Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 61)

Haal e Dil by Rimsha Hussain

شازل نے حویلی میں سب کو اِطلاع کردی تھی شھباز شاہ اور دُرید کلثوم بیگم یہ سب ہسپتال پہنچ گئے تھے۔ مگر ماہی کی طرف سے ابھی تک کوئی خبر نہیں آئی تھی۔

شازل پچھلی تین گھنٹوں سے روم کے دروازے کے باہر یہاں سے وہاں ٹہل کر کسی اچھی خبر کے انتظار میں تھا۔

شازل بیٹھ جاؤ کیوں خود کو تھکا رہے ہو سب ٹھیک ہوگا۔دُرید سے رہا نہ گیا تو کہا

میں ٹھیک ہوں لالہ۔شازل جواب دیا انگلی دانتوں کے درمیان دبائے پھر سے یہاں سے وہاں ٹہلتا رہا۔شھباز شاہ نفی میں سرہلاتے شازل کو دیکھ رہے تھے جس کو دیکھ کر لگ رہا تھا جیسے سانس بھی مشکل سے لے رہا ہو۔

آروش کو بتایا ہے کسی نے وہ یہاں ہے تو اچھا ہوتا ہسپتال آجاتی۔شھباز شاہ کو آروش کا خیال آیا تو شازل سے پوچھا

بچہ خیر سے ہوجائے۔ماہی ٹھیک ہو پھر بتاؤں گا۔شازل کے جواب میں سب نے تاسف سے اُس کو دیکھا۔

شازل بیٹا کیوں خود کو ہلکان کررہے ہو اللہ نے چاہا تو ماں اور بچہ دونوں ٹھیک ہوگے تمہیں یوں یہاں سے وہاں ٹہلتا دیکھ کر میرا سر گھوم رہا ہے۔کلثوم بیگم نے اُس کو سمجھانا چاہا

مجھ سے بیٹھا نہیں جائے گا آپ

ابھی شازل بات کر ہی رہا تھا جب کانوں میں کسی بچے کے رونے کی آواز پڑی تو اُس کی زبان اور چلتے قدموں کو بریک لگی تھی اُس نے اُمید بھری نظروں سے کلثوم بیگم کو دیکھا جو مسکراتی نظروں سے اُس کو دیکھ رہی تھی۔

لگتا ہے خیر سے بچہ ہوگیا مُبارک ہو شازل۔کلثوم بیگم نے کہا تو شازل کو جیسے یقین نہیں آیا وہ بس اُن کو دیکھتا رہا پھر یکدم اُس کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی تھی اور آنکھوں میں خوشی سے ہلکی نمی بھی۔دُرید اپنی جگہ سے اُٹھ کر چل کر اُس کے پاس آکر گلے سے لگایا

مُبارک ہو میرے نان سیریس بھائی باپ بن گئے ہو تمہارا پارٹ ٹو آگیا ہے جو یقیناً تم سے دو ہاتھ آگے ہوگا۔ دُرید نے کہا تو شازل ہنسا۔

شکریہ لالہ مگر ماہی جانے کیسے ہوگی؟ اور کیا پتا خیر سے بیٹی ہو۔ شازل اتنا کہتا چپ ہوگیا

مُبارک ہو بیٹا ہوا۔دُرید کے جواب دینے سے پہلے ڈاکٹر نرس کے ہمراہ آتی اُن کو مُبارک باد دینے لگی۔

کلثوم بیگم اُٹھ کر گلابی چھوٹے سے کمبل میں لپیٹے نرس کی گو میں موجود بچہ لیکر اپنی گود میں لیا

ماشااللہ۔کلثوم بیگم اُس ننہی سی جان کو دیکھ کر ماشااللہ کہتی اُس کا ماتھا چومنے لگی۔

میری بیوی کیسی ہے؟آپ نے اُس کا نہیں بتایا۔شازل نے پریشانی سے پوچھا

آپ پریشان مت ہو ماں بھی بلکل ٹھیک ہے بس دوائی کے زیر اثر ابھی غنودگی میں ہے۔ڈاکٹر نے مسکراکر جواب دیا تو شازل نے شکر کا سانس خارج کیا تو اُس کی نظر اپنے بچے پہ پڑی جو اب شھباز شاہ کے پاس تھا۔

مجھے تو دیکھائے۔شازل اُن کے پاس آکر بولا تو شھباز شاہ نے بچہ اُس کے سامنے کیا تو شازل کا منہ کُھل گیا۔

یہ کیا ہے؟ شازل بچے کو گود میں لیے بنا بولا

تمہارا بچہ ہے اور کیا ہے۔ شھباز شاہ نے اُس کے سوال پہ دانت پیسے

اتنا چھوٹو؟ شازل بے یقین تھا۔

تمہیں کیا لگا تھا چلنے کودنے والا بچہ ہوگا۔ دُرید نے بھی اُس کو گھورا

نہیں مگر یہ ضرورت سے زیادہ چھوٹا ہے۔ شازل نے کہا

کجھ بچے ایسے کمزور پیدا ہوتے ہیں پھر آہستہ آہستہ ٹھیک ہوجاتی ہے اُن کی گروتھ۔ کلثوم بیگم نے مسکرا کر بتایا

کمزور کیوں؟ ماں تو اِس کی بڑی گولوں مولوں ہوگئ تھی۔ شازل ابھی تک بے یقین تھا۔

بکواس مت کرو اور اپنے بچے کو اُٹھاؤ۔شھباز شاہ نے کہا تو شازل مسکراکر بچے کو اپنی گود میں اُٹھایا۔

ایک بھنڈی میں بھی تم سے زیادہ وزن ہوگا۔شازل اُس کی بندی آنکھوں چھو کر بولا تو اُن تینوں نے اپنا سر پکڑا۔

کہاں جارہے ہو؟دُرید نے اُس کو بچے کو لیکر جاتا دیکھا تو پوچھا

ماہی کو ہوش آگیا ہوگا وہ بھی تو اپنا پیدا کیا ہوا نمونہ دیکھے۔شازل اُس کو جواب دیتا کمرے میں چلاگیا جہاں اب ماہی کو رکھاگیا۔

شازل اندر آیا تو ماہی کو آنکھیں موند کر لیٹا پایا اُس نے بچے کو اُس کی سائیڈ پہ لیٹایا اور خود جھک کر اُس کے ماتھے پہ بوسہ دیا تو ماہی کی آنکھیں کُھل گئ۔

شازل۔ ماہی نے شازل کو اپنے قریب دیکھا تو اُس کے لب پھڑپڑائے

مُبارک ہو اللہ کے حکم سے خیر سے بیٹا ہوا ہے۔ شازل نے محبت سے اُس کے بال سہلاکر بتایا تو ماہی کے چہرے پہ ممتا بھری چمک آئی جس کو محسوس کرتے شازل نے دوبارہ سے اُس کا ماتھا چوما اور بچے کو اُٹھا کر اُس کی گود میں دے کر خود اُس کے سرہانے بیٹھا۔

ماشااللہ کتنا پیارا ہے ہمارا بچہ۔ماہی اُس کے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کو بار بار چومتی شازل سے بولی جو مسکراکر دونوں کو دیکھ رہا تھا۔

ایک منٹ۔ شازل اُس کو اِشارہ کرتا اپنی پینٹ کی جیب سے سیل فون نکالا۔

یادگار تصویر تو بنتی ہے نہ۔ شازل نے مسکراکر کہا

میری اچھی نہیں آئے گی میری بعد میں لیجئے گا ابھی آپ اپنی اور بچے کی لے۔ ماہی نے خود کو امیجن کیے شازل سے کہا تو شازل نے چونک کر اُس کو دیکھا۔

پیاری تو لگ رہی ہو اور مجھے تم پہ آج بار بار پیار بھی بہت آرہا ہے جی چاہ رہا ہے تمہارے گالوں کو کھاجاؤں۔شازل اُس کے دونوں پہ گالوں پہ پیار کرتا شرارت سے بولا تو ماہی نے اُس کے بازوں پہ ہلکہ سا تھپڑ مارا

اب آپ مجھے گالوں مولوں نہیں کہے گا نہ؟ ماہی نے یقین دُہانی چاہی تو شازل کو ہنسی آئی۔

پتا نہیں اب تو عادت ہوگئ ہے بولنے کی۔ شازل نے معصوم شکل بنائے کہا

بہت بُرے ہیں آپ۔ ماہی روہانسی ہوئی۔

مذاق کر رہا ہوں یار ابھی تم اپنے نمونے کی شکل یہاں کرو ورنہ بڑا ہوکر بولے گا میں تو نظر ہی نہیں آرہا۔ شازل سیل فون کی کیمرہ آن کرتا اُس سے بولا

نمونہ؟ شازل میرا بچہ ابھی اِس دُنیا میں آیا ہے آپ نے اُس کو بھی نہیں بخشہ اور عجیب وغریب نام سوچ لیا۔ ماہی اپنے بچے کو سینے سے لگاتی شازل کو دیکھ کر بولی۔

اب خود دیکھو کتنا چھوٹا ہے میرا کیا قصور جو بھی اِس کو دیکھے گا یہی بولے گا کیا نمونہ عجوبہ پیدا کیا ہے۔ شازل کندھے اُچکاکر کہتا سیلفی بنانے لگا۔

عجوبہ۔ ماہی رونے کے در پہ ہوئی۔

ہاں اگر یہ ہماری بیٹی ہوتی تو میں عجوبہ نام رکھتا۔ شازل نے مزے سے اپنے عزائم سے آگاہ کیا۔

خدا کا خوف کرے۔ ماہی نے تاسف سے اُس کو دیکھا

تمہیں پتا ہے کیا؟ شازل تصویریں نکالنے کے بعد چیک کرتا اُس سے بولا

کیا؟ ماہی نے منہ بناکر پوچھا

ہماری شادی کو اتنے سال ہوگئے ہیں اور یہ ہماری پہلی تصاویریں ہیں جو ساتھ میں لی ہے۔ شازل نے مسکراکر کہا تو ماہی نے چونک کر سیل فون کی اسکرین کی طرف دیکھا پھر شازل کو جس کے چہرے پہ آج عجیب سی رونق تھی۔

شازل کیا آپ خوش ہیں؟ ماہی نے ہچکچاہٹ سے پوچھا

مطلب؟ شازل ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگا تو ماہی نے اُس کے بازوں پہ اپنا سرٹِکایا۔

مطلب آپ میرے ساتھ خوش ہیں؟ ہمارے بچے کی آمد پہ خوش ہیں؟ماہی نے پوچھا

بہت خوش ہو تمہاری سوچ سے زیادہ پتا ہے کیا میں نے کبھی شادی کرنے کا نہیں سوچا تھا ایسا لگتا تھا شادی ایک قید ہے جس میں آپ ایک انسان کے پابند ہوجاتے ہیں۔شادی ایک بہت بڑی زمیداری ہے جو اگر آپ کرتے ہیں تو آپ چاہے یا نہ چاہے مگر اِس زمیداری کو نبھانا ہے شادی کا لفظ مجھے ایک جیل کی طرح لگتا تھا بس مجھے عجیب چڑ تھی اِس نام سے شاید میں کبھی پہلے تم سے نہیں ملا تھا۔ تمہارے ملنے کے بعد مجھے پتا چلا نکاح کا رشتہ واقع ایک بہت خوبصورت رشتہ ہے اللہ کا بنایا ہوگا اگر یہ قید ہے تو ایک خوبصورت قید ہے۔ اگر مجھے ساری عمر تمہارا پابند ہونا پڑے تو میں بنا سوچے سمجھے تمہارا پابند بن جاؤں گا۔اور یہ شادی جو ایک بہت بڑی زمیداری ہے تو مجھے تمہاری اور ہمارے بچے کی ذمیداری ہنسی خوشی قبول ہے یہ شادی کرنا اگر جیل میں جانا ہے تو میرے لیے ایک خوش قسمتی کے بات ہے میں تاعمر اِس جیل میں رہنا چاہوں گا میں جب تمہیں دیکھتا ہوں نہ تو مجھے اب اپنی سوچ پہ ہنسی آتی ہے۔ اگر میرا تمہارے ساتھ نکاح نہ ہوا ہوتا تو شاید مجھے کبھی عقل نہ آتی زندگی کی اصل خوبصورتی کا پتا نہ چلتا جو میں نے تمہارے ساتھ محسوس کی ہے مجھے پتا نہ چلتا “پیار” کیا ہے؟ کسی کو کھونے کا ڈر کیا ہوتا ہے؟ کوئی اچانک سے آپ کی رگوں میں خون کی مانند کیسے ڈورتا ہے؟یہ سب جو مجھے پہلے سُنی سُنائی باتیں لگتی تھی اب میں خود اِس میں اپنا آپ گُھستا محسوس کرتا ہوں۔ ماہی کے ایک سوال پہ شازل نے آج اپنا آپ اُس کے سامنے کھول لیا جو ماہی چہرے پہ مسکراہٹ سجائے اُس کو سن رہی تھی۔

کیا میں اِس کو اِظہارِ محبت سمجھو؟ ماہی نے شرارت سے پوچھا

سچی بات کہوں میں خوامخواہ پریشان ہورہا تھا جبکہ تمہیں دیکھ کر لگ نہیں رہا کجھ گھنٹے پہلے ہمارے بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔ شازل نے بڑی آسانی سے بات کا رخ بدلا تو اُس کی بات سن کر ماہی کا منہ گیا۔

کجھ گھنٹے ہوئے ہیں ناکہ کجھ منٹس جو آپ ایسے بول رہے ویسے بھی نارمل ڈیلیوری تھی۔ ماہی نے جتایا

ہمم ویسے اِس کی آنکھیں ابھی تک بند کیوں ہے؟ شازل نے اپنے بچے کو دیکھ کر ماہی سے کہا

پتا نہیں میں بھی خود سوچ رہی ہوں یہ آنکھیں کھولے اور اپنی مما کو دیکھے۔ ماہی نے مسکراکر جواب دیا۔

آروش نے اِس کا نام سوچ لیا ہے۔ شازل نے بتایا

اچھا کیا؟ ماہی پرجوش ہوئی۔

تم نے سوچا ہے کوئی نام بچے کا؟ شازل نے پہلے اُس سے جاننا چاہا

میں نے تو بہت سوچے مگر سمجھ نہیں آرہا کونسا رکھوں آپ وہ بتائے جو آروش نے سوچا ہے۔ ماہی نے کہا

تم نے کونسے نام سوچے ہیں؟ پہلے یہ بتاؤ۔شازل بضد ہوا۔

فیروز خان؛احسن خان؛عمران عباسی؛حمزہ علی عباسی؛بلال عباسی؛ہمایوں سعید؛فرحان سعید؛عاصم اظہر’منیب بٹ؛ فیصل قریشی

ایک منٹ

ایک منٹ

بریک پہ پاؤ رکھو میں نے تم سے اپنے بچے کا نام پوچھا ناکہ یہ کے تم مجھے پاکستان کے ڈرامہ انڈسٹری کے نام گُنواؤ ۔شازل نے کڑی نظروں سے گھور کر ماہی سے کہا

تو کیا بس اُن کے خوبصورت نام ہوسکتے ہیں ہمارے پیارے شہزادے کا نام نہیں ہوسکتا۔ ماہی نے منہ بسور کر کہا۔

اِس کا نام شازم شازل شاہ ہوگا۔شازل اُس کی بات پہ تاسف سے سر کو جنبش دیتا بولا

شازم ماشااللہ بہت پیارا نام ہے میرے دماغ میں نام کیوں نہیں آیا یہ۔ ماہی کو افسوس ہوا۔

فلموں اور ڈراموں کی زندگی سے باہر آؤ تو کجھ اور بھی آئے۔شازل نے کہا

ویسے شازم نام کیا مطلب؟ماہی نے متجسس ہوکر پوچھا

شازم نام کا مطلب ہے “خوشی”

ہماری زندگی میں یہ ویسے بھی خوشی بن کر آیا ہے۔ماہی شازل کی بات پہ شازم کو دیکھ کر بولی جو اب اپنی آنکھیں کھول کر ٹُک ٹک کبھی شازل کو دیکھتا تو کبھی ماہی کو۔

آگیا تمہارے شہزادے کو ہوش۔شازل نے ماہی کو بتایا جو شازم کے واری صدقے ہو رہی ہو۔

میرا پیارا شازی۔ماہی اُس کے چہرے پہ پیار کرتی بولی تو شازل کو لگا جیسے وہ مسکرا رہا ہے۔

میری بیوی ہے لائن مارنے کا سوچنا بھی مت۔شازل شازم کو آنکھیں دیکھاتا اُس کو اپنی گود میں اُٹھا کر وارن کرنے لگا۔

میرا بیٹا ہے اِس لیے آرام سے بات کرے بلکہ پیار کرے۔ماہی نے اُلٹا اُس کو وارن کیا

اچھا تو ایسی بات ہے۔شازل اتنا کہتا زور سے اُس کے ننہے گالوں پہ بوسہ کیا تو وہ بھاں بھاں کرتا رونے میں شروع ہوگیا

شازل یہ کیا۔ماہی کی آہستہ آواز میں چیخ نکلی مگر اُس کو اتنا روتا دیکھ کر شازل خود سٹپٹا گیا تھا۔

میں اماں سائیں کو کہتا ہوں اِس کا اسپیکر بند کروائے۔شازل اُس کو تسلی دیتا باہر جانے لگا جب کی شازل کی پشت کو دیکھ کر اُن سے اپنا سر نفی میں ہلایا۔

کیا ہوا رو کیوں رہا ہے؟ شازل باہر آیا تو کلثوم بیگم شازم شازل کی گود سے لیتی اُس سے بولی

بس کجھ لوگوں کو عزت راس نہیں آتی اور آپ کے پوتے کو میرا پیار راس نہیں آیا دیکھے رو کیسے رہا ہے جیس جانے کتنے ظلم کے پہاڑ توڑے ہیں اِس پہ اور اِس کی آواز سن کر لگ رہا ہے جیسے گلے میں کجھ اٹکا ہوا ہے۔ شازل نان سٹاپ بولتا گیا۔

شرم کرو بیٹا ہے تمہارا۔ کلثوم بیگم نے اُس کو جھڑکا

ماں کی طرف روندو ہے۔ شازل باز نہ آیا

تمہارا کجھ نہیں ہوسکتا خیر ماہی کے گھر فون کرو اُن کو بتاؤ تاکہ وہ ہسپتال تو آئے۔کلثوم بیگم شازم کو بہلاتی شازل سے بولی

او ہاں میں تو بھول گیا تھا کرتا ہوں کال۔شازل کو اچانک خیال آیا تو اپنے سر پہ ہاتھ مار کر بولا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

تم نے کبھی اپنی آئبرو سیٹ نہیں کروائے کیا؟میں کروں بہت اچھا شیپ بن جائے گا اور تم مزید پیاری لگوں گی۔ زرنور نے غور سے آروش کا چہرہ دیکھ کر کہا وہ سب اِس وقت ہال میں بیٹھے تھے اندر یمان اپنے کمرے میں کام میں مصروف تھا۔

میں نہیں کرواتی کیونکہ یہ گُناہ ہوتا ہے۔آروش نے بتایا

ہر کوئی کرواتا ہے یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ نور نے کہا

اچھا پر مجھے نہیں پسند اور نہ ایسا کوئی شوق ہے۔ آروش نے کوئی بحث نہیں کی۔

تمہارا سچ میں دل نہیں چاہتا فیشن کرنے کو؟ اور تم کیا انتہا کی بورنگ زندگی گُزارتی تھی گاؤں میں؟ زرگل نے پوچھا

میں نے بورنگ نہیں ایک خوبصورت زندگی گُزاری مجھے اُتنی آزادی دی جتنی ایک لڑکی کو ملنی چاہیے اور فیشن مجھے کرنا ہوتا ہے تو وہ میں حویلی میں کرلیتی ہوں کسی اور کے لیے نہیں اپنے کے لیے۔آروش نے ٹھیرے ہوئے لہجے میں بتایا۔

تمہاری باتیں پتا نہیں کیوں مجھے سمجھ نہیں آتی۔ زرفشاں بولی۔ تبھی سب کی نظریں تیزی سے سڑھیاں پھلانگ کر اُترتا یمان پہ پڑی

ارے ارے کہاں کی سواری ہے؟زرنور نے آواز دی

وہ ایک ضروری کام ہے میں آتا ہوں۔ یمان ایک نظر آروش پہ ڈال کر جواب دینے لگا۔

کبھی گھر بھی ٹک جایا کرو۔ نور نے کہا

نیا نیا کام ہے اِس لیے بہت کام ہوتا ہے۔ یمان نے بتایا

تو تمہیں کس نے کہا اچھا خاصا سنگر تھے یوں بزنس مین بننے کی کیا ضرورت تھی۔ زرگل نے ہر بار کہی بات دوہرائی

بعد میں بات ہوگی ابھی مجھے لیٹ ہورہا۔ یمان عجلت میں کہتا باہر جانے لگا۔ آروش پرسوچ نظروں سے اُس کو جاتا دیکھنے لگی آج سے پہلے اُس نے کبھی یمان کو اتنا ہڑبڑی میں جاتا نہیں دیکھا تھا۔

آپ کا فون مسلسل بج رہا تھا تو میں یہی لائی۔ نجمہ آروش کو اُس کا سیل فون بڑھا کر بولی تو آروش نے اُس کے ہاتھ سے موبائل لی جہاں شازل لالہ کالنگ لکھا آرہا تھا۔

السلام علیکم لالہ۔ کال اُٹھانے کے بعد آروش نے مسکراکر سلام کیا

وعلیکم السلام مبارک ہو تم پُھپھو بن گئ ہو بیٹا ہوا ہے۔ دوسری طرف سے شازل نے مسکراکر اُس کو بتایا

کیا سچ ماشااللہ۔ آپ کو بھی مُبارک ہو۔ آروش کی خوشی کے مارے چیخ نکلی

زرفشاں زرگل زرنو نور حیرت سے اُس کے چہرے پہ سجی سچی مسکراہٹ کو دیکھنے لگے۔

خیر مُبارک تم آرہی ہو نہ ہم ہسپتال میں ہیں لوکیشن سینڈ کرتا ہوں۔ شازل نے کہا

جی میں ضرور آؤں گی حویلی والوں سے بھی ملنا ہے حریم کی بھی بہت آرہی ہے وہ ناراض ہے مجھ سے۔آروش نے بے چینی سے کہا

اوکے پھر جلدی سے آجاؤ سب لوگ تمہارا انتظار کررہے ہیں۔شازل نے کہا

ٹھیک ہے خدا حفظ لالہ میری طرف سے میرے بھتیجے کو ڈھیر سے پیار دیجئے گا۔آروش اتنا کہتی کال ڈراپ کرگئ۔

خیریت؟ نور نے پوچھا

بلکل میں پُھپھو بن گئ ہوں بابا کب تک آئے گے؟ مجھے ہسپتال جانا تھا۔ آروش نے مسکراکر بتایا

رات تک شاید کوئی ڈیڈ کی کوئی ایک ٹائمنگ نہیں یمان آئے تو اُس کے ساتھ یا پھر ڈرائیور کے ساتھ چلی جاؤ۔زرفشاں نے اپنا نظریہ پیش کیا۔

اچھا۔ آروش کا دل بوجھ سا گیا اُس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ اُڑ کر اپنے گھروالوں کے پاس جاتی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

میرا خدشا ٹھیک نکلا آپ کو برین ٹیومر ہے مسٹر یمان اور یہ سب آپ کی لاپروائی کا نتیجہ ہے۔ ڈاکٹر نے سنجیدگی سے یمان سے کہا۔جو حیرت کا مجسمہ بنے ایکسرے کو دیکھ رہا تھا۔ڈاکٹر کی باتیں اُس کو کسی دھماکے سے کم نہیں لگ رہی تھی اُس کو لگ رہا تھا جیسے کسی نے اُس کو آسمان سے اُٹھا کر زمین پہ بڑی بے دردی سے پھٹخ دیا ہو ابھی تو اُس نے دل سے زندگی جینے کا سوچا تھا ابھی تو شروعات تھی پھر یہ سب کیوں؟ کیسے ہوگیا؟ کیا اُس کا خوشی پہ کوئی حق نہیں؟ اُس کو خوشیاں راس کیوں نہیں آتی؟ ہر بار تقدیر اُس کے ساتھ بھیانک مذاق کیوں کرتی ہے؟

آپ کا شکریہ۔ یمان کو اِس وقت کجھ سمجھ نہیں آرہا تھا تو اِس لیے بس اتنا کہتا اُٹھ کھڑا ہوا۔

آپ کا فیملی ڈاکٹر کون ہے؟ آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اللہ نے چاہا تو ان شاءاللہ سب کجھ ٹھیک ہوجائے گا۔ ڈاکٹر نے کہا

ڈاکٹر حمید اختر نام تھا۔ یمان اتنا بتاتا وہاں رُکا نہیں تھا رپورٹس اور ایکسرا لیکر اُن کے کیبن سے تیز قدموں کے ساتھ باہر چلاگیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

کیا ہورہا ہے یہاں؟ شبانا شازل کے کمرے کے پاس ملازماؤ کی قطار دیکھی تو اُن کو گھور کر بولی

وہ شازل صاحب کے یہاں خیر سے بیٹے ہوا ہے تو بس بڑی بیگم کا حُکم چھوٹے شازل شاہ کے کمرے میں سجاوٹ کی جائے بے بی کاٹ اور ہر جگہ غبارے ہو۔ ایک ملازمہ نے بتایا تو شبانا گِرتے گِرتے بچی۔

بیٹا ہوا ہے؟اور ایسی واحیات سجاوٹ کرنے کا چچی جان تو نہیں کہہ سکتی۔ شبانا نے گھور کر پوچھا

جی انہوں نے ہی کہا ہے آج بہت سالوں بعد حویلی کو وارث ملا ہے تو سب بہت خوش ہیں۔ ملازمہ نے سر جھکاکر بتایا تو شبانا نفرت سے کمرے کو دیکھ کر تن فن کرتی وہاں سے چلی گئ۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آروش سے صبر نہیں ہورہا تھا اِس لیے اُس نے سوچ لیا تھا یمان آئے گا تو وہ اُس سے کہے گی کے وہ اُس کو ہسپتال چھوڑ آئے اُس کو عجیب تو لگ رہا تھا مگر دل کے ہاتھوں کے مجبور تھی۔ ابھی وہ ہال میں ٹہلتی یمان کا بے صبری سے انتظار کررہی تھی جب یمان اُس کو گھر میں آتا داخل ہوا۔

آروش تعجب سے اُس کے ہاتھ میں موجود چیزیں دیکھنے لگی۔وہ اُس سے پہلے یمان کو مخاطب کرتی یمان لمبے لمبے ڈگ بھرتا سیڑھیوں کی جانب بڑھا تھا۔

اِس کو کیا ہوا؟ آروش نے اُس کو اتنا سنجیدہ دیکھا تو بڑبڑائی۔ پھر جانے کیا خیال آیا تو وہ اُس کے پیچھے جانے لگی۔

یمان کے کمرے کے پاس پہنچ کر اُس نے دروازہ نوک کرنے کے لیے ہاتھ اُٹھایا ہی تھا جب وہ خودبخود کُھلتا چلاگیا۔ اُس نے کمرے میں قدم رکھا تو یمان کمرے میں اُس کو نظر نہیں آیا مگر واشروم سے پانی گِرنے کی آواز آرہی تھی۔ آروش مایوس ہوتی جانے والی تھی جب نظر اچانک بیڈ پہ اُن چیزوں پہ پڑی جو یمان کے ہاتھوں میں تھی یعنی رپورٹس اور ایک لفافے پہ۔آروش نے ایک چور نگاہ واشروم کے دروازے پہ ڈالی اور آہستہ قدم لیتی بیڈ کے پاس آئی۔ وہ جانتی تھی یہ ایک غیراخلاقی عمل ہے مگر جانے کیوں اُس کو تجسس ہورہا تھا۔

آروش واشروم کے دروازے پہ نظر ڈالتی رپورٹس کھول کر دیکھنے لگی تو اُس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئ۔

یہ کیا؟

آروش بے یقین نظروں سے رپورٹس کو دیکھتی لفافہ کھولنے لگی جہاں سے ایک ایکسرا برآمد ہوا وہ دیکھ کر جانے کیوں آروش کو اپنی ٹانگوں پہ کھڑا رہنا محال لگنے لگا اُس کا دماغ یہ بات ماننے سے انکاری تھا کے یمان کو “برین ٹیومر” ہے۔

آپ؟ یمان اپنے خیال میں واشروم سے باہر آتا تو کمرے میں آروش کو کھڑا دیکھ کر اپنی جگہ جم سا گیا تھا آج پہلی بار آروش اُس کے کمرے میں اندر داخل ہوئی تھی اگر کوئی اور وقت ہوتا تو یمان ضرور اُس کو تنگ کرتا مگر اِس بار وہ ایسا کجھ نہیں کرپایا۔

یہ سب؟ آروش یمان کی آواز پہ اُس کو دیکھ کر رپورٹس کی طرف اِشارہ کیا تو یمان نے نظریں چُرائی جب کے اُس کی حرکت پہ آروش کو پتا نہیں چلا کب اُس کی آنکھوں میں نمی آئی تھی۔

یہ جھوٹ ہے فیک رپورٹس ہیں نہ؟ آروش آہستہ سے چلتی ہوئی اُس کے روبرو کھڑی ہوئی۔ یمان میں اتنی ہمت نہیں تھی کے وہ نظریں اٹھا کر اُس کو دیکھتا۔

یہ سچ ہے فیک رپورٹس کیوں ہوگی آپ کو تو خوش ہونا چاہیے بلآخر مجھ سے جان چھوٹنے والی ہے ۔یمان اتنا کہتا اُداسی سے مسکرایا تھا۔ آروش کو لگا جیسے کسی نے اُس کے دل پہ وار کیا ہو۔

یہ جھوٹ رچایا ہے نہ تم نے تاکہ مجھے شرمندگی ہو اور یہ تم بار بار نظریں کیوں چُرا رہے ہو ؟میری طرف دیکھو۔ آروش کے ہاتھ اُس کے گریبان تک پہنچا تھا۔

میرے مرنے پہ آپ کو شرمندگی ہوگی؟ کیوں ہوگی؟ بلکل نہیں ہونی چاہیے میرے ہونے یا نا ہونے سے آپ کو کیا فرق پڑے گا میرا ہونا اور نہ ہونا آپ کے لیے تو ایک سا برابر ہے اچھا ہوا جو یہ بیماری مجھے لاحق ہوئی۔ یمان اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا تو آروش کی گرفت اُس کے گریبان پہ سخت ہوئی تھی اُس کا دل چاہ رہا تھا یمان کے چہرے پہ ایک تھپڑ رسید کرے مگر اُس میں ہمت نہیں تھی۔

بابا کو پتا ہے۔ آروش نے بس یہ کہا۔جواب میں یمان ہلکہ سا مسکراکر اُس کے ڈوپٹے کے دونوں طرف کونا پکڑ کر اپنے ہاتھ میں لپیٹا جس سے کندھوں سے اُترتا ڈوپٹہ یمان کے ہاتھ میں آیا تھا اب آروش صرف حجاب میں اُس کے سامنے تھی جو اچھی طرح سے اُس کو ڈھانپے ہوئے تھا آروش ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی۔مگر جب یمان نے وہ ہاتھ اُس کے ہاتھوں پہ رکھ کر اپنے گریبان سے ہٹائے تو آروش کا دل زور سے دھڑکا۔

اُس نے یمان کو دیکھا جس کے ہاتھ میں اُس کے دونوں ہاتھ تھے مگر دونوں ہاتھوں کے درمیان اُس کا ڈوپٹہ تھا اگر یمان ایسے ہی اُس کا ہاتھ ٹچ کرتا یا سہلاتا تو بھی اُس کے ہاتھوں کی نرماہٹ محسوس نہ کرپاتا۔یمان نے اُس کا ہاتھ تھاما ضرور تھا مگر ایسے کے لگ نہیں رہا تھا کیونکہ اِس بار بھی یمان نے بنا چھوئے دونوں میں فاصلہ برقرار رکھا تھا۔

مجھے پتا ہے آپ حیران ہو رہی ہوگی مگر مسلمان ہونے کی صورت میں اتنا مجھے بھی پتا ہے کے کسی نامحرم کو چھونا بہت بڑا گُناہ ہے اُس کا ہاتھ بھی نہیں پکڑنا چاہیے چاہے آپ میری محبت ہیں مگر مجھے آپ کا احترام ہے اللہ گواہ ہے میں نے کبھی آپ کو بُری نظر سے نہیں دیکھا اُس دن جو ایونٹ میں ہوا تھا وہ سب بے اختیاری میں ہوا تھا وگرنہ یقین جانے میں ایسا کجھ نہیں کرتا۔ یمان آہستہ آواز میں بول کر اُس کے ہاتھ نیچے کرکے اپنے ہاتھوں کے گرد لپیٹا ڈوپٹہ کھول کر اچھی طرح سے اُس کے گرد پھیلایا۔

آروش بس خاموش نظروں سے یمان کا چہرہ دیکھنے لگی وہ کیا بات اُس سے کررہی تھی اور یمان کا جواب دے رہا تھا۔

یہ میرے سوال کا جواب نہیں۔ آروش نے کہا

وہ ہرٹ ہوگے۔ یمان بس یہ بولا

علاج ٹھیک سے لوگے تو کجھ نہیں ہوگا تمہیں۔ آروش کی زبان سے بے ساختہ یہ الفاظ نکلے

آپ چاہتی ہیں میں ٹھیک ہوجاؤ۔یمان ایک قدم اُس کی طرف بڑھا کر بولا۔

میں نے جسٹ مشورہ دیا ہے۔ آروش سنجیدگی سے کہہ کر اُس کے کمرے سے باہر چلی گئ تو یمان نے مایوسی سے اُس کو خود سے دور جاتا دیکھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *