Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 19)

Haal e Dil by Rimsha Hussain

حال!

ماہی کمرے میں تھی جب دروازہ ناک ہوا وہ بیڈ سے اُٹھ کر جیسے ہی دروازے کے پاس آکر اُس کو کھولا شبانا کو دیکھ کر اُس کے چہرے کا رنگ سفید ہوگیا۔

آپ۔ماہی اپنے ڈر پہ قابو پاکر بولی

ہاں میں تجھے کیا لگا شازل آگیا ہے تو توں اِس حویلی میں راج کرے گی کمینی۔شبانا اُس کو بالوں سے پکڑتی غرائی۔ماہی کو اپنے سر میں درد کی ٹیسیں اُٹھتی محسوس ہوئی۔

آآ پلیز چھوڑے مجھے۔ماہی نے اپنے بال آزاد کروانے چاہے۔

چھڑواکر تو دِکھا۔شبانا نے غصے میں اُس کے بالوں پہ گرفت مضبوط کی۔

پلیز مجھے درد ہورہا ہے۔ماہی کی آنکھوں سے آنسو نکلے۔

لے چھوڑ دیا۔شبانا نے ایک جھٹکا دے کر اُس کو چھوڑا تو وہ نیچے فرش پہ اوندھے منہ گِر پڑی۔

بڑا آرام کرلیا کمرے میں اب کچن میں جاؤ سارا کام تم نے کرنا ہے حویلی والوں سے لیکر ملازمو تک کا کھانا تم بناؤ گی میرا بس چلو تو تیرے ٹ+کڑے ٹ*کڑے کرکے کتوں کے آگے کردوں گی۔شبانا ایک ل*ات اُس کی پیٹھ پہ مارکر کمرے سے باہر چلی گئ۔

ماہی اپنا د*رد برداشت کرتی بھیگے چہرے کے ساتھ اُٹھ کھڑی ہوئی۔

دیکھو ماہی میں جانتا ہوں تم ساتھ چلنے کا کیوں بول رہی ہو پر میں ایک بات واضع کردوں اب کوئی تمہیں کجھ نہیں کہے گا ٹرسٹ می تمہیں میں ضرور ساتھ لے جاتا پر مسئلہ ہوجائے گا کیونکہ میں چاہے جو بھی کروں سب کو پتا ہے تم ایک ونی میں آئی ہوئی لڑکی ہو تمہارا حویلی سے باہر جانا بند ہے میری اِس بات کا یہ مطلب ہرگز مت سمجھنا کے تم اب ساری زندگی یہاں رہو گی میں جلد تمہیں تمہارے گھروالوں کے پاس چھوڑ آؤں گا پھر تم جیسے پہلے زندگی گُزارا کرتی تھی ویسے ہی گُزارنا۔

شازل کی بات یاد آنے کے بعد اُس کے چہرے پہ طنزیہ بھرے تاثرات آئے۔

کوئی کجھ بھی کہے ہوں تو میں ایک ونی میں آئی ہوئی لڑکی۔بے دردی سے اپنے آنسو صاف کرتی وہ خود پہ ہنسی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

یہاں اتنا رش کیوں ہے لالہ؟آروش شازل کے ساتھ آئی تو ہسپتال کے باہر اتنی بھیڑ دیکھ کر شازل سے پوچھا

ڈونٹ نو۔شازل نے کندھے اُچکائے

ہم اندر کیسے جائے گے؟آروش نے پوچھا

دوسرا راستہ ہوگا وہاں سے۔شازل نے کجھ سوچ کر بتایا

اچھا۔آروش نے بس اتنا کہا

ایک منٹ میں ذرہ پوچھ آؤں کے لوگ کھڑے کیوں ہیں اتنے کیا ہسپتال کے باہر جلسہ ہونے والا ہے۔شازل اپنی ڈاڑھی کُھجاتا مزاحیہ انداز میں بولا

چھوڑے لالہ ہمارا کیا ہم دوسرے دروازے سے جاتے ہیں۔آروش نے شازل کی بات سن کر کہا

ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی۔شازل کو اُس کی بات ٹھیک لگی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

شکر اللہ کا تمہیں ہوش آگیا۔نور جو یمان کے پاس بیٹھی ہوئی تھی اُس کو آنکھیں کھولتا دیکھا تو شکرادا کرنے والے انداز میں کہا جب کی یمان سپاٹ تاثرات کے ساتھ جوں کا توں لیٹا ہوا تھا۔

یمان اِٹس می نور۔نور نے اُس کو خاموش دیکھا تو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا

پیشنٹ سے اتنی باتیں مت کریں۔پاس کھڑی نرس نے نور سے کہا تو اُس نے سر کو ہاں میں جنبش دی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دلاور خان فون پہ بات کرتے آرہے تھے جب اُن کا تصادم کسی لڑکی سے ہوا۔

سوری۔آروش جو نظریں نیچے کیے ہوئے آرہی تھی فورن سے معذرت خواہ ہوئی۔

کوئی بات نہیں بیٹا۔دلاور خان نے شفقت بھرا ہاتھ اُس کے سر پہ ہاتھ رکھا تو آروش نے نظریں اُٹھا کر اُن کو دیکھا پھر کجھ قدم دور لیکر وہاں سے دوسرے راستے چلی گئ جب کی دلاور خان کجھ پل کے لیے ساکت ہوئے تھے۔

ڈیڈ کم یمان کو ہوش آگیا ہے۔نور کی آواز سن کر وہ ہوش کی دنیا میں واپس آئے۔

ہممم چلو۔دلاور خان نے کہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لالہ ہم اتنے بڑے ہسپتال کیوں آئے ہیں؟شازل آروش کو ایک ڈاکٹر کے کیبن لایا تو آروش ناسمجھی سے اُس کو دیکھ کر بولی۔

یہاں میرا دوست ہے اُس سے ملنے آیا تھا تمہیں کہی اکیلا چھوڑ تو نہیں سکتا نہ۔شازل نے مسکراکر بتایا

وہی میں سوچو ایک بخار کے لیے آپ مجھے دل کے ڈاکٹر کے پاس کیوں لیکر آگئے اور آپ مجھے گھر ڈراب کردیتے جو یہاں آپ کا ہے۔آروش نے ساری بات سمجھ آنے کے بعد کہا تو اُس کی پہلی بات پہ شازل مسکرایا

اب تو آگئے ہیں نہ تم یہاں بیٹھو میں آتا ہوں ویسے بھی یہ ڈاکٹر دلشاد کا کیبن ہے تو پریشان مت ہو نہ۔شازل کھڑے ہوکر بولا۔

جلدی کیجیے گا مجھے یہاں اچھا فیل نہیں ہورہا۔آروش نے کہا۔

ڈونٹ وری میں جلدی آؤں گا۔شازل نے تسلی بخش جواب دیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

سوپ پورا پینا پڑے گا۔مسز دلاور نے مصنوعی سخت لہجے میں یمان سے کہا

میرا دل نہیں چاہ رہا۔یمان بُرا منہ بناکر بولا

خان آپ ہی اِس کو سمجھائے۔مسز دلاور شکایت بھرے لہجے میں دلاور خان سے بولی جو جانے کِن سوچو میں گم تھے۔اِس لیے اُن کی بات سن نہیں پائے۔

ڈیڈ موم آپ سے بات کررہی ہیں۔نور نے اُن کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر کہا تو جیسے وہ نیند سے جاگے۔

ہاں کیا کہا؟دلاور خان نے پوچھا تو یمان نے گردن موڑ کر اُن کو دیکھا تو یمان کو آج وہ کجھ ڈسٹرب لگے وجہ وہ خود کو سمجھنے لگا۔

میں کہہ رہی تھی یمان سوپ نہیں پی رہا تھا دیکھو کتنا کمزور ہوگیا ہے اُپر سے اِس کی خود پہ ایسی لاپرواہی۔مسز دلاور نے بتایا

یمان سوپ سارا ختم کرو۔دلاور خان نے نرمی سے اُس کو مخاطب کیا۔

بعد میں۔یمان کی ایک ہی رٹ پہ وہ بھی خاموش اختیار کرگئے۔

اچھا مجھے ذرہ ڈاکٹر دلشاد سے کام ہے تو میں آتی ہوں۔نور موبائل اسکرین کو دیکھ کر اُن سے بولی

تمہیں آرام کرنا چاہیے۔مسز دلاور یمان کی پیشانی چومتی اُس سے بولی

گھر کب جائے گے؟یمان نے سوال کیا

ابھی کجھ دن تو یہی رہنا پڑے گا جب تک تم مکمل طور پہ صحت یاب نہیں ہوجاتے۔مسز دلاور نے کہا

میں ٹھیک ہوں اب۔یمان نے کہا

تمہیں ابھی ٹھیک ہونا ہے۔اب کی دلاور خان نے کہا تو یمان اپنے ہونٹوں کو بھینچ گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام علیکم!مجھے رپورٹس چاہیے تھی۔نور ڈاکٹر دلشاد کے کیبن میں آکر بولی۔

وعلیکم السلام !مسٹر یمان کی رپورٹس تو ارمان لیکر گیا ہے۔ڈاکٹر دلشاد نے مسکراکر بتایا۔

یمان نام پہ آروش چونک پڑی تھی۔

اچھا ٹھیک ہے۔نور ایک نظر عبائے میں ملبوس آروش پہ ڈال کر بولی۔

آروش نے اُس کو دیکھا تو ایسا محسوس کرنے لگی جیسے یہ چہرہ وہ پہلے بھی دیکھ چُکی ہو

آروش کو ہسپتال کے باہر بھیڑ یاد آئی پھر یمان کا نام سن کر اُس کے اندر سوالات اُبھرے جس کا جواب سامنے بیٹھی ڈاکٹر دے سکتی تھی۔

ایکسکیوز می ڈاکٹر

ابھی آروش اتنا بولی تھی جب شازل اندر داخل ہوا۔

آرو چلو۔شازل نے کہا

جی لالہ۔آروش دل مسوس کرتی اُٹھ کھڑی ہوئی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

دُر لالہ کیسے ہیں آپ ہمیں کال ہی نہیں کرتے ہم ناراض ہیں آپ سے۔حریم دُرید شاہ کو کال کرکے ناراض لہجے میں بولی

مصروف تھا ورنہ تمہیں تو میں لازمی کال کرتا ہوں۔دُرید شاہ اُس کی ناراضگی محسوس کرتا زِیر لب مسکرایا

ہم نے کہا ہم آپ سے ناراض ہیں۔حریم نے ایک بار پھر کہا

تو بتائے پھر آپ کی ناراضگی دور کرنے کے لیے کیا کیا جائے؟دُرید اُس کے انداز میں بات کرنے لگا۔

آپ ہمیں طوطا مینا لاکر دے۔حریم نے اِتراکر کہا

فائدہ دوسرے دن تم نے ویسے ہی اُن کو آزاد کردینا ہے۔دُرید اُس کی بات سن کر بولا

آپ لاکر دینگے یا نہیں۔حریم نے پھر سے ناراض لہجہ اپنایا۔

اوکے میں لاکر دوں گا پر ابھی تم ایکزامز میں فوکس کرو۔دُرید شاہ نے کہا

وہ تو ہم کررہے ہیں۔حریم نے مُنہ بناکر کہا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

کجھ دن بعد!

یمان کو آج ہسپتال سے ڈسچارج مل گیا تھا جس وجہ سے وہ اب اپنے گھر جارہا تھا۔دوسری طرف شازل شاہ اور آروش شاہ بھی آج اپنے گاؤں جارہے تھے شازل ایک بار پھر ماہی کو فراموش کر بیٹھا تھا کیونکہ یہاں اُس کا اپنا ایک ضروری کام تھا جس وجہ سے وہ آروش کو گاؤں حویلی میں نہیں چھوڑ سکتا تھا۔

افففف اتنا ٹریفک۔شازل گاڑی کو بریک لگاتا اکتاہٹ بھرے لہجے میں کہتا آس پاس دیکھنے لگا۔پچھلی سیٹ پہ آنکھیں موندے بیٹھی آروش نے مسکراکر شازل کو دیکھا جس کو گاؤں جانے کی جلدی تھی۔

گاڑی کیوں روک دی؟یمان جو جانے کن سوچو میں گم تھا گاڑی کو رُکتا دیکھا تو گاڑی ڈرائیو کرتے ارمان سے کہا

سر ٹریفک۔ارمان نے اُس کو آس پاس ہوش دلایا تو اُس نے گہری سانس خارج کرکے دوبارہ سے اپنی سوچو میں گم ہوگیا اگر وہ ونڈو سے باہر نظر ڈالتا تو اُس کو پتا لگتا جس کو وہ سوچ رہا ہے وہ آج کجھ قدم کی دوری پہ تھی۔

یہاں آکر پتا نہیں میرے دل کو چین کیوں نہیں۔آروش نے گہری سانس اندر کھینچتی خود سے سوال کرنے لگی جس کا جواب اُس کے پاس موجود نہیں تھا۔

تمہاری آواز بہت خوبصورت ہے سُننے والا سحر میں جکڑ جاتا ہے۔

آنکھوں کے سامنے ریڈ کلر کی چٹ لہرائی تو ہمیشہ کی طرح اُس کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی۔بیک مرر سے ارمان نے حیرت سے اُس کی مسکراہٹ کو دیکھا تھا۔

یمان اپنی آنکھیں کھولتا ونڈو کے باہر دیکھنے لگا تو اُس کی نظر ایک گاڑی پہ پڑی جس کا دروازہ تو بند تھا مگر دروازے کے بیچ کسی لڑکی عبایا اٹک ہوا تھا۔

کتنے لاپرواہ ہیں لوگ۔یمان غور سے صرف عبائے کی جانب دیکھتا بس سوچ سکا تبھی سگنل کُھل گئے جس کا پتا یمان کو نہیں ہوا تھا۔

ارمان باہر جاکر اُن سے کہو گاڑی کا دروازہ کھول کر دوبارہ سے بند کرے۔یمان کی اچانک بات پہ ارمان چونک کر آس پاس دیکھنے لگا۔

کہاں سر؟ارمان کو سمجھ نہیں آیا۔

وہاں وہ بلیک کلر کی جو گاڑی ہے۔یمان اُس کو بتاتا اُس سے پہلے عین ونڈو کی جانب دیکھتا وہ گاڑی سٹارٹ ہوچکی تھی۔

سر جانے دے ہم چلتے ہیں۔اپنے پیچھے مسلسل ہوتی گاڑیوں کے ہارن کی آواز سن کر ارمان نے بھی گاڑی سٹارٹ کردی۔یمان کی آنکھوں سے وہ بلیک کلر کی گاڑی اوجھل گئ جس پہ جانے کیوں وہ بُرا محسوس کرنے لگا۔

کہاں گئ وہ گاڑی؟یمان ونڈو سے باہر دیکھتا بڑبڑایا۔

آپ پریشان مت ہو جس لڑکی کا عبایا ہوگا اُس نے ٹھیک کردیا ہوگا۔ارمان نے اُس کو بڑبڑاتا دیکھا تو کہا جس پہ یمان نے محض سر کو جنبش دی

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

ماضی!

سر گاڑی آگے نہیں جاسکتی۔گاڑی ڈرائیو کرتے ڈرائیور نے بیک مرر سے اپنے مالک کو دیکھ کر کہا جس کا پورا دھیان اپنے سیل فون پہ تھا

کیوں؟۔سیل فون سے سر اُٹھا کر اُس نے چونک کر پوچھا۔

سر روڈ پہ کوئی بے ہوش پڑا ہے۔ڈرائیور نے بتایا

او گوڈ پھر تو ہمیں چیک کرنا چاہیے اُس کو مدد کی کی ضرورت ہوگی۔پیچھے بیٹھا آدمی اُس کی بات سن کر یکدم گاڑی سے باہر آیا

دلاور صاحب یہ کسی بھی ساز

ڈرائیور کے الفاظ منہ ہی رہ گئے جب اُس نے نیچے لیٹے وجود کو خون میں لت پت دیکھا

او مائے گوڈ اِس بچے کو تو کسی نے قتل کرنے کی کوشش کی ہے۔دلاور خان یمان کو دیکھتا پریشانی کے عالم میں بولا

سر اب تو مرگیا ہوگا۔ڈرائیور نے کہا تو دلاور خان نے اُس کی سانسیں چیک کی جو بہت مدھم چل رہی تھی۔

ہی از لائیو اِس کو جلدی سے ہسپتال لیکر جانا ہوگا تم گاڑی سٹارٹ کرو میں اِس کو لیکر آتا ہوں۔دلاور خان نے کہا

پر سر۔

جو کہا ہے وہ کرو ہری اپ ہمارے پاس وقت کم ہے۔دلاور خان اُس کی بات کاٹ کر بولا تو ڈرائیور گاڑی کی جانب بڑھا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آپ پیشنٹ کے کیا لگتے ہیں؟ڈاکٹر عروج دلدار شاہ اور دیدار شاہ کو مشکوک نظروں سے دیکھ کر پوچھنے لگی۔

بہن ہے ہماری کیا ہوا ہے اُس کو۔دلدار شاہ کرخت آواز میں پوچھنے لگے۔

اُن کا نروس بریک ڈاؤن ہوگیا تھا اگر آپ کجھ منٹ دیر کرتے تو وہ جان کی بازی بھی ہار سکتی تھی۔ڈاکٹر کی بات پہ اُن دونوں کے ماتھے پہ پسینے کی بوندیں ٹپکنے لگی۔

اب وہ کیسی ہے؟دلدار شاہ نے ہمت کرکے پوچھا

ناؤ شی از فائن پر ابھی اُن کو ایک دو دن یہی رہنا ہوگا۔ڈاکٹر جواب دے کر چلی گئ۔

چاچا جان کو ابھی سارے قصے کا پتا نہیں اگر آج کے واقعے کا اُن کو معلوم ہوا تو وہ ہماری بوٹی بوٹی کردینگے۔دیدار شاہ پریشانی کے عالم میں دلدار شاہ سے بولنے لگا جس کی نظریں سامنے آتے شھباز شاہ اُور اُس کے خاص آدمی پہ تھی۔

لالہ چاچا جان۔دیدار شاہ کا خون خشک ہوا جب اُس کی بھی نظر شھباز شاہ پہ پڑی۔

چاچا جان و

چٹاخ

چٹاخ

دلدار شاہ نے کجھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا جب شھباز شاہ طیش میں آتے در پہ در تھپڑ اُس کے چہرے پہ جردیئے۔

مجھے بتایا کیوں نہیں۔شھباز شاہ دونوں پہ سخت نظریں گاڑھ کر بولے

موقع نہیں ملا

چٹاخ

دیدار شاہ نے بس اتنا کہا تھا جب شھباز نے اُس کے چہرے پہ بھی تھپڑ مارا جس پہ وہ دونوں بس ضبط کرتے رہ گئے۔

جانتے ہو نہ تم دونوں آروش ہمارے لیے کیا ہے پھر اِس گستاخی کی وجہ۔شھباز شاہ غرائے

معاف کردے۔دلدار شاہ نے سرجھکائے کہا

معافی۔شھباز شاہ تحقیر آمیز نظروں سے اُس کو دیکھنے لگا۔

آروش ٹھیک ہوجائے اُس کے بعد تم سب کا فیصلہ ہوگا۔شھباز شاہ ہسپتال کا خیال کیے خود پہ ضبط کرنے لگے۔

قصوروار آروش

خاموش۔

دلدار شاہ کجھ کہنے والا تھا آروش کے بارے میں جب شھباز شاہ نے تیکھی نظروں سے اُس کو دیکھ کر وارن کیا تو ناچار اُن کو چپ ہونا پڑا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *