Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 65)

Haal e Dil by Rimsha Hussain

ڈیٹس لائیک مائے گُڈ گرل تو جاؤ پھر تیار ہوجاؤ۔ دُرید شاپنگ بیگ اُس کو دے کر بولا

بہت بُرے ہیں آپ۔ حریم نے کہا

نکاح کے بعد تفصیل سے بتانا کتنا بُرا ہوں ابھی جلدی سے چینج کر آؤ۔دُرید اُس کا گال تھپتھپاکر بولا تو حریم اُس کا ہاتھ جھٹکتی واشروم میں جاکر تیز آواز میں دروازہ بند کرنا چاہا مگر اچانک حورم کا خیال آیا تو جی بھر کر اپنی بے بسی پہ رونا آیا اُس نے آہستہ آواز میں دروازہ بند کیا اور دروازے سے ٹیک لگاکر کھڑی ہوگئ تھی اُس کو ایک بار پھر دُرید بُرا لگنے لگا تھا کیونکہ آج دُرید نے اُس کی کمزوری پہ وار کیا تھا اُس کو ایسی توقع ہر ایک سے تھی مگر دُرید سے نہیں۔

ہم آپ کو اتنا تنگ کرینگے کے خود آپ ہمیں چھوڑ دینگے۔حریم خود سے اتنا کہتی چونکی پھر بولی

چھوڑینگے کیا وہ؟آج سے بہت پہلے اُنہوں نے چھوڑ دیا ہے۔حریم کی آنکھوں سے آنسو نکل کر اُس کے رخسار بھگا گئے۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آپی مجھے آپ کو کجھ بتانا تھا۔یمان فجر کو کال کرتا اُس سے بولا

ہاں کہو میں سن رہی ہوں۔فجر نے کہا

میں نے آپ کا رشتہ طے کردیا ہے۔یمان اتنا کہتا چپ ہوگیا۔

کیا طے کردیا ہے؟فجر ناسمجھی سے پوچھنے لگی اُس کو لگا شاید اُس نے غلط سن لیا ہو

میں آپ کی شادی کروانا چاہتا ہوں۔یمان نے کہا تو فجر کے ماتھے پہ بلوں کا جال بِچھ گیا۔

میری نہیں اپنی شادی کا سوچو اور تمہیں شرم نہیں آئی اپنی بڑی بہن سے اِس طرح کی بات کرتے ہوئے؟۔فجر نے ناگواری سے کہا اُس کو یمان کی بات بلکل پسند نہیں آئی تھی۔

آپ سے پہلے میری ہوگی تو یہ واقع شرم والی بات ہے کیونکہ بڑی تو آپ ہیں نہ۔یمان نے کہا

یمان میں مذاق کے موڈ میں ہرگز نہیں ہوں۔فجر نے اُس کو ٹوکا

میں بھی سنجیدہ ہوں آپی اور آپ کی شادی کا سوچ رہا ہوں آخر کب تک آپ اکیلے یامین کے ساتھ رہے گی۔یمان نے سنجیدگی سے کہا

اگر بہن کا اِتنا خیال ہے تو آجاؤ واپس کراچی۔فجر نے کہا

میں نہیں آسکتا آپ آجائے کیونکہ آپ کی شادی یہاں ہوگی۔یمان کی بات پہ وہ تپ اُٹھی۔

ہو کیا گیا ہے آج تمہیں؟جب میں کہہ رہی ہوں مجھے شادی نہیں کرنی تو کیوں ایک بات کو لیکر بیٹھ گئے ہو میری شادی کی عمر نہیں ہے میرا ایک سات سال کا بیٹا ہے اگر تمہیں یاد ہو تو یامین نام ہے اُس کا۔فجر نے اُس سے ایسے کہا جیسے سچ میں یمان سب کجھ بھول گیا ہو

آپ کی عمر کو کیا ہوا ہے اچھی خاصی جوان ہے آپ کے آگے ایک پوری زندگی ہے اور یامین کو ایک باپ کے پیار کی ضرورت ہے آپ کیوں ایک بچے کو باپ کی شفقت سے محروم رکھنا چاہتی ہیں آپ کو اندازہ بھی نہیں باپ لفظ پہ وہ کتنا اُداس ہوجاتا ہے۔یمان نے اُس کو سمجھانا چاہا

میں نے یامین کو باپ کی شفقت سے محروم نہیں رکھا اللہ نے ارسم کو اپنے پاس بلاکر یامین کو باپ کی شفقت سے محروم رکھا ہے جب وہ پیدا ہوا تھا۔فجر کی آنکھیں بھیگی تھی۔

مایوسی والی باتیں مت کرے قسمت آپ کو موقع دے رہی ہیں تو اِس کو جانے نہ دے ارمان آپ سے شادی کرنا چاہتا ہے وہ یامین کو بھی باپ کا پیار دے گا بس آپ حامی بھرلیں۔یمان کی آخری بات پہ فجر کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئ۔

اُس ارمان کی یہ مجال جو اُس نے میرے بارے میں ایسا سوچا شرم نہیں آئی اُس کو ایک بیوہ پہ نظر ڈالتے ہوئے جو ایک بچے کی بھی ماں ہے۔فجر کو ارمان پہ غصہ آیا

آپی اُس نے کوئی ناجائز بات تو نہیں کی عزت سے آپ کے ساتھ نکاح کرنا چاہتا ہے۔یمان پاس پڑے صوفے پہ بیٹھ کر اپنی پیشانی مسل کر بولا

اُس کو بتاؤ عمر میں اُس سے میں بڑی ہوں ایک بیوہ ہوں دوسرا ایک بچے کی ماں ہوں وہ شادی کے لیے کسی اپنے جیسی لڑکی کا سوچے جو اُس کی عمر اور غیر شادی شدہ ہو۔فجر نے کہا

آپ شادی سے مسئلہ کیا ہے؟یمان نے پوچھا

شادی ایک بار ہوتی ہے جو میری ہوچکی ہے اور میں دوسری نہیں کرنا چاہتی۔فجر نے کہا

شادی ایک بار نہیں ہوتی فلمی ڈائیلاگ نہ مارے۔یمان کی بات پہ فجر نے موبائیل اسکرین کو گھورا

تمہاری نظر میں کتنی شادیاں کی جاتی ہیں؟فجر نے طنزیہ کیا۔

آپی ضروری نہیں ایک شادی کامیاب نہ ہو تو دوسری شادی کرنا گُناہ ہے ایک طلاقِ یافتہ کو بھی دوسری شادی کرنے کا حق ہے اور ایک بیوہ کو بھی آپ پلیز میری بات مان لے اتنے سالوں بعد کجھ مانگ رہا ہوں۔یمان نے کہا

تمہاری ہر بات میں مان لوں گی مگر سوائے شادی کے۔فجر اتنا کہتی کال ڈراپ کرگئ۔

میری تو بچی کُچی زندگی آروش سے آپی اور آپی سے آروش کو منانے میں گُزرجانی ہیں مگر مجال ہے جو اِن کے کان میں جوں تک بھی رینگتی ہو۔یمان موبائیل اسکرین کو دیکھ کر تاسف سے بڑبڑایا

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آپ حریم علی ولد فردین علی شاہ ‘دُرید شاہ ولد شھباز شاہ کو پچاس لاکھ روپے حق مہر سکہ رائج الوقت میں اپنے نکاح میں۔۔۔۔۔۔۔ قبول ہے۔

حریم اسکن کلر کے گھیرادر شلوار قمیض پہنے سر پہ لال چنڑی اوڑھے ایک بار پھر نکاح کے لیے خود کو تیار کیے ہوئے تھی جس میں نہ پہلے اُس کی رضامندی تھی اور نہ اِس بار وہ دل سے رضامند ہوئی تھی۔فرق صرف اتنا تھا کے پہلے اُس کی رضامندی جاننے دُرید شاہ آیا تھا تو اِس بار شازل شاہ آیا تھا پہلے اُس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے مگر آج اُس کی آنکھوں میں کوئی تاثر نہیں تھا پہلے عورتوں کا جم غفیرا تھا تو اِس بار صرف حویلی کے فرد موجود تھے۔

حریم بولو خاموش کیوں ہو؟آروش نے اُس کو کوئی جواب نہ دیتا پایا تو آہستہ آواز میں کہا

“سوچ لو حریم اگر تم نے انکار کیا تو اُس صورت میں تم کبھی حورم کا چہرہ نہیں دیکھ نہیں پاؤں گی میں اُس کو تم سے دور لیکر جاوں گا۔”

قبول ہے۔

وہ انکار کرنے کا سوچتی تو کانوں میں دُرید کے الفاظ گونجتے جس کو وہ چاہ کر بھی جھٹک نہیں سکتی تھی کیونکہ سوال اُس کی معصوم بیٹی کا تھا۔

آپ حریم علی ولد فردین علی شاہ ‘دُرید شاہ ولد شھباز شاہ کو پچاس لاکھ روپے حق مہر سکہ رائج الوقت میں اپنے نکاح میں۔۔۔۔۔۔۔ قبول ہے۔

قبول ہے!

ایک بار پھر پوچھا گیا تو اُس نے بنا کوئی اور بات سوچے قبول ہے کہہ دیا جس پہ سب کے چہرے پہ سکون ٹھیرا تھا۔

آپ حریم علی ولد فردین علی شاہ ‘دُرید شاہ ولد شھباز شاہ کو پچاس لاکھ روپے حق مہر سکہ رائج الوقت میں اپنے نکاح میں۔۔۔۔۔۔۔ قبول ہے۔

قبول ہے!

سپاٹ انداز میں تیسری بار بھی “قبول ہے”کہہ کر اُس نے جیسے اپنی جان چھڑائی۔

مبارک ہو۔ماہی اُس کو اپنے گلے سے لگاکر بولی۔

سائن۔شازل نے نکاح نامہ اُس کے سامنے کیا تو سائن کرتے وقت حریم کے ہاتھ کپکپائے ضرور تھے۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

مُبارک ہو لالہ بال سفید ہونے سے پہلے آپ کا نکاح ہوگیا۔شازل دُرید کے گلے لگتا شرارت سے بولا تو دُرید ہنس پڑا

خیر مُبارک۔دُرید نے جوابً کہا

غالباً آپ اپنی زوجہ کے پاس جانا چاہتے ہیں؟شازل نے شریر نظروں سے اُس کو دیکھا

غالباً نہیں یقیناً مگر اُس کے لیے تمہیں سائیڈ پہ ہونا پڑے گا۔دُرید اُس کو سائیڈ پہ کرتا بولا تو شازل ہنس پڑا

دُرید حریم کے کمرے میں آیا تو وہاں بس آروش اور ماہی بیٹھی ہوئی تھی اُس کے ساتھ باقی سب شاید چلے گئے تھے۔

ماہی اور آروش نے دُرید کو دیکھا تو خاموشی سے کمرے سے نکل گئ تو دُرید دروازہ بند کرتا حریم کی طرف متوجہ ہوا۔

نکاح مبارک ہو۔دُرید اُس کے پاس بیٹھ کر بولا

ہمیں آپ سے نکاح نہیں تھا کرنا۔حریم چیخ پڑی

آہستہ بات کرو پاس ہی بیٹھا ہوں تمہارے۔دُرید کان پہ ہاتھ رکھ کر اُس سے بولا

آپ آخر چاہتے کیا ہے؟حریم چنڑی اُتار کر اُس سے سوالیہ نظروں سے دیکھ کر بولی

جو میں چاہتا تھا وہ مجھے مل گیا۔دُرید اُس کے گال پہ ہاتھ رکھ کر اُس کو دیکھ کر مسکراکر بولا

ہاتھ مت لگائے۔حریم نے اُس کا ہاتھ جھٹکتا تو دُرید کو بُرا تو بہت لگا مگر ضبط کرگیا۔

حورم کی چیزیں اور اپنی چیزیں پیک کرو کیونکہ اب تمہیں میرے کمرے میں ہونا ہے۔دُرید نے حکیمہ لہجے میں کہا

غور سے دیکھے ہم وہی ہیں جس کو آپ نے دھتکارا تھا جس کے گال پہ آپ نے تھپڑا مارا تھا جس کی محبت آپ نے اُس کے منہ پہ ماری تھی۔حریم بیڈ سے اُٹھتی دُرید کو یاد کروانے لگی۔

کیا تم یہ سب کجھ بھول نہیں سکتی؟دُرید اُس کے روبرو کھڑا ہوتا بولا

نہیں ہم نہیں بھول سکتے اور نہ آپ کو کبھی بھولنے دینگے۔حریم نم لہجے میں بولی۔

حریم۔دُرید اُس کو دونوں بازوں سے پکڑتا اپنے روبرو کھڑا کرنے لگا۔

چھوڑے ہمیں۔حریم نے تیز آواز میں کہا

میری طرف دیکھو۔دُرید اُس کو اپنے حصار میں لیتا اُس کا چہرہ اپنی طرح کرنے لگا جو بامشکل اُس کے سینے تک آرہی تھی۔

ہمیں نہیں دیکھنا آپ کی طرف اور نہ آپ کے کمرے میں رہنا ہے آپ نکاح کرنا چاہتے ہیں وہ ہوگیا اب بخش دے ہمیں اور ہماری بیٹی کو۔حریم رخ موڑ کر بولی دُرید کے اتنے پاس کھڑے ہونے پہ اُس کا پورا چہرہ لال ٹماٹر ہوگیا تھا جس کو دُرید نے بہت غور سے دیکھا حریم کو اپنا آپ دُرید کے چوڑے وجود میں دبتا محسوس ہورہا تھا۔

تم مجھے عزیز ہو حریم اور اب تو تمہاری بیٹی تم سے زیادہ عزیز ہوگئ ہے۔دُرید نے اُس کے ہاتھ پہ بوسہ دے کر کہا تو حریم نے زور سے اپنی آنکھوں کو میچا

اگر آپ کو لگتا ہے ایسی حرکتیں کرکے آپ ہمیں بلیک میل کرسکتے ہیں ہم سے اپنی ہر بات منواسکتے ہیں تو یہ آپ کی بھول ہے اگر اب آپ نے مزید یمیں دھمکی دی تو ہم حویلی سے چلے جائے گے۔حریم نے پہلی بار اُس کو دیکھ کر کہا

اچھا تو اب مجھے تم چھوڑ جانے کی دھمکی دو گی رہ لو گی میرے بنا؟دُرید اُس کی بات پہ محفوظ ہوا

ہم سنجیدہ ہیں۔حریم کو اُس کا یوں مسکرانا پسند نہیں آیا

یقین جانے ہم آپ سے زیادہ سنجیدہ ہیں۔دُرید اُس کے انداز میں “ہم”لفظ یوز کرنا لگا تو حریم تپ اُٹھی وہ اُس کے سینے پہ تھپڑ مارنے لگی تھی مگر پھر جانے کیوں رُک گئ

کیا ہوا؟دُرید نے اُس کی آنکھوں میں جھانکا

آپ بہت بُرے ہیں۔حریم اتنا کہتی زور شور آواز میں رونے لگی تو اُس کے پل میں تولہ پل میں ماشہ والا روپ دیکھ کر دُرید حیرت سے اُس کو دیکھنے لگا جو اچھی بھلی اُس سے لڑ رہی تھی اور اب ایسے رو رہی تھی جیسے اُس نے جانے کیا کردیا ہو۔

ہے حریم یار کیا ہوگیا؟ رو کیوں رہی ہو؟دُرید اُس کے آنسو صاف کرتا بولا

ہمیں آپ کے ساتھ نہیں رہنا۔حریم نے سوں سوں کے درمیاں کہا

آپ کو ہمارے ساتھ ہی رہنا پڑے گا اب تو ہمارا نکاح ہوگیا ہے اگر آپ ہمارے ساتھ ایسا کرے گی تو اللہ آپ کو گُناہ دے گا۔دُرید اُس کا بچوں جیسا انداز دیکھ کر مسکراہٹ دبائے بولا

آپ ہمارا مذاق اُڑاتے ہیں۔حریم اُس کو گھور کر بولی تو دُرید نے اُس کی نم پلکلوں پہ بوسہ دیا تھا تو حریم آج اُس کا ایسا روپ دیکھ کر بیہوش ہوتے ہوتے بچی۔

آپ بہت بے شرم ہیں۔حریم اپنی حالت پہ قابو پاکر اُس کو بتانے لگی

اچھا اور کجھ؟دُرید شرارت سے اُس کو دیکھنے لگا۔

میں آپ کو اپنی بیٹی کے پاس جانے نہیں دوں گی۔حریم نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا

میں اُس کا باپ ہوں وہ میری بیٹی ہے تم مجھے اُس سے دور نہیں کرسکتی۔دُرید آرام سے بولا

وہ آپ کی بیٹی نہیں ہے اُس کے باپ کو آپ نے

خاموش۔حریم کجھ کہنے والی تھی جب دُرید نے سختی سے اُس کے منہ پہ ہاتھ رکھ کر اُس کی آواز کا گلا گھونٹا تو حریم سہمی نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی

حورم میری بیٹی ہے میں اُس کا باپ ہوں یہ بات اپنے ذہن میں بیٹھالوں میں دوبارہ سے تمہارے منہ پہ کسی اور کا نام نا سنوں۔دُرید کا لہجہ اچانک پتھریلا ہوگیا تھا جس کو محسوس کرکے حریم کو اُس سے خوف آنے لگا اُس کا وجود ہلکا سا کانپنے لگا تھا۔

حریم؟دُرید نے اُس کو کانپتا دیکھا تو پریشان ہوا

ہمیں وحشت ہو رہی ہے آپ سے۔حریم اپنے قدم پیچھے کی جانب کِھسکاتی دُرید سے بولی تو وہ بے یقین نظروں سے اُس کو دیکھنے لگا جس کے چہرے پہ خوف کے تاثرات نمایاں تھے۔

حریم تم مجھ سے ڈر رہی ہو؟دُرید کا لہجہ ٹوٹ سا گیا تھا۔

آپ بھی تو مرد ہیں اور سب مرد ایک جیسے ہوتے ہیں آپ بھی اپنی طلب پوری کرنے کے بعد ہمیں چھوڑ دینگے۔حریم دیوار کے ساتھ لگتی سہمے ہوئے لہجے میں بولی

حریم تمہیں مجھ پہ یقین نہیں کیا میں تمہیں ایسا لگتا ہوں؟دُرید اُس کی طرف آتا پوچھنے لگا اُس کو حریم اپنے حواسوں میں نہیں لگی۔

ہمیں آپ کے ساتھ نہیں رہنا مجھے بس اپنی بیٹی کے ساتھ رہنا ہے۔حریم بار بار ایک لفظ دوہرانے لگی تو دُرید گہری سانس بھرتا اُس کو اپنے ساتھ لگا گیا۔

حریم رلیکس تمہیں اپنے دُرید پہ یقین کرنا چاہیے۔دُرید اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتا پرسکون کرنے لگا۔

ہمیں آپ پہ یقین نہیں آپ نے ہمیں ایک حیوان کے حوالے کیا تھا۔حریم اُس کی قمیض کو سینے سے جکڑتی آہستہ آواز میں بولی

مجھ سے غلطی ہوگئ تھی پلیز معاف کردو۔دُرید نے شرمندگی سے کہا

ہم معاف نہیں کرے گے آپ کو کبھی بھی۔حریم نے بضد لہجے میں کہا تو دُرید نے زور سے اُس کو خود میں بھینچا

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آروش اپنے اسلام آباد والے گھر پہنچ گئ تھی وہ اپنے کمرے میں آئی تو اُس کے کانوں میں دلاور خان کی کہی باتیں گونج رہی تھی۔

ہم سے ملی نہیں اور اپنے کمرے میں آگئ۔آروش اپنی سوچو میں گم تھی جب زوبیہ بیگم اُس کے کمرے میں آکر بولی

السلام علیکم سوری مجھے لگا آپ لوگ گھر پہ نہیں ہوگے۔آروش کھڑی ہوتی شرمندہ لہجے میں بولی

کوئی بات نہیں یہ بتاؤ حویلی میں سب کیسے ہیں؟زوبیہ بیگم نے مسکراکر پوچھا

سب ٹھیک ہے اور آج تو دُرید لالہ کا نکاح بھی ہوگیا خیر سے۔آروش نے مسکراکر پرجوش لہجے میں بتایا تو زوبیہ بھی مسکرا پڑی۔

اب تمہارا کیا خیال ہے؟زوبیہ بیگم نے کہا

کس بارے میں؟آروش نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا۔

یمان کے بارے میں۔زوبیہ بیگم نے کہا تو آروش کے تاترات یکدم بدل سے گئے۔

میں نے یمان اور بابا کو بتادیا ہے اپنا ہے جواب۔آروش نے سنجیدگی سے کہا

تم اِتنی پتھر دل لگتی تو نہیں پھر کیوں یمان کے معاملے میں اتنا سنگدلی کا مظاہرہ کررہی ہو کیا کجھ نہیں کیا اُس نے تمہارے لیے کم عمری میں تمہارے بھائیوں سے زخمی بنا ہارٹ اٹیک کا مریض بن گیا بائے پاس ہوتے ہوتے رہ گیا اب وہ ایک نئ بیماری کا شکار ہے تو تم کیوں اُس کو اتنا تڑپا رہی ہو آخر اُس کی غلطی کیا ہے؟اُس کے دل میں موجود جو تمہارے لیے محبت ہے وہ کیوں تم چاہتی ہو کے گُناہ بن جائے۔نور جو کمرے کے دروازے کے پاس کھڑی تھی آروش کا جواب سُنا تو اُس پہ پھٹ پڑی۔

اُس کے ساتھ جو ہوا ہے اُس کی زمیدار میں نہیں ہوں۔آروش کے وضاحت کرنا چاہی۔

تم

نور ابھی کجھ کہنے والی تھی جب نجمہ بھاگ کر اُن کے پاس آتی بولی۔

او جی ارمان صاحب کی کال آئی تھی بتا رہے تھے کے یمان صاحب کی طبیعت خراب ہوگئ ہے ہسپتال لیکر گئے ہیں۔نجمہ کی بات پہ زوبیہ بیگم کا ہاتھ اپنے سینے پہ پڑا تھا جب کے آروش کے چہرے کی ہوائیاں اُڑگئ تھی۔

یااللہ خیر یمان صبح تک تو ٹھیک تھا۔زوبیہ بیگم حواس باختہ ہوتی کہہ کر آروش کے کمرے سے باہر نکلنے لگی۔آروش بھی پریشان ہوتی اُن کے پیچھے جانے لگی تھی جب نور نے اُس کا بازوں پکڑا

تم کہاں جارہی ہو؟نور نے پوچھا تو آروش کو سمجھ نہیں آیا وہ کیا جواب دے

امی پ پر۔۔پریشان ہے۔آروش لڑکھڑاہٹ بھرے لہجے میں بولی

تو کجھ نہیں ہوتا آروش تم یہاں بیٹھ کر بس یمان کی بے بسی کا فائدہ اُٹھاؤ اُس کو مزید تڑپانے کا سوچو یا پھر اُس کے مرنے کی خبر کا انتظار کرو۔نور نے کہا تو آروش بس اُس کا چہرہ دیکھتی رہ گئ۔

یہ کیسی بات کررہی ہیں آپ؟میں کیوں اُس کے مرنے کا انتظار کرنے لگی۔آروش نے کہا

پھر تمہارے بار بار انکار کرنے کی وجہ کیا ہے؟کیوں بار بار یمان کو ریجیکٹ کرتی ہو؟نور نے سوال پہ سوال کیا

میں بس شادی نہیں کرنا چاہتی۔آروش نظریں چُرا کر بولی۔

سچ بتانا آروش کیا اتنے سالوں میں تمہارے دل میں کبھی بھی یمان کے لیے سوفٹ کارنر پیدا نہیں ہوا؟اُس کا بار بار اظہارِ محبت کرنا تمہارے لیے اُس کا پریشان ہونا تمہیں دیکھ کر اُس کے چہرے پہ مسکرائٹ آجاتی ہے کیا کبھی بھی تمہیں یمان پہ ترس نہیں آیا تمہاری جگہ اور کوئی لڑکی ہوتی تو وہ کبھی یمان کو اگنور نہ کرتی مگر بات یہ ہے کے وہ پاگل تمہیں چاہتا ہے تمہارا طلبگار ہے تمہارے در پہ سوالی بن کر آیا ہے اور ایک تم ہو جو وہ مرے یا جیے تمہیں اُس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اُس کو برین ٹیومر یو یا بلڈ کینسر تمہاری بلا سے بھاڑ میں جائے۔نور سنگدلی سے اُس کو دیکھ کر بولی تو آروش کو اپنا دل مٹھی میں جکڑتا محسوس ہوا۔

میں چاہتی ہوں وہ جیے میں نے کبھی اُس کا بُراق نہیں چاہا مجھے اُس کی جان عزیز ہے میں تبھی اُس کو خود سے دور رکھنا چاہتی ہوں میرا ساتھ اُس کو کجھ نہیں دے سکتا۔آروش لرزتے وجود کے ساتھ بولتی بیڈ پہ بیٹھتی چلی گئ جبکہ نور ناسمجھی اور تعجب سے اُس کو دیکھنے لگی جو اپنا سر ہاتھوں میں گراے بیٹھ گئ۔

میں تمہاری بات کا مطلب نہیں سمجھی۔نور نے کہا

میری بات کا کوئی مطلب تھا بھی نہیں آپ بس جائے یہاں سے۔آروش نے سپاٹ لہجے میں کہا

یمان کے ساتھ تم اچھا نہیں کررہی دیکھنا پچھتاؤ گی۔نور سنجیدہ لہجے میں کہہ کر وہاں سے چلی گئ۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

ہم کہاں سوئے گے؟حریم نے بے دلی سے اپنا اور حورم کا سارا سامان دُرید کے کمرے میں شفٹ کرلیا تھا مگر جب رات کے پہر وہ حورم کے کاموں سے فارغ ہوئی تو بیڈ پہ ٹیک لگاکر بیٹھے دُرید سے مخاطب ہوئی جو کوئی کاغذات دیکھ رہا تھا۔

زوجہ محترمہ یہ بیڈ آپ کی نظریں کرم کو نظر نہیں آرہا؟دُرید کاغذات سے نظر ہٹاتا کشمش میں کھڑی حریم سے بولا

ہم حریم ہیں۔حریم جتایا

تو ہم نے کب کہا ہے حریم ہمارا نام ہے؟دُرید مصنوعی حیرانگی کا اظہار کرتا بولا

یہ آپ “ہم”لفظ کیوں استعمال کررہے ہیں؟حریم نے آنکھیں چھوٹی کیے اُس کو گھورا

کیوں کیا ہم استعمال نہیں کرسکتے ؟دُرید نے سوال کے بدلے سوال کیا

آپ نے ہمیں زچ کرنے کے لیے نکاح کیا ہے؟حریم نے بھی سوال کے جواب دینے کے بجائے سوال کیا

سوجاؤ حریم نیند تمہارے دماغ پہ سوار ہوگئ ہے۔دُرید نے کہا

ہم یہاں نہیں سوئے گے۔حریم نے کہا

اگر تمہارا صوفے پہ سونے کا اِرادہ ہے یا تم سمجھ رہی ہو میں جاکر صوفے پہ سوؤ گا تو پلیز یہ اب گھسا پِٹا سین ہوگیا ہے بھول جاؤ اور آرام سے بیڈ پہ آکر سوجاؤ۔دُرید نے کہا

ہمیں اپنے کمرے میں جانا ہے۔حریم دوبارہ سے بضد ہوئی

ٹھیک ہے جاؤ مگر حورم یہی میرے پاس رہے گی۔دُرید نے پرسکون لہجے میں کہا۔

اب کیا آپ بات پہ بات ہمیں حورم کے واسطے بلیک میل کرینگے؟حریم نے پوچھا

بلکل بھی نہیں ضد تم کررہی ہو کیا تمہیں نہیں پتا شادی کے بعد ایک لڑکی کی کیا جگہ ہوتی ہے؟دُرید نے سنجیدگی سے کہا

ہم آپ سے شادی نہیں کرنا چاہتے تھے۔حریم نے کہا

مگر اب تو ہوگئ نہ شادی۔دُرید نے کہا

ہم یہاں بیڈ پہ سو رہے ہیں مگر آپ یہ مت سمجھیے گا کے ہم آپ کی دھمکی سے ڈر گئے ہیں۔حریم بیڈ کی ایک سائیڈ پہ آکر بیٹھ کر دُرید سے بولی۔

جی جی ہمیں پتا ہے حریم دُرید شاہ کسی سے نہیں ڈرتی۔دُرید سمجھنے والے انداز میں سر کو جنبش دے کر بولا تو حریم نے اِس بار کوئی جواب نہیں بس خاموشی سے سونے کے لیے لیٹ گئ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *