Haal e Dil by Rimsha Hussain NovelR50524 Haal e Dil (Episode 02)
Rate this Novel
Haal e Dil (Episode 02)
Haal e Dil by Rimsha Hussain
یمان بے تاثروں نظروں سے ستاروں سے چمکتے آسمان کو دیکھ رہا تھا اندھیرا ہر طرف پھیلا ہوا تھا وہ اِس وقت اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑا تھا جب اُس کے کمرے کا دروازہ ناک ہوا
یس۔اُس نے اپنی بھاری گھمبیر آواز سے اجازت دی
سر ڈنر تیار ہے۔کُک نے بتایا تو اُس نے گہری سانس خارج کرکے اُس کو جانے کا اِشارہ کیا خود کھڑکیوں کے آگے کرٹنز کرتا کمرے سے باہر آتا سیڑھیوں سے اُترنے لگا ڈائینگ ہال میں آتے ہی لوازمات کے مختلف قسم کی خوشبو نے اُس کا استقبال کیا وہ جیسے ہی کرسی گھسیٹ کر بیٹھا ملازم الرٹ ہوتا اس کو کھانا سرو کرنے لگا
جب کی ٹیبل پہ کھانے کے لوازمات دیکھ کر یمان مستقیم دور کہی ماضی میں کھوگیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے نہیں کھانی یہ روکھی سوکھی روٹی اور دال۔سترہ سالہ یمان کھانے کے دسترخوان پہ بیٹھے منہ بناکر بولا جس پہ اُس کی والدہ نے گھورا
بُری بات یمان جو بھی وقت پہ ملے صبر شکر کرکے کھالیا کرو۔فائزہ بیگم نے نرم لہجے میں کہا
پر مجھ سے نہیں کھایا جاتا۔یمان ناراضگی سے کہتا بنا کجھ کھائے وہاں سے اُٹھ گیا ابھی وہ گھر سے باہر جاتا جب اُس کی بڑی بہن فجر نے آواز دی۔
یمان یہاں آؤ۔فجر نے کہا
جی۔یمان اُس کے پاس آتا بولا جب کی اُس کی دوسری بہن عیشا نے اُس کی لٹکی شکل دیکھی تو ٹھنڈی سانس خارج کی۔
یہ لو باہر سے بریانی لیں آنا۔فجر نے پانچ سو کا نوٹ بڑھا کر کہا تو یمان نے مشکوک نظروں سے اپنی بہن کو دیکھا
آپ کے پاس کہاں سے آئے۔یمان کے سوال پہ عیشا کی ہنسی نکل گئ جب کی فجر نے اُس کو گھورا
زیادہ میرے ابا نہ بنو ٹیوشن کے بچوں کی فیس بڑھالی ہے میں نے اور آج پہلی تاریخ ہے مہینے کی تو کجھ بچوں نے دی تم نے صبح کا ناشتہ بھی نہیں کیا تھا اِس لیے کھالینا اپنے شایاں شان کے مطابق۔فجر نے گھورتے کہا تو مستقیم نے دانتوں کی نمائش کی جس سے اُس کے دونوں گالوں پہ گہرے گڑھے نمایاں ہونے لگے
آپ نے فیس کیوں بڑھائی؟یمان نے پوچھا
تمہارا کالج میں ایڈمیشن جو کروانا ہے پئسے تو جمع کرنے ہیں نہ تو ایک تو کالج بھی بہت بڑا ہے۔فجر کجھ پریشانی سے بولی
آپ بھی بچوں کی فیس بڑھالیں۔فجر کی بات سن کر یمان نے شریر نظروں سے عیشا کو دیکھا
کیوں بھئ چند بچے تو آتے ہیں میرے پاس اور محلے کی آنٹیاں اتنی کنجوس ہیں کہاں دینگی فیس۔عیشا نے منہ بناکر کہا
مجھے گٹار لینا ہے جو آپ لیکر دے گی۔یمان کی دوسری فرمائش پہ فجر افسوس بھری سانس خارج کی اُس کا بس چلتا تو اپنے چھوٹے بھائی کی ہر فرمائش پوری کرتی پر اُس کے بھائی کی فرمائشیں معیار کے اُپر ہوا کرتی تھی جو وہ سفید پوش لوگ پوری نہیں کرسکتے تھے۔
ہے تو سہی۔عیشا ایک نظر فجر پہ ڈالتی یمان سے بولی
کہاں پُرانہ سا ہے مجھے نیا برینڈد گٹار لینا ہے۔یمان نے بتایا
فرمائش کرنے وقت گھر کے حالات بھی دیکھ لیا کرو۔عیشا نے اُس کو شرم دلانی چاہی
عیشا۔
فجر نے اُس کو ٹوکا
یمان میری جان فلحال تم کھانے کے لیے لاؤ گٹار کے بارے میں پھر بات ہوگی۔فجر اُس کے سیاح بالوں میں ہاتھ پھیرتی بولی تو وہ سرہلاتا صحن سے باہر نکل گیا
آپی کیوں آپ اُس کو جھوٹی اُمیدیں دلاتی ہیں۔عیشا نے تاسف سے کہا
جھوٹی کہاں ان شاءاللہ میرے بھائی کی ہر خواہش پوری ہوگی۔فجر کھوئے ہوئے لہجے میں بولی۔
آپ کی انہی باتوں کی وجہ سے یمان خوابوں کی دنیا میں رہتا ہے خود کو کسی شہزادے سے کم نہیں سمجھتا۔عیشا نے کہا
توں میرا بھائی کسی شہزادے کم بھی نہیں۔فجر بُرا مان کر بولی
آپی خوبصورت شکل سے کوئی شہزادہ نہیں بن جاتا جو ہمارا بھائی چاہتا ہے وہ ناممکن ہے ابا کبھی اُس کو سنگنگ کرنے کی اجازت نہیں دے گے۔عیشا حقیقت پسند ہوتی بولی
اللہ نے چاہا تو ہر چیز ممکن ہے۔فجر نے جیسے بات ختم کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر آپ کے لیے کال۔ملازم کی اچانک آتی آواز پہ یمان حال میں واپس لوٹا
یہ سارا کھانا غریبوں میں تقسیم کردو۔یمان چیئر سے اُٹھتا سپاٹ لہجے میں بولا تو وہاں کھڑے ملازمین نے حیرت سے یمان مستقیم کو دیکھا
سر آپ نے تو کجھ بھی نہیں کھایا۔کُک نے ہمت کرکے کہا
مجھے بھوک نہیں۔یمان حواب دیتا ملازم کے ہاتھ سے اپنا سیل فون لیا۔
بیس منٹ بات کرنے کے بعد یمان کمرے میں آتا اوندھے منہ بیڈ پہ لیٹا اُس کا سر درد سے پھٹا جارہا تھا۔
میرا کوئی بیٹا نہیں میں بس دو بیٹیوں کا باپ ہوں اُس کے علاوہ میں کسی یمان کو نہیں جاتا۔
جانے کب میرا ماضی میری جان چھوڑے گا۔تلخ لہجے میں خود سے کہہ کر یمان نے جیسے خود کو یاد آتی باتوں سے نجات چاہی جو کی ناممکن سی بات تھی۔







اسلام علیکم!آروش شھباز شاہ کے کمرے میں داخل ہوتی سلام کرنے لگی پھر سیدھا سائیڈ ٹیبل سے میڈیکل باکس نکال کر اُن کی دوائیاں چیک کرنے لگی شھباز شاہ غور سے آروش کو دیکھنے لگے جو سنجیدہ تاثرات چہرے پہ سجائے اُن کی طرف کجھ میڈیسن بڑھاگئ تھی
کب تک ناراض رہے گا میرا بچہ۔شھباز شاہ نے اُس کا ہاتھ تھام کر اپنے ساتھ بیٹھاکر استفسا کرنے لگے۔
میں ناراض نہیں آپ دوائیں کھائے۔آروش نے جگ میں سے پانی گلاس میں انڈیلتی بولی
میں باپ ہوں تمہارا آروش۔وہ کجھ ناراضگی سے بولے
میں جانتی بابا سائیں۔آروش نے بنا دیکھے جواب دیا
پھر یہ خاموشی کا روزا کیوں رکھا ہے۔شھباز شاہ نے پوچھا
بولنے کے لیے میرے پاس کجھ نہیں۔آروش نے وجہ بتائی
ایک باپ کبھی اپنی اولاد کا بُرا نہیں چاہتا
اور ایک بیٹی کبھی اپنے باپ کا سر نہیں جھکانے دیتی پر میں نے ایسا کیا۔آروش اُن کی بات کاٹ کر بولی
آروش
شھباز شاہ بے بس ہوئے
بابا سائیں دوائیں کھائے پھر آپ کو آرام کرنا ہے۔شھباز شاہ کو دیکھ کر آروش نے کہا
غصے میں انسان کجھ بھی بول دیتا ہے۔شھباز شاہ نے سنجیدگی سے کہا
وہ اِس لیے کیونکہ غصے اور شراب میں انسان اپنے حواسوں میں نہیں ہوتا اور جو حواسوں میں نہیں ہوتا وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔آروش کی بات پہ وہ اُس کو دیکھتے رہ گئے
ایسا نہیں ہوتا۔شھباز شاہ نے کہا
ایسا ہی ہوتا ہے بابا سائیں نیند میں بچہ جب خواب دیکھ کر ڈر جاتا ہے تو وہی بڑبڑاتا ہے جو وہ دیکھتا ہے تو آپ خود سوچے نیند میں بڑبڑانے والا بچہ کیا اپنے ہوش وحواسو میں ہوتا ہے؟آروش نے اپنی طرف سے دلیل پیش کی۔
میں اپنے کمرے میں جارہی ہوں شبٙ خیر۔آروش اُن کو خاموش دیکھ کر باہر جانے لگی جب وہ دروازے کے پاس آئی تو تبھی دلدار شاہ اندر کی طرف آنے والے تھے جس کو دیکھ کر آروش کی آنکھوں میں نفرت بھرے تاثرات اُبھرے
کتنی دفع بولا ہے میرے سامنے مت آیا کرو اور آنکھیں کس کو دیکھا رہی ہو نیچے کرو نظریں۔دلدار شاہ حقارت بھری نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا جس سے آروش نے اپنی آنکھوں کا رخ دوسری طرف کیا
میرا بس چلے تو جہاں آپ ہو وہاں تھوکنا بھی پسند نہ کروں۔آروش کی بات سن کر دلدار شاہ کا پارہ ساتویں آسمان تک پہنچا
ہمارے خاندان کے مرد عورتوں پہ ہاتھ نہیں اُٹھاتے ورنہ میں تمہارا حشر نشر کرلیتا افسوس ہوتا ہے مجھے اُس دن پہ جب تمہیں کاری نہیں کیا گیا اگر کیا جاتا تو آج تمہاری شکل نہ دیکھنی پڑتی۔دلدار شاہ ہتک آمیز لہجے میں بولا آروش کا سفید چہرہ پل بھر میں سرخ ہوا تھا آنکھوں میں تزلیل سہنے کی وجہ سے نمی اُتری آئی تھی پر وہ بے حس بن کر سائیڈ سے گُزرگئ
تایا جان اِس کو رخصت کریں۔دلدار شاہ شھباز شاہ کے کمرے میں داخل ہوتا مٹھیاں بھینچ کر بولا شھباز شاہ جو آروش کے رویے کے بارے میں سوچ رہے تھے دلدار شاہ کے یوں کمرے میں آتا دیکھ کر ناگواری سے اُس کو دیکھنے لگے
آداب بھول گئے ہو اور بات کرتے وقت اپنے لہجے کو دیکھا کرو۔شھباز شاہ نے بُری طرح سے اُس کو جھڑکا
گستاخی معاف تایا جان پر آروش کو دیکھ کر میں سات سال پیچھے چلا جاتا ہوں آپ اِس کو جلدی سے چلتا کریں ایسا نہ ہو میری زبان سب کے سامنے کُھل جائے۔دلدار شاہ نے کہا تو شھباز شاہ نے سخت نظریں اُس پہ ٹکائی
آروش ہماری بیٹی ہے تمہاری سگی بہن نہ سہی دودھ شریک بہن ہے۔
اگر میری سگی بہن ہوتی تو آج قبر میں ہوتی۔دلدار شاہ فورن بولا
یہاں آنے کی وجہ۔شھباز شاہ نے بات کو تویل نہ دی وہ نہیں چاہتے تھے ماضی میں ہوئی آروش سے غلطی کوئی بار بار دُھرائے یا اُس کے بارے میں کجھ بولے۔
زمینوں کے بارے میں بات کرنی تھی پاس والی حویلی کے پاس جو زمینے ہیں اگر اُن میں سے ہمیں کجھ مل جائے تو ہم وہاں اچھے سے ڈسپینسری بنوا سکتے ہیں۔ دلدار شاہ نے گہری سانس بھر کر کہا
بات کرو اُن سے منہ مانگی قیمت دینے کو تیار ہیں ہم۔ شھباز شاہ نے کہا
بات کیا کرنی تایا جان آپ سرپنج ہیں آپ کو ان سے مانگنے کی ضرورت نہیں۔ دلدار شاہ غرور سے بولا
جاتے وقت لائیٹ بند کرکے جانا۔ شھباز شاہ نے کہا تو دلدار شاہ نے بمشکل اپنا غصہ قابو کیا ورنہ اپنی بات کو ایسے نظرانداز ہونا دیکھنا اُس کی برداشت سے باہر تھا پر سامنے والی شخصیت کوئی عام نہیں تھی جس وجہ سے وہ بیچ وتاب کھاتا وہاں سے چلاگیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آروش کمرے میں آئی تو حریم کو دیکھا جو اُس کے ٹوٹے لیپ ٹاپ کو جوڑنے کی ناکام کوشش کررہی تھی ساتھ میں اُس کی آنکھوں میں ٹپ ٹپ آنسو بھی برس رہے تھے
چھوڑدو اِس کو۔ آروش اپنے گرد لپیٹی شال کو اُتار کر بولی
آروش آپی آج ہمارے فیورٹ سنگر کا شو آنا تھا جس میں ان شاءاللہ اُن کو آوارڈ ملنا تھا ہم نے سوچا تھا آپ کے لیپ ٹاپ پہ دیکھے گے پر۔ ۔۔حریم مایوس لہجے میں کہتی خاموش ہوگئ جب کی اُس کی بات سن کر آروش نے ہونٹ سختی سے بھینچ لیے۔
حریم مت سُنا کرو گانے۔ آروش نے ٹوکتے کہا
بس ایک کے ہی تو سُنتے ہیں اب ہم کیا کریں گے۔ حریم نے کہا
کل دوبارہ آئے تو ٹی وی پہ دیکھ لینا۔ آروش نے جان چُھڑوانے والے لہجے میں کہا
ٹی وی کہاں ہیں ہمارے کمرے لاونج والی ٹی وی پہ تو صبح کے بارہ بجے تک تلاوت سنتے ہیں تب تک تو وقت نکل جائے گا۔حریم کو مزید اُداسی ہوئی
اتنا ضروری نہیں دیکھنا۔آروش نے بیزاریت سے کہا
آپ کو کیا پتا شو کے پرومو میں یمان مستقیم کی ایک جھلک دیکھی تو بہت سے زیادہ بہت ہینڈ
ٹھاہ
حریم جو نان سٹاپ بولتی جارہی تھی واشروم کے دروازے کو اتنا زور سے بند ہوتا دیکھا تو دھل کے دل پہ ہاتھ رکھا کیونکہ آروش واشروم میں بند ہوگئ تھی
آپی کو کیا ہوگیا۔حریم انگلی دانتوں تلے دبا کر خود سے پوچھنے لگی۔
آپی۔ حریم واشروم کے دروازے کے پاس کھڑی ہوتی اُس کو آواز دینے لگی۔
پر کوئی جواب ناپاکر مایوسی سے لوٹ گئ








شھباز شاہ آپس میں تین بھائی تھے اور ایک بہن سب سے بڑے وہ خود تھے اُن کی تین اولاد تھیں دو بیٹے اور ایک بیٹی ایک بڑا بیٹا درید شاہ جس کی عمر اُنتیس سال تھی دوسرا بیٹا شازل شاہ جو چھبیس سال کا تھا شازل شاہ جو زیادہ تر شہر رہنا پسند کرتا تھا کیونکہ اُس کو اپنے گاؤں اور حویلی کے رسم ورواج سے سخت چڑ تھی اِس لیے کبھی کبھار سب کے اصرار کرنے پہ آجاتا تیسرے نمبر اُن کی بیٹی آروش شاہ جو چوبیس سال کی تھی جس طرح بادشاہ کی جان اُس کے طوطے میں ہوتی ہیں اُسی طرح شھباز شاہ کی جان آروش شاہ میں تھی وہ جتنے سخت اور جابر قسم کے تھے اُس سے زیادہ نرم مزاج اپنی بیٹی آروش شاہ کے سامنے ہوتے شھباز شاہ کا دوسرا بھائی ارباز شاہ جن کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھی بڑا بیٹا دلدار شاہ جس کی شادی اپنی چچا زاد کزن شبانا سے ہوئی تھی اُس کے بعد دیدار شاہ جو ابھی تک کنوارا تھا بیٹیوں میں ایک نازلین دوسری نور تھی تیسرا بھائی شھنواز شاہ جس کی بس ایک اولاد تھی بیٹی شبانا۔اُن تینوں بھائیوں کی شادیاں خاندان میں ہی طے پائی تھی
شھباز شاہ کی بیگم کلثوم شاہ
ارباز شاہ کی بیگم فردوس شاہ
شھنواز شاہ کی بیگم فاریہ شاہ
جب کی ان تینوں بھائیوں کی بہن اُمِ مریم کی شادی اپنے ماما زاد سے ہوئی تھی شادی کے ایک سال بعد اُن کے شوہر فردین علی شاہ وفات پاگئے تھے تب اُمِ مریم اُمید سے تھی جن کو شھباز شاہ حویلی لائے تھے حریم کی پیدائش کے چند دن بعد وہ اپنی بیٹی کی زمیداری بارہ سالہ درید شاہ کو سونپتی اِس فانی دُنیا سے کوچ کرگئ تھی تب سے حریم حویلی میں رہتی آرہی تھی جس کی ساری زمیدار درید شاہ بخوشی پوری کرتا تھا جس وجہ سے حریم اگر حویلی میں کسی سے زیادہ قریب تھی تو وہ تھا دُرید شاہ



ڈیرے پہ آج دلدار شاہ آیا تھا۔ نور حق ویلا میں اِس وقت سب دسترخواہ پہ بیٹھے تھے جب ذین سالک نے سنجیدگی سے کہا
خیریت سے؟اُس کا باپ حشمت صاحب بولے
جی پاس والی جو ہماری کجھ زمین ہے وہ اپنے نام کروانا چاہتا ہے۔ ذین سالک نے بتایا تو ماہی نے آمنہ کو دیکھا جس کا سارا دھیان کھانے کی طرف تھا
تم نے کیا کہا پھر؟ بختاور بیگم نے پوچھا
فلحال کوئی جواب نہیں دیا کافی کھسکا ہوا تھا۔ ذین سرجھٹک کر بولا
ہممم ہم بات کریں گے تم دور رہنا اِس معاملے سے۔ نور حق جو اب تم خاموش تھے وہ بولے
جیسا آپ کہے۔ ذین اتنا کہہ کر اُٹھ کھڑا ہوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہ خاندان کو کونسا زمینوں کی کمی ہے جو ہماری زمینوں پہ نظریں ٹکائے بیٹھے ہیں۔ کمرے میں آکر ماہی بے زاری سے بولی
تم کیوں اُن کے خلاف ہو۔ آمنہ نے گھورتے کہا
کیوں نہ ہو ان کے کام ہی ایسے ہیں۔ ماہی نے بھی گھور کر کہا
کوئی وجہ ہوگی۔ آمنہ نے کجھ سوچ کر کہا
وجہ نہیں بس اُن کو عادت ہے دوسروں کا حق مارنے کی۔ ماہی تلخ لہجے میں بولی تو آمنہ نے کوئی جواب دیا


امی
امی
یہ دیکھے
ماموں ٹی وی میں۔ پانچ سالہ یامین خوشی سے اُچھلتا کودتا اپنی ماں کو آواز دینے لگا فجر جو کچن میں تھی اپنے بیٹے کی آواز سن کر جلدی سے باہر آئی اور ٹی وی پہ نظریں ٹکائی جہاں اُس کا خوبرو بھائی فل بلیک ڈریس میں ملبوس ایک ہاتھ میں آوارڈ دوسرے ہاتھ میں مائیک پکڑتا سنجیدگی سے کجھ بول رہا تھا فجر کی آنکھوں میں خوشی سے آنسوؤ آگئے
تھے سامنے زندگی کے گُزرے ہوئے مناظر کسی فلم کی طرح چلنے لگے۔
آپی آپ دیکھنا جب میں بہت بڑا سنگر بنوں گا نہ تو مجھے بھی ایسے آوارڈز ملے گے آپ کو پتا ہے پھر میں کیا کروں گا۔بات کرتے سترا سالہ یمان مستقیم چپ ہوا
کیا کرے گا میرا بھائی۔سبزی کاٹتی فجر نے پوچھا
میں ایک الگ کمرہ بنواؤں گا جہاں بس میرے آوارڈز ہوگے۔یمان کی بات سن کر فجر کو ہنسی آئی کیونکہ اُس کا اکلوتا بھائی کہنے کو سترہ سال کا تھا پر باتیں ہمیشہ بچوں جیسی کرتا تھا پر اُس کی آنکھوں میں ایک الگ چمک ہوتی تھی کجھ کرنے کی کسی کو پانے کا ایک عزم ہوتا تھا۔
تمہاری آنکھوں کی چمک کہاں گئ میرے بھائی۔ ٹی وی اسکرین پہ سنجیدہ کھڑے یمان مستقیم کو دیکھ کر فجر نے دُکھ سے سوچا
تبھی اُس کا فون بجنے لگا تو خیالوں سے آزاد ہوتی اُس کی طرف متوجہ ہوئی اسکرین پہ نمبر دیکھ کر اُس کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی
ہیلو
فجر تم نے دیکھا اِس بار بھی ہمارے بھائی کو بیسٹ سنگر کا آوارڈ ملا ہے۔عیشا کی نم آواز سن کر فجر نے گہری سانس لی
ہمم دیکھا۔ فجر نے بتایا
کتنا بدل گیا ہے یمان اور کتنا بڑا۔ عیشا روتے روتے ہنسی
ماشااللہ سے بڑا تو ہوگیا ہے سترہ اٹھارہ سال کا کمزور یمان مستقیم نہیں وہ اب چوبیس سال کا مشہور سنگر یمان مستقیم ہے۔ فجر نے بس یہ کہا
یمان کی مسکراہٹ کہاں ہیں جو ہر وقت اُس کے چہرے پہ ہوتی تھی۔ عیشا نے کہا۔
تمہیں اُس کے ڈمپلز سے چڑ ہوتی تھی نہ تو بس اِس لیے۔فجر یامین کو اپنی گود میں بیٹھاتی بولی
چڑ نہیں ہوتی تھی ڈرتی تھی ہنستے ہوئے پیار جو اتنا لگتا تھا ڈر لگتا تھا کہیں کسی کی نظر نہ لگ جائے اور اب تم بتاؤ وہ کب آے گا۔ عیشا نے پوچھا
نظر تو واقع لگ گئ جس سے وہ اب کبھی نہیں آے گا۔ فجر نے اپنے آنسو پیتے ہوئے کہا







آپ کو سنگنگ کی فیلڈ میں آئے پانچ سال کا عرصہ ہوا ہے اور ماشااللہ سے آپ کو ہر سال بیسٹ سنگر کا آوارڈ ملتا ہے اُس کے بارے میں کیا کہے گے آپ؟ مورننگ شو کی ہوسٹ مونا یمان مستقیم سے سوال کرنے لگی۔
اللہ کا شکر ہے جنہوں نے مجھے اتنا اونچا مقام دیا ہے۔ یمان مستقیم نے جواب دیا
آپ اپنی کامیابی کا کریڈٹ کس کو دے گے۔
خود کو۔ یمان مستقیم پراعتماد لہجے میں بولا تو ہوسٹ کی آنکھوں میں ستائش اُبھری
آپ کا پہلا گانا حالِ دل جو بہت فیمس ہوا تھا اُس گانے کے بعد میں آپ نے کجھ لائنز کہی تھی کیا وہ دوبارہ لائیو کہے گے۔مونا کی بات پہ یمان کی آنکھوں میں پرسوچ تاثرات نمایاں ہوئے
میرا معیار نہیں ملتا
میں آوارہ نہیں پِھرتا
یہ سوچ کر کھونا
میں دوبارہ نہیں ملتا
یمان مستقیم نے دوبارہ وہ لائنز پڑھی تو وہاں بیٹھے سب لوگوں نے پرجوشی سے تالیاں بجائیں۔
یہ سچ میں اتنے گورے ہوگے یا میک اپ کا کمال ہے۔
آروش جو بنا پلکیں جھپکائیں لیپ ٹاپ پہ چلتے شو کو دیکھ رہی تھی حریم کے اچانک آنے پہ اُس نے لیپ ٹاپ بند کیا
یہاں کیا کررہی ہو۔ آروش نے پوچھا
لیپ ٹاپ بند کیوں کیا ہمیں پورا مورننگ شو دیکھنا تھا۔ حریم نے منہ بناکر کہا
لالہ ناراض ہوگے۔ آروش نے آنکھیں دیکھائی
وہ ہم سے ناراض نہیں ہوتے اور ان کی اجازت ہے میں اُن کی چیزیں استعمال کرسکتی ہوں۔ حریم فخریہ لہجے میں کہتی لیپ ٹاپ اپنی گود میں رکھا آروش ایک سنجیدہ نظر اُس پہ ڈال کر جانے لگی تھی جب حریم نے کہا
آپی رکے نہ میں آپ کو اپنے سنگر کی ہر بات بتاتی ہوں۔ حریم جھٹ سے اُس کا ہاتھ پکڑتی بیٹھا کر بولی
آپ کو پتا ہے ان کا فیورٹ کلر بلیک ہے
کھانے میں وہ شوق سے شامی کباب اور رائیس کھاتے ہیں۔
پسندیدہ تہوار اپنا کلچر ڈے
مزاج کے وہ کافی گرم ہوتے ہیں
اور
اگر تمہارا ہوگیا تو میں جاؤ۔آروش حریم کی بات بیچ میں ٹوکتی بولی
جی۔حریم منہ بسور کر بولی تو آروش بنا اُس کی طرح دیکھ کر درید شاہ کے کمرے سے نکلتی اپنے کمرے میں آکر بیڈ پہ بیٹھ گئ۔
ریڈ کلر میرا پسندیدہ کلر ہے کھانے میں تو سب شکر صبر کرکے کھالیتا ہوں پر بریانی موسٹ فیورٹ ہے اگر تہوار کی بات کی جائے تو وہ عید ہے اور ایک حیرت انگیز بات بتاؤں مجھے کبھی غصہ نہیں آتا آپ کو مجھ سے مل کر اندازہ ہوگیا ہوگا میں کتنا خوش مزاج ہوں۔
آروش سرجھٹک کر گہری سانس لیتی اپنا سر بیڈ کراؤن سے ٹکا دیا






سر انکل دلاور خان آپ سے ملنا چاہتے ہیں مسز خان بھی آپ کو یاد کررہی تھی۔یمان شو سے فارغ ہوتا ابھی بیٹھا ہی تھا جب اُس کا سیکٹری ارمان اُس سے بولا
اُن سے کہنا کل میں گھر آجاؤں گا۔یمان نے کہا تو اُس نے سر کو جنبش دی
سنو!
ارمان جانے والا تھا جب یمان نے آواز دی
جی سر۔ارمان اُس کی طرف متوجہ ہوا
آج پہلی تاریخ تھی نہ؟یمان نے کنفرم کرنا چاہا
جی سر پر میں آج کراچی نہیں گیا کیونکہ آج آپ کا شیڈول ٹف تھا۔ارمان یمان کی بات کا مطلب سمجھ گیا تھا تبھی اُس نے ہچکاہٹ سے بتایا اُس کا جواب سن کر یمان نے سخت نظروں سے اُس کو گھورا جس سے ارمان نے اپنا سرجھکالیا
کتنی دفع کہا ہے اِس کام میں کوتاہی نہ کیا کرو۔یمان نے سخت لہجے میں کہا
سوری سر کل ان شاءاللہ پہلا کام یہی کروں گا میں۔ارمان نے فورن سے کہا تو یمان نے کوئی جواب نہیں دیا
یمان مستقیم کے سیل فون پہ کال آنے لگی تو ارمان کمرے کا دروازہ بند کرتا باہر چلاگیا جب کی یمان نے سیل ہاتھ میں لیا
ہیلو ڈیڈ۔یمان نے اپنے لہجے کو ہشاش بشاش کیے کہا
ہیلو ٹو یمان کہاں ہو ایک ماہ سے گھر نہیں آئے۔دوسری طرف دلاور خان خفگی سے بولے
میرے نیو سونگ کی رکارڈنگ تھی اُس میں مصروف تھا اب فری ہوں کل آؤں گا۔یمان نے بتایا
ہمیں انتظار رہے گا تمہارا وقت پہ آنا۔دلاور خان مسکراتے لہجے میں بولے
جی ضرور۔یمان نے فرمانبرداری سے کہا
