Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 71)Part 1

Haal e Dil by Rimsha Hussain

شازی بس کر جا میں نے سچ میں تمہیں کچڑے کے ڈبے میں پھینک آنا ہے۔ آدھی رات کے وقت شازل نیند سے بے حال ہوتا کمرے میں یہاں سے وہاں شازم کو گود میں اُٹھائے ٹہلاتا تپ کر اُس سے بولا ۔

آرام سے بات کرے اور آپ کی روح نہ کانپی میرے بچے کے بارے میں ایسی بات کرنے کی کونسا باپ اپنے بیٹے کو پھینک آنے کا کہتا ہے۔ بیڈ کراؤں سے ٹیک لگائے جمائی لیتی ماہی نے منہ بسور کر کہا

تم اگر ہر وقت کا رونا نہ روتی تو اِس وقت یہ تمہارا ایجاد کیا گیا نمونہ روندو نہ ہوتا۔شازل تپ کے بولا

شازی کو نمونہ نہ کہے اور ہر بچہ روتا ہے اِس میں کوئی نئ بات نہیں۔ماہی نے کہا

نمونے کو نمونہ ہی کہا جاتا ہے۔شازل نے جتایا

اچھا مجھے نیند آرہی ہے میں سونے لگی ہو یہ فیڈر پڑا ہے شازم کو پلا دیجئے گا۔ماہی کی آنکھیں بار بار نیند سے بند ہونے لگی تو اُس نے کہا

ہممم تم سوجاؤ میں شازی کو لان میں لے جارہا ہو یہ چپ بھی ہوجائے گا تمہاری نیند بھی ڈسٹرب نہیں ہوگی۔شازل اُس کی نیند کا خیال کرتا بولا تو ماہی چادر تان کر سوگئ۔

شازل لان میں آیا تو دُرید کو حورم کے ساتھ پہلے موجود پایا تو اُس کی ہنسی نکل گئ۔

تم یہاں؟دُرید جو حورم کو سُلانے کی کوششوں میں تھا شازل کو دیکھا تو حیران ہوا۔

جی تاکہ اِس کا پھٹا ہوا اسپیکر بند ہو۔شازل اتنا کہتا لان میں موجود ایک بینچ پہ بیٹھ گیا۔

آج حورم کو بھی کمرے میں نیند نہیں آرہی تھی دُرید نے بتایا

حریم کہاں ہے پھر؟شازل نے پوچھا

وہ گہری نیند میں ہے اُس کو تو پتا بھی نہیں ہم یہاں ہے دن میں حورم اُس کو بہت تنگ کرتی ہے اِس لیے تھکن کی وجہ سے جلدی سوگئ تھی۔دُرید نے بتایا

ایک تو یہ پرنسز بہت نخریلی ہے دل کرتا ہے تو آجاتی ہے ورنہ منہ نہیں لگاتی۔شازل ہنس کر بولا۔

ماں پہ گئ ہے۔دُرید بھی ہنس دیا

اچھا لالہ ولیمہ کب ہوگا ہمارا؟شازل کو بیٹھے بیٹھائے اچانک اپنا ولیمہ یاد آیا

جلدی ہوجائے گا تمہیں کیوں اِتنی بے قراری ہے؟۔دُرید بدمزہ ہوتا بولا۔

ایسے ہی پوچھا ویسے یہاں آتے ہی شازی چپ ہوگیا ہے۔شازل شازم کو دیکھ کر بولا

کہو تو میں چٹکی کاٹوں اِس کے بازوں پہ پھر جو رونا اِس نے شروع کرنا ہے تو گارنٹی سے کہہ سکتا ہوں آسانی سے چپ نہیں ہوگا۔دُرید اپنی مسکراہٹ ضبط کرتا بولا تو شازل تو جیسے تڑپ اُٹھا تھا خود وہ چاہے کجھ بھی کہتا مگر کسی اور سے اُس کو ایسا مذاق بھی گوارہ نہیں تھا۔

اللہ کا خوف کرے معصوم کو چٹکی کاٹنے سے آپ کے ہاتھ نہیں کانپیں گے؟شازل شازم کو خود میں بھینچتا بولا تو دُرید کا قہقہقہ بے ساختہ تھا کیونکہ شازل کا ری ایکشن ایسا تھا جیسے وہ اُٹھ کر شازم کو سچ میں چٹکی کاٹنے لگا ہو

توبہ ہے مذاق کیا تھا جسٹ۔دُرید نے ہنسی کے درمیان کہا

یہ بڑا ہوجائے بتاؤں گا میں آپ کی حسرتیں اِس کو۔شازل نے سر کو جنبش دیتے کہا تو دُرید نے نفی میں سر کو ہلایا۔

شازم کو دیکھو سو گیا ہے کمرے میں لے جاؤ اُس کو۔دُرید نے کہا

میں تو جارہا ہوں آپ بھی جائے یا آج کی رات یہاں قیام کرنے کا اِرادہ ہے۔شازم اپنی جگہ سے اُٹھ کر بولا۔

میں بھی حورم کو لیکر کمرے میں جارہا ہوں۔دُرید نے بتایا تو شازل بھی حویلی کے اندر داخل ہوا۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

کہاں تھے آپ؟دُرید کمرے میں داخل ہوا تو حریم نے پوچھا۔

تم جاگ گئ کیا میں تو تمہاری نیند خراب نہ ہو اِس وجہ سے گیا تھا۔دُرید حریم کو مسکراکر دیکھتا حورم کو بے بی کارٹ میں لیٹانے لگا۔

حورم رو رہی تھی تو ہمیں جگا دیتے۔حریم کو شرمندگی ہوئی۔

رو نہیں رہی تھی ویسے ہی ہم باپ بیٹی واک پہ گئے تھے۔دُرید بیڈ پہ آکر بولا

ہاں اچھا۔حریم نے سمجھنے والے انداز میں سر کو جنبش دی۔

سوجاؤ۔دُرید نے کہا تو وہ کھسک کر اُس کے پاس آتی اپنا سر اُس کے سینے پہ رکھا

ہمیں شرمندگی ہوتی ہے۔حریم نے بتایا

شرمندگی کیوں؟دُرید اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتا پوچھنے لگا۔

ہم نے آپ کو بہت باتیں سُنائی تھیں یہ جانتے ہوئے بھی کے آپ نے بچپن سے ہمارے لیے بہت کجھ کیا ہماری ہر ضروریات کو پورا کیا بنا کہے بنا مانگے وہ سب کجھ ہمیں دیا جس کو شاید ہم ڈیزرو بھی نہیں کرتے تھے مگر جب ہم نے ایک چیز آپ سے مانگی اور آپ نے نہ دی تھی تو ہم نے آپ کے کیے گئے احسانات بھی بھول گئے۔حریم آہستگی سے بولی۔

میں نے تم پہ کوئی احسان نہیں کیا زوجہ محترمہ میں نے جو کجھ کیا تھا وہ میری محبت تھی مجھے تم بچپن سے عزیز رہی ہو۔دُرید نے کہنے کے ساتھ ہی اُس کے ماتھے پہ بوسہ دیا۔

اچھا تو ہم اگر آپ کو اتنے عزیز تھے تو آپ نے وولٹ میں ہماری تصویریں رکھنے کے بجائے کسی چڑیل کی تصویر کیوں رکھی ہے۔حریم ٹیرھی نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولی تو دُرید کو زبردستی قسم کا کھانسی کا دورہ پڑا تھا۔

آپ ٹھیک ہیں؟حریم اُس کے سینے سے سر اُٹھاتی فکرمندی سے پوچھنے لگی۔

ہاں میں ٹھیک مگر زوجہ آپ یہ بتائے کے میری جاسوسی کب سے کرتی آئی ہیں اور میں نے تو اپنے وولٹ میں کسی چڑیل کو جگہ نہیں دی۔دُرید واپس اُس کو اپنے حصار میں لیکر بولا

ہونہہ آپ کجھ بھی کہے ورنہ وولٹ اور دل میں پہلے سے ہی کسی کو پُر کیا گیا ہے۔حریم دُکھی دل سے بولی۔

تو کیا میں بیس سال کا نوجوان آٹھ سال کی بچی کے ساتھ آنکھ مٹکا کرتا خیر اتنا بھی میں نظرباز نہیں تھا تمہیں تو میں نے اپنا بچہ سمجھا تھا مگر مجھے کیا پتا تھا تم میرا بچہ نہیں بلکہ میرے بچے کی اماں بنو گی۔دُرید قہقہقہ لگاکر بولا تو حریم کا چہرہ سرخ ہوا تھا۔

یوں بات نہ بدلے ہم سیریس ہیں۔حریم خود کو کمپوز کرتی اُس کے سینے پہ ہاتھ مارکر خفگی سے بولی۔

اچھا میری زوجہ محترمہ سیریس ہے تو ہم بھی سیریس ہوتے ہیں۔دُرید مسکراہٹ ضبط کرتے اپنا ہاتھ بڑھا کر سائیڈ ٹیبل سے اپنا وولٹ اُٹھاکر بلب آن کیا۔

حورم اُٹھ جائے گی۔حریم بے بی کارٹ کو دیکھتی دُرید کو گھور کر کہنے لگی۔

نہیں اُٹھتی وہ ویسے بھی بچوں کی اِن چیزوں سے فرق نہیں پڑتا بے چاوں کو نیند آجاتی ہے۔دُرید نے ناک سے مکھی اُڑائی۔

یہ وولٹ کیوں اُٹھایا ہے؟حریم نے بات کا رخ بدلا

یہ دیکھو۔دُرید نے وولٹ کھول کر اُس کے سامنے کیا جہاں ایک طرف اُس کی تصویر تھی تو دوسری طرف حورم کی۔

پہلے تو ایک چڑیل کی ہوتی تھی اب کیا فائدہ ہماری رکھنے کا۔حریم منہ بسور کر بولی۔

تمہیں یہ تو پتا ہے کے یہاں کسی چڑیل کی تصویر ہوا کرتی تھی مگر یہ نہیں پتا اُس چڑیل کے ساتھ ایک پری کی تصویر بھی ہوا کرتی تھی۔دُرید نے مسکراکر بتایا

ہم سمجھے نہیں؟حریم ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی۔

ہم آپ کو سمجھاتے ہیں۔دُرید نے کہا تو “ہم”لفظ پہ حریم نے اُس کو گھورا

یہاں کوم

کسی اور لڑکی کا نام مت لیجئے گا ہم بتارہے ہیں رونے لگ جائینگے۔دُرید ابھی “کومل”کہنے والا تھا جب حریم اُنگلی اُٹھاتی اُس کو وارن کرنے لگی۔

کیا ہوگیا ہے حریم نام ہی تو لینا تھا ایسے کیوں برتاؤ کررہی ہو ویسے بھی وہ اب اِس دُنیا میں نہیں ہے۔دُرید پریشانی سے اُس کو دیکھ کر بولا

ہمیں گنوارہ نہیں آپ کسی اور کا نام بھی لے چاہے وہ اِس دُنیا میں ہو یا نہ ہو مگر آپ کے دل میں تو ہے نہ اگر ہمارے بس میں ہوتا تو آپ کے دل سے اُس کو نوچ کر باہر کرتے۔حریم کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی اُتر آئی تھی۔

یار مجھے پتا نہیں تھا میری معصوم بیوی اتنی پوزیسیو ہوگی۔دُرید اُس کی نم ہوتی آنکھوں پہ بوسہ دے کر بولا

ہمارے ہوتے ہوئے آپ کیسے کسی اور کو چاہ سکتے ہیں؟ اگر آپ اُس سے شادی کرتے تو کبھی سوچا تھا ہمارا کیا ہوگا؟ہم تو اپنا سب کجھ آپ کو مانتے تھے حویلی میں اتنے سارے افراد ہونے کے باوجود بھی آپ کے پاس آتے تھے اگر کوئی اور لڑکی آتی تو وہ تو ہمیں آپ کی زندگی سے دودہ میں سے مکھی کی طرح باہر کرتی۔حریم شکوہ کرتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولی

حریم میری جان وہ بات کیوں سوچ رہی ہو جس کے پاس نہ سر ہے اور نہ پیر نہ کوئی تیسرا حصہ تم یہاں اِس وقت پورے حق کے ساتھ میرے پاس ہو میرے قریب ہو تو کوئی اور ڈر کیوں پالا ہوا ہے؟دُرید نرمی سے اُس کو سمجھانے کی خاطر بولا

نہ سر ہے اور نہ پیر نہ کوئی تیسرا حصہ سچی شازل لالہ جیسی بات کی ہے۔حریم تاسف سے دُرید کو دیکھ کر بولی

وہ بھی تو میرا بھائی ہے نہ خیر سوجاؤ اب۔دُرید نے مسکراکر کہا تو حریم نے سونے کے لیے آنکھیں موندلی

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آج آروش کی رخصتی کا ایونٹ تھا جس پہ مختصر لوگوں کو انوائٹ کیا گیا تھا مردوں کے بیٹھنے کی الگ جگہ تھی تو عورتوں کی الگ۔حویلی سے کلثوم بیگم فاریہ بیگم ماہی اور حریم آئی ہوئی تھی جب مرد حضرات میں ہر کوئی آیا تھا۔

زیادہ اُوور بنا دیا ہے مجھے نہیں پسند یہ سب۔آروش مرر میں اپنا عکس دیکھ کر ماہی سے بولی جس نے زبردستی اُس کے چہرے پہ ہلکہ سا میک اپ کیا تھا ڈریس میں اُس نے کسی لہنگے کے بجائے براؤن کلر کا فراق پہنا تھا جو کے یمان کی پسند کا تھا۔

اوور نہیں ہے ہیں نہ حریم تم بتاؤ؟ماہی نے بیڈ پہ اِسٹل بیٹھی حریم کو مخاطب کیا۔

آروش آپی۔حریم نے آروش کو آواز دی۔

ہمم۔آروش نے اُس کو دیکھا

سچی بات بتائے کیا واقع آپ کی شادی یمان مستقیم سے ہونے جارہی ہے ہمیں یقین نہیں آرہا آپ ایک سِنگر کی بیوی بننے والی ہیں۔حریم کے لہجے میں بے یقینی صاف عیاں تھی جس کو محسوس کرتی آروش مسکرادی تھی۔

اب وہ سنگر نہیں ہے سِنگِنگ کو اُس نے خیرآباد کہہ دیا ہے۔ماہی نے جواب دیا

جو بھی مگر تھے تو ایک مشہور ہستی نہ ٹیلینٹ تو اُن میں اب بھی موجود ہوگا جو مجھے لگتا ہے وراثت میں اُن کی بچوں کو ملے گا اگر بیٹے کو ملا تو اچھی بات ہے دوسرا یمان مستقیم زندہ ہوگا اگر بیٹی کو ملا تو کجھ اچھی بات نہیں کیونکہ وہ تو دُنیا میں اپنی آواز پہچانے سے رہی سوچنے والی بات ہے بچوں میں اچھی آواز کا ٹیلینٹ کس کو ملے گا؟بات کرتے کرتے حریم کی سوچے جانے کہاں تک پہنچ گئ تھی جب کے “بچوں”کے لفظ پہ آروش خفت کا شکار ہوئی تھی۔

حریم فضول گوئی مت کرو۔آروش نے اُس کو ڈپٹا جبکہ ماہی نے مسکراہٹ ضبط کی۔

آپی آپ کے دل میں تو لڈوؤں کی فیکٹری پھوٹی ہوگی سچی ایسا ہمسفر جو ملا ہے۔حریم اپنی ہی دُھن میں مگن تھی۔

حریم؟؟؟۔آروش نے تنبیہہ کی۔

اچھا سُنیں نہ آپ کے پاس رومال تو ہوگا ہی؟حریم اُٹھ کر اُس کے پاس آئی

رومال کیوں؟آروش ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی۔

رومال اِس لیے تاکہ آپ اُن نے انٹرویو لے میرے لیے سچی بڑا ارمان تھا اُن سے انٹرویو لینے کا۔حریم حسرت بھرے لہجے میں بولی

تمہارا دماغی خراب ہوگیا ہے۔آروش نے ایک چپت اُس کے ماتھے پہ رسید کی تبھی کمرے میں زوبیہ بیگم کلثوم بیگم اور فجر داخل ہوئی

ماشااللہ بہت پیاری لگ رہی ہو۔کلثوم بیگم اُس کے ماتھے پہ بوسہ دے کر بولی۔

شکریہ۔آروش مسکرائی۔

آؤ تمہیں یمان کے کمرے میں چھوڑ آنے کا وقت ہوگیا ہے۔فجر نے کہا تو آروش کی نظریں ماہی پہ پڑی جو معنی خیز مسکراہٹ سے اُس کو دیکھ رہی تھی پھر آروش کی نظر حریم پہ پڑی جو مسکراہٹ ضبط کرتی یہاں وہاں دیکھ کر بے نیازی کا مظاہرہ کررہی تھی اُن دونوں کو دیکھ کر آروش کو خوامخواہ شرم محسوس ہونے لگی۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

مجھے تم سے بات کرنا تھی۔آروش کو کمرے میں بیٹھانے کے بعد فجر نے اُس سے کہا

کونسی بات؟آروش نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولی

میں نے تمہیں بہت باتیں سُنائی تھی جب تم ہمارے گھر آئی تھی تو۔فجر نے کہا تو آروش خاموشی سے بس اُس کو دیکھنے لگی۔

میں کوئی لمبی چوڑی تھمید نہیں باندھوں گی میں بس یہ کہوں گی کے مجھے معاف کردینا۔فجر نے گہری سانس بھر کر کہا

میرے اندر آپ کے لیے کوئی کینہ نہیں ہے۔آروش نے جوابً کہا

تم اچھی ہوگی یا اچھی ہو تم میں کوئی تو بات ہوگی جو یمان تمہارے لیے اتنا پریشان ہوتا ہے تمہیں اتنا چاہتا ہے میں تو کبھی یمان کو سمجھ نہیں پائی اِس معاملے میں اُس نے آخر تم میں کیا دیکھا۔فجر مسکراکر اُلجھے ہوئے لہجے میں بولی

یہ بات تو سمجھ میں بھی نہیں پائی۔آروش ہنس کر بولی۔

اچھا میں چلتی ہوں اب۔فجر نے کہا تو آروش نے سرہلانے پہ اکتفا کیا۔

فجر کے جانے کے کجھ ہی وقت بعد یمان کمرے میں داخل ہوا تھا یمان کی نظر آروش پہ پڑی تو اُس کا دل زور سے دھڑکا تھا وہ کشمکش میں مبتلا ہوتا بیڈ پہ اُس کے پاس بیٹھا۔

“یمان کے بیٹھتے ہی آروش نے نظر اُٹھا کر یمان کو دیکھا جو اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہا تھا۔

یہ اتنا چپ کیوں ہوگیا ہے؟آروش نے اُس کو دیکھ کر بے ساختہ سوچا

السلام علیکم۔ یمان نے اتنی خاموشی کے بعد سلام کیا تو آروش کی جان اُچھل کر حلق میں آئی۔

اوو سوری کیا ہوا؟یمان شرمندہ ہوا

وعلیکم السلام جان نکال دی تھی میری۔آروش اپنے سینے پہ ہاتھ رکھ کر اُس کو گھور کر بولی۔

وہ آپ بہت خوبصورت لگ رہی ہیں تو مجھے سمجھ نہیں آرہا کے میں کیا کروں؟یمان معصوم شکل بنائے بولا تو آروش سمجھ نہیں پائی وہ شرمائے یا اُس کو گھورے۔

میری منہ دیکھائی؟آروش اپنی خجلت مٹانے کے غرض سے اپنے ہاتھ کی ہتھیلی اُس کے سامنے کیے کہا تو یمان نے مسکراکر اپنا ہاتھ اُس پہ رکھا

ٹرخا رہے ہو؟آروش نے آنکھیں چھوٹی کیے اُس کو دیکھا

میری یہ مجال ویسے تو میں پورا آپ کا ہوں پھر منہ دیکھائی کیوں چاہیے آپ کو؟یمان شرارت سے اُس کو دیکھ کر بولا

یمان میری منہ دیکھائی میں سچ بتارہی ہوں بات نہیں کروں گی۔آروش نے اُس کے ہاتھ خالی دیکھے تو وارن کیا۔

وہ تو مل جائے گی آپ پہلے آپ کی شان میں ایک شعر عرض کرنا چاہتا ہوں۔یمان اُس کے ہاتھ کی پشت چوم کر اپنے آنکھوں پہ لگائے بولا تو آروش کا چہرہ پل بھر میں گُلنار ہوا تھا اُس کو یمان سے پہلی بار جھجھک محسوس ہوئی تھی۔

اِجازت ہے؟یمان مسکراتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا تو آروش نے محض سراثبات میں ہلایا اُس میں اتنی ہمت نہیں تھی کے وہ یمان کی والہانہ نظروں کا سامنا کرتی۔

من تو شدم تو من شدی من تن شدم توں جاں شدی

تاکس نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری۔

یمان اُس کے گال پہ ہاتھ رکھ کر بولا تو آروش ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی کیونکہ اُس کو مطلب سمجھ نہیں آیا۔

میں سمجھی نہیں۔آروش کے منہ سے پِھسلا تو یمان ہنس پڑا

I have become you,and you me,

I’m the body,and you soul ,

So that no one can say hereafter,

That you are someone,and me someone else,

“آپ میری ہیں”اور مجھ میں آپ ہیں میں جسم ہوں”آپ روح ہیں” تو اِس لیے کوئی ہمیں الگ ہے نہیں کہہ سکتا کیونکہ میں اور آپ ایک ہی ہیں۔

یمان اپنی بات کے احتتام میں اپنا ماتھا اُس کے ماتھے سے ٹِکاکر گہری سانس اپنے اندر کھینچی۔

تم بہت اچھے ہو۔آروش بس یہی بول پائی

میری شان میں کجھ اور بھی بول لیا کرے۔یمان فرمائشی انداز میں بولا

اور کیا کہوں؟آروش نے پوچھا

ایک لفظ محبت کا۔یمان آنکھ ونک کیے بولا

مطلب اظہارِ محبت سُننا چاہتے ہو؟آروش نے اندازً کہا

بلکل۔یمان نے فورن سے سر کو جنبش دی

میری منہ دیکھائی کا کیا بنے گا۔آروش کی سوئی گھوم پِھر کر اپنی منہ دیکھائی پہ آئی۔

میں آپ کو کجھ دیکھانا چاہتا ہوں۔یمان مسکراہٹ ضبط کرتا بولا

مجھے کجھ نہیں دیکھنا۔آروش نے گردن موڑ کر ناراضگی کا اظہار کیا۔

آپ ناراض تو نہ یہاں دیکھے۔یمان مسکراتا اُس کا چہرہ اپنی طرف کیا تو آروش کی نظر اُس کے گال پہ پڑی جہاں اُس کا ڈمپل چمک کر معدوم ہوچکا تھا۔

مجھے تمہارے ڈمپل زہر لگتے ہیں۔آروش نے کہا

اچھا۔یمان بہت دیر تک ہنسا

ہنسو مت۔آروش نے منہ بسورا

آپ بہت کیوٹ ہیں اور مجھے یہ بات آج پتا چلی ہے۔یمان اُس کے گال کھینچ کر بولا

مجھے چینج کرنا ہے۔آروش اتنا کہتی بیڈ سے اُٹھ کھڑی ہوئی تو یمان نے اُس کو اپنی طرف کھینچا۔

یہ کیا بدتمیزی ہے۔آروش اُس کے کندھوں پہ ہاتھ رکھتی گھورنے لگی۔

بدتمیزی کہا آپ پہلی بار میرے لیے تیار ہوئی ہے تو مجھے تعریف کرنے کا موقع تو دے۔یمان نے کہا

جس طرح میری منہ دیکھائی ہضم کرلی ہے تعریف بھی اپنی کسی ہوتی سوتی کی کرنا۔آروش نے کہا تو یمان نے اُس پہ اپنا گھیرا تنگ کیا۔

میں نے کبھی سوچا نہیں تھا ہمارے درمیان ایسا وقت بھی آئے گا۔یمان کھوئے ہوئے لہجے میں بولا

کتنے چالاک ہو نہ تم منہ دیکھائی کی بات کیسے نظرانداز کر رہے ہو۔آروش نے کہا

ایسا نہیں ہے۔یمان نے جھک کر عقیدت سے اُس کا ماتھا چوما

پھر کیا بات ہے؟آروش نے پوچھا

ایک منٹ۔یمان اُس سے کہتا سائیڈ ٹیبل کے ڈرار کھول کر وہاں سے کجھ کاغذات اور ایک چیز نکال کر اُس کو دی تھی آروش ناسمجھی سے اُن کو دیکھنے لگی اچانک اُس کی آنکھوں میں بے یقینی اُتر آئی تھی یمان دلچسپی سے اُس کے تاثرات نوٹ کررہا تھا۔

یمان ی۔۔یہ؟آروش کے منہ سے الفاظ نکلنا مشکل ہوئے۔

کیسا لگا؟میرا پہلا تحفہ۔۔۔یمان اُس کے کاندھے پہ اپنی ٹھوڑی ٹِکائے پوچھنے لگا تو آروش کی آنکھوں خوشی سے آنسو آئے تھے وہ ایک جھٹکے سے پلٹ کر یمان کے سینے سے لگی تھی۔

یمان سچ میں ہم عمرہ کرنے جائینگے؟آروش پرجوش لہجے میں اُس سے پوچھنے لگی۔

جی بلکل کیا آپ کو یقین نہیں آرہا؟یمان اُس کو خوش دیکھ کر مسکراکر بولا

مجھے سچ میں یقین نہیں آرہا بہت بہت شکریہ تمہارا۔آروش نے کہا

میں بہت وقت سے سوچ رہا تھا آپ کو منہ دیکھائی میں کیا دوں کیونکہ میں جانتا تھا آپ کو گولڈ کی چیزیں اٹریکٹ نہیں کرتی پھر سوچا کیونکہ عمرے پہ جایا جائے۔یمان نے کہا

تم واقع بہت اچھے ہو۔آروش نے ایک بار پھر کہا

ایک اور چیز دیکھانی ہیں۔یمان اُس سے الگ ہوتا وارڈروب سے ایک چیز نکالی۔

یہ کس چیز کا اسکیج ہے؟آروش نے متجسس لہجے میں پوچھا

دیکھ لیں۔یمان نے اُس کی طرف بڑھایا۔

میری آنکھوں کا اسکیج؟آروش حیران ہوئی۔

جی کیونکہ میرے پاس بس یہی تھی پہلے یہ دوسرے کمرے میں تھا اب سوچ رہا ہوں اپنے کمرے میں لگاؤں۔یمان نے بتایا

تم نے کب بنوایا تھا؟آروش نے پوچھا

بنوایا نہیں تھا خود بنایا تھا آج سے چار پانچ سال پہلے۔یمان نے بتایا

کیا چیز ہو تم یمان۔آروش اُس کو دیکھ کر بولی

آپ بتائے میں کیا کہوں؟یمان نے چھیڑنے والے انداز میں کہا

تمہارے ڈمپلز مجھے بہتتتتتت اچھے لگتے ہیں۔آروش نے “بہت”کو کھینچ کر ادا کیا۔

ابھی تو آپ نے کہا تھا زہر لگتے ہیں؟یمان نے جیسے یاد کروایا

میں نے کہا اور تم نے مان لیا۔آروش کے گال پہ اپنا ہاتھ رکھ کر بولی۔

ایک بات کہوں؟یمان نے پوچھا

بار بار اِجازت کیوں لے رہے؟آروش آئبرو اُچکائے پوچھا

ایسے ہی خیر میں یہ کہنا چاہ رہا تھا کے میں آپ سے بہت پیار کرتا ہوں اور آپ کو پانے کے بعد بہت خوش ہوں۔یمان اُس کے دونوں ہاتھ تھام کر کہا

شکریہ۔آروش نظریں جھکائیں بولی۔

شکریہ کس چیز کے لیے؟یمان نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھا

مجھ سے پیار کرنے کے لیے اِتنا اچھا تحفہ دینے کے لیے۔آروش نے وجہ بتائی۔

اُس کے لیے آپ کو بس تاعمر میرے ساتھ رہنا ہے کسی شکریہ کی ضرورت نہیں۔یمان نے کہا۔

اچھا یہ بتاؤ تمہیں کیا کیا پکانا آتا ہے؟آروش کے دماغ میں اچانک کجھ کلک ہوا تو پوچھا۔

آپ کیا کھانا چاہتی ہیں؟یمان نے اُلٹا اُس سے سوال پوچھا

میں بس جاننا چاہتی ہوں۔آروش نے بتایا

مجھے بس پراٹھے ہی بنانا آتے ہیں وہ بھی آپی والوں سے سیکھا تھا۔یمان نے بتایا تو آروش ہنسی۔

ویسے اچھے بناتے ہو پراٹھے۔آروش نے تعریفی انداز میں کہا

بڑی جلدی تعریف کردی آپ نے اور میرے اُن پراٹھوں کا کمال ہے جو آپ موٹی ہوگئ ہیں۔یمان ہونٹ دانتوں تلے دبائے بولا

ہاں ہاں تمہیں تو سوکھی لکڑیوں جیسی لڑکیاں پسند ہوگی جن کے ساتھ تمہارے گانے ہوتے تھے یا وہ جن کے ساتھ ماڈلنگ کرتے تھے۔آروش جذبات میں آتی اپنا بھانڈا پھوڑگئ۔

ڈونٹ ٹیل می کے آپ میرے گانے سُنتی تھی۔یمان خوشگوار حیرت سے اُس کو دیکھ کر بولا تو آروش سٹپٹائی۔

ای۔۔۔۔۔ایسا۔۔۔کج۔۔۔۔۔کجھ نہیں۔۔وہ تو میں نے تُکا لگایا۔آروش نے بات سنبھالی۔

اچھا آپ کہتی ہیں تو مان لیتا ہوں ورنہ مجھے یقین نہیں آرہا۔یمان نے کہا

اچھا میں اب چینج کرنے جارہی ہوں۔آروش نے اپنے ہاتھ اُس کے ہاتھ سے چھڑواکر بولی۔

جلدی آئیے گا مجھے بہت باتیں کرنی ہیں آپ سے۔یمان نے اپنا ماتھا اُس کے ماتھے سے زور سے ٹکرا کر بولا

ساری رات مجھے واشروم میں قیام کرنا ہے۔آروش جل کے بولی تو یمان کا قہقہقہ چھوٹ گیا۔

توں ملا توں یقین آیا

مجھ پہ بھی مہربان محبت ہے۔۔۔

شکرانے نفل ادا کرلے؟آروش واشروم سے باہر آئی تو یمان نے کہا

س۔۔۔اتھ ساتھ؟؟آروش حیران ہوئی۔

جی میری امامت۔یمان نے کہا

ض۔۔۔ضرور۔آروش کی زبان جانے کیوں لڑکھڑائی۔

میں چینج کر آؤں۔یمان اتنا کہتا جلدی سے واشروم کی جانب چلاگیا جبکہ آروش کو اب بھی اپنی قسمت پہ اعتبار نہیں آیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *