Haal e Dil by Rimsha Hussain NovelR50524 Haal e Dil (Episode 18)
Rate this Novel
Haal e Dil (Episode 18)
Haal e Dil by Rimsha Hussain
یمان کیا ہوا ہے بیٹا تمہارا یہ گال اتنا سوجھا ہوا کیوں ہے؟ فائزہ بیگم نے دروازے پہ بیل ہونے پہ جب دروازہ کھولنے آئی تو یمان کو ایسے دیکھ کر اُن کو فکر لاحق ہوئی اُن کی آواز سن کر فجر اور عیشا بھی صحن میں آگئ یمان پہ نظر پڑنے کے بعد وہ بھی پریشان ہوئی۔
کجھ نہیں ہوا۔ یمان اندر داخل ہوتا بس یہی بول پایا۔
یمان سچ سچ بتاؤ کیا بات ہے بابا کا فون آیا تھا اماں کو جو باتیں انہوں نے بتائی وہ ناقابلِ قبول ہیں۔فجر نے سخت رویہ اختیار کیا تو یمان چلتا ہوا اُس کے پاس آیا۔
مجھے معاف کردیجیے گا۔یمان فجر اور عیشا کی جانب دیکھ کر سر جھکاکر یہی بول پایا
یمان کیا کسی نے تمہیں مارا ہے؟عیشا اُس کی بات نظرانداز کرتی پوچھنے لگی تو یمان نے سراثبات میں ہلایا اُس کے اعتراف کرنے پر فجر نے افسوس سے سر کو جنبش دی جب کی فائزہ بیگم کا ہاتھ اپنے سینے پہ پڑا۔
یہاں بیٹھ۔فائزہ بیگم نے صحن میں رکھی چارپائی پہ اُس کو بیٹھایا۔
تم دونوں اندر جاؤ۔فائزہ بیگم نے اُن دونوں سے کہا تو وہ دونوں ایک نظر یمان پہ ڈال کر چلی گئ۔
گانا گانے کا شوق اور اُسے بھول جاؤ یہ دونوں چیزیں ہماری اوقات سے باہر ہیں۔اپنی ماں کی بات پہ یمان نے زخمی نظروں سے اُن کو دیکھا جس سے فائزہ بیگم نے نظریں چُرائی اُن کو کہاں برداشت ہورہا تھا اپنے بیٹے کی آنکھوں میں اتنا درد دیکھنا
محبت اور خواہش کب اوقات دیکھ کر ہوتی ہے۔یمان ٹوٹے لہجے میں بولا
دھمکی دے کر گئے وہ تیرے باپ کو کسی اور کا نہیں تو اپنی جوانی پہ رحم کھا ابھی تیری عمر ہی کیا ہے جو ایسی چیزوں میں پڑا ہے۔فائزہ بیگم نے جیسے افسوس کیا۔
میں دونوں چیزیں پالوں گا آپ دیکھ لینا۔یمان کے لہجے میں عزم تھا۔
وہ زندہ چھوڑے گے تب نہ تجھ سے بڑی جوان بہنیں ہیں یہاں اُن کی عزت اور جان دونوں خطرے میں ہیں اِن بڑے لوگوں سے نہ دشمنی اچھی اور نہ دوستی توں زمین پہ بیٹھ کر چاند کی خواہش کررہا ہے۔فائزہ بیگم نے ایک اور کمزور سی کوشش کی۔
اماں وہ میرے اندر خون کی طرح گردش کرتی ہے ایسا لگتا ہے جب ہنستی ہوگی تو اُس سے زیادہ خوبصورت منظر دُنیا میں شاید کوئی ہوگا دوسری بات سنگر بننا میرا خواب میرا جنون ہے جس کو میں پورا کرکے رہوں گا پھر آپ کو فخر ہوگا اپنے بیٹے پہ میں دل اور دماغ کے آگے مجبور ہوں۔یمان جیسے اپنے حواسوں میں نہیں تھا۔
اٹھارہ سال کا بھی نہیں ہوا ابھی اور ایسی باتیں کررہا ہے کجھ شرم وحیا کر یہ کسے عشق و معشوقی کے چکر میں پڑگیا ہے ایسا کیا کردیا ہے جو اُس بدکردار لڑکی کے باپ اور بھائی کتوں کی طرح تیری تلاش میں ہیں۔فائزہ بیگم کے جواب دینے سے پہلے ہی مستقیم صاحب گھر میں داخل ہوتے صحن میں آکر اُس پہ گرجے
جب کی یمان نے بدکردار لفظ پہ زور سے اپنے ہاتھوں کی مٹھیاں بند کرلی آنکھیں خون چھلکانے کی حدتک لال ہوگئ تھی۔
آپ ایک دفع مجھ ناچیز پہ اعتبار کرلیں دیکھیے گا یہ بندہ بشر آپ کو کبھی رسوا ہونے نہیں دے گا زندگی کے ہر سفر میں آپ مجھے اپنے ہمقدم پائے گی اگر کوئی آپ کے بارے میں کجھ غلط کہے گا تو گدی سے زبان کھینچ لوں گا پر آپ کی ذات پہ ایک حرف آنے نہیں دوں گا۔
اپنے کہے الفاظ یاد آئے تو بے بسی سی آنکھوں کو میچ لیا آج جس دوہراہے پہ وہ کھڑا تھا وہ اِتنا جان گیا تھا اب اُس کی زندگی میں کھونا ہی لکھا ہے پانے کا وہ بس تصور کرسکتا ہے کیونکہ اُس کی ماں سہی کہتی تھی وہ زمین پہ بیٹھ کر چاند کی خواہش کررہا تھا یہ سب جان کر بھی وہ دستبردار نہیں ہوپارہا تھا پر اُس کو اب پیچھے ہٹنا تھا اپنی بہنوں کے لیے ماں کی التجا کے آگے اُس کو سرجھکانا تھا اپنے سارے کیے قول کو بُھلانا تھا کیونکہ اُس کو ایک اور بات سمجھ آگئ تھی اب محبت پانے کے لیے پئسو کا ہونا ضروری تھا۔
ہمارے خاندان کی لڑکی پہ نظر ڈالنے سے پہلے اپنی حیثیت اور ذات دیکھ لیں شاہوں خاندان میں مردوں کا کال نہیں آگیا جو وہ ہر آتے جاتے کو اپنے آنگن کا پھول پکڑاے گے ہم اپنی بیٹی کی شادی اپنی برادری اور برابری میں کریں گے اُس سے نہیں جن کے گھر فاقے ہوتے ہیں۔کسی کا تکبر بھرا جُملا یاد آیا تو کان کے پردے پھٹتے محسوس ہوئے۔
بدکردار نہیں ہے وہ۔ یمان ضبط سے بولا
باکردار لڑکیوں کے پیچھے عاشق نہیں پڑے ہوتے۔ مستقیم صاحب حقارت سے بولے
آپ بنا انہیں جانے ایسی بات نہیں کرسکتے بہتان لگانا کتنا بڑا گناہ ہے یہ بات آپ ہی ہمیں بتاتیں تھے نہ پھر کیوں آج آپ ایسی باتیں کررہے ہیں میں اگر اُن کو چاہتا ہوں اِس میں اِن کا نہیں میرا قصور ہے۔ یمان مستقیم صاحب کے سامنے کھڑا ہوتا شدت بھرے لہجے میں بولا۔اندرونی دروازے کے پاس فجر اور عیشا حیرت سے یمان کا یہ روپ دیکھ رہی تھی جو اُن کے لیے نیا تھا۔
گستاخ
چٹاخ
مستقیم صاحب نے زناٹے دار تھپڑ اُس کے چہرے پہ کھینچ کر مارا جس پہ یمان لڑکھڑا کر نیچے گِر پڑا فجر بھاگ کر اُس کے پاس گئ۔
کیا کررہے ہیں آپ کیوں ماررہے ہیں اِس کو ہوگئ ہے غلطی اِس سے اب نہیں کرے گا۔ فائزہ بیگم روتے ہوئے بولی
سمجھالوں اِس کو ہم سفید پوش لوگ ہیں جن کے پاس سوائے عزت کے اور کجھ نہیں ہوتا اگر اِسے یہاں رہنا ہے تو سر سے عشق کا بھوت اُتارنا ہوگا۔ مستقیم صاحب دھاڑنے والے انداز میں بولے بات بگڑتی دیکھ کر عیشا کی حالت بُری ہورہی تھی جب کی فجر یمان کو اُس کے کمرے میں لے جانے لگی۔






تم نے اچھا نہیں کیا۔ آروش کمرے میں گُزرے ہوئے واقع کو سوچ رہی تھی جب ہما کی آواز پہ چونک کر اُس کی طرف متوجہ ہوئی۔
کیا اچھا نہیں کیا میں نے؟ آروش کو اُس کی بات سمجھ نہیں آئی۔
یمان کو کالج سے سسپیبڈ کروا دیا تم نے اُس نے اگر تمہیں پرپوز کرنے کی کوشش کی تو تم نے تھپڑ مارا تو بات ختم ہوئی نہ پھر یہ سب کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ ہما اُس سے خفا ہوئی جب کی آروش کو حد سے زیادہ حیرانی ہوئی
میں نے ایسا کجھ نہیں کیا تم سے کس نے کہا؟ آروش نے پوچھا
پلیز آروش اب معصوم مت بنو چھٹی کے وقت تمہارے بھائی لوگ گئے تھے پرنسپل کے پاس وہی سب باتیں طے ہوئی۔ہما نے کہا
میرا یقین کرو مجھے اِس بارے میں زرہ علم نہیں۔ آروش نے وضاحت دینی چاہی
تو تمہارے بھائیوں کو کس نے بتایا تم نے بتایا ہوگا تبھی تو یہ انہوں نے یہ سب کیا۔ہما کی بات پہ آروش کو گھبراہٹ ہونے لگی وہ جلدی سے اُٹھ کر الماری سے اپنا فون نکالا
السلام علیکم لالہ مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔ آروش نے دیدار شاہ کو کال کیے کہا
کل لینے آرہے ہیں تمہیں ہاسٹل سے پھر بات ہوگی۔ دوسری طرف دیدار شاہ کا اتنا سنجیدگی سے بھرا انداز دیکھ کر آروش کو کسی انہونی کا احساس شدت سے ہوا۔







فجر کی شادی کی تاریخ آگے کرلوں ارسم کی فیملی کو کال کرکے کہو اور عیشا کے لیے بھی کوئی مناسب سا رشتہ دیکھ کر رخصت کردو۔رات کا وقت تھا جب مستقیم صاحب نے سنجیدہ لہجے میں فائزہ بیگم سے کہا
تاریخ طے تو ہوچکی ہے نہ پھر یوں پیچھے کرنا اچھا نہیں لگتا جانے وہ کیا سمجھے بیٹی کا معاملہ ہے محتاط تو ہر قدم پہ ہونا پڑتا ہے۔فائزہ بیگم نے کجھ ہچکچاہٹ سے کہا
بلکل بیٹی کا معاملہ ہے محتاط ہونا پڑتا ہے جبھی بول رہا ہوں اُن سے بات کہو اور ساتھ میں یہ بھی کہنا ہم کراچی چھوڑ کر پنڈی روانہ ہوگے ہمیشہ کے لیے۔مستقیم صاحب کی بات سن کر اُن کو حیرانی ہوئی۔
یہ آپ کیسی بات کررہے ہیں ہم کیوں بھلا اپنا گھر چھوڑ کر کہی اور جائے یہاں آپ کی دکان ہے پھر بھی آپ ایسا کہہ رہے۔فائزہ بیگم سمجھانے کے غرض سے کہا
جو تم سمجھو پر جب سے وہ دکان پہ آکر دھمکی دے کر گئے ہیں میرا دل گھبراہٹ کا شکار ہے تب سے مستقیم صاحب نے گہری سانس بھر کر کہا
شاہ اعلیٰ ذات کے ہیں وہ کسی کی بیٹی کی عزت خراب کرنے کا وہ سوچ بھی نہیں سکتے۔فائزہ بیگم جیسے اب ساری بات سمجھ گئ۔
جانتا ہوں سمجھتا ہوں پر مجھے اُن دونوں کی طرف سے فکر نہیں ہے یمان کی طرف سے ہے نادانی میں وہ جو غلطی کرچُکا ہے اُس کا خامیازہ بہت بھیانک ہوگا اِس لیے پہلے میں اُس کو یہاں سے دور بھیجوں گا۔مستقیم صاحب نے کہا
وہ کبھی نہیں جائے گا۔فائزہ بیگم نے افسوس سے کہا
اُس کو جانا پڑے گا۔مستقیم صاحب کا انداز حتمی تھا۔






لالہ آپ لوگوں کو غلطفہمی ہوئی ہے آپ پلیز کالج والوں سے بات کرکے اُس لڑکے کو دوبارہ کالج آنے کا کہے۔دیدار شاہ اور دلدار شاہ آروش کو لیکر الگ فلیٹ میں آئے تھے جبھی آروش نے ہمت کرکے کہا
نامحرم کے بارے میں بات کرنے کی تمہیں کوئی ضرورت نہیں کیونکہ ہم سب سمجھ گئے ہیں کتنا یقین تھا چاچا جان کو تم پہ اور کتنے مان سے تمہیں یہاں بھیجا گیا تھا یہ صلہ دیا تم نے اُس بات کا۔دیدار شاہ کاٹ دار لہجے میں اُس سے بولا
لالہ آپ بہتان لگا رہے ہیں۔آروش اُس کی بات سن کر تڑپ اُٹھی۔
یہ موقع خود تم نے ہمیں فراہم کیا ہے۔دیدار شاہ نے کہا
ایسا کجھ نہیں جیسا آپ سب کو لگ رہا ہے میں ؐخود بابا سائیں سے یہ بات کروں گی وہ ضرور میری بات سمجھے گے۔آروش فیصلہ کن انداز میں بولی۔
وہ کمینہ میرے ہاتھ آجائے اپنی پستول کی ساری گولیاں اُس پہ ختم کروں گا پہلے اُس کے دماغ پہ گولی برساؤں گا جس سے اُس نے ہمارے خاندان کی عزت کو سوچا اُس کے بعد منہ میں گولیاں برساؤں گا جس سے بڑا عشق معشوقی کا اظہار کررہا تھا پھر سینے میں جہاں اُس نے ایک سیدزادی کے لیے جذبات رکھے۔دلدار شاہ کی بات پہ آروش پھٹی پھٹی آنکھوں سے اُس کو دیکھنے لگی۔
لالہ خدا کے واسطے ایسا کجھ مت کیجیے گا میں بتارہی ہو آپ کو محض ایک غلطفہمی ہوئی اُس لڑکے کا قصور نہیں۔آروش نے جلدی سے کہا
تمہیں صفائیاں دینے کی ضرورت نہیں اب جو ہوگا تمہارے سامنے ہوگا تاکہ آئیندہ ایسی غلطی کرنے سے پہلے ہزار بار سوچو۔دلدار شاہ حقارت سے بولا
مجھے بابا سائیں سے بات کرنی ہے۔آروش کو بس ایک راہ نظر آئی۔
شوق سے کرلینا پر ہمارا یہاں جو ایک کام اٹکا ہوا ہے وہ ہوجائے اُس کے بعد۔اس بار دیدار نے کہا۔
آپ لوگ کیا کرنے والوں ہو۔آروش کا دل کسی انہونی کے احساس سے دھڑک اُٹھا۔
پتا چل جائے گا تم نے تو بس ایک تھپڑ مارا تھا اب دیکھنا ہم کیا کرتے ہیں۔دلدار شاہ کے لہجے میں تکبر بول رہا تھا جب کی آروش نے اُس وقت کو ہزار مرتبہ کوسا جب اُس نے یمان پہ ہاتھ اُٹھایا تھا اُس کی ایک غلطی کی وجہ سے کسی کی جان خطرے میں آچُکی تھی۔







یہ آپ کیا کررہی ہیں؟یمان نے فائزہ بیگم کو اُس کے کپڑوں کی پیکنگ کرتے دیکھا تو تعجب سے پوچھا
تم پنڈی جارہے ہو کل صبح فجر کے وقت۔فائزہ بیگم نے مصروف انداز میں بتایا اُن کا جواب یمان کے لیے غیرمتوقع تھا۔
کیوں؟یمان نے سنجیدگی سے پوچھا
اب بھی کیوں کی گنجائش نکلتی ہے؟فائزہ بیگم نے اُلٹا اُس سے سوال پوچھا
کیا آپ لوگوں کو ڈر ہے اگر ہے تو غلط بات ہے۔یمان اُن کا ہاتھ تھام کر بولا
دیکھو یمان باتوں میں وقت ضائع مت کرو تمہارا بابا چاہتے ہیں تم یہاں سے جاؤ تو مطلب جاؤ۔فائزہ بیگم نے کہا
میں کیوں جاؤں آپ سب کو یہاں چھوڑ کر زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اللہ کو یہ بات بلکل پسند نہیں کے اُس کا بندہ اُس کے بجائے اُس کے بندوں سے ڈرے۔یمان نے اختلاف کیا۔
ضد مت کرنا اپنے باپ کے سامنے جو کہا بس اُس پہ عمل کرنا اب سوجاؤ صبح وقت پہ جاگنا بھی ہے۔فائزہ بیگم نے اُس کی باتوں پہ زیادہ توجہ نہ تھی۔
میں کہی نہیں جاؤں گا اِن حالات میں کسی کے خوف سے تو بلکل بھی نہیں۔یمان کا انداز ہر تاثر سے بے نیاز تھا۔
صبح خود تمہارے بابا بات کرینگے ابھی سوجاؤ۔فائزہ بیگم اتنا کہتی اُس کے کمرے سے چلی گئ۔









صبح جلدی اُٹھ جانا ہمیں کسی ضروری کام سے جانا ہے۔آروش پریشانی سے اپنے کمرے میں یہاں سے وہاں ٹہل رہی تھی جب دلدار شاہ اُس کے کمرے کے دروازے کے پاس کھڑا ہوتا ہوا بولا
کیا ہم گاؤں جائے گے؟آروش نے پوچھا
ایک بہت ضروری کام ہے اُس کے بعد۔دلدار شاہ نے بتایا
ٹھیک ہے۔آروش اُس کا اِرادہ جانے بنا ہاں میں سرہلانے لگی وہ الگ بات تھی اُس کا دل بہت وقت سے عجیب انداز میں دھڑک رہا تھا۔








یہ تم اُس لڑکی کے ساتھ کیا کررہے تھے؟آروش نے سخت لہجے میں یمان کو دیکھا جو کان کی لو کُھجاتا اُس کی جانب ہی دیکھ رہا تھا۔
نوٹس مانگ رہی تھی تو بس وہ دے رہا تھا۔یمان نے وضاحت دی۔
اچھا جی مجھ سے چلاکی میں نے دیکھا کیسے تم اُس کے ساتھ ہنس ہنس کر باتیں کررہے تھے۔آروش کا غصہ کم ہونے کو نہیں آرہا تھا۔
کیا آپ جیلس ہورہی ہیں؟یمان نے دلچسپی سے پوچھا
جیلس میں کیوں ہونے لگی۔آروش نے اپنا بھرم قائم کرنا چاہا
ٹھیک ہے پھر میں جاؤں اُس کے ساتھ باتیں کرنے؟یمان نے شرارت سے اُس کو دیکھ کر کہا تو آروش تپ اُٹھی۔
خبردار جو اُس سے بات کی بھی تو میں بتارہی ہوں میں نے اگر دوبارہ تمہیں کسی لڑکی سے بات کرتا دیکھا تو گلا دبادوں گی۔آروش نے وارن کرنے والے انداز میں کہا تو یمان نے ڈرنے کی اداکاری کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یمان
یمان
مسکرا کیوں رہے ہو؟
اُٹھ جاؤ بیٹا۔
فائزہ بیگم یمان کا کندھا ہلاتی کب سے جگانے کی کوشش میں تھی۔
آپ یہاں؟یمان پٹ سے آنکھیں کھولتا آس پاس دیکھنے لگا جہاں وہ اب اپنے کمرے میں تھا کالج میں نہیں اُس کے چہرے پہ افسردگی چھاگئ یہ خیال ہی اُس کے لیے سوہانِ روح تھا کے وہ اب کبھی اُس سے مل نہیں پائے گا۔
کیا وہ خواب تھا۔یمان بڑبڑایا
یمان کیا ہوگیا ہے تمہیں تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے؟فائزہ بیگم کو فکر لاحق ہوئی۔
جی میں ٹھیک ہوں بس کچی نیند اور ادھورے خواب سے جاگا ہوں۔یمان عجیب انداز میں بولا
اچھا اُٹھ کر فریش ہوجاؤ پھر میں ناشتہ دیتی ہوں تمہیں۔فائزہ بیگم اُس کے بال سنوار کر بولی
ناشتہ اتنی جلدی؟یمان وال کلاک میں وقت دیکھ کر بولا جہاں صبح کے پانچ بج رہے تھے۔
کل رات بتایا جو تمہیں پنڈی جانا ہے۔فائزہ بیگم نے یاد دھانی کروائی۔
میں نے بھی آپ کو جواب دیا تھا مجھے کہی نہیں جانا۔یمان بدمزہ ہوا۔
اگر میری بات کی تمہاری نظر میں کوئی اہمیت نہیں رکھتی تو یہاں سے نکل جاؤ۔دروازے کے پاس کھڑے مستقیم صاحب نے اُس کی بات سن کر سخت لہجے میں کہا
یہ کیا بول رہے ہیں آپ؟فائزہ بیگم تڑپ اُٹھی۔
ٹھیک بول رہا ہوں میں اور تم میری بات کان کھول کر سن لو اگر پنڈی نہیں جاؤ گے تو اِس گھر میں بھی نہیں رہو گے۔مستقیم صاحب کا انداز اٹل تھا۔
ٹھیک ہے میں چلاجاتا ہوں۔یمان فورن سے اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا۔
یمان کیا پاگل ہوگئے ہو کھڑے رہو یہی۔فائزہ بیگم نے سختی سے کہا۔
نہیں اگر اِن کو مجھ سے زیادہ غیروں کی پرواہ ہے تو ٹھیک ہے میں نہیں رہوں گا۔یمان نے مستقیم صاحب کو دیکھ کر کہا
کہاں جاؤ گے پھر؟فائزہ بیگم پریشانی سے اُن باہ بیٹے کا چہرہ دیکھنے لگی۔
کہی بھی۔یمان کا لہجہ ہر احساس سے عاری تھا









لالہ ہم اِتنی صبح یہاں کیوں آئے ہیں؟آروش گاڑی میں بیٹھی دلدار شاہ سے بولی جس نے گاڑی بیچ سڑک پہ روک رکھی تھی۔
چل جائے گا پتا صبر کرو۔دلدار شاہ نے فون میں ایک نمبر ڈائل کرکے کہا تو آروش کو تشویش ہونے لگی۔
ہاں ہیلو دیدار مل گیا ایڈریس؟دلدار شاہ کال پہ بولا
ٹھیک ہے اُس کے گھر سے پکڑ لاؤ۔دوسری طرف سے جانے کیا بتاگیا جب دلدار شاہ نے حکم صادر کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روک
روک۔
دیدار شاہ جیپ پہ سوار تھا جب اُس نے جیپ ڈرائیو کرتے اپنے ساتھی امیر سے کہا۔
کیا ہوا اُستاد؟امیر نے پوچھا
وہ لڑکا نظر آرہا ہے نہ اُس کے گرد ڈرائیو کرو جیپ اور پیچھے آتی گاڑیوں سے بھی کہو۔دیدار شیطانی لہجے میں کہا تو امیر نے ویسا ہی کیا۔جب کی دیدار دلدار شاہ کے لیے میسج پہ ایک پیغام بھیجنے لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یمان سڑک پہ چلتا رک کر ایک بینچ پہ بیٹھ گیا تھا جب اچانک گاڑی کی ہالائیٹ نے اُس نے آنکھوں پہ ہاتھ رکھنے پہ مجبور کیا۔اُس نے مندی مندی آنکھوں کو کھول کر دیکھا جہاں دو سے تین گاڑیاں اور ایک جیپ تھی یمان کے دماغ میں کجھ کلک ہوا اِس لیے اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا۔
دیدار اپنے ساتھیوں کو اِشارہ دیتا اُس کی طرف بڑھنے لگا۔یمان تعجب سے اُن کو اور اُن کے ہاتھوں میں موجود اسلحہ کو دیکھنے لگا۔
مجھ اکیلے کو مارنے کے لیے اتنے سارے لوگ؟یمان کو اپنی خودساختہ سوچ پہ جانے کیوں ہنسی آئی پر اُس نے ظاہر نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم یہی رہنا میں آتا ہوں۔دلدار شاہ نے آروش کو دیکھ کر کہا جو آیة الکرسی پڑھنے میں مصروف تھی۔
آپ مجھے اکیلا چھوڑ کر کیسے جاسکتے ہیں؟آروش کو جانے کیوں آس پاس کے ماحول سے وحشت ہونے لگی۔
اکیلا کہاں یہی پاس میں ہوں بس ایک دو منٹ میں آجاؤں گا تم ڈرو نہیں۔دلدار شاہ اتنا کہہ کر سیٹ بیلٹ کھول کر گاڑی سے اُتر گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا ہمیں دیکھ کر ساری ہوا نکل گئ اُس دن تو بڑی گرمی چڑھی تھی۔دیدار شاہ طنزیہ نظروں سے اُس کی جانب دیکھ کر بولا تو یمان بے تاثر نظروں سے اُس کو اور باقی سب آدمیوں کو دیکھنے لگے جیسے اُن کے آنے کا مقصد جان گیا ہو۔
مارنے آئے ہو تو ماردو۔یمان نے ہلکہ سا مسکراکر کہا دیدار شاہ نے چبھتی نظروں سے اُس کے گال پہ پڑتے گڑھے دیکھے تھے
یہ نیک کام تو ہم بنا تاخیر کے کرینگے بہت کم عمر لکھوا کر آئے ہو۔جانی پہچانی آواز پہ یمان پلٹا تو دیکھا دیکھا دلدار شاہ اُس پہ گن تانے کھڑا تھا۔
مجھے کوئی غم نہیں۔یمان بے خوفی سے بولا
دیدار تم سائیڈ پہ جاؤ آج کا منظر آروش کو اچھے سے دیکھانا۔دلدار شاہ کی بات پہ دیدار سرہلاتا چلاگیا جب کی یمان آروش کے نام پہ سائیڈ پہ دیکھنا چاہا تبھی دلدار نے بے دردی سے اُس کے ماتھے پہ پستول کی نال ماری
آآآآہ۔یہ سب اتنا اچانک ہوا کے اُس کے منہ سے بے ساختہ چیخ نکلی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آروش باہر آؤ۔دیدار شاہ نے گاڑی کے شیشے کو ناک کیا تو آروش جو خود میں ڈری سہمی بیٹھی تھی دیدار شاہ کی آواز سن کر اُس کا دل اُچھل پڑا۔
لالہ آپ بھی یہاں ہم یہاں کیوں رکے ہیں؟آروش اپنے ڈر پہ قابو پاکر بولی
باہر آؤ۔دیدار شاہ نے جواب دینا ضروری نہیں سمجھا۔آروش ایک نظر ارد گرد ڈوراتی اپنا عبایا سنبھالتی گاڑی سے باہر نکلی۔
جی۔آروش دیدار شاہ کے روبرو کھڑی ہوتی سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی۔
وہ دیکھو تمہاری غلطی کی سزا۔دیدار شاہ نے ایک جگہ پہ اِشارہ کیا تو آروش ناسمجھی سے اُس سمت دیکھنے لگی دور ہونے کی وجہ سے پہلے تو اُس کو کجھ سمجھ نہیں آیا پر جیسے ہی اُس کی نظر یمان پہ پڑی تو حیرت نے آگھیرا تبھی دلدار شاہ نے اپنی پستول کی نال سے اُس پہ حملہ کیا تھا جس کو دیکھ کر اُس کا سانس خشک ہوگیا۔
لالہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آروش کے منہ سے بے ساختہ آواز نکلی جس پہ دیدار شاہ نے زور سے اُس کے منہ پہ ہاتھ رکھ کر اُس کی آواز کا گلا گھونٹا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مارو سالے کو۔دلدار شاہ نفرت سے اپنے ساتھیوں سے بولا تو وہ ہاتھوں میں ڈنڈے پکڑ کر یمان پہ ٹوٹ پڑے جب کی دلدار شاہ شیطانی نظروں سے اُس کو دیکھ کر ایک آدمی سے ڈنڈا لیکر زور سے یمان کے سر پہ مارا تو یمان کو سب کجھ گھومتا محسوس ہوا کان سائیں سائیں کرنے لگے اُس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑا
دور کھڑی آروش نے یہ منظر دیکھا تو اُس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے اُس نے خود کو دیدار شاہ کی گرفت سے نکالنا چاہا پر ناممکن سا تھا۔
چلو ذرہ سامنے نظارہ کرو۔دیدار شاہ سفاکیت سے کہتا اُس کو گھسیٹ کر لے جانے لگا۔آروش کسی ڈور کی طرح اُس کی طرف کھینچی جارہی تھی اُس کو اپنی آنکھوں پہ یقین نہیں آرہا تھا جو وہ دیکھ رہی ہے وہ سچ ہے بھی کے نہیں۔
لالہ ایسا کجھ نہیں جیسا آپ سب سوچ رہے ہیں وہ بے قصور ہے معصوم ہے پلیز اُس کو مت مارے۔آروش ہوش میں آتی دیدار شاہ سے منت کرنے لگی۔
خاموش رہو تم تمہارا فیصلہ بھی آج ہوگا۔دیدار شاہ نے نفرت سے اُس کے نقاب میں چُھپے چہرے کو دیکھا۔
بس۔دلدار شاہ نے اپنے ساتھیوں کو اِشارے پہ روک دیا تو وہ یمان سے دور ہوئے جو اب نڈھال حالت میں زمین پہ گِرا پڑا تھا۔آروش نے جب دیکھا تو اُس کو سب اپنا قصور لگا۔
پستول دو۔دلدار شاہ نے ایک آدمی سے کہا جو آروش نے باخوبی سن لیا۔
نہیں۔آروش کا سر نفی میں ہلنے لگا۔
دلدار شاہ سفاک بھری نظروں سے زخمی یمان کو دیکھتا پستول کا ٹریگر دبانے لگا یمان خالی اور دھندلی نظروں سے اُس کو دیکھنے لگا اُس کے حواس کام کرنا بند کرگئے تھے جب کی آروش اپنی سانس تک روکے کھڑی تھی۔
ٹھاہ
ٹھاہ
دلدار شاہ نے اندھا دھند اُس پہ فائرنگ کرنا شروع کردی ابھی وہ تیسری بھی کرتا جب اُس کے ساتھی نے روک لیا۔
استاد جانے دے بچ تو ویسے بھی نہیں پائے گا۔اپنے ساتھی کی بات پہ اُس کے چہرے پہ شیطانی مسکراہٹ آئی اُس کے طنزیہ نظروں سے یمان کو دیکھا جو زمین پہ لیٹا تڑپ رہا تھا
تین مکمل کرتا ہوں۔دلدار شاہ اتنا بول کر فائر کرنے والا تھا جب اُس کے کانوں پہ دیدار شاہ کی آواز پہ پڑی۔
لالہ یہاں آئے آروش بے ہوش ہوگئ ہے۔دیدار شاہ کی آواز پہ دلدار شاہ نے اپنے ساتھیوں کو دوسری طرف جانے کا اِشارہ کیے اور خود دیدار شاہ کی طرف بڑھا۔
یمان نے سوائے(آروش)نام کے اور کجھ نہیں سُنا تھا
آسمان کی جانب دیکھتا وہ تڑپ رہا تھا جب اُس کو لگا اُس کا سانس رک رہا ہے تو کلما پڑھنے لگا
لَا إِلٰهَ
بند ہوتی آنکھوں کے سامنے سب سے پہلے ماں کا عکس لہرایا
إِلَّا اللّٰهُ
فجر کا چہرہ سامنے آیا تو اُس نے بامشکل کلمے کے الفاظ ادا کیے
مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ
خون کا ایک فوارہ اُس کے منہ سے نکلہ یمان کی آنکھوں میں سب سے آخر میں جس کا عکس آیا وہ آروش کی آنکھیں تھی اُس کے بعد یمان کو کسی چیز کا ہوش نہ رہا اُس کا وجود ڈھیلا پڑگیا تھا۔
بنا تیرے نا اِک پل ہو
نہ بن تیرے کوئی کل ہو۔
