Haal e Dil by Rimsha Hussain NovelR50524 Haal e Dil (Episode 69)
Rate this Novel
Haal e Dil (Episode 69)
Haal e Dil by Rimsha Hussain
یہ چراغ بے نظر ہے یہ ستارہ بے زباں ہے
ابھی تجھ سے ملتا جلتا کوئی دوسرا کہاں ہے
وہی شخص جس پہ اپنے دل و جاں نثار کردوں
وہ اگر خفا نہیں ہے ، تو ضرور بدگماں ہے
کبھی پاکے تجھ کو کھونا کبھی کھوکے تجھ کو پانا
یہ جنم جنم کا رشتہ تیرے میرے درمیاں ہے
خلع ایک بہت بڑا فیصلہ ہے آروش اللہ کے سامنے سب سے ناپسندیدہ عمل طلاق کا ہوتا ہے میاں بیوی کا ایک خوبصورت رشتہ ہوتا ہے اُس کو یوں بنا کسی وجوہات پہ ختم نہیں کیا جاتا۔کلثوم بیگم اپنی گود میں سر رکھے لیٹی ہوئی آروش سے بولی۔
جانتی ہوں اماں سائیں۔آروش بس یہی بول پائی۔
اگر جانتی ہو تو ایسا کیوں کررہی ہو؟کلثوم بیگم نے کہا تو آروش اُن کی گود سے سراُٹھاتی دیکھنے لگی۔
میرے قدم سبز ہیں اماں سائیں اگر میں اُس کے پاس گئ تو اُس کو کجھ ہوجائے گا میں جب سے اُس کی زندگی میں آئی ہوں کجھ نہ کجھ اُس کے ساتھ بُرا ہوتا ہے پہلے میری وجہ سے اُس کو مار پڑی پھر جب میں اُس کے گھر گئ تھی تو اُس کی ماں چلی گئ اِس دُنیا سے پھر جب تک میں نہیں تھی اُس کی زندگی میں تو سب کجھ ٹھیک تھا پھر جب ہمارا سامنا ہوا تو اُس کے لیے نئ مشکل سامنے آئی اُس کو برین ٹیومر ہوگیا جو پہلے تھا ہی نہیں یہ سب جان کر میں کیسے اُس کے پاس جاؤں کیسے بار بار اُس کی زندگی کو مشکل بناؤں؟آروش ندامت سے چور لہجے میں بولی
یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے آروش؟ایک پڑھی لکھی ہوکر کیسے جاہلوں والی بات کررہی ہو تم کیسے خود کو سبز قدموں والی یا منحوس کہہ سکتی ہو؟اللہ کی بنائی ہوئی کوئی بھی مخلوق منحوس نہیں ہوتی اور نہ اُس کی بنائی گئ تخلیق کو کوئی منحوس کہہ سکتا ہے اللہ ناراض ہوجاتا ہے میرا بچہ۔کلثوم بیگم حیرانی سے آروش کی بات سن کر بولی
سب یہی کہتے ہیں اماں سائیں اگر ایسا نہیں ہوتا تو کیوں میری تین بار شادی ہوتے ہوتے رہ گئ؟آروش کے گلے میں آنسو کا گولا اٹکا
کیونکہ تم اُن میں سے کسی کے بھی نصیب میں نہیں تھی تم کسی اور کا نصیب تھی جس کے ساتھ تمہارا نکاح ہوا ہے تمہارا ایک پاک اور مضبوط رشتہ جڑگیا ہے جس کو تم اپنی بے وقوفی میں آکر فراموش نہیں کرسکتی وہ لڑکا تمہارا شوہر ہے ہر طرح سے تم پہ حق رکھتا ہے اگر وہ اتنے ماہ سے تمہاری پُکار کا انتظار کررہا ہے تو اُس کو مایوس مت کرو اُس کے پاس جاؤ اُس کو ضروری ہے تمہاری کیونکہ وہ چاہے تو تمہارے ساتھ زبردستی بھی کرسکتا ہے یہاں سے لے جاسکتا ہے تمہیں۔کلثوم بیگم نے اُس کی حالت کے پیش نظر اُس کو سمجھایا
وہ زبردستی نہیں کرے گا۔آروش سرجھکاکر بولی۔
وہ مرد ہے کجھ بھی کرسکتا ہے۔کلثوم بیگم نے باور کروایا
وہ کبھی کوئی ایسا کام نہیں کرے گا جس سے میں ہرٹ ہوں وہ میرے ساتھ زبردستی نہیں کرسکتا اگر اُس کو زبردستی کرنی ہوتی تو کب کا کرچکا ہوتا۔آروش کے لہجے میں یمان کے لیے اعتبار بول رہا تھا۔
اتنا اعتبار کرتی ہوں اُس پہ؟کلثوم بیگم اُس کی بات پہ مسکرائی۔
شاید۔آروش نے نظریں چُرائی
میاں بیوی کے ایک دوسرے پہ بہت حقوق ہوتے ہیں اگر وہ تمہیں تکلیف نہیں دے سکتا یہ بات تم مانتی ہو تو خود بھی اُس کو تکلیف مت دو۔کلثوم بیگم نے کہا
ہمت نہیں ہے اُس کا سامنا کرنے کی۔آروش نے محبوری بیان کی۔
ہمت پیدا کرو وہ کوئی غیر نہیں تمہارا شوہر ہے۔کلثوم بیگم نے اب کی ڈپٹا تو آروش خاموش ہوگئ۔








تم یہاں؟دُرید ڈیڑے پہ آیا تو شازل کو پہلے سے وہاں موجود پایا جس کی گود میں شازم بھی کھیل رہا تھا۔
کیا میں یہاں نہیں ہوسکتا؟شازل ہشاش بشاش لہجے میں بولا
ہوسکتے ہو مگر شازم کو نہیں لانا چاہیے تھا اِس کو بھوک بھی لگ سکتی ہے۔دُرید نے کہا
فیڈر لایا ہوں ساتھ اب ویسے بھی یہ ماشااللہ سے بڑا ہوگیا ہے بھوک کو کنٹرول کرنا اِس کو آنا چاہیے اور یہاں اِس لیے لایا کیونکہ ماہی کہتی ہے میری غیرموجودگی میں شازی اُس کو بہت تنگ کرتا ہے۔شازل نے مسکراکر کہا
کوئی کام تھا؟دُرید نے سنجیدگی سے پوچھا
جی میں اسلام آباد واپس جانا چاہتا ہوں۔شازل نے بتایا
میرا نہیں خیال تمہیں شہر اب جانا چاہیے۔دُرید نے کہا
میں مزید یہاں نہیں رہ سکتا ماہی اور شازم کو لیکر جانا چاہتا ہوں۔شازل گہری سانس بھر کر بولا
شازم کا یہاں رہنا ٹھیک ہوگا اچھا ہے وہ حویلی کے طور طریقے دیکھے شہر میں ہوگا تو کجھ سیکھ نہیں پائے گا۔دُرید اُس کی بات کے جواب میں بولا
میں اپنے بچے کی اچھی پرورش کروں گا یہاں رہ کر وہ بس قتل و غارت کرنے سیکھے گا جو میں نہیں چاہتا۔شازل سنجیدہ تھا۔
کوشش کرکے دیکھ لو۔دُرید نے بحث نہیں کی۔
آپ ولیمہ کب کررہے؟شازل نے پوچھا
میرے ولیمے سے تمہارا کیا لینا دینا؟دُرید کو اُس کا سوال پوچھنا سمجھ نہیں آیا
میرا تو کوئی کام نہیں دراصل میرا جب ولیمے نہیں ہوا تھا تو کسی نے کجھ کہا نہیں تھا مگر یہ گاؤں ہے آپ یہاں کے رہائشی اور یہاں کے سرپنج کے بیٹے جس پہ ہر ایک کی نظر ہوتی ہے آپ کا ولیمہ نہیں ہورہا تو سب باتیں بنارہے ہیں۔شازل سرسری لہجے میں بولا تو دُرید نے سختی سے اپنے ہاتھ کی مٹھیوں کو بھینچا
مجھے جب کرنا ہوگا میں کرلوں گا۔دُرید نے سنجیدگی سے کہا
ہمم میرا بھی ہوگا۔شازل مزے سے بولا
تمہارا؟دُرید نے کنفرم کرنا چاہا
ہاں میرے ولیمے کی تو کسی کو پرواہ ہے نہیں تو میں خود کرلوں اِس لیے سوچا جس دن آپ کا ہوگا اُس دن میں بھی رکھ لوں گا۔شازل سکون سے بولا
تمہارا ایک بیٹا ہے اور تم اب ولیمہ کروگے پہلے کہاں سوئے ہوئے تھے؟دُرید نے میٹھا سا طنزیہ کیا۔
آپ ایسے بات کررہے ہیں جیسے کجھ پتا نہ ہو ہر بات سے تو واقف ہیں آپ میرا نکاح جس حال میں ہوا تھا وہاں ولیمہ کیسے ہوسکتا تھا۔شازل منہ بناکر بولا
کرتا ہوں انتظام تمہارے ولیمے کا۔دُرید نے بتایا
صرف میرا نہیں آپ کا بھی ہوگا۔شازل نے جتایا
تمہارے ہوجائے وہ ہی بڑی بات ہے۔دُرید نے اُس کو گھورا
لالہ ولیمہ ساتھ ہوگا میں بتارہا ہوں۔شازل بضد تھا۔
مرضی ہے تمہاری۔دُرید نے جیسے جان چھڑائی۔








میرے لیے کافی بنائی ہیں آپ نے؟ارمان کچن میں آیا تو فجر کو کافی کا کپ پکڑے سوچو میں گُم پایا تو جان بوجھ کر شرارت سے بولا
میرا تم سے بحث کرنے کا موڈ نہیں۔فجر نے سرجھٹک کر کافی کا سِپ لیکر کہا
پھر کس چیز کا موڈ ہے وہ بتادے اور اگر آپ کہے تو میں ابھی امام صاحب کو کہیں سے پکڑ لاتا ہوں۔ارمان مزے سے اپنے اِرادے بتانے لگا۔
تمہیں شرم نہیں آتی ایک بیوہ سے ایسی بات کرتے ہوئے؟فجر نے اُس کو شرمندہ کرنا چاہا
شرم؟وہ کیا ہوتی ہے؟ارمان سوچنے کی اداکاری کرتا بولا
میرا دماغ مت چاٹو۔فجر نے بیزاری کا مظاہرہ کیا۔
ویسے بی سیریس سنجیدگی سے بات کرتے ہیں آپ کو مجھ سے نکاح کرنے میں کیا مسئلہ ہے خوش شکل ہوں، خوش مزاج ہوں،ایسی خاصی سیلری بھی ہے اچھا خاصا قد بھی ہے عمر بھی زیادہ نہیں۔ارمان نے بھرپور سنجیدگی اختیار کیے کہا
خوش شکل ہوں، خوش مزاج ہوں،ایسی خاصی سیلری بھی ہے اچھا خاصا قد بھی ہے عمر بھی زیادہ نہیں۔تو اپنے جیسے کوئی تلاش کرو مجھ جیسی بیوہ اور ایک بچے کی ماں کے پیچھے لگ کر اپنا وقت ضائع مت کرو۔فجر اُس کے جُملے واپس لوٹاتی ہوئی بولی
مگر میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں سُنا ہے بیوہ عورت سے شادی کرنا بڑا ثواب کا کام ہے۔ارمان اُس کو تنگ کرنے سے باز نہ آیا
اگر ثواب کمانا ہے تو دُنیا میں بہت ساری بیوائیں ملے گی اُن سب سے شادی کرکے ثواب کماؤ۔فجر اُس کے جواب پہ جل کے بولی
کسی اور کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے اِس سے پہلے بال سفید ہوجائے آپ ہاں کردے۔ارمان نے کہا
دیکھو ارمان مجھے مجبور نہ کرو کے میں تمہارا سر پھاڑدوں۔فجر نے ضبط کرتے کہا۔
سر شادی کے بعد بھی پھاڑ سکتی ہیں ابھی یہ بتائے وِل یو میری می؟آئے پرومیس کبھی اپنی اُلٹی سٹی باتوں سے آپ کو تنگ نہیں کروں گا آپ جو کہے گی وہ کروں گا ایک وقت کا کھانا بھی پکالوں گا کبھی کبھی نہیں روزانہ آپ کے ناخن پہ پالیش بھی لگالیا کروں گا یامین کو سگے باپ سے زیادہ پیار دوں گا بس آپ یس اور ڈن کردے میرے لیے نہیں تو اپنے لیے ،اپنے لیے بھی نہیں تو یامین کے لیے کتنا معصوم سا پیارا سا کیوٹ سا ہے اُس کو بھی ایک باپ کا پیار چاہیے ہوتا ہے۔ارمان اچانک اُس کے گھٹنوں کے بل بیٹھتا اپنی پینٹ کی جیب سے ایک ڈبی نکال کر اُس کے سامنے کرکے کہا تو ڈبی میں موجود رِنگ دیکھ کر اور ارمان کی نان سٹاپ باتیں سن کر فجر اپنی جگہ ہکا بکا اُس کو دیکھتی رہ گئ جو اب واقع سنجیدہ نظروں سے اُس کو دیکھ رہا تھا۔
میں تم سے عمر میں بڑی ہوں۔فجر نے دوبارہ سے بتایا
جانتا ہوں۔ارمان کو کوئی فرق نہیں پڑا
بیوہ ہوں ایک سات سال کے بچے کی ماں بھی ہوں تمہارے لیے کوئی اچھی خوبصورت لڑکی ہونی چاہیے۔فجر نے اُس کو سمجھانا چاہا
میں جانتا ہوں آپ ایک بیوہ اور سات سال کے بچے کی ماں ہیں مگر جب مجھے آپ سے پیار ہوا تھا تب بھی آپ ایک بیوہ اور بچے کی ماں تھی مگر فرق بس اتنا تھا کے تب وہ بچہ کجھ دنوں کا تھا اور اب سات سالوں کا ہوگیا ہے میرے جذبات آپ کے لیے پُرانے ہیں اِس لیے اِس کو ٹھکڑائے مت۔ارمان کی بات سے فجر آج سچ میں لاجواب ہوگئ تھی۔
اب ہاتھ بڑھا بھی دے تھک گیا ہوں ایسے بیٹھ بیٹھ کر۔ارمان نے اُس کو خاموش دیکھا تو کہا جس پہ فجر ہنس پڑی
واہ آپ ہنسی مطلب پھسی۔ارمان خوش ہوتا بولا
اگر میں نا کہوں تو۔فجر بازوں سینے پہ باندھ کر بولی۔
تو میں روز آپ سے اظہار محبت کروں گا۔ارمان بنا تاخیر کیے بولا
بہت ڈرامے باز ہو تم۔فجر نفی میں سر کو جنبش دیتی بولی
آپ اپنا ہاتھ بڑھائے میری طرف یقین جانے شادی کے بعد پوری فلم بن جاؤں گا اور آپ کو کبھی مایوس نہیں کروں گا۔ارمان دلکشی سے بولا تو جانے کیا سوچ کر فجر نے اُس کے ہاتھ سے رِنگ لی۔
مجھے پہنانی تھی۔ارمان نے احتجاجاً کہا
شادی کے بعد پہنا لینا جب تمہارا حق ہو۔فجر نے کہا تو ارمان کا پورا منہ کُھلا کا کُھلا رہ گیا بے ساختہ وہ اپنے سینے پہ ہاتھ رکھ کر بیہوش ہونے کی اداکاری کرنے لگا۔
کیا میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں؟ارمان کھڑا ہوتا بار بار اپنی آنکھوں کو جھپک کر بولا
اب بس کرو اپنے یہ ڈرامے کرنا۔فجر بدمزہ ہوتی بولی۔
تو کیا آپ واقع مان گئ ہیں۔ارمان دانتوں کی نمائش کرتا ایک قدم اُس کی طرف بڑھاکر بولا
ہاں ماننا پڑا کیونکہ
فجر اتنا کہتی خاموش ہوگئ۔
کیونکہ؟ارمان نے بے چینی سے پوچھا
کیونکہ میرا بیٹا تمہارے بہت کلوز ہے دوسرا وہ واقع باپ کی محبت کو مس کرتا ہے میں تم سے شادی تو کرلوں گی مگر مجھ سے تم واعدا کرو یامین کے ساتھ ہمیشہ اچھے سے رہو گے۔فجر سنجیدگی سے گویا ہوئی۔
اُس کی آپ فکر نہ کرے یامین مجھے بھی عزیز ہے۔ارمان نے کہا
شکریہ یہ لو۔فجر نے رِنگ اُس کو واپس تھمائی۔
واپس کیوں؟ارمان کو ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگا۔
ابھی کوئی رشتہ نہیں جو میں تم سے یہ لوں۔فجر نے عام لہجے میں کہا۔
ویسے مان تو آپ گئ کیا ہوجاتا اگر کجھ ماہ پہلے مان جاتی تو۔ارمان نے ٹھنڈی سانس خارج کرتے کہا۔
بڑے ہی کوِئی ناشکرے انسان ہو۔فجر خشمگین نظروں سے اُس کو گھور کر کہتی کچن سے چلی گئ جس پہ ارمان بھی ہنس کر سرجھٹکتا کچن سے نکل گیا۔









آروش بیڈ پہ لیٹی ہوئی تھی نیند آنکھوں سے کوسو دور تھی ساری رات گُزرگِئ تھی مگر ایک منٹ کے لیے بھی اُس کو نیند نہیں آئی تھی ابھی وہ فجر کی نماز پڑھ کر بیٹھی تھی کے ایک بار پھر پوری شدت سے یمان کی یاد اُس کو ستانے لگی اُس کا خوبصورت عکس،اُس کی مسکراہٹ گالوں پہ پڑنے والے ڈمپل شوخی سے بھری آنکھیں اور کانوں میں بھی بار بار یمان کے کہے جانے والے جُملے دماغ میں گردش کررہے تھے وہ ابھی اِسی سوچو میں تھی جب سائیڈ ٹیبل پہ پڑا اُس کا موبائیل بجنے لگا۔
آروش نے موبائل اسکرین کو دیکھا تو کوئی انون نمبر دیکھا کجھ پل تو وہ خالی نظروں سے نمبر کو دیکھتی رہی پھر کجھ سوچ کر کال ریسیو کردی
اگر مجھے تڑپانے کا شوق ختم ہوگیا ہو تو پلیز واپس آجائے۔ابھی اُس نے موبائیل کان کے پاس لگایا ہی تھا جب دوسری طرف سے یمان کی گھمبیر آواز اُس کے کانوں سے ٹکڑائی۔
یمان۔۔آروش اُس کا نام لیتی زور سے آنکھوں کو بند کرگئ۔
میرے معاملے میں آپ اتنی سنگدل کیوں ہیں؟میری بے چینی میری بے قراری میری محبت میرا عشق میری تڑپ آپ کو نظر کیوں نہیں آتی؟نا جینے دیتی ہیں نا مرنے دیتی ہیں اگر یہی سب کرنا تھا تو کیوں میری جان بچانے کی خاطر یہ ڈرامہ کیا؟مرنے دیتی مجھے۔یمان زخمی لہجے میں کہتا اُس کے دل کو لہولہاں کرگیا تھا آروش بے ساختہ منہ پہ ہاتھ رکھتی اپنی سسکیوں کا گلا گھوٹنے لگی۔
خاموش کیوں ہیں جواب دے؟یمان نے اُس کو بات کرتا نہ دیکھا تو کہا
س ۔۔۔س۔۔۔و۔۔سوری۔آروش نے لڑکھڑاتی آواز میں بس یہ بول پائی
سوری؟یمان اتنا کہتا قہقہقہ لگانے لگا۔
کیا آپ کا سوری میری تکلیف کا ازالہ کرسکتا ہے میری راتوں کی نیند واپس لوٹا سکتا ہے جو آپ کے جانے کے بعد روٹھ گئ ہیں؟یمان نے پوچھا
میں جانتی ہوں میں بہت بُری ہو
ہاں ہیں آپ بُری بہت بُری ہیں مگر پتا ہے کیا؟آپ مجھے بُری نہیں لگتی دل کے قریب لگتی ہیں آپ جتنا مجھ سے دور بھاگنا چاہتی ہیں یہ دل آپ کے لیے اُس سے زیادہ مچلنے لگتا ہے میرے حالِ دل سے تو آپ واقف ہیں پھر بھی ایسا کرتی ہیں کیوں؟کیا واقع میری محبت میں اتنی تاثیر نہیں جو آپ کے دل کو میرے لیے نرم کردے؟یمان نے ایک کے بعد ایک سوال کیا
میں نے تمہیں بہت ہرٹ کیا ہے
بہت سے زیادہ ہرٹ کیا ہے آپ نے آٹھ سالوں سے ایک اٙن دیکھی آگ میں جل رہا ہوں مجھے بس اِس بات کی سزا مل رہی ہے کے میں نے اُس لڑکی کو چاہا جس کے دل میں میرے لیے کوئی احساس ہی نہیں جس کو میری تھوڑی بھی پرواہ نہیں۔یمان اُس کی بات درمیان میں کاٹ کر بولا
پرواہ ہے۔آروش نے کہا
نہیں ہے اگر ہوتی تو اِس وقت آپ میرے پاس ہوتی میری دسترس میں ہوتی یوں میں یوں آپ کے لیے تڑپ نہ رہا ہوتا۔
میں جانتی ہوں تم ناراض ہو۔آروش اپنی آنکھوں سے بہتے آنسوؤ کو بے دردی سے صاف کرتی بولی
میں کیوں لگا آپ سے ناراض؟کونسا آپ نے مجھے ایسا کوئی حق دیا ہے۔یمان جیسے خود کا مذاق اڑا رہا تھا۔
ایسی باتیں کیوں کررہے ہو؟آروش کو تکلیف ہوئی۔
معافی چاہتا ہوں آپ کا وقت برباد کیا دوبارہ نہیں کروں گا۔یمان اتنا کہتا کال کاٹ گیا تو گرم سیال آنکھوں سے بہتے آروش کے گال بھگا گئے تھے دوسری طرف یمان کو اپنے اندر گھٹن کا احساس ہونے لگا تو شرٹ کے اُپری بٹن کھولتا کھڑکی کے سامنے کھڑا ہوگیا اُس کو آس پاس کے ماحول سے وحشت سی ہونے لگی۔









شازل شازم کو لیے کمرے میں آیا تو نظر بیڈ پہ گہری نیند میں سوئی ماہی پہ پڑی تو زندگی سے بھرپور مسکراہٹ نے اُس کے چہرے پہ احاطہ کیا۔شازم کو بے بی کارٹ میں ڈالے وہ ماہی کی طرف متوجہ ہوا جس کا ایک ہاتھ بیڈ سے لٹک رہا تھا شازل آگے بھرتا اُس کا ہاتھ بیڈ پہ کیا اور خود جھک کر اُس کے ماتھے پہ بوسہ دے کر واشروم کی جانب بڑھ گیا۔









حورم ہماری جان چُپ ہوجاؤ۔حریم نیند نے نڈھال ہوتی حورم کو گود میں اُٹھاتی کمرے میں یہاں سے وہاں ٹہل کر اُس کو بہلا رہی تھی مگر ایک حورم تھی جس کا رونا رات کو شروع ہوا تھا تو دن چڑھے تک وقفے وقفے سے شروع ہورہا تھا۔
حریم کیوں رو رہی ہے حورم پیٹ میں تو درد نہیں کہیں اِسے۔کلثوم بیگم حریم کے کمرے میں آئی تو اُس کی گود سے حورم کو لیتی ہوئی بولی
نہیں یہ اُنہیں یاد کررہی ہے جو کل سے غائب ہیں۔حریم روہانسی ہوتی بتانے لگی یکدم اُس کی آنکھیں لبالب آنسوؤ سے بھرگئ تھی۔
تم تو مت روؤ اور یہ دُرید کیا رات میں بھی نہیں آیا؟کلثوم بیگم پریشان کن لہجے میں استفسار ہوئی۔
نہیں اُن کو پتا ہے کے حورم کو جب وہ اپنی گود میں لیتے ہیں تو خوش ہوتی ہیں ورنہ نہیں اور سوتی بھی اُن کے سُلانے پہ ہیں مگر پھر بھی وہ نہیں آئے اگر ایسا کرنا تھا تو حورم کو اپنا عادی کیوں بنایا؟حریم اپنی آنکھیں صاف کرتی بولی
“اچھا تم بدگمان مت ہو ضرور کوئی کام پڑگیا ہوگا ورنہ وہ اتنا غیرذمیدار نہیں میں حورم کو اپنے ساتھ لیکر سُلادوں گی تم اپنی پوری نیند کرو حورم کا رونا اِتنا ٹھیک نہیں بیمار ہوجائے گی تمہیں پہلے ہی میرے پاس آجانا تھا۔کلثوم بیگم اُس کو تسلی کرواتی ہوئی بولی تو حریم محض سراثبات میں ہلایا۔
