Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 21)

Haal e Dil by Rimsha Hussain

حال!

ماہی کہاں ہے؟شازل حویلی پہنچ کر ڈائریکٹ اپنے کمرے میں گیا تھا مگر وہاں ماہی کو ناپاکر وہ کلثوم بیگم کے کمرے میں آیا جو نماز کی تیاری میں تھی۔

باورچی خانے میں ہوگی۔کلثوم بیگم شازل کی اچانک آمد پہ اپنی حیرانگی چُھپاکر جواب دینے لگی۔

وہ وہاں کیوں آئے سویئر اماں سائیں اگر اِس بار ماہی کو ایک کھروچ بھی ہوگی تو میں برداشت نہیں کروں گا۔ایک منٹ لگا تھا شازل کو طیش میں آنے میں تبھی وہ غصے سے کھولتا اپنا رخ باورچی خانے میں کرگیا۔کلثوم بیگم نے اُس کو اتنے غصے میں جاتا دیکھا تو پیچھا کرنا چاہا پر ہاتھ میں جمائے نماز دیکھ کر وہ نماز پڑھنے لیے کھڑی ہوگئ۔

ٹھیک سے برتن دھو جان نہیں ہے کیا۔ماہی دُکھتے سر کے ساتھ ٹھنڈے پانی میں برتن دھو رہی تھی جب اُس کے پاس کھڑی ملازمہ نے حقیر لہجے میں اُس سے کہا وہ شبانا کی خاص ملازمہ تھی جس کو اب شبانا نے ماہی کی نگرانی میں کھڑا کیا تھا اِن دنوں میں جتنا اُن دونوں نے ماہی کو ٹارچر کیا تھا یہ بس وہ خود یا اُس کا خدا جانتا تھا کمرے سے دوبارہ وہ سٹورم آگئ تھی کھانے کے نام پہ باسی روٹی اُس کے سامنے کی جاتی۔

ماہی۔ملازمہ کی بات اندر آتے شازل نے سُن لی تھی تبھی اُس نے زور سے ماہی کا نام لیا جس پہ وہاں کھڑی سب ملازمائیں اپنی جگہ چور سی ہوگئ۔

آپ۔شازل کو دیکھ کر ماہی کو لگا جیسے کسی نے تپتی دھوپ سے اُٹھاکر اُس کو ٹھنڈی چھاؤ میں رکھا تھا۔

چھوٹے شاہ صاحب وہ

خاموش مجھے نفرت ہے فضول کی(وضاحت) ایکپلینیشنس سے تم لوگوں کی ہمت کیسے ہوئی میری بیوی سے ایسے بات کرنے کی میں تم لوگوں کی زبانیں کاٹ ڈالوں گا۔شازل ماہی کو اپنے حصار میں لیتا اُن سب پہ برس پڑا

معافی چاہتے ہیں ہمیں تو بیگم صاحبہ اور چھوٹی بیگم شبانا نے کہا تھا۔وہ سب تھرتھر کانپتی بتانے لگی جس پہ شازل اچٹنی نظر اُن پہ ڈالتا ماہی کی جانب متوجہ ہوا

کیا حال بنالیا ہے تم نے اپنا۔شازل ماہی چہرے پہ پسینے کی بوندیں صاف کرتا بولا جس پہ ماہی بنا کجھ کہے اُس کے سینے پہ سر رکھ گئ۔اُس کی حرکت پہ شازل نے پورے باورچی خانے میں نظریں گھمائی جہاں سب ملازمین کی نظریں نیچے زمین پہ تھی۔

اندر چلو۔شازل نے اُس کے کان کے پاس چہرہ کیے کہا تو وہ جلدی سے دور ہوکر باورچی خانے سے باہر چلی گئ۔

سامان پیک کرلوں۔شازل کمرے میں آتا اُس سے بولا

سامان کیوں؟ماہی جو ابھی پرسکون ہوتی ڈوپٹہ اُتار کر بیڈ پہ سونے کا اِرادہ کیے ہوئی تھی شازل کی بات سن کر حیران ہوئی۔

ایک منٹ۔شازل کی نظر اُس کی گردن پہ موجود نشان پہ پڑی تو خاموش ہونے کا اِشارہ کرتا اُس کے قریب ہوا۔

یہ نشان کیسا ہے؟شازل نے سنجیدگی سے پوچھا

وہ کجھ نہیں۔ماہی کو سمجھ نہیں آیا کیا جواب دے۔

ماہی سچ بتاؤ مجھے جھوٹ سے سخت نفرت ہے۔شازل اُس کا بازوں دبوچتا سخت لہجے میں پوچھنے لگا شازل کی حرکت پہ ماہی کے چہرے پہ تکلیف کے آثار نمایاں ہوئے۔

مجھے درد ہورہا ہے۔ماہی کی آنکھوں سے آنسو نکلے تو شازل غور سے اُس کو دیکھنے کے بعد اُس کا بازوں چھوڑ کر اُس کی گردن پھر بازوں دیکھنے لگا جہاں نیل پڑے ہوئے تھے۔شازل نے زور سے ہونٹوں کو بھینچ لیا۔

بھابھی ماں نے کیا ہے؟شازل اُس کے بازوں پہ لگے نیل کے نشان پہ آہستہ سے انگلیاں پھیر کر پوچھنے لگا۔

ہمم۔ماہی اتنا کہتی سرجھکاگئ۔

سوری مجھے تمہاری بات ماننی چاہیے تھی۔شازل کو افسوس ہوا۔

کوئی بات نہیں۔ماہی نے بس اتنا کہا

تم یہاں بیٹھو میں مرہم لگاتا ہوں۔شازل اُس کو بیٹھاتا خود اُس کے قدموں کے پاس بیٹھ گیا۔

آپ پلیز اُپر بیٹھے مجھے اچھا نہیں لگ رہا۔ماہی کو عجیب لگا شازل کا یوں بیٹھنا وہ خود کو شازل کے قابل نہیں سمجھتی تھی وہ جانتی تھی سامنے بیٹھا شاندار پرسنائلٹی کا مالک شازل اُس کا نہیں تھا اور نہ ہوسکتا تھا وہ یہ سب اُس کے پیار میں نہیں کررہا تھا وہ اِس لیے کررہا تھا کیونکہ وہ اُس کے نکاح میں تھی اُس کی بیوی تھی اور وہ اپنی زمیداری پوری کررہا تھا۔

خاموش رہو اور مجھے اپنا کام کرنے دو آج ہم ویسے بھی شہر کے لیے روانہ ہوگے میں کوئی رسک نہیں لے سکتا۔شازل اُس کے بازوں پہ مرہم لگاتا بتانے لگا۔

آپ میری وجہ سے حویلی سے مت جائے۔ماہی نے کہا

جانا تو پڑے گا مجھے ویسے بھی اسلام آباد جانا ہے میں یہاں پہلے تمہاری وجہ سے تھا اب یہاں کے حالات دیکھ کر میں تمہیں اکیلا نہیں چھوڑ سکتا اِس لیے تم ساتھ چلنا جب تک سب کجھ ٹھیک نہیں ہوجاتا۔شازل نے نرم لہجے میں کہا

آپ اور آروش الگ ہے اِن سب حویلی والوں سے۔ماہی کسی ٹرانس کی کیفیت میں بولی

میں دُرید لالہ آروش اور حریم ہم چاروں سب سے الگ ہیں۔شازل مسکراکر بولا

حریم بھی آپ کی بہن ہے۔ماہی نے پوچھا

ایسا ہی سمجھو وہ میری پھپھو کی بیٹی ہے میری زیادہ تر اُس سے بات نہیں ہوتی وہ دُرید لالہ کے قریب ہے۔شازل نے بتایا

آپ کیوں نہیں کرتے اُس سے بات؟ماہی کو تجسس ہوا۔

میں کیا کروں گا اُس سے بات میں یہاں کم عرصہ رہاں ہوں پہلے پڑھائی کی وجہ سے مُلک سے باہر تھا پھر اسلام آباد میں رہنے لگا ایسے میں میری کم بات ہوتی ہے ہر ایک سے سوائے آروش کے۔شازل نے عام لہجے میں بتایا۔

حریم کے بات کرنے کا انداز الگ ہے بہت۔ماہی نے بتایا۔

جانتا ہوں۔شازل اتنا کہتا اُٹھ کھڑا ہوا کیونکہ اُس کا کام ہوگیا تھا۔

یہ مرہم تم لگاتی رہنا۔شازل مرہم کو سائیڈ ٹیبل پہ رکھتا اُس سے بولا

جی۔ماہی نے سر کو جنبش دی۔

کیا سامان پیک نہیں کرنا میں کسی ملازمہ سے کہوں؟شازل نے اُس کو سوتا دیکھا تو کہا

شازل میری نیند پوری نہیں ہوئی آج وہ پوری کرو شہر کل چلے جائے گے۔ماہی اپنا ہاتھ بڑھاکر اُس کا ہاتھ تھام کر بولی۔

ضرور۔شازل جھک کر اُس کے ماتھے پہ بوسہ دیتا بولا تو ماہی کا دل زور سے دھڑک اُٹھا اُس نے نظر اُٹھا کر شازل کو دیکھو جو نارمل تاثرات کے ساتھ صوفے پہ بیٹھتا موبائیل میں مصروف ہوگیا تھا۔

بے شرم۔ماہی اُس کو نیا لقب دیتی چادر تان کر سوگئ۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آروش کمرے میں آئی تو اپنا سیل فون چارجنگ پہ لگانے کے لیے جیسے ہی رکھنے لگی حریم کی کال آنے لگی۔فون چارج کرنے کا اِرادہ ترک کیے اُس نے کال ریسیو کی۔

السلام علیکم آروش آپی کیسی ہیں۔حریم نے سلام کرنے میں پہل کی۔

وعلیکم السلام میں ٹھیک تم بتاؤ کیسی ہو امتحان کیسے گُزرے؟آروش نے پوچھا

اچھے گُزرے کل ہم حویلی بھی آجائے گے۔حریم نے مِزید بتایا

اچھا ماشاءاللہ لالہ سے بات ہوئی ہے؟آروش نے کجھ سوچ کر پوچھا

اُن کو کال کی تھی پر شاید وہ مصروف تھے اِس لیے کال پِک نہیں کی۔حریم کا لہجہ اچانک مایوس ہوگیا۔

زمینوں پہ ہوگے تم اُداس مت ہو فری ہوکر خود ہی کال کرلینگے۔آروش نے تسلی کروائی۔

وہ تو کرلے گے آپ بتائے آپ شہر گئ تھی کجھ پتا چلا؟حریم نے اشتیاق بھرے لہجے میں پوچھا۔

کیا پتا چلنا تھا؟آروش کو سمجھ نہیں آیا

یمان مستقیم اسلام آباد موو ہوگئے ہیں نہ اور ہر چینل پہ یہ خبر نشر ہوئی تھی کے اُن کو ہرٹ اٹیک آیا تھا۔حریم کی بات سن کر آروش کی گرفت اپنے سیل پہ ڈھیلی ہوئی

مجھے نہیں پتا ایسا کجھ اور تم بھی ان فضول خبروں سے دور رہا کرو یہ سیلیبرٹیز اٹیشن سیکر ہوتے ہیں اِس لیے روز خود کو ہارٹ اٹیک دلواتے ہیں۔آروش کا لہجہ تلخ ہوا۔

ایسی بھی کوئی بات نہیں سچ میں اُن کو ہوا تھا پھر یہ خبر بند ہوگئ تھی۔حریم منہ بناکر بولی۔

مجھے ایک کام ہے بعد میں بات ہوگی۔آروش نے کہا

ٹھیک ہے۔حریم اتنا بولتی کال کاٹ گئ۔

حریم کیوں تم انجانے میں میرے زخم تازہ کردیتی ہو۔آروش اپنے ہاتھ بالوں میں پھنسائے پریشانی سے بڑبڑائی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

اِن کارڈ میں سے کوئی ایک سلیکٹ کرو۔نور نے کارڈز یمان کی طرف بڑھاکر کہا جو اُس کے بچوں کے ساتھ مصروف تھا۔

کارڈ کس لیے؟یمان نے سوال کیا۔

کوئی ہوش ہے تمہیں یمان تمہاری سالگرہ قریب ہے تمہیں تو پتا ہے اُس دن کیا اناؤسمنٹ ہوگا۔نور اُس کو آنکھیں دیکھاکر بولی تو یمان نے مسز دلاور کی جانب دیکھا جو بہت خوش نظر آرہی تھی۔

تو کیا یہ برتھ کارڈ ہے میں کوئی بچہ تو نہیں۔یمان نے کہا

افففف یمان تم بھی حد کرتے ہو یہ تمہاری اینگیجمنٹ کا ہوگا جو تمہارے برتھ کے کجھ دن بعد ہوگا۔نور نے جیسے اُس کی عقل پہ ماتم کیا

آپ اِن میں سے کوئی پسند کریں۔یمان نے کہا

تم کیوں نہیں کررہے؟نور نے پوچھا

ایسے ہی میرا انٹرسٹ نہیں۔یمان نے کندھے اُچکاکر کہا

ماموں باہر چلے نہ کرکیٹ کھیلتے ہیں۔نور کا سات سالہ بیٹا اسجد یمان کے پاس آتا بولا تو یمان کے چہرے پہ سچی مسکراہٹ آئی۔

چلو چلتے ہیں۔یمان اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا

یاہوووووو۔انہوں نے خوشی کا نعرہ لگایا

شکر ہے بچوں کی وجہ سے مسکراتا تو ہے۔مسز دلاور گلاس وال سے لان کا منظر دیکھتی نور سے بولی

یمان کو بچے پسند ہیں۔نور نے مسکراکر کہا

تبھی تو میں چاہتی ہوں وہ شادی کریں پھر اپنا ماضی سب کجھ بھول کر نئ زندگی کی شروعات کرے آگے بھرے۔مسز دلاور نے کہا

اب راضی تو ہوگیا ہے وہ آپ دعا کرے جیسا آپ سوچ رہی ہیں ویسا ہی ہو۔نور نے کہا

ایسا ہی ہوگا۔مسز دلاور کا لہجہ مضبوط تھا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

تم یہاں میں نے منع کیا تھا نہ یہاں آنے کو۔دروازہ نوک ہونے پہ فجر باہر آئی تو ارمان کو دیکھ کر اُس نے کہا

مجھے سر نے نہیں بھیجا۔ارمان نے بتانا ضروری سمجھا۔

پھر کیوں آئے ہو۔فجر نے ناسمجھی سے اُس کو دیکھا

یامین ہے میں اُس سے ملنے آیا ہوں۔ارمان ایک نظر اُس کو دیکھ کر بتانے لگا۔

یامین سے کیوں ملنا ہے وہ نہیں ملے گا کسی سے تم جاؤ یہاں سے۔فجر نے سہولت سے انکار کیا۔

میں اتنی دور یامین سے ملنے آیا ہوں آپ پلیز ایسے انکار مت کریں میں بس اُس کو آج پارک لے جاؤں گا پھر واپس آجاؤں گا یامین کو لیکر۔ارمان نے معصوم شکل بنائے کہا

یامین باہر آؤ تمہارے ماموں تم سے ملنے آئے ہیں۔فجر ایک تیز نظر ارمان پہ ڈالتی یامین کو آواز دیتی خود اندر چلی گئ۔

ماموں لاحول ولاقوة۔ارمان جھرجھری لیکر بڑبڑایا۔

انکل آپ۔یامین بھاگتا ہوں ارمان کے پاس آیا

ہائے پرنس کیسے ہو۔ارمان اُس کو گود میں اُٹھاتا چہرے پہ پیار کرتا پوچھنے لگا

میں ٹھیک پر آپ نے کیوں اتنی دیر کی آنے میں۔یامین اُس کے چہرے پہ اپنے ننہے ہاتھ پھیرتا پوچھنے لگا۔

کیونکہ آپ کی مما ہٹلر ہے مجھے آپ سے ملنے نہیں دیتی۔ارمان اُس کا ننہا ہاتھ پکڑ کر چومتا معصوم شکل بنائے بولا۔

میں کہوں گا ممی سے وہ آپ کو مت ٹوکے۔یامین کی بات پہ وہ بے اختیار مسکرایا۔

باہر چلیں۔ارمان آہستہ آواز میں پوچھنے لگا

ہاں۔یامین خوش ہوگیا

چلو پھر۔ارمان اتنا کہتا اُس کو گود میں لیکر باہر کی جانب بڑھ گیا۔

میرا بیٹا تمہاری زمیداری تھی یمان تم نے کسی اور کو کیوں دی؟ٹیرس کے پاس کھڑی فجر نے اُن دونوں کو ہنستے مسکراتے جاتا دیکھا تو تصور میں یمان کو مخاطب کیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

دُر لالہ ہم نے آپ کو بہت مس کیا۔دُرید شاہ حریم کو لینے آیا تو گاڑی میں بیٹھتے ہی حریم نے پہلی بات یہ کی۔

ہم نے بھی آپ کو بہت مس کیا۔دُرید شاہ بھی اُسی کے انداز میں بولا

سچ میں؟حریم کا چہرہ کِھل اُٹھا

تمہیں کوئی شک ہے۔دُرید نے مصنوعی خفگی سے پوچھا

بلکل بھی نہیں۔حریم نے زور شور سے سر کو نفی میں ہلایا۔

اچھا یہ بتائے پیپرز سب کیسے ہوئے؟دُرید شاہ نے پوچھا

بہتتتتتتتت ہی اچھےےےےےےے کیوں کے تیاری آپ نے جو کروائی تھی۔حریم نے الفاظ کھینچ کر ادا کیے۔

کیا بات ہے آج کافی خوش ہو۔دُرید شاہ نے جاننا چاہا

ہم تو ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور اب زیادہ ہیں کیونکہ ہم یونیورسٹی جایا کرینگے۔حریم نے اپنی خوشی کا راز بتایا تو دُرید شاہ کے چہرے پہ مسکراہٹ غائب ہوئی۔

یونیورسٹی جانا ضروری ہے؟دُرید شاہ نے پوچھا

ہاں نہ ظاہر ہے جاؤں گی نہیں تو پڑھوں گی کیسے ویسے بھی مجھے تو بہت شوق تھا یونیورسٹی جانے کا کتنی بڑی ہوتی ہے نہ اور کتنے لوگ ہوتے ہیں۔حریم پرجوش لہجے میں بتانے لگی۔

ویسے تم آگے پرائیویٹ کلاسس بھی لے سکتی ہو۔دُرید نے کہا

پرائیویٹ کیوں؟کیا آپ کو اعتراض ہے ہمارے یونیورسٹی جانے سے؟حریم کا دل اُداس ہوا تبھی پوچھنے لگی۔

بات اعتراض کی نہیں میں نہیں چاہتا تم یونیورسٹی جاؤ آجکل کا ماحول بھی اچھا نہیں اور میں نہیں چاہتا تم اُس ماحول کا حصہ بنو۔دُرید نے اپنے اندر موجود خدشے کو ظاہر کیا

کیا آپ کو ہم پہ اعتبار نہیں۔حریم نے پوچھا

مجھے لوگوں پہ اعتبار نہیں تم بہت معصوم ہو اور میں چاہتا ہوں یہ معصومیت برقرار رہے۔دُرید شاہ نے اُس کی طرف دیکھ کر مسکراکر کہا

آپ ہم پہ اعتبار کریں ہم وہاں کسی سے دوستی نہیں کرینگے بس آپ یونیورسٹی جانے کی اِجازت خوشی خوشی اور دل سے دے۔حریم نے منت بھرے لہجے میں کہا

تمہارا رزلٹ آجائے اُس کے بعد اِس موضوع پہ بات ہوگی۔دُرید نے کہا

ٹھیک ہے۔حریم نے اثبات میں سرہلایا اُس کو پتا تھا دُرید کبھی اُس کی خواہش کو نظرانداز نہیں کرے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ سب کیا ہورہا ہے؟وہ دونوں حویلی پہنچے تو سب کو ہال میں جمع دیکھ کر دُرید شاہ نے پوچھا

شازل شہر جانے کی ضد کررہا ہے ساتھ میں اِس لڑکی کو بھی ساتھ لیکر جانا چاہتا ہے۔فردوس بیگم نخوت سے سرجھٹک کر بولی

آپ لوگوں نے جیسا سلوک میری بیوی کے ساتھ رکھا ہوا تھا اُس کے بعد ہمارا یہاں رہنا بنتا نہیں۔شازل جتانے والے انداز میں بولا

شازل تمہارا دماغ سچ میں خراب ہوگیا ہے تم اِس ونی میں آئی ہوئی لڑکی کے لیے اپنے خونی رشتے چھوڑ کر جارہے ہو کیا تمہاری نظر میں دلدار شاہ کے خون کی یہ اہمیت تھی۔فردوس بیگم نے حیرت سے پوچھا

میں پہلے یہ بات کلیئر کرچُکا ہوں قتل جس نے کیا ہے اُس کا گریبان پکڑے آپ لوگوں کی نظر میں یہ لڑکی ونی میں آئی ہوئی ہے پر میرے نزدیک یہ میری بیوی ہے اور میں اُس کے ساتھ ناانصافی بلکل پسند نہیں کروں گا۔شازل کا انداز اٹل تھا۔

دُرید تم ہی شازل کو سمجھاؤ۔کلثوم بیگم نے دُرید سے کہا جو خاموش کھڑا تھا

حریم تم اپنے کمرے میں جاؤ۔دُرید نے حریم سے کہا

جی۔حریم سب پہ ایک نظر ڈال کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئ۔

اماں سائیں شازل اپنی زندگی کا فیصلہ خود کرسکتا ہے وہ خودمختار ہے میں کیا کہوں۔دُرید نے کلثوم بیگم سے کہا تبھی وہاں شھباز شاہ آئے

السلام علیکم بابا سائیں۔آروش نے شھباز شاہ کو آتا دیکھا تو سلام کیا۔

وعلیکم السلام میرا بچہ۔شھباز شاہ نے محبت سے اُس کے سلام کا جواب دیا۔

یہ سب کیا ڈرامہ ہے شازل؟شھباز شاہ نے کرخت آواز میں شازل سے کہا

یہ کوئی ڈرامہ نہیں بابا سائیں بلکل ڈرامہ تو وہ ہے جو اِس حویلی میں لوگ کررہے ہیں ماہی پہ تشدد کرنے کا حق کس نے دیا ہے بھابھی ماں کو اور یہاں موجود ملازموں کو۔شازل اپنے پیچھے چُھپی ماہی کو آگے کرتا اُن سے بولا

ایک مرتبہ اپنے فیصلے پہ نظرثانی کرو۔شھباز شاہ نے کہا

میں نے سوچ لیا ہے بابا سائیں جب تک اصل قاتل سامنے نہیں آجاتا ماہی شہر رہے گی۔شازل نے کہا

قاتل کیا سامنے آئے گا وہ سامنے آچُکا ہے قتل ذہن سالک نے کیا تھا۔فردوس بیگم نے کہا

آپ کیا وہاں تھی۔شازل نے سنجیدگی سے پوچھا

شازل اپنے لہجے پہ قابوں پاؤ تم بڑوں سے بات کر رہے ہو اخلاق کے دائرے میں رہو ہماری تربیت ایسی نہیں ہے۔شھباز شاہ کو شازل کا انداز ناگوار گُزرا۔

معافی چاہتا ہوں پر بابا سائیں ذین سالک خود کہتا ہے اُس نے بس ایک گولی ماری تھی دلدار لالہ کو جو غلطی سے لگ گئ تھی اپنی جان بچانے کے چکر میں۔شازل نے کہا

چور کبھی یہ بات نہیں مانتا کے اُس نے چوری کی ہے۔فردوس بیگم نے کہا

میں آپ کی تکلیف کا اندازہ لگا سکتا ہوں تائی جان آپ کی بیٹی بیوہ ہوئی ہے آپ کے لیے صدما گہرا ہے پر آپ فاریہ تائی کا سوچے اُنہوں نے تو اپنا جوان بیٹا کھویا ہے کیا آپ اُن کی تکلیف کا اندازہ لگاسکتی ہیں ہم سب کو دلدار لالہ کی موت کا دُکھ ہے پر ہمیں کسی کو سزا دینے سے پہلے اِس واقعے کے بارے میں چھان بین کرنا چاہیے کے کیا واقع ہم جس کو سزا دے رہے جس کو قصوروار سمجھ رہے ہیں وہ واقع مجرم ہے بھی کے نہیں۔شازل نے گہری بات کی جس پہ سب سوچنے پہ مجبور ہوگئے۔

تم اتنے پُریقین کیسے ہو کے قتل ذین سالک نے نہیں کیا ضرور ایسا تمہیں اِس لڑکی نے کہا ہوگا۔شھباز شاہ نے کہا

ماہی نے مجھے کجھ نہیں کہا حق وِلہ خاندان سے ہماری کوئی ذاتی دشمنی نہیں جب کی ہمارے دشمن اور بھی بہت ہیں اُن میں سے کسی نے کیا ہوگا موقع دیکھ کر اور الزام کسی اور پہ آگیا۔شازل نے دو ٹوک انداز اپنایا

جو بھی پر تم حویلی سے کہیں نہیں جارہے۔شھباز شاہ نے کہا

گستاخی معاف بابا سائیں پر میں یہاں رہوں گا تو پاگل ہوجاؤں گا۔شازل نے کہا

مرضی ہے تمہاری۔شھباز شاہ نے مزید بحث نہیں کی۔

آروش تم چلوں گی ہمارے ساتھ؟شازل نے اچانک آروش کو مخاطب کیا تو اُس نے شھباز کو دیکھا جو اب شازل کو گھور رہے تھے۔

آروش میری بیٹی ہے تمہاری نہیں۔شھباز شاہ نے طنزیہ کیا۔

میں بھی آپ کا بیٹا ہوں اور آروش صرف آپ کی بیٹی نہیں ہماری بہن بھی ہے مجھے فیل ہورہا ہے جب سے آیا ہوں آروش پہلے سے بدل گئ ہے اتنا خاموش تو وہ کبھی نہیں رہتی تھی جتنا اب رہنے لگی ہے۔شازل کی بات پہ شھباز شاہ خاموش ہوگئے جب کی آروش پہلو بدل کے رہ گئ۔

آروش یہاں خوش ہے تمہیں جانا ہے تو اپنی بیوی کو ساتھ لیکر جاؤ۔شھباز شاہ نے کہا

ٹھیک ہے۔شازل ایک نظر آروش پہ ڈال کر بولا تو سب باری باری ہال سے نکلتے چلے گئے سوائے شازل ماہی اور آروش کے۔

آروش بی بی۔آروش وہی کھڑی تھی جب ایک ملازمہ نے اُس کو شاپر دیا۔

شکریہ اب تم جاؤ۔آروش شاپر اپنے ہاتھ میں لیتی اُس سے بولی

یہ تمہارے لیے۔آروش نے ماہی کی جانب وہ شاپر بڑھایا۔ماہی ایک نظر شازل پہ ڈال کر وہ شاپر تھام لیا۔

یہ۔ماہی نے شاپر میں عبایا دیکھا تو حیرت سے آروش کو دیکھنے لگی جب کی شازل کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی تھی۔

تم یہاں کیسے بھی آئی پر تم اب شاہ خاندان کا حصہ بن گئ ہو تمہارا نام شازل شاہ سے جڑگیا ہے اور حویلی میں رہنے والی عورتیں بنا اِس کے حویلی کے باہر قدم رکھنے کا سوچتی بھی نہیں۔آروش نے عبائے کی جانب اِشارہ کیے بتایا

شازل نے کبھی نہیں کہا۔ماہی افسردگی سے بولی۔

لالہ زبردستی کے قائل نہیں پر جب تک تم لالہ کے نکاح میں ہو پردہ کروں گی۔آروش نے کہا

جزاک اللہ میں اب ضرور پہنا کروں گی۔ماہی نے کہا تو آروش نے سرہلانے پہ اکتفا کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *