Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 08)

Haal e Dil by Rimsha Hussain

عیشا کب سے یمان کے کمرے کے دروازے کے پاس کھڑی یمان کو دیکھ رہی تھی جو آج کالج جانے کے لیے ایسے تیار ہورہا تھا جیسے کسی کی شادی میں جارہا ہوں۔

میرے بھائی خیر تو ہے کیا ہوا ہے تمہارے انداز آج کجھ نرالے لگ رہے ہیں۔عیشا سے رہا نہیں گیا تو بول پڑی۔

خیر ہے کیوں آپ کو نظر نہیں آرہا۔یمان اپنی شرٹ کا کالر ٹھیک کرتا سرسری لہجے میں بولا اُس کو بس کالج جانے کی جلدی تھی

آج سے پہلے تو اتنا تیار شیار ہوکر کالج نہیں گئے تو آج کس کو ایمپریس کرنے کا اِرادہ ہے۔عیشا کی سوئی ایک ہی بات پہ اٹک گئ۔

ایسی کوئی بات نہیں یہ میرا روزانہ معمول ہے۔یمان مزید سوالوں سے بچتا بول کر اپنا کالج بیگ اُٹھا کر کمرے سے باہر چلاگیا۔

کجھ سوچ کر عیشا بھی اُس کے پیچھے صحن تک آئی۔یمان نے تاڑ پہ کپڑے ڈالتی فجر کو دیکھا تو اُس کی جانب آیا۔

آپی میں کیسا لگ رہا ہوں؟یمان فجر کے پاس آکر بولا فجر نے پلٹ کر حیرت سے اُس کو دیکھا کیونکہ آج سے پہلے یمان نے کبھی ایسی کوئی بات نہیں پوچھی تھی کے میں کیسا لگ رہا ہوں؟

بتاؤ بتاؤ آج تمہارا ڈمپل بوائے فرصت سے تیار ہوا اور تو اور میل فیئر لولی کریم بھی لگائی ہوئی ہے چہرے پہ۔عیشا اپنی ہنسی دبائے شرارت سے اُس کو دیکھ کر بتانے لگی تو یمان سٹپٹاگیا۔

تو اِس میں کونسی بڑی بات ہے آپ بھی تو اپنے چہرے پہ اتنی ملتی ہیں۔یمان نے حساب برابر کیا۔جب کی فجر کبھی یمان کو دیکھتی تو کبھی عیشا کو۔

ایک منٹ ایک منٹ کیا واقع یمان تم نے آج کریم لگائی ہوئی ہے۔فجر نے مداخلت کرتے یمان سے پوچھا تو وہ کان کی لو کُھجانے لگا۔

جی اِس میں اتنا حیران ہونے والی تو کوئی بات نہیں کونسا مجھ پہ پابندی ہے۔یمان کجھ بدمزہ ہوا۔

نہ میرے بھائی کو پابندی تو نہیں مگر تمہیں ضرورت کیا تھی اپنے گورے چٹے چہرے پہ کریم لگانے کی سفید بھالوں بننے کا شوق چڑھا ہے کیا؟عیشا کی بات پہ یمان کا ہاتھ بے ساختہ اپنے چہرے پہ پڑا۔

آپی کیا واقع میں بھالوں لگ رہا ہوں۔یمان پریشان ہوتا فجر سے بولا۔

پاگل بنارہی ہے تمہیں اِس کو چھوڑو اور کالج کے لیے نکلو لیٹ ہورہا ہے۔فجر اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیر کر بولی۔

یمان نے عیشا کو دیکھا جو ابھی بھی شوخ نظروں سے اُس کو دیکھ رہی تھی۔

اللہ پوچھے آپ سے۔یمان نروٹھے پن سے بولا تو عیشا ہنسی۔

پہلی پہلی بار محبت کی ہے۔

کجھ نہ سمجھ میں آئے میں

کیا کروں عشق نے میری

ایسی حالت کی ہے

کجھ نہ سمجھ میں آئے میں

کیا کروں۔۔

عیشا فجر کے ساتھ کھڑی ہوکر اُس کو چڑانے کے لیے گاناگانے لگی تو یمان نے باہر نکلنے میں عافیت سمجھی۔

تمہیں نہیں لگتا یمان میں بدلاؤ آرہا ہے۔یمان باہر نکل گیا تو عیشا سنجیدگی سے فجر سے بولی۔

بڑا ہورہا ہے شاید اِس لیے۔فجر نے کہا.

شاید پر وہ تھوڑا عجیب ہوگیا ہے اکیلے اکیلے مسکراتا ہے کھویا ہوا رہتا ہے اب خود کو مینٹین کرنے لگا ہے کہاں پہلے اُس کے ماتھے پہ بال بکھرے ہوتے تھے اور اب نفاست سے بالوں کو کنگھی کرتا ہے جہاں پہلے پانچ منٹ میں تیار ہوتا تھا اب آدھا گھنٹہ لگادیتا ہے۔عیشا نے جو کجھ محسوس کیا وہ سب بتانے لگی۔

تمہاری باتوں کا مطلب؟فجر غور سے اُس کو دیکھ کر پوچھنے لگی۔

مطلب صاف ہے مجھے لگتا ہے ہمارے بھائی کو محبت ہوگئ ہے۔عیشا بنا دیر کیے کہا تو فجر نے اُس کے بازوں پہ زور سے چٹکی کاٹی جس وہ بُلبُلا اُٹھی۔

شرم کرو یمان کی عمر کیا ہے بس سترہ سال اُس کو تو ٹھیک سے محبت لفظ کا مطلب نہیں پتا کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔فجر نے گھور کر کہا۔

جو بھی مجھے تو پیار کی علامت لگ رہی ہے اور سترہ سال عمر اتنی کم بھی نہیں ویسے بھی محبت میں عمروں کا کیا کام۔عیشا سرجھٹک کر بولی۔تو فجر کو پریشانی نے آ گھیرا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کالج آکر یمان سیدھا لائبریری آیا تھا جہاں اُس کی سوچ کے مطابق آروش پہلے سے موجود تھی۔یمان نے ایک بھرپور نظر پوری لائبریری میں ڈالی جہاں موجود سب شاگرد پڑھنے میں مصروف تھے۔یمان چلتا ہوا آروش کے سامنے والی چیئر پہ بیٹھ گیا۔

اسلام علیکم!یمان پہلے تو بس اُس کو دیکھتا رہا پھر ہمت کرکے سلام جہاڑا۔یہ سوچ کرکے سلام کا جواب دینا ہر مسلمان پہ فرض ہے۔۔

وعلیکم اسلام!آروش اپنی نظریں کتاب پہ جمائے سلام کا جواب دینے لگی تو یمان نے اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کر اُس کو ڈپٹا

کیسی ہیں آپ؟یمان نے دوسرا سوال کیا۔

ٹھیک۔آروش نے مختصر جواب دیا یمان کے لیے یہی بہت تھا۔

اُس سے پہلے یمان مزید کجھ پوچھتا آروش اپنی جگہ سے اُٹھ کر لائبریری سے باہر چلی گئ ہمیشہ کی طرح یمان دل مسوس کرکے رہ گیا۔۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

ماہی کو شاہ حویلی لایا گیا تھا وہ جیسے ہی حویلی داخل ہوئی شبانا اُس کی طرف بڑھتی

زوردار تھپڑ اُس کے گال پہ مارا۔ماہی کو اپنا گال جلتا محسوس ہوا تکلیف سے اُس نے اپنی آنکھوں کو بند کردیا۔

توں(گالی)تیرے خبیث بھائی کی وجہ سے میرا سہاگ اُجڑ گیا۔شبانا ایک کے بعد ایک تھپڑ اُس کے چہرے پہ مار کر اپنے اندر کی بھڑاس نکالنے لگی۔باقی سب خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے لگے۔

اِس میں میرا کیا قصور

چٹاخ

چٹاخ۔

ماہی نے ہمت کرکے کجھ کہنا چاہا پر فاریہ بیگم ایک بعد ایک تھپڑ اُس کے چہرے پہ مارا جس پہ ماہی نڈھال ہوتی نیچے بیٹھتی چلی گئ۔شبانا خونخوار نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی۔

آج زبان کھولی دوبارہ مت کھولنا۔شبانا اُس کے بالوں سے پکڑتی وارن کرنے لگی۔

آآ۔

اتنی سخت گرفت پہ ماہی کراہ اُٹھی۔

حریم نے سیڑھیوں کے پاس کھڑے ہوکر ہال کا منظر دیکھا تو اُس کو اپنی آنکھوں پہ یقین نہیں آیا وہ جلدی سے بھاگ کر نیچے آئی۔

بھابھی کیا ہوگیا چھوڑے انہیں۔حریم شبانا ہاتھ پکڑ کر روک کر بولی جو کبھی ماہی کے چہرے پہ تھپڑ ماررہی تھی تو کبھی اُس کے پیٹ پہ لاتیں برسارہی تھی۔ملازمائیں رحم کرتی نظروں سے ماہی کمزور سِراپا دیکھ رہی تھی جب کی فاریہ بیگم بے تاثر نظروں سے اُس کو دیکھ رہی تھی۔

تم بیچ میں مت آؤ۔شبانا جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑواتی کھینچ کر ماہی کو تھپڑ مارا۔ماہی کو لگا آج اُس کی زندگی کا آخری دن ہے۔

بھابھی چھوڑے اِنہیں کیوں بے چاری پہ ظلم کررہی ہیں۔وہ مسلسل ماہی کو چھڑوانے کے چکر میں تھی پر اُس کی سننے کو کوئی تیار کب تھا۔

پہلے بھی کہا اب بھی بول رہی ہوں تم بیچ میں مت آؤ ورنہ تمہارا بھی میرے ہاتھوں نقصان ہوجائے گا۔وہ نفرت آمیز لہجے میں کہتی در پہ در ماہی کے نازک گالوں پہ تھپڑ مارنا شروع ہوگئ ماہی کے منہ سے درد ناک چیخ نکلی حریم کی آنکھیں پھٹنے کی حد تک کھل چُکی تھی اُس نے التجا کرتی نظروں سے اپنی پھپھو کو دیکھا جو سکون سے ملازماؤ کے ساتھ کھڑی تھی۔

پھپھو آپ روکے نہ اللہ ناراض ہوجائے گا یوں کسی پہ ظلم نہیں کرتے اُس بے چاری کا کیا قصور ہے۔حریم نے منت کرنے والے انداز میں کہا

ونی میں آئی ہوئی ہے یہ ہے اِس کا قصور اِس کے بے غیرت بھائی نے میرا سہاگ اُجاڑا ہے اِس کو تو میں جینے نہیں دوں گی۔جواب اُس کی بھابھی نے دھاڑنے والے انداز میں دیا

پلیز بھابھی چھوڑدے وہ مرجائے گی۔حریم نے ایک بار پھر بے حس بنی بھابھی سے منت کی جواب میں اُس کو خون آشام نظروں سے اُس کو دیکھتی دھکادیا جس سے اُس کا سر ٹیبل پہ لگا اُس نے کراہ کر ماتھے پہ ہاتھ لگا تو خون کی بوندیں نظریں آئی اپنی تکلیف کو نظرانداز کرتی اُس نے رحم بھری نظر نیم بے ہوش وجود پہ ڈال کر کھڑی ہوگئ اُس کا رخ اب اُپر کی جانب تھا۔

آپی

آپی

خدا کا واسطہ کا جلدی سے دروازہ کھولے۔اُپر آکر اُس نے دروازے کو پیٹ ڈالا

کیا ہوگیا ہے۔آروش نے دروازہ کھول کر ایک نظر اُس کے ماتھے پہ لگی چوٹ پہ ڈال کر استفسار کیا

وہ پلیز اُن کو بچالیں ورنہ وہ مرجائے گی۔حریم نے پُھولی ہوئی سانسوں کے درمیان کہا اُس کا تنفس بُری طرح بگڑگیا تھا سیڑھیوں سے تیز بھاگ کر آنے کی وجہ سے۔

کون کس کو ماردے گا؟آروش نے آئبرو سیکڑ کر پوچھا

جو لڑکی آج آئی ہیں اُن کو بے چاری کی حالت بہت بُری ہوگئ ہے۔حریم نے افسردہ لہجے میں بتایا

تو؟اُس نے نارمل لہجے میں پوچھا

تو آپ نیچے چلیں آپ بھابھی کو روک سکتی ہیں تاکہ وہ اُس پہ ظلم نہ ڈھائے ہم تو کب سے روکنے کی کوششوں میں ہیں پر ہماری کسی نے نہیں سُنی آپ آجائے آپ روک سکتی ہیں۔حریم کی بات پہ اُس کے چہرے پہ سایہ آکر لہرایا

پلیز اللہ کا واسطہ ہے آپ کو اِس کو چھوڑدے میں ہر بات مانوں گی آپ کو پر اُس کو مت مارے اللہ سے ڈرے۔

اپنی سوچو کو جھٹکتی بے تاثروں نظروں سے حریم کے پریشان چہرے کو دیکھا

اُس کو یہاں چھوڑ کر جانے والے اُس کے اپنے ہیں تمہیں اُس کے لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ اپنے انجام سے واقف وہ خود بھی ہوگی۔آروش نے سپاٹ لہجے میں کہا

مطلب آپ نہیں چلے گی۔حریم کی جیسے آخری اُمید بھی ختم ہوگئ

نہیں کیونکہ نہ تم روک سکتی ہو نہ میں تم اندر آؤ میں تمہارے ماتھے کی ڈریسنگ کرلوں۔آروش نے اُس کے ماتھے سے گالوں تک آتی خون کی لکیر کو بہتے دیکھا تو ہاتھ پکڑ کر کہا حریم نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ پیچھے کیا

ہمیں آپ سے اتنی بے حسی کی اُمید نہیں تھی حیرت ہورہی ہے آپ اتنی بے حسی کا مظاہرہ کیسے کرسکتی ہیں۔حریم نے افسوس بھرے لہجے میں کہا

یہاں رہنے والا ہر فرد بے حس بن جاتا ہے ایک دن تمہارا شمار بھی ہوگا۔آروش سرد لہجے میں بولی تو اُس نے سرجھٹکا

ہم اتنے ظالم کبھی نہیں ہوسکتے کیونکہ ہمارا ضمیر ابھی زندہ ہے مر نہیں گیا جو کسی پہ ظلم ہوتا دیکھے اور کجھ محسوس بھی نہ ہو۔حریم نے اختلاف کیا

ضمیر کو مرنے میں وقت نہیں لگتا۔آروش سنجیدگی سے کہتی ٹھاہ کی آواز سے دروازہ بند کیا۔

حریم نے بے بس نظروں سے بند دروازے کو دیکھا ماہی کی دلخراش چیخے وہ یہاں بخوبی سن سکتی تھی اُس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے خود پہ بھی اُس کو بے اختیار غصہ آیا وہ کیوں اُس کے لیے کجھ کر نہیں پائی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پھینک آؤ اِس کو کہی کسی کونے میں۔شبانا ماہی کو مار مار تھک گئ تو پاس کھڑی ملازمہ سے بولی جو اُس کی بات پہ سرہلاتی نیم بیہوشی کی حالت میں ماہی کو لیتی سٹوروم کی طرف جانے لگی۔

شازل لالہ سے نکاح ہوا ہے اِس منہوس کا شکر ہے شازل لالہ نہیں ہے گاؤں میں۔نازلین جو ابھی آئی تھی نیچے ملازماؤں کے سہارے چلتی ماہی کو دیکھا تو بتایا۔

ہوتا تو کیا کرتا۔شبانا کاٹ کھانے والی نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولی۔

وہ بچپن میں اپنی بلی کو ہاتھ لگانے نہیں دیتے تھے تو سوچے اگر وہ اپنی بیوی کا حال ایسا دیکھے گے تو کیا ری ایکشن دے گے۔نازلین نے کہا

بیوی نہیں ونی میں آئی ہے بس اِس کی کوئی اوقات نہیں۔شبانا آپے سے باہر ہوئی۔

جو بھی

جو بھی کیا تیرے بھائی کے قاتل کی بہن ہے وہ منہوس۔شبانا جھلا کر کہتی وہاں سے چلی گئ۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

واٹ توں نے نکاح کردیا۔رضا شاکی نظروں سے شازل کو دیکھتا بولا جو ابھی پہنچا تھا وہاں۔

بدقسمتی سے ہاں۔شازل اپنے ہاتھ بالوں میں پھنساتا ناگواری سے بولا

یہ تو اچھا نہیں ہوا۔ارحم نے باتوں میں حصہ لیا۔

اچھا یا بُرا میں کسی کی باتوں یا پریشر میں نہیں آنے والا میں کبھی گاؤں نہیں جانے والا اب۔شازل غصے سے اپنے منصوبوں سے آگاہ کرنے لگا۔

وہ تمہارا ابائی گاؤں ہیں اور اب تو تیری بیوی بھی وہاں ہیں۔ارحم نے اُس کو سمجھانا چاہا۔

واٹ ربش۔شازل ناگواری سے کہتا اُٹھ کھڑا ہوا۔

جانے اُس بے چاری کے ساتھ کیا ہورہا ہوگا اور یہ یہاں غصے سے بھنا بیٹھا ہے۔رضا نے شازل کو جاتا دیکھا تو افسوس سے کہا

💕
💕
💕
💕
💕
💕

رات کا وقت تھا آروش کچن میں آتی وہاں سے پہلے فرسٹ ایڈ بوکس لیا ایک ٹرے نکال کر اُس نے پہلے دودھ گرم کیا دو روٹیاں پکاکر اُس نے فریج سے سالن نکال کر اُس کو بھی گرم کیا۔

فرسٹ ایڈ بوکس دودہ کا گلاس کھانا یہ سب ٹرے میں سیٹ کرتی وہ سٹوروم میں آئی جہاں ماہی کو رکھا گیا تھا۔

دروازہ کُھلنے کی آواز پہ ماہی ڈر کر خود میں سمٹ کر بیٹھی گئ اُس کے چہرے پہ خوف کی پرچھایا چھانے لگی۔

ڈرو نہیں میں ہوں آروش شھباز۔آروش نیچے اُس کے ساتھ بیٹھ کر درمیان میں ٹرے رکھ کر بولی۔

ماہی نظریں اُٹھا کر اُس کو دیکھنے لگی جو براؤن کلر کے شلوار قمیض کے ساتھ ہم رنگ ڈوپٹہ پہنے کندھوں پہ کالی شال ڈالے ہوئی تھی۔ماہی نے پہلی بار اُس کو دیکھا تھا اُس کو یاد تھا اکثر آمنہ آروش کی تعریف کیا کرتی تھی جس پہ اُس کس یقین نہیں آتا تھا یا بے زار ہوجاتی تھی مگر آج اپنے اس کو دیکھ کر ماہی کو لگا جو کجھ سُنا تھا وہ تو کجھ بھی نہیں سامنے کھڑی لڑکی اُس سے زیادہ تھی۔

پہلے ڈریسنگ کرلوں تمہاری اُس کے بعد تم کھانا کھالینا۔آروش نے اُس کی نظروں میں اپنے لیے ستائش دیکھ لی تھی جس کو نظرانداز کیے نارمل لہجے میں اُس سے بولی

زخم دینے والے مرہم لگاتے ہوئے اچھے نہیں لگتے۔ماہی نے طنزیہ کہا۔

میرے سامنے زبان چلانے سے اچھا ہے اُن کے ہاتھ روکتی کو مارنے کے لیے تمہاری طرف بڑھ رہے تھے۔آروش نے مسکراکر میٹھا سا طنزیہ کیا ساتھ میں اُس کے سوجھے ہوئے گالوں پہ مرہم لگانے لگی۔

ونی کی کیا اوقات ہوتی ہے وہ میں باخوبی جانتی ہوں ہاتھ روکتی تو تمہارے گھروالے میرے ہاتھ کاٹ ڈالتے۔ماہی کو خود پہ رونا آیا۔

ہاتھ نہیں کاٹتے ظاہر ہے تم سے اب کام بھی تو کروانے ہیں۔آروش بے حسی سے بولی۔

میں لگالوں گی۔آروش نے اُس کے ماتھے پہ لگی چوٹ پہ ڈریسنگ کرنی چاہی تو ماہی نے کہا

تم اپنی انرجی ضائع مت کرو کل کام آئے گی۔آروش کی بات پہ ماہی کو سمجھ نہیں آیا وہ ہمدردی کرنے آئی ہے یا اُس کے زخموں پہ نمک چھڑکنے۔

کھانے میں کیا پسند ہے تمہیں۔آروش روٹی کا نوالہ اُس کے منہ کے پاس کرتی پوچھنے لگی

سب کھالیتی ہوں۔ماہی ایک نظر اُس کو دیکھ کر بولی۔

گُڈ۔آروش سرہلاکر بولی۔

اُٹھو۔کھانا کھانے کے بعد آروش کھڑی ہوتی اُس سے بولی۔

پر کہاں؟ماہی ایک بار پھر خوفزدہ ہوئی۔

کیا ساری رات یہی رہ کر گُزارنی ہے۔آروش نے پوچھا تو ماہی نے چاروں اطراف دیکھا جہاں دھول مٹی کے علاوہ کجھ نہیں تھا۔یقیناً چوہے بھی ہوگے۔

میری قسمت میں تو اب یہی ہے۔ماہی مایوس ہوئی۔

آؤ لالہ کے کمرے میں چھوڑ آؤں تمہیں تمہارے شوہر کے کمرے میں ہونا چاہیے۔آروش کی بات پہ ماہی کو اچانک یاد آیا اُس کا شوہر بھی ہے جس کے ہوتے ہوئے بھی اُس کا ساتھ اتنا ظلم ہوا۔

اگر وہ بھی مارے توں۔یہ سوچ آتے ہی اُس کے وجود میں سنسنی پھیل گئ۔

میں یہی ٹھیک ہوں۔ماہی نے کہا

ایز یو وِش۔آروش کندھے اُچکاکر سٹوروم سے چلی گئ۔

اتنی بُری تو نہیں میں خوامخواہ چڑ کھاتی تھی۔آروش کے جانے کے بعد ماہی نے راے قائم کی آروش کے مطلق۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *