Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 07)

Haal e Dil by Rimsha Hussain

بابا سائیں مجھے آپ سے بات کرنی تھی۔شازل شاہ کمرے کے باہر کھڑا شھباز شاہ سے اجازت طلب کرنے لگا۔

آؤ۔شھباز شاہ نے اجازت دی تو وہ اندر داخل ہوا۔

جرگے میں کیا ہوگا آپ نے کیا سوچا ہے۔شازل شاہ ڈائریکٹ مدعے کی بات پہ آیا۔

ہماری حویلی کا بیٹا قتل ہوا جس کا حساب اُن کو دینا ہوگا خون کے بدلے خون۔شھباز شاہ یکدم جلال میں آئے۔

اُس سے کیا ہوگا جانے والا تو چلاگیا نہ۔شازل گہری سانس خارج کرتا بولا وہ جتنا ان چیزوں سے دور بھاگنا چاہتا تھا آج اُس میں بُری طرح پھس چُکا تھا وہ جانتا تھا کرنی سب نے اپنی ہے پر وہ ایک کوشش کرنا چاہتا تھا۔جس کا نتیجہ جو ہوگا دیکھا جائے گا۔

تو کیا اُس کو ہم انصاف نہ دلوائے دلدار شاہ کا خون اتنا سستا نہیں تھا۔شھباز شاہ کڑک آواز میں بولے۔

آپ ساری بات جاننے کی کوشش کرے کے بات اِس مرنے مارنے پہ کیسے اُتر آئی پھر دیکھا جائے گا کیا فیصلہ کرنا ہے یوں کسی کی جان داؤ پہ لگانا کہاں کا انصاف ہوگا کیا پتا غلطی لالہ کی ہو۔شازل شاہ نے اُن کو دوسرا رخ دکھانا چاہا

میں گاؤں کا سرپنج ہوں شازل اِس لیے تم مجھے مت سبق پڑھاؤ قتل کے بدلے قتل یا پھر ونی میں اُن کی بیٹی آے گی یہاں۔شھباز شاہ سخت لہجے میں بولے۔

یہ کیا بات ہوئی بابا سائیں کرے کوئی بُھگتے کوئی کیا لڑکیوں کے جذبات نہیں ہوتے کیا جو یہاں رسم و رواج کے نام پہ اُن کو سولی پہ لٹکایا جاتا ہے اُن کے ارمانوں کا گلا گھونٹا جاتا ہے اُن کے ساتھ ظلم کیا جاتا ہے کب تک چلے گا یہ سب کیا ہم ساری زندگی اِس جاہلت میں گُزارے گے۔شازل کی آواز بلند ہوگئ تھی۔

شازل شاہ ہوش میں رہ کر بات کرو۔شھباز شاہ نے غصے سے اپنے ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینچا

میں ہوش میں ہوں بابا سائیں آپ سب کو بھی ہوش میں آجانا چاہیے خدانخواستہ کل کلاں میرے سے قتل ہوجاے تو کیا آپ آروش

شازل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شازل نے جیسے ہی آروش کا نام لیا شھباز شاہ کا ہاتھ اُٹھٹے اُٹھتے رہ گیا غصے سے اُن کی رنگت سرخ ہوگئ تھی۔شازل کے چہرے پہ عجیب مسکراہٹ آئی۔

بابا سائیں بات اپنی اولاد پہ آئی تو تکلیف ہوئی نہ تو اُن ماں باپ کا سوچے جن کی بیٹیاں قربانی کا سامان بنی جن کے مرنے کے بعد چہرہ دیکھنا بھی نصیب نہیں ہوا اندازہ لگاسکتے ہیں آپ اُن کی تکلیفوں کا جس بیٹی کو وہ نازو سے پالتے ہیں کیا گُزرتی ہوگی ان کے دلوں پہ جب وہ خود اپنی بیٹی کو ظالموں کے حوالے کرتے ہوگے۔شازل بولنے پہ آیا تو بولتا چلاگیا۔

تم زیادہ بول رہے ہو اِس سے پہلے ہم تمہارا خون اپنے ہاتھوں سے کریں یہاں سے چلے جاؤ اور دوبارہ آروش کا نام مت لینا اگر تمہارے ہاتھ سے کسی کا قتل ہوا بھی تو ہم تمہیں پیش کرے گے ناکہ اپنی پُھول جیسی بیٹی کو۔شھباز شاہ کی آخری بات پہ شازل اپنے باپ کو دیکھتا رہ گیا

کیا میری جان اتنی سستی ہے؟شازل بدمزہ ہوتا خود سے بڑبڑایا۔

ابھی تو میں جارہا ہوں پر آپ میری باتوں کو سوچیے گا ضرور اور کوشش کریں ایسی رسموں کو گاؤں سے آزاد کرے اب گاؤں بھی ایسی رسموں سے آزاد ہونا چاہیے تاکہ لڑکیاں بھی سکون بھری زندگی گُزارے۔شازل سنجیدگی سے کہتا کمرے سے باہر چلاگیا۔پیچھت شھباز شاہ نے اُس کی پشت کو گھورا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آروش کیا تم فری ہو؟شازل شھباز شاہ کے کمرے سے نکلتا آروش کے کمرے کے پاس کھڑا اُس کو آواز دیتا بولا

جی لالا اندر آئے۔آروش نے آنے کی اجازت دی تو وہ کمرے میں داخل ہوا۔

اسلام علیکم لالا۔آروش نے سلام کیا جو شازل ہمیشہ کی طرح بھول گیا تھا

وعلیکم اسلام ایک درخواست لیکر آیا ہوں۔شازل نے تھمید باندھی

آپ حکم کریں لالا۔آروش محبت بھرے لہجے میں بولی

بیٹھو۔شازل نے اُس کو بیٹھنے کا اِشارہ کیا اور خود بھی سائیڈ پہ بیٹھ کر بات کا آغاز کرنے لگا

آج جرگہ ہے تمہیں پتا ہوگا۔شازل نے اُس کی طرف دیکھ کر پوچھا تو آروش نے سرہلانے پہ اکتفا کیا

وہاں کیا فیصلہ ہوگا وہ بابا سائیں جانتے ہیں پر میں چاہتا ہوں جرگہ ہونے سے پہلے تم بابا سائیں سے بات کرو انہیں کہو وہ معاف کردے انہیں خون بہا یا کسی معصوم لڑکی کو ونی میں نہ لائے یہ ظلم ہوگا اُس بے قصور پہ یہ میں سب تم سے کہہ رہا ہوں کیونکہ بابا سائیں ہم سب سے زیادہ تم سے محبت کرتے ہیں سالوں پہلے بھی تمہاری خواہش پہ دادی جان کی خفگی موڑ کر تمہاری خواہش کا احترام کیا تھا تبھی تم اگر ان سے یہ بات کروں گی تو تمہاری بات کا پاس ضرور رکھے گے کیونکہ وہ تمہیں مایوس بلکل نہیں دیکھ سکتے نہ تمہاری بات پہ انکار یا نظرانداز کرنے کی ہمت پائے گے۔شازل اُس کے گال پہ ہاتھ رکھتا نرم لہجہ میں بولا آروش چہرے پہ اپنے لالا کی بات سن کر سایہ لہرایا۔

بابا سائیں آپ مجھے زندہ دفنا دیجئے گا میرا قتل کیجیے میری لاش کتوں کے سامنے کر دیجئے گا پر خدا کے واسطے میری یہ التجا پوری کرے ساری عمر پھر کجھ نہیں مانگوں گی پلیز مجھے ایک بار اُس سے ملنے دے۔

کہاں کھوگئ آروش۔آروش جو ماضی میں کھوگئ تھی شازل کے چٹکی بجانے پہ ہوش میں آئی۔

کہیں نہیں لالا آپ کی ہر بات درست پر بابا سائیں کتنی محبت کیوں نہ کریں پر اُن کو اپنے خودساختہ اصولوں سے سب سے زیادہ لگاؤ ہے وہ میری بات بس سُنے گے مانے گی نہیں۔آروش نے سنجیدگی سے کہا

ایک بار کوشش کرو شاید تمہاری ایک کوشش کسی معصوم کی زندگی برباد ہونے سے بچ جائے۔شازل کی بات پہ اُس کے چہرے پہ اُداس مسکراہٹ نے بسیرا کیا شازل کی باتوں سے اُس کا گُزرا ماضی بار بار سامنے آرہا تھا۔

جاؤ پھر۔شازل نے کہا تو وہ بیڈ سے اپنی شال اُٹھا کر کھڑی ہوئی شازل نے محبت سے اپنی بہن کو دیکھ کر گہری سانس خارج۔

وہ معصوم ہے کسی مظلم پہ ظلم نہیں کیا جاتا اُس کی عمر کا لحاظ کریں وہ برداشت نہیں کرپائے گا وہ بہت معصوم ہے بہت۔

شھباز شاہ کے کمرے کے دروازے پہ ہاتھ رکھا تو کئ سال پہلے اپنے کہے جُملے کانوں میں سُنائی دیئے جیسے اُس کی آنکھوں میں آنسو گال پہ پھسلا ایک بار پھر وہ اپنے جان نچھاور کرنے والے باپ کے پاس التجا کرنے آئی تھی فرق یہ تھا پہلے دل کی حالت سے مجبور ہوکر اور آج اپنے لالا کے اصرار کرنے پہ پہلے وہ خالی ہاتھ واپس لوٹادی گئ تھی آج جانے کیا ہونا تھا

آپ سے بات کرنی ہے۔آروش کمرے کے بیچ کھڑی شھباز شاہ سے بولی جو اپنے بندوق کا معائنہ کرنے میں مصروف تھے۔

آجاؤ بیٹھو کرتے ہیں باتیں۔شھباز شاہ نے آروش کو دیکھا تو بندوق کو بیڈ سے ہٹاکر مسکراکر بولے۔

آج جرگے پہ کیا فیصلہ ہوگا؟آروش بنا بیٹھے مدعے کی بات پہ آئی شھباز شاہ کا چہرہ جو آروش کو دیکھ کر کِھل اُٹھا تھا اُس کی بات پہ چہرے کے تاثرات سرد سپاٹ ہوئے جن کو دیکھ کر آروش کو افسوس ہوا اپنے آنے پہ۔

شازل نے بھیجا ہے تمہیں؟شھباز شاہ نے پوچھا

جی۔آروش نے سچ بتایا

اُس کو میں نے جواب دے دیا تھا۔شھباز شاہ چہرہ دوسری طرف کیے بولے

آپ ایک بار پھر سے ظلم کرنے والے ہیں۔آروش کے لہجے میں افسوس تھا۔

یہ ہم مردوں کا معاملہ تم دور رہو۔شھبازشاہ کا انداز دیکھ کر آروش کا دل لہولہان ہوا تھا جس باپ نے ہمیشہ شفقت دیکھائی تھی ان کا یہ رویہ اُس کی برداشت سے باہر ہوتا تھا

ٹھیک ہے پر ایک بات کہنا چاہوں گی معاف کرنا خدائی صفت ہے اللہ سب دیکھتا ہے بچیوں سے اپنے والدین بہت پیار کرتے ہیں اُن کو ہر سرد ہوا سے بچاتے ہیں اگر آپ کا فیصلہ کسی بچی کے لیے ٹھیک نہیں ہوا تو ایسا نہ ہو آپ میری شکل دیکھنے سے ترس جائے آپ کہتے ہیں نہ میں آپ کے دل کا ٹکڑا ہوں تو کہی یہ ٹکڑا گم نہ ہوجائے اور آپ ڈھونڈ نہ پائے۔

آروشششش

آروش اُس سے پہلے مزید کجھ بولتی شھباز شاہ کے کھردرے لہجے پہ خاموش ہوئی۔

آج یہ بات کہہ دی دوبارہ مت کہنا کیوں اپنے باپ کو نئ آزمائش میں ڈالتی ہوں۔شھباز شاہ کا دل تڑپا تھا آروش کی بات پہ ایک اکلوتی بیٹی تھی جس کے لیے انہوں نے بہت لوگوں سے منہ موڑا تھا

آزمائش

آروش اتنا کہتی بے بسی سے ہنس پڑی جس سے اُس کی آنکھوں میں نمی اُتری

آزمائش تو میری زندگی ہے بابا سائیں ایک پچھتاوا ان دیکھی بے چینی تڑپ جو مجھے چین نہیں لینے دیتا۔آروش کی بات پہ انہوں نے اُس کے سر پہ ہاتھ رکھا

زندگی میں کجھ چیزیں لاحاصل اور حسرتیں ہوتی ہے جن لو لیکر ہمیں جینا پڑتا ہے پہلے تم بچی تھی اب بڑی ہو اِس لیے ایک قصے کو بار بار مت دوہرایا کرو۔شھباز شاہ کی بات پہ وہ کجھ قدم دور ہوتی کمرے سے باہر نکلی گئ اُس کو مایوس جاتا دیکھ کر شھباز شاہ کو خود سے زیادہ شازل پہ غصہ آیا جس نے اُس کی کمزوری کو آزمایا تھا۔

کیا کہاں بابا سائیں نے۔شازل جو بے صبری سے آروش کا اُس کمرے میں انتظار کررہا تھا اُس کو آتا دیکھا تو بے صبری سے پوچھا

وہی جو آپ کو جواب دیا۔آروش نے بے تاثر لہجے میں بولا تو شازل نے ٹھنڈی سانس خارج کی۔

تم میں آخری اُمید تھی سوچا تھا تمہاری بات وہ مان لیں گے اب بس اللہ سے دعا کرنی ہے۔شازل جوابً بولا

لالہ سے کہے وہ بات کریں۔آروش کجھ سوچ کر بولی۔

تمہیں تو پتا ہے وہ کہاں ٹھیک سے بابا سائیں سے بات کرتا ہوں اور میرا کہنا اُن کا کہنا ایک برابر ہے۔شازل نے کہا۔

آپ جائے گے جہاں جرگہ بیٹھایا جارہا ہے؟آروش نے پوچھا

ظاہر ہے سب مرد جائے گے۔شازل نے بتایا۔

بابا سائیں کے بعد آپ تایا جان یا دیدار لالہ کو موقع نہ دیجئے گا کے سرپنج کی پگڑی وہ پہنے بلکہ اُس جگہ پہ آپ بیٹھیے گا تاکہ ہماری گاؤں کے یہ اصول ختم ہوجائے۔آروش اُمید بھری نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولی جس کا جواب فلحال شازل شاہ کے پاس نہیں تھا وہ یہاں نہیں رہنا چاہتا تھا تو پھر گاؤں کا سرپنج بننے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

نور آرہی ہے لنڈن سے۔مسز خان نے صبح ناشتے وقت دلاور خان اور یمان کو بتایا۔

ماشاءاللہ بہت سالوں بعد آرہی ہے اب تو۔دلاور خان محبت سے اپنی بیٹی کا ذکر کرتے بولے۔

ہاں کہہ رہی تھی اب بھی بس چند دنوں کے لیے آئے گی۔مسز خان نے بتایا یمان عدم دلچسپی سے سنتا رہا اُس نے بس نام سُنا تھا اُن کی بیٹیوں کا پر کبھی ملنے کا اتفاق نہیں تھا کیونکہ شادی کے بعد وہ دوسرے ملک میں رہائش پذیر تھیں۔

آج مجھے ایک کانٹریکٹ سائن کرنے جانا تھا میٹنگ ہے میری تو شاید آنے میں وقت لگ جائے۔نیپکن سے ہاتھ صاف کرتے یمان نے اُن کی گفتگو میں مداخلت کی۔

کس کے ساتھ ہے؟دلاور خان نے پوچھا۔

ہمایوں قُریشی ہے انہوں نے آفر کی ہے۔یمان نے بتایا۔

ہممم اُس کی رکارڈنگ کب سے سٹارٹ ہے کیونکہ اِس بار میں جو فلم پرڈیوس کررہا ہوں چاہتا ہوں اُس کے سارے گانے تمہارے ہو۔دلاور خان نے بتاکر پوچھا۔

ابھی ٹھیک سے میری بات نہیں ہوئی اُن سے کانٹریکٹ سائن کرنے وقت معلوم ہوگا آپ بتائے آپ کب فلم کی شوٹنگ سٹارٹ کررہے ہیں۔یمان نے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔

اِس سال تو بس ٹیلر رلیز ہوگا جس کے گانے میں تمہاری آواز ہوگی تو ٹیلر مشہور ہوگا میں تو چاہتا ہوں ہیرو میں تمہیں کاسٹ کروں پر تم مانو گے نہیں۔دلاور خان مزاحیہ لہجے میں بولے

مجھے سنگر ہی رہنے دے۔یمان سرجھٹک کر بولا اُس کو فلموں میں کام کرنے کا بلکل شوق نہیں تھا۔

ہمارا بیٹا شائے ہے تمہاری فلم میں رومانٹک سین ہوتے ہیں ہمارا یمان کہاں کرپائے گا۔مسز خان کی بات پہ یمان کو کھانسی کا دورہ پڑا اُس کو مسز دلاور خان سے ایسی بات کی توقع نہیں تھی جب کی اُس کی سرخ رنگت دیکھ کر دلاور خان کا قہقہقہ گونج اُٹھا

میرے خیال سے مجھے جانا چاہیے۔یمان مستقیم نے جانے میں عافیت جانی۔

میری بات پہ غور ضرور کرنا۔دلاور خان نے شوخ لہجے میں کہا مقصد یمان کو تنگ کرنا تھا جو وہ بھی ہوگیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یمان کا اپنا ایک اسٹوڈیو تھا وہ وہاں آیا تو ارمان پہلے سے وہاں موجود تھا کجھ پل تو وہ اُس کو دیکھتا رہا پھر ارمان نے اُس کو مخاطب کیا۔

سر وہ جب میں آپ کے گھر گیا تھا تو آپ کی بڑی بہن بہت خفا ہوئی انہوں نے دوبارہ آنے سے منع کیا کہا کے اُن کو اِن چیزوں کی نہیں بلکہ اپنے بھائی ضرورت ہے۔

اور۔یمان سپاٹ نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا

اور یہ کے دوبارہ سامان وہ نہیں لیں گی۔ارمان نے بتایا تو یمان نے گہری سانس خارج کی۔

ٹھیک ہے تم جاؤ۔یمان کو اچانک اپنے سر میں درد کی ٹیسیں اُٹھتی محسوس ہوئی تو اُس کو جانے کا کہا۔

سر ڈاکٹر کے پاس چلے۔ارمان سمجھ گیا اُس کی حالت تبھی فکرمندی سے بولا۔

میں ٹھیک ہوں تم بس میری میڈیسن دو۔یمان نے ٹالا

جی۔ارمان جی کہتا جلدی سے اُس کے لیے میڈیسن اُس کو دی۔

آپ سے ایک اور بات کرنی تھی۔یمان نے دوائی لی تو ارمان جھجھک کر کہا

بولوں۔یمان نے کہا

آپ ایک مرتبہ کراچی چلے جائے آپ بھی تو اپنے گھروالوں کو یاد کرتے ہوگے۔

ہمایوں قُریشی کو کال پہ بتادو میں آرہا ہوں۔یمان اُس کی بات کاٹ کر بولا تو ارمان سرجھکاتا وہاں سے چلاگیا۔اُس کے جانے کے بعد یمان خاموشی سے صوفے سے ٹیک لگاتا آنکھیں موند گیا۔

💕
💕
💕
💕
💕

میرا دل بہت گھبرا رہا ہے جانے کیا ہورہا ہوگا جرگے میں؟ماہی کی پریشانی سے ڈوبی آواز سن کر آمنہ نے گہری سانس لی۔

اِن شاءاللہ اللہ ہمارے حق میں فیصلہ کرے گا۔آمنہ نے اُمید بھرے لہجے میں کہا۔

اللہ تو کرے گا پر یہ تم بھی جانتی ہوں شھباز شاہ اپنے اصولوں کے کتنے پکے ہیں۔ماہی نے کہا

بابا صاحب چچا صاحب ذین یہ سب گئے ہیں نہ اللہ بہتر کرے گا۔آمنہ اُس کو اپنے ساتھ لگاتی پرسکون کرنے لگی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

ہمیں خون کے بدلے خون چاہیے۔ارباز شاہ مضبوط لہجے میں بولیں۔جرگے میں سب معزز بزرگ مرد موجود تھے۔

جس وجہ سے بات قتل تک پہنچی ہم وہ زمین اگر آپ کے نام کردے تو؟حشمت صاحب سنجیدگی سے بولے۔

تو بھی ہم یہی کہے گے ہمیں خون کے بدلے خون چاہیے ذین سالک کا۔دیدار اپنی جگہ اُٹھتا تیز آواز میں بولا۔دُرید شاہ خاموشی سے سب کو دیکھ رہا تھا جب کی شازل شاہ اپنے گلے میں پہنی چین کو ہاتھ سے گُھمارہا تھا اُس کو بس جرگہ کے ختم ہونے کا انتظار تھا۔

شھباز شاہ جب کی اپنی سوچو میں گم تھے۔

ذین سالک تو روپوش ہوگیا ہے بہتر ہے پھر ونی لی جائے کیونکہ زمینے تو آپ سب نہیں چاہتے۔وہاں بیٹھے ایک آدمی نے کہا تو شھباز شاہ چونک پڑے۔اُن کے برعکس حشمت صاحب کو لگا جیسے اُن کا دل کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہو انہوں نے یہاں آنے سے پہلے خاموشی سے ذین کو باہر بھیج دیا تھا ذین جانا تو نہیں چاہتا تھا پر اپنے باپ کی دی ہوئی قسم نے اُس کو مجبور کردیا تھا۔

شازل شاہ نے دُرید شاہ کو دیکھا جو خود کو ہر بات سے لاتعلق ظاہر کررہا تھا شاید وہ ان سب کے بارے میں پہلے سے جانتا تھا۔

آپ کا فیصلہ آخری ہوگا تو آپ کیا کہتے ہیں؟اب کی انہوں نے شھباز شاہ کو مخاطب کیا۔

بابا سائیں بات اپنی اولاد پہ آئی تو تکلیف ہوئی نہ تو اُن ماں باپ کا سوچے جن کی بیٹیاں قربانی کا سامان بنی جن کے مرنے کے بعد چہرہ دیکھنا بھی نصیب نہیں ہوا اندازہ لگاسکتے ہیں آپ اُن کی تکلیفوں کا جس بیٹی کو وہ نازو سے پالتے ہیں کیا گُزرتی ہوگی ان کے دلوں پہ جب وہ خود اپنی بیٹی کو ظالموں کے حوالے کرتے ہوگے۔

ٹھیک ہے پر ایک بات کہنا چاہوں گی معاف کرنا خدائی صفت ہے اللہ سب دیکھتا ہے بچیوں سے اپنے والدین بہت پیار کرتے ہیں اُن کو ہر سرد ہوا سے بچاتے ہیں اگر آپ کا فیصلہ کسی بچی کے لیے ٹھیک نہیں ہوا تو ایسا نہ ہو آپ میری شکل دیکھنے سے ترس جائے آپ کہتے ہیں نہ میں آپ کے دل کا ٹکڑا ہوں تو کہی یہ ٹکڑا گم نہ ہوجائے اور آپ ڈھونڈ نہ پائے۔

شھباز شاہ کے کانوں میں بار بار کبھی شازل تو کبھی آروش کی آوازوں کی بازگشت ہورہی تھی جس سے اُن کو کوئی بھی فیصلہ کرنے میں مشکل ہورہی تھی۔وہ کسی بھی صورت میں اپنی بچی کو کھونا نہیں چاہتے تھے نہ ہی یہ کے اُن کا کیا اُن کی بیٹی بھگتے۔انہوں نے پہلے دیدار شاہ کو دیکھا جس کی آنکھیں آگ برسانے کے در پہ تھی پھر دُرید شاہ کی جانب دیکھا جو اُن کو ہی دیکھ رہا تھا اور ایسے دیکھ رہا تھا جیسے بول رہا ہو میرا نام نہ لیں کوئی۔پھر ایک نظر شازل کو دیکھا جس کے اندر فلحال انسانیت جاگی ہوئی تھی شازل کو دیکھ کر اُن کو فیصلہ کرنا آسان لگا۔

اگر خون کے بدلے خون نہیں تو ذین سالک کی بہن ونی میں آئے گی جس کا نکاح شازل شاہ سے ہوگا۔شھباز شاہ کی بے لچک آواز پہ سکوت چھاگیا تھا شازل بے یقین نظروں سے شھباز شاہ کو دیکھنے لگا جو جس چیز سے بچنا چاہ رہا تھا اب وہ خود بُری طرح اُس میں پھس چُکا تھا جہاں سے رہائی ناممکن تھی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

مامی جان ونی کا کیا مطلب ہوتا ہے؟حریم اُلجھن زدہ لہجے میں کلثوم بیگم سے پوچھنے لگی۔

آپ کو کیوں جاننا ہے؟کلثوم بیگم نے نرمی سے پوچھا

کیونکہ آج کل حویلی میں بس یہی بات گھوم رہی ہیں کے ہماری حویلی میں ونی آے گی کون لائے گا ونی؟حریم نے معصومیت سے بتایا

معصوم دلوں کی صدائیں اللہ فورن سے سن لیتا ہے آپ دعا کرنا ونی میں کوئی بھی بچی نہ آئے۔کلثوم بیگم نے افسردہ لہجے میں کہا

کیوں؟حریم کو حیرت ہوئی۔

کیونکہ ونی میں آئی لڑکی کی زندگی ایک قیدی سے زیادہ بدتر ہوتی ہے۔کلثوم بیگم نے بتایا

پر ہم پھر کیوں لارہے ہیں لالہ کا قتل ہوا اُس وجہ سے۔حریم نے پوچھا

جی بیٹا اُس وجہ سے اب پتا نہیں کیا فیصلہ دعا کرنا دُرید نکاح کرلے کیا پتا پھر اُس بے چاری کی مشکلیں آسان ہو۔کلثوم بیگم کی بات پہ جانے کیوں حریم کا دل تڑپ اُٹھا

دُر لا کیوں کرنے لگے نکاح۔حریم بُرا مان کر بولی

کیوں دُرید شادی نہیں کرسکتا کیا ماشاءاللہ سے اب اُس کی عمر ہوگئ ہے شادی تو ہوجانی چاہیے پر وہ مانتا نہیں۔کلثوم بیگم کا دھیان اب دوسری طرف لگ چُکا تھا۔

اچھا ہوا نہیں کرتے شادی کے علاوہ بھی بہت سے کام ہیں۔حریم کا انداز دیکھ کر کلثوم بیگم نے ٹھٹک کر اُس کو دیکھا

آپ کیوں چاہتی ہیں آپ کے دُر لا کی شادی نہ ہو؟کلثوم بیگم نے پیار سے پوچھا

اِس حویلی میں ایک وہ ہیں جو ہماری ہر بات مانتے ہیں اگر اُن کی شادی ہوجائے گی تو ہم تو نظر بھی نہیں آے گے پھر ہمارا کیا ہوگا۔حریم نے اپنے اندر کا خدشا بیان کیا جس کو سن کر کلثوم بیگم نے اُس کو اپنے ساتھ لگایا

ایسی باتیں کیوں کررہی ہیں یہاں سب آپ سے پیار کرتے ہیں۔

پر دُر لا جیسا تو کوئی نہیں کرتا نہ۔حریم کی سوئی وہی اٹکی ہوئی تھی۔

💕
💕
💕
💕
💕

ماہی نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تو اپنے کمرے میں حشمت صاحب کو دیکھ کر اُس کا دل تیزی سے دھڑک اُٹھا۔

ہمیں معاف کرنا بیٹا۔حشمت صاحب نے ہاتھ جوڑ کر کہا تو ماہی کا وجود پتھر کا بن گیا آخر وہ ہوگیا تھا جس کے نا ہونے کی اُس نے دعائیں کی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شازل شاہ غصے سے کُھولتا نکاح نامے پہ دستخط کرچُکا تھا اُس نے لڑکی کا نام یا لڑکی کو دیکھنا گوارہ نہیں کیا تھا نکاح کے بعد وہ اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا۔

کہاں جارہے ہو؟دُرید شاہ نے اُس کو جاتا دیکھا تو سنجیدگی سے پوچھا۔

اسلام آباد مجھے یہاں آنا ہی نہیں چاہیے تھا پر آپ یہاں لیں آے اب کوئی میری واپسی کی اُمید نہ رکھے۔شازل شاہ سخت لہجے میں بول کر رُکا نہیں تھا اِس بار دُرید شاہ نے اُس کو روکنے کی کوشش نہیں کی تھی وہ شازل کو جانتا تھا غصے میں وہ کسی کی بھی نہیں سنتا تھا تبھی اُس کو کجھ وقت دینے کا سوچا۔

شازل شاہ جو کجھ دن پہلے انصاف انصاف بول رہا تھا آج خود کسی کے ساتھ ناانصافی کرکے شہر جاچُکا تھا ایک معصوم جان کو چھوڑ کر جس کو اُس کی اشد ضرورت تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *