Haal e Dil by Rimsha Hussain NovelR50524 Haal e Dil (Episode 62)
Rate this Novel
Haal e Dil (Episode 62)
Haal e Dil by Rimsha Hussain
کمرے میں آنے کے بعد آروش کو بے چینی نے آ گھیرا اُس کو سمجھ نہیں آیا وہ کیوں اِتنا بے چین ہوگئ ہے؟ اُس کے اندر کیوں بے چینی پھیلی ہوئی ہے؟ یہ سب آروش کی سمجھ سے بالآتر تھا مگر جو بھی تھا وہ نہیں چاہتی تھی یمان کو کجھ بھی ہو۔
یااللہ۔اُس کی گھبراہٹ میں اُضافہ ہونے لگا تو وہ اُٹھ کر واشروم میں وضو کرنے چلی گئ۔








مسٹر یمان میڈیسن میں نے لکھ لی ہے آپ ایک بار ہسپتال چکر ضرور لگائے ویسے میں آپ کو آپریشن کروانے کا ضرور کہوں گا۔ ڈاکٹر نے کال پہ یمان سے کہا
آپریشن سے بچنے کے کتنے چانسز ہیں؟ یمان نے پوچھا
سؤ میں سے دس پرسنٹیج۔ڈاکٹر نے کہا تو یمان کے چہرے پہ مایوسی بھری مسکان آئی۔
اور اگر آپریشن نہ ہو تو؟دوسرا سوال
تین سے پانچ سال مزید زندہ رہنے کے چانس ہیں مگر آپ کو بہت تکلیف سے گُزرنا پڑے گا اِس لیے میری مانے اللہ کا نام لیکر آپریشن کے لیے اپنی رضامندی دے خود کو پروپر تیار کرے اُور اِس میں جتنا آپ لیٹ کرینگے آپ کے لیے نقصاندہ ثابت ہوسکتا ہے بہتر ہوگا آپ دوبارہ وہ غلطی نہ دوہراے۔ڈاکٹر نے اُس کو سمجھانا چاہا
میں ہسپتال چکر ضرور لگاؤں گا مگر آپریشن نہیں کرواسکتا کیونکہ دس پرسنٹیج کی اُمید پر میں تین یا پانچ سال ضائع نہیں کرنا چاہوں گا میرے لیے یہ بہت ہیں۔یمان کا لہجہ ہر احساس سے عاری تھا۔
آپ کو اللہ پہ یقین نہیں؟ڈاکٹر نے پوچھا
اللہ پہ اپنی قسمت پہ نہیں۔یمان تلخ ہوا۔
قسمت بھی تو اللہ ہی لکھتا ہے نہ۔ڈاکٹر نے کہا
کہتے ہیں انسان جب پیدا ہوتا ہے تو تب ہی اللہ اُس کی قسمت لکھ دیتا ہے اُس کا رزق لکھ دیتا ہے۔مگر بات زندگی کی کروں تو ابھی تین سالوں کی اُمید ہے میرے اندر میں دس پرسنٹیج پہ یقین نہیں کرسکتا۔یمان نے سنجیدگی سے کہا








ہمیں شازل لالہ کا بے بی دیکھنا تھا۔ حریم اپنے بھرے ہوئے وجود کے ساتھ فاریہ بیگم کے پاس بیٹھ کر بولی۔
وہ آجائے گے کجھ دنوں تک پھر دیکھ لینا اور گود میں بھی اُٹھالینا۔ فاریہ بیگم نے مسکراکر کہا
ہم سے انتظار نہیں ہورہا اور ہمیں آروش آپی سے بھی ملنا ہے وہ بھی تو وہاں ہوگی۔ حریم نے اپنی مجبوری بتائی۔
وہ بھی حویلی آئے گی اور جب تمہارا وقت ہوگا تو تمہارے آخری ماہ سے لیکر پہلے ماہ تک تمہارے ساتھ ہوگی۔ فاریہ بیگم نے اُس کو تسلی کروائی۔
کیا واقع وہ ہمارے ساتھ ہوگی؟ حریم پرجوش ہوئی۔
بلکل کہہ رہی تھی جب تمہارا نواں مہینہ شروع ہوگا تو تمہیں شازل کے گھر کے بجائے وہ اپنے گھر میں لائے گی کیونکہ وہاں کسی غیر مرد کا آنا جانا نہیں رہتا تم آرام سے رہ سکتی ہو وہاں بس آروش کا باپ ہوتا ہے۔فاریہ بیگم نے مسکراکر کہا
یہ تو اچھی بات ہے ہم تو ویسے بھی اپنے کمرے میں ہوتے ہیں بس شام کے وقت واک کرنا ہوتی ہے۔ حریم کا چہرہ چمک اُٹھا تھا۔
تو پھر بس یہ ماہ گُزرنے دو خیر سے۔ فاریہ بیگم نے کہا تو حریم نے مسکراکر سراثبات میں ہلایا اُس کو پتا نہیں چلا کیسے فاریہ بیگم نے اُس کا دھیان شازل کے بچے سے ہٹاکر دوسری طرف کرلیا تھا.









میرا شونا بے بی اپنی مما کا چاند۔ ماہی شازم کو اپنے سینے سے لگاتی اُس کو پچکارنے لگی جس پہ وہ ہلکہ سا مسکرا رہا تھا اُس کی مسکراہٹ دیکھ کر ماہی تو اُس کے واری صدقے جارہی تھی بار بار اُس کا چہرہ چوم کر اپنی ممتا نچھاور کرتی۔
ماہی کے گھر والے بھی ہسپتال آئے تھے مگر زیادہ لوگوں کا رہنا آلاؤ نہیں تھا تو وہ مل کر تھوڑی بہت بات چیت وغیرہ کرکے اُس کو دعائیں دے کر واپس چلے گئے تھے جبکہ ذین یہی روکا ہوا تھا ہسپتال کا روم جہاں ماہی ایڈمنٹ تھی وہ پورا تحائف سے بھرا پڑا تھا ویسے تو نارمل ڈیلیوری کی وجہ سے ماہی کو بھی ڈسچارج ملنا تھا مگر شازم کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے اُن کو ہسپتال میں ہی رُکنا پڑا تھا “”ماہی کی گھر والوں سے اُس کی ماں بختاور بیگم نے شازم کے ہاتھ کی چھوٹی انگلی میں سونے کے انگھوٹی پہنائی تھی جو بار بار اُس کی انگلی سے اُتر جاتی تو وہ ماہی نے کلثوم بیگم کو دی تھی تاکہ وہ فلحال سنبھال کر رکھے کجھ وقت بعد وہ شازم کو پہنائے گی۔
بغیر دانتو کے ہنس رہا بڑا ہی کوئی ڈھیٹ ثابت ہوا ہے یہ۔شازل جو پاس بیٹھا تھا شازم کو یوں ہلکہ سا مسکراتا دیکھا تو اُس نے ہر بار کی طرح اپنی راے دینا ضروری سمجھا۔
شازل ہم دونوں آپ سے ناراض ہوجائے گے اگر اب اور آپ نے میرے بچے کو کجھ کہا بھی تو۔ماہی نے تنگ آکر شازل سے کہا جو دو دن سے کوئی موقع جانے نہیں دے رہا تھا شازم کو دیکھ کر کوئی نہ کوئی ایسا جُملا کہتا جس پہ اُس کا دل تڑپ اُٹھتا اپنے بچے کے لیے ایسے الفاظ سن کر مگر ایک شازل تھا جو جانے کون کون سے بدلے نکال رہا تھا اُس معصوم سے۔
تم کیوں ناراض ہو رہی اور یہ دیکھو میں تمہارے لیے کیا لایا ہوں۔ شازل اپنی جگہ سے اُٹھتا اُس کے پاس آکر پینٹ کی جیب سے ایک لاکیٹ نکالا تھا۔ ماہی کے چہرے پہ خوشگوار حیرت کے تاثرات نمایاں ہوئے کیونکہ یہ لاکیٹ سیم شازل کے لاکیٹ جیسا تھا بس فرق یہ تھا اُس کے لاکیٹ میں اُس کا نام لکھا ہوا تھا جب کی شازل کے لاکیٹ میں پتھر بنا ہوا۔
یہ میرے لیے واہ بہت پیارا ہے۔ ماہی نے خوش ہوکر کہا۔
شازل مسکراکر شازم اُس سے لیتا اُس کو بے بی کارٹ میں لیٹاکر دوبارہ ماہی کی طرف متوجہ ہوا۔
لاؤ پہناؤ۔شازل نے کہا تو ماہی نے مسکراکر لاکیٹ اُس کی طرف بڑھایا
ویسے یہ میرا وہ تحفہ ہے جو آپ نے شازم کی پیدائش پہ دینا تھا؟شازل لاکیٹ کا لاک لگارہا تھا جب ماہی نے پوچھا
ہاں وہی ہے۔شازل لاکیٹ پہننانے کے دور ہوتا اُس کو دیکھنے لگا۔
اچھا لگ رہا ہے نہ؟ماہی نے خوشی سے پوچھا
ہاں بہت۔شازل نے فورن سے جواب دیا۔
آروش کیوں نہیں آئی ابھی تک؟ دو سے تین ہوگئے ہیں ہم یہاں ہیں۔ ماہی نے سوالیہ نظروں سے شازل کو دیکھا
اُس کا باب کام کی وجہ سے باہر ہے وہ کسی اور کے ساتھ جانا نہیں چاہتی مگر آج بابا سائیں خود اُس کو لینے جائینگے ویسے بھی کل تمہارا ڈسچارج ہے حویلی میں سب کو انتظار ہے۔ شازل نے بتایا۔
آپ کے بابا کو شازم قبول ہے؟ ماہی نے ہچکچاہٹ سے پوچھا
ہاں کیوں؟ شازل کو اُس کا ایسا سوال سمجھ نہیں آیا۔
نہیں ویسے ہی دراصل میں آپ کے خاندان کی نہیں نہ تو سوچا بچہ شاید اِس وجہ سے پسند نہ ہو۔ ماہی نے کہا
ایک تو تمہارے خدشات جانے کب ختم ہوگے خیر جب یہ بچہ اِس دُنیا میں آیا ہے تو تم ماہی شازل شاہ بن چُکی تھی ایسے میں کسی کو یہ بات ناگوار لگنے کی کوئی تک نہیں بنتی ویسے بھی مجھے اُس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا تھا۔ شازل نے سنجیدگی سے کہا
مطلب شازم کو وہ مقام ملے گا جو شاہ خاندان کے مردوں کا ہوتا ہے؟ مرغی کی ایک ٹانگ والی مثال قائم کردی ماہی نے۔
یار ماہی میں تمہیں کیا کہوں؟ بیوقوف یا معصوم؟ جب یہ میرا بیٹا میرا خون ہے حویلی کا وارث ہے تو ظاہر ہے شازم شاہ کا بھی وہ مقام ہوگا جو ہر ایک کا ہوتا ہے اور تمہیں پتا ہے اگر ہماری بیٹی ہوتی تو بھی کسی کو کوئی اعتراض نہ ہوتا کیونکہ بیٹی اللہ کی طرف سے “رحمت” ہوتی ہے اور ہمارے خاندان میں بیٹی کی پیدائش کو بُرا نہیں سمجھا جاتا بلکہ ویسے ہی خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے جیسے بیٹے کی پیدائش پہ کیا جاتا ہے حویلی میں بیٹی کو اُس کا رتبہ دیا جاتا ہے جس کی وہ حقدار ہوتی ہے۔ شازل کا لہجہ ہنوز سنجیدہ تھا۔
شکریہ۔ ماہی بس یہی بول پائی جس پہ شازل نے اپنا سرجھٹکتا شازم کی طرف متوجہ ہوا جو اپنی نیند پوری کررہا تھا۔






آروش بنا مقصد چاولوں کو میں چمچ گُھما رہی تھی دو دن ہوچکے تھے اُس کا یمان سے سامنا نہیں ہوا تھا اور وہ کرنا بھی نہیں چاہتی تھی وہ بس اب اُس سے دور رہنا چاہتی تھی وہ کھانے سے اپنا ہاتھ کھینچتی اُٹھنے والی تھی جب اُس کی نظر داخلی دروازے سے بھاگ کر آتے ایک بچے پہ پڑی تو آروش بار بار آنکھیں جھپکتی اُس بچے کو دیکھنے لگی جو اُس کو بلکل یمان کا عکس لگ رہا تھا۔
یامین جو ارمان کے ساتھ آیا تھا سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھا تو اپنی جگہ رُک سا گیا تھا وہ پوری آنکھیں کھول کر اُس کو دیکھنے لگا کیونکہ یہ چہرہ اُس کے لیے نیا تھا اُس نے پلٹ کر پیچھے دیکھا کے شاید ارمان ہو مگر وہ اُس کو گھر میں چھوڑ کر خود واپس چلاگیا۔
السلام علیکم۔یامین نے آروش کو سلام کیا تو وہ جو غور سے اُس کا چہرہ دیکھ رہی تھی یکدم ہوش میں آتی اُس کے سلام کرنے پہ مسکرائی تھی۔
وعلیکم السلام آپ کون؟اور یہاں کیسے؟ آروش سلام کا جواب دے کر چلتی ہوئی اُس کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھی۔
میرا نام یامین ارسم ہے اور یہاں مجھے پارٹنر چھوڑ کر گئے ہیں اور میں سات سال کا ہوں پر آپ کون؟ یامین ایک سانس میں اپنا تعارف کروتا اُس سے پوچھنے لگا تو آروش کو وہ بہت کیوٹ لگا۔
یہاں بیٹھو۔ آروش اُس کو بانہوں میں اُٹھاتی صوفے پہ بیٹھایا۔
آپ نے بتایا نہیں آپ کون؟نام کیا ہے آپ کا؟ یامین نے ایک بار پوچھا
پہلے آپ یہ بتائے آپ کو سلام کرنا کس نے سِکھایا ہے؟ آروش مسکراکر اُس کے گال کھینچ کر پوچھنے لگی کیونکہ یہاں سب لوگ اُس کو “ہائے” “بائے” پھر صبح شام کے وقت “گُڈ مارننگ” یا گُڈ آفٹر نون” کہتے ہیں ایسے میں اِس بچے کا یوں سلام کرنا اُس کو اچھا لگا تھا۔
امی نے وہ کہتی ہیں جس سے بھی آپ ملو اُس کو “السلام علیکم “کہا کرو ایسے میں ثواب ملتا ہے۔ یامین نے آنکھیں بڑی بڑی کرکے بتایا۔
اچھا اور آپ کے بابا؟ آروش نے دلچسپی سے اُس کے تاثرات نوٹ کرکے دوسرا سوال کیا۔
بابا؟ یامین تھوڑا اُداس ہوا تھا جس کو محسوس کرکے آروش کو لگا جیسے اُس نے کجھ غلط پوچھ لیا ہو۔
آپ کو بُرا لگا میرا سوال کرنا؟ تو سوری ویسے میرا نام آروش ہے۔ آروش نے مسکراکر اُس کے دھیان دوسری طرف کرنا چاہا
نہیں بُرا نہیں لگا امی کہتی ہیں بڑوں کی باتوں کا بُرا نہیں منایا جاتا ہے اور وہ اکثر بتاتی ہیں کے بابا جنت میں ہیں اِس لیے میں اور امی اکیلے رہتے ہیں ویسے میں نے تو بابا کو کبھی دیکھا ہی نہیں۔ یامین نے بتایا تو آروش کو اُس پہ ترس سا آیا جو سِرے سے ہی باپ کی محبت سے انجان تھا۔
آپ کی مما نہیں آئی؟آروش کو اُس سے باتیں کرنا اچھا لگنے لگا۔
نہیں وہ دور دور ہیں مجھے تو یمان ماموں نے بُلایا ہے۔ یامین نے سامنے کی طرف اِشارہ کرکے اُس کو بتایا تو آروش جھٹکے سے پلٹی جہاں یمان کب سے ہاتھ سینے پہ باندھتا اُن کو بات کرتا سُن رہا تھا۔
کیسے ہو چیمپئن؟یمان چلتا ہوا یامین کے پاس آتا اُس کو بانہوں میں اُٹھاتا گالوں پہ پیار کرنے لگا۔
میں ٹھیک آپ کیسے ہیں؟ یامین نے بتانے کے بعد پوچھا
تم نے اکیلے بچے کو یہاں آنے کا کہا یہ کیسے رہے گا اپنی ماں کے بنا؟آروش نے ڈائریکٹ یمان سے سوال کیا
میں نے تو آپی کو بھی کہا تھا مگر وہ نہیں آئی اور یامین کو اکیلے بھیج دیا۔ یمان نے جواب دیا
یہ تمہارا بھانجا ہے؟ آروش نے پوچھا
جی۔ یمان نے جواب دیا۔
تمہارے جیسا لگ رہا ایسے لگ رہا ہے جیسے تمہارا بیٹا ہے۔ آروش کہے بنا نہ رہ پائی۔
نہیں ایسی کوئی بات نہیں ان شاءاللہ ہمارے بچے مجھ پہ نہیں آپ پہ جائینگے۔ یمان یامین کے بال سیٹ کرتا ایسے بولا جیسے کوئی عام سی بات ہو مگر اُس کی بات پہ آروش کی رِنگت خون چھلکانے کی حدتک سرخ ہوگئ تھی۔
بے شرم انسان۔ آروش صوفے سے کشن اُٹھاتی اُس کی طرف پھینک کر وہاں سے چلی گئ۔ جبکہ یمان کا قہقہقہ چھوٹ گیا تھا۔ یامین حیرت سے اُن دونوں کو دیکھ رہا تھا۔
ماموں وہ کون تھی؟ یامین نے یمان کو مسکراتا دیکھا تو پوچھا
تمہاری مامی تھی۔ یمان نے کہا تو یامین کو کجھ خاص سمجھ تو آیا پر اُس نے سراثبات میں ایسے ہلایا جیسے ساری بات سمجھ آگئ ہو
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
آروش ابھی اپنے کمرے میں آئی ہی تھی کے اُس کا سیل فون رِنگ کرنے لگا اُس نے اسکرین پہ نمبر دیکھا تھا تو بابا کالنگ لِکھا آرہا تھا آروش نے جلدی سے کال ریسیو کی۔
السلام علیکم بابا سائیں کیسے ہیں آپ؟ آروش نے جلدی سے کال اٹینڈ کیے کہا
وعلیکم السلام میں ٹھیک تیار ہوکر باہر آجاؤ میں لینے آیا ہوں کل ہم نے واپس گاؤں جانا ہے۔شھباز شاہ نے مسکراکر اُس سے کہا
جی میں بس پانچ منٹ میں آتی ہوں۔آروش خوش سے کال کاٹ کر الماری سے اپنا عبایا نکالنے لگی پھر ایک خیال کے تحت وہ بیڈ موبائل اُٹھاتی زوبیہ بیگم کا نمبر ملانے لگی مگر نو رسپانس آیا تو اُس نے ایک میسج اُن کے نمبر چھوڑا پھر خود تیار ہوتی نیچے آکر باہر کی طرف آئی جہاں شھباز شاہ گیٹ کے پاس کھڑا تھا اور ساتھ میں اُن کی گاڑی کے پیچھے تین چار گاڑیاں مزید تھی۔اتنے وقت بعد شھباز شاہ کو اپنے پاس دیکھ کر آروش جلدی سے آگے بھر کر اُن کے سینے سے لگی۔
میں نے آپ کو بہت یاد کیا ناراض بھی تھی آپ سے۔ آروش نے شکوہ کیا۔ جس پہ شھباز شاہ محبت سے اُس کے سر پہ اپنا ہاتھ پِھراکر اُس کے ماتھے پہ بوسہ دیا۔
تمہارا بابا سائیں مجبور تھا ورنہ تمہیں پتا ہے نہ ہمیں تم سب سے زیادہ عزیز ہو۔ شھباز شاہ نے کہا تو اُس نے سر کو اثبات میں ہلایا۔
آؤ گاڑی میں بیٹھو۔شھباز شاہ نے مسکراکر کہا تو وہ گاڑی کی پچھلی سیٹ پہ آکر بیٹھ گئ۔






آپی آپ کیوں نہیں آئی؟ یمان نے فجر کو کال کیے اُس سے پوچھا
مجھے اپنے گھر میں رہنا اچھا لگتا ہے ویسے بھی یامین کو تو میں نے تمہارے پاس بھیجا ہے نہ۔ فجر نے مسکراکر کہا
وہ تو ٹھیک پر وہ بچہ ہے اچانک رات کو اُٹھ کر آپ کو یاد کرے تو؟ یمان نے کارٹوں دیکھتے یامین پہ نظر ڈال کر کہا
اُس کی فکر نہیں کرو وہ نیند کا بہت پکا ہے رات کو سوتا ہے تو میں زبردستی اُس کو صبح کے وقت جگاتی ہو۔ فجر نے کہا تو یمان مسکرادیا۔
ٹھیک ہے پھر۔ یمان نے کہا
اور تمہارا کب اِرادہ ہے شادی کرنے کا اب ہوجانی ہے چاہیے تمہاری شادی۔ فجر نے پوچھا
آپی میں روزی سے شادی نہیں کرنا چاہتا۔ یمان بے بسی سے بولا
یمان بچوں جیسی باتیں مت کرو روزی تمہارے نام پہ بیٹھی ہے اور تمہارے سر سے اُس لڑکی کا بھوت اُترتا نہیں اتنے سال ہوگئے ہے عجیب برباد کی ہے اُس لڑک
آپی پلیز اُن کو کجھ مت کہے۔ فجر کجھ کہنے والی تھی جب یمان نے بیچ میں ٹوکا
لو اب میں بھی بُری لگوں گی وہ لڑکی اچھی لگے گی جس نے تمہیں موت کے منہ تک پہچا دیا تھا۔ فجر ناگواری سے بولی
آپ میری بڑی بہن ہیں مجھے عزیز ہے آپ کا مقام الگ ہے اور اُن کا الگ ہے نہ آپ کی وجہ سے مجھے وہ بُری لگے گی اور نہ اُن کی وجہ سے آپ اِس لیے ایسی باتیں نہ کرے۔ یمان فجر کی بات گہری سانس بھر کر بولا
سیرسیلی یمان؟ وہ کل آئی لڑکی ابھی تک اتنی اہم ہے تمہارے لیے۔فجر کو جیسے یقین نہ آیا
وہ میرے لیے کیا ہے میں خود نہیں جانتا۔یمان کھوئے ہوئے لہجے میں بولا
مجھے بہت غصہ آرہا ہے تم پہ یمان اور اُس لڑکی پہ غصہ کاش جب وہ آئی تھی میں اُس کو جان سے ماردیتی یہ قصہ ہی ختم ہوجاتا۔فجر جذبات میں آکر بول تو گئ تھی مگر یمان کا ماتھا ٹھٹکا تھا۔
وہ آئی تھی مطلب؟ کیا آروش سے آپ کی مُلاقات ہوئی ہے؟ کب کیسے؟ یمان ایک سانس میں پوچھنے لگا تو فجر کو چپ لگ گئ۔
پُرانی بات ہے چھوڑو میرے منہ سے پِھسل گیا۔ فجر نے ٹالا
آپ پلیز۔ یمان بضد تھا۔
اپنے باپ کے ساتھ آئی تھی تمہاری جان کی قیمتی لینے اور تمہیں پتا ہے یمان؟ اُس کے باپ نے کہا تھا تم مرچکے ہو اور یہ بات تھی جس وجہ سے ہماری ماں ہمیں چھوڑ کر چلی گئ تھی اگر وہ نہ آتی اپنے باپ کے ساتھ تو آج ہماری ماں ہمارے ساتھ ہوتی۔ فجر نفرت سے گویا ہوئی جبکہ یمان کو لگا وہ جیسے سانس لینا بھول گیا ہے وہ کجھ کہنے کے قابل ہی نہ رہا تھا
انہوں نے قیمتی نہیں پوچھو ہوگی۔ بہت دیر بعد یمان بس یہی بول پایا۔
واہ کیا کہنے ہیں تمہارے اب بھی تمہیں اُس لڑکی پہ مان ہے کے اُس نے ایسا نہیں کہا ہوگا؟ تو ہاں نہیں کہا تھا مگر اُس کے باپ نے کہا وہ بھی تو اُس کی ساتھ آئی تھی نہ میسنی بن کر۔ فجر کو یمان پاگل لگا۔
آپ اُن کے لیے اپنا دل صاف کرلے وہ بہت اچھی ہے اور امی زندگی اللہ نے اتنی لکھی تھی اُس میں کسی انسان کا کوئی قصور یا ہاتھ نہیں ہوتا۔ یمان نے سنجیدگی سے کہا تھا۔
بات یہ ہے یمان کے تم پوری طرح سے اُس کے لیے پاگل ہوچکے ہو مگر وہ تمہیں گھاس نہیں ڈالتی ورنہ تم اُس کے غلام بن جاتے۔ فجر نے بات تو غصے میں کہی تھی مگر یمان کو جانے کیوں ہنسی آئی تھی اگر فجر کو پتا چل جاتا وہ دونوں اب ایک چھت کے نیچے رہتے ہیں وہ اُس لیے پراٹھا بھی بنا چُکا تھا لڑکیوں کی شاپنگ کا تجربہ بھی کرچُکا تھا تو یقیناً فجر نے اسلام آباد آکر اُس کا گلا دبادینا تھا۔
آپی اصل بات وہ نہیں جو آپ نے کہی اصل بات یہ ہے کے وہ مجھے اِس لیے گھاس نہیں ڈالتی کیونکہ اُن کو پتا ہے انسان گھاس نہیں کھاتے۔ یمان نے چڑانے والے انداز میں اُس سے کہا تو فجر خاصی تپ اُٹھی۔
شکر کرو تم میرے سامنے نہیں ورنہ
ورنہ میرا گلا آپ کے ہاتھ میں ہوتا۔ یمان اُس کی بات کاٹ کر ایک بار پھر شرارت سے بولا تو اِس بار غصہ کرتی فجر بھی ہنس پڑی
