Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 24)

Haal e Dil by Rimsha Hussain

کمرے سب لوکڈ ہیں اور مجھے سونا ہے۔کھانے سے فارغ ہوکر ماہی نے شازل سے کہا

میں کھولتا ہوں آج ہم روم شیئر کرتے ہیں کیونکہ باقی کے جو دو کمرے ہیں اُن کی صفائی نہیں ہوئی اور سامان بھی کوئی نہیں کل میں فرنیچر کا بندوبست کرلوں گا۔شازل نے کہا

تو کیا ہم الگ الگ رومز میں رہے گے۔ماہی نے پوچھا

ہاں کیونکہ حویلی میں تو مجبوری تھی یہاں تو ایسا کجھ نہیں۔شازل نے عام انداز میں کہا اور ایک کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

اچھا۔ماہی کا دل اُداس ہوگیا تھا اُس کا دل اچانک سے ہر چیز سے اچاٹ ہوگیا تھا اُس کو یہ بات تکلیف پہنچا رہی تھی کے شازل اُس کو ایک موقع تک نہیں دے رہا تھا چاہے جیسے بھی جن بھی حالات میں اُن کی شادی ہوئی تھی پر شادی تو ہوئی تھی نہ شریعت کے حساب سے وہ میاں بیوی تھے پر یہ بات شاید شازل جان کر بھی نظرانداز کررہا تھا۔

ماہی۔شازل نے کمرے سے آواز دی تو وہ اپنی سوچو کی دُنیا سے باہر آئی۔

جی آتی ہوں۔ماہی خود کو کمپوز کرتی کمرے میں داخل ہوئی جہاں بیڈ پہ شازل بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھا موبائیل میں مصروف تھا۔ماہی خاموشی سے چلتی بیڈ کی ایک سائیڈ پہ آتی کروٹ بدل کر لیٹ گئ پھر کجھ سوچ کر اُس نے اپنا رخ شازل کی طرف کیا جو موبائل میں جانے کیا کررہا تھا۔

آپ کو لائف پارٹنر کیسی پسند ہیں؟ماہی کے چانک سوال پہ شازل چونک کر اُس کو دیکھنے لگا۔

یہ کیسا سوال ہے۔شازل اپنا سیل فون سائیڈ ٹیبل پہ رکھتا اُس کی جانب متوجہ ہوا۔ماہی نے شازل کو سیل فون رکھتے دیکھا تو اُس کو خوشی ہوئی کے وہ اُس کی بات عدم دلچسپی سے نہیں بلکہ دلچسپی سے سن رہا ہے۔

مطلب آپ نے شادی کے حساب سے کسی لڑکی کو آئیڈیلائیز کیا ہوگا نہ۔ماہی نے سمجھانا چاہا

نہیں میں نے ایسا کجھ نہیں سوچا۔شازل اتنا بتاکر اُس کی طرف کروٹ لیکر لیٹ گیا۔

کیوں؟ماہی کو حیرت ہوئی۔

تم حیران بہت ہوتی ہو۔شازل نے شرارت سے اُس کی ناک دبائی۔

بتائے نہ کیوں نہیں سوچا۔ماہی نے بے چینی سے پوچھا۔

کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا شادی کرنا میری زندگی کی ڈکشنری میں شادی کرنا نہیں تھا۔شازل نے بتایا

یہ کیا بات ہوئی شادی تو ہر کوئی کرتا ہے۔ماہی کو سمجھ نہیں آیا

مجھے نہیں تھا پسند شادی کرنا۔شازل بیزار شکل بنائے بولا

کیا آپ کو کوئی پسند تھی جو آپ کو نہیں ملی تو آپ نے شادی کا خیال اپنے ذہن سے نکال دیا؟ماہی نے غور سے شازل کا چہرہ دیکھا

مجھے کبھی کوئی لڑکی پسند نہیں آئی اگر آتی تو میں ڈنکے کی چوٹ پہ اُس سے شادی کرتا۔شازل مضبوط لہجے میں بولا

کیسے مطلب خاندان کی لڑکیاں تو آپ نے دیکھی نہیں ہوتی پردہ جو ہوتا ہے اور اگر آپ کو خاندان سے باہر کی لڑکی پسند آتی تو وہ کیسے آپ سے ملتی آپ کے یہاں تو خاندان سے یا ذات سے باہر شادیاں نہیں ہوتی نہ؟ماہی متجسس لہجے میں بولی

ہاں پر اگر پسند آتی تو میں اُس کو پالیتا کسی اور کے لیے چھوڑتا نہیں۔شازل سکون سے کہتا سیدھا لیٹ گیا۔

اچھ

اب سوجاؤ رات بہت ہوگئ ہے باقی کی باتیں پھر کبھی ہوگی۔ماہی کجھ کہنے والی تھی جب شازل نے بیچ میں اُس کو خاموش کروادیا جس پہ ماہی نے منہ بنالیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

حریم بی بی آپ کو دُرید شاہ ہال میں بلارہے ہیں۔حریم کتاب کی ورق گردانی کرنے میں مصروف تھی جب ملازمہ نے کمرے میں آکر اطلاع دی

ٹھیک ہے آپ جائے ہم آتے ہیں۔حریم کتاب سائیڈ پہ کرتی اچھے سے ڈوپٹہ پہن کر بولی۔

جی ٹھیک ہے۔ملازمہ اتنا کہتی واپس چلی گئ

السلام علیکم۔دُر لا۔حریم ہال میں آتی مسکراکر سلام کرنے لگی

وعلیکم السلام آؤ بیٹھو۔دُرید نے کہا تو وہ اُس کے ساتھ والے صوفے پہ براجمان ہوئی۔

آپ کو کوئی کام تھا؟حریم نے پوچھا

بنا کام کے بات نہیں ہوسکتی کیا؟دُرید نے شرارت سے پوچھا

ہوسکتی ہے بلکل یہاں ہم آپ سے ہی تو بات کرتے ہیں۔حریم نے مسکراکر کہا

تمہاری رزلٹ کے آنے کی ڈیٹ انائوس ہوئی ہے؟دُرید نے پوچھا۔

ابھی تک تو نہیں ہوئی شاید ایک دو دن تک آجائے۔حریم نے بتایا

ہممم ٹھیک میں نے کجھ یونیورسٹیز دیکھی ہے تم بتانا

سچ دُر لا ہمیں تو پنجاب یونیورسٹی میں ایڈمیشن کروانا ہے لاہور میں کتنا پیارا شہر ہے نہ۔دُرید ابھی بتا ہی رہا تھا جب حریم پرجوش ہوتی اُس کی بات کاٹ کر بولی

لاہور یہاں سے بہت دور حریم اور میں تمہیں اتنا دور نہیں بھیج سکتا شازل اسلام آباد میں ہے اور اب تو اُس کے ساتھ اُس کی بیوی بھی ہے اِس لیے میں تمہیں وہاں بھیجوں گا تاکہ مجھے بھی تسلی ہو۔دُرید نے سنجیدگی سے کہا

اچھا ٹھیک ہے ہمیں کوئی اعتراض نہیں اسلام آباد میں پھر ہمیں مری بھی جائے گے سُنا ہے وہاں بہت ٹھنڈ ہوتی ہے۔حریم نے فورن سے فرمانبرداری کا مظاہرہ کیا کیونکہ اسلام آباد جانے میں اُس کو کوئی مسئلہ نہیں ہوا ہاسٹل سے اچھا تھا وہ گھر میں رہتی وارڈن کی کوئی روک ٹوک بھی نہ ہوتی۔

تمہارا رزلٹ آجائے پر مجھے کوئی اور بات بھی کرنی تھی۔دُرید اصل بات پہ آیا

جی کہے۔حریم فورن متوجہ ہوئی۔

تابش کو جانتی ہو؟دُرید نے پوچھا

آپ کے کزن؟حریم نے جیسے تُکا لگایا۔

ہاں وہی۔دُرید نے پوچھا

ہم انہیں کیسے جان سکتے ہیں۔حریم کی بات پہ دُرید نے اُس کو گھورا

آپ کے کزن تو ایسے کہا جیسے بہت اچھے سے جانتی ہو اُسے۔دُرید نے سرجھٹک کر کہا

ہمیں بس اُن کا نام معلوم ہے کیونکہ وہ آپ کے کزن ہیں۔حریم نے کندھے اُچکاکر کہا

اماں سائیں سے خالہ جان نے تمہارا رشتہ مانگا ہے انہیں تم پسند ہو اور وہ تمہیں تابش کی دولہن بنانا چاہتے ہیں۔دُرید کی بات کسی بم کی طرح اُس کے سر پہ گِری تھی حریم کی مسکراہٹ یکدم غائب ہوئی تھی وہ بے یقین اور حیرت کے ملے جُلے تاثرات کے ساتھ دُرید کا چہرہ دیکھنے لگی اُس کے تاثرات نوٹ کرتا دُرید سختی سے اپنے ہونٹوں کو بھینچ گیا۔

کیا تمہیں اعتراض ہے۔دُرید نے اندازہ لگایا

جی بلکل ہمیں اعتراض ہے۔حریم اپنی جگہ سے اُٹھتی دُرید سے بولی اُس کا دل خوف سے دھڑک رہا تھا دُرید کی بات اُسے پریشانی میں مبتلا کرگئ تھی۔

پر کیوں تابش بہت اچھا لڑکا ہے۔دُرید نے سمجھانا چاہا

ہمیں کوئی غرض نہیں کسی کے اچھے ہونے سے ہمیں ابھی شادی نہیں کرنی۔حریم کی آواز بھر آئی تھی جس کو محسوس کرکے دُرید پریشان ہوا۔

تمہاری پڑھائی پہ کوئی اثر نہیں پڑے گا اِس لیے اُس کے لیے تم پریشان نہ ہو۔دُرید کو لگا شاید وہ ابھی پڑھنا چاہتی ہے تبھی اُس کو تسلی کروانے لگا۔

ہمیں اِس بارے میں کوئی بات نہیں کرنی۔حریم اتنا کہتی اپنے کمرے کی طرف بھاگی پیچھے دُرید پریشانی سے اُس کے ردعمل کے بارے میں سوچنے لگا اُس کو اندازہ نہیں تھا حریم اتنا شدید قسم کا رد عمل دے گی۔

اپنے کمرے میں آکر حریم اوندھے منہ بیڈ پہ لیٹ کر رو پڑی۔

ہمیں نہیں کرنی کسی سے شادی وہ ہم سے ایسی بات کیسے کرسکتے ہیں۔حریم ہچکی کے درمیان بڑبڑائی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

تم آج پھر آگئے۔فجر نے دوسرے دن ارمان کو دیکھا تو اُس کو حیرت ہوئی کیونکہ وہ جب بھی آتا تھا ایک یا دو ماہ بعد آتا تھا وہ بھی یمان کے کام سے اور آج اتنی جلدی اُس کا آنا سمجھ نہیں آیا۔

یامین سے ملنے آیا تھا وہ اُس کے اسکول کی چھٹیاں ہیں نہ۔ارمان نے کہا

یامیں گھر پہ نہیں۔فجر نے بتایا

کہاں گیا ہے وہ؟ارمان نے جاننا چاہا

تم سے مطلب۔فجر نے اُس کو گھورا

جی ظاہر ہے مطلب ہے ملنے جو آیا ہوں اتنی دور سے۔ارمان نے معصوم شکل بنائی

لگتا ہے یمان نے تمہیں کام سے نکال دیا ہے ویلے ہو اب تبھی یہاں وہاں گھومتے رہتے ہو۔فجر نے تُکا لگایا۔

ایسی کوئی بات نہیں میری جاب ہے۔ارمان نے فخریہ بتایا

تو وہاں جاؤ یہاں تمہاری کوئی ضرورت نہیں۔فجر نے اتنا کہہ کر دروازہ بند کرنا چاہا

میں یامین سے ملنے آیا ہوں آپ پلیز اُس کو تو بلوائے۔ارمان نے جلدی سے دروازے کے درمیان اپنا پیر رکھا

یہ کیا بدتمیزی ہے۔فجر ناگواری سے بولی

بدتمیزی کہاں میں تو بس یامین کا پوچھ رہا تھا وہ مجھے مس کررہا ہوگا۔ارمان نے دروازے کے درمیان اپنا پیر ہٹایا۔

وہ اجنبی لوگوں کو یاد نہیں کرتا اِس لیے تم جاؤ دوبارہ یہاں مت آنا۔فجر نے دو ٹوک انداز میں کہا

چلا جاؤں گا پر اتنا تو بتادے یامین ہے کہاں؟ارمان کی سوئی ایک ہی جگہ پہ اٹکی ہوئی تھی۔

عیشا کے پاس گیا ہے۔فجر نے زچ ہوتے بتایا

عیشا کون؟ارمان ناسمجھی سے پوچھنے لگا

میری بہن۔فجر نے دانت پیس کر بتایا

او اچھا میرے ذہن سے نکل گیا آپ اُن کا ایڈریس بتادے میں لیکر آتا ہوں یامین کو۔ارمان اپنے سر پہ ہاتھ مارکر بولا

میں یمان سے کہوں گی تم بہت تنگ کرتے ہو۔فجر نے اُس کو دھمکی دی تو ارمان کا منہ کُھلا کا کھلا رہ گیا۔

میں نے کب آپ کو تنگ کیا۔ارمان نے احتجاجاً کہا

ابھی کیا کررہے ہو؟فجر نے جتایا

میں تو بس یامین کا پوچھ رہا تھا۔ارمان نے کہا

یامین عیشا کی طرح رہے گا دو دن تک سُن لیا اب جاؤ۔فجر نے جان چھڑوانی چاہی

تو کیا آپ یہاں اکیلی ہوتی ہیں۔ارمان نے دوسرا سوال کیا۔

اب اگر تم یہاں سے نہیں گئے تو میں تمہارا یا اپنا سر دیوار پہ ماردوں گی۔فجر نے وارن کیا

میں جاتا ہوں پھر آؤں گا۔ارمان اُس کی دھمکی پہ سٹپٹایا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آروش تم سے بات ہوسکتی ہے؟دُرید آروش کے کمرے کا دروازہ نوک کرکے اُس سے بولا

جی لالہ ضرور آپ بتائے۔آروش نے مسکراکر اندر آنے کی اِجازت دی۔

کیا تمہیں پتا ہے تابش کا رشتہ حریم کے لیے آیا ہے؟دُرید نے پوچھا

جی اماں سائیں سے سرسری سے بات ہوئی تھی اِس موضوع پہ۔آروش نے بتایا

میں نے حریم سے بات کی وہ کافی ڈسٹرب ہوگئ تھی کل سے اپنے کمرے سے نہیں نکلی تم اُس سے بات کرو جاکر اُس کو سمجھاؤ۔دُرید نے کہا

لالہ آپ کو نہیں لگتا حریم ابھی بہت چھوٹی ہے وہ شادی جیسی بڑی زمیداری پوری نہیں کرسکتی۔آروش نے اُس کی بات سن کر کہا

اماں سائیں بضد ہے اور میں اُن کی ضد کے آگے مجبور ہوں۔دُرید اپنی پیشانی مسلتا پریشان کن لہجے میں بولا

آپ بھی اِس رشتے سے مطمئن نظر نہیں آرہے۔آروش غور سے دُرید کے تاثرات جانچتے کہا

میں چاہتا ہوں حریم اپنی پڑھائی پوری کرے وہ بہت معصوم ہے ابھی اُس کا بچپنا نہیں گیا ایسے میں شادی کروانا سراسر بے وقوفی اور اُس کے ساتھ ناانصافی ہے۔دُرید نے کہا

میں حریم سے بات کروں گی وہ ضرور میری بات کو سمجھے گی۔آروش نے کجھ سوچ کر کہا

ٹھیک ہے تم ضرور اُس سے بات کرنا ہم اُس کا بھلا چاہتے ہیں۔دُرید نے کہا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حریم۔آروش حریم کے کمرے میں آئی تو اُس کو کھڑکی کے پاس اُداس کھڑا پایا۔

جی۔حریم نے اُس کی طرف اپنا رخ کیا۔

تم روئی ہو؟آروش نے اُس کی سرخ آنکھیں دیکھی تو فکرمند ہوئی۔

آپی ہمیں شادی نہیں کرنی آپ پلیز سب کو بتائے۔حریم آروش کے گلے لگتی روتے ہوئے اُس سے بولی

پر کیوں میں تو یہاں تمہیں بتانے آئی ہو تابش بہت اچھا ہے تمہیں بہت خوش رکھے گا سب سے بڑی بات اُس کو لالہ نے تمہارے لیے پسند کیا ہے تو وہ کیسے غلط ہوسکتا ہے۔آروش نے نرمی سے کہا تو حریم فورن سے اُس سے الگ ہوئی۔

ہمیں نہیں کرنی شادی آپ سب زبردستی کیوں کررہے ہیں اگر ہم آپ پہ بوجھ ہیں تو بتادے ہم چلے جائے گے اپنے بابا کے یہاں۔حریم اپنے آنسو صاف کرتی آروش سے بولی

یہ بات تم نے سوچ بھی کیسے لی تم ہم پہ بوجھ ہو۔آروش کے کجھ کہنے سے پہلے دُرید شاہ کا دروازے کے پاس کھڑا حریم سے بولا

تو ہم اور کیا سوچے یہ اچانک آپ سب کو ہماری شادی کا خیال کیسے آگیا۔حریم نے رخ موڑ کر کہا آروش نے دُرید کو دیکھ کر باہر جانا بہتر سمجھا اِس لیے وہ چلی گئ۔

شادی تو ایک نہ ایک ہر لڑکی کی ہوتی ہے نہ اب جب تمہاری کرنا چاہتے ہیں تو تم اتنا اوو ری ایکٹ کیوں کررہی ہو۔دُرید نے کہا

ہم اوور ری ایکٹ نہیں کررہے۔حریم نے فورن سے کہا

دیکھو حریم تم ہم سب کو عزیز ہو تمہیں نہیں پتا میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں شاید آروش سے بھی زیادہ میں نے تمہارے لیے اگر شادی کا فیصلہ لیا ہے تو سوچ سمجھ کر دیا ہے۔دُرید اُس کا رخ اپنی جانب کیے بولا

اگر آپ ہم سے اتنی محبت کرتے ہیں تو خود کیوں شادی نہیں کرلیتے ہم سے۔حریم کی بات سن کر دُرید پھٹی پھٹی نظروں سے اُس کا چہرہ دیکھنے لگا جو آنکھوں میں اُمید کے جگنوں لیے اُس کے وجیہہ چہرے پہ نظر جمائے ہوئے تھی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آپ ناراض ہیں مجھ سے؟ارمان اسٹوڈیو آتا یمان سے بولا جو آج اپنا نیو سونگ رکارڈ کروانے والا تھا۔

کیا مجھے نہیں ہونا چاہیے۔یمان اپنے گِٹار کا جائزہ لیتا اُس سے پوچھنے لگا۔

مجھے دلاور سر نے حکم دیا تھا۔ارمان نے وضاحت دی۔

کل تم کہاں تھے؟یمان کے اچانک ایسے سوال پہ ارمان چونک پڑا۔

میں یہی تھا۔ارمان نے گڑبڑا کر کہا۔

اسلام آباد میں تو نہیں تھے دو دن سے۔یمان نے سرسری لہجہ اپنایا

مجھے کہاں جانا ہے یہی ہوتا ہوں۔ارمان نے جلدی سے کہا

تم بتانا نہیں چاہتے تو وہ الگ بات ہے ورنہ میں جانتا ہوں تم دو دن سے کراچی تھے کل رات اسلام آباد پہنچے ہو۔یمان کی بات پہ ارمان نے اپنا سرجھکالیا۔

سر وہ

سب تیاریاں ہوگئ ہے میں چلتا ہوں رکارڈنگ کے بعد مجھے ضروری کام ہے بہت۔یمان اُس کی بات ان سنی کرتا چلاگیا تو ارمان اُس کے پیچھے گیا۔

سر یہ لائنز کجھ ایکسٹرا ہے۔یمان گٹار لیکر بیٹھا تو ایک لڑکی اُس کے پاس آئی۔

ہمم۔یمان اُس کے ہاتھ سے پیپر لیکر بس اتنا بولا

اور گانا گانے کی جگہ پہ کھڑا ہوگیا تو اُس کے ایک ساتھ نے گِٹار اُس کی جانب بڑھایا تو یمان گہری سانسیں اندر کھینچتا گِٹار کی تاروں کو چِھیرتا گانا گانے کی شروعات کرنے لگا۔

یاروں سب دعا کرو۔

یاروں سب دعا کروں

مل کر فریاد کروں

دل جو چلاگیا ہے

اُسے آباد کروں

یاروں تم میرا ساتھ دو ذرہ

ارمان جو یمان کے پیچھے آتا اُس سے بات کرنے والا تھا مگر یہاں یمان کو مصروف دیکھتا اپنا سا منہ لیکر رہ گیا وہ جانتا تھا یمان اُس سے ناراض ہے بہت زیادہ تبھی اُس کی بات سُنے بنا یہاں آگیا تھا ورنہ جب بھی اپنے کسی گانے کی رکارڈنگ کرواتا تو اُس کو ساتھ ضرور لیکر جاتا تھا۔

تجھے دیکھا سانسیں مجھے آتی جب کم

دھڑکن رُک گئ نکلے نہ دم

خدا جے سوڑے مُکھرے بناتا ہے جی کم

مرمٹے تجھ پر بھول گئے ہم

دل گیا دل گیا لے گیا صنم

اُسے دیکھا سانسیں مجھے آتی جب کم

دھڑکن رُک گئ نکلے نہ دم

دل گیا دل گیا لے گیا صنم

اُسے دیکھا سانسیں مجھے آتی جاتی جب کم

دھڑکن رُک گئ نکلے نہ دم

دل گیا دل گیا لے گیا صنم

تجھے دیکھا سانسیں مجھے آتی جب کم

دھڑکن رُک گئ نکلے نہ دم

گانا گانے کے وقت ہمیشہ کی طرح اُس کے سامنے آروش کی آنکھوں کا سایہ لہرایا تھا جس سے وہ چاہ کر بھی خود کو آزاد نہیں کرسکتا تھا۔

دردِ جدائی میرے دل وچ بھردیا

ہائے۔

دِرد جُدائی میرے دل وِچ بھردیا

میٹھی میٹھی نظروں نے جادوں کیسا کردیا

میٹھی میٹھی نظروں نے جادوں کیسا کردیا

یمان کو وہ پل یاد آیا جب اچانک سے اُس کی ٹکڑ آروش سے ہوتے ہوتے رہ گئ تھی اور اُس نے جب پہلی بار آروش کی شہد آنکھوں کو دیکھا تھا تب سے اُس کو ایک نئے جذبے کا احساس شدت سے ہوا تھا۔

تھوڑا تھوڑا ہنس کر قہر کیسا ڈھار دیا

تھوڑا تھوڑا ہنس کر قہر کیسا ڈھار دیا

اُس کی اداؤں نے دیوانہ مجھے کردیا

دل گیا دل گیا لے گیا صنم

اُسے دیکھا سانسیں مجھے آتی جب کم

دھڑکن رُک گئ نکلے نہ دم

اُسے دیکھا سانسیں مجھے آتی جاتی جب کم

دھڑکن رُک گئ نکلے نہ دم

گانا ختم ہونے کے بعد یمان نے گِٹار سائیڈ پہ کرکے جانے والا تھا جب ارمان اُس کے سامنے آگیا۔

میں کراچی گیا تھا یامین کی وجہ سے اُس کی چھٹیاں ہیں تو سوچا تھا اُس کو گھمانے پِھرانے لے جاؤں گا تو اُس کا دل بہل جائے گا۔ارمان نے ایک سانس میں سب کجھ بتادیا۔

میرے کراچی جانے کی سیٹ بُک کرواؤ۔یمان اُس کی بات کے جواب میں جو بولا ارمان کے لیے وہ ناقابلِ یقین تھا۔

سوری سر میں کجھ سمجھا نہیں۔ارمان کو لگا شاید اُس کو سننے میں غلطی ہوگئ ہے تبھی پوچھا۔

کراچی جاؤں گا میں اور یہ ویکنڈ میں اپنی بہنوں کے ساتھ گُزاروں گا۔یمان اُس کی حیرانگی بھانپتا بتانے لگا۔

اوکے ٹھیک ہے میں ابھی پہلی فلائٹ دیکھتا ہوں کب کی ہے۔ارمان مسکراتا بولا تو یمان نے سر کو جنبش دینے میں اکتفا کیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

شازل صبح اُٹھا تو بیڈ پہ ماہی کو نہ پایا وہ اُٹھا اور فریش ہوکر باہر آیا تو ماہی ٹیبل پہ ناشتہ لگا رہی تھی جس کو دیکھ کر شازل کو خوشگوار حیرت ہوئی

واہ تم اتنی جلدی اُٹھ گئ اور ناشتے کا احتمام بھی کرلیا زبردست۔شازل کرسی گھسیٹتا بیٹھ کر اُس سے بولا

آپ کو اچھا لگا؟ماہی نے خوشی سے پوچھا

بلکل میں تو سوچ رہا تھا مجھے باہر سے کجھ لانا پڑے گا۔شازل نے بتایا۔

میں فجر کے وقت اُٹھی تھی سارا گھر تو کل دیکھ لیا تھا پھر کچن میں گئ وہاں بس کجھ بریڈ انڈے اور جوس کے ڈبے تھے تو میں نے آملیٹ بنالیا آپ کو جانے کیسے لگے وہاں حویلی میں تو سب ہیوی ناشتہ کرتے ہیں نہ سب۔ماہی خود بھی بیٹھ کر بتانے لگی۔

وہاں تو دیسی گیھ والے پراٹھے کھاکر مجھے اپنے وزن کی ٹینش ہوگئ تھی اُپر سے مکھن لسی اپسس مجھے یہ سب کھانا ہضم نہیں ہوتا۔شازل جھرجھری لیکر بولا

اچھا پر یہ سب تو انسان کے لیے اچھی ہوتی ہیں۔ماہی کو تعجب ہوا

ہاں ہوتی ہے پر مجھے عادت نہیں یہ سب کھانے کی سات سال کا تھا جب شہر میں بورڈن اسکول میں مجھے بھیج دیا گیا اُس کے بعد آمریکا گیا شاید میں تب سولہ یا سترہ برس کا ہوگا اُس کے بعد پھر جب پڑھائی کرنے کے بعد میں پاکستان آیا تو گاؤں میں ہونے والی چیز مجھے پریشان کرنے لگی حویلی میں رہنے سے مجھے وحشت سی ہوتی تھی ایسا لگتا تھا جیسے میں یہاں رہا تو مرجاؤں گا تبھی میں نے اسلام آباد رہنے کو ترجیح دی اب دو سے تین سال سے میں یہاں ہوں میری اپنی پہچان ہے یہاں مجھے ہرکوئی میرے نام سے جانتا ہے کوئی سردار شھباز شاہ کا بیٹا سمجھ کر مجھے جھک کر سلام نہیں کرتا نہ کوئی اپنے مطلب کے لیے میری چاپلوسی کرتا ہے۔شازل آملیٹ کھاتا آرام سے اپنی زندگی کے بارے میں بتانے لگا جیسے اپنے بارے میں نہیں کسی اور کا ذکر ہورہا ہو۔ماہی تو بس حیرانگی والے تاثرات چہرے پہ سجائے شازل کا لاپرواہی والا انداز دیکھ رہی تھی۔

آپ سات سال کی عمر سے اپنے ماں باپ سے اتنا دور رہے؟ماہی حیرانگی سے نکل کر پوچھنے لگی۔

ہاں کیونکہ ہم بچپن میں آروش سے بہت لڑائی کرتے تھے ایک دفع میری وجہ سے آروش بیڈ سے گِری تب آروش چار یا پانچ سال کی ہوگی تو بابا سائیں نے مجھے بورڈن بھیج دیا اُنہیں شک تھا کہیں میں دوبارہ یہ حرکت نہ کرلوں۔شازل ہنس کر بتانے لگا

تو آپ کو کبھی آروش سے جیلیسی نہیں ہوتی تھی؟ماہی متجسس ہوئی۔

کون بھائی اپنی بہنوں سے جلتا ہے آروش میں سب حویلی والوں کی جان تھی کیونکہ وہ شھباز شاہ کی اکلوتی بیٹی تھی بورڈن اسکول مجھے ویسے بھی جانا تھا میں بس کجھ جلدی ہی چلاگیا۔شازل نے بتایا

کافی عجیب اسٹوری ہے مطلب آپ نے اپنے گھر سے شہر سے دور زندگی گُزاری ہے۔ماہی کو جیسے یقین نہیں آرہا تھا۔

بابا سائیں کسی سے ڈرتے نہیں تھے مگر اولاد کے سامنے ہر شخص کمزور ہوجاتا ہے بابا سائیں کو بھی کجھ ایسا خدشا تھا کے اُن کے دشمن کہی ہمیں نقصان نہ پہنچادے اِس وجہ سے انہوں ہمیں دور رکھا آروش ڈرائیور کے ساتھ یا کسی ملازمہ کے ساتھ اسکول یا کہی اور نہیں جاتی تھی بابا سائیں خود اُس کو اسکول چھوڑ آتے تھے پھر چھٹی کے دس منٹ پہلے وہ وہاں پہنچ جاتے چاہے اُنہیں کتنی مصروفیات کیوں نہ ہو آروش کے لیے وہ سب کجھ نظرانداز کرجاتے تھے۔شازل نے مزید بتایا

بیٹیاں سب کو پیاری ہوتی ہیں پر شھباز شاہ جس شخصیت کے مالک ہے اتنے سخت گیر قسم کے اُن کا برتاؤ اپنی بیٹی کے لیے اتنا نرم دیکھ کر مجھے حیرت ہوتی ہے کیونکہ زیادہ تر ایسے مرد کو بیٹوں کی خواہش ہوتی ہے۔ماہی نے اپنے دل میں موجود بات کو بیان کیا۔

میرے بابا سائیں جیسے بھی ہے انہیں چاہ شروع سے ہی بیٹی کی تھی اماں سائیں بتاتی ہیں بابا سائیں میری اور لالہ کی پیدائش کے وقت اتنا خوش نہیں تھے جتنے آروش کی پیدائش پہ ہوئے تھے۔شازل ماہی کو بتاتا جوس کا گلاس پینے لگا۔

انہیں آروش سے اتنا پیار ہے تبھی وہ اُس کی شادی نہیں کرواتے۔ماہی کی بات پہ شازل کا گرفت گلاس پہ مضبوط ہوئی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *