کرے۔ روزی یمان کو دیکھ کر پرجوش لہجے میں بولی تو یمان کی نظریں بے ساختہ آروش پہ پڑی جو گال پہ ہاتھ رکھ کر بڑی دلچسپ نظروں سے اُس کو دیکھ رہی تھی اُس کے ایسے دیکھنے پہ یمان نے ایک ساتھ کئ بیٹ مس کی تھی اُس نے جلدی سے اپنی نظروں کا زاویئہ اُس پہ سے ہٹایا مگر اُس نے ایک منٹ میں سوچ لیا تھا اگر آروش نے موقعے پہ چونکا مارا ہے تو وہ چھکا مار ہی سکتا تھا یخلت اُس کے چہرے پہ شیطانی مسکراہٹ آئی تھی دونوں گالوں کے ڈمپلز پوری آب وتاب سے نمایاں ہوئے تھے جن کو دیکھ کر جانے کیوں آروش کو اپنے آس پاس خطرے کی گھنٹیاں بجتی سُنائی دی۔

سوری ٹو سے بٹ آج اِنہوں نے مجھ سے کہا تھا کے اِن کا بہت دل کررہا ہے باہر جانے کو جب سے یہ آئی ہیں کہی آؤٹنگ وغیرہ پہ نہیں گئ اور یہ اسلام آباد بھی پہلی بار آئی ہیں اور ان کا بہت دل چاہ رہا ہے اسلام آباد کی خوبصورتی دیکھنے کو تو میں نے اِن کے ساتھ پلان کردیا ہم جائے گے ایسے میں اب میں تمہارے ساتھ نہیں جاسکتا آروش کو بہت بُرا لگے گا۔ یمان بڑے سلیقے سے ایک کے بعد ایک جھوٹ اور اپنے اندر دبی خواہش کا سِرا آروش کے سر پہ تھوپا جو پوری آنکھیں اور منہ کھولے اُس کو دیکھ رہی تھی۔

اووہ اچھا۔ روزی کے چہرے پہ نافہم تاثرات نمایاں ہوئے.

میں نے ک

شکر ہے اِس کو بھی تھوڑا خیال آیا ہم سے نہیں تو تم سے کہہ دیا میں بھی سوچ رہی تھی باہر جانے کا پلان ہو مگر آروش نے تمہیں کہہ دیا ہے تو اب دیر نہیں کرنا خوب اِس کو گُھمانا پِھیرانا انجوائے کروانا۔آروش ابھی کجھ کہنے والی تھی جب دلاور خان کے ساتھ آتی زوبیہ بیگم نے شاید یمان کی بات سن لی تھی تبھی فورن سے بولی تو آروش نے خونخوار نظروں سے یمان کو دیکھا جس کے جواب پہ یمان نے آنکھ ونک کی۔

نہیں میں نے اپنا پلان چینج کردیا ہے میرا اب موڈ نہیں۔آروش سنجیدگی سے کہتی اُٹھ کر جانے لگی۔

یہ کیا بات ہوئی بیٹا تم نے یمان سے کہا ہے تو اب جاؤ یمان نے تو سارا انتظام بھی کردیا ہوگا۔دلاور خان نے اُس کو جاتا دیکھا تو کہا

ہاں اور نہیں تو کیا میں نے ریسٹورنٹ میں ایک الگ سے کیبن تک بُک کروایا ہے تاکہ اِن کو کھانا کھانے میں مشکل نہ ہو کمفرٹیبل رہے۔یمان نے جلدی سے دلاور خان کی بات پہ تائید کی۔وہ کیسے خود پہ ضبط کیے ہوئے تھا وہ بس یہ خود جانتا تھا ورنہ دل تو اُس کا بھنگڑا ڈالنے کا کہہ رہا تھا۔

اُس کیبن میں تم اپنی فیانسی کو لیکر جانا ہے۔آروش نے دانت کچکچائے

ایک تو اِن محترمہ کے مزاج نہیں ملتے اتنے معروف گلوکار کے ساتھ گھومنے کا موقع مل رہا ہے اور ایک یہ ہیں جو ٹھکڑا رہی ہیں ناشکری نہ ہو تو۔نجمہ اُس کی ایک ہی رٹ پہ سخت بدمزہ ہوئی

آروش کیا ہوگیا ہے کیوں ہر ایک بات پہ ضد کرتی ہو جاؤ اور جو اپنی تیاری کرنی ہے کر آؤ۔زرفشاں اپنے بیٹے کو فیڈر پلاتی آروش کو ٹوک کر بولی تو آروش نے بے بسی سے یمان کو دیکھا جو اب اپنے گال پہ ہاتھ رکھ کر خاصی دلچسپ نظروں سے اُس کو دیکھ رہا تھا جیسے کہنا چاہ رہا ہو آپ کا مذاق آپ پہ ہی بھاری پڑا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *