Haal e Dil by Rimsha Hussain NovelR50524 Haal e Dil (Episode 40)
Rate this Novel
Haal e Dil (Episode 40)
Haal e Dil by Rimsha Hussain
شھباز شاہ کی گاڑی ابھی گاؤں کی حدود سے گُزرنے والی تھی جب اُن کا سیل فون رِنگ کرنے لگا۔
السلام علیکم۔شھباز شاہ نے کال اٹینڈ کرکے سلام کیا کیونکہ کال اُن کے خاص آدمی کی تھی۔
وعلیکم السلام شاہ سائیں غضب ہوگیا۔دوسری طرف سے بتانے والی بات پہ شھباز شاہ کے ماتھے پہ ان گنت بلوں کا جال بیٹھ گیا۔
گاڑی واپس موڑو۔شھباز شاہ موبائیل بند کرکے ڈرائیور سے بولے۔
شاہ سائیں کیا ہوا؟کلثوم بیگم نے بہت ہلکی آواز میں پوچھا۔
حویلی چلو پتا چل جائے گا۔شھباز شاہ نے تاثر لہجے میں بولے تو کلثوم بیگم نے پھر کوئی اور بات نہیں کی۔







ہمیں پولیس کو انوالو کرنا ہوگا۔دُرید حریم کو لیکر ہسپتال آیا تھا جہاں سب حریم کی حالت دیکھ کر پہلے اُس کو مشکوک نظروں سے دیکھ رہے تھے مگر دُرید کو جاننے کے بعد انہوں نے کوئی سوال نہیں کیا تھا مگر اب ڈاکٹر کی اِس بات پہ دُرید جو ویٹنگ ایریا میں بیٹھا تھا چونک پڑا تھا۔
پولیس کو کیوں؟دُرید جس کی آنکھیں شدتِ ضبط کی وجہ سے سرخ ہوگئ تھی وہ اپنے سامنے کھڑی لیڈی ڈاکٹر سے پوچھنے لگی۔
دیکھے پیشنٹ کا ریپ کیا گیا ہے اور ایسے کسس میں پولیس کا ہونے لازمی ہے۔ڈاکٹر نے پروفیشنل انداز میں کہا
ریپ؟درید کا دل کیا زمین پھٹے اور وہ اُس میں سماجائے۔
جی ریپ بہت برے طریقے سے کسی نے اُن کو اپنی دردندگی کا نشانہ بنایا ہے اب جب تک پولیس نہیں آجاتی میں ٹریٹمنٹ شروع نہیں کرسکتے۔ڈاکٹر کی بات دُرید کو تپانے کے لیے کافی تھی۔
اُس کے شوہر نے کیا ہے ریپ سن لیا جان لیا اب جلدی سے علاج شروع کرے ورنہ مجھے ایک منٹ نہیں لگے گا اِس پورے ہسپتال کو آگ لگانے میں۔دُرید شیر کی مانند دھاڑا تو ڈاکٹر ڈر کر اُس سے کجھ قدم دور کھڑی ہوئی۔
ج جی۔وہ جلدی سے جواب دیتی وہاں سے بھاگنے والے انداز میں گئ۔جب کی دُرید کا دل حریم کی حالت جان کر پھٹنے کے قریب تھا۔
آپ نے ہمارے ساتھ جو کیا ہے نہ وہ ہم کبھی نہیں بھولے گے ہم آپ کو کبھی معاف نہیں کرے گے ہم بہت دور چلے جائے گی آپ کی زندگی سے اتنا کے آپ ہماری پرچھائی دیکھنے کے لیے بھی ترس جائے گے مگر حریم نام کی کسی چیز لڑکی کا آپ کا سامنا نہیں ہوگا آپ نے ہمارے دل پہ وار کیا ہے ہمیں لہولہان کیا ہے آپ نے جو ہمارے ساتھ کیا ہے نہ اُس کا احساس آپ کو ان شاءاللہ ایک دن ہوجائے گا مگر تب بہت دور ہوچکی ہوگی اُس وقت آپ کے پاس سِوائے پچھتاوے کے کجھ نہیں ہوگا۔
مجھے معاف کردو حریم مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئ تم نے ٹھیک کہا تھا میں پچھتارہا ہوں مگر پلیز تم کہی دور مت جانا مجھے سچ میں بہت تکلیف ہو رہی ہے یا یوں سمجھو جو میں اِس وقت محسوس کررہا ہوں اُس کے لیے تکلیف لفظ بہت چھوٹا ہے۔دُرید کے کانوں میں حریم کے الفاظ گونجے تو وہ بے بسی کی انتہا کو چھوتا تصور میں اُس سے مخاطب ہوا اُس کے جسم کا ہر ایک عضو حریم کی سلامتی کی دعا مانگ رہا تھا۔
وہ تکلیف آپ محسوس نہیں کرسکتے جو ہم پچھلے ایک ماہ سے برداشت کرتے آئے ہیں اور جو اب ساری زندگی سہے گی آپ ہمیں زندہ قبر میں دفنادیتے مگر یہ شادی نہ ہونے دیتے۔
دُرید کو ایسا لگ رہا تھا جیسے حریم اُس کے سامنے کھڑی اُس پہ دوبارہ سے گرج رہی ہو مگر ایسا نہیں تھا حریم اُس کے پاس نہیں تھی وہ اپنا کہا سچ ثابت کررہی تھی اُس کو پچھتاوے کے احساس میں ڈال کر سکون سے ہوش وحواس سے بیگانا تھی۔
آپ نے ماما جان کا بدلا ہم سے لیا ہے اگر آپ کو آپ کی محبت نہیں ملی تو آپ نے ہم سے بھی ہماری محبت چھین لی ماما جان سے انتقام لینے کے چکر میں آپ نے ہمیں کہی کا نہیں چھوڑا ہمارے دل میں ہمارے دماغ میں ہمارے جسم میں آپ خون کی مانند ڈورتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی آپ نے ہمارا نکاح کسی اور سے کروادیا ہمیں گنہگار بنادیا۔
میری زندگی کی بہت بڑی غلطی تھی یہ جو میں نے تمہیں اُس حیوان کے ہاتھ سونپا تم تو شروع سے میری زمیداری تھی میں کیوں اپنی زمیداری سے دستبردار ہوا کیوں تمہاری ایک نہ سُنی مگر یہ سچ ہے میں نے کبھی تم سے بدلا نہیں لیا بھلا میں کیوں بابا سائیں کا بدلا تم سے لوں گا تم میرے لیے بہت اہم تھی حریم میں نے تمہارے لیے اچھا سوچا تھا میں چاہتا تھا تم ہمیشہ خوش رہو اگر مجھے زرہ بھی شک ہوتا میرے ایک ایسے فیصلے پہ تمہارا یہ حال ہوگا تو میں کبھی میں ایسا نہ کرتا۔دُرید بے بسی اپنی آنکھوں کو زور سے میچ کر بولا
پلیز حریم مجھے معاف کردینا۔دُرید کی آنکھ سے ایک آنسو نکلا جس کو دُرید خود بھی محسوس نہیں کرپایا تھا۔








پریشان ہو؟شازل نے آروش کو بار بار یہاں سے وہاں ٹہلتا پایا تو پوچھا
لالہ مجھے گاؤں جانا ہے۔آروش نے شازل کی بات سن کر کہا
پر کیوں تم تو یہاں اسٹے کرنے والی تھی۔شازل اُس کی بات پہ حیران ہوا
مجھے اچھا محسوس نہیں ہورہا تھا صبح سے اماں سائیں بابا سائیں دُرید لالہ کو کال کررہی ہو مگر کوئی بھی کال ریسیو نہیں کررہا پتا نہیں حریم کیسی ہوگی۔آروش پریشانی کے عالم میں بولی
حریم اُس کا کیا زکر؟شازل ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگا۔
کل خواب دیکھا تو آروش نے تب سے پریشان ہے۔ماہی شازل کی جانب کافی کا مگ بڑھاکر بولی۔
ایک خواب
شازل کی بات اپنے سیل فون پہ آتی کال کی وجہ سے آدھی رہ گئ
کس کا فون ہے؟آروش نے بے چینی سے پوچھا
حویلی سے ہے۔شازل اُس کو جواب دیتا کال ریسیو کرنے لگا۔
ہیلو دیدار لالہ سب خیریت؟شازل نے کال اُٹھا کر کہا
کجھ خیریت نہیں شہر رہتے ہو تم سے یہ نہیں ہوتا گاؤں میں کیا ہورہا ہے اور کیا نہیں۔دوسری طرف دیدار شاہ نے اُس پہ طنز کیا۔
طنز کرنے کے لیے کال کی ہے؟شازل ایک نظر آروش پہ ڈال کر بولا
نہیں بلکہ یہ بتانے کے لیے کال کی ہے کے شام میں حریم کا جنازہ ہے بیوی کے قدموں سے اُٹھنے سے اگر فرصت مل جائے تو جنازے میں شرکت کرلینا۔دیدار شاہ دوبارہ سے طنزیہ کرتا کال ڈراپ کرگیا جب کی اُس کی بات سن کر شازل سمجھ نہیں پایا وہ کیا کہے۔
کیا ہوا لالہ سب ٹھیک ہے؟آروش نے اُس کے نافہم تاثرات دیکھے تو پوچھا
تیاری کرلوں گاؤں کے لیے نکلنا ہے۔شازل سنجیدگی سے دونوں سے کہتا اُٹھ کھڑا ہوا۔








مجھے معاف کردو مجھے نہیں تھا پتا تابش ایسا کجھ کرے گا۔صدف بیگم حویلی آتی کلثوم بیگم کے قدموں میں بیٹھ کر بولی جو ساری حقیقیت جاننے کے بعد پتھر سی ہوگئ تھی۔
غیروں کا وحشیانہ انداز دیکھا تو مگر اپنے بھی ایسے ڈستے ہیں جان کر بڑا افسوس ہوا ہم نے کتنے چاہ سے اپنے آنگن کا پھول تمہارے حوالے کیا تھا اور تم جاہل لوگوں نے کیا کردیا اُس کو پھول سمجھ کر توڑ ہی دیا۔فاریہ بیگم سخت نظروں سے اُن کو دیکھ کر بولی اتنی تکلیف تو ان کو اپنے بیٹے کی موت پہ بھی نہیں ہوئی تھی جتنی حریم کی حالت جاننے کے بعد ہورہی تھی۔
میں شرمندہ ہوں۔صدف بیگم نادم ہوئی۔
تمہارا شرمندہ ہونا ہماری حریم کو پہلے جیسا نہیں بناسکتا آخری وقت تک وہ بے چاری کہتی رہی مامی جان ہمیں شادی نہیں کرنی ہماری شادی نہ کروائے مگر ہم سب جیسے بہرے بن گئت تھے اُس کی آہ پُکار کو سُنا ہی نہیں تھا۔کلثوم بیگم کے لہجے میں ندامت تھی کیونکہ حریم کی شادی میں اُن کا بڑا ہاتھ تھا۔
تابش معافی مانگ لے گا دوبارہ ایسا نہیں ہوگا۔صدف بیگم کی بات پہ سب کے چہرے پہ طنزیہ مسکراہٹ نے بسیرا کیا۔
حریم کیا اتنی گئ گُزری ہے یا اُس کا کوئی ولی وارث نہیں جو تم لوگوں کے ایسے رویے کے بعد ہم دوبارہ سے اُس کو تمہارے حوالے کرے گے حیرت ہے ایسی سوچ آئی بھی کیسے تمہارے دماغ میں۔فردوس بیگم جو اب تک خاموش تھی صدف بیگم کی بات پہ بولی۔
مجھے تو دُرید پہ حیرت ہورہی ہے اور غصہ بھی آرہا ہے کہاں وہ اُس کے کپڑوں سے لیکر جوتوں تک میں احتیاط کرتا ہے پھر جب اتنا بڑا معاملہ ہوا تو دُرید نے کیا تابش کی نیچر جاننے کی کوشش نہیں کے وہ انسان بھی ہے یا انسان کے روپ میں درندہ۔شبانا کلثوم بیگم کے سامنے پانی کا گلاس رکھتی بولی۔
بس اللہ کرے حریم جلدی ٹھیک ہوجائے ابھی تک تو کوئی تسلی بخش جواب بھی نہیں ملا۔فاریہ بیگم پریشانی سے بولی۔
دُرید ہسپتال میں ہوگا اگر کہی اور ہوتا تو اب تک تابش کے قتل کی خبر آ پہنچی ہوتی۔شبانا ٹیرھی نظروں سے صدف بیگم کو دیکھ کر بولی
اچھی اچھی باتیں کرو۔فردوس بیگم نے اُس کو ٹوکا
آپ شاید وہ واقعہ بھول چُکی ہے پر مجھے اچھے سے یاد ہے جب دُرید پندرہ اور حریم تین سال کی تھی تو لان میں کھیلتے وقت جب حریم کے پاؤں میں صرف ایک کانٹا چُھبا تھا تو کیسے دُرید نے مالی کی جان عذاب کردی تھی کے وہ لان کی صفائی ٹھیک سے کیوں نہیں کرتا۔شبانا نے ہاتھ نچا نچا کر بتایا
یاد ہے مجھے اُس دن کے بعد نہ مالی حویلی کے لان میں نظر آیا اور نہ کوئی خبر ملی اُس کی۔فردوس بیگم اور شبانا کی باتیں صدف بیگم کا دل دھڑکا رہی تھی اُن کو اب حریم کے بجائے اپنے بیٹے کی فکر لاحق ہوئی تھی جو جانے کس کونے میں چُھپ کر بیٹھ گیا تھا۔








آج آپ کو اپنے دوست کے پاس جانا چاہیے ہماری بیٹی کو اب واپس آجانا چاہیے ہمارے پاس۔زوبیہ بیگم ٹی وی دیکھنے میں مشغول دلاور خان سے بولی
ہمممم میں بھی یہی سوچ رہا تھا اُس نے کال کرکے کوئی رابطہ بھی نہیں کیا اب تو اتنا وقت بیت چُکا ہے شادی کا ماحول بھی ختم ہوگیا ہوگا۔دلاور خان اُن کی بات سے متفق ہوئے
پھر آپ آج ہی جائے اور ایسا کرے یمان کو بھی ساتھ لیکر جائے اور ہماری بچی کو واپس لائے۔زوبیہ بیگم نے عجلت دیکھائی۔
کل جاؤں گا ابھی نکلوں گا تو رات ہوجائے گی۔دلاور خان نے گہری سانس بھر کر کہا
میں نے یمان کا بھی کہا۔زوبیہ پھر سے بولی
کل دیکھتے ہیں۔دلاور خان کو اُس دن والی یمان کی حالت کا خیال آیا تو کہا۔







شازل ماہی اور آروش کو حویلی چھوڑتا خود ہسپتال آیا تھا جہاں شھباز شاہ دُرید اور دیدار موجود تھے۔
یہ سب کیا ہورہا ہے؟شازل اُن تک پہنچ کر بولا
حریم کو تابش نے تشدد کا نشانہ بنایا ہے اور پھر روپوش ہوگیا ہے۔جواب دیدار شاہ نے دیا” دُرید کی ایسی حالت نہیں تھی کے وہ کجھ بولتا۔
اُس نے ایسا کیوں کیا۔شازل کو حیرانی ہوئی۔
موت کا شوق چڑھا تھا اِس لیے۔کاٹ دار لہجے میں اِس بار دُرید نے بتایا۔
جوش میں آکر ہوش نہ گنوا بیٹھنا اِس وقت بس ہمیں حریم کی سوچنی چاہیے تابش کا فیصلہ بعد میں ہوگا۔دیدار اُس کے اِرادے بھانپتا بولا۔
جو ہوچُکا ہے اُس کے بعد سوچنے کی گُنجائش نہیں نکلتی۔دُرید اتنا کہتا اُٹھ کھڑا ہوا۔
آپ کہاں حریم کو جب ہوش آئے گا وہ سب سے پہلے آپ کا نام لے گی۔شازل نے اُس کو اُٹھتا دیکھا تو جلدی سے کہا۔
وہ میرا نام نہیں لے گی۔دُرید کے چہرے پہ عجیب قسم کی مسکراہٹ آئی۔
پر لالہ آپ کا یہاں ہونا ضروری ہے۔شازل نے کہا
میں ایک بہت ضروری کام سے جارہا ہوں وہ نپٹالوں اُس کے بعد یہی رہوں گا مگر جب تک میں نہیں آجاتا تم یہاں سے کہیں اور مت جانا۔دُرید اُس کے کندھے پہ ہاتھ رکھتا سنجیدگی سے بولا تو شازل نے سراثبات میں ہلایا۔







حریم ٹھیک تو ہے نہ کوئی خطرے والی بات تو نہیں؟آروش نے کلثوم بیگم سے پوچھا۔
سانسیں چل رہی ہیں بس۔کلثوم بیگم نے گہری سانس خارج کی۔
وہ بچی تھی آپ لوگوں نے اچھا نہیں کیا تھا اُس کی شادی کرواکر۔آروش تلخ ہوئی۔
ہمیں تھوڑی پتا تھا میرا بھانجا ایسا نکلے گا۔کلثوم بیگم کے لہجے میں ملال تھا۔
کیا ہم نہیں جاسکتے ہسپتال؟آروش نے آس بھری نظروں سے اُن کو دیکھا
اپنے بابا سائیں سے کہو کیا پتا وہ تمہیں آنے کی اِجازت دے وہاں کسی عورت کا ہونا بھی ضروری ہے۔کلثوم بیگم نے کہا
میں شازل لالہ سے کہتی ہوں مجھے لینے آئے۔آروش فورن سے اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آرو میں ابھی نہیں آسکتا تم تھوڑا انتظار کرو تھوڑی دیر تک میں آجاؤں گا تمہیں لینے ابھی دُرید لالہ نے کہا ہے میں ہسپتال سے باہر نہ جاؤں جب تک وہ نہیں آجاتے۔آروش نے شازل کو کال کی تو شازل نے کہا
لالہ ہسپتال نہیں؟آروش کو حیرانی ہوئی۔
وہ کسی کام کا کہہ کر گئے ہیں۔شازل نے بتایا۔
آپ کو نہیں جانے دینا چاہیے تھا۔آروش فکرمندی سے بولی
کیوں جانے نہیں دیتا؟شازل کوریڈور میں آتا پوچھنے لگا۔
دُرید لالہ حریم کی وجہ سے ٹینس ہوگے وہ جانے اب کہاں اور کیا کرینگے اگر تابش لالہ اُن کے ہاتھ آگئے تو دُرید لالہ تو ان کی بوٹی بوٹی کرکے کتوں کے سامنے کرینگے۔آروش نے کہا
وہ اِسی قابل ہے پانچ گھنٹے سے کسی ڈاکٹر نے حریم کی طرف سے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا اُس نے حیوان نے بہت بُرا کیا ہے اُس کو جینے کا کوئی حق نہیں۔شازل سرجھٹک کر بولا







کوئی ہے؟
پلیز مجھے باہر نکالو۔
اندھیرے کمرے میں کُرسی پہ بندھا تابش زور زور سے جانے کتنے وقت سے چلارہا تھا مگر کوئی اُس کی فریاد سُننے والا نہیں تھا وہ شہر بھاگنے کے چکر میں تھا مگر کجھ لوگوں نے اُس کو یہاں قید کرلیا تھا۔
تمہیں کیا تمہارے جسم سے روح تک آج نکل جائے گی۔کسی کی بھاری سرد آواز سن کر تابش کا گلا خشک ہوا۔
د درید لالہ؟تابش نے اٹک اٹک کر اُس کا نام لینے لگا اُس کا پورا وجود کانپ اُٹھا تھا دُرید کی آواز سن کر۔
خبردار جو مجھے لالہ کہا بھی تو۔دُرید ایک جست میں اُس تک پہنچتا اُس کا گلا دبوچ کر بولا۔
م مم معاف کک کردے۔تابش کے گلے سے بمشکل آواز نکلی۔
چٹاخ
چٹاخ
معافی تمہیں لگتا ہے میں تمہیں معافی دوں گا کمینے انسان میں آج تمہیں جان سے ماردوں گا۔دُرید اُس کا گلا چھوڑ کر اُس کا چہرہ تھپڑوں سے لال کرتا ہوا غرایا۔
غصہ آگیا تھا پر میں دوبارہ ایسے نہیں کروں گا بس ایک موقع دے۔تابش منت پہ اُتر آیا
وارننگ دی تھی میں نے تمہیں پر تم سمجھنے والی ہڈی نہیں ہو خود تم نے اپنی موت کو دعوت دی ہے۔دُرید اُس کو بالوں سے پکڑتا نفرت سے اُس کو دیکھ کر بولا۔
نہیں لالہ خدا کے واسطے مجھے مت مارنا میں حریم سے م
چٹاخ
حریم کا نام بھی اپنی گندی زبان سے لیا تو زبان کاٹ کے ہاتھ میں دے دوں گا۔دُرید پھر سے اُس کے چہرے پہ تھپڑوں اور مکوں کی برسات کرتا ہوا بولا۔
میں کل بہک گیا تھا۔تابش کو اپنے کان سائیں سائیں کرتے محسوس ہورہے تھے دُرید کی مار کی وجہ سے مگر اپنی سی کوشش کے شاید وہ اُس پہ رحم کھا جائے۔
پانی لاؤ۔دُرید اُس کی بات نظرانداز کرتا تیز آواز میں بولا تو دو سے تین آدمی گرم پانی کی بڑی بالٹی لائے جس کو دیکھ کر تابش کا رنق فق ہونے لگا اُس کو دُرید کے اِرادے ٹھیک نہیں لگ رہے تھے۔
نہیں نہیں۔گرم پانی کی بالٹی دیکھ کر تابش اپنا سر نفی میں ہلانے لگا۔
اِس کے اُپر گِراؤ پانی کی ساری بالٹی۔دُرید نے حکم صادر کیا تو تابش اُٹھنے کی کوشش کرنا لگا مگر رسیوں میں بندھے ہاتھوں کی وجہ سے وہ کجھ کر نہیں پایا۔
آ آہ آہ
رررح ممم کرے
آآ ہ
ان آدمیوں نے جیسے ہی تابش کے اُپر گرم پانی گِرایا تو تابش کی دلخراش چیخے گونج اُٹھی اُس کو اپنا سارا جسم گرم پانی سے جھلستا محسوس ہورہا تھا مگر دُرید کو جیسے سکون مل رہا تھا اُس کی آہوں پُکار سن کر۔
لڑکیوں پہ تو بڑی اپنی مردانگی دیکھاتے ہو اور اب یہی پہ تمہاری بس ہوگئ۔وہ آدمی اپنا کام کرکے چلے گئے تو دُرید مصنوعی افسوس سے اُس سے بولا پر تابش میں اتنی سکت نہیں تھی کے وہ کجھ بولتا۔
تمہیں پتا ہے تابش اتنی سی تھی حریم۔دُرید نے اپنے دونوں ہاتھوں کے اِشارے سے اُس کو بتایا۔تابش مندی مندی آنکھوں سے اُس کو دیکھ رہا تھا مگر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اُس کی مفلوج ہوچکی تھی۔
پھپھو مریم نے اپنے کمرے میں مجھے بُلایا تھا اور کہا تھا دُرید یہ میری پھول جیسی بچی اب تمہاری زمیداری ہے اُس کی آنکھوں میں کبھی آنسو آنے نہ دینا تب سے میں اُس کو ہر سرد دھوپ چھاؤں سے بچاتا آرہا تھا اُس پہ ایک خراش مجھے برداشت نہیں ہوتی تھی پر میرے ایک غلط فیصلے سے وہ پھول پوری طرح سے مُرجھایا گیا ہے جہاں میں ایک خراش برداشت نہیں کرسکتا تھا وہاں تم نے اُس کا پورا وجود زخموں سے چور کردیا ہے تمہیں کیا لگتا ہے میں تمہیں معاف کروں گا تم نے اُس کو بس جسمانی تکلیف نہیں دی تابش اُس کو اندر سے بھی پوری طرح سے توڑدیا ہے میں کیسے اُس کو سمیٹوں گا اور تمہیں کس کس غلطیوں کی معافی دوں گا میں نے ہمیشہ اُس کو خوش دیکھنا چاہا دُنیا کی ہر خوشی اُس کے قدموں میں رکھنا چاہا اور تم نے کیا کیا؟اُس کے سامنے تکلیفوں کا پہاڑ سامنے کیا میرا دل پھٹنے کے قریب ہورہا ہے جب جب دماغ میں یہ خیال آرہا ہے کے وہ رات کو کتنا تڑپی ہوگی کتنا احتجاج کیا ہوگا کتنی چیخی ماری ہوگی پر تم نے اُس معصوم پہ رحم نہیں کھایا تو مجھ سے کیسے رحم کی اُمیدیں لگا رہے ہو ۔دُرید برفیلے لہجے میں کہتا اپنی جیب سے پستول نکالی۔
نہیں نہی نہیں۔تابش کی آنکھیں خوف کے مارے پھیل سی گئ تھی جب کی دُرید کی آنکھوں میں شیطانی چمک تھی اُس نے اپنے پ*س*تول کا ٹریگر دبایا۔
ٹھاہ
ٹھاہ
ٹھاہ
ٹھاہ
دُرید بنا اُس کی حالت پہ رحم کھاتا چھ کی چھ گولیاں اُس کے سینے میں پیوست کی۔جس سے تابش کا سر ایک طرف کو لڑھک سا گیا تھا۔
اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن
دُرید پ*س*تول دوبارہ اپنی جیب میں رکھتا حقارت بھری نظروں سے اُس کا مُردہ وجود دیکھ کر بڑبڑایا
