Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 44)

Haal e Dil by Rimsha Hussain

یہ کیوں کیا کیا لالہ۔شازل جیسے فائر کرنے والا تھا دُرید نے اُس کا ہاتھ اُپر کرلیا تھا جس وجہ سے نشانہ مس ہوگیا تھا تبھی شازل غصے بھری نظروں سے عاقب کو دیکھتا دُرید سے بولا جب کی وہاں موجود سب لوگوں کی اٹکی سانسیں بحال ہوئی تھی۔عاکف شاہ نے جلدی سے عاقب کو اپنے پیچھا کھڑا کرلیا تھا۔

یہ میں بھی پوچھ سکتا ہوں کیا کرنے والے تھے تم جُرم کے خلاف آواز اُٹھاتے ہو اور اب خود جُرم کرنے والے تھے مجھے بتاتے تھے کے قتل گُناہ ہے تو پھر کیوں خود قتل کرنے والے تھے۔دُرید ایک ایک لفظ چباکر بول کر اُس کے ہاتھ سے بندوق چھینی۔

یہ جُرم نہیں تھا لالہ یہ کمینہ انسان میری بیوی کے بارے میں اتنا گھٹیاں بول رہا تھا اور میں خاموش تماشائی کا رول ادا کرتا کیا اتنا بے غیرت سمجھ ہوا ہے۔شازل غصے سے پھنکارا۔

شازل عقل سے کام لو۔دُرید نے جھڑکا۔

میں آپ سے بات کیوں کر ہی کیوں رہا ہوں میں آج اِس کمینے کو چھوڑوں گا نہیں۔شازل ایک بار پھر عاقب کو مارنے کے لیے بڑھا مگر وہاں کھڑے لوگ درمیان میں آگئے۔

جرگہ میں کیا تماشا بنایا ہوا ہے۔وہاں موجود ایک آدمی نے کہا

تماشا تو یہ ہمارے گھر کی عورتوں کو لگارہے ہیں اگر یہ سب ایک منٹ سے پہلے نہیں گئے تو خدا کی قسم میں ان باپ بیٹے کو زندہ قبر میں دفناؤں گا۔شازل غصے سے چیخا۔

جرگہ کل دوبارہ ہوگا ابھی سب جائے۔شھباز شاہ اپنی جگہ سے اُٹھ کر سنجیدہ بھرے لہجے میں بولے تو سب ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے لگے۔

یہ کیا بات ہوئی آپ ایسا کیسے کرسکتے۔ایک آدمی نے اعتراض اُٹھایا

ٹھیک ہے فیصلہ کل ہوگا مگر آپ سب خود پہ کنٹرول کرنا ایسا نہ ہو کل بھی وہ تماشا ہو جو آج ہوا ہے۔حشمت اللہ نے شھباز شاہ کی بات پہ اتفاق کیا تو انہوں نے سر کو اثبات میں ہلایا تو باری باری سب وہاں سے چلتے گئے۔

میں تو تمہیں ایویں کم ہمت ڈرپوک سمجھتا تھا مگر آج تو تم نے ثابت کردیا کے تمہاری رگوں میں بھی شاہوں خاندان کا خون ہے۔دیدار شاہ نے داد دیتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا جس پہ شازل نے سرجھٹکا۔

ویسے تمہیں غصہ کجھ زیادہ آگیا ایسا ہی ہوتا ہے جو لوگ کبھی کبھی غصہ کرتے ہیں اُن کے غصے میں بلا کا روعب ہوتا ہے کیونکہ وہ سردیوں کی شام کی طرح خاموش اور پُراسرار نظر آتے ہیں مگر پھر بعد میں طوفان کھڑا کرتے ہیں جیسے کے تم نے کیا۔دیدار نے مزید کہا تو شازل نے زچ کرتی نظروں سے اُس کو دیکھا

میں اگر چھوٹا ہوتا تم سے تو تمہاری یہ لال انگارہ ہوتی آنکھوں کو دیکھ کر ضرور ڈر جاتا مگر کیا ہے کے میں تم سے بڑا ہوں اِس لیے مجھے ڈر بلکل بھی نہیں لگ رہا۔دیدار شاہ اُس کا کندھا تھپتھپاکر بولا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

جانے جرگہ میں کیا ہورہا ہے۔فاریہ بیگم فکرمندی سے بولی۔

اللہ خیر کرے گا دُرید اگر عقل سے کام لیتا تو اچھی بات تھی ہم یوں سب پریشان تو نہ ہوتے۔فردوس بیگم نے کہا

دُرید نے جو کیا وہ بلکل ٹھیک کیا ایسے لوگ صرف زمین پہ بوجھ ہوتے ہیں۔کلثوم بیگم فردوس بیگم کی بات کے جواب میں بولی۔

وہ سب آگئے ہیں جرگہ سے۔ملازمہ نے آکر اُن کو اطلاع دی تو سب نے اچھے سے خود پہ چادر لی۔

شازل

شازل کیا ہوا کیا بنا وہاں؟کلثوم بیگم نے تیز قدموں سے چلتے شازل کو سیڑھیوں کی طرف جاتا دیکھا تو اُس سے پوچھنے لگی۔مگر شازل اٙن سنی کرتا وہاں سے چلاگیا۔

اِس کو کیا ہوا؟فردوس بیگم تعجب سے بولی

اب تو دیدار یا دُرید سے پتا چلے گا وہاں ہوا کیا۔فاریہ بیگم گہری سانس بھر کر بولی۔

٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠

آپ آگئے کیا فیصلہ ہوا وہاں؟ماہی نے کمرے میں شازل کو آتا دیکھا تو فورن سے اُس کی جانب لپکی مگر شازل کی سرخ آنکھیں بکھرے بال دیکھ کر اُس کو ڈر بھی لگا۔

آپ کو کیا ہوا؟ماہی نے شازل سے پوچھا جو بس خاموش نظروں سے اُس کو دیکھ رہا تھا۔

بتائے شاز

ابھی ماہی اپنی بات مکمل کرتی اُس سے پہلے شازل آگے بھرتا اُس کو اپنے سینے لگاگیا۔ماہی کا دل زور سے دھڑکا اُس کو شازل سے ایسی کسی حرکت کی توقع نہیں تھی۔

شازل چھوڑے۔ماہی نے شازل کی گرفت مضبوط ہوتی محسوس کی تو فورن سے کہا اُس کو ایسا لگ رہا تھا جیسے شازل اُس کی ہڈیاں توڑ کر ہی دم لے گا۔

تم صرف میری ہوں۔شازل اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتا بڑبڑایا

کیا بول رہے ہیں؟ماہی کو سمجھ نہیں آیا۔

تم کس کی ہو؟شازل اُس کا چہرہ اپنے روبرو کرتا پوچھنے لگا تو ماہی اُس سے پہلے شکر کا سانس ادا کرتی شازل کے بے قرار لہجے میں ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی۔

یہ کیسا سوال ہے؟ماہی کو سمجھ نہیں آیا

تم کس کی ہو ماہی آج میں تمہاری کوئی بے وقوفی برداشت کرنے والا نہیں جو پوچھا ہے اُس کا جواب دو تم یہاں ونی میں میرے نکاح میں آئی تھی تو بتاؤ کس کی ہو۔شازل اُس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرتا پوچھنے لگا۔ماہی کو تو آج شازل کا انداز دیکھ کر غش کھانے کے در پہ تھی جواب کیا خاک دینا تھا اُس نے۔

بہری ہوں میں کجھ پوچھ رہا ہوں سُنائی نہیں دے رہا۔شازل اُس پہ دھاڑا تو ماہی کو اپنی جان جاتی محسوس ہوئی۔

آ آپ ک کی ہ ہوں۔ماہی نے اٹک اٹک کر بتایا۔

ہمممم گُڈ تو کوئی تمہیں مجھ سے چھین نہیں سکتا سمجھ آرہی ہے نہ میری بات؟شازل اُس کے چہرے پہ ہاتھ پھیرتا جنون بھرے لہجے میں بولا تو ماہی نے فورن سے سراثبات میں ہلایا۔

کسی کی ہمت کیسے ہوئی تمہارے بارے میں کجھ کہنے کی۔شازل اُس کو دوبارہ سے اپنے سینے سے لگاتا بڑبڑایا مگر اِس بار ماہی نے خاموش رہنے میں ہی عافیت سمجھی۔

میں منہ توڑدوں گا اُس سالے کا جس نے تمہارے بارے میں سوچا بھی۔شازل اُس کے بالوں میں بوسہ دیتا طیش میں غِرایا تو اپنے دل کے دھڑکنے کی آواز ماہی کو اپنے کانوں تک سُنائی دی اُس کو اب شازل سے جھجھک محسوس ہونے لگی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

میں نہ کہتی تھی آپ کی اولاد عاشق مزاج ہے اور یہ شازل مجھے اِس سے تو عشق معشوقی کی اُمید خواب میں بھی نہ تھی کیسے شادی کے نام پہ پتنگے لگ جاتے تھے اور اب جرگہ میں اتنا بڑا تماشا لگایا اُس نے مجنوں کا سیکنڈ پارٹ نہ ہو تو۔فاریہ بیگم ساری بات جاننے کے بعد سرجھٹک کر بولی۔

یہ وقت مذاق کا نہیں فاریہ۔کلثوم بیگم نے اُن کو ڈپٹا

مذاق میں کونسا کررہی ہوں میں تو بس بتارہی ہوں شازل کو کیا ہوگیا ہے کہاں وہ نکاح کے بعد شہر بھاگ گیا تھا اور اب اُس لڑکی کے پیچھے اتنا پاگل ہوا پڑا ہے۔فاریہ بیگم بُرا مان کر بولی۔

ہے بھی تو خوبصورت لڑکی پھنسا لیا ہوگا اپنی اداؤں میں۔فردوس بیگم نے باتوں میں حصہ لیا۔

لگتی تو ایسی نہیں میں نے دیکھا بہت معصوم ہے بے چاری جب کوئی ملازمہ بھی اُس پہ ہاتھ اُٹھاتی تو گونگی بہری بن جاتی مگر اففف تک نہیں کرتی تھی ورنہ اگر شازل یہاں آنے میں ایک دن دیر کرتا تو جیسا حشر شبانا نے اُس کا کیا تھا اُس نے تو تڑپ کر مرجانا تھا۔فاریہ بیگم تاسف سے بولی۔

کوئی معصوم بے چاری نہیں سب ڈرامہ ہے اُس کا میں تو اب اِس کو حویلی میں برداشت نہیں کروں گی ونی میں آئی تھی جس کی اوقات دو ٹکے کی نہیں تھی اور اب سالی شازل شاہ کے دل پہ راز کرے گی اپنی اوقات بھول گئ ہے جو میں اُس کو اچھے سے یاد کرواؤں گی۔شبانا نفرت بھرے انداز میں بولی جب سے اُس نے سُنا تھا اُس کے دل میں آگ کے شعلے بھڑک رہے تھے۔

شازل بڑی مشکل سے یہاں رُکا ہے اب تم کجھ ایسا نہ کردینا کے وہ پھر سے چلا جائے یہاں سے۔کلثوم بیگم نے شبانا کی بات سن کر اُس کو باز رکھنا چاہا

اگر آپ لوگ کجھ نہیں کررہے تھے تو مجھے کرنے دے ایسا نہ ہو پھر وہ کوئی وارث پیدا کرکے دے اگر ایسا ہوا تو اُس کے قدم یہاں مضبوط ہوجائے گے۔شبانا نے فورن سے کہا

سوچ سمجھ کرو بولوں اب کیا یہ ونی میں آئی ہوئی لڑکی شاہ خاندان کو وارث دے گی۔فردوس بیگم ناگواری سے بولی۔

رنگ ڈھنگ نہیں دیکھے آپ نے اِس کے تھی کیسی اور ہو کیسی گئ ہے شہر کی ہوا خوب لگی ہے اُسے۔شبانا نے غصے سے کہا

دس سال ہوگئے تھے تمہاری شادی کو مگر تم نے میرے بیٹے دلدار کو وارث نہیں دیا اب اگر یہ دے گی تو شاہ خاندان کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہوگا۔فاریہ بیگم کو دونوں ماں بیٹی کی باتیں پسند نہیں آئی تو مداخلت کی۔

آپ مجھے بانجھ ہونے کا طعنہ دے رہی ہیں جب کی یہ بات اچھے سے جانتی ہیں کمی مجھ میں نہیں آپ کے بیٹے میں تھی۔شبانا تپ اُٹھی۔

مانا کے میرے بیٹے میں خامی تھی مگر اب کیا میرے دوسرے بیٹے میں بھی خامی ہے اتنا عرصہ تو ہوگیا ہے پھر بھی تمہاری طرف سے کوئی خوشخبری نہیں آئی۔فاریہ بیگم کی اِس بات سے شبانا شرم سے پانی پانی ہوگئ اُس کو ذرہ برابر اُمید نہیں تھی اُس کی چچی جو رشتے میں ساس بھی یہ بات سب کے سامنے کرے گی۔

تمہاری بات کا مطلب اب یہ لڑکی حویلی کو وارث دے گی جس کا تعلق سید گھرانے سے نہیں اِس کو تو ہم چلتا کرے گے شازل کی دوبارہ شادی ہوگی وہ بھی خاندان کی لڑکی سے۔فردوس بیگم تیکھی نظروں سے فاریہ بیگم کو دیکھ کر بولی۔

آپ اُس لڑکی کا پتہ کاٹ سکتی ہیں مگر اُس کے بچے کا نہیں کیونکہ وہ بچہ شازل کا ہوگا یعنی سیدزادہ ہوگا اور کون باپ اپنی اولاد سے بیگانی رہے گا۔فاریہ بیگم نے کہا

تم لوگ بحث میں ایسے پڑی ہو جیسے سچ میں وہ آج ہمیں وارث دینے والی ہو ابھی ایسا کجھ نہیں ہوا تو بات کرنے کا مقصد۔کلثوم بیگم کو اُن سب کی باتوں سے بیزاری ہوئی تو ٹوکا جس پہ وہ سب اپنا سا منہ لیکر رہ گئ۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

کیسی ہے وہ؟دُرید ہسپتال آتا آروش سے حریم کی خیریت معلوم کرنے لگا۔

زندہ ہے۔آروش نے جواب دیا۔

ایسا کیوں کہہ رہی ہو؟دُرید کو تکلیف ہوئی۔

جس ٹروما میں وہ ہے اُس کا زندہ رہنا بڑی بات ہے آپ کو نہیں پتا وہ راتوں کو ڈر جاتی ہے اُس کی طبیعت بِگڑتی رہتی ہے۔آروش نے پریشانی سے بتایا

کاش میں اُس سے مل پاتا۔دُرید کے لہجے میں حسرت تھی۔

حریم عدت میں ہے یہ بات وہ خود نہیں جانتی کیونکہ میں نے اُس کو نہیں بتایا کے آپ نے اُس کے مجرم کا قتل کیا ہے۔آروش نے سنجیدگی سے کہا

اچھا کیا جب وہ پوری طرح سے صحتیاب ہوجائے تو تب بتادینا۔دُرید نے کہا۔

اگر آپ حریم سے بات کرنا چاہتے ہیں تو میں کال پہ بات کروادوں کیا پتا وہ آپ سے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرلے اُس کو جب سے ہوش آیا ہے اُس نے ایک مرتبہ بھی مجھ سے خالہ یا تابش کا ذکر نہیں کیا۔آروش دُرید کی حالت سمجھتی گہری سانس لیکر بولی۔

اُس نے میرا نام لیا ہے؟میں اُس سے ملنے کیوں نہیں آیا اُس کی خیریت معلوم کیوں نہیں کی کیا اُس نے وجہ پوچھی ہے؟دُرید نے آروش سے پوچھا تو اُس نے نفی میں سر کو جنبش دی جس پہ دُرید کے چہرے پہ زخمی مسکراہٹ آئی۔

پھر میں کیسے مان لوں وہ مجھ سے کال پہ بات کرنے کے لیے راضی ہوجائے گی۔دُرید کے چہرے پہ اُداس مسکراہٹ آئی۔

جرگہ میں کیا ہوا؟اور حریم کو ڈسچارج کب ملے گا وہ یہاں بے سکون ہے حویلی چلے گی تو اچھا محسوس کرے گی۔آروش نے بات کا رخ بدلا۔

فیصلہ کل ہوگا جرگے کا اور میں ڈاکٹر سے بات کرتا ہوں کے ڈسچارج پیپرز تیار کرے۔دُرید نے کہا تو آروش نے سراثبات میں ہلایا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

کیا بات ہے جب سے آپ کی جرگہ سے واپسی ہوئی ہے آپ کے چہرے پہ عجیب سا سکون ہے اور اب یہ مسکراہٹ؟بختاور بیگم نے حشمت اللہ صاحب کو پرسکون دیکھا تو پوچھ لیا

ہاں میں واقع بہت خوش ہوں کیونکہ آج میں نے شازل کو دیکھا جو ماہی کا شوہر ہے میرے اندر پہلے بہت وسوسے تھے ماہی کو لیکر جب تم نے بتایا تھا ماہی یہاں آئی تھی اور بہت خوش تھی تو مجھے اطمینان نہیں آیا تھا مگر آج جب اُس جا شوہر اُس کے لیے وہاں سب سے لڑا تو دل میں اطمینان اُترا ایک خلش تھی جو آج ختم ہوگئ میری بیٹی واقع وہاں خوش ہوگی کیونکہ اُس کا شوہر شازل ہے اور مجھے شازل سب سے منفرد لگا عورتوں کی عزت کرنے والا اور کروانے والا۔حشمت اللہ صاحب پرسکون لہجے میں ان کو بتانے لگے۔

ہماری بیٹی وہاں ونی کے طور پہ گئ تھی اگر اُس کا شوہر شازل نہ ہوتا تو اب تک ہماری بیٹی زندہ نہ ہوتی وہ تو اللہ کا شکر ہے اُس کا نکاح شازل سے ہوا اور سسرال میں لڑکی کی عزت تبھی ہوتی ہے جب اُس کا شوہر اُس کو اپنے ہونے کا احساس کرواتا ہے اُس کو اطمینان بخشتا ہے اور میرے رب کا شکر ہے شازل نے ماہی کو ونی کی حیثیت سے نہیں بلکہ اپنی بیوی اور اپنی عزت سمجھا۔بختاور بیگم بھی اُن کی بات سے متفق ہوئی۔

بس اب ذین کا سچ ثابت ہوجائے اصل قاتل کون تھا پھر ہم اپنی بیٹی کو واپس لائے گے۔حشمت اللہ صاحب نے گہری سانس بھر کر کہا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

رات کے اِس وقت تم یہاں کیا کررہی ہو؟ماہی جو باورچی خانے میں پانی لینے کے غرض سے آئی تھی اپنے پیچھے شبانا کی آواز سن کر وہ ڈر پلٹی۔

پانی لینے آئی تھی۔ماہی نے اپنے ڈر پہ قابو پایا۔

شازل پہ کونسا جادوں کیا ہے تم نے جو وہ تیری وجہ سے قتل کرنے چلا تھا۔شبانا اُس کے بال مٹھی میں جکڑ کر بولی تو ماہی حیرانکن نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی۔

بال چھوڑے میرے۔ماہی نے جلدی سے اُس کو خود سے دور کیا تو شبانا نے خونخوار نظروں سے اُس کو گھورا جو کندھوں سے اپنا ڈوپٹہ ٹھیک کررہی تھی۔

تیری اتنی ہمت۔شبانا نے زور سے ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینچا

میں نے شازل پہ کوئی جادو نہیں کیا اور میں نہیں جانتی آپ کس قتل کی بات کررہی ہیں۔ماہی اپنے قدم پیچھے لیتی ہمت کرکے بولی۔

او اچھا اِس میسنی شکل پہ شازل مرتا ہوگا میں نہیں آنے والی تیرے جھانسے میں جتنا ہوسکے اُتنا دور رہ شازل سے ورنہ وہ حال کروں گی کے یاد رکھوں گی۔شبانا نے دھمکی آمیز لہجے میں اُس کو وارن کیا۔

آپ مجھے ڈرا نہیں سکتی وہ میرے شوہر ہے میں اُن سے دور رہوں یا پاس اُس کا فیصلہ آپ نہیں میں خود کروں گی۔ماہی کی حاضر جوابی پہ شبانا حیرت سے گنگ ہوتی نظروں سے اُس کو گھورنے لگی جو پہلے آنکھیں اُٹھا کر نہیں دیکھتی تھی اور آج اُس کو جواب دے رہی تھی۔

آگئ نہ اپنی اصلیت پہ اور یہ کس کی شے پہ بہادری کا مظاہرہ کررہی ہو؟شبانا اُس کی ٹھوڑی پکڑ کر طنزیہ بولی۔

شازل کی شے پہ انہوں نے کہا مجھے کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں اور مجھے اب سمجھ آرہا ہے واقع میں مجھے کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں میں کیوں ڈروں جب میرے بھائی بے قصور ہیں میں بے قصور ہوں تو کیوں آپ لوگوں کے بلاوجہ ظلم سہو میں کوئی گڑیا نہیں جس کو آپ اپنی مرضی سے چلائے گی۔ماہی اُس کا ہاتھ جھٹک کر بولی ڈرپوک تو وہ پہلے بھی کبھی نہیں تھی مگر اُس پہ جو حالات آگئے تھے اُس نے اُس کی ہمت چھین لی تھی جو دوبارہ شازل کے اعتماد کی وجہ سے آئی تھی۔

میں تمہاری زبان کاٹ دوں گی۔شبانا اُس پہ دھاڑی مگر آج پہلی بار ماہی کو اُس سے خوف نہیں آیا

سوچ لے شازل آپ کے ہاتھ کاٹ دینگے۔ماہی تُرکی پہ تُرکی بولی۔

تیری تو

گالی مت دیجئے گا سُنا ہے ایک گالی پہ قبر میں بہت کیڑے کاٹنے آتے ہیں تعداد فلحال میں بھول چُکی ہوں مگر جب یاد آئے گی تو بتادوں گی ناؤ ایکسکیوز می میرے شوہر میرا انتظار کررہے ہیں اگر میں نہیں گئ تو میری تلاش میں وہ خود یہاں آجائے گے۔شبانا اُس سے کجھ کہنے والی تھی جب ماہی اُس کی بات درمیان میں کاٹ کر بول کر سائیڈ سے گُزری۔

تمہارا تو پتہ میں کاٹ کر رہوں گی۔شبانا نے غصے اُس سے کہا۔

شبانا کی بات پہ ماہی رُک کر پلٹ کر اُس کو دیکھنے لگی۔

میں کوئی درخت نہیں ہوں انسان ہوں۔ماہی اُس کو جواب دیتی وہاں سے چلتی بنی پیچھے شبانا بیچ وتاب کھاتی رہ گئ۔

٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠

لو جی میں وہاں بڑی بڑی چھوڑ کر آئی ہوں کے میرے شوہر میرے انتظار میں ہیں مگر ایک میرے شوہر محترم ہیں جن کو سونے سے فرصت نہیں۔ماہی اپنے کمرے میں آئی تو شازل کو گہری نیند میں سوتا دیکھ کر بڑبڑائی۔

شازل۔ماہی بیڈ پہ بیٹھتی شازل کو آواز دینی لگی کے شاید جاگ جائے۔

شازل اُٹھے نہ باتیں کرتے ہیں۔ماہی شازل کا بازوں ہلاتی اُس سے بولی۔

یار ماہی آج مجھے معاف کرو میں اپنا دوسرا بازوں تم پہ قربان نہیں کرسکتا پہلے والا ہی ابھی زخمی ہے۔شازل کی نیند میں ڈوبی آواز سن کر ماہی نے اپنی آنکھیں چھوٹی کیے اُس کو گھورا۔

صبح تو بڑا پیار آرہا ہے تھا(نقل اُتارتے ہوئے) ماہی تم صرف میری ہوں ونی میں میرے نکاح میں آئی ہوں اور اب محترم کے مزاج ہی نہیں مل رہے۔ماہی نے بلند آواز میں اُس کی نقل اُتارنے لگی۔

یار ماہی تمہیں باتیں رات کے وقت کیوں یاد آتی ہے سوجاؤ اچھے بچوں کی طرح۔شازل اُس کی جانب کروٹ لیتا بولا

میں اچھی بچی نہیں ہوں۔ماہی نے فورن سے کہا

اِدھر آؤ۔شازل نے اپنا ہاتھ اُس کی جانب بڑھایا تو ماہی کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی اُس نے اپنا ہاتھ شازل کی چوڑی ہتھیلی پہ رکھا تو شازل سیدھا لیٹتا اُس کا سر اپنے سینے پہ رکھا۔

مجھے پتا نہیں تھا تمہارا سر اتنا بھاری ہوگا جو میرا معصوم بازوں اتنا سُن ہوجائے گا۔شازل نے شرارت سے کہا تو ماہی نے اُس کے سینے پہ مُکہ برسایا

کوئی نہیں میرا سر بھاری بس آپ کے ڈرامے ہیں۔ماہی خفگی سے بولی۔

اچھا جی میری غلطی پر اب تم سونے کی کرو۔شازل نے ہنس کر کہا

ایسے نیند نہیں آئے گی۔ماہی نے کہا

تو پھر کیسے آئے گی؟شازل نے تعجب سے پوچھا

آپ اپنا ہاتھ میرے بالوں میں رکھ کر اُنہیں سہلائے پھر آئے گی۔ماہی شرم سے سرخ ہوتی اُس سے بولی تو شازل کا چھت پھاڑ قہقہقہ گونجا۔

چلو شکر میری بیوی نے کوئی تو فرمائش کی۔شازل اُس کے بال سہلاتا ہنس کر بولا تو ماہی پرسکون ہوتی اپنی آنکھیں موند گئ۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

جرگہ پہ سب لوگ پہنچ گئے تھے اور آج اصل فیصلہ ہونا تھا۔

آپ لوگوں نے مل بیٹھ کر فیصلہ کیا ہوگا تو بتائے پھر آپ کو چاہیے عاکف شاہ بیشک دُرید شاہ اپنی جگہ ٹھیک تھا مگر اُس کو تابش کا قتل نہیں کرنا چاہیے تھا بلکہ جرگہ بیٹھانا تھا پھر اُس کا فیصلہ ہوتا۔گاؤں کے بزرگ نے سنجیدگی سے اپنی بات سب کے سامنے رکھی۔

سرپنج شھباز شاہ ہے مہربانی ہوگی اگر آپ اُن کو فیصلہ کرنے دے۔شازل نے سب پہ کڑی نظریں ڈال کر کہا

بیشک یہاں کے سرپنج شھباز شاہ ہیں مگر جرگہ پہ سب کو اپنی رائے دینے کا حق ہے اور فیصلہ انصاف کا ہوگا شھباز شاہ کو اپنے بیٹے کے لیے بھی وہی فیصلہ لینا ہوگا جو باقی سب کے لیے کرتے ہیں۔بزرگ نے جوابً کہا

انصاف کی بات تو آپ نہ ہی کرے تو بہتر ہوگا کیونکہ جرگے کا مطلب میری ڈکشنری میں معصوموں کے ساتھ ناانصافی اور معصوم لڑکیوں کے ارمانوں کا قتل ہوتا ہے جو یہاں کسی اور کے گُناہ کی بھینٹ چڑھتی ہے۔شازل کا انداز خاصا طنزیہ تھا جس پہ وہ بزرگ اپنی جگہ چور سے ہوگئے۔

آج یقین ہوگیا کے تم واقع میں وکیل ہو جس کے پاس ایک کے بعد ایک دلائل موجود ہوتی ہیں۔دیدار شاہ اُس کے کان کے پاس آتا بولا تو شازل کے چہرے پہ پہلی بار مسکراہٹ آئی۔

فیصلہ ہونے سے پہلے میں ایک بات سے سب کو آگاہ کرتا چلوں۔شھباز شاہ کی سپاٹ آواز پہ سب لوگ اُن کی جانب متوجہ ہوئے

ونی میں کوئی نہیں جائے گی قتل کے بدلے کیونکہ میری کوئی بیٹی نہیں۔شھباز شاہ کی بات پہ سب لوگ حیرانگی سے ایک دوسرے کا چہرہ تکنے لگے شازل کے چہرے کی مسکراہٹ یکدم غائب ہوگئ تھی دُرید کو شدید قسم کا حیرت کا جھٹکا لگا تھا۔

بابا سائیں آپ کو جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں۔شازل بہت دیر بعد بولنے کے قابل ہوا۔

کوئی اپنی بیٹی کے ہوتے ہوئے ایسے کیسے انکاری ہوسکتا ہے۔

بس ونی میں نہ کرنے کے بہانے ہیں لاڈلی جو ہے۔شھباز شاہ کی بات پہ سب لوگ آپس میں چہ مگوئیاں کرنے لگے۔

میں شھباز شاہ ہوں مجھے اپنی بات منوانے کے لیے نہ تو جھوٹ بولنے کی ضرورت ہے اور نہ بہانے کرنے کی میری کوئی بیٹی نہیں جو میری بیٹی حیثیت سے میرے پاس رہتی ہے وہ میرے دوست دلاور خان کی بیٹی ہے جو امانت کے طور پہ آج سے چوبیس سال پہلے اُس نے مجھے دی تھی اگر میری اتنی وضاحت کے باوجود بھی بھی کسی کو یقین نہیں آیا تو ڈی این اے ٹیسٹ اگر کوئی کروانا چاہے تو بیشک کرواسکتا ہے۔شھباز شاہ کی بات پہ اچانک خاموشی چھاگئ تھی جیسے کسی کے پاس بولنے کے لیے کجھ بچا ہی نہیں تھا دُرید شاہ اور شازل شاہ بے یقین نظروں سے شھباز شاہ کو دیکھ رہے تھے جن کا چہرہ ہر احساس سے عاری تھا در حقیقت شھباز شاہ خود بے یقین تھے انہوں نے آروش کی حقیقت ایسے کسی کو بتانا نہیں چاہی تھی وہ جو پہلے سوچتے تھے کس طرح وہ سب کو بتائے گے کس طرح آروش کا سامنا کرے گے؟ آج زندگی نے اُن کو ایسے موڑ پہ لایا تھا جو وہ پورے گاؤں والوں کے سامنے آروش کی حقیقت بیان کرنے پہ مجبور ہوگئے تھے اِس وقت اُن کی اندرونی کیفیت سے کوئی واقف نہیں تھا آج جو کجھ انہوں نے کہا تھا وہ کس دل سے کہا یہ بس وہ خود جانتے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *