Haal e Dil by Rimsha Hussain NovelR50524 Haal e Dil (Episode 03)
Rate this Novel
Haal e Dil (Episode 03)
Haal e Dil by Rimsha Hussain
حُسن ہے سہانا روب کا خزانہ
آج ہے لٹانا
آکے دیوانے مجھے سینے سے لگا۔
دُرید شاہ کلب میں داخل ہوا تو ایک ناگوار لہر پورے وجود میں سرایت کرتی محسوس ہوئی جہاں ہر لڑکا لڑکی اپنا دین ایمان بھلائے ایک دوسرے کی بانہوں میں کھڑے تھے ساتھ میں اُس کا بھائی شازل شاہ بھی تھا جس کے ساتھ کسی لڑکی کو دیکھ کر دُرید شاہ نے تیکھی نظروں سے اُس کی جانب دیکھ کر اپنے قدم اُس کی طرف بڑھائے
نا نا نا
گوریا چُرانہ میرا جیا
گوریا چُرانہ میرا جیا
گوریا چُرانہ میرا جیا
گوریا چُرانہ میرا جیا
شازل شاہ جو اپنی نئ گرل فرینڈ کے ساتھ ڈانس کرنے میں مگن تھا کندھے پہ کسی کا بھاری ہاتھ محسوس کرکے بےزاری سے پلٹا نظر جیسے ہی دُرید شاہ پہ پڑی تو مسکرا پڑا
لالہ آپ۔شازل پرجوش سا اُس کے گلے لگنے والا تھا پر اُس کے منہ سے آتی شراب کی بو محسوس کرکے دُرید شاہ نے اپنا چہرہ دوسری طرف کرکے اُس کو خود سے دور کیا شازل شاہ کے ساتھ جو لڑکی کھڑی تھی وہ پرشوق نظروں سے دُرید شاہ کو دیکھنے لگی جو براؤن کلر کے شلوار قمیض پہنے کندھوں پہ گرم شال ٹکائے سخت نظروں سے شازل کو دیکھ رہا تھا
باہر چلو۔دُرید شاہ نے کرخت لہجے میں کہا کلب میں تیز میوزک ہونے کی وجہ سے اُس کی آواز شازل شاہ کے کانوں میں نہیں پڑی
کیا کہا آپ نے۔شازل اپنا کان اُس کی طرف کرکے تیز آواز میں بولا تو دُرید شاہ اُس کو گھور کر بازوں سے پکڑتا اپنے ساتھ لے جانے لگا جس پہ شازل شاہ بنا احتجاج کیے اُس کے ساتھ چلتا جارہا تھا
گوریا چُرانہ میرا جیا
گوریا ہے پاگل میرا جیا
گوریا ہے پاگل میرا جیا
وہ دونوں جیسے ہی پارکنگ ایریا آے شازل نشے میں جھولتا گانا گانے لگا
سٹاپ شازل شاہ۔دُرید شاہ نے غصے سے کہا تو شازل نے اپنے ہونٹوں پہ انگلی رکھ کر فرمانبرداری کا ثبوت دیا اُس کی بچوں جیسی حرکات دیکھ کر درید اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا خود کو پرسکون کرنے لگا۔
تمہاری وجہ سے صرف اور صرف تمہاری وجہ سے میں اُس جگہ آیا جہاں آنے کا میں مرکر بھی نہیں سوچتا۔دُرید شاہ اُس کا گریبان پکڑ کر سخت لہجے میں گویا ہوا
پھر تو آپ کو میرا شکر گُزار ہوجانا چاہیے میری بدولت آپ نے ایک ساتھ اتنی حسیناؤں کا درشن کیا۔شازل شاہ نے آنکھ ونک کیے بے باک لہجے میں کہا تو دُرید شاہ کا دل کیا اپنے بھائی کا گلا دبادے۔
اخلاق کے دائرے میں رہ کر بات کیا کرو۔دُرید شاہ اُس کو فرنٹ سیٹ پہ بیٹھاتا کڑے لہجے میں بولا
کتنا لڑکیاں آپ کو دیکھ کر آہیں بھر رہی تھی۔شازل شاہ باز نہ آیا دُرید شاہ اُس کو نظرانداز کرتا گاڑی ڈرائیو کرنے لگا
عرض کیا ہے۔
شازل شاہ اُس کی طرف چہرہ کیے بولا
عرض کیا ہے۔
دُرید شاہ کی طرف سے نو رسپانس جان کر اب کی اُس نے بلند آواز میں کہا پر دُرید شاہ نے اب بھی توجہ نہ دی۔
دُرید لالہ عرض کیا ہے۔شازل شاہ اُس کا بازوں ہلاتا بولا
پھوٹو۔دُرید شاہ نے پھاڑ کھانے والے لہجے میں کہا جانتا تھا جب تک اُس کی ساری بکواس نہیں سُنے گا شازل عرض کیا ہے کا راگ گاتا رہے گا۔
اہم اہم۔
جی تو عرض کیا ہے۔
ہم کہاں جارہے ہیں؟شازل شاہ ٹھوڑی پہ ہاتھ ٹکائے بولا تو دُرید نے خشمگین نظروں سے اُس کو دیکھا کیونکہ اُس کو ایک پل کے لیے لگا تھا شاید واقع وہ کوئی عرض کرنے والا ہے۔
حویلی۔دُرید شاہ نے یک لفظی جواب دیا
توبہ۔شازل کوفت سے بولا
کلب میں کیوں جاتے ہو؟دُرید نے سنجیدگی سے پوچھا
میرا بریک اپ ہوگیا تھا تو بس سوگ منانے گیا تھا۔شازل شاہ نے بڑی معصومیت سے جواب دیا
بڑا گرم جوشی سے سوگ منایا جارہا تھا۔دُرید شاہ نے میٹھا طنزیہ کیا
اور نہیں تو کیا۔شازل شاہ مزے سے بولا
سید گھرانے سے تعلق ہے تمہارا کیوں گھر کی عزت خراب کرنے پہ تُلے ہو۔دُرید شاہ نے اُس کو شرم دلانی چاہی۔
جانتا ہوں لالہ اُن سے دوستی میری ایک حدتک ہوتی ہے۔شازل شاہ نے اپنی طرف سے صفائی پیش کی
ایک حدتک کا نظارہ دیکھ چُکا ہوں میں آج شراب حرام ہے یہ بات کیوں بھول جاتے ہو تم۔دُرید شاہ کا غصہ کم ہونے کو نہیں آرہا تھا
تو آپ کو یہ بات معلوم ہونی چاہیے سید گھرانے کا مرد ہر گُناہ کرسکتا ہے گھٹیاں ہوسکتا ہے پر ایک زانی نہیں ہوسکتا۔شازل پہلی بار سنجیدہ ہوا
واقع۔جہاں اُس کی بات سن کر دُرید شاہ پرسکون ہوا تھا وہی کنفرم کرنے کی خاطر پوچھا
جی کیونکہ میں ایک بہن کا بھائی ہوں ایسی گھٹیا حرکت کا خیال آنے سے پہلے میرے سامنے آروش کا عکس آتا ہے اور آپ جانتے ہیں آروش کہتی ہے زنا ایک قرض ہے اور کوئی بھائی یہ نہیں چاہے گا اُس کا قرض اُس کی بہن یا بیٹی اُتارے۔شازل شاہ اپنی بات کہتا چہرہ کھڑکی کے سامنے کرگیا ڈرائیونگ کرتے دُرید شاہ نے محبت سے شازل شاہ کو دیکھا۔.
اگر ایسی بات ہے تو روز نئ لڑکی سے دوستی کرنے سے اچھا ہے اپنے لیے ایک پسند کرلوں شادی کے لیے۔دُرید شاہ کے منہ سے بے خیالی سے نکل گیا شازل شاہ کی آنکھیں جو اب بار بار بند ہورہی تھی اپنے بھائی کی بات سن کر چہرے پہ طنزیہ بھرے تاثرات آئے۔
تاکہ اُس لڑکی کا انجام بھی وہی ہو جو آپ کی پسند کی گئ لڑکی کا انجام ہوا تھا ہمارا خاندان کے باہر کسی کو پسند کرنا مطلب اُس کی جان سے دشمنی کرنے کے مترادف ہے۔شازل شاہ کی بات پہ دُرید شاہ کی گرفت اسٹئرنگ پہ سخت ہوگئ تھی اگر کوئی اور یہ بات کرتا تو دُرید شاہ یقیناً اُس کا منہ توڑ دیتا پر یہ بات کہنے والا کوئی اور نہیں اُس کا بھائی تھا جس سے وہ غصہ تو ہوسکتا تھا پر ہاتھ نہیں اُٹھا سکتا تھا۔






ایک بار نہیں یہ دل سوؤ بار ہے ٹوٹا
پر شوق محبت کا اب تک نہ چھوٹا
مسکراتے ہوئے چہرے
چُھپائے ہیں راز گہرے
یہاں تو ہر چہرہ ہے جھوٹا
اللہ دُہائی ہے پھر جان پہ آئی ہے
اب تو تبہائی ہے ہاں تیرے پیار میں
حریم کُھلے منہ کے ساتھ ٹی وی اسکرین پہ یمان مستقیم کا نیا سونگ سُن اور دیکھ رہی تھی جس میں وہ خود ماڈلنگ کررہا تھا کسی مشہور ایکٹرس کے ساتھ اور ایسا اُس نے پہلی بار کیا تھا جس سے حریم کو یقین نہیں آرہا تھا جو وہ دیکھ رہی ہے سچ ہے بھی کے نہیں۔
ٹی وی بند کرو یا چینل تبدیل کرو۔آروش اپنے کمرے میں آتی بنا ایک نظر چلتی ٹی وی پہ ڈالے حریم سے بولی
آپی یہ دیکھے یہ کتنا پیارا کپل لگ رہا ہے اِن کا ایکٹرس کی تو موجے ہیں جو یمان مستقیم کے ساتھ ہے۔حریم اپنی دُھن میں بولتی آروش کو چونکا گئ تھی اُس کی نظر بے ساختہ ٹی وی پہ گئ جہاں پاکستان کی مشہور ایکٹریس سونیا سہیل یمان مستقیم کی بانہوں میں تھی آروش نے سختی سے اپنے ہونٹوں کو بھینچا
بند کرو یہ واحیات مناظر۔آروش غصے میں آتی حریم سے ریموٹ چھین کر بولی حریم حیرانگی سے آروش کو دیکھنے لگی جس کی گوری رنگت پل بھر میں خون چھلکانے کی حدتک سرخ ہوگئ تھی۔
واحیات تو نہیں تھا اتنی ڈیسینٹ پرفارمنس تھی یمان مستقیم خود ماڈلنگ کررہا تھا ہمیں تو وہ بہت پیارا لگا اُس لڑکی کے ساتھ ساری سونگ میں سیم کلرز کے ڈریسز پہنے ہوئے تھے اور
میرے کمرے سے باہر نکلو اور خبردار جو میرے سامنے اِس سنگر کا ذکر کیا تو ہمارے چچا کا بیٹا نہیں جو ہر بار تمہاری زبان پہ اُس کا ذکر ہوتا ہے۔ آروش حریم کو بازوں سے پکڑتی کمرے سے باہر کھڑا کیے غصے سے بولی حریم کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے آروش کے اتنے شدت بھرے عمل پہ دوسرا یہ ہمیشہ کی طرح آروش نے اُس کی پوری بات نہیں سُنی تھی حریم کی خواہش ہوتی تھی کے کوئی ہو جو اُس کی ساری باتیں خاموشی سے سن کر اُس پہ تبصرہ کریں وہ چاہتی تھی وہ سارا دن اپنی پسند کے لوگوں کا ذکر کرے اپنے دل کی باتیں کرے دُرید شاہ سے کرنے کی کوشش کرتی تو وہ بس ہوں ہاں کرتا جس سے حریم کا دل خراب ہوتا پھر اُس نے آروش سے کرنے کا سوچا کیونکہ اُس کو بچپن سے آروش کی شخصیت اٹریکٹ کرتی تھی وہ خود آروش کی طرح بننا چاہتی تھی ڈریسز سینس سے لیکر ہیئر سٹائل بھی وہ آروش کا کاپی کرتی تھی بس ہر وقت حویلی میں جو نفاست سے آروش سر پہ ڈوپٹہ اور شال لیتی تھی یہ عادت حریم میں نہ تھی باقی لوگوں کی حریم سے اتنی نہیں بنتی تھی جس وجہ سے وہ یا دُرید شاہ کے پاس ہوتی یا آروش شاہ کے پاس اپنے کمرے میں وہ کم ہوتی تھی کیونکہ اُس کو تنہا رہنا پسند نہیں ہوتا تھا
سوری ہم نے آپ کا وقت برباد کیا اپنی فضول باتوں سے۔ حریم بھراے لہجے میں کہتی وہاں سے چلی گئ اُس کے جانے کے بعد آروش نے تیزی سے دروازہ بند کیا۔
کوئی کتنا خوبصورت کیوں نہ ہو مجھے اُس سے کوئی سروکار نہیں کیونکہ میرا دل آپ کو چاہتا ہے آپ کے علاوہ میں کسی کا سوچ بھی نہیں سکتا آپ کجھ کرلیں میں آپ کا پیچھا کبھی نہیں چھوڑوں گا آپ کو میرا ہونا ہے اور مجھے آپ کا۔
خاموش ہوجاؤ پلیز خدا کا واسطہ ہے۔آروش اپنے کانوں پہ ہاتھ رکھتی چیختی بولی





فجر اپنے پانچ سالہ بیٹے یامین کا ہاتھ پکڑتی تپتی دھوپ میں بس سٹاپ پہ کھڑی کسی بس یا رکشے کا انتظار کررہی تھی جب ایک گاڑی اُس کے سامنے رُکی۔
میم آئے میں آپ کو چھوڑدیتا ہوں جہاں آپ نے جانے ہو سر کا حکم ہے۔گاڑی سے ایک چالیس سال کا مرد ڈرائیور کے یونیفارم میں ملبوس سرجھکائے فجر سے بولا
اپنے سر سے کہو ہمیں ایسی آسائشوں کی عادت نہیں اِس لیے آپ جائے میں خود چلی جاؤں گی۔ڈرائیور کو دیکھ کر فجر سخت لہجے میں بولی
میم پلیز بیٹھ جائے میری نوکری کا سوال ہے آپ کو اِس وقت کہی ٹیکسی ملے گی بھی نہیں۔ڈرائیور منت بھرے لہجے میں بولا
نہیں آپ جائے۔فجر سنجیدگی سے کہا
امی پلیز چلیں نہ گرمی ہے۔یامین اُس کی چادر کا کونہ کھینچتا معصومیت سے بولا تو فجر نیچے جُھک کر اُس کو دیکھا جس کے روئی جیسے گال گرمی کی شدت سے سرخ ہوگئے تھے فجر کو بے ساختہ خود پہ غصہ آیا وہ کیوں اُس کو اپنے ساتھ لائی اتنی گرمی میں پر وہ کسی دوسرے کے آسرے اپنے بیٹے کو چھوڑ بھی نہیں سکتی تھی جو اُس کی متاعِ جاںِ تھا گہری سانس بھرتی وہ ایک فیصلے پہ پہنچی۔
سُپر مارکیٹ چلو۔فجر یامین کو گود میں اُٹھاتی گاڑی کی طرف بڑھی ڈرائیور نے جلدی سے آگے بھر کر دروازہ کُھولا پر خود ڈرائیونگ سیٹ کی جانب آیا یامین اشتیاق بھری نظروں سے گاڑی کو چاروں اطراف دیکھ رہا تھا اُس کو مسکراتا دیکھ کر فجر کے دل میں بھی سکون اُترا پھر اُس نے اپنی نظریں کھڑکی سے باہر جمادی جب بُھولا بھٹکا واقعہ ذہین میں تازہ ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یمان سامان زیادہ ہے کجھ شاپرز مجھے دو۔فجر نے یمان سے کے ہاتھوں سے شاپرز لینے چاہے جو دینے پہ راضی نہیں ہورہا تھا
آپی کجھ نہیں ہوتا بس تھوڑا دور چلنا ہے پر رکشہ ٹیکسی مل جائے گی۔یمان اپنے سر کو ہلاتا پیشانی سے بالوں کو ہٹانے کی کوشش کیے بولا تو فجر نے ہاتھ آگے بڑھاکر اُس کے بال پیچھے کیے۔
اتنے ضدی کیوں ہو تم؟فجر نے پوچھا
ضدی کہاں بس کجھ عرصہ پھر آپ کو یوں گرمی میں خوار ہونے کی ضرورت نہیں پڑے گی ہر کام کے لیے الگ الگ گاڑی ہوگی آپ کے پاس بس ایک دفع میں سنگر بن جاؤں۔یمان کی بات پہ فجر نفی میں سرہلانے لگی۔
کہنے کی باتیں ہیں جب ایسا وقت آے گا تو تمہیں اپنی بہنیں یا واعدے یاد نہیں ہوگے پھر تمہاری شادی ہوجائے گی بیوی کے آگے پیچھے رہو گے ہم کہاں ہوگے پھر بس اُس کو خوش کرنے میں مگن ہوگے۔فجر ٹیڑھی نظروں سے اُس کو دیکھتی بولی
آپ ایسی بات نہ کریں کیونکہ میرے لیے پہلے آپ سب ہیں پھر کوئی تیسرا آپ دیکھنا میں اپنے سارے واعدے پورے کروں گا اور آپ سب کو تنگی کی زندگی سے نکالوں گا پھر ابا کو دکان پہ بیٹھنے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔یمان کی سوچ بہت آگے کی تھی۔
پھر تو ہمارا بھائی مصروف ہوجائے گا پھر کہاں ہمیں وقت دے گا۔فجر مصنوعی افسوس سے بولی
ایک دن میں کاموں سے چھٹی کروں گا پھر ہم سب انجوائے کرے گے۔یمان نے جلدی سے کہا تو فجر ہنس پڑی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میم مارکیٹ آگیا۔ڈرائیور کی آواز پہ وہ حال میں لوٹی۔
تم نے کسی تیسرے کو ہم پہ فوقیت دی یمان
آپی وہ میری رگوں میں خون کی مانند ڈورتی ہیں میں کیسے اُن سے دستبردار ہوجاؤں جو مجھے اب میرے جینے کی وجہ لگتی ہیں مجھے لگتا ہے اگر وہ مجھ سے یا میں اُن سے الگ ہوگیا تو میں اگلی سانس نہیں لے پاؤں گا آپ مجھے جان سے ماردے پر اُن کو بُھول جانے کے لیے نہ کہے۔
ایک انجان لڑکی تمہیں ہم سے زیادہ عزیز ہوگئ۔فجر تلخ سے یمان کی باتوں کو سوچتی یامین کو لیکر گاڑی سے اُتری۔
اپنی ضرورت کی چیزیں لینے کے بعد وہ مارکیٹ سے باہر آئی تو ڈرائیور کو کھڑا پایا پر اب وہ خاموشی سے گاڑی میں بیٹھ گئ
گھر واپس آئی تو اپنے گھر کے سامنے تین بڑی گاڑیوں کو کھڑا پایا اور کجھ لوگ جو اُس میں سے سامان نکال کر گھر کے اندر لیں جارہے تھے
یامین کی نظر فل بلیک کلر کے ڈریس میں ملبوس لڑکے کی طرف گئ تھی وہ بھاگ کر اُس کی طرف گیا۔
ارمان انکل
ارمان انکل
اِس دفع لیٹ کیوں آئے آپ؟یامین ارمان کی طرف بڑھ کر لاڈ سے بولا جس پہ ارمان نے مسکراکر بانہوں میں بھر کر اُس کے سر پہ بوسہ دیا
بس میرے یار کام تھا اِس وجہ سے۔ارمان اُس کے پُھولے ہوئے گال کھینچ کر بولا تو وہ کِھلکِھلا اُٹھا۔
اسلام علیکم۔فجر کو آتا دیکھا تو اُس نے احترامً سلام کیا
وعلیکم اسلام۔فجر نے سنجیدگی سے جواب دے کر اُس کی گود سے یامین کو لیا
امی مجھے انکل کے ساتھ پارک جانا ہے۔یامین کی فرمائش پہ فجر نے اُس کو گھورا
سر کہہ رہے تھے اگر آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتادے۔ارمان یامین کی طرف دیکھ کر فجر سے بولا
اپنے باس سے کہو ہمیں اُس کی ضرورت ہے تو آجائے پر یہ سامان بھیج کر ہم پہ احسان نہ کریں۔فجر سپاٹ لہجے میں بولی
احسان کہاں وہ تو اپنا فرض پورا کرتے ہیں۔ارمان جلدی سے یمان کی حمایت میں بولا
اُس کی وکالت کرنے آئے ہیں؟فجر کے سوال پہ وہ گڑبڑا سا گیا پھر نفی میں سرہلانے لگا
اگلے مہینے آپ مت آنا اور نہ یہ سامان بھیجنا اپنے سر سے کہنا مجھے جاب مل گئ ہیں ہمارا گزارا ہوجائے گا وہ اپنی عنایتیں ہم پہ نہ لوٹائیں۔فجر سرد لہجے میں بولی تو ارمان نے پہلی بار اُس کی طرف دیکھا جس کے چہرے پہ ناراضگی اور غصے کے ملے جُلے تاثرات تھے۔
آپ جاب نہیں کرے گی سر نہ منع کیا تھا۔ارمان سرجھکاکر بولا
میں اُس کی بڑی بہن ہوں وہ میرا بڑا نہیں اِس لیے اُس سے کہنا اپنا روعب اپنے پاس رکھے۔فجر کے سخت لہجے میں اچھے سے باور کروایا تو ارمان بے چارہ خاموش رہا پھر بات بدل کر بولا
سارا سامان سیٹ ہوگیا ہے اب ہم چلتے ہیں۔ارمان یامین کے سر پہ پیار دیتا فجر سے بولا
سنو
فجر نے اُس کو جاتا دیکھا تو کہا
جی سنائیں۔ارمان اُس کی طرف رخ کرکے بولا
کہاں ہیں وہ اب؟فجر کے لہجے میں بے چینی فکرمندی صاف محسوس کی جاسکتی تھی۔
دو ہفتوں سے لاہور میں ہیں پہلے دبئ گئے ہوئے تھے اب لاہور میں ہیں۔ارمان نے بتایا تو اُس نے سرہلایا ارمان بھی ایک نظر اُس پہ ڈالتا واپسی کے راستے چل دیا۔





یمان مستقیم گہری نیند میں تھا جب سیل فون پہ آتی مسلسل کال نے اُس کے حواس بیدار کیے اور نیند میں خلل ڈالا یمان نے ہاتھ بڑھا کر اپنا سیل فون ٹٹولہ ہاتھ میں آتے ہی اُس نے کال ریسیو کیے کان سے لگایا۔
ہیلو۔یمان مستقیم نے نیند سے بھری آواز میں کہا
تم نے سنگنگ کے ساتھ ماڈلنگ کب سے سٹارٹ کردی۔دوسری طرف آتی آواز سن کر یمان نے یکدم اپنی بند آنکھوں کو کُھلا اور سیدھا ہوکر بیٹھا
ڈیڈ آپ؟یمان آنکھیں زور سے بھینچ کر بولا
جی میں دلاور خان دیکھا میں نے تمہارا نیو سونگ خیر تو ہے پہلے میں نے سُنا تھا تمہارا کسی لڑکی کے ساتھ چکر چل رہا ہے زیادہ پاے جاتے ہو ایک لڑکی کے ساتھ پر میں نے دھیان نہیں دیا کیونکہ ہم جس فیلڈ میں کام کرتے ہیں وہاں ایسے اسکینڈل عام سی بات ہے پر جب پہلی بار تمہیں ماڈلنگ کرتے دیکھا وہ بھی ایک لڑکی کے ساتھ تو میں حیران رہ گیا۔دوسری طرف دلاور خان کی بات پہ یمان مستقیم کی ماتھے پہ بل پڑے
میرا کسی لڑکی کے ساتھ کوئی چکر نہیں اگر میں کہی گیا تھا تو وہ بس میرے پراجیکٹ کا حصہ تھا۔یمان سنجیدگی سے بولا
جانتا ہوں پر میڈیا میں اب تم ٹرینڈ پہ ہو فین فالورز بڑھ رہی ہے مزید اور تمہیں اپنے اپنے مشورے سے نواز رہے ہیں کے سونیا سہیل سے شادی کرلوں بیسٹ کپل رہے گا تم دونوں کا تمہاری اور سونیا سہیل کی تصویروں کو ایڈیٹ کرکے بیسٹ کپل کیوٹ کپل رومانٹک کپل لور کجھ ایسے کیپشنز کا استعمال کیا جارہا ہے پھر کیا خیال ہے کیا کہتے ہو تم۔آخر میں دلاور خان معنی خیز لہجے میں بولے
آپ نے کوئی اور بات کرنی ہے۔دوسری طرف سے یمان مستقیم کا سپاٹ لہجہ سن کر دلاور خان بدمزہ سے ہوگئے
کتنے بورنگ ہو یار کسی بوڑھے کا گمان ہوتا ہے کبھی کبھی مجھے۔دلاور خان خفگی بھرے لہجے میں بولے
اگر آپ کو پتا ہے ہم جس فیلڈ میں کام کرتے ہیں وہاں یہ اسکینڈلز عام ہیں تو اُس ٹاپک پہ بحث کیوں کرنا کیا فین فالونگ بڑھانے کی وجہ سے اُن کے مشوروں پہ عمل کرکے جتنے بھی اسکینڈلز بنے میں اُن ایکٹرس اور ماڈل سے شادی کروں کیونکہ چند پل کے لیے بنا ہمارا کپل فینز کو پسند آرہا ہے۔ یمان مستقیم کی بات سے وہ لاجواب ہوئے
بات تو پتے کی کرتے ہو خیر چھوڑو مجھے سونیا سہیل جیسی بہو نہیں چاہیے تمہاری ماں تمہیں یاد کرتی ہیں گھر چکر لگاؤ۔دلاور خان پنترا بدل کر بولے
جی آج رات کا کھانا ہم ساتھ میں کھائیں گے۔یمان نے کہا تو وہ خوش ہوگئے
ٹھیک ہے پھر میں بتاتا ہوں تمہاری ماں کو تاکہ کھانے کا اچھا سے انتظام کروائے۔دلاور خان نے کہا جس پہ یمان نے گہری سانس لی کال بند ہونے کے بعد وہ بیڈ سے اُٹھ کر اپنے کمرے میں موجود گیلری کی طرف بڑھا
میں نے اگر دوبارہ تمہیں کسی لڑکی سے بات کرتا دیکھا تو گلا دبادوں گی۔
کانوں میں کسی کی خوبصورت آواز گونجی تو سپاٹ تاثرات سجائے چہرے پہ مسکراہٹ آئی جس سے اُس کے گہرے گڑے نمایاں ہوئے تھے پھر اچانک مسکراتے لب سیکڑ سے گئے
میں تو اب ہزاروں لڑکیوں سے بات کرتا ہوں پر آپ نہیں آتی۔یمان تصور میں کسی سے بے بسی مخاطب ہوا تو ایک باغی آنسو اُس کی آنکھ سے نکل ڈارھی میں جذب ہوا۔
