Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 28)

Haal e Dil by Rimsha Hussain

یمان اپنے گھر آیا تو اُس وقت مستقیم صاحب کا جنازہ اُٹھایا جارہا تھا جس کو دیکھ کر یمان کے قدم چلنے سے انکاری ہوئی تھے پہلے ماں اور باپ بھی۔ یمان نے زور سے اپنی آنکھوں کو میچا

کندھا دے وہ آپ کے باپ ہیں۔ یمان جو بُت بن کر ایک جگہ کھڑا ہوگیا تھا ارمان کی بات پہ وہ ہوش میں آتا آگے کی جانب بڑھا۔

یااللہ اور کتنی آزمائشیں باقی ہیں۔ یمان نے پہلی بار بے ساختہ اپنے رب سے سوال کیا اُس کا دل چاہ رہا تھا دھاڑے مار مار کر روئے مگر وہ مرد تھا اگر روتا تو لوگ اُس پہ ہنستے۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

دُر آپ آگئے۔ حریم نے آروش اور دُرید کو حویلی میں آتا دیکھا گیا تیر کی تیزی سے اُس کی طرف بڑھی۔

کتنی بار کہا ہے لالہ بولا کرو یہ دُر لا کیا ہوتا ہے۔ فاریہ بیگم نے گھور کر اُس سے کہا

ہم تو دُر لا ہی کہے گے۔ حریم نے اُن کو چِڑایا تو وہ محض اُس کو گھور کر رہ گئ۔

آج تمہارا رزلٹ ڈے تھا کیا بنا اُس کا؟دُرید نے رزلٹ کا پوچھا

افففف اللہ میاں دُرلا آپ دو ماہ بعد یہاں آئے ہیں بجائے آپ ہماری خیریت پوچھنے کے ہم سے رزلٹ کا پوچھ رہے ہیں۔ حریم نے بڑی چلاکی سے بات کا رخ دوسری طرف کیا

فون پہ بار بار خیریت کا پوچھتا تو تھا میں۔ دُرید نے مسکراکر کہا

ہاں تو نماز کا پوچھے۔ حریم نے ناک منہ چڑھا کر کہا

اِس لڑکی سے نماز کا پوچھو کھانے پینے کا پوچھو ساری شرارتوں کا بھی پوچھ لوں مگر آج کے رزلٹ کا نہ پوچھو کیونکہ محترمہ انڈے لائی ہیں۔ فاریہ بیگم نے اُس کا راز فاش کیا تو دُرید حیرت سے حریم کو دیکھنے لگا جو سٹپٹا کر یہاں وہاں دیکھ رہی تھی۔

یہ چچی جان کیا سچ بول رہی ہیں؟ دُرید نے سنجیدگی سے پوچھا

جھوٹ بول رہی ہیں انڈے نہیں بس ایک انڈہ تھا وہ بھی بڑا والا۔ حریم نے فورن سے کہا تو دُرید اُس کی ذہانت پہ عش عش کر اُٹھا۔

اگر کجھ پڑھا ہوتا تو یہ بڑے والا انڈہ بھی نہ ملتا۔ دُرید کو افسوس ہوا اُس کا رزلٹ جان کر

آپ کو تو پتا ہے ہمیں انڈے کتنے پسند ہیں حریم ہونٹوں پہ زبان پھیر کر بولی تو دُرید کو وہ بہت کیوٹ لگی۔

میں سیریس ہوں حریم تم نے امتحان کی پڑھائی کیوں نہیں کی؟ دُرید نے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا

دُر لا آپ نہیں تھے۔حریم نے سر جھکاکر کہا

تو؟دُرید کو اُس کی بات سمجھ میں نہیں آئی

تو ہمارا دل پڑھائی میں نہیں لگ رہا تھا آپ جو بھی اسکائپ پہ ہمیں سمجھاتے ہمیں بھول جاتے.حریم نے اعتراف کیا

میں نہیں تھا یہاں تو اِس کا مطلب یہ تو نہیں نہ کے آپ رزلٹ کارڈ میں انڈے لگائے

انڈے نہیں انڈہ۔دُرید جو بہت سنجیدگی سے اُس کو سمجھارہا تھا انڈے نام پہ فورن سے حریم نے اُس کی بات کو ٹوکا۔

جو بھی انڈا یا انڈے مارکس تو نہیں تھے نہ اگر ایسا رہا تو سب یہ کہے گے کے حریم نالائق بچی ہے دُرید شاہ اُس پہ دھیان نہیں دیتا پھر سب حویلی والوں کی بات سچ ثابت ہوگی کے دُرید شاہ کے لاڈ پیار نے حریم فردین علی شاہ کو بگاڑ دیا ہے۔دُرید نے اُس کا پورا نام لیا تو حریم کے چہرے پہ مسکرائٹ آئی۔

دُر لا ہمیں آپ کا نام بہت پسند ہوتا ہے اِس لیے میرے نام کے ساتھ آپ اپنا نام لگالیا کریں حریم دُرید شاہ۔حریم کے پرجوش لہجے میں کہا

توبہ توبہ اتنی بے حیائی۔حریم کی بات پاس گُزرتی فردوس بیگم نے سُن لی تھی تبھی وہی رُک کر دُرید کے کجھ کہنے سے پہلے خود کانوں کو ہاتھ لگاکر بولی۔

بے حیائی کیسی؟حریم کا چہرہ تاریک ہوا تھا۔

تم کمرے میں جاؤ ٹیسٹ کی تیارو ورنہ کسی اچھے کالج میں تمہارا ایڈمیشن نہیں ہوپائے گا۔دُرید فردوس بیگم کی موجودگی کو نظرانداز کرتا نرم لہجے میں حریم سے بولا تو وہ اُس کی بات سن کر فورن اُٹھ کر کمرے میں چلی گئ۔

چچی جان حریم کے سامنے ایسی بات مت کیا کریں۔حریم کے جانے کے بعد دُرید شاہ سخت لہجے میں اُن سے بولا۔

ہونہہ کیوں نہ بولوں چودہ پندرہ سال کے قریب کی عمر ہے اور حرکتیں دیکھو کیسے بڑی ڈھٹائی سے اپنا نام تمہارے نام سے جوڑنا چاہ رہی تھی۔فردوس بیگم نخوت سے سرجھٹک کر بولی تو دُرید نے اپنے ہاتھوں کی مٹھیوں کو زور سے بھینچا۔

وہ بچی ہے چچی جان اُس نے جو بات کہی اُس کا مطلب وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔دُرید نے ضبط سے کہا

جو بھی پر تمہیں اب چاہیے حریم سے فاصلہ رکھو جیسے حویلی کی باقی عورتوں کے ساتھ رکھتے ہو حریم اب بڑی ہوگئ ہے اُس کا یوں تمہارے سامنے آنا ٹھیک نہیں اُس کو چاہیے تم سے پردہ کرے۔فردوس بیگم نے نیا شوشہ چھوڑا

بارہ سال بڑا ہوں میں اُس سے چچی جان بچوں کی طرح اُس کو پالا ہے ہر چیز کا خیال میں نے اُس کا رکھا ہے اور آپ ہمارے درمیان ایسی بات کہہ رہی ہیں افسوس ہوا مجھے آپ کی بات سن کر۔دُرید تاسف بھری نظروں سے اُن کو دیکھ کر بولا

بھئ میری بات تمہیں کڑوی ضرور لگے گی مگر ہے سچ حریم تمہاری بہن یا تمہاری اولاد نہیں ہے تو تمہاری پھپھو زاد کزن نہ تو تم اُس کے لیے نامحرم ہو اور نامحرم مردوں سے پردہ کیا جاتا ہے۔فردوس بیگم نے ہاتھ جہاڑ کر کہا۔

شکریہ آپ کے بتانے کا۔دُرید اتنا کہہ کر وہاں سے اُٹھ کر چلا گیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

کجھ دن بعد!

فجر نیچے بیٹھی ارسم کے ساتھ گُزارے ہوئے وقت اور خوبصورت لمحو کو یاد کررہی تھی اُس نے سوچا نہیں تھا اُس کو ارسم سے اِس قدر محبت ہوجائے گی بھلے وہ اُس سے عمر میں بڑا تھا دو شادیاں بھی کرچُکا تھا مگر جتنا پیار اور جتنی اپنائیت اُس نے کجھ لمحو بھی دی تھی اُس سے وہ ارسم کی گُریدہ ہوگئ تھی ارسم کی موت اُس کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں تھی وہ لمحہ بار بار یاد آرہا تھا جب اُس کو کال پہ بتایا گیا جیل سے بھاگنے کی وجہ سے ارسم کو گولی ماردی گئ تھی جس سے ارسم اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تب سے لیکر اب تک وہ قرب سے گُزر رہی تھی ہوش تب آیا جب کانوں میں کیس بچے کی آواز پڑی تو وہ اپنے خیالوں سے چونک پڑی مگر نظر جیسے ہی نظر بے بی کاٹ پہ پڑی تو وہ فورن اپنی جگہ سے اُٹھی۔

یامین میرا بچہ کیا ہوا مما آرہی ہے آپ کے پاس۔یامین کو کاٹ سے اُٹھاکر وہ پیار سے اُس کو بہلانے لگی جس کو بامشکل تین ماہ ہوئے تھے اِس دنیا میں آئے۔

آپ کو کیا ضرورت تھی جیل سے فرار ہونے کی۔یامین کی معصوم شکل دیکھ کر اُس نے ارسم سے شکوہ کیا۔

اوے لڑکی۔ارسم کی سوتیلی ماں زکیہ اور بھائی دھڑام سے دروازہ کھول کر اُس کے کمرے میں آئی تو فجر ناسمجھی سے اُن کو دیکھنے لگی

جی آنٹی۔فجر نے بس یہ کہا

بچہ ہمیں دے اور نکل یہاں سے ۔زکیہ نے گھور کر اُس سے کہا

یہ میرے شوہر کا گھر ہے میں کیوں جاؤں یہاں سے۔فجر کے چہرے کا رنگ اُڑا تھا اُن کی بات سن کر۔

امتیاز یامین اِس سے لے۔زکیہ نے اپنے بیٹے سے کہا جو ایکسرے کرتی نظروں سے فجر کو دیکھ رہا تھا۔

یہ میرا بچہ ہے میں کسی کو نہیں دوں گی اور آپ میرے عدت کے ہونے کا تو لحاظ کرے۔فجر نے تڑپ کر کہا

دو ماہ لحاظ کیا ہے وہ ہی کافی ہے اب بچہ ہمیں دے توں اپنا ٹھکانہ کہی اور تلاش کر۔زکیہ خود آگے بھر کر اُس سے یامین لیا تو فجر نے اُن سے لینے چاہا پر وہ باہر کی طرف بڑھی۔

دیکھے میں چلی جاؤں گی پر مجھے میرا بیٹا دے۔فجر اُن کے پیچھے بھاگ کر آتی ڈری ہوئی آواز میں بولی ایک یامین ہی تو تھا اُس کا اگر وہ بھی اُس سے لے لیا جاتا تو اُس کا کیا ہوتا۔

یہ ہم اپنے پاس رکھ لینگے پر تجھے نہیں رکھ سکتے۔زکیہ آرام سے صوفے پہ بیٹھ کر بولی۔

امتیاز تم آنٹی سے کہو نہ وہ یامین مجھے دے۔فجر نے روتے ہوئے امتیاز سے کہا

چھوڑے ہم آپس میں شادی کرکے دوسرا یامین پیدا کرلے گے۔امتیاز خباثت سے اُس کا ہاتھ پکڑ کر بولا تو اُس کی گھٹیاں بات پہ فجر نے ایک زناٹے دار تھپڑ اُس کے منہ پہ مارا

پاگل ہوگئ ہے کیا۔زکیہ نے غصے سے اُس کو دیکھ کر کہا جو نفرت سے امتیاز کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔

تیری تو۔امتیاز اُس کے بالوں کو مٹھیوں میں جکڑتا تھپڑ مارنے والا تھا جب کسی نے اُس کا ہاتھ ہوا میں ہی معلق رہنے دیا۔

یم یمان۔فجر نے یمان کو دیکھا تو جذباتی ہوگئ

تم کون ہو؟امتیاز اپنا ہاتھ اُس کی گرفت سے نکالنے کی کوشش کرتا پوچھنے لگا۔جس کے جواب میں یمان نے ایک مُکہ اُس کے منہ پہ مارا تو امتیاز کو اپنا جبڑا ٹوٹتا محسوس ہوا۔

واہ۔ارمان داد دیتی نظروں سے یمان کو دیکھنے لگا۔

کون ہو اور کیوں میرے بیٹے پہ تشدد کر رہے ہو؟زکیہ بیگم زور سے یامین کو صوفے پہ پٹخ کر یمان سے بولی

یامین۔فجر نے یامین کو روتا دیکھا تو تڑپ کر اُس کی جانب بھاگی جس پہ ارمان کا دھیان یمان سے ہٹ فجر کی طرف گیا۔

آج چھوڑ رہا ہوں مگر آئیندہ میری بہن کے آس پاس بھی بھٹکے تو وہ حال کروں جو اپنی ماں بھی پہچاننے سے انکار کردے گی۔یمان ایک زوردار لات اُس کے پیٹ پہ مارکر وارننگ بھرے لہجے میں اُس سے بولا

جاؤ یہاں سے ہمیں تو معاف ہی کرو۔زکیہ نے امتیاز کے پاس جاکر یمان سے کہا

چلے آپی۔یمان ایک اچٹنی نظر اُن دونوں پہ ڈال کر فجر سے بولا

آپی۔ارمان جو مسلسل فجر کو دیکھے جارہا تھا آپی لفظ پہ چونک کر یمان کو دیکھنے لگا جو فجر کے ساتھ کھڑا ہوتا اُس سے یامین لے رہا تھا ارمان کبھی اُسے تو کبھی فجر کو دیکھتا اُس کو سمجھ نہیں آیا دونوں میں سے بڑا کون ہے۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

تم دو ماہ سے یہاں ہو تو میرے پاس کیوں نہیں آئے؟فجر یامین کو کمرے میں سُلاتی یمان سے باز پرس ہوئی۔

آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں تھا اِتنا سب کجھ ہوگیا آپ کیسے اتنے گھٹیاں لوگوں کے درمیان رہی۔یمان نے جواب دینا ضروری نہیں سمجھا

وہ سب اچھے تھے مگر آج

فجر اتنا کہتی خاموش ہوگئ۔

آپ میرے ساتھ چلے۔یمان نے سنجیدگی سے کہا

میں تمہارے ساتھ کہاں چلوں گی اور تم اب کہی نہیں جارہے۔فجر نے دو ٹوک انداز اپناتے کہا

میں اب یہاں نہیں رہ سکتا میں نے سِنگنگ کرنا شروع کردیا ہے۔یمان نے کہا تو فجر کو اتنے وقت بعد چہرے پہ مسکراہٹ آئی تھی۔

سچ میں مبارک ہو تمہیں آخر کو تم نے اپنا خواب سچ کر دیکھایا۔فجر نے خوشی سے کہا

پھر آپ چل رہی ہیں میرے ساتھ؟یمان نے کہا

میں نہیں چل سکتی یمان میرا گھر یہاں ہیں۔فجر نے انکار کیا

آپی ضد نہیں کرے عیشا آپی اپنے سُسرال ہیں آپ یہاں یامین کے ساتھ اکیلے کیسے رہے گی۔یمان کے لہجے میں فکرمندی تھی۔

اگر میرا اتنا خیال ہے تو یہاں رُک جاؤ۔فجر نے اُس کو امتحان میں ڈالا۔

میرے واپسی کے راستے بند ہوچکے ہیں۔یمان نے نظریں چُراکر کہا

میری عدت ختم ہونے تک یہاں رہو یا تب تک جب یامین ایک سال کا نہیں ہوجاتا۔فجر نے سنجیدگی سے کہا

میں آپ کی بات مان لوں گا بدلے میں آپ کو بھی میری بات ماننی پڑے گی۔یمان نے کجھ سوچ کر کہا

کونسی بات؟فجر نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا۔

میں یہاں کراچی میں کوئی اچھا سا فلیٹ خریدوں گا آپ کو یامین کے ساتھ وہاں رہنا ہوگا۔یمان نے کہا

اُس کی کوئی ضرورت نہیں۔فجر کو یہ بات پسند نہیں آئی۔

ضرورت ہے آپی تبھی میں یہ بول رہا ہوں اور آپ کو میری بات یہ ماننے ہوگی۔یمان نے دو ٹوک کہا تو فجر نے گہری سانس خارج ہوا کے سپرد کی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

دس ماہ بعد!

تم یہ سب سامان گاڑی میں رکھو میں آتا ہوں۔یمان نے ارمان سے کہا

جی ٹھیک ہے۔ارمان نے فورن سے اُس کی بات پہ سرہلاتا باہر کی جانب گیا۔ یمان کے پلٹ کر ایک نظر اُس فلیٹ پہ ڈالی جہاں وہ اتنے ماہ رہا تھا پھر اپنے قدم واپسی کی جانب بڑھائے۔

یمان۔فجر کی آواز پہ وہ یکدم پلٹا تھا

جی۔یمان اپنی حالت پہ قابو پائے بولا

تم جارہے ہو پر جلدی آنا ہمیں تمہاری ضرورت ہے میرے بیٹے کو بھی تمہاری ضرورت ہے بہت۔فجر نے نم لہجے میں اپنی گود میں موجود ایک سالہ یامین کو دیکھ کر اُس سے کہا

آپ اپنا اور یامین کا بہت خیال رکھئیے گا پر میں اپنے آنے کی اُمید نہیں دلاسکتا آپ اور یامین میرے ساتھ چلے مجھے یہاں وحشت ہوتی ہے۔یمان بے بسی سے بولا

غلط کررہے ہو۔فجر نے اُس کو سمجھانا چاہا

کیا صحیح ہے اور کیا غلط اِن سب سے اب میں بہت دور چلا آیا ہوں۔یمان کہتا اُس کی گود سے یامین کو لیکر اُس پہ پیار کرنے لگا۔

تم پہ گیا ہے پورا تمہاری طرح اِس کے گالوں پہ بھی ڈمپلز ہیں۔فجر نے دونوں ماموں بھانجے کو دیکھ کر کہا۔

دعا کیجیے گا قسمت میرے جیسی نہ ہو۔یمان یامین کا ماتھا چوم کر بولا تو فجر کو لگا جیسے اُس کا دل کسی نے مٹھی میں جکڑلیا ہو۔

کیوں ایسی باتیں کرکے تپارہے ہو۔فجر نے افسوس سے کہا

میں چلتا ہوں دیر ہورہی ہے۔یمان یامین کو فجر کی طرف بڑھاکر بولا

ایک چیز لینا بھول رہے ہو۔فجر کی بات پہ یمان کے قدم تھمے تھے۔

کونسی چیز؟یمان سوالیہ نظروں سے فجر کو دیکھنے لگا جواب میں فجر نے اپنی بند مٹھی یمان کی طرف بڑھا کر اُس کو کھولا۔

فجر کے ہاتھ میں وہ چِٹ دیکھ کر یمان تیر کی تیزی سے اُس کے پاس آکر وہ چٹ اپنے ہاتھ میں لے گیا تھا۔

آپ کو کہاں سے ملی؟یمان کا لہجہ اتنا اچانک خوشگوار محسوس کرکے فجر کا دل کٹ کے رہ گیا تھا۔

مجھے لگا تھا تم کوئی خاص ری ایکشن نہیں دوگے مگر اب معلوم ہوا تمہیں ابھی تک وہ یاد ہے بھول کیوں نہیں جاتے اِس کو۔فجر نے کہا

شکریہ آپی مجھے یہ دینے کے لیے۔یمان اُس کی بات سرے سے نظرانداز کرگیا تھا۔

کیا تھا اُس لڑکی میں کیا ہے اِس معمولی کاغذ کے ٹکڑے میں جو تمہارے چہرے پہ اچانک رونق آگئ ہے مت بھولوں اُس نے تمہاری ہنستی بستی زندگی کو اُجاڑا تھا۔فجر نے اُس کو حقیقت سے آگاہ کرنا چاہا

جس کو آپ معمولی سا کاغذ کا ٹکڑا بول رہی ہیں آپ کو نہیں پتا یہ میرے لیے کیا ہے کبھی کبھی معمولی نظر آنے والی چیز انسان کے جینے کی وجہ بن جاتی ہے میری زندگی انہوں نے نہیں اُجاری یہ سب میری قسمت میں تھا۔یمان نے سنجیدگی سے کہا

پتا ہے یمان جب میں نے اِس چٹ کو تمہارے کمرے کی الماری میں دیکھا اِس میں موجود تحریر کو پڑھا تو میرا دل چاہا اِس کو آگ لگادوں پر پھر پتا نہیں کیوں نہیں جلایا۔فجر کی بات پہ یمان کے چہرے پہ اُداس مسکراہٹ نے بسیرا کیا۔

میرے پاس بس یہ ایک چیز ہے نشانی کے طور پہ۔یمان نے کہا

فریم کرواکر دیوار پہ چسپاں کردوں۔فجر نے طنزیہ کیا۔

ضرورت پڑی تو ضرور۔یمان نے جوابً کہا۔

یمان۔فجر اُس کو بس دیکھتی رہ گئ۔

آپی پلیز وہ بات مت کرے جو میرے بس میں نہیں۔یمان نے بے بسی سے کہا تو فجر نے ہمیشہ کی طرح خاموشی اختیار کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *