Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 55)

Haal e Dil by Rimsha Hussain

ارمان سے بات کرنے کے بعد یمان اپنا سیل فون اسکرول کرنے لگا تو اُس کی نظر اپنی تصاویرات پہ پڑی جہاں لائیکس اور کمینٹس کی بھرمار تھی۔

اگر کوئی پراٹھا کِھلانے والا مل جائے تو میں بھی ابھی شادی کرلوں ورنہ کنواری مرجاؤں۔

لاحوال ولاقوة۔یمان کی نظر ایک کمنٹ پہ پڑی تو بے ساختہ کہا۔

جو بھی تصویر تو خاصی لی ہے نجمہ نے۔یمان اپنی تصویر زوم کرکے دیکھتا مسکراکر بولا تبھی اُس کے دماغ میں کجھ کلک ہوا۔

ہائے بنا فلٹر کے آپ کی تصویریں کتنی پیاری آئی ہے اگر میں ایک دو اپنی انسٹا اکاؤنٹ میں لگادوں تو ضرور وائرل ہوجانی ہے پھر ہر ایک اپنے پیج پہ پوسٹ کرے گا اور کیپشن ہوگا پاکستان کا مشہور گلوکار یمان مستقیم کی پراٹھے بنانے وقت خوبصورت تصاویر سوشل میڈیا پہ دھوم مچاتے ہوئے۔

نجمہ تمہیں تو میں آج چھوڑوں گا نہیں۔یمان دانت پیس کر کہتا بلینکٹ ہٹاکر بنا پاؤں میں سلپر پہنے ایسے ہی کمرے سے باہر نکل گیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آپ آج جلدی اُٹھ گئ تو سوچا آپ کے لیے ناشتہ یہی لے آؤں۔نجمہ آروش کے کمرے میں آتی اُس سے بولی۔

ہممم میں جلدی اُٹھتی ہوں اِس لیے تم چھ بجے کے قریب میرا ناشتہ لادیا کرو۔آروش اُس کو دیکھ کر بولی۔

ٹھیک ہے مگر اتنی جلدی؟نجمہ حیران ہوئی۔

فجر نماز پڑھنے کے بعد نیند نہیں آتی۔آروش پراٹھے کا نوالہ توڑ کر بولی

آپ بھی دیر اُٹھنے کی عادت ڈال دے کیونکہ یہاں کوئی بھی دس گیارہ بجے سے پہلے نہیں اُٹھتا۔نجمہ نے کہا

مجھے اِن کے جیسا بننے کا کوئی شوق نہیں۔آروش سنجیدگی کہہ کر نوالہ منہ میں ڈال تو سخت بدمزہ ہوئی۔

یہ کیا ہے؟کل تو اتنے اچھے تھے اور آج اتنے نمکین کیوں ہے؟کل کس نے بنائے تھے؟اور آج کس نے بنائے ہیں آروش کڑوا منہ بناتی نجمہ سے بولی

‘پراٹھے بھی تم نے بنائے ہیں اگر وہ پوچھے تو۔”

آروش کے سوال پہ نجمہ کو یمان کا جُملا یاد آیا۔

میں نے بنائے تھے۔نجمہ نے کہا

اور آج کس نے؟آروش پانی کا گلاس ہاتھ میں پکڑ کر اُس سے بولی

کُک نے نمکین اِس وجہ سے ہیں شاید اُس نے آٹا گوندنے وقت نمک میکس کردیا ہوگا۔نجمہ نے بتایا

آئیندہ سے تم ہی پراٹھے بنایا کروں گی اور ٹھیک چھ بجے یہاں دے دیا کرو۔آروش ٹرے پڑے کیے اُس سے حکیمہ لہجے میں بولی

چھ بجے تو وہ اُٹھتے نہیں۔نجمہ کی زبان بے اختیار پِھسلی۔

کون نہیں اُٹھتا؟آروش ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی۔

میرا بھائی کچن کا دروازہ اُس نے کُھولنا ہوتا ہے نہ۔نجمہ نے گڑبڑاکر کہا

تو ڈوپلیکیٹ چابی بنوالوں اپنے لیے۔آروش نے مشورہ دیا

جو حُکم میرے آقا۔نجمہ ٹرے ہاتھ میں لیتی جانے لگی جب آروش نے کہا

سُنو یہ پراٹھے تم کھالینا ایسے پھینک کر ضائع نہ کرنا۔

کل والے پراٹھے کھانے وقت تو آنکھیں ماتھے پہ رکھ لی تھی اور اب کیسے بول رہی۔نجمہ آروش کی بات پہ بس سوچ سکی

اور کوئی حُکم؟نجمہ نے پوچھا

نہیں جاؤ تم۔آروش نے کہا تو وہ کمرے سے باہر چلی گئ۔

ایک حویلی کے ملازمائیں ہوتی تھی جن کو دیکھ کر ایسا لگتا کے روبوٹ ہیں اور یہاں کی ہے جن کی زبانیں قینچی سے زیادہ تیز ہیں۔نجمہ کے جانے کے بعد آروش تاسف سے بڑبڑائی۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

تم؟یمان سارے گھر میں نجمہ کو تلاش کرتا اپنے کمرے میں جارہا تھا جب اُس کی نظر آروش کے کمرے سے نکلتی نجمہ پہ پڑی تو اُس سے پہلے وہ کجھ کہتا نجمہ نے ٹرے اُس کے سامنے کی۔

انہوں نے ناشتہ نہیں کیا؟طبیعت ٹھیک نہیں تو میں کسی ڈاکٹر کو فون کروں؟یمان جس مقصد سے نجمہ کو تلاش کررہا تھا وہ بھول کر فکرمندی سے بولا

میرے خیال سے ڈاکٹر کی ضرورت آپ دونوں کو ہے اگر آپ دونوں نے اپنا علاج نہیں کروایا تو ضرور ممکن ہے ایک دن میں پاگل خانے میں چیختی چلاتی ہر ایک کو نظر آؤں گی۔نجمہ یمان کی بات کے جواب میں بولی

کیا پاگلوں والی بات کررہی ہو؟یمان نے عجیب نظروں سے اُس کو دیکھا

صاحب تو اور کیا کہوں؟ایک وہ محترمہ ہے جن کو آئے مشکل سے بیالیس گھنٹے ہوئے ہیں مگر اتنے میں جتنی بار میں نے اُپر سے نیچے۔نیچے سے اُپر تک کا سفر کیا ہے نہ میرا وزن ضرور گِرتا جائے گا ایک وہ ہے جن کو پانی بھی کمرے تک دینا پڑتا ہے مجال ہے جو غلطی سے بھی پیر باہر کو نکالے ایسے تو مہمانون کا رویہ بھی نہیں ہوتا اور اب اُن کو یہ پراٹھے نہیں کھانے آپ کے بنائے ہوئے پراٹھے پسند آگئے ہیں وہ کھانے ہیں وہ بھی صبح کے چھ بجے جب کی وہ وقت آپ کے سونے کا ہوتا ہے رات کے ایک دو بجے آپ کی آمد ہوتی ہے گھر میں۔نجمہ ایک سانس میں بولی۔

کیا وہ ایک دفع بھی کمرے سے باہر نہیں آئی؟یمان فکرمند ہوا

نہیں اور جب میں کمرے میں جاؤں تو مجھے بار بار بتانا پڑتا ہے میں نجمہ ہوں آپ کے لیے ناشتہ لائی ہوں۔آپ کے لیے کھانا لائی ہوئی؛آپ کے لیے جگ پانی کا لائی ہوں اگر نہ بتاؤں تو چاہے باہر والا دروازہ کھٹکھٹاکر سوکھ کر کانٹا ہوجائے اُنہوں نے دروازہ نہیں کھولنا ہوتا میں تو اب نیند میں یہ بڑبڑانے لگی ہوں کے میں نجمہ ہوں؛میں نجمہ ہوں۔نجمہ روہانسی ہوگئ تھی۔

گھر میں کون کون ہوتا ہے؟یمان نے بس اتنا پوچھا

آپ لوگ ہوتے ہیں میں ہوتی ہوں رشیدہ ہوتی ہوں اُس کے علاوہ کُک ہوتا ہے صفائی کرنے والا مختار ہوتا ہے نور صاحبہ کے بچوں کا خیال کرنے والا گلنواز ہوتا ہے بڑے صاحب کا ڈرائیور بھی کبھی کبھی آجاتا ہے۔نجمہ نے پورا حساب کرکے بتایا۔

ہممم اچھا میں پراٹھے بنادیتا ہوں تم لے جانا۔یمان پرسوچ انداز میں بولا

آپ اُن کے لیے ایسا کیوں کررہے نک چڑھی ہے ایک لفظ تعریف کا نہیں بولنا انہوں نے۔نجمہ نے منہ کے زاویئے بگاڑ کر کہا

یہ میں اُن کے لیے کررہا ہوں ایک لفظ تعریف کے لیے نہیں اُس کے لیے پوری دُنیا بیٹھی ہے۔یمان اُس کے ہاتھ سے ٹرے لیتا بولا

باتیں اچھی کرلیتے ہیں مگر ٹرے مجھے دے آپ کی اُن کا حکم ہے یہ میں کھاؤں۔نجمہ یمان کے بار بار ‘ان”لفظ پہ بدمزہ ہوتی بولی جب کی یمان کے چہرے پہ آپ کی ان پہ گہری مسکراہٹ آئی تھی۔

یہ میں کھالوں گا تم کھاؤں تو ہوسکتا ہے تمہارا ویٹ بڑھے پھر موٹی لڑکی سے کون شادی کرے گا۔یمان ہونٹ دانتوں تلے دبائے بولا

آپ اُن کا چھوٹا ہوا کھانا کیوں کھانے لگے اور یہ وزن کی فکر آپ سیلیبرٹیز کو ہوتی ہے ہم کو نہیں اور اگر آپ کو یاد ہو تو بتادوں جب آپ کو اٹیک آیا تھا تو ڈاکٹرز نے سخت تاکید کی تھی کے آپ کوئی بھی زیادہ تیل والی چیز نہ کھائے ویسے بھی آپ ڈائیٹ کونشئس انسان ہے۔نجمہ کو یمان کی بات کجھ پلے نہیں پڑی۔

اگر تمہیں یاد ہو تو کل دیسی گیھ آیا تھا وہ کھانے سے کجھ نہیں ہوتا دوسرا مجھے اٹیک آیا تھا وہ پُرانی بات ہے۔یمان سکون سے کہتا کچن کے راستے جانے لگا

مانا وہ پُرانی بات ہے مگر تاکید تو عمر بھر کے لیے تھی۔نجمہ اُس کے پیچھے چلتی ہوئی بولی

دماغ خراب نہیں کرو اور نور آپی کے کمرے میں جاؤں اُن کے بچے جاگ گئے ہوگے۔یمان نے سنجیدگی سے اُس کو ٹوکا

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

ان کی زندگی میں بھی پرائیویسی نام کی کوئی چیز نہیں۔شازل اپنے لیپ ٹاپ پہ یمان کی تصویریں دیکھتا افسوس بھرے لہجے میں بولا۔

کن کی زندگی میں؟ماہی جو ڈرائے فروٹ کھانے میں مشغول تھی شازل کی بات پہ بولی

تم فروٹ کھاؤ۔شازل نے کہا تو ماہی کا منہ بن گیا

دیکھائے نہ۔ ماہی زبردستی لیپ ٹاپ کی اسکرین اپنی طرف کی تو یمان کی تصورات دیکھ کر اُس کی آنکھیں پوری طرح سے کُھلی کی کُھلی رہ گئ۔

یہ یمان مستقیم ہے نہ؟ماہی نے شازل سے پوچھا

ہاں یمان مستقیم ہے تمہارے چچا کا بیٹا نہیں جو اتنی دیدے پھاڑ کر دیکھ رہی ہو مجھے تو کبھی اِس طرح نہیں دیکھا۔شازل لیپ ٹاپ کی اسکرین کی بند کرتا اُس سے بولا

میرے چچا کا بیٹا ہوتا پھر تو کیا ہی بات ہونی تھی ویسے کیا اِن کو بھی آپ کی طرح گھرداری آتی ہے؟ماہی متجسس لہجے میں بولی

گھرداری؟شازل اُس کو تیز نظروں سے گھور کر بولا

جی میرا مطلب کُکنگ۔ماہی گڑبڑا کر بولی

وزن کے ساتھ ساتھ عقل بھی موٹی ہوتی جارہی ہے۔شازل نے سرجھٹک کر کہا

میں ناراض ہوجاؤں گی۔ماہی نے دھمکی دی

مرضی ہے ویسے تم اِس کو کیسے جانتی ہو؟شازل نے غور سے اُس کے تاثرات نوٹ کرکے پوچھا

کس کو؟ماہی ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی۔

یمان مستقیم کو؟شازل نے دانت پیس کر کہا

اُن کو کون نہیں جانتا میں نے اِن کے سارے گانے سُنے ہیں اور کیا گاتا ہے سچی اِس کے گانے سیدھا دل پہ ٹھاہ کرکے لگتے ہیں۔ماہی نے مزے سے کہا

اِن کے سارے گانے سُنے ہیں اور کیا گاتا ہے سچی اِس کے گانے سیدھا دل پہ ٹھاہ کرکے لگتے ہیں۔شازل نے اُس کی نقل اُتاری

کیا ہے نقل کیوں اُتار رہے میری؟ماہی چڑ کر بولی۔

کیونکہ اتنا بھی کوئی توپ چیز نہیں وہ اِس سے اچھا تو میں گانا گاسکتا ہوں اور یقین جانوں پھر اِس بندے کا نام ونشان نہیں رہے گا آواز تو کیا شکل سے بھی میں کئ گُنا پیارا ہوں۔شازل کالڑ جہاڑ کر بولا

ہو ہی نہ جائے آپ مشہور یمان مستقیم جیسا کوئی نہیں ہی از ون اینڈ اونلی۔ماہی نے زبان دیکھ کر اُس کو چڑایا

تمہیں شرم نہیں آتی اپنے شوہر کے سامنے کسی اور کی تعریف کرتے۔شازل نے اُس کو شرمندہ کرنا چاہا

شرم کیسی؟میرا موسٹ فیورٹ سنگر ہے وہ بھی پانچ سالوں سے میں اِن کو جانتی ہوں ویسے آپ کو شرم آنی چاہیے خود سے چھوٹو سے جیلس ہورہے ہیں۔ماہی نے اُلٹا شازل کو شرمندہ کردیا

چھوٹا؟شازل کی آنکھیں اُبلنے کی حدتک کُھلی کی کُھلی رہ گئ۔

جی پچیس سال کا ہے وہ جب کی آپ ماشااللہ سے اٹھائیس سال کے ہونے والے ہیں۔ماہی نے شان بے نیازی سے کہا

اتنا یہ بیبا بچہ اور میں پچاس سال کا بوڑھا جس کے بال سفید ہوگئے ہیں چہرے پہ جھڑیاں آگئ ہیں دانت تو سِرے سے نہیں ہے گِر کر ٹوٹ گئے ہیں۔شازل تپ اُٹھا۔

ہاہاہاہاہا سیریسلی شازل؟آپ پچاس سال کے ہوجائے گے تو ایسا روپ اختیار کرجائے گے۔ماہی شازل کی بات پہ ہنس ہنس کر بےحال ہوئی۔

آج کے بعد تم یمان مستقیم کا کوئی گانا نہیں سنوگی اور نہ اُس کو فالو کرو گی۔شازل نے دانر پہ دانت جمائے کہا

جب سے میرا قیام حویلی میں ہوا میں نے کوئی گانا نہیں سُنا رہی بات فالو کرنے کی تو اُس کے لیے ایک فون کی اشد ضرورت ہے۔ماہی نے کہا

اچھا یہ مجھے دو کیا ہر وقت کھاتی رہتی ہو۔شازل نے ڈرائے فروٹ کی پلیٹ اپنی جانب کِھسکائی۔

یہ میرے ہیں۔ماہی نے احتجاج کیا۔

میں بھی تمہارا ہوں۔شازل نے بنا تاخیر کیے کہا تو ماہی کی زبان کو تالے لگ گئے۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

ارمان دلاور خان کے یہاں آیا تو نجمہ کے لیے عدالت کھڑی ہوگئ تھی دلاور خان زوبیہ بیگم خشمگین نظروں سے اس کو گھور رہے تھے جب کی نور اپنے تین سالہ بیٹے کو گود میں لیے یمان کی تصویریں دیکھ رہی تھی اُن سب سے بے نیاز یمان خود کچن میں موجود ہوگیا جیسے وائرل اُس کی نہیں کسی اور کی تصاویریں وائرل ہوگئ ہو۔

تمہیں پتا تھا یمان کا کیا مقام ہے؟پھر بھی تم نے ایسی حماقت کی۔زوبیہ بیگم نے اُس کو لتاڑہ

بیگم صاحبہ قسم لے میں نے تو اپنے بس اپنا واٹس ایپ اسٹیٹس لگایا تھا پتا نہیں کیسے وہاں سے چوری ہوگیا۔نجمہ نے اپنی صفائی دیتے ہوئے کہا اِن سب سے تو وہ خود ناواقف تھی۔

تم اسٹیٹس بھی کیوں لگایا ایسی حالت میں یمان کے ساتھ تصویریں بنائی کیوں؟دلاور خان نے کہا

یمان کچن میں کیا کرنے گیا تھا؟نجمہ کے کجھ کہنے سے پہلے نور نے پوچھا

او جی چھوٹی بہن جو آپ کی ہیں اُن کے لیے پراٹھے بنانے گئے تھے۔نجمہ کی بات پہ سب حیران ہوئے سوائے دلاور خان کے لیے

میں نے تو اُن کو کبھی پانی اُبالتے ہوئے نہیں دیکھا۔ارمان حیرت سے بولا

اب پراٹھا بناتے دیکھ لے کچن میں ہی ہیں وہ یہ نہ ہو یمان صاحب کو کچن میں دیکھنے کی حسرت دل میں دباکر قبر میں دفن ہوجائے۔نجمہ نے اپنی طرف سے ہر ایک کو مشورہ دینا ضروری سمجھا۔

تمہاری زبان آجکل کجھ زیادہ نہیں چلنے لگی میں چھڑا چھانٹ کنوارہ سا خوبرو نوجوان ابھی شادی تک نہیں کی بچے تک نہیں ہوئے میرے اور تم مجھے قبر تک پہچانے میں لگی ہوئی ہو ان شاءاللہ مجھے قبر میں دیکھنے کی حسرت تم قبر میں لیکر جاؤ گی۔ارمان کے تو اُس کی بات تپاگئ تھی۔

توبہ ہے آپ چھڑے چھانٹ ہیں تو میں نے کونسا اپنے بچوں کی قطارے بنا رکھی ہے میں بھی پیور سنگل ہوں شادی تو دور کسی سے آنکھ مٹکا تک نہیں کیا۔نجمہ کہاں پیچھے رہنے والی تھی۔

خاموش رہو تم دونوں یہاں ہم ایک سیریس میٹر ڈسکس کرنے بیٹھے ہیں اور تم دونوں نے بچوں کی طرح لڑائی شروع کردی ہے۔زوبیہ بیگم نے دونوں کو ٹوکا تو دونوں خاموش ہوگئے

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

لگتا ہے خود ہی دینے جانا پڑے گا۔یمان نے نجمہ کو آتا نہ دیکھا تو پرسوچ انداز اپنائے بڑبڑایا اُس کو پتا تھا سب ڈرائینگ روم میں ہیں تبھی ٹرے میں ہاتھ میں لیتا آروش کے کمرے کے باہر کھڑا ہوتا کجھ سوچ کر دروازہ نوک کیا۔

دوسری طرح آروش جس کا بھوک سے بے حال تھا دروازہ نوک ہوتے ہیں بنا پوچھے دروازہ کھول دیا مگر اپنے سامنے نائٹ سوٹ میں بکھرے بالوں سمیت اور بنا چپل کے یمان کو دیکھ کر اُس کو حیرانی کا شدید جھٹکا لگا تھا اُس نے جلدی سے اپنے چہرے کا رخ طرف کیے اُس کی جانب پشت کرکے کھڑی ہوگئ۔

یمان کو شاید اُس کو ایسے ہی ری ایکشن کی اُمید تھی تبھی اُس نے اپنا سر پہلے سے جُھکایا ہوا تھا۔

تم؟

تم یہاں کیا کررہے ہو؟آروش نے جھنجھلا کر پوچھا جو اپنے لاپرواہ حُلیے میں بھی حدردجہ پیارا لگ رہا تھا۔

وہ میں آپ کے لیے ناشتہ لایا ہوں خود لے یا مجھے اِجازت دے کے میں اندر آکر رکھ لوں۔یمان نے سراُٹھا کر مسکراکر کہا

نجمہ کہاں ہیں؟آروش اُس کی بات نظرانداز کرتی بولی

پتا نہیں۔یمان نے لاعلمی کا اظہار کیا

تم جاؤ یہاں سے۔آروش دروازے پہ ہاتھ رکھ کر اُس سے بولی تو یمان نے غور سے اُس کی پشت کو دیکھا جو دو دن سے ایک ڈریس میں ملبوس تھی۔

آپ کے پاس کوئی اور کپڑے نہیں کیا؟یمان پوچھے بنا نہ رہ پایا

تم ہوتے کون ہو مجھ سے یہ سوال کرنے والے؟آروش اُس کے سوال پہ تپ اُٹھی۔

آپ کے مستقبل کا مجازی خدا۔یمان اپنی مسکراہٹ دبائے بولا۔

لگتا ہے اب بھی عقل سے پیدل ہو۔آروش کا دل زور سے دھڑکا تھا اُس کی بات پہ جس کو کنٹرول میں کیے وہ بس یہی بول پائی۔

عقل سے پیدل نہیں ہوں سمجھدار ہوں تبھی تو آپ کا انتظار کیا۔یمان پرسکون لہجے میں بولا

مگر میرا جواب پہلے والا ہی ہے۔آروش کی بات پہ یمان کی مسکراہٹ غائب ہوئی تھی وہ کمرے میں داخل ہوتا ٹرے بیڈ پہ رکھ کر واپس اپنی جگہ پہ کھڑا ہوگیا اتنے میں آروش بس صبر کے گھونٹ بھر کر رہ گئ۔

ہمارے درمیان بس ذات کا فرق تھا جو اب نہیں تو آپ کے انکار کی وجہ؟یمان سنجیدہ ہوا

میں تمہارے آگے جوابدے نہیں۔آروش نے سپاٹ لہجے میں کہا

مگر مجھے آپ کا جواب چاہیے۔یمان بضد ہوا

جاؤں یہاں سے ورنہ میں شور مچاؤں گی۔آروش نے دھمکی دی

شور مچا کر کیا کہے گی؟کے میں نے آپ کی عزت پ

چٹاخ۔

آروش کی بات پہ یمان کو بہت تکلیف ہوئی تھی جس کو نظرانداز کیے وہ بولنے والا تھا جب آروش پلٹ کر ایک تھپڑ اُس کے چہرے پہ مارا۔

تم خود کو کیا سمجھتے ہو؟اور مجھے کیا سمجھتے ہو؟تمہیں میں ایسی لگتی ہوں جو یوں سرے عام اپنی عزت کا تماشا بنائے گی۔آروش اُس کا گریبان پکڑے دھاڑی۔

آروش کے اِس قدر قریب ہونے پہ یمان کا دل بے ایمان ہوا تھا دل عجیب ترز سے دھڑکنے لگا تھا وہ تو خواب میں بھی ایسا سوچ نہیں سکتا تھا حقیقت میں اتنا پاس ہونا تو بہت دور کی بات تھی ایک ہی سیکنڈ میں اُس کی حالت غیر ہوئی تھی یمان بنا آروش کو چھوئے اُس کا ہاتھ اپنے گریبان سے ہٹاتا اپنا سر نفی میں ہلاتا اپنے کمرے کے راستے چل دیا۔

آروش اُس کے عمل پہ حق دق رہ گئ اُس کو جی بھر کر اپنی اِس قدر بے اختیاری پہ غصہ آیا تھا جانے اُس کو یمان کی باتوں میں کیا ہوجاتا تھا جو اُس کی سوچنے سمجھنے کی ساری صلاحیتیں مفلوج ہوجایا کرتی تھی۔

یہ مجھ سے کیا ہوگیا وہ نامحرم تھا میرا۔آروش اپنے ہاتھوں کو دیکھ کر بڑبڑائی پل بھر میں اُس کی آنکھوں سے آنسو بہہ کر رخسار بھگا گئے تھے۔

°°°°°°°°°°°°°°°

بہل تو جائے دلاسو سے میرا دل لیکن

چلتی کہاں ہیں،صحراؤں میں کشتیاں،

یہ مجھے کیا ہوجاتا ہے اُن کو ایسے اپنے پاس دیکھ کر۔یمان اپنے کمرے میں آتا سر ہاتھوں میں گِرائے بیٹھ گیا اُس کو آروش کا تھپڑ مارنا بُرا نہیں لگا تھا بلکل بھی نہیں لگا تھا اُس کو اگر بُرا لگتا تھا تو بس اُس کا انکار جو وہ بار بار کرتی تھی۔

شاید میرے مرنے کے بعد اُن کو میرا احساس ہو کے میں اُن کو کتنا چاہتا ہوں اب تو ایسا لگتا ہے جیسے وہ میری جان لیکر ہی رہے گی۔یمان کے چہرے پہ زخمی مسکراہٹ در آئی تھی اپنے اندر ایک اُداسی کی لہر ڈورتی محسوس ہوئی سر الگ سے درد سے پھٹا جارہا تھا۔وہ سمجھ نہیں پارہا تھا ایسا وہ کیا کرے جو آروش اُس کی بن جائے۔کیا اتنے سالوں بعد بھی اُس کا عشق لاحاصل ہی رہے گا آروش کو کبھی اُس کی پرواہ نہیں ہوگی۔

آپ چاہے مجھ سے پیار نہ کرے بس میری بن جائے میرے لیے وہ ہی بڑی بات ہوگی۔یمان کی آنکھ میں آنسو گِر کر ڈارھی میں جذب ہوا تھا

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

ہر وقت کمرے میں کیوں رہتی ہوں ہمارے پاس بھی بیٹھ جایا کرو۔نور آروش کے کمرے میں آتی بولی جو خاموشی سے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے ہوئے تھی۔

دل نہیں کرتا باہر آنے کو۔آروش سنجیدگی سے بولی

کیا تم روئی ہو؟اور ناشتہ کیوں نہیں کیا نجمہ لنچ کے وقت یہاں آئی تھی پر تم نے دروازہ نہیں کھولا تھا خیریت؟نور اُس کی سر آنکھیں اور ناشتے کی ٹرے دیکھ کر بولی جو جوں کی توں پڑی تھی جیسے یمان رکھ کر گیا تھا۔

بھوک نہیں ہے۔آروش نے مختصر جواب دیا

اچھا ویسے مجھے یہاں موم نے بھیجا تھا وہ چاہتی ہے تم ساتھ چلو مال شاپنگ کرنے کے لیے۔نور نے پرجوش آواز میں کہا

مجھے کہی نہیں جانا اُن سے کہے وہ خود ہی اپنی پسند سے کجھ لے آئے۔آروش اُس بات سن کر بولی

اٹس اوکے آج نہیں تو کل چلنا میرے خیال سے کل بھی تم انہیں کپڑوں میں تھی اگر تم کہو تو اپنے کجھ ڈریسز تمہیں دیتی ہوں جو میں نے استعمال نہیں کیے۔نور نے اُس کا جائزہ لیتے کہا

کوئی مُناسب ڈریس ہے تو پلیز دے انہیں کپڑوں میں بار بار نماز پڑھتی ہوں تو شرمندگی ہوتی ہے اور میں ایک جائے نماز بھی کہا تھا آپ لوگوں نے دیا نہیں۔آروش ایک نظر اُس کے کپڑوں میں ڈال کر “مناسب”لفظ پہ زور دے کر بولی۔

جائے نماز یاد نہیں رہا ہوگا ڈیڈ کو میں ابھی دونوں چیز تمہیں بھجواتی ہوں۔نور اپنی جگہ سے اُٹھ کر بولی

قرآن پاک بھی چاہیے تھا۔آروش نے کہا

وہ تو یہاں ہوگا۔نور نے الماری کی جانب اِشارہ کیے بتایا

میں نے پورا کمرا بہت بار چیک کیا ہے مگر وہ چیزیں نہیں ہیں جو مجھے چاہیے۔آروش نے جواب دیا۔

اچھا ٹھیک ہے میرے کمرے میں ہے وہ بھجواتی ہوں۔نور مسکراکر کہا

شکریہ۔آروش نے کہا تو نور مسکراکر سراثبات میں ہلاتی چلی گئ۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

آروش بی بی یہ بیگ نور بی بی نے آپ کے لیے بھیجا تھا۔کجھ دیر بعد نجمہ آروش کے کمرے میں آتی ایک بیگ اُس کو دے کر بولی

جائے نماز اور قرآن؟آروش ایک نظر بیگ پہ ڈال کر بولی۔

جائے نماز تو یمان صاحب کے کمرے میں ہوگا اور اُن کا کمرہ صبح سے لاک ہے اِس لیے ابھی کے لیے یہی دیئے۔نجمہ نے جواب دیا۔

اچھا تم جاؤ۔یمان نام پہ آروش کے تاثرات بدلے تھی تبھی کجھ اور پوچھنے کے بجائے یہ کہا۔

ٹھیک ہے۔نجمہ اتنا کہتی کمرے کا دروازہ بند کرتی چلی گئ تو آروش گہری سانس لیکر بیگ کو کھول کر دیکھا جس میں پانچ مختلف ڈیزائن کے ڈریسز تھے۔

اب میں یہ کپڑے پہنوں گی۔آروش سب جوڑے الگ الگ کرکے دیکھتی بڑبڑائی جس میں کوئی جوڑا بیک لیس تھا تو کو سلیولیس تھا کسی میں شلوار کے بجائے ٹائیٹس تھی ڈوپٹہ تو سِرے سے کسی میں نہیں تھا اُس کو سبھی جوڑے بیکار لگے۔

حد ہے۔آروش بدمزہ ہوتی سب کپڑوں کو بیڈ سے نیچے پھینک دیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

نجمہ یہ سب مختار والے کہاں چلے گئے؟دلاور خان نے اگلے دن گھر میں کسی میل سرونٹ کو ناپاکر نجمہ کو آواز دے کر اُس سے پوچھا جو لاؤنج کی صفائی کرنے میں مصروف تھی۔

اُن کی تو چھٹی کردی ارمان سر نے یمان صاحب کے کہنے پہ۔نجمہ نے بتایا

چھٹی کردی مگر کیوں؟دلاور خان ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگے۔

وہ جی آپ کی چھوٹی بیٹی کو اچھا نہیں لگتا تبھی وہ بار نہیں آتی اپنے کمرے سے تو اِس لیے انہوں نے یہ کیا آپ کا جو ڈرائیور ہے وہ گھر میں داخل نہیں ہوسکتا کیونکہ یمان صاحب نے خود پرسنلی اُس کو وارن کیا ہے کُک بھی اب نہیں رہا صفائی والا بھی نہیں رہا اُن کے بدلے دوسری ملازماؤں کا بندوبست یمان صاحب نے ارمان سر کے زمے لگایا ہے۔نجمہ نے تفصیل سے بتایا

یہ یمان نے ایسا کیوں کیا؟وہ سب پُرانے سرونٹس تھے ہمارے۔زوبیہ بیگم جو ابھی لاوٴنج میں آئی تھی نجمہ کی بات سن کر بولی

کجھ سوچ کر اُس نے کیا ہوگا خیر میں اب نکلتا ہوں ایک شوٹ کے لیے فیصل آباد جانا پڑے گا۔دلاور خان نے ہاتھ میں پہنی گھڑی میں وقت دیکھ کر زوبیہ بیگم سے کہا

فیصل آباد کیوں آپ کو یاد نہیں ہم نے گھر میں ایونٹ کرنے کا سوچا تھا دُنیا میں سامنے اپنی بیٹی کو بھی تو لانا ہے۔زوبیہ بیگم دلاور خان کی بات پہ تعجب سے گویا ہوئی۔

میں جلدی واپس آجاؤں گا اور اِس ایونٹ کی زمیداری میں نے ارمان کو دی ہے وہ اچھے سے سب سنبھال لے گا مگر ایک بات کا خاص خیال رکھنا یہ بات آروش کو پتا نہ چلے ہم اُس کو سرپرائز دے گے۔دلاور خان نے مسکراکر اُن کو تسلی کروائی

یہ تو اچھی بات ہے میں پھر آج آروش کو لیکر جاتی ہوں شاپنگ کے لیے ایونٹ کے لیے اُس کے پاس بہت اعلیٰ ڈریس ہونا چاہیے اسٹائلش سا۔زوبیہ بیگم خوش ہوئی

آروش بی بی تو جو بھی پہنے گی اُن پہ وہ سوٹ کرے گا۔نجمہ زوبیہ بیگم کی بات پہ خاموش کھڑی نجمہ بول پڑی

یہ تو ہے مگر وہ دلاور خان کی بیٹی ہے اُس کو سب سے الگ لگنا چاہیے۔زوبیہ بیگم نے کہا

اچھا پھر میں چلتا ہوں دیر ہو رہی ہے۔دلاور خان کو وقت کا احساس ہوا تو کہا

ٹھیک ہے بائے۔زوبیہ بیگم نے کہا تو وہ مسکرائے

اللہ کی امان صاحب۔نجمہ بھی اتنا کہتی اپنے کام میں لگ گئ۔

نجمہ سنو۔دلاور خان کے جانے کے بعد زوبیہ بیگم نے نجمہ کو مخاطب کیا۔

جی؟نجمہ اُن کے سامنے ہوئی

نور تو سوئی ہوئی ہوگی تم آروش کو کہو میں اُس کا لاؤنج میں انتظار کررہی ہو آجائے۔زوبیہ بیگم نے کہا تو نجمہ اُپر کی جانب بڑھی کجھ ہی مینٹس میں آروش نجمہ کے ہمراہ لاونج میں داخل ہوئی۔

السلام علیکم۔آروش نے زوبیہ بیگم کو دیکھ کر سلام کیا

وعلیکم السلام کیسی ہو؟ظاہر ہی نہیں ہوتی اپنی ماں کی خیرو خبر لیا کرو۔زوبیہ بیگم محبت سے اُس کو دیکھ کر بولی

جی ضرور۔آروش نے بس اتنا کہا

نور نے مجھے بتایا تھا اُس نے تمہیں اپنے ڈریسز دیئے ہیں تو آج وہ پہنتی نہ کیا پسند نہیں آئے؟۔زوبیہ بیگم نے اُس کا ڈریس اور حجاب دیکھ کر کہا۔

جی پسند نہیں آئے۔آروش صاف گوئی سے بولی

اچھا وہ تو بہت بڑے ڈیزائنر سے اپنے کپڑے ڈیزائن کرواتی ہے خیر تم آجاؤ میرے ساتھ چلنا وہاں پھر تم اپنی پسند کے ڈریسز لینا۔زوبیہ بیگم نے مسکراکر کہا تبھی اُن کے سیل پہ کال آنے لگی تو وہ اُس کی جانب متوجہ ہوئی۔

میرے لیے ایک کپ چائے تو لانا۔آروش نے دوسری ملازمہ کو گُزرتے دیکھا تو کہا جس پہ وہ سرہلاتی چلی گئ۔

یمان بھی کل سارا وقت اپنے کمرے میں رہنے کے بعد آج اسٹوڈیو جانے کے لیے نکل رہا تھا جب اُس کے فون پہ بھی کال آنے لگی۔تو وہ سائیڈ پہ ہوا۔

اچھا میں یمان سے کہوں گی۔دوسری طرف سے زوبیہ کو جانے کیا کہا گیا تھا جب انہوں نے کہا”یمان”لفظ پہ اِس بار کوئی خاص ری ایکشن نہیں دیا راشدہ چائے کی ٹرے لیکر آئی تو آروش وہ پینے لگی۔

راشدہ یمان کو یہاں آنے کا کہو بات کرنی ہے ضروری۔زوبیہ بیگم کال ڈراپ کرنے کے بعد راشدہ سے کہا۔

جی وہ رہے۔راشدہ نے ایک طرف اِشارہ کیے بتایا تو زوبیہ بیگم نے وہاں گردن موڑ کر دیکھا

یمان؟ یمان جو کسی سے کال پہ بات کرنے میں مصروف تھا لاؤنج میں آروش کے ساتھ بیٹھی زوبیہ بیگم نے اُس کو آواز دی۔

جی۔ یمان سیل فون کان کے پاس رکھتا اُن کی جانب متوجہ ہوا۔

یہاں آؤ۔زوبیہ بیگم نے آنے کا کہا تو یمان کی نظر آروش پہ پڑی جو صوفے پہ براجمان تھی اور اُس کی بیک یمان کے سامنے تھی جس سے وہ اُس کا چہرہ نہیں دیکھ پارہا تھا مگر یمان کو کل واقع یاد آیا تو اُس نے اپنا سرجھٹکا

آپ کو کجھ کام ہے تو بتادے میں ویسے بھی اسٹوڈیو جانے کے لیے نکل رہا تھا۔یمان فاصلے پہ کھڑا ہوتا سنجیدہ لہجے میں اُن سے بولا

کیا ہوگیا ہے یمان اتنا دور کھڑے ہوکر کیوں بات کررہے ہو اگر آروش سے جھجھک رہے ہو تو مت جھجھکو نور کی طرح یہ بھی تمہاری بہن ہے۔زوبیہ بیگم کی بات پہ یمان کا ہاتھ بے ساختہ اپنے دل پہ پڑا تھا جب کی چائے پیتی آروش نے بے ساختہ اُس کی اُڑی رنگت کو تصور کیا تھا

“اَسْتَغْفِرُاللّٰه بہن ہر کوئی دوبارہ ہارٹ اٹیک دلوانے کے پیچھے پڑا ہے۔یمان جھرجھری لیکر تپ کر سوچنے لگا۔

یہ میری بہن نہیں ہیں میں نے کوئی بہن چارہ (بھائی چارہ) تھوڑی کُھولا ہے جو۔۔۔جو آتا ہے اِن کو میری بہن بناکر چلا جاتا ہے مطلب حد ہے کسی کے احساسات کا قتل کروانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی کسی نے۔ یمان اچھا خاصا جھنجھلا اُٹھا تھا کہاں وہ اب شادی کے خواب دیکھنے لگا تھا اور کہاں گھروالے دونوں کے نکاح کا سوچنے کے بجائے رکشا (سُرخشا) بندھن پہنانے کے پیچھے پڑے ہوئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *