Haal e Dil by Rimsha Hussain NovelR50524 Haal e Dil (Episode 17)
Rate this Novel
Haal e Dil (Episode 17)
Haal e Dil by Rimsha Hussain
اگر تمہارے باپ کو یہ بات پتا چل گئ تو قیامت برپا ہوجائے گی یمان تمہاری مانتا ہے اُس کو کہو عقل کے ناخن لے۔فائزہ بیگم ساری بات جان لینے کے بعد اپنی گود میں سر رکھے لیٹی ہوئی فجر سے بولی۔
بہت کوشش کی اماں بہت کوشش کی تھپڑ تک اُس کو مارا پر وہ کجھ سمجھنے کے لیے تیار ہی نہیں عجیب ضد لیکر بیٹھ گیا ہے۔فجر پریشانی سے بولی
یہ کچی عمر کا خمار ہے جو جلدی ختم ہوجائے گا۔فائزہ بیگم گہری سانس بھر کر بولی
ایسی بات نہیں ہے اماں میں نے اُس کی آنکھوں میں اُس انجان لڑکی کی چاہت کے لیے چاہت دیکھی ہے تبھی میں خوفزدہ ہوں عرفان بتارہا تھا کافی خطرناک خاندان ہے اُس لڑکی کا پتا نہیں یمان کی نظر کیسے پڑگئ اُس لڑکی پہ۔فجر اُن کی گود سے سر اُٹھا کر بولی۔
پریشان مت ہو بچہ ہو ٹھیک ہوجائے گا آہستہ آہستہ۔فائزہ بیگم تسلی آمیز لہجے میں بولی
ان شاءاللہ پر آپ دعا کیجیے گا ہمارا اکلوتا بھائی ہے۔فجر نے نم لہجے میں کہا
پریشان مت ہو اللہ بہتر کرنے والا ہے وہ کبھی کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کرتا۔فائزہ بیگم اُس کو اپنے ساتھ لگاکر بولی۔






آپ کو مجھ سے بات کرنا کیا پسند نہیں پر مجھے بہت ہے میں بہت باتیں کرنا چاہتا ہوں آپ سے۔یمان لائبریری آتا آروش کو دیکھ کر بولا
سارے کالج میں تمہیں میں ہی نظر آئی ہو باتوں کے لیے پلیز جاؤ یہاں سے اور مجھ سے فاصلہ کیا کرو اِسی میں تمہارا فائدہ ہے۔آروش نے سنجیدگی سے کہا
ہر بار فائدے کے بارے میں نہیں سوچتا میں اور آپ کو پتا ہے کل میری بڑی بہن نے مجھے تھپڑ مارے۔یمان نے بتایا آروش کو سمجھ نہیں آیا یہ سب وہ اُس کو کیوں بتارہا ہے۔
تو یہ سب تم مجھے کیوں بتارہے ہو غلطی کی ہوگی تبھی مار پڑی ہوگی اِس لیے ایسی دوبارہ حرکت مت کرنا۔آروش کتاب پہ نظر جمائے بولی تو یمان کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی۔
تھپڑ کیوں پڑا یہ بات نہیں بتاؤں گا کیونکہ مجھے ڈر ہے کہیں آپ بھی نہ ماردے سچی پھر میرا دل ٹوٹ جائے گا کبھی نہ جڑ پانے کے لیے۔یمان نے بتایا۔
دیکھو ایسی باتیں تم مجھ سے مت کرو مجھے دیکھ کر تمہیں کیا لگتا ہے میں کوئی ایسی ویسی لڑکی ہوں جو تمہارے سے باتوں میں لگ جائے گی اگر تم مجھے ٹریپ کرنا چاہتے ہو تو میں بتادو میں بلکل خوبصورت نہیں جب کی کالج میں ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت لڑکی تمہاری منتظر ہے اُن کے پاس جاؤ۔آروش نے اِس بار سخت لہجہ اپنایا۔
آپ کو دیکھ کر احترام کرنے کا دل چاہتا ہے دوسری بات کوئی کتنا خوبصورت کیوں نہ ہو مجھے اُس سے کوئی سروکار نہیں کیونکہ میرا دل آپ کو چاہتا ہے آپ کے علاوہ میں کسی کا سوچ بھی نہیں سکتا آپ کجھ کرلیں میں آپ کا پیچھا کبھی نہیں چھوڑوں گا آپ کو میرا ہونا ہے اور مجھے آپ کا۔یمان جذبات میں آتا جانے کیا کہہ گیا اُس کو خود بھی معلوم نہیں ہوپایا جب کی آروش کو اُس کی ایسی باتوں سے حد سے زیادہ غصہ آگیا تھا تبھی اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔
اگر لائبریری میں نہ ہوتے تو میں تمہارا منہ توڑ دیتی تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ سے ایسی بات بھی کرنے کی۔آروش سخت مگر دھیمے لہجے میں اُس پہ غرائی۔
آپ کا فیورٹ کلر کونسا ہے کجھ بتائے نہ اپنے بارے میں۔یمان نے جیسے اُس کی بات سنی ہی نہیں۔
واٹ۔آروش اُس کی بے تکی بات پہ اُس کو گھورنے لگی یمان کے لیے اتنا ہی بہت تھا وہ اُس کی جانب دیکھ رہی تھی پیار سے نہ صحیح غصے سے ہی۔
ریڈ کلر میرا پسندیدہ کلر ہے کھانے میں تو سب شکر صبر کرکے کھالیتا ہوں پر بریانی موسٹ فیورٹ ہے اگر تہوار کی بات کی جائے تو وہ عید ہے اور ایک حیرت انگیز بات بتاؤں مجھے کبھی غصہ نہیں آتا آپ کو مجھ سے مل کر اندازہ ہوگیا ہوگا میں کتنا خوش مزاج ہوں۔یمان نے پرسکون لہجے میں بتایا۔
لگتا ہے مرنے کا شوق ہے۔آروش تیز آواز میں کہتی لائبریری سے باہر نکل گئ۔اُس کے جانے کے بعد یمان کے چہرے میں جو چمک تھی وہ بھی غائب ہوگئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گیٹ پہ دیدار شاہ آپ کا انتظار کررہے ہیں۔آروش تیز قدموں کے ساتھ ہاسٹل جانے کا اِرادہ کیے ہوئے تھی جب اُن کی حویلی کا ملازم اُس کے سامنے سرجھکائے ادب سے بولا پہلے تو وہ لائبریری کے سامنے اُس کو دیکھ کر گھبراہٹ کا شکار ہوئی عجیب وہم سے ہونے لگے پر اُس نے جلدی سے اپنی حالت پہ قابو پاکر باہر کی طرف بڑھی
اسلام علیکم لالہ۔آروش گاڑی کی پچھلی سیٹ پہ بیٹھ کر سلام کرنے لگی۔
کس لڑکے سے بات کررہی تھی؟دیدار شاہ نے سلام کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھا
کسی بھی لڑکے سے نہیں۔آروش اپنا لہجہ مضبوط کیے بولی۔
پھر کون تھا وہ لڑکا؟دوسرا سوال
مجھے کیا پتا لالہ کالج میں بہت لوگ ہوتے ہیں مجھے سب کا پتا نہیں ہوتا۔آروش نے اپنا لہجہ نارمل کیے بتایا
آروش کوئی بھی غلط قدم اُٹھانے سے پہلے اپنی حیثیت یاد رکھنا اور یہ بھی کے تمہارا کس خاندان سے تعلق ہے۔دیدار شاہ نے وارن کیا
میں سب جانتی ہوں۔آروش بس یہ بول پائی
اچھی بات ہے تمہارے لیے اور اُس لڑکے کے لیے بھی ورنہ تین چار سال والا واقعہ تم بھولی نہیں ہوگی جو چاچا سائیں نے ایک لڑکی کے ساتھ کروایا تھا۔دیدار شاہ کی بات پہ چھپی دھمکی سے وہ اچھی طرح سے واقف تھی آروش نے بے اختیار یمان کو کوسا جو اپنی نادانی میں اُس کا کردار بھی مشکوک کروارہا تھا۔






کیا وہ لڑکی بہت خوبصورت ہے؟یمان چھت پہ کھڑا تھا جب عیشا اُس کے ساتھ کھڑی ہوتی پوچھنے لگی۔
پتا نہیں۔یمان نے لاعلمی کا اظہار کیا
پتا نہیں تمہیں تو وہ پسند ہے نہ؟عیشا کو اُس کا جواب ہضم نہیں ہوا۔
میں نے کبھی اُن کا چہرہ نہیں دیکھا مجھے تو یہ بھی نہیں پتا اُن کا کلر کیسا ہے بس اُن کی آنکھیں دیکھی ہیں جس پہ جالیدار پردہ ہوتا ہے وہ خود کو سب سے چھپاتی سر سے لیکر پیروں تک۔یمان کسی ٹرانس کی کیفیت میں بولا
تمہیں پھر بھی وہ پسند ہے یمان تم اپنے اور اُس لڑکی کے درمیان موجود فرق کو کیوں نہیں سمجھتے۔عیشا نے اُس کو سمجھانا چاہا
آپی پلیز میں اِس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا میں پہلے ہی بتاچُکا ہوں میں نہیں بھول سکتا ان کو میں انہیں پانے کی ہر کوشش کروں گا پئسے کماؤں گا اپنا نام بناؤں گا تب تو وہ انکار نہیں کرپائے گے۔یمان پُرامید لہجے میں بولا
یمان شاہ خاندان والے بس اپنے خاندان میں رشتیداری کرتے ہیں تمہیں یہ بات سمجھ کیوں نہیں آتی۔عیشا اُس کی ایک ہی رٹ پہ بیزار ہوئی۔
مجھے نیند آرہی ہے۔یمان اتنا کہتا چھت سے اُترنے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارسم سے کہہ کر یمان کا کالج تبدیل کرواؤ ورنہ وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔عیشا کمرے میں آتی فجر سے بولی جو اپنے مایوں کا جوڑا دیکھ رہی تھی۔
میں نے پہلے ہی بات کر رکھی ہے اُس نے کہا ابھی مصروف ہے شادی کے بعد یمان کا مسئلہ دیکھ لے گا وہ یمان کو دوسرے ملک بھیجنے کا سوچ رہا ہے۔فجر نے سنجیدگی سے بتایا
دوسرے ملک؟عیشا کو یقین نہیں آیا
مجھے یمان کی زندگی اور اُس کا مستقبل عزیز ہے وہ نادان ہے ہم تو سمجھدار ہے نہ پھر کیوں اُس کو آگ میں جلنے کے لیے چھوڑدے۔فجر نے کہا
ہاں وہ سب تو ٹھیک پر بابا سے کیا کہو گی وہ کیا وجہ نہیں پوچھے گے اور یمان کیا وہ مانے گا وہ تو مجنوں بنا ہوا ہے میری مانوں تو کالج جاکر اُس لڑکی سے ملو کیا پتا بات بن جائے۔عیشا نے پریشانی سے تجویز پیش کی۔
ہر بار یمان کی نہیں چلے گی اُس کا شہر سے یا ملک سے باہر جانا ہی بہتر ہے اور میں کیا کہوں گی اُس لڑکی سے جب کی ہمیں پتا ہے غلطی پہ سراسر ہمارا اپنا بھائی ہے۔فجر کی بات پہ عیشا ایک پل کو خاموش ہوئی۔
بات کرکے دیکھ لو کیا پتا تمہارے بات کرنے سے وہ یمان کو سمجھائے کے وہ اُس کا پیچھا چھوڑدے۔عیشا کی بات نے اُس کو سوچنے پہ مجبور کردیا۔
کیا وہ میری بات سُنے گی؟فجر نے تعجب سے کہا
بلکل سُنے گی آخر کو شاہ خاندان سے تعلق ہے اور شاہ خاندان کی لڑکیاں اپنی عزت اور کردار کے معاملے میں بہت محتاط ہوتی ہے۔عیشا نے جلدی سے کہا
ٹھیک ہے میں کجھ دنوں تک جاؤں گی۔فجر کجھ سوچ کر بولی
کجھ دنوں تک نہیں کل ہی جاؤ اور اُس سے بات کرو پھر تو تمہیں مایوں میں بیٹھایا جائے گا۔عیشا اُس کی بات پہ فورن بولی تو فجر نے سر کو جنبش دینے میں اکتفا کیا۔







اسلام علیکم!آروش گراؤنڈ میں موجود تھی جب یمان اُس کے کجھ فاصلے پہ بیٹھ کر مخاطب کرنے لگا۔
وعلیکم السلام !آروش نے مروتً جواب دیا
آپ بہت روڈ ہیں خیر مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے۔یمان نے آہستہ آواز میں کہا
جلدی سے کہو اور جاؤ یہاں سے۔آروش نے ناگواری سے کہا
مجھ پہ ٹرسٹ کرلیں۔یمان نے ایک آس بھری نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا
دیکھو یمان تم میری بات سُنو اور سمجھ کر اُس پہ عمل کرو مجھے نہیں پتا تمہارے اندر کیا چل رہا ہے اور تم کیا چاہتے ہو پر میں ایک بات واضع کرلوں مجھے تمہاری کسی بھی بات میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے مجھے رسوا کرنے کی کوشش بھی مت کرو اِس لیے بہتر یہی ہے تم مجھ سے دور رہا کرو ورنہ جان سے جاؤ گے۔آروش کٹیلے لہجے میں بولی
آپ ایک دفع مجھ ناچیز پہ اعتبار کرلیں دیکھیے گا یہ بندہ بشر آپ کو کبھی رسوا ہونے نہیں دے گا زندگی کے ہر سفر میں آپ مجھے اپنے ہمقدم پائے گی اگر کوئی آپ کے بارے میں کجھ غلط کہے گا تو گدی سے زبان کھینچ لوں گا پر آپ کی ذات پہ ایک حرف آنے نہیں دوں گا میں بہت محبت کرتا ہوں آپ سے۔یمان اُس کی بات پہ تڑپ اُٹھا تھا۔
چٹاخ
آروش اپنی جگہ سے کھڑی ہوکر ایک زوردار تھپڑ اُس کے چہرے پہ مارا جس سے وہاں موجود بہت سارے اسٹوڈنٹس متوجہ ہوگئے تھے۔یمان اپنے گال پہ ہاتھ رکھے بے یقین سا کھڑا تھا اُس کو اندازہ نہیں تھا اُس کی محبت کے جواب میں تھپڑ ملے گا اُس کو اپنے اندر چھن سے کجھ ٹوٹتا محسوس ہوا تھا۔
تمہارا مسئلہ کیا ہے تمہیں ایک دفع میں میری بات سمجھ کیوں نہیں آتی جب میں بار بار تم سے کہہ رہی ہو میرا پیچھا چھوڑو مجھ سے دور رہو تو مطلب دور رہو سمجھ آئی میری بات۔آروش غصے سے تیز آواز میں اُس پہ چیخی جس پہ آس پاس چہ مگوئیاں ہونے لگی یمان کو اپنا آپ زمین میں دھنستا محسوس ہورہا تھا۔








کیا کجھ ہوا ہے؟عیشا واشروم سے نہاکر نکلی تو فجر کو خاموش ٹِک کر کھڑا پایا تو تفتیش سے پوچھا۔
یمان کے کالج سے فون آیا تھا۔فجر نے بتایا
خیریت؟عیشا نے کہا
یمان کو کالج سے سسپینڈ کیا گیا ہے۔فجر سپاٹ لہجے میں بتانے لگی۔
کیا مگر کیوں؟عیشا ہاتھ میں پکڑا تولیہ پھینکتی بے یقین نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھنے لگی۔
اُس نے کالج میں اُس لڑکی سے شاید کوئی بدتمیزی کی لڑکی کے گھروالوں نے کالج کے انتظامیہ کو بہت ڈرایا دھمکایا جس وجہ سے انہوں نے یہ فیصلہ لیا۔فجر کا لہجہ بے تاثر تھا۔
یمان ایسا نہیں کرسکتا وہ تو کسی سے غصے بات تک نہیں کرتا لڑکی کے ساتھ بدتمیزی کرنا تو بہت دور کی بات ہے مجھے یہ بتاؤ یمان ہے کہاں؟عیشا اُس کو اپنی طرف کھیچتی جھنجھوڑ کر جواب طلب کرنے لگی۔
مجھے نہیں پتا عیشا مجھے نہیں پتا یمان نے ہمارا مان توڑا ہے کتنی اُمیدیں وابستہ تھی ہماری پر اُس نے کیا کردیا۔فجر کی آنکھ سے آنسو گِرا
یار فجر تم تو ایسے مت بولوں جانے یماب کس حال میں ہوگا ہمیں اُس کا ساتھ دینا چاہیے اُس کو ضروری ہے ہمارے ساتھ کی۔عیشا اُس کو سمجھانے کے غرض سے بولی
اگر کوئی لڑکی کسی مرد پہ ہاتھ اُٹھاتی ہے تو کوئی عام وجہ نہیں ہوتی۔فجر نے بتایا
کیا اُس نے ہمارے یمان کو تھپڑ مارا۔عیشا نے پوچھا
ہاں شاید اِس بار وہ سمجھ جائے۔فجر اتنا کہتی کمرے سے باہر نکل گئ۔






یمان پارک میں خاموش سا بیٹھا تھا جب دس سے بارہ لڑکے اُس کے سامنے کھڑے ہوگئے جن کے ہاتھوں میں مختلف قسم کے ہتھیار تھے۔یمان ایک نظر اُن پہ ڈالتا پھر نیچھے گھاس کو دیکھنے لگا جب اچانک اُس کو اپنے کندھے پہ کسی کا بھاری ہاتھ محسوس ہوا تو دوبارہ اپنا سر اُٹھایا تو اُس کو یاد آیا یہ آروش کا بھائی ہے
دیدار شاہ نام ہے میرا۔دیدار شاہ مغرور لہجے میں اپنا تعارف کروانے لگا۔
اچھا نام ہے۔یمان اپنے کندھے سے اُس کا ہاتھ ہٹاکر بولا
بچے ہو ابھی تم پھر بھی تمہاری آنکھوں میں کوئی خوف کیوں نہیں کیا تمہیں ڈر نہیں لگ رہا یہ پستول یہ ڈنڈا یہ چاکوں دیکھ کر تمہاری جگہ کوئی اور ہوتا تو یقینً گر کر بے ہوش ہوجاتا۔دیدار شاہ چُھبتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا
آپ ہیں کون جس سے میں ڈرو اللہ کی بنائی ہوئی مخلوق ہیں آپ اللہ نہیں مجھے اگر ڈر ہے تو مخلوق بنانے والے سے ہیں اُس کی بنائی ہوئی مخلوق سے نہیں۔یمان سپاٹ لہجے میں بولا تو سب نے غصے میں آکر اُس کے سامنے بندوقیں تان لی۔
عمر کیا ہے تمہاری؟دیدار شاہ اپنا غصہ ضبط کیے پوچھنے لگا
چار ماہ بعد اٹھارہ سال کا ہوجاؤں گا۔یمان نے بتایا
بہت چھوٹی عمر ہے تمہاری اِس لیے ترس کھاکر کہتا ہوں جہاں سے وہاں لوٹ جاؤں ہمارے خاندان کی لڑکی سے پر دور رہو ورنہ
دیدار شاہ اتنا کہتا خاموش ہوگیا کیونکہ اُس نے دلدار شاہ کو اپنے آدمیوں کے ساتھ آتا دیکھ لیا تھا۔
ورنہ کیا؟یمان نے پوچھا
ورنہ تمہیں اتنا مارے گے کے تمہاری لاش تمہاری ماں تک پہچان نہیں پائے گی۔اِس بار جواب دلدار شاہ نے دیا تھا۔
میں محبت کرتا ہوں ان سے۔یمان نے ابھی اتنا ہی کہا تھا جب دلدار شاہ نے ایک مکہ اُس کے چہرے پہ مارا۔یمان کے قدم لڑکھڑا گئے تھے اُس نے اپنا انگھوٹھا ہونٹوں کے پاس کیا جہاں خون رس رہا تھا۔
ہمارے خاندان کی لڑکی پہ نظر ڈالنے سے پہلے اپنی حیثیت اور ذات دیکھ لو شاہ خاندان میں مردوں کا کال نہیں آگیا جو وہ ہر آتے جاتے کو اپنے آنگن کا پھول پکڑاے گے ہم اپنی حویلی کی بیٹی کی شادی اپنی برداری اور برابری میں کریں گے اُس سے نہیں جن کے گھر فاقے ہوتے ہیں۔دلدار شاہ اُس کا جبڑا دبوچ کر بولا
چھوڑ لالہ اتنا ڈوز کافی ہے اِس کے لیے بچہ ہے آپ کا مُکہ اِس کو ساری بات سمجھا گیا ہوگا۔دیدار شاہ اُس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر بولا تو دلدار شاہ نے خون آشام نظروں سے یمان کو دیکھا جس کی آنکھوں میں خوف کا شبہ تک نہیں تھا یہی بات تھی جو غصے سے اُس کو پاگل کیے ہوئے تھی۔
یہاں۔دلدار شاہ نے اُس کے دل کے مقام پہ اپنی انگلی رکھی۔
اور یہاں بھی۔اب کی دلدار شاہ نے اُس کی کنپٹی میں انگلی رکھی۔
گولی سے سینہ چیر دوں گا اور ساتھ میں تمہارا یہ بھیجا بھی اگر پھر کبھی تم آرو کے آس پاس نظر بھی بھٹکے۔دلدار شاہ نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا تو یمان ہنس پڑا وہ سب تعجب سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
پاگل انسان لالہ نے تمہیں کوئی لطیفہ نہیں سُنایا جو ہنس رہے ہو۔دیدار شاہ کڑے چتونوں سے اُس کو گھور کر بولا
جو کام کل کرنا وہ آج کرے تو کیا قباحت ہے۔یمان نے بے تاثر لہجے میں کہا
تجھے اپنی زندگی پیاری نہیں پر اپنی بہنوں کی تو ہوگی نہ سُنا ہے تیری بہن کی شادی ہے اگر تیرے گھر سے اُس کی ڈولی کے بجائے اگر میت
میں تمہارا منہ توڑدوں گا اگر میری آپی کے بارے میں ایسے الفاظ نکالے بھی تو۔دلدار شاہ کی بات ابھی مکمل بھی نہیں ہوئی تھی جب یمان اُس کا گلادباتا طیش کے عالم میں غرایا۔دلدار شاہ اُس کی اچانک افتاد پہ بوکھلایا اُس کو قطعاً امید نہیں تھی کے وہ ایسی حرکت بھی کرسکتا ہے۔
چھوڑو لالہ کو دور ہٹو۔وہ سب یمان کو پیچھے کی جانب کھینچتے دلدار شاہ سے دور کرنے لگے یمان اُس کے گلے کی ہڈی کو زور سے دباتا ایکدم پیچھا ہوا غصے سے اُس کی رنگت سرخ پڑگئ تھی اُس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ کیا کر گُزرتا۔دلدار شاہ کا کھانس کھانس کر حال بے حال ہوگیا تھا دیدار شاہ نے اپنے بندے سے پانی لانے کا کہا
تیری تو۔ایک آدمی یمان کی طرف بڑھنے لگا پر دیدار شاہ نے بیچ میں رک لیا۔
اِس کو بعد میں دیکھ لینگے ابھی لالہ کی طبیعت بگڑ رہی ہے اِس چھٹان بھر کے لڑکے میں جانے کہاں سے اتنی ہمت آئی۔دیدار شاہ غصے یمان کو دیکھ کر بولا تو اُس نے سر جھٹکا۔
دوبارہ آپ میں سے کسی نے میری بہنوں کا نام بھی لیا تو میں جان سے مارنے میں بھی گریز نہیں کروں گا بچہ سمجھ کر کوئی مجھے کمزور نہ سمجھے یمان مستقیم ہوں میں اور یمان مستقیم کو اپنی بہنوں کی حفاظت کرنا آتی ہے۔یمان کے لہجے میں چٹانوں جیسی سخت تھی وہ دیدار شاہ کو دھکا دیتا سائیڈ سے گُزر گیا جاتے ہوئے بھی وہ پانی پیتے دلدار شاہ کو لات مارنا نہیں بھولا تھا۔دیدار نے غصے سے ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینچا۔
آپ نے اُس کو جانے کیوں دیا وہ اکیلا تھا کم عمر لڑکا ہمارا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا۔اُن کے آدمی نے سر جھکاکر کہا
ابھی جانے دیا ہمیشہ کے لیے تھوڑی اُس نے جو آج کیا اُس کا حساب تو ہم سود سمیت لینگے۔دیدار شاہ حقارت بھرے لہجے میں بول کر دلدار کے پاس آیا جو کھانستا اپنا سینہ مسل رہا تھا کیونکہ لات یمان نے اُس کے سینے پہ ماری تھی جس وجہ سے پھر سے اُس کو کھانسی کا دورہ پڑا تھا۔
وہ جان سے بچنے نا پائے۔دلدار شاہ نے کھانسی کے درمیان کہا۔
وہ نہیں بچے گا زندہ فکر نہیں کرے آپ۔دیدار شاہ اُس کی پشت سہلاکر بولا اُس کی آنکھوں سے شیطانیت ٹپک رہی تھی۔
