Haal e Dil by Rimsha Hussain NovelR50524 Haal e Dil (Episode 53)
Rate this Novel
Haal e Dil (Episode 53)
Haal e Dil by Rimsha Hussain
میں آجاؤں؟نجمہ آروش کے کمرہ کا دروازہ نوک کیے اُس سے اجازت طلب ہوئی
ہاں آجاؤ اتنا وقت کون لگاتا ہے پراٹھے بنانے میں۔آروش نے اُس کو اجازت دیتے ہوئے کہا
او جی بنانے والا وقت لگاتا ہے۔نجمہ کی زبان میں کُھجلی ہوئی۔
میرے آگے کوئی نہیں بولتا اِس لیے خاموش رہو۔آروش اُس کو گھور کر کہتی پراٹھا اپنی جانب کِھسکانے لگی جب کی نجمہ منہ لٹکائے اُس کو دیکھنے لگی۔
بیچارا قسمت کا مارا ہوگا جس کی اِن سے شادی ہوگی۔نجمہ غور سے آروش کا سنجیدہ چہرہ دیکھتی ان دیکھے انسان سے ہمدردی کرنے لگی اُس کو آروش نک چڑھی سی لگی ساتھ میں خوبصورت بھی جس نے نماز کے اسٹائل میں ڈوپٹہ پہنا ہوا تھا ہونٹوں کے پاس بنا ہوا چھوٹا سا تِل جو اُس پہ بہت پیارا لگ رہا تھا۔
بنانے والے نے فرصت سے بنایا ہے ویسے اگر کیا ہوتا جو یہ اپنے بال دیکھاتی۔نجمہ آروش کو دیکھتی ٹھنڈی سانس لیکر سوچنے لگی دوسری طرف آروش نے پراٹھے کا پہلا نوالہ توڑ کر کھانے لگی تو اُس کو بہت پسند آیا جو اُس کے چہرے سے ظاہر ہونے لگا تھا مگر اُس نے جلدی سے اپنے تاثرات پہ قابو پائے نارمل انداز میں کھانے لگی۔
بندہ ایک لفظ تعریف کرلیتا ہے کتنی محنت اور لگن سے یمان سر نے پراٹھے بنائے تھے جیسے کوئی قلعہ فتح کرنا ہوا اور ایک یہ ہے جو تعریف تک نہیں کرسکتی۔نجمہ جو بہت دیر تک اُس انتظار میں تھی کے آروش کجھ کہے گی مگر اُس کو خاموشی سے کھاتا دیکھ کر منہ بنائے بڑبڑانے لگی۔
تم کیا یہاں بیٹھی میرے نوالے گِن رہی ہو جاؤ یہاں سے برتن میں خود لاؤں گی نیچے۔آروش کی نظر نجمہ پہ پڑی تو فورن سے اُس کو ٹوکا تو ہڑبڑا کر کمرے سے باہر نکلی جہاں یمان یہاں سے وہاں ٹہلتا شاید اُس کے ہی انتظار میں تھا۔
کجھ کہا انہوں نے؟یمان نے نجمہ کو دیکھا تو جلدی سے اُس کی جانب بڑھا
بڑے صاحب کی چاروں بیٹیاں ایک طرف اور یہ ایک طرف توبہ خدا کی اتنی کھڑوس ہیں کے کیا بتاؤ۔نجمہ ہاتھ جھلا کر کہتی نیچے کی جانب بڑھی۔
بھلا مجھ سے بہتر کون جانتا ہے کے یہ کتنی کھڑوس ہیں۔یمان آروش کے کمرے کا دروازہ دیکھ کر مسکراکر خود سے بولا۔






آپی کو ہم سے مل کر جانا چاہیے تھا۔فاریہ بیگم حریم کے لیے کھانا لائی تو اُس نے شکوہ کناں لہجے میں کہا۔
میں کیا کہہ سکتی ہوں بیٹا یہاں ہم سب بھی پریشان ہے وہ کیسے پٹھان لوگ کے ساتھ رہ رہی ہوگی اور کجھ کھایا پیا ہوگا بھی یا نہیں۔فاریہ بیگم نوالہ اُس کی جانب بڑھائے بولی
کیا اب آپی پٹھانوں کے ساتھ رہے گی؟حریم کی آنکھوں میں اشتیاق اُبھر آیا
ہممم۔فاریہ بیگم نے ہنکارہ بولا
کیا ہم اُن کے ساتھ رہ سکتے ہیں؟آپ کو پتا ہے ہمیں پٹھان لوگ بہت پسند ہیں اُن کی لینگویج اتھارٹی بول چال طور طریقے سب بہت دلچسپ ہوتے ہیں اور اُن کا ڈریسنگ سینس تو کمال کا ہوتا ہے وہ پتا نہیں گرارہ یا شرارہ پہنتے ہیں جس میں شیشوں کا کام ہوا ہوتا ہے اور اُن کے ماتھے پہ جھومر پہ پہنا ہوتا ہے یہ ہم نے ڈراموں میں دیکھا ہیں اور پٹھان لوگوں کو غصہ بھی بہت جلد آجاتا ہے اور بہت آتا ہے۔حریم سارا کجھ بھول کر فاریہ بیگم کو بتانے لگی جو حیرت سے اُس کو دیکھ رہی تھی۔
بھئ یہ سب کجھ تو مجھے نہیں پتا مجھے بس آروش کی یہ فکر ہو رہی ہے کے وہ انجان لوگوں میں کیسے رہے گی۔فاریہ بیگم نے کہا
انجان کہاں؟وہ تو اُن کے والدین ہوگے نہ اور دیکھیے گا وہ بہت خوش رہے گی۔حریم نے مسکراکر کہا
کاش ایسا ہو جیسا تم بول رہی ہو۔فاریہ بیگم بھی جوابً مسکراکر بولی
آپ کی بات ہو تو ہم سے کروائیے گا ہم اُن سے تصاویریں مانگے گے پوری فیملی کی پھر جب ہمارا بچہ ہوجائے گا نہ تو ہم اُس کے ساتھ آپی کے پاس جائے گے۔حریم کا لہجہ پرجوش ہوتا جارہا تھا فاریہ بیگم کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی تھی اُس کو پہلے جیسے انداز میں بات کرتا دیکھ کر۔
ٹھیک ہے میں دیدار سے کہہ کر آج ہی تمہاری اُس سے بات کرواتی ہوں پھر جو چاہے اُس سے پوچھ لینا اور مانگ لینا جتنی چاہے تصاویریں۔فاریہ بیگم اُس کے ماتھے بوسہ لیتی ہوئی بولی
شکریہ۔حریم خوش ہوئی
اچھا اب کھانا کھاؤ اُس کے بعد دوائیں بھی کھانی ہے۔فاریہ بیگم نے اُس کی توجہ کھانے کی جانب بڑھائی تو حریم نے مسکراکر سراثبات میں ہلایا
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
ماہی کب سے نوٹ کررہی تھی شازل کو جس کا پورا دھیان لیپ ٹاپ کی جانب تھا اور اُس کے ہاتھوں کی انگلیاں تیزی سے کیبورڈ پہ چل رہی تھی اُس کو مزید برداشت نہیں ہوا تو آہستہ سے چل کر بیڈ پہ اُس کے ساتھ بیٹھ کر لیپ ٹاپ کی اسکرین کو دیکھنے لگی تو اُس کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا کیونکہ شازل نے گوگل پہ پٹھان ذات سرچ کی ہوئی تھی۔
یہ آپ کیا کررہے؟ماہی کو سمجھ نہیں آیا
بابا سائیں نے کہا تھا ہمارا ماحول اور جہاں آروش گئ ہے اُن کا ماحول ایک جیسا ہے تو وہی دیکھ رہا تھا کے پٹھان لوگ کیسے ہوا کرتے ہیں اُن کا رہن سہن پہننا اوڑھنا کافی دلچسپ اور خوبصورتی سے بیان ہے مگر صرف ایک پٹھان کی بات کرے جہاں میری بہن گئ ہے تو وہاں ایسا کجھ نہیں۔شازل نے گہری سانس بھر کر سنجیدگی سے کہا
کیا مطلب؟ماہی ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی۔
یہ دیکھو۔شازل نے ایک منٹ میں کجھ سرچ کرنے کے بعد لیپ ٹاپ کی اسکرین ماہی کی طرف کی۔
دلاور خان؟ماہی نے اتنا کہہ کر شازل کو دیکھا
ہاں دلاور خان آروش کا ریئل فادر جس کو خاندان والوں نے عاق کرلیا تھا وجہ ایک کرئسچن عورت سے شادی کرنا اُس کے بعد یہ فلموں میں کام کرنے کی وجہ سے سب خاندان والوں نے اعتراض اُٹھایا تھا اِن کے خاندان میں پردے پہ سختی تھی مگر دلاور خان جس طرح پہلے نون مسلم عورت سے شادی کی اُن کے لیے سب بیہودگی تھی دلاور خان نے بیوی نے اسلام تو قبول کیا مگر اسلام کو اپنایا نہیں عام طور پہ لڑکی اپنے شوہر کے حساب سے طور طریقے اپناتی ہے مگر یہاں ایسا نہیں ہے یہاں دلاور خان نے اپنی بیگم کے طور طریقے اپنائے۔شازل اتنا کجھ کہتا اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا تو ماہی نے غور سے شازل کا چہرہ دیکھا جہاں چاکلیٹی براؤں آنکھیں جس میں ایک الگ سی چمک ہوا کرتی تھی ایک عزم ہوتا تھا آج وہ اُداس تھی کشادہ پیشانی پہ بے شمار بل تھے کھڑی ناک عنابی ہونٹ جہاں ہر وقت خوبصورت مسکراہٹ کا احاطہ ہوا کرتا تھا آج سختی سے بھینچے ہوئے تھے تیز سفید رنگت جس میں ہلکہ سرخ پن بھی تھا بیشک وہ ایک شاندار مکمل انسان تھا جس کی خواہش ہر لڑکی کرتی ہوگی وہ صرف چہرے سے خوبصورت نہیں تھا اُس کی بس چہرے کی بناوٹ خوبصورت نہیں تھی بلکہ وہ خود پورا خوبصورت تھا اُس کا ہر انداز بے لچک اور شاندار تھا اُس کی شخصیت میں ایک الگ چارم ہوتا تھا جو اُس کو احساسِ کمتری کا شکار کرتا تھا وہ ایک بات اچھے سے جانتی تھی اگر وہ شازل کی زندگی میں بیوی یا ونی کی حیثیت سے نہ جاتی تو سامنے والا شخص کبھی بھی اُس پہ ایک نگاہ نہ ڈالتا وہ چاہے جتنا سج سنور لیتی مگر ظاہری خوبصورتی کے لحاظ سے وہ شازل سے بہت کم تھی۔
تمہیں کیا ہوا؟ شازل نے ماہی کی طرف سے خاموشی پائی تو گردن موڑ کر اُس کا چہرہ دیکھنے لگا جو بہت کھوئی ہوئی سی لگی۔
مجھے آپ کی یہ چین بہت پسند ہے آپ کے گلے میں بہت سوٹ کرتی ہے۔ ماہی شازل کی چانک آواز پہ ہوش میں آتی شازل پہنی ہوئی لونگ چین کو اپنے ہاتھ میں لیتی ہوئی بولی تو شازل نے اُس کو گھورا کہاں وہ اُس کے ساتھ اپنا مسئلہ ڈسکس کررہا تھا آروش کے مطلق اور کہاں یہ محترم اُس کی پہنی ہوئی چین میں اٹکی ہوئی۔
کہو تو تمہیں گفٹ کردوں ویسے بھی بچے کی پیدائش پہ تمہیں کجھ تحفے میں دینا ہے تو یہی ٹھیک۔ شازل لیپ ٹاپ دور کرتا اُس کو اپنے حصار میں لیے بولا
میرا وہ مطلب نہیں تھا یہ آپ کی ہے اور آپ پہ ہی سوٹ کرتی ہے میں نے تو بس ویسے ہی کہا رہی بات بچے کی پیدائش پہ تحفہ دینے کی تو وہ نہ بھی دے فرق نہیں پڑتا کونسا ہماری زندگی میں سب کجھ نارمل رہا ہے نہ آپ نے مجھے منہ دیکھائی دی اور نہ ہماری شادی کی پہلی انیورسری منائی اب تو خیر سے دوسری بھی آنے والی ہیں میری سالگرہ کے دن بھی آئے تھے کونسا آپ نے تب مجھے برتھ ڈے گفٹ کیا۔ماہی اُس کی شرٹ کے بٹنز سے چھیڑ چھاڑ کرتی اپنی شکایات کا اظہار کرنے لگی تو شازل نے اپنی ٹھوڑی اُس کے سر پہ رکھی۔
مجھے نہیں تھا پتا میری بیگم اتنی حساس ہوگی میری غلطی ہے مجھے تمہاری ہر چیز کا خیال رکھنا چاہیے تھا میں کوشش کروں گا تمہیں کبھی شکایت کا موقع نہ دوں۔ شازل اُس کے بالوں میں بوسہ دے کر بولا
میں نے ویسے ہی آپ سے دل کی بات کی ورنہ میرے لیے دنیاوی چیزوں سے زیادہ آپ کا ساتھ ضروری ہے میرے لیے آپ کا میرا ہونا کسی نعمت سے کم نہیں میں آپ کے قابل نہیں تھی مگر آپ کو مجھ سے نوازا گیا اور میں اتنی اچھی نہیں تھی جو میرا جیون ساتھی آپ بنے ہے میں بہت خوشقسمت ہوں شازل اور یہ بات مجھے آپ کے ملنے کے بعد پتا چلی ہے۔ ماہی جذب کے عالم پہ بولتی چلی گئ۔
کون کس چیز کا حقدار یہ بات ہمارا رب بہتر جانتا ہے تم اِس بات کے بارے میں مت سوچو اور تم نے کہا میں تمہارے لیے کسی نعمت سے کم نہیں تو کیا میں اِس کو اِظہارِ محبت سمجھو؟ شازل کا لہجہ آخر میں شرارت سے بھرپور ہوگیا
جی نہیں نعمت ہی سمجھے۔ ماہی نے منہ بنا کر کہا تو شازل کا چھت پھاڑ قہقہقہ گونج اُٹھا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
دُرید مجھے تم سے بات کرنی ہے بیٹا۔ کلثوم بیگم دُرید کے کمرے میں آتی اُس سے بولی
جی کہے میں سن رہا ہوں۔ دُرید اُن کی جانب متوجہ ہوا
تمہاری شادی کروانا چاہتی ہو تمہاری عمر تیس سال سے اُپر ہوگئ ہے ماشااللہ سے اور اب میں تمہیں یوں اِس طرح اکیلے نہیں دیکھ سکتی۔ کلثوم بیگم اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے بولی
اماں سائیں میں حریم سے شادی کروں گا بس اب کجھ ماہ ہے بچہ پیدا ہوجائے اُس کے بعد۔ دُرید نے جواب دیا
حریم سے شادی کا فیصلہ کرنے میں تم نے دیر لگادی ہے وہ نہیں مانے گی۔ کلثوم بیگم گہری سانس بھر کر کہا
اُس کو منانا میرا کام ہے وہ مان جائے گی آپ فکر نہ کرے۔ دُرید نے کلثوم بیگم سے زیادہ خود کو تسلی کروائی۔







صبح کو آنا تھا اور شام لگادی۔ دلاور خان زوبیہ بیگم اور نور کو آتا دیکھا تو خوشگوار لہجے میں کہا
ٹریفک ایشو ڈیڈ۔ نور نے اُن سے مل کر بتایا
میرے پاس سرپرائز تم دونوں کے لیے۔ دلاور خان نے کہا تو زوبیہ بیگم اور نور ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں۔
زرگل زرفشاں اور زر نور آ رہی ہے کل پاکستان کیا وہ سرپرائز ؟نور نے اُن کو دیکھ کر کہا
وہ تو آرہی ہیں مگر سرپرائز دوسرا ہے چلو تو دیکھاؤ۔دلاور خان نے ایک طرف ہوکر راستہ دیا تو دونوں نے کندھے اُچکائے
لیٹس سی کے کیا سرپرائز ہے۔زوبیہ بیگم نے کہا تو نور نے تائید میں سرہلایا
یہ دیکھو۔دلاور خان نے آروش کے کمرے کا دروازہ کھول کر اُن کو جانے کا اِشارہ دے کر کہا تو اُن کی نظر ایک لڑکی پہ پڑی جو مگن انداز میں کسی مسلے کے بغیر نماز پڑھنے میں مصروف تھی۔
وہ از شی؟نور نے ناسمجھی سے دلاور خان کو دیکھا
یہ حور ہے میری بچی؟زوبیہ بیگم آروش کی پشت دیکھی تو اپنے منہ پہ ہاتھ رکھ کر نم لہجے میں دلاور خان سے پوچھا۔
بلکل یہ ہماری بچی ہے۔ دلاور خان نے کہا نور کو بھی خوشگوار حیرت نے آ گھیرا۔
وہ سب دس منٹس سے آروش کی نماز ختم ہونے کا انتظار کررہے تھے۔ دوسری طرف آروش اپنے حساب سے نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تو زوبیہ بیگم اور نور کو حیرت سے دیکھنی لگی۔
یہاں آؤ میرے پاس کیا تم نے مجھے پہچانا نہیں میں تمہاری ماں ہوں۔زوبیہ بیگم آروش کے پاس آتی اُس کو اپنے گلے لگائے کر خوشی سے چور لہجے میں بتانے لگی۔
اور میں تمہاری بہن زرتاشہ نور ۔نور نے بھی اپنی موجودگی کا احساس کروایا تو آروش غور سے دونوں کا جائزہ لینے لگی پہلے زوبیہ بیگم کو دیکھا کندھوں تک آتے بال چہرے پہ فل میک اپ کیے ہوئے تھی کپڑوں کے لحاظ سے انہوں نے گھٹنوں تک آتی ریڈ اسکرٹ اور ٹائیٹس میں ملبوس تھی ڈوپٹے کے نام پہ گلے میں مفلر پہنا ہوا تھا۔زوبیہ بیگم کو دیکھنے کے بعد آروش کو کلثوم بیگم کا سِراپا آیا جس کو اُس نے کبھی ایسے حُلیے میں تو کیا کبھی بنا ڈوپٹے تک نہیں دیکھا ہمیشہ وہ سر پہ ڈوپٹہ پہنے دیکھا تھا رہی بات میک اپ کی تو اُس نے کلثوم بیگم کے کمرے میں میک اپ والی کوئی چیز تک نہیں دیکھی کرنا تو بہت دور کی بات تھی وہ ہمیشہ سادہ مگر خوبصورت لباس میں ملبوس ہوا کرتی تھی چہرہ ہر مصنوعی چیز سے صاف ہوتا تھا۔آروش کی نظر نور پہ پڑی جو خود کو اُس کی بہن بتارہی تھی جو کالے رنگ کی گھٹنے سے نیچے آتی شرٹ میں تھی جس کے ساتھ سیم کالی ٹائیٹس تھی۔
کیا ہوا تم کجھ بول کیوں نہیں رہی کیا ہم سے مل کر اچھا نہیں لگا؟آروش جو نور کا جائزہ لینے میں تھی اُس کی آواز پہ چونک کر نفی میں سرہلایا۔
ایسی بات نہیں۔آروش نے بس اتنا کہا
ماشااللہ تم بہت پیاری ہو اور آواز بھی۔نور اُس کا چوم کر بولی تو آروش کو بلاوجہ شرم محسوس ہونے لگی۔
حور تمہیں پتا ہے میں نے تمہیں کتنا یاد کیا تھا میری تو اُمید ہی ختم ہوگئ تھی کے میں کبھی تم سے مل پاؤں گی۔زوبیہ بیگم اُس کے دونوں ہاتھ تھام کر محبت سے اُس کا چہرہ دیکھ کر بولی
میرا نام آروش ہے۔آروش اُن کی بات کے جواب میں بس یہی بولی تو وہ ہنس پڑی جب کی اُس کے نام بتانے پہ نور کے دماغ میں کجھ کلک ہوا تھا۔
“یہ باتیں سترہ سال کا یمان کررہا ہے آپ سے جس کی ساری خواہشات ایک خواہش پہ بھاری پڑگئ تھی اور وہ تھی آروش شاہ کی محبت”
“کالج لائیف والا یمان چاہتا تھا اُس کو آروش شاہ کی توجہ ملے جب اُن کے ہاتھ میں کتابیں دیکھتا تھا نہ تو مجھے حد سے زیادہ جلن ہوتی تھی کیونکہ جب وہ کوئی کتاب پڑھتی تھی تو اُن کو آس پاس کے کسی چیز کا ہوش نہیں رہتا تھا اور ایسی توجہ میں اپنے لیے چاہتا تھا چاہتا ہوں چاہتا رہوں گا پر کبھی انہوں نے مجھے ایسی توجہ نہیں تھی اُن کا تعلق سید گھرانے سے تھا میرا نہیں تو اِس میں میری تو کوئی غلطی نہیں تھی نہ محبت اوقات دیکھ کر تو نہ کی جاتی نہ پھر میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا یہ سوال مجھے ایک پل کے لیے بھی چین لینے نہیں دیتا اگر میرے نصیب میں اُن کی محبت نہیں تھی تو پھر میرے دل میں محبت کا انوکھا احساس کیوں پیدا ہوا میں تو انجان تھا مجھے کیا خبر تھی ایسی محبتوں کی میرے لیے تو میری بہنیں اور والدین ہی سب کجھ تھے میری دُنیا اور میرا جنون تھا پاکستان کا مشہور سنگت بننا بس یہی تھا اور میں اِس میں مگن تھا پھر میری زندگی میں وہ آئی تو سب کجھ بدل گیا جہاں ہر وقت میرے چہرے پہ مسکراہٹ کا بسیرا ہوتا تھا وہ مسکراہٹ بس ان کے لیے مخصوص ہوگئ جب اُن پہ نظر نہیں پڑتی تھی تو بے سکونی سی محسوس ہوتی تھی میں مریضِ عشق بن گیا تھا جس کی دوا بہت مہنگی تھی اور میں ایک لاعلاج بیماری کا مریض بن گیا۔”
ٹھیک ہے میں خیال کروں گی کے تمہیں آروش کہوں۔زوبیہ بیگم نے مسکراکر آروش سے کہا تو نور نے اپنا سرجھٹکا
آپ لوگوں کے پاس جائے نماز ہے میں نے اپنے کمرے میں دیکھا وہ نہیں تھا اگر آپ کے پاس ہو تو مجھے دیجئے گا میں نے آتے وقت کجھ لیا نہیں تھا وہاں۔آروش باری باری سب کو دیکھ کر بولی
جائے نماز کیوں؟نور جو اپنی سوچو کے تانے بانے جوڑ رہی تھی آروش کی بات سن کر اُس نے بے تُکہ سوال کیا
جائے نماز کیوں چاہیے ہوتا نماز پڑھنے کے لیے نہ کیا آپ لوگوں نے کبھی نماز نہیں پڑھی؟ویسے آپ لوگ مجھے پٹھان نہیں لگے کیونکہ اُن کے بول چال کا طریقہ پہننے اوڑھنے کا انداز بہت الگ ہوتا ہے اور وہ اُردو بہت مشکل سے ہی بولا کرتے ہیں۔آروش کہے بنا نہ بول پائی۔
ہاں سب یہی بولتے ہیں ہم ڈفرنٹ ہیں کیونکہ ہم پٹھانوں کے بیچ کم رہے ہیں۔نور اُس کی بات کا مطلب سمجھے بنا ہنس کر بولی تو آروش نے پھر کوئی اور بات نہیں کہی۔
یمان کے کمرے میں ہوگا میں وہاں سے لیکر تمہیں دے دوں گا۔دلاور خان اُس کے سرپہ ہاتھ رکھ کر کہا تو “یمان”کے نام پہ آروش کو اُلجھن ہونے لگی اُس کو اچانک اُس رات والا واقع یاد آیا تو جھرجھری سی آئی تھی۔







ماہی کمرے میں ایک جگہ بیٹھی بور ہو رہی تھی تو اُس نے اپنے کمرے کی صفائی کرنے کا سوچا ہلانکہ کے اُس کو سخت تاکید تھی کوئی بھی کام نہ کرنے کی مگر وہ بھی کیا کرتی کمرے سے باہر اکیلی جا نہیں سکتی تھی کیونکہ بہت سیڑھیاں تھی اور نیچے شازل شفٹ ہو نہیں رہا تھا وہ اسلام آباد واپس جانا چاہتا تھا مگر کلثوم بیگم نے اُس کو صاف الفاظوں میں کہہ دیا تھا اُس کو اگر جانا ہے تو جائے مگر ماہی تب تک نہیں جاسکتی جب تک بچے کی پیدائش نہ ہو اِس وجہ سے شازل بھی یہی رُکا ہوا تھا کیونکہ وہ ماہی کو حویلی میں اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔
ماہی ابھی بیڈ سے اُتر کر بیڈ شیٹ چینج کرنے والی تھی جب اُس کو کجھ غیرمعمولی پن محسوس ہوا اُس نے بے ساختہ اپنا ہاتھ پیٹ پہ رکھا اُس کو سمجھ نہیں آیا یوں اچانک اُس کو پیٹ پہ زور سے کیا لگا۔
یااللہ یہ تو مجھے لات مار رہا ہے۔ماہی کو تکلیف کا احساس ہونے لگا ابھی وہ اِسی میں تھی جب شازل کمرے میں داخل ہوا
کیا ہوا ایسے بُت بن کر کیوں کھڑی ہو؟شازل کمرے میں آیا تو ماہی کو پیٹ پہ ہاتھ رکھے یوں ایک جگہ جما دیکھا تو پوچھا
شازل آپ کے بچے نے لات ماری وہ بھی زور سے۔ماہی رونے والی شکل بنائے پلٹ کر شازل کو دیکھ کر بتایا
واہ جی واہ ویسے تو میرا بچہ میرا بچہ کہہ کر تمہاری زبان نہیں تھکتی تھی اور اب جب زور سے لات ماری تو وہ میرا بچہ ہوگیا۔شازل اُس کی بات پہ گھور کر بولا
ہاں کیونکہ مجھے لگا تھا یہ میرا بچہ ہے اِس کو میرا خیال ہوگا مگر نہیں یہ آپ کی طرح ہے جس کو میرا خیال نہیں۔ماہی روہانسی ہوئی۔
ہاہاہاہا وہ میرا بیٹا ہے بس میرے پہ ہی جائے گا تمہاری طرح ہوا تو سارا وقت اُس کا رونا ہی ختم نہیں ہوگا۔شازل جھرحھری لیکر بولا
کتنے بے حس انسان ہیں آپ اور ناشکرے الگ سے آپ کو اتنی پیاری بیضوی نین نقش والی خوبصورت بیوی ملی ہے اُس پہ بجائے آپ قدر کرنے کے یوں روندو بولا کرتے ہیں۔ماہی شازل کی بات پہ اُس سے بولی تو شازل جو بیڈ پہ جارہا تھا پلٹ کر غور سے اُس چہرہ دیکھنے لگا
ک کیا ہوا۔ماہی اُس کے ایسے دیکھنے پہ گِڑبڑائی۔
یس آئے نو اِٹ۔شازل پرجوش آواز میں بولا تو ماہی ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی۔
کیا پتا تھا آپ کو؟ماہی بیزار ہوئی۔
بیضوی شکل بیضو نین نقش رائٹ؟شازل اُس کے الفاظ دوہراتا تائید انداز میں اُس کو دیکھنے لگا۔
رائٹ۔ماہی نے کہا
یو نو واٹ جب میں نے تمہیں پہلی بار دیکھا تھا نہ تبھی مجھے فیل ہوا تھا جیسے تمہاری شکل دیکھی دیکھی ہوئی سے ہے مگر تب ٹھیک سے یاد نہیں آیا مگر اب یاد آیا میں نے جب قائد اعظم کی ہسٹری پڑھی تو اُس میں لکھا تھا قائد اعظم کا قد لمبا تھا اور چہرہ بیضوی تھا اور اب یاد آیا تمہاری شکل تو قائد اعظم محمد علی جناح سے ملتی ہے۔شازل پرجوش آواز میں کہتا ماہی کے ارمان میں پانی پھیرچُکا تھا اُس کو یہ بات اچھے سے سمجھ آئی تھی شازل سے کسی سیریس اور رومانٹک بات کی اُمید رکھنا مطلب آ بیل مجھے مار کے مُصداق ہے۔
قائد اعظم؟سیریسلی شازل میں آپ کو اُن کے جیسی لگتی ہوں کیا آپ کو کوئی اور نہیں ملا تھا جو کسی مرد سے میری شکل ملوادی۔ماہی بامشکل خود پہ قابو کیے دانت پیس کر بولی
بڑی ہی کوئی ناشکری ہو میں تم سے قائد اعظم جو ہمارے مُلک کے بانی تھے اُس کی شکل سے تمہاری شکل ملوا کر تم اتنا بڑا اعزاز دے رہا ہوں اور تم یوں نخرے دیکھا رہی ہو۔شازل تاسف سے اُس کی جانب دیکھ کر اپنا سر نفی میں ہلانے لگا۔
مجھے نہیں چاہیے اتنا بڑا اعزاز شکریہ۔ماہی منہ بسور کر بولی
ناشکری جو ہو۔شازل اتنا کہتا بیڈ پہ آرا تراچھا لیٹا۔
مجھے آپ ایک بتائے کیا پوری۔۔۔۔دُنیا میں آپ کو ایک قائد اعظم ملا تھا جس سے آپ میرا موازنہ کرنے لگ گئے۔ماہی اُس کے کجھ فاصلے پہ بیٹھ کر پوچھنے لگی۔
آج ہمارا پاکستان جو آزاد ہے نہ وہ اُن کے بدولت ہے اور میں نے تمہارا چہرہ اُن سے ملایا ہے تمہیں تو خوش ہونا چاہیے ایسے موازنے پہ۔شازل بھی اپنے نام کا ایک تھا۔
مجھے آپ غور سے دیکھے کیا پتا اب علامہ اقبال جیسا لگے۔ماہی تپ کے بولی تو شازل نے اپنا قہقہقہ ضبط کیے اُس کا جائزہ لینے لگا۔سیاہ ریشمی بال جن کی آوارہ لٹیں اُس کے دونوں گالوں کو چوم رہی تھی پُرکشش آنکھیں پتلے ہونٹ جن کا اُس نے پاؤٹ بناکر جیسے اپنی طرف سے ناراضگی کا اظہار کیا تھا ماہی کی رنگت زیادہ گوری چٹی نہیں تھی گندمی مگر صاف تھی اُس کے نین نقش بہت خوبصورت تھے پر جو اُس کو سب سے منفرد بناتا تھا وہ اُس کی معصومیت تھی جو اُس کے چہرے سے صاف عیاں تھی اگر شازل کو اُس کی کوئی بات اٹریکٹ کرتی تھی تو وہ اُس کی معصومیت اور باتیں تھی جو وہ ناسمجھی کے عالم میں بیان کرجاتی تھی دیکھنے میں وہ پہلے بہت دُبلی پتلی سی تھی مگر اب کجھ ماہ سے پریگنسی کی وجہ سے اُس کا وجود بھرا بھرا سا ہوا تھا شازل کی نظریں اُس کے چہرے سے ہٹ کر کندھوں پہ اوڑھی شال پہ پڑی جس سے اُس نے اپنا سارا وجود چُھپایا ہوا تھا کپڑے بھی وہ کافی کُھلے ہوئے پہننے لگی تھی۔ماہی کا سارا جائزہ لینے کے بعد شازل کے چہرے پہ گہری مسکراہٹ آئی تھی۔
دن بدن گولوں مولوں ہوتی جارہی ہو۔شازل اتنا کہتا زور سے قہقہقہ لگانے لگا۔ ماہی جو شازل کی خود پہ مسلسل نظریں محسوس کیے اب یہ سوچے ہوئے تھی کے وہ ایک لفظ تعریف کا ضرور بولے گا مگر اُس کی بات سن کر اُس کا پورا چہرہ سرخ ہوگیا تھا شازل نے صحیح معنوں میں اُس کے ارمانوں کا ق”ت*ل کیا تھا۔
بہت ہی مین انسان ہیں آپ۔ماہی تپ کے کہتی اُس کے اُپر تکیوں کی بارش کرنے لگی مگر شازل کی ہنسی رُک ہی نہیں رہی تھی اُس کو ماہی کا تپا تپا سا چہرہ مزا دے رہا تھا اُس کو ایک عجیب سا سکون ملتا تھا ماہی کو تنگ کیے اور شازل کو اپنا یہ سکون بہت عزیز تھا جس کا احساس اُس کو فلوقت نہیں تھا۔
