Haal e Dil by Rimsha Hussain NovelR50524 Haal e Dil (Episode 01)
Rate this Novel
Haal e Dil (Episode 01)
Haal e Dil by Rimsha Hussain
تمہیں پتا ہے میں اپنے سب دوستوں سے زیادہ تم پہ اعتبار کرتا ہوں اور اِسی اعتبار کی وجہ سے میں نے تمہیں یہاں آنے کا کہا اُمید ہے تم میری لاج رکھو گے۔ہسپتال کے کوریڈور میں تیس سالہ مرد جس کی بانہوں میں نو مولوں بچہ تھا اُس نے اپنے سامنے کھڑے آدمی سے کہا جو اُس کا ہم عمر معلوم ہورہا تھا
بلکل میرے یار تم حکم کرو۔سامنے والے نے حوصلہ بڑھایا
تمہیں پتا ہے میری چار بیٹیاں ہیں ہمارے یہاں بچیوں کو ناپسند کیا جاتا ہے میری اماں حضور ان کو جانے کیسے برداشت کررہی ہیں پر اِس بار ان کی سخت تاکید تھی بیٹے کی ورنہ بیٹی اگر ہوئی تو جان سے مارنے کی دھمکی دی ہے۔انہوں نے بے بسی سے بتایا
بیٹیاں تو رحمت ہوتی ہے تمہیں اپنی اولاد کے لیے اسٹینڈ لینا چاہیے۔سامنے والے نے افسوس کا اظہارہ کیا
سب میرے خلاف ہے میرے کام کی وجہ سے اُس کے بعد پسند کی شادی پھر اب بیٹیاں۔اتنا کہتے وہ خاموش ہوگیا
اب مجھ سے کیا چاہتے ہو تم۔گہری سانس ہوا کے سپرد کرتے ہوئے پوچھا
میں چاہتا ہوں میری بچی کی پرورش تم کرو اُس کو اپنا نام دوں پر یہ میری امانت ہوگی جو وقت آنے پہ میں واپس لوں گا۔اپنے دوست کی بات پہ اُن کی نظر گود میں خوبصورت بچی پہ پڑی جس کی آنکھیں بند تھی انہوں نے بے اختیار اُس کو اپنی بانہوں میں بھر کر ماتھا چوما جس سے بچی کسمساکر اپنی آنکھیں کھول کر کبھی اُن کو دیکھتی تو کبھی اپنے اصل باپ کو۔
تمہاری بچی تو بہت پیاری ہے ماشااللہ۔سامنے والے نے کہا تو اُن کے چہرے پہ تلخ مسکراہٹ آئی
تم لیکر جاؤ گے پیار دو گے اُس کو باپ کا۔آس بھرے لہجے میں پوچھا
ہاں اور میرا واعدہ ہے تمہاری بیٹی کو اپنے بچوں سے زیادہ پیار دوں گا۔بچی کا چھوٹا سا ہاتھ چوم کر کہا
میری بچی کا بہت خیال رکھنا اُس کی ہر فرمائش پوری کرنا۔اب کی انہوں نے پرسکون لہجے میں کہا
کہا نہ پریشان مت ہو آج سے یہ میری بیٹی تمہیں نہیں پتا مجھے بیٹی کی کتنی چاہ تھی جو آج پوری ہوگئ۔وہ پرجوش آواز میں بولے
امانت ہے میری بیٹی۔ان کا دل کسی خدشے کے تحت دھڑکا تبھی بولے
اور میں امانت میں خیانت نہیں کروں گا تم میرے جگری یار ہو تو کیسے میں تمہارے خون کو تکلیف دوں گا۔سامنے والے نے دل موہ لینے والا جواب دیا






تیرے سامنے آجانے سے یہ دل
میرا دھڑکا ہے یہ غلطی نہیں ہے تیری
یہ قصور نظر کا ہے جس بات کا تجھ کو
۔۔۔۔۔ڈر۔۔۔۔۔۔
آے امی۔
حریم جو ہاتھ میں بڑا سا برتنوں کا سیٹ پکڑتی گانا گاتی آرہی تھی تبھی اُس کا پیر صوفے پہ اٹکا اور چھن کی آواز سے سارے برتن نیچے ماربل کے فرش پہ گِر کر اپنی حالت پہ افسوس کناں تھے کجھ ٹوٹے ہوئے برتنوں کو دیکھ کر حریم نے اپنے لب دانتوں تلے دبائے
بیڑا غرق ہو تیرا حریم میرے جہیز کے خوبصورت برتنوں کا ستیاناس کردیا تم نے۔اپنی پھوپھو جان کی آواز پہ اُس نے سراُٹھایا کیونکہ جتنا شور مچا تھا حویلی کے سب ملازمائیں اور اُس کی مامی جان آچُکی تھی جن کا چہرہ برتنوں کو دیکھ کر دیکھنے لائق تھا
اتنے سالوں سے آپ نے قید کیا ہوا ہے بے چاروں نے ایسے ہی اپنی جان چُھڑوانی چاہی۔حریم منہ بسور کر بولی تو اُس کی مامی نے تیکھے چتون سے اُس کو گھورا
اماں جان جو سہی سلامت ہیں اُن کو تو الگ کروائے۔شبانا نے کہا تو ان کی نظر نیچے گئ سب کا دھیان اپنی طرف ناپاکر حریم دبے قدموں سے وہاں سے کھسکی۔
تبھی سامنے والے کمرے کو دیکھ کر اُس نے اپنے قدم وہاں بڑھائے جیسے ہی اُس کا ہاتھ ہینڈل پہ پڑا اُس نے جھٹ سے واپس کھینچا پھر ہاتھ میں کانچ کی چوڑیوں کے بیچ پونی نکال کر اپنے کُھلے بالوں کو باندھا کندھے پہ جھولتے ڈوپٹے کو اچھے سے سر پہ اوڑ کر کمرے کے اندر گُھسی۔
کمرے کے دروازے کو کُھلتا دیکھ کر وہ جو اپنے کام میں مصروف تھا چونک کر سامنے دیکھا جہاں حریم خاموشی سے صوفے پہ بیٹھ گئ اُس کو اتنا خاموش اور سلیقے سے بیٹھا دیکھ کر تعجب ہوا پھر یکدم دماغ میں کجھ کلک ہوا
آج کے بعد میں نے اگر تمہیں کھلے بالوں سمیت یہاں وہاں منڈلاتے دیکھا تو بال جڑوں سے اُکھیردوں گا دوسری بات آئیندہ کے بعد بنا سر پہ ڈوپٹہ لیے دیکھا تو اپنا حشر سوچ لینا ٹانگیں توڑ کر گھر میں بیٹھادوں گا
مسکراکر اپنا سر جھٹک کر اُس نے اپنی توجہ حریم پہ کی
کیا کارنامہ انجام دیا ہے میری بچے نے۔درید شاہ کی بات پہ اُس کے گال پُھول گئے
دُر لا پلیز ڈونٹ کال می بچہ۔حریم نے بُرا مان کر کہا تو خاموش کمرے میں درید شاہ کا قہقہقہ گونجا
اچھا تو بتاؤ کیا بات ہوئی ہے۔دُرید شاہ نے اپنی گود میں رکھا لیپ ٹاپ شٹ ڈاؤن کیے حریم سے پوچھا جانتا تھا حریم کی موجودگی میں وہ کام کرنے سے تو رہا
درید شاہ کے پوچھنے پہ حریم نے ایک چور نظر کمرے کے دروازے پہ ڈالی پھر صوفے سے اُٹھ کر بیڈ کے پاس بیٹھ گئ۔
دُر لا پھوپھو جان کا سیٹ ہمارے ہاتھوں سے گِر کر ٹوٹ گیا جو اُنہیں جہیز میں ملا تھا۔حریم نے مسکین شکل بنائے بتایا
کونسا سیٹ؟درید شاہ نے نرمی سے پوچھا
برتنوں کا۔حریم نے منہ بگاڑ کر جواب دیا
آپ نے کیوں اُٹھایا؟دوسرا سوال
دینو کاکا لارہے تھے بے چارے بُزرگ تھے ہم نے سوچا اُن کے ضعیف ہاتھوں کو کیا تکلیف دینی تبھی ہم خود اُس کو حویلی لانے والے تھے تو یہ ہوگیا۔حریم نے ساری بات بتائی
آپ کے اِس ہم میں کون کون تھا؟دُرید شاہ نے جان بوجھ کر نیا سوال داغا
ہم خود اکیلے۔حریم نے جواب دیا
تم تائی جان کی چیزوں کو مت چھوا کرو پتا تو ہے وہ کتنا پوزیسو ہوتی ہیں اپنے جہیز کے سامان کے مطلق۔درید شاہ اُس کا گال پہ ہاتھ رکھتا بولا۔
ہم نے تو مدد کرنا چاہی۔حریم نے وضاحت کی
جو بھی پر آج تم بس یہاں رہنا ورنہ سارا دن وہ تمہیں ڈانٹے گی۔درید شاہ اتنا کہتا اُٹھ کھڑا ہوا اُس کو اُٹھتا دیکھ کر حریم بھی کھڑی ہوئی
آپ کہاں جارہے ہیں؟حریم نے بے چینی سے پوچھا
شہر کجھ کام ہے۔دُرید شاہ کے بتانے پہ حریم کا چہرہ کِھل اُٹھا
پہلے بتاتے ہم نے لسٹ بنانی تھی۔حریم ناراض لہجے میں بولی
لسٹ تمہاری منہ زبانی یاد ہے پریشان مت ہو مل جائے گی تمہیں وقت پہ۔دُرید شاہ اُس کے سر پہ چپت لگاتا بولا
یاد سے۔حریم نے انگلی اُٹھا کر کہا تو درید شاہ نے سرہلانے پہ اکتفا کیا پھر واشروم کی جانب بڑھ گیا حریم جب کی مسکراکر بیڈ پہ بیٹھ گئ




ماہی
ماہی
کہاں ہو؟
آمنہ پوری حویلی میں ماہی کو آوازیں دیتی پِھررہی تھی جو ناجانے کس کونے میں چُھپی بیٹھی تھی۔
ماہی چھت پہ ہے۔علی نے بتایا تو وہ سر پہ ہاتھ مارتی چھت پہ گئ جہاں ماہی چارپائی پہ سنجیدہ تاثرات لیے بیٹھی تھی ہاتھ میں ماہنامہ ڈائجسٹ تھا حویلی کے اندر اجازت نہیں تھی ناولز پڑھنے کی جس وجہ سے ماہی چھت پہ چھپ کر پڑھتی تھی کیونکہ اُس کو بہت شوق تھا ناولز پڑھنے کا۔
ایسا کیا سین پڑھ لیا اپنے ناول میں جو حواس باختہ بیٹھی ہو۔آمنہ اُس کے ہاتھ سے ڈائجسٹ چھین کر بولی تو ماہی جیسے خواب سے جاگی
آمنہ یار واپس کرو میرا ڈائجسٹ۔ماہی نے گھورتے کہا
پہلے بتاؤ۔آمنہ نے شرارت سے پوچھا
کجھ نہیں تھا بس معصومہ ہیروئن دیو ہیروں کی قید میں آگئ۔ماہی افسردگی سے بولی
کیوں تمہارے ناولز کے ہیروں ظلم کرتے اپنی ہیروئن پہ۔آمنہ نے تنگ کرنے کی خاطر سوال داغا
ہیروئن ونی میں گئ تبھی روز اُس کو مارتا پیٹتا گھروالے الگ سے ظلم کرتے۔ماہی کے بتانے پہ آمنہ خاموش ہوئی
یہ تو حقیقت ہے ونی میں آئی لڑکی کے ساتھ بدتر سلوک کیا جاتا ہے۔آمنہ سے گہری سانس بھر کر کہا
کیا یہ قانون ختم نہیں ہوسکتا کب تک معصومہ لڑکیاں ونی کے نام پہ برباد ہوگی۔ماہی نے سنجیدگی سے کہا
گاؤں کا سرپنج شھباز شاہ ہے وہ چاہے تو اِس کو ختم کرسکتا ہے پر وہ بہت ظالم ہے۔آمنہ نے افسوس سے بتایا
اُن کا تعلق شاہ خاندان سے ان کو چاہیے ایسی رواج ایسے قانون ختم کریں اگر خدانخواستہ کل کلاں اُن کی بیٹی قصاص کے نام پہ جائے وہ بھی غیر سید کے پاس تو وہ کیا کریں گے۔ماہی کی بات پہ آمنہ نے گھبراکر آس پاس نظر ڈورائی
ہشش ماہی خاموش سوچ سمجھ کر بولا کرو خدانخواستہ اُن پہ ایسا وقت آئے تمہیں پتا نہیں شھباز شاہ اپنی بیٹی پہ جان نچھاور کرتا ہے دُرید شاہ شازل شاہ اپنی بہن سے انتہا کی محبت ہے ایسا وقت آیا بھی تو وہ کبھی آروش شاہ کو آگے نہیں کریں گے۔آمنہ نے سخت لہجے میں کہا
کیوں کیا یہ اصول اُن پہ لاگو نہیں ہوتے یا اُن کی سبز قدموں والی بیٹی کو کوئی ونی میں بھی نہیں لے گا۔ماہی طنزیہ بولی تو آمنہ نے سخت نظروں سے اُس کو دیکھا
کیا اول فول بک رہی ہو آروش شاہ کا احترام کیا کرو جانتی نہیں ہو اُسے تم۔آمنہ نے سنجیدگی سے ٹوکا
جانتی ہوں پورے حویلی کے مکین کو آروش شاہ کو بھی جو کالج میں مردوں کے درمیان پڑھی تھی وہ بھی شہر جاکر۔ماہی نے بُرا منہ بناکر بتایا
قابلِ احترام ہے وہ کیسے اپنے خاندان کی عزت قائم کی کبھی سُنا ہے کے اُس نے کجھ غلط کیا پورے چار سال بعد کیسے عزت واحترام سے آئی اگر کالج جاکر پڑھا بھی تو اپنے باپ بھائی کا نام اونچا کیا اور اُس کی بدولت شھباز شاہ نے گورنمنٹ اسکول گاؤں میں بنوایا باہر شہر جاکر پڑھنے کی اجازت بھی دی ہے سب کو۔آمنہ نے کہا
سیدزادی ہے اُس کو ایسا ہی ہونا چاہیے کوئی بڑی بات تو نہیں شھباز شاہ سرپنج ہیں اُن کو ہی اپنے گاؤں کا سوچنا ہے اور کیا تمہیں یہ نہیں پتا کے آرو
ماہی۔
ماہی کے مزید کجھ بولنے سے پہلے آمنہ نے ٹوکا تو وہ چپ رہی۔
یہ ایسا واحیات ناولز نہ پڑھا کرو دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارا۔اپنی کزن پلس بہن پلس دوست کی بات پہ ماہی کا منہ صدمے کی حالت میں کُھل گیا
آج تو میرے پیارے ناولز کے بارے میں ایسا بول دیا آئیندہ نا بولنا۔ ماہی نے گھور کر وارن کیا جس پہ آمنہ نے آنکھیں گُھمائی۔







پلیز سائیڈ
گارڈز نے آس پاس کھڑے ہجوم سے کہا ساتھ میں یمان مستقیم کو دیکھنے لگا جو سپاٹ تاثرات چہرے پہ سجائے چل رہا تھا پورا دھیان اُس کا اپنے سیل فون پہ تھا آج اُس کے نئے گانے کی رکارڈنگ تھی جس سے فارغ ہوتا وہ باہر آیا تو فینز کی ایک لمبی قطار اُس کی منتظر تھی۔
سر
سر
کیا آپ کجھ اشعار سنا سکتے ہیں؟
سر آپ کا محبت کے بارے میں کیا خیال ہے؟
کسی لڑکی کے سوال پہ اُس نے اپنا سراُٹھا کر اُس کو دیکھا جس سے وہ لڑکی خوامخواہ شرم سے لال گُلنار ہوگئ تھی جب کی باقی لڑکیاں اُس کو پیچھے دھکیلتی خود آگے آگے کھڑی ہوئی
محبت تو محبت ہے
یہ کرنی تو نہیں پڑتی
یہ اکثر ہوہی جاتی ہے
مگر ہوتی تو اندھی ہے
کہاں کجھ دیکھ پاتی ہے
کبھی بے درد لوگوں سے
کبھی بے قدر لوگوں سے
کبھی بے حس لوگوں سے
کبھی بے قول لوگوں سے
یہ اکثر ہو بھی جاتی ہے
بہت بے مول لوگوں سے۔۔۔۔۔۔۔
یمان مسقیم کی خوبصورت آواز پہ اتنے سارے ہجوم میں بھی سناٹا چھاگیا تھا میڈیا تھر تھر اُس کی تصویریں بنارہا تھا جب کی وہ اب آنکھوں پہ گاگلز چڑھاتا سائیڈ سے گُزرتا جارہا تھا۔
لیپ ٹاپ اسکرین پہ نظریں جمائے وہ ساکت سی بیٹھی تھی جب کی آنکھوں سے گرم سیال بہتے جارہے تھے جس سے وہ بے نیاز تھی دروازہ بجنے کی آواز پہ اُس نے جلدی سے اپنی آنکھیں صاف کی۔
تمہیں نیچے بلارہے ہیں۔شبانا نے ایک ناگوار نظر اُس کی گود میں موجود لیپ ٹاپ کو دیکھ کر بتایا
ہممم۔آروش نے بنا دیکھے کہا تو وہ دروازہ ٹھاہ کی آواز سے بند کرتی واپس چلی گئ آروش نے کینہ توز نظروں سے وہاں دیکھا جہاں وہ گُزری تھی پھر لیپ ٹاپ سائیڈ پہ رکھتی اپنا ڈوپٹہ سہی پہنا اور کندھوں کے گرد شال اوڑ کر کمرے سے باہر آئی۔
یہ اتنا شوخ رنگ تم نے کیوں پہنا ہے آروش تم نے۔تائی فردوس نے سپاٹ لہجے میں اُس کو دیکھ کر کہا اُن کی بات پہ آروش نے اپنے پہنے ڈریس کو دیکھا جو آسمانی کلر کا پرنٹڈ سوٹ تھا زیادہ شوخ بھی نہیں تھا جس سے کوئی اعتراض اُٹھاتا
کوئی مرگیا ہے کیا تائی جان آپ بتادیتی پہلے تو میں کالے رنگ کے پہن لیتی کپڑے۔آروش صوفے پہ بیٹھتی انہیں کی طرح سپاٹ لہجے میں بولی تو سب کو اُس کی بات ناگریز گُزری
ایک دن تم اِس زبان کی وجہ سے ق*ت*ل کی جاؤں گی دیکھ لینا۔نازلین نے حقارت سے کہا تو وہ مسکرائی جیسے کوئی فرق نہیں پڑا ہو
کلثوم بھابھی اپنی بیٹی کے لچھن دیکھے ہیں دو دفع بارات آتے آتے نہیں آئی اِس کی تیسری دفع دولہا عین نکاح کے وقت مرگیا پھر کس چیز کی اکڑ ہے اِس کو۔فردوس بیگم نے کلثوم بیگم سے کہا جو خود ملامت کرتی نظروں سے اپنی لاڈلی بیٹی کو دیکھ رہی تھی۔
میرا شوہر تو نہیں مرا نہ جو میں شوخ رنگ خود پہ حرام کرلوں۔آروش شاہ ہاتھ کی مٹھیاں بھینچ کر بولی
شوہر ہونے دیتی کہاں ہو تمہارے سبز قدم نگل جاتے ہیں۔نور نے مذاق اُڑانے لہجے میں کہا
نور۔
دُرید شاہ کی چنگاڑتی آواز پہ نور اور نازلین فورن کھڑی ہوتی چہرے کے گرد اپنا ڈوپٹہ لیا اور سرجھکاگئ تھی۔
اسلام علیکم لالہ۔آروش نے دُرید شاہ کو نیچے آتا دیکھا تو احترامً کھڑی ہوتی سلام کرنے لگی۔
وعلیکم اسلام۔درید شاہ نے نرم مسکراہٹ سے سلام کا جواب دیا اور اُس کے سر پہ ہاتھ پھیرا نور اور نازلین وہاں سے چلی گئ تھی
تائی جان آپ کی بیٹیاں گستاخ ہوتی جارہی ہیں تھوڑی اُن پہ نظر ڈالیں۔دُرید شاہ سپاٹ لہجے میں فردوس بیگم سے کہا
ضرور پر تم یہاں کیا کررہے ہو تمہیں تو مردانہ خانے ہونا چاہیے تھا اِس وقت؟فردوس بیگم نے چاشنی لہجے میں کہا آروش نے نفرت سے اُن کا دوغلہ پن دیکھا جو اُس کے بھائیوں کے سامنے شریں کی طرح میٹھی ہوجاتی تھی۔
میری آج شہر جانے کی روانگی ہے۔درید شاہ اپنی شال ٹھیک کرتا جواب دیتے بولا
اپنے شازل کو لینے؟فردوس بیگم نے متجسس ہوکر پوچھا
میرا اپنا کام ہے۔درید شاہ نے بتایا تو وہ خاموش ہوگئ
تمہیں کجھ چاہیے شہر سے؟دُرید شاہ آروش کی طرف متوجہ ہوتا پوچھنے لگا
جی یم
اپنی بے ساختگی پہ آروش کا دل کیا ڈوب کے مرجائے کہیں
نہیں لالہ۔آروش سرجھکاکر اپنی آنکھوں کی نمی اندر دھکیلتی بولی۔
اِس کو کیا چاہیے ہوگا پہلے ہی موا لیپ ٹاپ دے رکھا ہے تم بھائیوں نے ہمارے خاندان کی لڑکیوں کے پاس دیکھا ہے ایسا کجھ۔فردوس بیگم جلن زدہ لہجے میں بولی
آپ کہیں تو اُن کو لاکر بھی دوں۔ آروش کو جاتا دیکھ کر درید شاہ نے کہا جس سے وہ سٹپٹا کر نہ میں سرہلانے لگی۔
ٹھیک ہے اماں جان خدا حافظ۔ دُرید شاہ کلثوم بیگم کے سامنے سرجھکاکر کھڑا ہوگیا تو انہوں نے محبت سے اُس کے سر پہ ہاتھ پھیرا
اللہ کی امان۔
چلتا ہوں۔دُرید شاہ نے مسکراکر کہا
جاکر آتا ہوں۔کلثوم بیگم نے گھورتے کہا تو ہنس پڑا
جی وہی۔درید شاہ کھسیانا سا ہوگیا
تمہارے لیے لڑکی تلاش کرنے کا سوچا ہے۔فاریہ بیگم کی بات سن کر دُرید شاہ کے مسکراتے لب یکدم سیکڑ گئے۔
شازل کے لیے تلاش کریں۔دُرید شاہ سپاٹ لہجے میں کہتا باہر جانے کے راستے چل دیا
ہائے تیس سال کا ہونے والا ہے پر شادی کی کوئی فکر نہیں کوئی۔فاریہ بیگم افسوس سے بولی
چھوڑے پتا تو ہے آپ کو۔کلثوم بیگم نے کہا تو انہوں نے ٹھنڈی سانس خارج کی
بڑی عاشق مزاج اولاد ہے تمہاری جن کا دل غلط جگہ لگتا ہے۔فاریہ بیگم کی انجانے میں کہی بات اُن کے سینے پہ کسی خنجر کی طرح لگی تھی کیا کجھ یاد نہیں آیا تھا اُن کے ایک جملے پہ۔
اماں جان پلیز مجھے ایک مرتبہ ملنے کی اجازت دے میں مرجاؤں گی خدارا مجھ پہ رحم کریں۔
ماضی کی یادوں کو جھٹکتی انہوں نے اپنا رخ اندرونی ہال کی جانب کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمرے میں آنے کے بعد اُس کی نظر ٹوٹی ہوئی اسکرین پہ پڑی جو اُس کے لیپ ٹاپ کی تھی لیپ ٹاپ جب کی خود بُرے حال میں تھا آروش کے وجود میں شرارے پھوٹنے لگے تھے اپنے کمرے سے باہر نکلتی وہ نور اور نازلین کے کمرے میں آئی جنہوں نے کمرے میں موجود ٹی وی پہ کوئی انڈین ڈرامہ لگایا ہوا تھا آروش کو دیکھ کر گھبراکر ٹی وی کو بند کیا۔
آروش کی نظر فروٹ باسکٹ پہ پڑی جو شیشے کی میز پہ پڑا تھا وہاں نائیف کو پکڑتی نور کے سر پہ کھڑی ہوئی۔
ہمت کیسے ہوئی میرے کمرے میں جانے کی اور میری چیزوں کو چھونے کی۔آروش چھڑی نور کے گردن پہ رکھتی دھاڑی اُس کی حرکت پہ نور کی آنکھیں ابل کر باہر کو نکلنے تک کھل چکی تھی۔
پاگل ہوگئ ہو چھوڑو نور کو۔نازلین نے اپنا ڈر قابو کرتے کہا تو آروش ایک تھپڑ نور کو مار کر دور کھڑی ہوئی۔
آئیندہ کے بعد میرے کمرے کے آس پاس نظر بھی نہ آنا۔آروش چھڑی نازلین کی طرف پھینکتی وارن کرنے والے لہجے میں بولی
ہاں ہاں نہیں آئے گے۔نازلین نے کہا نور میں ہمت نہیں تھی مزید کجھ بولنے کی آروش ایک اچٹنی نظر دونوں پہ ڈال کر اپنے کمرے میں آکر دروازے سے ٹیک لگاکر نیچے بیٹھتی چلی گئ۔
سنو!
بہت نزدیک ہو مجھ سے
ذرہ سا فاصلہ کرلو
میرے دل کو دھڑکنے دو
مجھے پلکیں جھپکنے دو
زبان سے کجھ تو کہنے دو
سماعت میں ہے سناٹا
لہو کی آنچ مدھم ہے
تخلیل جیسے برھم ہے
نفس کی لو بھی مبہم ہے
سنو!اب بس ٹھیر جاؤ
مجھے خود سے بھی ملنے دو
مجھے اپنا تو رہنے دو






شازل اب بس کردے۔رضا نے وائن کا گلاس شازل شاہ کے ہاتھ سے لیکر کہا جس پہ شازل شاہ نے خونخوار نظروں سے اُس کو گھورا وہ اِس وقت گرے شرٹ میں ملبوس تھا بال ماتھے پہ بے ترتیب سے پڑے تھے شراب پینے کی وجہ سے آنکھوں میں سرخ ڈورے نمایاں تھے اپنی اِس بگڑی ہوئی حالت میں بھی وہ بہت جاذب نظر آرہا تھا آخرکار اسلام آباد میں وہ پلے بوائے کے نام سے مشہور تھا
ایسے گھورو مت آج تم نے بہت ڈرنک کردی ہے۔رضا نے کہا تو اُس نے اپنا سرجھٹکا
گائیز بریکنگ نیوز۔ارحم اُن دونوں کے پاس آتا پرجوش آواز میں بولا
پھوٹو بریکنگ نیوز۔شازل شاہ اپنا سر دائیں بائیں گُھماتا بولا
ساگر نے شادی کردی جس سے وہ محبت کرتا تھا۔ارحم کی بات سن کر شازل شاہ کے چہرے پہ بے زاری والے تاثرات نمایاں ہوئے
مجھے ان لوگوں پہ تعجب ہوتا ہے جو محبت کے نام پہ اپنی ساری زندگی ایک لڑکی کے ساتھ گُزار لیتے ہیں میں تو دو دن ایک ہی لڑکی کی شکل دیکھوں تو بوریت ہوتی ہے زندگی ایک بار ملتی ہے تو کیا گُزارا بھی ایک سے ہو نو نیور ہونہہ۔۔شازل شاہ حقارت سے بولا وہ شادی کے سخت خلاف تھا۔
تمہارے لیے بوریت کا سامان ہے پر جن کو من چاہی عورت ملتی ہے وہ شخص خود کو خوشقسمت تصور کرتا ہے۔ارحم کی بات سن کر اُس نے آنکھیں گُھمائی
واٹ ایور میں جارہا ہوں سونے تو ڈونٹ ڈسٹرب می۔شازل شاہ وہاں سے اُٹھتا بولا
خیال سے۔رضا نے اُس کو لڑکھڑاتا دیکھا تو کہا
یہ سید شازل شاہ کا کیا ہوگا؟مطلب اتنا عجیب ہے شاہ خاندان سے ہے مگر مجال ہے جو کسی لڑکی کی عزت کریں لڑکی کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتا ہے۔شازل شاہ کے جاتے ہی ارحم افسوس سے بولا
بگڑ گیا ہے امیر لوگوں کی اولادیں ایسی ہوتی ہیں پر ذات چاہے کونسی بھی ہو عزت کرنا اور عزت کروانا بس سفید پوش لوگ والے جانتے ہیں کیونکہ اُن کا کل سُرمایہ عزت ہوتا ہے۔رضا کندھے اُچکاکر بولا
ہاں پر یہ لوگ اُن کو کجھ سمجھتے نہیں۔ارحم سرجھٹک کر بولا
